واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > عورت کہانی



عورت کہانی عورت کہانی


عورت کی بھلائی ومصلحت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-05-09, 12:39 PM   #1
عورت کی بھلائی ومصلحت
Real_Light Real_Light آف لائن ہے 10-05-09, 12:39 PM

عورت کی بھلائی ومصلحت

حضرت علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہ فرماتے ہیں کہ میں ایک دن ایک جماعت کے ساتھ جناب رسول خدا (ص) کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا آنحضرت (ص) نے اپنے محافلین سے فرمایا: کہ عورت کی مصلحت کس میں ہے؟ آپ (ص) کو کوئی صحیح رائے نہ دے سکا ،جب سب چلے گئے اور میں بھی گھر گیا تو میں نے، پیغمبراسلام (ص) کے سوٴال کو جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے سامنے پیش کیا ،
جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا:کہ میں اس کا جواب جانتی ہوں ،
"عورت کی مصلحت اس میں ہے کہ وہ اجنبی مرد کو نہ دیکھے اور اسے اجنبی مرد نہ دیکھے"
میں جب جناب رسول خدا(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کی کہ آپ (ص) کے سوٴال کے جواب میں جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا نے یہ فرمایا ہے۔پیغمبر (ص) نے آپ سلام اللہ علیہا کے جواب کو سُنا اور فرمایا:کہ فاطمہ سلام اللہ علیہا میرے جسم کا ٹکڑا ہے ” فٰاطِمَۃُ بَضْعَۃُ مِنّی“ (کشف الغمہ ،ج/۲ص/۹۲ )

اس میں کوئی شک نہیں کہ دین مقدس اسلام نے عورتوں کی ترقی اور پیشرفت کے لئے بہت صحیح و مناسب اقدامات کئے ہیں اور ان کے حقوق پورا کرنے کے لئے ان کے لئے عادلانہ قوانین اور احکام وضع کئے ہیں ، اسلام نے عورت کو علم حاصل کرنے کی آزادی دی ہے ،اس کے مال اور کام کو محترم قرار دیا ہے ،اجتماعی قوانین وضع کرتے وقت عورتوں کے واقعی منافع اور مصالح کی پورا خیال رکھاہے ۔

لیکن یہ بات قابل بحث ہے کہ
آیا عورت کی مصلحت سماج اور معاشرے میں اجنبی مردوں کے ساتھ مخلوط رہنے میں ہے
یا
عورت کی مصلحت اس میں ہے کہ وہ بھی مردوں کی طرح عمومی مجالس اور محافل میں نامحرموں کے ساتھ گھل مل کر پھرتی رہے ؟
کیا یہ مطلب واقعا ًعورتوں کے فائدے میں ہے کہ وہ زینت کر کے بغیر کسی روک ٹوک کے مردوں کی مجالس میں شریک ہو اور اپنے آپ کوکھلے عام رکھے؟
کیا یہ عورتوں کے لئے مصلحت ہے کہ وہ بیگانوں کے لئے آنکھ مچولی کرنے کا موقع فراہم کرے اور مردوں کے لئے ایسے مواقع فراہم کرے کہ جس سے دیدنی لذت جو مفت کی گناہ بے لذت حاصل کرتے رہیں؟
کیا یہ عورتوں کی منفعت میں ہے کہ کسی پابندی کو اپنے لئے جائز قرار نہ دیں اور پوری طرح اجنبی مردوں کے ساتھ گھل مل کر رہیں اور آزادانہ طور سے ایک دوسرے کو دیکھیں؟
کیا عورتوں کی مصلحت اسی میں ہے کہ وہ گھر سے اس طرح نکلے کہ اس کا تعاقب اجنبی لوگوں کی نگاہیں کر رہی ہوں یا نہ ؟؟


بلکہ عورتوں کی مصلحت معاشرے میں اس میں ہے کہ اپنے آپ کو مستور کرکے سادہ طریقے سے گھر سے باہر آئیں اور اجنبی مردوں کے لئے زینت ظاہر نہ کریں نہ خود بیگانوں کو دیکھیں اور نہ کوئی بیگانہ انھیں دیکھے۔

آیا پہلی کیفیت میں تمام عورتوں کی مصلحت ہے اور وہ ان کے منافع کو بہتر طور پر محفوظ کرسکتی ہے یا دوسری کیفیت میں؟
آیا پہلی کیفیت عورتوں کی روح اور ترقی اور پیشرفت کے بہتر اسباب فراہم کر سکتی ہے یا دوسری کیفیت؟
پیغمبر اکرم (ص) نے اس اہمیت کے ساتھ اجتماع اور معاشرے کے اساسی مسئلہ کو اپنے محافلین کے افکار عمومی کے سامنے پیش کیا اور ان کی اس میں رائے طلب کی اور جب اس کی اطلاع حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کو ہوئی تو آپ سلام اللہ علیہانے اس مشکل موضوع میں اس طرح اپنا نظریہ بیان کیا کہ عورتوں کی معاشرے میں مصلحت اس میں ہے کہ نہ وہ اجنبی مردوں کو دیکھیں اور نہ اجنبی مرد انھیں دیکھیں وہ زہرا سلام اللہ علیہا جو وحی اور ولایت کے گھر میں تربیت پاچکی تھیں اس کا اتنا ٹھوس اور قیمتی جواب دیا اور اجتماعی موضوع میں سے ایک حساس اور مہم موضوع میں اپنے نظرئے کا اظہار کیا کہ جس سے رسول خدا (ص) نے فرمایا: فاطمہ سلام اللہ علیہا میرا ایک ٹکڑا ہے ۔” فاطمۃ بضعۃ منی“

اگر انسان اپنے ناپختہ احساسات کو دور رکھ کر غیر جانبدارانہ اس مسئلے کو سوچے اور اس کے نتائج اور انجام پر خوب غورو فکر کرے تو اس بات کی تصدیق کرے گا کہ جو جواب جناب سیدہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے دیا ہے وہ ایسا بہترین دستور العمل ہو سکتا ہے جو عورتوں کے منافع کا ضامن ہو ۔اور اس کے مقام اورمرتبے کو معاشرے میں محفوظ کر ے گا کیوں کہ اگر عورتیں گھر سے اس طرح نکلیں اور اجنبیوں کے ساتھ اس طرح میل جول رکھیں کہ مرد ان سے ہر قسم کی تمتعات حاصل کر سکیں اور عورتیں ہر جگہ مردوں کے لئے آنکھ مچولی کے اسباب فراہم کریں تو پھر جوان دیر سے شادی کریں گے اور وہ اپنے گھر بسانے کی ذمہ داری محسوس نہیں کریں گے ہر روز لڑکیوں اور عورتوں کی تعداد میں جو بے شوہر ہوں گی اضافہ ہوتا جائے گا اور یہ بات معاشرے کے لئے مضر ہے اور ماں ، باپ کے لئے مشکلات اوربدنامی کا سبب ہوگا خود عام عورتوں کے سماجی زندگی کے لئے بھی ضرر رساں ہوگا اور اگر عورتیں اپنی خوبصورتی کو تمام نگاہوں کے لئے عام قرار دے دیں اور اجنبیوں میں دلربائی کرتی رہیں تو ایک بہت بڑے گروہ کا دل اپنے ساتھ لئے پھریں گی اور چوں کہ مرد محرومیت سے دو چار ہوں گے اور ان تک رسائی اورمیل جول بلا قید و شرط کے حاصل نہ کر سکیں گے یقینااً ان میں نفسیاتی بیماریاں اور ضعف اعصاب اور خود کشی اور زندگی سے مایوسی عام ہو جائے گی۔

اس کا نتیجہ بلا واسطہ خود عورتوں کی طرف لوٹے گایہی عام لطف نگاہ ہے کہ بعض مرد مختلف حیلے اور فریب کرتے ہیں اور معصوم اور سادہ لوح کو دھوکا دیتے ہیں ان کی عفت و آبرو کے سرمائے کو برباد کردیتے ہیں اور انھیں بدکاری تباہی کی وادی میں ڈھکیل دیتے ہیں ۔

جب شوہر دار عورت دیکھے کہ اس کا شوہر دوسری عورتوں کے ساتھ آتا جاتا ہے اور عمومی مجالس اور محافل میں ان سے ارتباط رکھتا ہے تو غالبا عورت کے غیرت کی حس اسے اکساتی ہے کہ اس میں بدگمانی اور سوء ظن پیدا ہوجائے اور وہ بات بات پر اعتراض شروع کردے ،بلا کسی وجہ عمدہ اورخوشحال زندگی کو خر اب و برباد بناکر رکھ دے گی اور نتیجہ ،جدائی اور طلاق کی صورت میں ظاہر ہوگا یا اسی نا گوار حالت میں گھر کے سخت قید خانہ میں زندگی گزار تے رہے گی اور قید خانہ کی مدت کے خاتمہ کا انتظار کرنے میں زندگی کے دن شمار کرتی رہے گی اور میاں ،بیوی دو سیپاہیوں کی طرح ایک دوسرے کی مراقبت میں لگے رہیں گے ۔

اگر مرد اجنبی عورتوں کو آزادانہ دیکھ سکتا ہو تو قہراً ان میں ایسی عورتیں دیکھ لے گا جو اس کی بیوی سے خوبصورت اور جاذب نظر ہوں گی اور بسا اوقات زبان کے زخم اور سرزنش سے اپنی بیوی کے لئے ناراضگی کے اسباب فراہم کرے گا اور مختلف اعتراضات اور بہانوں سے خوشحال و لطیف زندگی کو جلانے والی جہنم میں تبدیل کر دے گا ۔

جس مرد کو آزاد فکری سے کارو بار اور اقتصادی فعالیت میں مشغول ہونا چاہئے جب آنے جانے میں یا کام کی جگہ نیم عریاں اور آرائش کی ہوئی عورتوں سے ملے گا تو قہراً غریزہٴ جنسی سے مغلوب ہو جائے گا اور اپنے دل کو کسی دل ربا کے سپرد کر دے گا ،ایسا آدمی کبھی آزاد فکری سے کارو بار میں یا تحصیل علم میں مشغول نہیں ہو سکتا اور اقتصادی فعالیت میں پیچھے رہ جائے گا اس قسم کے ضرر میں خود عورتیں بھی شریک ہوگی اور یہ ضرر ان پر بھی وارد ہوگا ۔

اگر عورت پردہ نشیں ہو تو وہ اپنی قدر و قیمت کو اچھی طرح مرد کے دل میں بسا سکتی ہے اور عورتوں کے عمومی فوائد کو سماج کے لئے محفوظ کر سکتی ہے اور معاشرے کے نفع کے لئے قدم اٹھا سکتی ہے ۔

اسلام چونکہ عورت کو معاشرے کا ایک اہم جزو جانتا ہے اور اس کی روش و سرگرمی کو معاشرے میں موثر جانتا ہے لہٰذا اس سے یہ بڑی ذمہ داری لی گئی ہے کہ وہ پردے کے ذریعہ بدکاری اور بد چلن ہونے کے اسباب کو روک سکے اور قومی ترقی کے ساتھ عوامی صحت و سلامتی کے باقی رکھنے میں مدد گار ثابت ہو۔ اسی لئے اسلام کی نمونہ اور مثالی خاتون نے جو وحی کے گھر کی تربیت یافتہ تھیں ۔عورتوں کے معاشرے کے متعلق اس قسم کے عقیدہ کا اظہار کیا ہے کہ عورت کی مصلحت اس میں ہے کی وہ اس طرح سے زندگی بسر کریں کہ نہ انھیں اجنبی مرد دیکھ سکیں اور نہ وہ اجنبی مردوں کو دیکھیں۔
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میں‌حُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے

 
Real_Light's Avatar
Real_Light
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
شکریہ: 3,117
988 مراسلہ میں 1,963 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 294
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے Real_Light کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-05-09), منتظمین (10-05-09), ایس اے نقوی (10-05-09), رضی (19-07-09), عروج (13-11-11)
پرانا 10-05-09, 02:43 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سر ورق کے لیے اپلائی کریں
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
Real_Light (11-05-09), ایس اے نقوی (10-05-09), عروج (27-11-11)
پرانا 13-11-11, 05:05 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سبحان اللہ۔ کیا قیمتی باتیں پڑھنے کو ملی ھیں اس تحریر کے توسّط سے۔ اللہ آپ کو جزا دے۔ آمین۔
__________________
اے اللہ میرےوالدین پر رحم فرما۔ جیساکہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔ آمین۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, قید, قدم, لوٹے, نشیں, مفت, موقع, ماں, مثالی خاتون, مخلوط, معاشرہ, اللہ, انسان, اجنبی, بہترین, تحریر, جواب, خدا, دستور, زندگی, طلاق, عورت, علی, صحیح, صحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
عوام کو مارتےہو اور وہ روئے بھی نہ۔۔۔۔ جب عوام بھوکے مرے گی تو تبدیلی کی آوازیں تو آئیں گی جاویداسد خبریں 2 21-09-10 08:12 PM
الطاف بھائی کا مارشل لاء کا مطالبہ اور عوام کی سوچ ۔ کیاعوام سیاستدانوں سے اکتا گئے ؟ جاویداسد خبریں 1 24-08-10 11:23 PM
عوامی حکومت کا اک اور کارنامہ naeemuddin خبریں 3 01-12-09 10:05 AM
عوج بن عوج کی عمر کتنی تھی؟ عرفان حیدر آئیے ذہانت آزمائیے 24 14-04-09 02:40 PM
’عوامی نمائندے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کریں‘ چاچا کمال خبریں 1 07-04-08 06:31 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:26 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger