واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > عورت کہانی



عورت کہانی عورت کہانی


میں بھی کسی کی بیٹی ہوں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 29-12-11, 11:56 PM   #1
میں بھی کسی کی بیٹی ہوں
marhaba marhaba آف لائن ہے 29-12-11, 11:56 PM

ہم روز کئی ایسے جملے بولتے ہیں جنہیں ہم پورے نہیں کر پاتے۔۔۔ باتیں تو بڑی بڑی کرتے ہیں، لیکن اس کا تعلق دوسروں سے ملا دیتے ہیں۔ ہماری نصیحتیں دوسروں کو سمجھانے کی حد تک ہوتی ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ زندگی تب ہی آسان بن سکتی ہے جب ہم خود اس میں آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جب تک ہم خود آسانی پیدا کرنیکی کوشش نہیں کریں گے، یہ دن بدن فرد واحداور پوری قوم کے لئے پریشانی کا سبب بنتا جا تا ہے۔
ایک اہم اور بڑا مسئلہ جہیز بھی ہے جو موجودہ دور میں وبا کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ عام طور پر سلیقہ مند ،پڑھی لکھی ،خوب رو اور خوب سیرت لڑکیاں بھی قیمتی جہیز نہ ہونے کے باعث آنکھوں میں دلہن بننے کے خواب بسائے ساری زندگی اپنے ماں باپ کے گھر گزار دیتی ہیں اور پھر ایک خاص عمر کے بعد تو یہ سہانا خواب بھی دیکھنا چھوڑ دیتی ہیں اور اپنی تقدیر سے سمجھوتہ کرکے بقایا زندگی اک جبر مسلسل کی طرح کاٹنے پر مجبور ہو جاتی ہیں دلہن بننا ہر لڑکی کا خواب ہی نہیں اسکا حق بھی ہے لیکن افسوس اسے اس حق سے محض غربت کے باعث محروم کر دیا جاتا ہے سرمایہ داروں کے اس دور میں لڑکیوں کو بھی سرمایہ سمجھا جاتا ہیاور اس سرمایہ کاری کے بدلے انکے گھر والے خصوصا مائیں بہنیں اور زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کیلئے سرگرداں رہتی ہیں۔ وہ لڑکی کا رشتہ لینے جاتی ہیں یا یوں کہیں اپنے بیٹے ،بھائی کا کاروبار کرنے نکلتی ہیں لڑکی سے زیادہ اس کی امارات دیکھتی ہیں۔
بچپن سے سنتے آ رہے ہیں کہ جہیز ایک لعنت ہے، ہزاروں لڑکیوں کی ڈولیاں صرف اس لئے نہیں اٹھتیں کہ ان کے پاس جہیز کیلئے رقم نہیں ہوتی۔ لیکن دوسری طرف ہم یہ تمام حکائتیں اورقول اس وقت بھول جاتے ہیں جب ہم کسی دوسرے کی لڑکی اپنے گھر لا رہے ہوتے ہیں۔ اس وقت کسی بیٹی، ماں ، باپ اور معاشرے کا خیال کیوں نہیں آتا؟ اس وقت کسی بیٹی کو کیوں بوجھ بنا دیا جاتا ہے؟ والدین کی ایک بڑی تعداد صرف جہیز نہ ہونے کی وجہ سے اپنی جوان بیٹیوں کو گھر میں بٹھائے رکھتے ہیں۔ ہمارا مذہب اور معاشرہ یہ تو کہتا ہے کہ بیٹیوں کو جلد بیاہ دینا چاہیئے، لیکن اس کے لئے حالات تو پیدا کرنے چاہئیں۔ یہ دن بدن غریبوں کیلئے عذاب بنتا جا رہا ہے۔ ان کی زندگیوں کی کرن کو کیوں بجھا دیتا ہے؟ کیا وہ کسی کی بیٹیاں نہیں ہوتیں، یا ان کے جذبات نہیں ہوتے؟ ان کے جذبات کو کتنی ٹھیس پہنچتی ہو گی، ان کے دل خون کے آنسوں روتے ہوں گے۔ اس کا جواب تو وہ چلتی پھرتی لاشیں ہی بتا سکتی ہیں۔
لڑکی کی والدین جہیز کو پورا کرنے کے لئے ہر جائز ناجائز طریقہ استعمال کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ رشوت کے علاوہ جہیز لوگوں کو چوری اور ڈاکہ زنی پر بھی آمادہ کر سکتا ہے۔ بعض غریب جو جہیز تو کیا دو وقت کی روٹی بھی صحیح طریقے سے مہیا نہیں کر سکتے ان کے لئے جہیز بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ایسے لوگو ں کو یہ اس بات پر اکساتا ہے کہ خوا ہ چوری کی جائے جہیز ضرور بنایا جائے۔
یہ ہمارے معاشرے کا ہی حصہ ہیں جنہیں ہمارا معاشرہ ہی اجیرن بنا رہا ہے۔ اپنا جہیز ہی پورا کرنے کے لئے ہزاروں بچیاں فٹ پاتھوں پر بیٹھ کر اپنے ہاتھوں کی بنی چیزوں کو بیچ رہی ہوتی ہیں۔ کوئی چوڑیاں بیچ رہی ہوتی ہے تو کوئی کپڑوں پر لگنے والی گوٹا کناری اور لیس بیچ رہی ہوتی ہے۔ انہی بچیوں کے سامنے سے کھاتے پیتے گھرانوں کی بچیاں اپنے قیمتی کپڑوں کے لئے لیس اور گوٹا کناری کی خریداری کر رہی ہوتی ہیں توان بے چاریوں کے دلوں پر کیا بیت رہی ہو گی کہ ان ہی کی عمر کی بچیاں پل بھر میں ہزاروں کی خرایداری کر کے قیمتی کار میں بیٹھ کر روانہ ہو جاتی ہیں۔ وہ غریب بچی روزانہ ایک ایک تنکہ اکٹھا کر کے جہیز کا سامان پورا کر رہی ہوتی ہے۔ وہ لمحے اس کے لئے کتنے درد ناک ہوتے ہوں گے۔ یہ تو وہی جانتا ہے جس پر یہ لمحے بیت رہے ہوتے ہیں۔۔۔۔ وہ روز جیتی اور روز مر رہی ہوتی ہے، لیکن اپنے درد کو اپنی زبان پر نہیں لاتی، کیونکہ اس نے معاشرے میں اپنی انا کو بھی برقرار رکھنا ہے۔ اسے ایک امید خدا کی طرف سے جینا سکھا رہی ہوتی ہے۔۔۔ لیکن ہمارا معاشرہ جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے علاوہ بچیوں کے یقین پر بھی ضرب لگا رہا ہوتا ہے۔ کون جانے کس کے دکھ کہا ں تک ہیں، اور کتنے ہیں، کس پر روز کیا بیت رہی ہوتی ہے؟ لیکن ہمارا یہ اخلاقی فرض بنتا ہے کہ دوسروں کے دکھوں میں اضافہ کرنے کی بجائے اسے کم کرنے کی کوشش کریں۔ جذباتی اورغیر ضروری نمودو نمائش سے پرہیز کریں۔ جہیز کے خلاف عوام میں شعور پیدا کریں، اور اپنے بھائیوں کے دکھوں کا مداوا کرنا چاہئیے۔ ہمارے اپنے ہی جہیز لیتے اور دیتے وقت تو ہمدردیاں سمیٹتے ہیں، لیکن ان کا ایک ہی بہانہ ہوتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ ایسے لوگوں کو جہیز نہ لینے اور دینے کو عام کرنا چاہئیے، اور پھر اس پر عمل بھی کرنا چاہیئے۔ ہم دوسروں کو نصحیت کر کے اپنے نمبر تو بنا لیتے ہیں لیکن آج تک کسی نے اس پر آواز نہیں اٹھائی کہ جہیز نہ لینے کے عمل کو عام کرنا ہے۔ ہر کوئی یہی سوچتا ہے کہ مفت کا مال مل رہا ہے تو آنے دو، کوئی سر دردی نہیں لیتا کہ دوسرا کس مشکل سے اپنی بیٹی کا جہیز پورا کرتا ہے۔
شریعت میں جہیز دینے کی کوئی پابندی نہیں ہے ۔۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ کو شادی کے وقت کچھ سامان مثلا چکی ، پانی کا برتن اور تکیہ وغیرہ دیا تھا ۔۔ جو کہ نئے سرے سے گھر بنانے کے لئے بنیادی وسائل تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی باقی بیٹیوں کے متعلق ایسی کوئی روایت نہیں ملتی ۔ لہذا اگر لڑکا بہت زیادہ غریب ہو کہ گھر کا ضروری سامان خریدنے کی قدرت بھی نہ رکھتا ہو تو اس صورت میں لڑکی کے والدین اگر اس کے ساتھ مالی تعاون کرنا چاہیں تو حرج نہیں بلکہ باعثِ ثواب ہے لیکن آجکل کے دور میں رائج جہیز کسی بھی صورت جائز نہیں ۔
آج اگر ہم کسی کی بیٹی کا سوچیں گے تو کل کوئی ہماری بیٹی کی فکر کرے گا۔اتنی بڑی اذیت سے گزرنے کے بعد بھی ہم نہیں جاگتے اور اپنے باپ دادا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جہیز جیسی لعنت کو گلے سے لگائے ہوئے ہیں۔ ہزاروں لڑکیاں آج بھی ہمارے ارد گرد زندہ لاشیں بن کر اپنی زندگیاں گزار رہی ہیں۔ ان والدین کی زندگیاں کس طرح گزر رہی ہیں۔ اسلام تو ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں آسانی پیدا کرنے کی تلقین کرتا ہے، لیکن ہم کیوں اپنے اسلاف کی قدروں کو بھول چکے ہیں۔ ہم اپنے پیغمبر اسلام کی تعلیمات پر کیوں عملدرآمد نہیں کرتے۔ اگر جہیز کی لعنت کو ختم کرنا ہے تو ہمیں عملی طور پر اپنے گھر سے مشن کو شروع کرنا ہو گا تا کہ اپنی بیٹیوں کے گھروں میں شمعیں روشن ہوں۔
آئیے ہم آج ہی عہد کریں کہ جہیز کی لعنت کو ختم کرتے ہوئے اسے اپنے گھر کے لئے نہیں لیں گے۔ جب ہر گھر سے یہ آواز اٹھے گی تو معاشرہ اس برائی اور اس سے پیدا ہونے
والی کئی برائیوں سے پاک ہو جائے گا۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جہیز ہی دراصل آج مسلمانوں کی ذلت و رسوائی کا اصل سبب ہے ۔اسکی ذمہ داری سب سے پہلے دین کی نمائندگی کرنے والے طبقے پر ہے، اسکے بعد تعلیم یافتہ خوشحال مسلمانوں پر۔


ساجدہ ربانی
اردوٹائمز

 
marhaba's Avatar
marhaba
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: قطر
مراسلات: 90
شکریہ: 77
58 مراسلہ میں 207 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 191
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے marhaba کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (30-12-11), Miss Khan (30-12-11), shafirajput (30-12-11), گلاب خان (30-12-11), محمد یاسرعلی (31-12-11)
پرانا 30-12-11, 01:25 AM   #2
Senior Member
 
Miss Khan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مقام: Karachi
عمر: 28
مراسلات: 2,207
کمائي: 23,651
شکریہ: 3,780
1,321 مراسلہ میں 3,018 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھا مضمون شئر کیا ہے آپ نے۔۔۔ اللہ سب بیٹٰیوں کے نصیب اچھے کرے ۔۔۔۔۔۔ آمین
Miss Khan آن لائن ہے   Reply With Quote
Miss Khan کا شکریہ ادا کیا گیا
shafirajput (30-12-11)
پرانا 30-12-11, 09:10 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 398
کمائي: 9,506
شکریہ: 1,248
330 مراسلہ میں 1,005 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جہیز کے علاوہ بھی وجوہات ھیں۔۔۔یہ بہت آگے کی بات ہے۔۔۔آج کل شادیاں تو امیر لڑکیوں کی بھی نہیں ہوتی۔۔۔ھم نے خود ہی مشکل بنا دیا ہے سب کچھ۔۔۔

اللہ ھم پہ رحم فرما کے قرآن و سنت کا پابند بنائے اور اسی کے مطابق فیصلے کی توفیق دے اللھم آمین
__________________
رب میرا اللہ، دین میرا اسلام، محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرے نبی ھیں۔۔۔!!
shafirajput آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-12-11, 09:37 PM   #4
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,183
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شادیاں تو آج کل لڑکوں کی بھی نہیں ہوتیں۔
خیر لڑکے کہنا تو اب زیادتی ہے
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (31-12-11), ھارون اعظم (30-12-11), محمد یاسرعلی (31-12-11)
پرانا 31-12-11, 07:26 AM   #5
Senior Member
 
محمد یاسرعلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: راولپنڈی
عمر: 28
مراسلات: 4,031
کمائي: 54,668
شکریہ: 7,881
2,881 مراسلہ میں 7,142 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد یاسرعلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد یاسرعلی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

واقعی شادی تو اب لڑکوں کی بھی مشکل ہوتی جاری ہے۔ اگر لڑکے والوں کو جہیز چاہئے تو لڑکی والوں کو بھی لڑکا مال دار اور کم از کم پکی نوکری والا چاہئے کریکٹر کو کوئی نہیں‌ دیکھتا۔

اس لیے ہم نے اب شادی کرنے سے ہی توبہ کر لی ہے کیونکہ اپنے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اور اب بڑھاپے کی دیلیز پہ قدم رکھنے کے بعد شادی کے حق میں‌نہیں‌ہوں۔
__________________
فیس بک پہ پاک نیٹ کا حلقہ احباب
https://www.facebook.com/groups/pak.net

دوستوں سے گزارش ہے کہ اپنے شائع کردہ موضوع کو یہاں بھی شئیر کردیا کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پاک نیٹ کی فیملی کا حصہ بنایا جاسکے۔
محمد یاسرعلی آف لائن ہے   Reply With Quote
محمد یاسرعلی کا شکریہ ادا کیا گیا
shafirajput (31-12-11)
جواب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پی آئی اے جوائنٹ ایکشن کمیٹی میں شامل تنظیموں کی دھمکیاں اعجاز ہارون قومی ائرلائن پر سفر نہ کرسکے گلاب خان خبریں 2 16-02-11 11:49 AM
پی پی اجلاس میں سپریم کورٹ کے ججوں پر تنقید، سیاسی طوفان بپا کرنیکا الزام گلاب خان خبریں 0 26-09-10 03:33 AM
لوگوں کو پسند کا چینل دیکھنے کی آزادی دی جائے، سی پی این ای کراچی ( جنگ نیوز) ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد میڈیا اور جیو پر پابندیوں کو آج عبدالقدوس خبریں 0 07-12-07 08:27 AM
ایمرجنسی کے خلاف مختلف شہروں میں اے پی ڈی ایم،پیپلز پارٹی اور اے این پی کے مظاہرے خرم شہزاد خرم خبریں 0 14-11-07 02:05 PM
سی پی این ای اسٹینڈنگ کمیٹی کا اجلاس ،میڈیا قوانین میں ترامیم مسترد عبدالقدوس خبریں 0 08-11-07 02:06 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:26 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger