واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > عورت کہانی



عورت کہانی عورت کہانی


کیا خواتین باورچی خانہ کے لیے بنی ہیں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-11-09, 12:15 PM   #1
کیا خواتین باورچی خانہ کے لیے بنی ہیں
سحر سحر آن لائن ہے 01-11-09, 12:15 PM

وہ عورت ہی کیا جس کو کھانا پکانا نہ آتا ہو
اس طرح کے جملے ہم آئے دن سنتے ہیں ۔
میرا آپ سے سوال ہے کہ کیا عورت باورچی خانہ کے لیے بنی ہے ۔ میں جب چھوٹی تھی تو میں سمجھتی تھی کہ میری امی کا گھر باورچی خانہ ہے ۔
اور جس خاتون کو کھانا پکانا نہ آتا ہو کیا وہ عورت کھلانے کے قابل نہیں ۔

ازاوج مطہرات وہ بہترین خواتین ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا میں چنا ۔
ازواج مطہرات میں جو خصوصیات تھیں ان میں اچھا کھانا پکانا کہیں نہیں ملتا
بلکہ بعض ازواج مطہرات کو روٹیاں پکانی نہیں آتی تھیں
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی خصیوصیات ۔ میں ان کا علم ، فہم اور فقاہت ہے ۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کی سمجھداری کہ بعض مواقع پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے مشورے لیے
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کی خصوصیت ، ان کی راتوں کی عبادت ہے جس کی تعریف حضرت جبرئیل نے اللہ کے حکم سے فرمائی
حضرت زینب بنت خزیمہ کی خصوصیت ، ان کا اپنے ہاتھ سے کما کر صدقہ کرنا ، اسی لیے ان کو ام المساکین کہا جاتا ہے

دنیا کی بہترین خواتین کی خصوصیات اللہ کی نظر میں مقبول
علم، فہم ، سمجھ ، عبادت گزاری ، اور صدقہ دینا ہے

نہ کہ محض کھانا پکانا

میں یہ نہیں کہتی کہ خواتین کو گھر کے کام نہیں کرنے چاہیے ۔ خواتین کو گھر کے کام کرنے چاہیے
لیکن پوری زندگی بس کھانا پکانا اور گھر کی صفائی میں ہی گزار دینا صحیح نہیں ۔
خواتین کو بھی ان کی صلاحیتوں کی مطابق مواقع فراہم کرنا چاہیے تاکہ وہ بھی معاشرے میں فعال کردار ادا کرسکیں

 
سحر's Avatar
سحر
Administrator
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1160
Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (27-01-10), فرحان دانش (27-01-10), پاکستانی لڑکی (20-02-10), ھارون اعظم (05-02-10), ام طلحہ (02-11-09), ابن جلال (28-01-10), اخترحسین (01-11-09), راجہ اکرام (01-11-09), سام (01-11-09), عامرشہزاد (01-11-09), عبداللہ آدم (20-02-10)
پرانا 01-11-09, 12:47 PM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سلام بہنا
اچھا سوال ہے۔
لیکن جب عورت کا اصل میدان ہی گھر اور امور خانہ داری ہے تو کیا یہ سوال کچھ عجیب نہیں لگتا۔؟
اور ویسے بھی وہ خصوصیات مشہور ہوتی ہیں جو نایاب ہوں۔۔۔ خصوصیت کی تعریف اگر دیکھی جائے ’’ما یوجد فیہ ولا یوجد فی غیرہ‘‘ یہ وہ نادر و نایاب چیز ہے جو ہر کسی میں نہیں‌ پائی جاتی۔
کھانا پکانا ایک ایسی وصف ہے اور اتنی عام وصف ہے کہ اس کا ذکر کرنا ضروری نہیں سمجھا گیا۔۔لیکن تمام صحابیات و ازواج مطہرات رضوان اللہ علیھن لازما یہ سارے کام کرتی تھیں
کیوں کہ یہ بھی تو ہم نے نہیں سنا کہ فلاں صحابی اتنا وقت باورچی خانے کو دیا کرتے تھے۔۔۔

مرد اور عورت کو مل جل کر سارے معاملات طے کرنے چاہییں، ایک دوسرے کا ہاتھ بٹانا چاہییے لیکن
مذکورہ بالا سوال کچھ عجیب سا لگا
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (27-01-10)
پرانا 01-11-09, 01:17 PM   #3
Senior Member
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,641
کمائي: 86,388
شکریہ: 9,614
4,227 مراسلہ میں 12,048 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سحر بہنا
میں پردیس میں رہتا ہوں اور کافی اقسام کے کھانے پکا لیتا ہوں، چاہے نارمل ذائقے کی ہی سہی لیکن گزارہ چلا لیتا ہوں ۔میں یہ نہیں کہتا کہ عورت صرف کچن کے لیے ہی بنی ہے مگر ہمارے معاشرے کا نظام کچھ ایسا بن چکا ہے کہ کھانا پکانے کی ذمہ داری عورت کے لیے ہی بچتی ہے کیوں کہ مرد کے ذمہ گھر سے باہر کے کام، جن میں معاش بھی شامل ہے وہ سب ہیں۔

مرد اور عورت جب اپنے نئے گھر میں اپنی زندگی کی شروعات کرتے ہیں تو ان دونوں نے مل کر زندگی کے تمام امور سرانجام دینے ہوتے ہیں، نئے گھر کے امور میں بنیادی کام ، ایک تو ذریعہ معاش، جبکہ دوسرا گھر کی دیکھ بھال، مہمانوں کی خاطر داری وغیرہ۔ یہ دونوں امور میاں بیوی بانٹ سکتے ہیں، یا تو عورت معاش لے کر آئے اور مرد گھر کے کام، برتن صفائی، گھر صفائی، کھانا پکانا ، کپڑے دھونا وغیرہ کرے، یا عورت گھر رہے اور مرد ذریعہ معاش تلاش کرے۔
اب اگر میں پردیس کی مثال دوں ، پردیس میں جب کچھ لوگ ایک فلیٹ پر رہتے ہیں تو سب کے ذمہ کچھ کام ہوتے ہیں، کوئی کچن کو وقت دیتا ہے، کوئی سبزی وغیرہ لے آتا ہے، صفائی ہر روز کسی ایک صاحب کے ذمے ہوتی ہے دوسرے دن کسی اور کے ، یوں ایک گھر کا نظام چلتا ہے ۔اب مرد ٹھہرا طاقتور، جسمانی طور پر، اس لیے وہ بظاہر مشکل کام یعنی محنت مزدوری کرنے لگ جاتا ہے جبکہ خاتون جسمانی طور پر کمزور وہ گھر کی ذمہ داریاں نبھانے لگتی ہے۔ حالانکہ وہ بھی کچھ ایسی آسان نہیں ہوتیں، ایسا چونکہ عرصہ دراز سے ہو رہا ہے اس لیے عورت کو کچن کے امور کا ماہر سمجھا جانے لگا ہے۔

تاہم بیشتر گھرانے ایسے بھی ہیں جہاں مرد اور عورت دونوں کام کرتے ہیں ایس صورت میں کوئی دوسرے خاتون جسے ملازمت دے کر گھریلو کام مکمل کروا لیے جاتے ہیں اور اگر میری شریک حیات نے مجھ سے اس قسم کا مطالبہ کیا اور کچن کے کاموں سے معذوری ظاہر کی تو میں بہ خوشی اسے ملازمت کرنے اور گھر پر ملازمہ رکھنے کا اختیار دے دوں گا۔
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں - آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا
میرا بلاگ | yasirimran.wordpress.com
یاسر عمران مرزا آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 01-11-09, 01:22 PM   #4
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں یہ نہیں کہہ رہی ہوں کہ خواتین کو گھر کا کام نہیں کرنا چاہیے ، بلکہ میں یہ کہہ رہی ہوں کہ خواتین کو صرف کھانا پکانے پر لگادینا کہاں تک درست ہے ۔
جہاں تک صحابیوں کے کھانا پکانے کا رتعلق ہے ۔
صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کھانا پکا یا کرتے تھے ۔
حضرت عمر کو کھانا پکانا آتا تھا ۔
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کے ساتھ تشریف فرما ہوئے تو حضرت ابوایوب انصاری نے خود بکری ذبح کی آدھا گوشت بھونا اور اور آدھے گوشت کا سالن بنایا ۔ اور ان کی ذوجہ نے روٹیاں پکائیں
راجہ بھائی
کیا آجکل کے ماڈرن دور میں بھی ہمارے گھروں میں مہمانوں کے آنے پر گھر کے مرد کھانا پکاتے ہیں ۔
مجھے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں صحابیوں کے ذہن ذیادہ کھلے اور وہ لوگ ذیادہ بروڈ مائنڈڈ لگتے ہیں ۔
ہمارے یہاں تو اگر مرد اپنے گھر کی خواتین کی مدد کرتے بھی ہیں تو وہ ان خواتین پر احسان سمجھتے ہیں کیونکہ ان کی نظر میںساری ذمہ داری تو عورتوں کی ہی ہوتی ہے ،
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
سحر کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (21-02-10)
پرانا 01-11-09, 01:28 PM   #5
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یاسر بھائی
آپ کی بات ٹھیک ہے ۔
لیکن میرا اپنا بھی تجربہ ہے اور میں نے بہت سے گھروں میں بھی دیکھا ہے کہ اگر بیوی نوکری بھی کرتی ہے تب بھی کھانا پکانا عورت کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ میری امی نے زندگی بھر نوکری کی ۔ میری امی نوکری سے گھر آکر کھانا پکایا کرتی تھیں ۔
ابو مدد ضرور کرتے تھے لیکن ذمہ داری امی کی ہی ہوتی تھی ۔
کبھی میں نے مردوں کو گھر کے کام اپنی ذمہ داری سمجھ کر کرتے نہیں دیکھا ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 01-11-09, 02:30 PM   #6
Senior Member
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,641
کمائي: 86,388
شکریہ: 9,614
4,227 مراسلہ میں 12,048 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
یاسر بھائی
آپ کی بات ٹھیک ہے ۔
لیکن میرا اپنا بھی تجربہ ہے اور میں نے بہت سے گھروں میں بھی دیکھا ہے کہ اگر بیوی نوکری بھی کرتی ہے تب بھی کھانا پکانا عورت کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ میری امی نے زندگی بھر نوکری کی ۔ میری امی نوکری سے گھر آکر کھانا پکایا کرتی تھیں ۔
ابو مدد ضرور کرتے تھے لیکن ذمہ داری امی کی ہی ہوتی تھی ۔
کبھی میں نے مردوں کو گھر کے کام اپنی ذمہ داری سمجھ کر کرتے نہیں دیکھا ۔
ہاں بیشتر مرد ایسے کاموں میں لا پرواہی کرتے ہیں اور اپنی شریک حیات کو شریک حیات نہیں، نوکر سمجھتے ہیں۔ میرا نظریہ تو یہی ہے کہ اگر بیوی گھر داری کی بجائے کچھ اور کرنا چاہتی ہے تو اسے بھرپور موقع دیا جائے اور اسکی ذہنی طور پر مدد بھی کی جائے۔
یاسر عمران مرزا آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 01-11-09, 02:33 PM   #7
Senior Member
 
اخترحسین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: karachi
مراسلات: 1,529
کمائي: 37,057
شکریہ: 4,903
809 مراسلہ میں 1,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
اخترحسین کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں اخترحسین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
وہ عورت ہی کیا جس کو کھانا پکانا نہ آتا ہو
اس طرح کے جملے ہم آئے دن سنتے ہیں ۔
میرا آپ سے سوال ہے کہ کیا عورت باورچی خانہ کے لیے بنی ہے ۔ میں جب چھوٹی تھی تو میں سمجھتی تھی کہ میری امی کا گھر باورچی خانہ ہے ۔
اور جس خاتون کو کھانا پکانا نہ آتا ہو کیا وہ عورت کھلانے کے قابل نہیں ۔

ازاوج مطہرات وہ بہترین خواتین ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا میں چنا ۔
ازواج مطہرات میں جو خصوصیات تھیں ان میں اچھا کھانا پکانا کہیں نہیں ملتا
بلکہ بعض ازواج مطہرات کو روٹیاں پکانی نہیں آتی تھیں
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی خصیوصیات ۔ میں ان کا علم ، فہم اور فقاہت ہے ۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کی سمجھداری کہ بعض مواقع پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے مشورے لیے
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کی خصوصیت ، ان کی راتوں کی عبادت ہے جس کی تعریف حضرت جبرئیل نے اللہ کے حکم سے فرمائی
حضرت زینب بنت خزیمہ کی خصوصیت ، ان کا اپنے ہاتھ سے کما کر صدقہ کرنا ، اسی لیے ان کو ام المساکین کہا جاتا ہے

دنیا کی بہترین خواتین کی خصوصیات اللہ کی نظر میں مقبول
علم، فہم ، سمجھ ، عبادت گزاری ، اور صدقہ دینا ہے

نہ کہ محض کھانا پکانا

میں یہ نہیں کہتی کہ خواتین کو گھر کے کام نہیں کرنے چاہیے ۔ خواتین کو گھر کے کام کرنے چاہیے
لیکن پوری زندگی بس کھانا پکانا اور گھر کی صفائی میں ہی گزار دینا صحیح نہیں ۔
خواتین کو بھی ان کی صلاحیتوں کی مطابق مواقع فراہم کرنا چاہیے تاکہ وہ بھی معاشرے میں فعال کردار ادا کرسکیں

گڈ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اخترحسین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 01-11-09, 09:23 PM   #8
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ بات تو ٹھیک ہے کہ ذمہ داری عورت ہی کی سمجھی جاتی ہے، بلکہ اگر کوئی مرد کام کرے تو لوگ نہ جانے اسے کیا کیا طعنے دیتے ہیں

ہاتھ بٹانا اور مل جل کر کام کرنا زندگی کو آسان کر دیتا ہے۔۔اور محبت میں اضافے کا سبب بھی یقینا ہوگا
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 27-01-10, 11:56 AM   #9
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: Saudi Arabia
مراسلات: 16
کمائي: 912
شکریہ: 13
14 مراسلہ میں 67 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جی ہاں ۔ عورت کا اصل مقام تو گھر ہے لیکن سحر باجی کی بات بالکل صحیح ہے آج ہم نے عورت کو صرف کھانے پکانے تک ہی محدود رکھا ہے ۔۔اس کا یہ کھانا پکانا بھی صرف اپنے شوہر نامدار کے لیے تھا جسے ہم لوگوں نے اٹھا کر ساس سسر کے لیے رکھ دیا ہے ۔عورت کا کام بچوں کی تربیت اور اور شوہر کے حقوق کی بجا آوری تھی ۔۔لیکن ہم نے اس کو صرف گھر کے کاموں کے لیے ایک نوکرانی کی حیثیت سے رکھا ہوا ہے۔۔صرف شوہر اور بچوں کو بوقت ضرورت تو وہ باورچی کا کام کر کے دے سکتی ہے لیکن صرف اسے اسی کھانوں اور گھر کے اور کاموں میں لگا دینا خلاف شرع ہے۔۔وہ بھی دینی کاموں میں بھر پور حصہ لے گی۔۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عورت پر یہ زمہ داری ضرورت سے زیادہ نہ ڈالیں ۔تاکہ وہ بھی کچھ دین سیکھ سکے اور اپنے بچوں کی بہتر تربیت کے لائق ہو۔۔ آج ہم نے عورت پر گھر کے کاموں میں بھی اتنا بوجھ ڈال دیا ہے کہ وہ بیچاری ان سے فارغ ہو تو کچھ دین سیکھے اور بچوں کی تربیت کرے۔۔ ہم مردوں کو اللہ ھدایت دے۔۔عورتوں سے گھر کا پورا پورا کام بھی مانگتے ہیں اور پھر گلے شکوے بھی کرتے ہیں کہ بیگم کو بچوں کا کوئی خیال نہیں۔۔عورت بنی تھی شوہر کی خدمت اور اطاعت کے لیے لیکن ہم نے اس کو مشین سمجھ کر ساس سسر اور دیور اور نندوں کی خدمت میں لگا دیا۔۔اللہ سب کو ھدایت دے۔۔
شیررحمن آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شیررحمن کا شکریہ ادا کیا
ام طلحہ (28-01-10), سحر (27-01-10), عبداللہ آدم (20-02-10)
پرانا 27-01-10, 12:56 PM   #10
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

"عورت باورچی خانہ کےلیے نہی بنی" لیکن یہ بات تہہ ہے کہ
"باورچی خانہ عورت کے لیے ہی بنا ہے"
۔
عورت اگرجلدی کھانہ بنا لے تو 2+2+1 ٹائم میں کھانا بن جاتا ہے اور اگر گھر میں 2 عورتیں ہیں تو یہی ٹایم
تقسیم ہوکر 5۔2 آور ہوجائے گا ۔ باقی بچے 5۔21 آورز میرے خیال سے بہت ٹائم ہے اپ کے اپنی مرضی سے گزارنے کے لیے (ہاں کچھ نیند کم کردیں ) تو وقت یہاں سے بھی بچ سکتا ہے۔
__________________
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک

Last edited by حیدر Rehan; 27-01-10 at 01:01 PM.
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
منتظمین (28-01-10)
پرانا 27-01-10, 03:24 PM   #11
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ویلڈن ریحان بھائی ۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (27-01-10)
پرانا 27-01-10, 09:07 PM   #12
Senior Member
 
فرحان دانش's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,784
کمائي: 41,221
شکریہ: 2,665
1,640 مراسلہ میں 3,770 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اگر خواتین باورچی خانہ تک محدود ہیں تو اس میں ان کا اپنا قصور ہے ۔
فرحان دانش آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 28-01-10, 02:48 PM   #13
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کچھ خواتین زندگی میں صرف دو کام کرنے کے لیے پیدا ہوتی ہیں۔ اگر ان کی زندگی کا خلاصہ کیا جائے تو دو سطروں میں زیست کا سفر طے ہو جاتا ہے۔

ٹی وی پر پروگرام دیکھ دیکھ کر تھک گئی تو سونے کے لیے چلی پڑی، سو کر اٹھی تو طبعیت کچھ ناساز سی تھی دل کو بہلانے کے لیے ٹی وی لگا لیا۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (28-01-10), حیدر Rehan (28-01-10)
پرانا 28-01-10, 02:50 PM   #14
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

لیکن یہ تجزیہ ناقص ہے
اس لئے کہ ایک بڑی تعداد ایسی ہے جن کا ہاں تا ھال ٹی وی نہیں ہے
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (28-01-10)
پرانا 28-01-10, 02:56 PM   #15
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,662
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
کچھ خواتین زندگی میں صرف دو کام کرنے کے لیے پیدا ہوتی ہیں۔ اگر ان کی زندگی کا خلاصہ کیا جائے تو دو سطروں میں زیست کا سفر طے ہو جاتا ہے۔

ٹی وی پر پروگرام دیکھ دیکھ کر تھک گئی تو سونے کے لیے چلی پڑی، سو کر اٹھی تو طبعیت کچھ ناساز سی تھی دل کو بہلانے کے لیے ٹی وی لگا لیا۔
آپکا یہ تجزیہ 0.000001 فیصد پر فٹ بیٹھ سکتا ہے۔ ایلیٹ کلاس کا ویسے بھی کچن میں کیا کام۔
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا
باسط (08-02-10), حیدر Rehan (28-01-10), راجہ اکرام (28-01-10)
جواب

Tags
لوگ, نوکری, نظر, مکمل, محبت, اللہ, بہترین, بھائی, بیوی, بچوں, تلاش, حکم, خواتین, زندگی, عورت, علم, عائشہ, عبادت, عجیب, عرصہ, صلاحیتوں, صحیح, صحابہ, صدقہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
وزیرصحت کی مشیر کے گھر سے تین خواتین با زیاب جاویداسد خبریں 2 23-12-10 11:39 AM
کراچی:ٹارگٹ کلنگ میں تین گنا اضافہ ALI-OAD خبریں 0 17-12-10 09:10 PM
باراتیو ں سے بھری بس جھیل میں گر گئی، 24 خواتین، تین بچے اور ایک مرد ڈوب کر ہلاک جاویداسد خبریں 0 15-12-10 06:41 PM
خواتین میں کرتہ پہننے کا رواج جاویداسد گھر اور گھرداری 0 18-10-10 10:53 PM
تارکین وطن خواتین مقامی خواتین کی بری عادات اپنالیتی ہیں عبدالقدوس خبریں 0 13-04-08 09:27 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:28 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger