|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 753
|
||||
| 10 قاری/قارئین نے سائرہ علی کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (18-12-09), فرحان دانش (22-12-09), نیلم خان (18-12-09), منتظمین (22-12-09), محمدعدنان (19-12-09), معظم (22-12-09), ایس اے نقوی (18-12-09), ام طلحہ (22-12-09), راجہ اکرام (18-12-09), عروج (05-02-11) |
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
کمائي: 561,167
شکریہ: 25,577
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (18-12-09), محمدعدنان (19-12-09), ایس اے نقوی (18-12-09), راجہ اکرام (18-12-09), سائرہ علی (19-12-09), عروج (05-02-11) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,239
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آمین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
درست کہا ہے مسز سعدیہ احسان نے
بلکہ یہ تو ایسا ہنر ہے جو زندگی بھر کام آتا ہے، اور سیکھنے میں زیادہ محنت اور سرمایہ بھی درکار نہیں۔ اس سے نہ صرف یہ کہ اپنے اور اہل خانہ کے کپڑے سلائی کر کے ہزاروں روپے کی سلائی فیس بچائی جا سکتی ہے بلکہ ضرورت پڑنے پر کمائی کا بھی بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔ آج کل بعض اوقات ایسے ایسے لطیفے بنتے ہیں کہ نہ بندہ ہنس سکتا ہے اور نہ رو سکتا ہے۔ بچے کے لئے کپڑے سلوانے ہوں، غریب بندہ بڑی محنت سے پیسے بچا کر سستا سا کپڑا خریدتا ہے کہ چلو بچہ خوش ہو جائے گا نئے کپڑے ہیں، لیکن جب سلوانے کے لئے درزی کے پاس جائیں تو ’’پیڈل کو سائیکل‘‘ لگوانے والا معاملہ ہوتا ہے۔ 100 روپے کا کپڑا اور 150 سلائی فیس ۔۔۔ بندہ ہنسے یا روئے۔ خاص طور گھریلو خواتین جو باہر جا کر کام نہیں کرتیں ان کے لئے یہ ایک اہم ہنر اور مشغلہ ہو سکتا ہے تو میری وہ ساری بہنیں جو اس ہنر سے ناواقف ہیں، روزانہ کچھ وقت نکالیں اور سیکھ لیں۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
خواتین کو تو چلو میں مانتی ہوں سیکھنا چاہیے بھی اور کافی خواتین کو سلائی آتی بھی ہے
میں ڈاکٹر ہوں لیکن مجھے سلائی آتی ہے اور وقت ملنے پر یہ کام کربھی لیتی ہوں ۔ اور میری بہن فارماسسٹ ہے نوکری بھی کرتی ہے اور اپنے اور اپنے بچوں کے کپڑے بھی خود سیتی ہے ۔ لیکن میرا اعتراض یہ ہے کہ یہ کام صرف خواتین ہی کیوں کریں ۔ کیا خرچہ بچانے کے لیے گھر کے مرد سلائی کا ہنر نہیں سیکھ سکتے ۔ کیا مرد اپنے اور اپنے بچوں کے کپڑے خود نہیں سی سکتے ۔ شکریہ
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ایک تو یہاں بات خواتین کی ہو رہی ہے اور وہ بھی ان خواتین کی جن کے پاس یہ کام سیکھنے کے لئے ٹائم ہو یا جو پہلے سے سیکھی ہوئی ہوں۔ اور بطور خاص وہ خواتین جو نوکری پیشہ نہ ہوں۔ اور جہاں تک تعلق ہے مرد حضرات کا تو وہ بھی یہ کام ضرور سیکھیں، اور ییسے بچانے میں کردار ادا کریں۔ کیوں کہ پیسوں کی اصل ذمہ داری تو مرد حضرات ہی کی ہے۔ لیکن چونکہ اکثر مرد حضرات کاروبار زندگی میں اس قدر مشغول ہوتے ہیں کہ ان کاموں کے لئے وقت ہی نہیں نکال پاتے، ورنہ مردوں کے سیکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اور مثالی صورت تو یہ ہے کہ میاں بیوی مل کر سارے نظام کو چلائیں، ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں۔۔ اور گھر کو خوشیوں کا گہوارا بنائیں و السلام |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مجھے معلوم نہیں شادی شدہ زندگی میں میاں اور بیوی میں برابری کس طرح دیکھی جاتی ہے۔ شادی ایک باہمی ایگریمنٹ کا نام ہے۔ جو کہ دو افراد ایک گھر کو بنانے اور چلانے کے لیے کرتے ہیں۔ جس طرح ایک ادارے کو چلانےکے لیے کچھ قوانین ہوتے ہیں اور اس میں ایک سربراہ ہوتا ہے اس طرح شادی میں گھر کو چلانے کے لیے مرد کو سربراہی دی گئ ہے۔ جس کی ذمہ داریاں بیوی کی ذمہ داریوں سے کچھ مختلف ہوتی ہیں۔ اس میں کہیں بھی مرد و عورت کی برابری کا سوال ہی نہیں ہے کہ کون ان میں افضل ہے۔ بلکہ یہ بحثیت ایک ادارہ چلانے کا طریقہ کار ہے جس میںمرد کو کمانے کی وجہ سے سربراہ منتخب کیا گیا ہے اور عورت کو مرد کی کفالت میں دیا گیا ہے۔ گھر چلانے کے لیے عورت پر کسی بھی قسم کی ذریعہ معاش کی ذمہ داری نہیں ہے۔ بلکہ یہ فریضہ مرد کو تفویض کیا گیا ہے۔ اس لیے مرد اور عورت کی ذمہ داریاں بھی قدرے مختلف ہیں۔ مثال کے طور پر مرد کو قدرت نے بچہ پیدا کرنے کی ذمہ داری تفویض نہیں کی ہے۔ جب تک مرد اور عورت اپنے اپنے تفویض کردہ فرائض کو مناسب طریقے سے سرانجام نہ دیں گھر کا چلنا ایک ناممکن امر ہے۔
جو عورتیں مردوں کی برابری کا دعوی کرتی ہیں، یا کوشش کرتی نظر آتی ہیں ان کے گھروں کا چلنا ایک نہائت ہی مشکل امر ہے اور اکثر اوقات ان شادیوں کا انجام افسوس ناک ہی ہوتا ہے۔۔ قراں میں ہے۔ مفہوم، کہ مرد کو عورت پر ایک طرح سے فوقیت حاصل ہے۔ والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
|
|
#9 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
منتظمین بھائی
یہاں بات کفایت کرنے کے لیے عورتوں کی سلائی کی بات ہورہی ہے ، مردوں کی فضیلت کو کوئی چیلنج نہیں کررہا ہے ، آپ کو شاید علم نہیں کہ اس مہنگائی کے اس دور میں خواتین کی ایک بڑی تعداد اپنے گھر کا خرچہ ، ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنے شوہر کی معاش کی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیےاپنے شوہر کا ہاتھ بٹاتی ہیں اور گھر کے کاموں کے ساتھ نوکری بھی کرتی ہیں ۔ جب عورت اپنے شوہر کا ہاتھ بٹاسکتی ہےلیکن مرد اگر گھر میں اپنی بیوی کا ہاتھ بٹائے تو اس کی فضیلت پر حرف آجائے گا ۔ ؎حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کیا کرتے تھے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ گھر کے کام کیا کرتے تھے ۔ شکریہ Last edited by سحر; 19-12-09 at 01:26 AM. |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہاں اپرچ میںفرق ہے۔ ایک ہے چاہیے، ایک ہے وہ کر دیتا ہے۔ ان دونوں میں بہت فرق ہے۔ اگر کوئی بیوی یہ تصور کرتی ہے کہ اس کا میاں اسکی اور بچوںکی کفالت کرنے کے ساتھ ساتھ ساتھ گھر میں اس کے کاموں میںہاتھ بٹھانے کے لیے پابند ہے تو یہ اس کی غلطی ہے، اس کو کہتے ہیں چاہیے۔
لیکن اگر ایک میاں ازراہ شفقت اپنی بیوی کا گھر کے کاموں میںہاتھ بٹاتا ہے تو یہ اس کا بیوی پر احسان اور کشادہ دلی ہے۔ نہ کہ ایسا کرنا اس کے فرائض میںشامل ہے۔ حضور ص: کے طریق کار میں بھی یہی رائج تھا۔ ناکہ ام المومنین حضور پاک کو گھر کے کام پکڑا دیتی تھیںکہ آج اپ ص: یہ کریں۔ والسلام |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ کی بات صحیح ہے کہ شوہر بیوی کا ہاتھ بٹاتا ہے تو بیوی کو احسان مند ہونا چاہیے ؎
اور جب بیوی اپنے شوہر کا ہاتھ بٹاتی ہے تو شوہر کو احسان مند ہونا چاہیے ۔ شکریہ |
|
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: خوابوں کی سرزمین
مراسلات: 262
کمائي: 6,401
شکریہ: 366
216 مراسلہ میں 640 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مرد و عورت دونوں کو ایک دوسرےکا احساس کرنا چاہئیے اس سے زندگی سہل ہوجاتی ہے
|
|
|
|
| سائرہ علی کا شکریہ ادا کیا گیا | راجہ اکرام (22-12-09) |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,427
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اگر کہیں بھی خواتین کا ذکر کیا جائے گا تو کیا اس سے مراد صرف بیوی لیا جائے گا اور یا اگر مرد کی بات کی جائے تو مراد خاوند لیا جائے گا۔ ابھی پاکستان میں یورپ جیسے حالات نہیں آئے جہاں مرد اور خواتین سے مراد صرف میاں بیوی لیا جائے ۔ مرد، باپ دادا ماموں چچا بھانجا بیٹا بھتیجا کے رشتے میں معاشرے میں مشترکہ خاندانی نظام کے تحت بھی آباد ہیں ۔ اور خواتین، ماں بہن بیٹی خالہ پھوپھو دادی نانی کے رشتوں میں بہت با وقار مقام رکھتی ہیں ۔ لیکن اسلام میں مرد کے لئے جو فرائض میں شامل ہیں ان میں سر فہرست والدین کے حقوق ہیں جس کے بارے میں واضح آیات مبارکہ حکم کے ساتھ موجود ہیں ۔
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محمود بھائی
آپ کی بات ٹھیک ہے لیکن یہاں بات کفایت کی ہورہی ہے ، اور مہنگائی میں گزارا کرنے کی ہورہی ہے ۔ پاکستان میں اگر مشترکہ خاندانی نظام میں بھی اگر بیٹا اور بہو رہتے ہیں تو گھر کی ذمہ داری یعنی معاش کی ذمہ داری ماں باپ پر نہیں ، بیٹے پر ہوتی ہے ۔ اس معاشی حالات سے لڑنےمیں بیٹے کے ساتھ اس کی بیوی ہی ساتھ دے رہی ہوتی ہے ، اللہ کا شکر ہے آج بھی پاکستان میں بیٹا معاشی ضرورریات نہ پورا کرنے پر اپنے ماں باپ پر معاش کا بوجھ نہیں ڈالتا ، لیکن اپنی بیوی سے ضرور توقع کرتا ہے کہ وہ اس کی مدد کرے ۔ شکریہ |
|
|
|
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,427
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سچی بات تو یہ ہے کہ میاں بیوی کا رشتہ باہمی اعتماد کی بنیادوں پر استوار ہے اور دونوں ہی کو ایک دوسرے کے ساتھ جہاں تک ممکن ہومدد کرنی چاہیئے پچاس سال پہلے والی بہو سے کام لینے کی سوچ بھی غلط ہے۔ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے بات تو سچ ہے سارے فلسفے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے کی ضرورت ہے ۔ اس دور میں سادگی اور کفائت ہی واحد زریعہ بچا ہے زندہ رہنے کا۔
مجھے کھانا پکانا نہیں آتا مگر میں نے زندگی میں بیگم سے کبھی من پسند کھانے کی فرمائش بھی نہیں کی جو سامنے رکھ دیں کھا لیتا ہوں بچوں کو بھی تلقین کرتے ہیں مگر جنک فوڈ جان نہیں چھوڑتا۔ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| com, images, quote, ہوتا, فرمائے, کہاں, پیسے, پاک, وقت, لائیں, مانگے, www, آمین, اپنے, بہترین, جائیں, جائے, خواتین, خوش, خزانے, زندگی, طور, علی, غریب, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ملکی پیسہ واپس لایا جائے حساب نہیں لیا جائیگا ، چیف جسٹس | جاویداسد | خبریں | 8 | 12-12-10 03:26 PM |
| میں بارش کردوں پیسے ....... | فیصل ناصر | قہقہے ہی قہقے | 3 | 08-10-10 06:34 PM |
| بجلی کی قیمتوں میں فی یونٹ 14 پیسے اضافہ، اطلاق یکم مئی سے ہو گا | گلاب خان | خبریں | 0 | 30-06-10 03:57 AM |
| گھر بیھٹے پیسے کمائیں | عبدالقدوس | کمپیوٹر کی باتیں | 21 | 16-07-07 04:45 PM |