واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > عورت کہانی



عورت کہانی عورت کہانی


کفارہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 05-12-09, 10:12 AM   #1
کفارہ
سحر سحر آن لائن ہے 05-12-09, 10:12 AM

وہ کوئی بیس، بائیس سال کے لگ بھگ ہوگی ۔ جو میرے ڈرائنگ روم میں اس وقت نظریں جھکائے بیٹھی تھی ۔ اس کے چہرے سے کرب کے آثار نمایاں نظر آتے تھے۔ لگتا تھا کہ وہ کسی بہت بڑے امتحان سے گزر رہی ہے ۔ اس کے ہاتھ میں ایک فائل تھی جس کو اس نے اپنی گود میں رکھ لیا تھا ۔

میں اس کے سامنے صوفے پر بیٹھی اس کے بولنے کا انتظار کررہی تھی اور جاننا چاہتی تھی کہ وہ کون ہے اور میرے گھر کیوں آئی ہے؟

اس نے کہنا شروع کیا ۔ میرا نام صائمہ ہے اور میرے والد کا نام امجد ۔ میں اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہوں ۔ میرے والد کا دوسال ہوئے انتقال ہوچکا ہے ۔ میری والدہ نے میرے والد کے انتقال کے بعد بہت ہمت سے وقت گزارا لیکن وہ کچھ بیمار رہنے لگیں تھیں ۔ کل ان کو برین ہیمرج ہوگیا ۔ جس کی وجہ سے ان کا آدھا جسم فالج زدہ ہوگیا ہے ۔ میرے ماں باپ نے اپنی تمام جمع پونجی سے ایک گھر بنایا تھا ۔ یہی گھر میرے ماں باپ کی کل جائیداد ہے ۔

آج میری ماں نے وکیل کو بلا کر یہ گھر آپ کے نام کردیا ہے اور مجھے ہدایت کی ہے کہ میں خود آپ کو یہ کاغذات دے کر آؤں ۔ یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں میں بے اختیار آنسو آگئے جو اس نے کمال ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے پی لیے ۔

اور وہ فائل میری طرف بڑھادی ۔

میں نے اس سے فائل لے کر سامنے میز پر رکھ دی اور حیران ہوکر صائمہ کو دیکھنے لگی ۔

میری کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ جن لوگوں کو میں جانتی نہیں، اس لڑکی کو آج میں نے پہلی بار دیکھا، اس نے اپنے والد کا جو نام بتایا وہ میرے لیے بالکل اجنبی تھا اور اس کی ماں نے اپنا آشیانہ اوراپنی بیٹی کے سر کی چھت میرے نام کردی ۔

میں نے غیر یقینی کے عالم میں اس سے کہا کہ میں تمھاری ماں سے ملنا چاہتی ہوں ۔

صائمہ نے اثبات میں سر ہلاکر کہا اس کے لیے آپ کو گھر چلنا پڑے گا۔

میرے بیٹے نے سارا قصہ دروازہ پر کھڑے ہوکر سن لیا۔ میں جب اندر چادر اوڑھنے گئی تو میرے بیٹے نے مجھ سے کہا امی آپ بھی کن لوگوں کی باتوں میں آرہی ہیں ۔ آجکل کے زمانے میں ایسا ہوتا ہے کیا ۔ ضرور یہ لڑکی جھوٹ بول رہی ہے اور آگے کوئی بڑا دھوکہ نہ دے ۔
میں نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور کہا بیٹا تم نے اس کی آنکھیں نہیں دیکھیں ۔ میرا دل کہتا ہے کہ لڑکی جھوٹ نہیں بول رہی ہے ۔

میرے بیٹے نے میرے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا کہ میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گا ۔

ہم اس لڑکی کے ہمراہ اس کے گھر پہنچے ۔ یہ گھر شہر کے ایک امیر علاقے میں واقع تھا ۔ اور گھر کیا پانچ سو گز کی کوٹھی تھی ۔ جو دیکھنے سے ہی لگ رہا تھا کہ بنانے والے نے اسے بہت ارمان اور شوق سے بنایا ہے ۔

میں ایک غریب بیوہ جس نے اپنی پوری زندگی دو کمروں کے کرائے کے فلیٹ میں گزاری ۔ اور بحیثت ایک اسکول ٹیچرمحنت کرکے اپنے بیٹے کو پڑھا لکھا کر جوان کیا ۔

کسی نے اتنا بڑا گھر میرے نام کردیا ۔ یہ بات میرے لیے کسی عجوبے سے کم نہ تھی ۔

صائمہ ہم کو گھر کے اندر لے کر گئی ۔
ہم پہلے ڈرائنگ روم ، پھر لاؤنچ سے ہوتے ہوئے ایک بیڈروم میں آگئے، جہاں ایک نحیف سی خاتون بستر پر سو رہی تھی ۔ چہرے پر نور ہی نور تھا ۔ میں اس خاتون کو دیکھتے ہی، نا چاہتے ہو ئے بھی ماضی میں چلی گئی۔۔۔۔۔۔

میرے شوہر کی اچانک کار ایکسڈنٹ میں موت نے مجھے جیسے ہوش وحواس سے بے گانہ کردیا تھا۔

مجھے ہوش اس وقت آیا جب میرے شوہر کے سوئم کے دوسرے دن میرے ساس سسر میرے کمرے میں آئے ۔ اس وقت میری گود میں میرا دوسال کا بیٹا سو رہا تھا ۔
میری ساس نے زبردستی میرے بیٹے کو مجھ سے چھین لیا اور سسر نے میرے سامنے ایک فائل رکھی اور کہا کہ اگر تم اس گھر سے اپنے بیٹے کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتی ہو تو ان کاغذات پر دستخط کردو ۔

وہ ُاس گھر سے لاتعلقی کے کاغذات تھے ، جو گھر میرے شوہر نے اپنی فیملی کے لیے بڑے ارمان اور شوق سے بنایا تھا ، جو میرا آشیانہ اور میرے بیٹے کا سائبان تھا۔

میرے ساس سسر کے پیچھے میری غیر شادی شدہ چھوٹی نند آنسو بہاتی کھڑی تھی اور اپنے ماں باپ سے ان کے اس ظلم کے خلاف احتجاج کررہی تھی ، اور اس کو یہ کہہ کر ڈانٹ دیا جارہا تھا کہ تم بڑوں کے بیچ میں نہیں بولو۔

میں نے اپنی چھوٹی نند کو اپنی چھوٹی بہن بلکہ اپنی بیٹی جیسا پیار دیا تھا ۔ جس کا وہ حق ادا کرنے کی کوشش کررہی تھی ۔

میں نے ان کاغذات پر خاموشی سے دستخط کردیے ۔

مجھے اس گھر سے اپنے بیٹے کے علاوہ کچھ بھی لے جانے کی اجازت نہ تھی ۔

جب میں وہاں سے جارہی تھی تو بس پیچھے سے اپنی چھوٹی نند کی آواز آرہی تھی جو دوڑتی ہوئی میرے پیچھے آرہی تھی اور بھابی بھابی پکار رہی تھی ۔

اور پھر میں نے اس دن کے بعد کبھی واپس پلٹ کے نہیں دیکھااور اپنی اور اپنے بیٹے کی زندگی بنانے میں مصروف ہوگئی۔

آج میری پیاری نند میرے سامنے بستر پر لیٹی موت و زیست کی کشمکش میں اپنے ماں باپ کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کی کوشش کررہی تھی۔

میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہوگئے ۔ میں نے آگے بڑھ کر اپنی پیاری بہن جیسی نند کے ماتھے پر پیار کیا، میرے آنسو اس کے گال پر گرے تو اس کی آنکھ کھل گئی۔ آج بھی اس کی آنکھوں میں میرے لیے بے تحاشا پیار موجزن تھا ۔

اس نے اپنی لڑکھڑاتی ہوئی زبان سے کہا

بھابی

میرے ماں باپ کو معاف کردیں
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے

Last edited by سحر; 05-12-09 at 03:50 PM..

 
سحر's Avatar
سحر
Administrator
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 452
Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (05-12-09), یاسر عمران مرزا (27-12-09), منتظمین (05-12-09), محمدعدنان (07-12-09), ابو عمار (05-12-09), احمدنواز (08-12-09), بزم خیال (05-12-09), راجہ اکرام (06-12-09), شاہ جی 90 (08-12-09), طاھر (05-12-09)
پرانا 05-12-09, 10:25 AM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عمدہ لکھا ہے۔ اپ کا شمار بھی لکھنے والوں ہو سکتا ہے اب۔

سرورق کے لیے پیش کریں۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
ابو عمار (05-12-09), احمدنواز (08-12-09), بزم خیال (05-12-09), راجہ اکرام (06-12-09), سحر (05-12-09), شاہ جی 90 (08-12-09)
پرانا 05-12-09, 12:45 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,645
کمائي: 28,550
شکریہ: 7,151
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سلام،
بہت اچھا مضمون ہے۔ آپ عموماً جن نکات پر زور دیتی ہیں اور جس سوچ کی عکاسی کرتی ہیں وہ قرآن حکیم کی حکمت سےپر ہوتے ہیں۔ خواتیں کے حقوق پر لکھتی رہئے۔

گو کہ درج ذیل آیات سورۃ طلاق کی ہیں۔ ناطہ ٹوٹنے کی صورت میں اللہ تعالی کے احکامات دیکھئے۔ اگر شوہر کی موت ناظہ ٹؤٹنے کا سبب ہو تو کیا بیوہ کو حقوق سے محروم کردینا چاہئیے؟ آپ نے اس نکتہ کو بخوبی وضح کیا ہے۔

65:5 ذَلِكَ أَمْرُ اللَّهِ أَنزَلَهُ إِلَيْكُمْ وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ وَيُعْظِمْ لَهُ أَجْرًا
یہ اللہ کا امر ہے جو اس نے تمہاری طرف نازل فرمایا ہے۔ اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے وہ اُس کے چھوٹے گناہوں کو اس (کے نامۂ اعمال) سے مٹا دیتا ہے اور اَجر و ثواب کو اُس کے لئے بڑا کر دیتا ہے

65:6 أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم مِّن وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَارُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ وَإِن كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ وَأْتَمِرُوا بَيْنَكُم بِمَعْرُوفٍ وَإِن تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهُ أُخْرَى
تم اُن عورتوں کو وہیں رکھو جہاں تم اپنی وسعت کے مطابق رہتے ہو اور انہیں تکلیف مت پہنچاؤ کہ اُن پر (رہنے کا ٹھکانا) تنگ کر دو، اور اگر وہ حاملہ ہوں تو اُن پر خرچ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ اپنا بچہ جَن لیں، پھر اگر وہ تمہاری خاطر (بچے کو) دودھ پلائیں تو انہیں اُن کا معاوضہ ادا کرتے رہو، اور آپس میں (ایک دوسرے سے) نیک بات کا مشورہ (حسبِ دستور) کر لیا کرو، اور اگر تم باہم دشواری محسوس کرو تو اسے (اب کوئی) دوسری عورت دودھ پلائے گی

65:7 لِيُنفِقْ ذُو سَعَةٍ مِّن سَعَتِهِ وَمَن قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا
صاحبِ وسعت کو اپنی وسعت (کے لحاظ) سے خرچ کرنا چاہئے، اور جس شخص پر اُس کا رِزق تنگ کر دیا گیا ہو تو وہ اُسی (روزی) میں سے (بطورِ نفقہ) خرچ کرے جو اُسے اللہ نے عطا فرمائی ہے۔ اللہ کسی شخص کو مکلّف نہیں ٹھہراتا مگر اسی قدر جتنا کہ اُس نے اسے عطا فرما رکھا ہے، اللہ عنقریب تنگی کے بعد کشائش پیدا فرما دے گا

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف

Last edited by فاروق سرورخان; 05-12-09 at 12:49 PM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
محمدعدنان (07-12-09), بزم خیال (05-12-09), سحر (05-12-09), شاہ جی 90 (08-12-09)
پرانا 05-12-09, 02:08 PM   #4
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,567
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم



اچھی کہانی ہے

والسلام

طاہر
طاھر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا
احمدنواز (08-12-09), بزم خیال (05-12-09), سحر (05-12-09), شاہ جی 90 (08-12-09)
پرانا 05-12-09, 02:33 PM   #5
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,351
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
ایک اچھا افسانہ ہے، بہت خوبصورت انداز میں لکھا گیا ہے بہت ہی پیارہ افسانہ ہے
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
بزم خیال (05-12-09), سحر (05-12-09), شاہ جی 90 (08-12-09)
پرانا 05-12-09, 02:34 PM   #6
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,351
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
ایک اچھا افسانہ ہے، بہت خوبصورت انداز میں لکھا گیا ہے بہت ہی پیارہ افسانہ ہے
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
بزم خیال (05-12-09), شاہ جی 90 (08-12-09)
پرانا 05-12-09, 11:56 PM   #7
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,427
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام و علیکم
ایک بہت عمدہ تحریر لکھی آپ نے، بیوہ اور یتیموں کی کفالت اور سر پرستی کا حکم ہے ہمارے لئے خوبصورت پیرائے میں ایک اچھا پیغام قلمبند کیا ہے
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (06-12-09), منتظمین (06-12-09), محمدعدنان (07-12-09), راجہ اکرام (06-12-09), سحر (06-12-09), شاہ جی 90 (08-12-09)
پرانا 07-12-09, 08:42 AM   #8
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,662
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت ہی خوبسورت، سحر آپ کی ایک اور دل کھینچ لینے والی تحریر۔
کاش ہم حقوق العباد کی اہمیت کو سمجھ سکیں اور احکام الٰہی پر درست طریقے پر عمل کر سکیں۔
آمین۔
__________________
یا اللہ!! تمام دنیا سے قوم یہود کو اپنی ناپاک سوچ سمیت نیست و نابود کر دے۔ اس قوم کا نام و نشان ہی مٹا دے۔ آمین ثم آمین
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (07-12-09), بزم خیال (08-12-09), راجہ اکرام (07-12-09), سحر (07-12-09), شاہ جی 90 (08-12-09)
پرانا 07-12-09, 11:06 AM   #9
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,193
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سحر آپی بہت ہی زبردست لکھا ہے آپ نے
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (07-12-09), بزم خیال (08-12-09), راجہ اکرام (07-12-09), سحر (07-12-09), شاہ جی 90 (08-12-09)
پرانا 07-12-09, 11:25 PM   #10
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

معاشرے میں رائج ایک برائی کی نشاندہی انتہائی بہترین پیرائے میں کی گئی ہے۔ لیکن ساتھ ہی امید کا پہلو بھی دکھایا گیا ہے کہ اس تاریک رات میں بھی ایسی نندیں ہیں جو نہ صرف بھابھی کے حقوق کے لئے جدو جہدکرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں بلکہ والدین کا کفارہ ادا کر معاشرے میں رائج مبنی بر ظلم رسموں کے خاتمے کے لئے بھی کوشاں ہیں۔

تحریر بتاتی ہے کہ لکھاری نہ صرف دل دردمند کی مالک ہے بلکہ چشم بینا بھی رکھتی ہے۔ اور پھر ان صلاحیتوں کو راہ حق میں استعمال کرکے ان کا حق بھی ادا کر رہی ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالی سحر بہنا کی صلاحیتوں میں اضافہ فرمائے اور ان کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے۔۔ آمین
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (08-12-09), بزم خیال (08-12-09), سحر (07-12-09), شاہ جی 90 (08-12-09)
پرانا 08-12-09, 11:19 AM   #11
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,041
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کمال کی تحریر ہے
پوری رات کا جاگا ہوا ہوں اور ابھی تک سو نہیں سکا لیکن یہ تحریر مکمل پڑھی اور پڑھنے کے بعد بھی اس کا اثر دل و دماغ پر قائم ہے ۔ یہ اس تحریر کی دلوں تک کامیاب رسائی کی دلیل ہے ۔
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
اور ہاں سحر بہنا ، اگلے 50/55 دنوں کے لیئے میری مصروفیات کچھ زیادہ ہوں گی اس لیے اگر ایک دو دن کی غیر حاضری ہو جائے تو سنبھال لیجئیے گا ۔
معظم شاہ
شاہ جی 90 آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (10-12-09), سحر (08-12-09)
پرانا 08-12-09, 11:33 PM   #12
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,787
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سحر بہن السلام علیکم،
آپ کی تحریر واقعی اچھی تھی
اس کی تعریف نا کرنا ذیادتی ہوگی۔ اچھا ایک بتائیے کیا یہ محض افسانہ ہے؟
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 08-12-09, 11:39 PM   #13
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
سحر بہن السلام علیکم،
آپ کی تحریر واقعی اچھی تھی
اس کی تعریف نا کرنا ذیادتی ہوگی۔ اچھا ایک بتائیے کیا یہ محض افسانہ ہے؟
شکریہ شاہ فرہشہ بھائی
اس میں

کسی کی حقیقی زندگی کا کچھ حصہ شامل ہے ۔
میں نے اس کو افسانے کی شکل دی ہے ۔
شکریہ
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (08-12-09), فاروق سرورخان (10-12-09)
پرانا 10-12-09, 11:44 AM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,645
کمائي: 28,550
شکریہ: 7,151
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں ، طاقت پرواز مگر رکھتی ہے۔
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
ام طلحہ (15-12-09), سحر (10-12-09)
جواب

Tags
کوشش, گھر, قصہ, لڑکی, موت, ماں, امیر, امتحان, اجنبی, احتجاج, بے, جھوٹ, جیسی, خلاف, دل, زیست, زندگی, سال, شہر, شوہر, شادی, علاقے, عالم, غریب, صائمہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:28 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger