واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > عورت کہانی



عورت کہانی عورت کہانی


ٹیپو سلطان کے خاندان سے براہ راست خونی تعلق رکھنے والی نور عنایت خان کی برٹن کیلیے جان کی قربانی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 13-01-11, 01:01 AM   #1
ٹیپو سلطان کے خاندان سے براہ راست خونی تعلق رکھنے والی نور عنایت خان کی برٹن کیلیے جان کی قربانی
ناصحی ناصحی آف لائن ہے 13-01-11, 01:01 AM

1939 میں جب دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی تو نور عنایت خان اور اسکے بھائی نے ناٹسیوں کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کیا اور وہ لندن میں ونسٹن چرچل کی sabotage force میں بھرتی ہو گے۔ تربیت کے بعد نور عنایت خان کو پیرس میں sabotage کیلیے بھیجا گیا۔ اسکا کام اتنا خطرناک تھا کہ اسکا چھ ہفتے سے زیادہ کیلیے زندہ بچ جانا ممکن نہ تھا۔ اسکے باقی ساتھی پکڑے گئے لیکن وہ بہادری سے اپنا کام سر انجام دیتی رہی اور ناٹسیوں کی بھرپور کوشش کے باجود تین ماہ تک نہ پکڑی جا سکی۔ آخر کار ایک فرانسیسی عورت کے دغا دینے پر وہ پکڑی گئی۔ ناٹسی جرمنی کی خفیہ پولیس گسٹاپو نے اسے دس ماہ تک قید میں اسکے کے ساتھ شدید تشدد کیا اسکے باوجود بھی وہ اس سے کوئی اہم راز نہ اگلوا سکی۔

نور عنایت خان ماسکو میں پیدا ہوئی تھی اور اسکا ٹیپو سلطان کی خاندان سے براہ راست خونی تعلق تھا۔ اسکا والد ایک صوفی تھا جس نے اپنی فیملی کو پہلے لندن اور پھر پیرس منتقل کیا تھا جہاں نور نے اپنی تعلیم حاصل کی تھی۔

Name:  N2.jpg
Views: 152
Size:  18.7 KB

نور عنایت خان پر بی بی سی کا انگلش آرٹیکل پڑھنے کیلیے مندرجہ ذیل لنک پر کلیک کریں۔
Churchill's Asian spy princess

__________________

 
ناصحی's Avatar
ناصحی
Senior Member
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 176
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ناصحی کا شکریہ ادا کیا
shafresha (13-01-11), کنعان (13-01-11), یاسر عمران مرزا (13-01-11), منتظمین (13-01-11)
پرانا 13-01-11, 02:34 AM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

انگلش آرٹیکل کافی بہتر لکھا گیا ہے۔۔۔

شیرنگ کا شکریہ
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (13-01-11)
پرانا 13-01-11, 04:44 AM   #3
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ Nasiwise،

انگلش میں مشکل پر باقی اردو پڑھنے والے یہاں سے پڑھ سکتے ہیں۔


نورالنساء عنایت خان



دوسری جنگِ عظیم کے دوران نازیوں کے زیرِ قبضہ فرانس میں کئی سطحوں پر تحریکِ مزاحمت جاری تھی۔ برطانیہ کی خفیہ سروس نے پیرس میں اپنے جاسوسوں کا جال پھیلا رکھا تھا جسکے ذریعے پل پل کی خبر اتحادی کمان کو پہنچتی تھی۔ نورالنساء (Noor-u-Nissa) جرمنوں کے خلاف کام کرنے والی پہلی خاتون ریڈیو آپریٹر تھیں

نورالنساء کا باپ صُوفی منش انسان تھا، عدم تشدد کا قائل اور عارفانہ موسیقی کا شیدائی جبکہ اُس کی ماں ایک نو مسلم امریکی خاتون تھی۔

پہلی جنگِ عظیم کے وقت بلومز بری میں پیدا ہونے والی یہ لڑکی دوسری جنگِ عظیم کے دوران جرمنوں کی قید میں انتہائی اذیت ناک حالات میں دم توڑ گئی۔

1943ء میں نازیوں نے اِن جاسوسوں کی بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ شروع کر دی اور ایک ایسا وقت بھی آیا کہ نورالنساء کے تمام ساتھی گرفتار ہوگئے اور پیرس میں اتحادیوں کے لِیے پیغام رسانی کی تمام تر ذمہ داری اس نوجوان خاتون پر آن پڑی لیکن آخر کار جرمن خفیہ سروس گستاپو نے نور کو بھی آن لیا۔

نازی پنجے کی گرفت میں آنے کے بعد نور کا حوصلہ مزید مضبوط ہوگیا اور راز اُگلوانے کے سارے نازی ہتھکنڈے ناکام ہو گئے۔ نور کی زبان کُھلوانے کے لئے اُسے جو جو اذیتیں دی گئیں اُن کا اندازہ اس امر سے ہوجاتا ہے کہ جنگ کے بعد نازیوں پر چلنے والے جنگی جرائم کے مقدّمے میں گستاپو کے متعلقہ افسر، ہانس جوزف کیفر سے نورالنساء کی موت کے بارے میں پوچھا گیا تو سنگدِل افسر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

نورالنساء کا بچپن پیرس کے نواح میں گزرا۔ وہ اپنے خیالات میں گُم رہنے والی اور طلسمی کہانیاں پڑھنے والی ایک بچّی تھی لیکن 1927ء میں جب وہ صرف تیرہ برس کی تھی تو والد کا انتقال ہوگیا اور والدہ اس صدمے سے مستقلاً سکتے میں آگئیں۔

چار بچّوں میں سب سے بڑی ہونے کے سبب سارے خاندان کی ذمہ داری نورالنساء کے ناتواں کاندھوں پر آن پڑی تھی۔

1940ء میں جب جرمنوں نے فرانس پر قبضہ کیا تو نورالنساء کا سماجی اور سیاسی شعور پختہ ہوچکا تھا۔ وہ سمجھتی تھی کہ اب والد صاحب کی طرح محض عدم تشدد پہ یقین رکھنے اور صوفیانہ موسیقی میں گم رہنے سے کام نہیں چلے گا بلکہ حالات براہِ راست عملی اقدام کا تقاضہ کر رہے ہیں۔

نور کو بچپن ہی سے ریڈیو پر بچّوں کو کہانیاں سنانے کا شوق تھا اور وہ ریڈیو اور وائرلیس کی تکنیک سے قدرے شناسا تھی چنانچہ جرمنوں کے خلاف تحریکِ مزاحمت میں اُس نے خفیہ پیغام رسانی کا میدان چُنا۔

یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ نورالنساء عنایت خان جرمنوں کے خلاف کام کرنے والی اولین خاتون ریڈیو آپریٹر تھی۔ اس نے چھبیس برس کی عمر میں خود کو تحریکِ مزاحمت کے لئے وقف کر دیا تھا اور اُنتیس برس کی عمر میں جرمنوں کے ہاتھوں ایک اذیت ناک موت سے ہم کنار ہوئی۔

نرم و نازک خدوخال، گہری سیاہ آنکھوں اور دھیمے لہجے والی حسین و جمیل خاتون کی خطر پسند زندگی نے کئی قلم کاروں کو اپنی جانب راغب کیا اور اب تک اس کی زندگی پر عالمی شہرت کے دو ناول تحریر کئے جا چکے ہیں۔

نورالنساء عنایت خان کو اپنے جدِ امجد سلطان ٹیپو سے والہانہ عقیدت تھی اور اُسی روایت پہ چلتے ہوئے انھوں نے ہندوستان کو انگریزی عمل داری سے پاک کرنے کی قسم کھا رکھی تھی۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ جب خفیہ سروس میں بھرتی کے لئے انٹرویو ہوا تو نور عنایت نے انگریز افسر سے صاف صاف کہہ دیا کہ فی الحال ہمارے سامنے ایک مشترکہ دشمن نازی جرمنی کی شکل میں موجود ہے لیکن نازی ازم کا خاتمہ ہوتے ہی میں آزادیء ہند کے لئے انگریزوں کے خلاف بر سرِ پیکار ہوجاؤں گی۔

ایک ایسی خوبرو، صاف گو، شیردِل لیکن فنکارانہ مزاج کی عورت کے اصل حالاتِ زندگی بہت پہلے دنیا کے سامنے آجانے چاہیئں تھے۔ بہر حال مصنفہ شربانی باسُو داد کی مستحق ہیں کہ انھوں نے اس دیرینہ ضرورت کو پورا کیا ہے اور نور عنایت خان کی ہشت پہلو زندگی ہم پہ بے نقاب کی ہے۔

نورالنساء (Noor-u-Nissa) کی داستانِ حیات پر اب تک اسرار کا دبیز پردہ پڑا رہا ہے جس نے بے شمار افواہوں کو بھی جنم دیا لیکن اب شربانی باسُو کی نئی کتاب ’جاسوس شہزادی‘ (Spy Princess) نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا ہے۔


(نقل)
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (13-01-11), منتظمین (13-01-11)
جواب

Tags
asia, force, کوئی, کوشش, کار, پہلے, پکڑی, پولیس, قید, لنک, لندن, منتقل, ممکن, انگلش, انجام, بھائی, تعلیم, خفیہ, خلاف, خان, شروع, عورت, عنایت, عظیم, صوفی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ٹیپو سلطان کے ہاتھ کا لگا صدیوں پرانا درخت gazali دلچسپ اور عجیب 19 16-11-11 12:48 PM
جنسی تعلیم پر بھارتی سماجی حلقوں میں زبردست بحث Real_Light خبریں 0 13-10-09 01:30 PM
ٹیپو سلطان کے تخت پر لگے چیتے کا سر تین لاکھ پاوٴنڈ میں نیلام کنعان تاریخ پاکستان 6 28-08-09 09:26 AM
شیر میسور ٹیپو سلطان عرفان حیدر تاریخ پاکستان 2 27-06-08 03:54 PM
پاکستان کے ایٹمی اثاثوں سے متعلق مغرب کے بیانات درست نہیں، بھارت خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-01-08 08:33 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:28 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger