واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > عورت کہانی



عورت کہانی عورت کہانی


پیسے کہاں سے لائیں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-12-09, 12:34 PM   #1
پیسے کہاں سے لائیں
سائرہ علی سائرہ علی آف لائن ہے 18-12-09, 12:34 PM


 
سائرہ علی's Avatar
سائرہ علی
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: خوابوں کی سرزمین
مراسلات: 262
شکریہ: 366
216 مراسلہ میں 640 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 753
Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے سائرہ علی کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (18-12-09), فرحان دانش (22-12-09), نیلم خان (18-12-09), منتظمین (22-12-09), محمدعدنان (19-12-09), معظم (22-12-09), ایس اے نقوی (18-12-09), ام طلحہ (22-12-09), راجہ اکرام (18-12-09), عروج (05-02-11)
پرانا 18-12-09, 01:40 PM   #2
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
کمائي: 561,167
شکریہ: 25,577
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سائرہ علی مراسلہ دیکھیں
اللہ پاک سب کو اپنے خزانے سے بن مانگے عطا فرمائے آمین ۔
نیلم خان آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (18-12-09), محمدعدنان (19-12-09), ایس اے نقوی (18-12-09), راجہ اکرام (18-12-09), سائرہ علی (19-12-09), عروج (05-02-11)
پرانا 18-12-09, 01:42 PM   #3
Senior Member

 
عدنان دانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,239
شکریہ: 4,887
4,398 مراسلہ میں 11,054 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آمین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عدنان دانی آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (18-12-09), محمدعدنان (19-12-09), ایس اے نقوی (18-12-09), راجہ اکرام (18-12-09)
پرانا 18-12-09, 04:35 PM   #4
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

درست کہا ہے مسز سعدیہ احسان نے
بلکہ یہ تو ایسا ہنر ہے جو زندگی بھر کام آتا ہے، اور سیکھنے میں‌ زیادہ محنت اور سرمایہ بھی درکار نہیں۔
اس سے نہ صرف یہ کہ اپنے اور اہل خانہ کے کپڑے سلائی کر کے ہزاروں روپے کی سلائی فیس بچائی جا سکتی ہے بلکہ ضرورت پڑنے پر کمائی کا بھی بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔
آج کل بعض اوقات ایسے ایسے لطیفے بنتے ہیں کہ نہ بندہ ہنس سکتا ہے اور نہ رو سکتا ہے۔
بچے کے لئے کپڑے سلوانے ہوں، غریب بندہ بڑی محنت سے پیسے بچا کر سستا سا کپڑا خریدتا ہے کہ چلو بچہ خوش ہو جائے گا نئے کپڑے ہیں، لیکن جب سلوانے کے لئے درزی کے پاس جائیں تو ’’پیڈل کو سائیکل‘‘ لگوانے والا معاملہ ہوتا ہے۔ 100 روپے کا کپڑا اور 150 سلائی فیس ۔۔۔ بندہ ہنسے یا روئے۔

خاص طور گھریلو خواتین جو باہر جا کر کام نہیں کرتیں ان کے لئے یہ ایک اہم ہنر اور مشغلہ ہو سکتا ہے

تو میری وہ ساری بہنیں جو اس ہنر سے ناواقف ہیں، روزانہ کچھ وقت نکالیں اور سیکھ لیں۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
محمدعدنان (19-12-09), ام طلحہ (22-12-09), سائرہ علی (19-12-09), عروج (05-02-11)
پرانا 18-12-09, 04:46 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,538
کمائي: 88,203
شکریہ: 5,214
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

لیکن ان سلائی کاڑائی سے آگے نکلوں اب جدید ہنر سکھوں جیسے کمپیوٹر ، موبائل وغیرہ کا
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
wajee کا شکریہ ادا کیا گیا
سائرہ علی (19-12-09)
پرانا 18-12-09, 04:47 PM   #6
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

خواتین کو تو چلو میں مانتی ہوں سیکھنا چاہیے بھی اور کافی خواتین کو سلائی آتی بھی ہے
میں ڈاکٹر ہوں لیکن مجھے سلائی آتی ہے اور وقت ملنے پر یہ کام کربھی لیتی ہوں ۔ اور میری بہن فارماسسٹ ہے نوکری بھی کرتی ہے اور اپنے اور اپنے بچوں کے کپڑے بھی خود سیتی ہے ۔
لیکن میرا اعتراض یہ ہے کہ یہ کام صرف خواتین ہی کیوں کریں ۔
کیا خرچہ بچانے کے لیے گھر کے مرد سلائی کا ہنر نہیں سیکھ سکتے ۔
کیا مرد اپنے اور اپنے بچوں کے کپڑے خود نہیں سی سکتے ۔
شکریہ
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
محمدعدنان (19-12-09), ام طلحہ (22-12-09), راجہ اکرام (18-12-09), سائرہ علی (19-12-09)
پرانا 18-12-09, 05:33 PM   #7
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
لیکن میرا اعتراض یہ ہے کہ یہ کام صرف خواتین ہی کیوں کریں ۔
کیا خرچہ بچانے کے لیے گھر کے مرد سلائی کا ہنر نہیں سیکھ سکتے ۔
کیا مرد اپنے اور اپنے بچوں کے کپڑے خود نہیں سی سکتے ۔
یہ سوال بالکل درست ہے لیکن
ایک تو یہاں بات خواتین کی ہو رہی ہے اور وہ بھی ان خواتین کی جن کے پاس یہ کام سیکھنے کے لئے ٹائم ہو یا جو پہلے سے سیکھی ہوئی ہوں۔ اور بطور خاص وہ خواتین جو نوکری پیشہ نہ ہوں۔

اور جہاں تک تعلق ہے مرد حضرات کا تو وہ بھی یہ کام ضرور سیکھیں، اور ییسے بچانے میں کردار ادا کریں۔ کیوں کہ پیسوں کی اصل ذمہ داری تو مرد حضرات ہی کی ہے۔
لیکن چونکہ اکثر مرد حضرات کاروبار زندگی میں اس قدر مشغول ہوتے ہیں کہ ان کاموں کے لئے وقت ہی نہیں نکال پاتے، ورنہ مردوں کے سیکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

اور مثالی صورت تو یہ ہے کہ میاں بیوی مل کر سارے نظام کو چلائیں، ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں۔۔ اور گھر کو خوشیوں کا گہوارا بنائیں

و السلام
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (18-12-09), محمدعدنان (19-12-09), ایس اے نقوی (18-12-09), سائرہ علی (19-12-09)
پرانا 18-12-09, 09:39 PM   #8
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مجھے معلوم نہیں شادی شدہ زندگی میں میاں اور بیوی میں برابری کس طرح دیکھی جاتی ہے۔ شادی ایک باہمی ایگریمنٹ کا نام ہے۔ جو کہ دو افراد ایک گھر کو بنانے اور چلانے کے لیے کرتے ہیں۔ جس طرح ایک ادارے کو چلانےکے لیے کچھ قوانین ہوتے ہیں اور اس میں ایک سربراہ ہوتا ہے اس طرح شادی میں گھر کو چلانے کے لیے مرد کو سربراہی دی گئ ہے۔ جس کی ذمہ داریاں بیوی کی ذمہ داریوں سے کچھ مختلف ہوتی ہیں۔ اس میں کہیں بھی مرد و عورت کی برابری کا سوال ہی نہیں ہے کہ کون ان میں افضل ہے۔ بلکہ یہ بحثیت ایک ادارہ چلانے کا طریقہ کار ہے جس میں‌مرد کو کمانے کی وجہ سے سربراہ منتخب کیا گیا ہے اور عورت کو مرد کی کفالت میں دیا گیا ہے۔ گھر چلانے کے لیے عورت پر کسی بھی قسم کی ذریعہ معاش کی ذمہ داری نہیں ہے۔ بلکہ یہ فریضہ مرد کو تفویض کیا گیا ہے۔ اس لیے مرد اور عورت کی ذمہ داریاں بھی قدرے مختلف ہیں۔ مثال کے طور پر مرد کو قدرت نے بچہ پیدا کرنے کی ذمہ داری تفویض نہیں کی ہے۔ جب تک مرد اور عورت اپنے اپنے تفویض کردہ فرائض کو مناسب طریقے سے سرانجام نہ دیں گھر کا چلنا ایک ناممکن امر ہے۔
جو عورتیں مردوں کی برابری کا دعوی کرتی ہیں، یا کوشش کرتی نظر آتی ہیں ان کے گھروں کا چلنا ایک نہائت ہی مشکل امر ہے اور اکثر اوقات ان شادیوں کا انجام افسوس ناک ہی ہوتا ہے۔۔
قراں میں ہے۔ مفہوم، کہ مرد کو عورت پر ایک طرح سے فوقیت حاصل ہے۔

والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (18-12-09), نیلم خان (18-12-09), محمدعدنان (19-12-09), سائرہ علی (19-12-09), عروج (05-02-11)
پرانا 19-12-09, 01:24 AM   #9
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

منتظمین بھائی
یہاں بات کفایت کرنے کے لیے عورتوں کی سلائی کی بات ہورہی ہے ، مردوں کی فضیلت کو کوئی چیلنج نہیں کررہا ہے ،
آپ کو شاید علم نہیں کہ اس مہنگائی کے اس دور میں خواتین کی ایک بڑی تعداد اپنے گھر کا خرچہ ، ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنے شوہر کی معاش کی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیےاپنے شوہر کا ہاتھ بٹاتی ہیں اور گھر کے کاموں کے ساتھ نوکری بھی کرتی ہیں ۔
جب عورت اپنے شوہر کا ہاتھ بٹاسکتی ہےلیکن مرد اگر گھر میں اپنی بیوی کا ہاتھ بٹائے تو اس کی فضیلت پر حرف آجائے گا ۔
؎حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کیا کرتے تھے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ گھر کے کام کیا کرتے تھے ۔
شکریہ

Last edited by سحر; 19-12-09 at 01:26 AM.
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
محمدعدنان (19-12-09), ام طلحہ (22-12-09), راجہ اکرام (19-12-09), سائرہ علی (19-12-09)
پرانا 19-12-09, 01:35 AM   #10
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہاں اپرچ میں‌فرق ہے۔ ایک ہے چاہیے، ایک ہے وہ کر دیتا ہے۔ ان دونوں‌ میں‌ بہت فرق ہے۔ اگر کوئی بیوی یہ تصور کرتی ہے کہ اس کا میاں اسکی اور بچوں‌کی کفالت کرنے کے ساتھ ساتھ ساتھ گھر میں‌ اس کے کاموں میں‌ہاتھ بٹھانے کے لیے پابند ہے تو یہ اس کی غلطی ہے، اس کو کہتے ہیں چاہیے۔
لیکن اگر ایک میاں ازراہ شفقت اپنی بیوی کا گھر کے کاموں میں‌ہاتھ بٹاتا ہے تو یہ اس کا بیوی پر احسان اور کشادہ دلی ہے۔ نہ کہ ایسا کرنا اس کے فرائض میں‌شامل ہے۔ حضور ص:‌ کے طریق کار میں بھی یہی رائج تھا۔ ناکہ ام المومنین حضور پاک کو گھر کے کام پکڑا دیتی تھیں‌کہ آج اپ ص:‌ یہ کریں۔

والسلام
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
محمدعدنان (19-12-09), راجہ اکرام (19-12-09), سائرہ علی (19-12-09), عروج (05-02-11)
پرانا 19-12-09, 01:43 AM   #11
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ کی بات صحیح ہے کہ شوہر بیوی کا ہاتھ بٹاتا ہے تو بیوی کو احسان مند ہونا چاہیے ؎
اور جب بیوی اپنے شوہر کا ہاتھ بٹاتی ہے تو شوہر کو احسان مند ہونا چاہیے ۔
شکریہ
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (19-12-09), محمدعدنان (19-12-09), ام طلحہ (22-12-09), راجہ اکرام (19-12-09), سائرہ علی (19-12-09), عروج (05-02-11)
پرانا 19-12-09, 09:53 AM   #12
Senior Member
 
سائرہ علی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: خوابوں کی سرزمین
مراسلات: 262
کمائي: 6,401
شکریہ: 366
216 مراسلہ میں 640 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مرد و عورت دونوں کو ایک دوسرےکا احساس کرنا چاہئیے اس سے زندگی سہل ہوجاتی ہے
سائرہ علی آف لائن ہے   Reply With Quote
سائرہ علی کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (22-12-09)
پرانا 19-12-09, 11:52 AM   #13
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,427
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اگر کہیں بھی خواتین کا ذکر کیا جائے گا تو کیا اس سے مراد صرف بیوی لیا جائے گا اور یا اگر مرد کی بات کی جائے تو مراد خاوند لیا جائے گا۔ ابھی پاکستان میں یورپ جیسے حالات نہیں آئے جہاں مرد اور خواتین سے مراد صرف میاں بیوی لیا جائے ۔ مرد، باپ دادا ماموں چچا بھانجا بیٹا بھتیجا کے رشتے میں معاشرے میں مشترکہ خاندانی نظام کے تحت بھی آباد ہیں ۔ اور خواتین، ماں بہن بیٹی خالہ پھوپھو دادی نانی کے رشتوں میں بہت با وقار مقام رکھتی ہیں ۔ لیکن اسلام میں مرد کے لئے جو فرائض میں شامل ہیں ان میں سر فہرست والدین کے حقوق ہیں جس کے بارے میں واضح آیات مبارکہ حکم کے ساتھ موجود ہیں ۔
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
ام طلحہ (22-12-09), عروج (05-02-11)
پرانا 19-12-09, 12:04 PM   #14
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

محمود بھائی
آپ کی بات ٹھیک ہے لیکن یہاں بات کفایت کی ہورہی ہے ، اور مہنگائی میں گزارا کرنے کی ہورہی ہے ۔ پاکستان میں اگر مشترکہ خاندانی نظام میں بھی اگر بیٹا اور بہو رہتے ہیں تو گھر کی ذمہ داری یعنی معاش کی ذمہ داری ماں باپ پر نہیں ، بیٹے پر ہوتی ہے ۔ اس معاشی حالات سے لڑنےمیں بیٹے کے ساتھ اس کی بیوی ہی ساتھ دے رہی ہوتی ہے ، اللہ کا شکر ہے آج بھی پاکستان میں بیٹا معاشی ضرورریات نہ پورا کرنے پر اپنے ماں باپ پر معاش کا بوجھ نہیں ڈالتا ، لیکن اپنی بیوی سے ضرور توقع کرتا ہے کہ وہ اس کی مدد کرے ۔
شکریہ
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (19-12-09), ام طلحہ (22-12-09), بزم خیال (19-12-09), عروج (05-02-11)
پرانا 19-12-09, 12:28 PM   #15
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,427
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سچی بات تو یہ ہے کہ میاں بیوی کا رشتہ باہمی اعتماد کی بنیادوں پر استوار ہے اور دونوں ہی کو ایک دوسرے کے ساتھ جہاں تک ممکن ہومدد کرنی چاہیئے پچاس سال پہلے والی بہو سے کام لینے کی سوچ بھی غلط ہے۔ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے بات تو سچ ہے سارے فلسفے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے کی ضرورت ہے ۔ اس دور میں سادگی اور کفائت ہی واحد زریعہ بچا ہے زندہ رہنے کا۔
مجھے کھانا پکانا نہیں آتا مگر میں نے زندگی میں بیگم سے کبھی من پسند کھانے کی فرمائش بھی نہیں کی جو سامنے رکھ دیں کھا لیتا ہوں بچوں کو بھی تلقین کرتے ہیں مگر جنک فوڈ جان نہیں چھوڑتا۔
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
ام طلحہ (22-12-09), سائرہ علی (21-12-09), سحر (19-12-09), عروج (05-02-11)
جواب

Tags
com, images, quote, ہوتا, فرمائے, کہاں, پیسے, پاک, وقت, لائیں, مانگے, www, آمین, اپنے, بہترین, جائیں, جائے, خواتین, خوش, خزانے, زندگی, طور, علی, غریب, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ملکی پیسہ واپس لایا جائے حساب نہیں لیا جائیگا ، چیف جسٹس جاویداسد خبریں 8 12-12-10 03:26 PM
میں بارش کردوں پیسے ....... فیصل ناصر قہقہے ہی قہقے 3 08-10-10 06:34 PM
بجلی کی قیمتوں میں فی یونٹ 14 پیسے اضافہ، اطلاق یکم مئی سے ہو گا گلاب خان خبریں 0 30-06-10 03:57 AM
گھر بیھٹے پیسے کمائیں عبدالقدوس کمپیوٹر کی باتیں 21 16-07-07 04:45 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:28 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger