واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خاص مواقع > عید منائیں پاک ڈاٹ نیٹ کے سنگ



عید منائیں پاک ڈاٹ نیٹ کے سنگ آو مل کر عید منائیں


عید نوروز کے بارے میں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 13-03-10, 07:16 PM  
عید نوروز کے بارے میں
عارف اقبال عارف اقبال آف لائن ہے 13-03-10, 07:16 PM


نوروز

فارسی کے اس لفظ کا لغوی معنی ہے ‘‘نیا دن‘‘ ۔ نوروز سال نو اور بہار کا ایک ساتھ استقبال ہے اور یہ دن مغربی چین سے ترکی تک کروڑوں لوگ 20 مارچ کو مناتے ہیں۔ نوروز شمسی سال کے آغاز اور بہار کی آمد کا جشن بھی ہے اور پورا ایران، افغانستان، تاجکستان،ازبکستان، پاکستان، بھارت کے کچھ حصوں اور شمالی عراق اور ترکی کے کچھ علاقوں میں کیلنڈر سال کا نقطہ آغاز بھی-


لوگ جشن کے اس وقت پر ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے اور زور شور سے گاتے بجاتے ہیں اور اسے عید کے تہوار کی طرح منایا جاتا ہے اور اس کے ساتھ آنے والے نئے سال میں سلامتی اور ترقی کی دعائیں کی جاتی ہیں۔

نوروز

ماہر فلکیات کے لیے اب نوروز کے بالکل صحیح وقت کا تعین کرنا بھی ممکن ہوگیا ہے
اہل تشیع کے ہاں روایت ہے کہ اسی نوروز کے دن بارہویں امام حضرت مہدی ابن العسکری دنیا میں ظہور فرمائیں گے

اور اسی طرح اسلامی تاریخ میں تقویم کے اعتبار سے نوروز ہی کا دن ہے جب پہلی بار دنیا میں سورج طلوع ہوا،درختوں پر شگوفے پھوٹے،حضرت نوح کی کشتی کوہ جودی ہر اتری اور طوفان نوح ختم ہوا، نبی آخرالزمان پر نزول وحی کا آغاز ہوا،حضرت ابراہیم نے بتوں کو توڑا

کئی مسالک میں اس روز کی مخصوص عبادات بھی ہیں جن کا بنیادی وصف آنے والے سال کے لیئے خوش بختی،امن وسلامتی اور ترقی کی دعائیں مانگنا اور گزرے ہوئے وقت کے لیئے رب العزت کا شکر ادا کرنا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران میں چونکہ نوروز کا تہوار سرکاری طور پر منایا جاتا ہے اور ملک بھر میں عالم تعطیل ہوتی ہے،حکومتی دفاتر پانچ دن کے لۓ بند رہتے ہیں اور لوگ دو ہفتے تک خاندان کے افراد اور دوستوں کے ساتھ تفریح کرتے ہیں اور دعوتیں اڑاتے ہیں-

ایران میں نئے سال یا نو روز کا جشن تیرہ دن تک منایا جاتا ہے اور عام تعطیل ہوتی ہے۔ ان چھٹیوں کا تیرہواں دن منحوس گردانا جاتا ہے اور خاندان کے افراد اس دن گھر چھوڑ کر باہرنکل جاتے ہیں اور پورا دن گھر سے باہر کھانے پینے اور کھیلنے کودنے میں گزار دیتے ہیں اور اس طرح وہ اپنی تعطیلات کا اختتام مناتے ہیں۔
__________________
اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات

 
عارف اقبال's Avatar
عارف اقبال
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 979
شکریہ: 1,882
726 مراسلہ میں 1,803 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1349
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے عارف اقبال کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-03-10), نورالدین (15-03-10), اویسی (24-04-10), ابن جلال (15-03-10), بزم خیال (14-03-10), تبتیلا انجم (27-04-12), راجہ اکرام (15-03-10), شاہ جی 90 (13-03-10)
پرانا 22-03-10, 02:19 PM   #31
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

[COLOR="Blue"][B]اسلام جب جب جہاں جہاں پھیلا۔۔۔۔۔۔ چاہیے وہ تلوار سے ہو یا گفتار سے ۔ ۔کم و بیش ایسے ہی حالات و قعات پیش ائے۔ لیکن اپ جس انداز سے سنا رہے ہیں اسی انداز سے ہم سے بھی کچھ سنیے نورالدین صاحب


مثال بنو امیہ اور قبیلہ ہنی ہاشم کا ہی قصہ لے لیں۔
نسل در نسل چلی آنے والی دوشمنی کس طرح اسلام کے سامنے آئی اور اسلام کو نقصان پہچایا
پہلے رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم کو بنو امیہ ک سازشوں نے مکہ سے ہجرت کرنے پر مجبور کیا پھر جنگوں کا سلسلہ شروع کردیا
رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم نے جنگ بدر میں خود شرکت کی اور ان بد بخت کافروں کا مقابلہ حضرت حمزہ (رض) حضرت حارث(رض9 اور حضرت علی(ع) نے کیا بنوامیہ اور قریش کے منافقوں اور کافروں کو کس طرح برباد کیا ان کے بڑے بڑے سرداروں کو قتل کیا۔ ۔
اور بنوامیہ نے ناکامیوں کا منہ دیکھا ۔ ۔ ۔اور فتح اسلام کی ہوئی۔
اور خود قرآن نےکہا کہ اللہ نےفرشتوں کے زریعے مدد کی ۔ ۔ ۔یعنی اتنی منافق اور کافر قوم تھیں اور ان کو لوگ تھے کہ اللہ نے ان کے مقابلے میں فرشتوں سے مدد کی ۔ ۔ ۔ ۔یعنی یہ قوم اتنی بری اور کافر نہ ہوتی تو اللہ کبھی فرشتوں سے مدد نہ کرواتا
۔

لیکن پھر بھی یہ منافق اور کافر باز نہ ائے ۔ ۔ ۔ ۔ ایک اور جنگ کی تیاری کی اگرچہ جنگ احد میں خالد بن ولید نے مسلمانوں کو قتل کیا اور بہت نقصان پہچایا ۔ ۔۔۔ ۔ لیکن اخر کار فتح پھر مسلمانوں کی ہوئی ۔ ۔ ۔

اس کے بعد بھی منافقوں اور کافروں نے اپنی شکت نہی مانی اور اسلام کی راہ میں پھتر اور کانٹے بچھاتے رہیے ۔ ۔ ۔ یہاں تک کہ ایک جنگ اور مسلمانوں اور منافقوں کے درمیان چلی ۔


بنو امیہ نے اگرچہ دیگر قبائل کے کافروں کو ساتھ ملالیا تھا پھر بھی شکست در شکست کی وجہ سے دشمنی و نفرت نسل در نسل رہی ۔۔۔اب انھونے سوچا کہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر ہی ان کو برباد کیا جا سکتا ہے ۔ ۔
سلسلہ چلتا رہا مسلمانوں اور منافقوں کے درمیاں دشمنی کا ۔ ۔


اور وہ روز بھی آیا جب منافقوں نے خلیفہ وقت حضرت علی (ع) کے ساتھ جنگیں کی ۔۔ کبھی ان کا نام خوارج پڑا کبھی منافق ۔ ۔ ۔ ۔

سلسلہ نسل در نسل چلتا رہا ۔ ۔ ۔ جنگ صفین میں بھی یہی منافق خلیفہ وقت حضرت علی (ع) کے سامنے اگئے۔۔ ۔ ۔
۔ ۔
61 ہجری آگیا ۔ ۔ ۔سلسلہ شجرہ ملعونہ ختم نہ ہوا۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔اور ادھر نسل رسول اللہ پاک (صلی علیہ والہ وسلم حضرت امام حسین (ع) کی صورت میں اللہ نے باقی رکھی اور پھر جنگ کا سلسلہ جنگ کربلا میں بدل گیا۔ ۔ ۔

اور یہی وقاص اور ارقم اور بنوامیہ کی اولادیں ایک ساتھ کربلا میں امام حسین (ع) کے سامنے یعنی اولاد رسول اللہ (ص) کے دشمن ایک جگہ جمع ہوگیں۔
اور کوفہ و شام میں امام حسین (ع) کے قتل کے فتوی انھی نام نہاد علماوں نے جگہ جگہ نشر کیے ۔ ۔اور امام حسین (ع) کو باغی قرار دیا گیا ۔ ۔ اور یوں عام لوگ پھر بنوامیہ کی چالوں کا شکار ہوگئے مکہ سے لے کر مدینہ اور کوفہ سے شام تک تک لوگوں نے انہی ظالموں کا ساتھ دیا اور اولاد رسول صلی علیہ والہ وسلم کو تنہا چھوڑ دیا ۔ ۔ ۔
بلکل اسی طرح جس طرح ہر امت نے اپنے اپنے رسول و نبی کو قتل کیا بلکل اسی طرح اس امت نے بھی اپنے ہی آخری نبی اور رسول (ع) کی اولاد کو قتل کیا ۔ ۔

یعنی ایک طرف قبیلہ بنی ہاشم سے رسول اللہ ۔ ۔ ۔ اور نسل رسول (ص) یعنی حضرت امام حسین (ع) تک سلسلہ چلا

دوسری طرف
بنوامیہ سے ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ پھر اسکا بیٹا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر اسکا بیٹا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر اسکی اولاد ۔ ۔


عام مسلمان کا ایک بڑا حصہ اپنی سادگی اور کم علمی کی وجہ سے اس بنوامیہ کی اکثریت و دولت،، ظاہری اسلام اور سازشوں کی وجہ سے ان کے ساتھ جڑگیا۔

بے شک انسان بہت ہی جلد باز اور جاہل واقع ہوا ہے ۔ (القران)

اللہ کبھی ظالموں اور ان کے ساتھیوں کی مدد نہی کرتا (القران)

اور ظالموں کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔ ۔ ۔ ۔
__________________
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
اویسی (24-04-10), عارف اقبال (22-03-10)
پرانا 22-03-10, 02:49 PM   #32
Senior Member
 
عارف اقبال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 979
کمائي: 15,198
شکریہ: 1,882
726 مراسلہ میں 1,803 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نوروز، بہار کا آغاز
ہمارے ایک استاد سے گفتگوکی پوری تحریر پیش خدمت ہے امید ہے موثرہو


نوروز، بہار کا آغاز

اس موضوع پر تحقیقی گفتگو سے پہلے اس بات کا بیان ضروری ہے کہ پاکستان میں میڈیا کی ترقی کے بہت سے مثبت اور بعض منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں، مثبت باتوں کو سراہنا ہر ایک تعلیم یافتہ فرد کے اخلاقی فرائض میں سے ہے تو منفی باتوں کو منعکس کرنا بھی ایک اہل قلم کی ذمہ داریوں میں سے ہے، بعض اوقات اہل سنت و الجماعت یا شیعہ مکتب فکر کی نمائندگی میں ایسے کم علم ،شہرت پرست لوگ مکتب کی نمائندگی کرتے نظر آتے ہیں جو کسی طور پر بھی اس بات کے اہل نہیں ہوتے

بعض لوگ موضوع پر مکمل عبور نہ رکھنے کی وجہ سے بھی اپنے مکتب فکر کی صحیح رائے پیش نہیں کرپاتے اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بعض لوگ بغیر تحقیق کے اسی گفتگو سے ایک خاص نظریہ قائم کرلیتے ہیں جو قطعا متعلقہ مکتب فکرکی حقیق رائے نہیں ہوتا لہذا ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کے علمی موضوعات پر تحقیقی ریسرچ مختلف طریقوں سے عوام تک پہنچتی رہے تاکہ مسلمانوں کے مختلف مکتب فکر ایک دوسرے کے صحیح نظریات کے بارے میں علم حاصل کرکے قریب سے قریب تر ہوسکیں۔

انہی موضوعات میں سے ایک متنازع موضوع نوروز ہے اور بعض مسلمان اس موضوع کے بارے میں صحیح طور پر معلومات نہیں رکھتے یہ مقالہ اس مقصد سے پیش کیا جارہا ہے تاکہ عوام و خواص کو اس دن کے بارے میں علمی معلومات دلائل اور تاریخی شواہد کی روشی میں فراہم کی جاسکے۔

ایران میں اس عید کو ملی تہوار ا ور زمین کا سورج کے گرد چکر مکمل ہونے پر بہار کے آغاز کے طور پر منایا جاتا ہے، اور عید طبیعت سمجھا جاتا ہے جن میں تمام مکاتب فکر شامل نظر آتے ہیں، طبیعت میں آنے والی تبدیلی کو اگر دیکھا جائے تو بہار انسان کے مزاج میں خوشی کی کیفیت لاتی ہے ،ہر شی تروتازہ اور ہری بھری ہوجاتی ہے ، بلبلوں کا چہچہانا بہار کی آمد کی خبر دیتا ہے، پس انسانی فطرت میں خوشی کی لہر کا اظہار نوروز ہے جبکہ ہندوستان او رپاکستان میں بعض شیعہ مکتب فکر کے سادہ لوح افراد اسکو مذہبی تہوار سمجھتے ہیں1، جبکہ بعض شدت پسند ،تنگ نظر، عادت سے عاجز ، نام نہاد اسلامی ٹھیکیدار ، اسکو بدعت ، کفر اور دیگر تمغوں سے نوازتے ہیں ۔

ہمدان یونیورسٹی کے استاد محترم امامی فر صاحب نے ایک محقق کے عنوان سے اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی ہم انکی فارسی تحریر کا اردو ترجمہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں امید ہے یہ مقالہ قارئین کی معلومات میں اضافہ اور حقیقی مطلب تک پہچنے کے لیئے مفید ہوگا۔

سب سے پہلے ہم اس پہلو پر گفتگو کرتے ہیں کہ خود عید کے بارے میں اسلام کا نظریہ کیا ہے؟

ہم ایک عام قانون کی طرف اشارہ سے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہیں اور وہ یہ کہ ہر قوم اور ملت کسی اہم واقعہ یا حادثہ جو انکے لیئے اہمیت کا حامل ہو بعنوان آغاز سال قرار دیتے ہیں، اور اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں، اور اسکو ایک Event قرار دیتے ہیں، بعنوان مثال عیسائی حضرت عیسی کی پیدائش کے دن کو سال کا آغاز قرار دیتے ہیں، مسلمان ہجرت پیامبر اسلام ﷺ کو آغاز اسلامی سال قرار دیتے ہیں اور ایرانی شمسی نظام یعنی مین کا سورج کے گرد چکر مکمل ہونے کو سال آغاز شمار کرتے ہیں، ایرانی اس آغاز کو ثقافتی دن سمجھ کر مناتے ہیں اور یہ دن فقط ایران تک محدود نہیں بلکہ فارسی زبان جہاں جہاں بولی جاتی ہے وہاں اس کے اثرات زیادہ واضح نظر آتے ہیں جیسے تاجیکستان، افغانستان،آزربائیجان، اور ہندوستان اور پاکستان کے بعض لوگ اس کو Event کے طور پر مناتے ہیں۔

مشہور تاریخ دان یعقوبی رقم فرماتے ہیں کہ: انکے سال کا پہلا دن نوروز کے نام سے ہے ، جس میں آب نیسان بھی برستا ہے یہ اس وقت ہے جب سورج برج حمل میں داخل ہوتا ہے اور یہ دن ایرانیوں کے لئے بڑی عید ہے2۔ البتہ اس بات کو ایرانیوں کا حسن سلیقہ سمجھنا چاہیے کہ بہار کو سال کےآغاز کے لئے انتخاب کیا جس میں نباتات دوبارہ تروتازہ ہوتے ہیں اور ہریالی کا آغا ہوتا ہے، جس طرح کچھ ممالک عیسوی سال کو جشن کے طور پر مناتے ہیں۔

نورو ز کے بارے میں اسلام کی نظر کیا ہے؟

کسی بات کو بیان کرنے سے پہلے مقدمہ کے طور پر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اسلام میں دو طرح کے احکامات ہوتے ہیں:

1. احکام تاسیسی: ان احکام کو کہا جاتا ہے اسلام سے پہلے نہیں تھے یعنی لوگوں کا اس سے پہلے سابقہ نہیں تھا اور اسلام نے آکر انہیں بنیادی شک عطا کی ہے۔
2. احکام امضائی: ان احکام کو کہا جاتا ہے جو اسلام سے پہلے تھے یعنی لوگوں اس کو انجام دیتے تھے اور کسی اسلامی قانون کے مخالف نہیں تھے اور اسلام نے یا تو انکو مورد تائید قرار دیا اس لئے بہت سے احکام، مختلف ادیان میں یا حد اقل فطرت انسانی میں ایک جیسے ہیں او اسلام نے مختلف کلچرز ، مختلف علوم، آداب و رسوم کے سامنے ان اصل قوانین کی پیروی کی ہے۔

جس زمانے میں اسلام نے فتوحات کے ذریعہ پھیلنا شروع کیا اس وقت مختلف قومی ثقافتوں اور رسم و رواج سے سامنا ہوا ،اسلام اِن موارد سے دو طرح پیش آیا:

1. وہ آداب و رسوم جو اسلامی اہداف اور اصول کے مخالف تھے ان سے شدت کے ساتھ پیش آیا۔
2. وہ آداب و رسوم جو اسلامی اہداف و اصول کے برخلاف نہیں تھے اور نہ ہیں اس صورت میں یا اسکی تائید کی یا انکے مقابلے میں مخالفانہ رویہ اختیار نہیں کیا یعنی خاموشی اختیار کی۔

نوروز بھی ان قواعد اور قانون کلی سے خالی نہیں، نوروز کے مثبت پہلو بھی تھے اور منفی بھی، صلہ رحمی، دوسروں کو تحفے دینا، گھر کو صاف ستھرا کرنا، ایک دوسرے کی دعوت کرنا، غریبوں کی مدد کرنا وغیرہ وہ امور تھے جو مثبت اور اسلام میں قابل تحسین ہیں اور خود ہر ایک موضوع پر احادیث نبوی ﷺ کے ذریعے مسلمانوں کو رغبت دلائی گئی ہے3۔ کچھ منفی پہلو بھی ہیں جیسے علم کی کمی کی بنا پر اس کو مذہبی تہوار سمجھنا، بعض لوگوں کا اسراف کرنا ، اس دن گناہوں کا ارتکاب کرنا جیسے موسیقی وغیرہ جو ہر وقت اور ہر موقعہ پر حرام ہیں اور کوئی مسلمان ان امور کو انجام دینے کی اجازت نہیں دے گا چاہے وہ کسی بھی مکتب فکر یا قوم و ملت سے تعلق رکھتا ہو۔

کیا نوروز کا تعلق کسی ایک مکتب فکر سے ہے؟

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا واقعاً نوروز کسی ایک مکتب فکر کی عید ہے یا نہیں؟

اس سوال کا جواب بالکل واضح ہے اور اس موضوع پر کسی بحث کی ضرورت نہیں اس لئے کہ اس تہوار کا مذہب اور کسی عقیدے یا فرقے سے کوئی تعلق نہیں ہے، ایران جہاں اس عید کا آغاز ہوا ،وہاں اس وقت بھی شیعہ اور سنی سب مل کر نوروز کو ملی عید کے طور پر مناتے ہیں، ایران کے علاوہ دوسرے ملکوں جیسے افغانستان، پاکستان، ترکمانستان، تاجیکستان، ازبکستان،آذربائیجان جن میں اکثریت اہل سنت کی ہے وہ بھی عید نوروز کو روایتی طور پر مناتے ہیں ان کے لئے ہم کیا رائے قائم کرسکتے ہیں؟ اور بہت سے ممالک ایسے ہیں جہاں بالکل اس تہوار کو نہیں منایا جاتا جبکہ دونوں مکتب فکر وہاں زندگی گزارتے ہیں جیسے کویت، لبنان اور عراق وغیرہ لہذا کسی خاص گروہ سے نسبت دینے کا یہ مطلب ہے کہ دشمن اس موضوع کے ذریعے بھی مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کرنا چاہتا ہے، اوراب دشمن کا نیا طریقہ اسلامی لباس اور لبادہ میں نام نہاد مفتیوں کے فتووں کے ذریعے مسلمانوں میں دوری ایجاد کرنا ہے، لیکن الحمدللہ اب تمام مسلمان ان بیوقوف شدت پسند مولویوں کو جانتے ہیں جو دشمن کے آلہ کار ہیں اور خصوصا پاکستان میں سرگرم عمل ہیں تاکہ اس اسلامی ملک میں بدامنی ایجاد کرکے کافروں کو بہانہ فراہم کریں ۔

مذہبی تہوار یا رسوم ہر مکتب فکر میں ہر جگہ مشترکہ طور پر منائی جاتی ہیں جیسے شیعہ اثنا عشری دنیا کے جس خطہ میں ہو امام حسین ؑ کا غم یا پیامبر اسلام ﷺ کے حضرت علی ؑ کی ولایت کے اعلان کے دن کو مناتے ہیں۔

امام موسی کاظم ؑ سے روایت ہے کہ انہوں نے نوروز کو مجوسیوں کی سنت اور اسکے احیاء کو حرام قرار دیا 4 دوسری روایت میں نقل ہوا ہے کہ عراق میں میں امیر المومنین حضرت علی ؑ کے لئے فالودہ لایا گیا ۔ امام ؑ نے سوال کیا : یہ کیا ہے؟ کہا گیا نوروز کی مناسبت سے ہے ۔ امام ؑ نے فرمایا ہمارے لئے ہر دن نوروز ہے5 یہ نوروز سے متعلق امام علی ؑ کی بے اعتنائی کی دلیل ہے یعنی امام علیؑ کی نظر میں دوسرے دنوں اور اس نوروز میں کوئی فرق نہیں۔

اسی طرح دوسری روایات میں آیا ہے کہ امام جعفر صادق ؑ سے نوروز کے دن تحفے لینے کے بارے میں سوال کیا گیا : امام ؑ نے سوال کیا کیا تحفہ دینے والا اور لینے والا دونوں نماز پڑھتے ہیں ؟ جواب دیا گیا: جی ہاں ، امام جعفر صادق نے فرمایا : پھر کوئی اشکال نہیں6۔ اس حدیث سے بھی یہی سمجھ میں آتا ہے کہ امام نوروز کو کوئی مذہبی حیثیت نہیں دے رہے بلکہ انکی نظر میں اہمیت ایمان کی ہے اور اسکی پہچان نماز سے ہوتی ہے۔

لیکن ہمیں عملی طور پر یہ نظر آتا ہے کہ کچھ لوگ نوروز کو مذہبی رنگ دیتے نظر آتے ہیں اور اسکو مقدس مانتے ہیں اسکی کیا وجہ ہے؟ تحقیق سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ایک روایت ملتی ہے جو معلیٰ بن خنیس نے امام جعفر صادق ؑ سے نقل کی ہے7 امام ؑ نے اس دن کچھ حادثات کو ذکر کیا ہے جو اتفاقی طور پر نوروز سے مل گئے ۔

پھر بھی بطور یقینی اسکو نوروز کی اہمیت پر حمل نہیں کرسکتے اسلئے کہ سال شمسی و قمری دونوں مطابق نہیں ہیں بلکہ کبھی ممکن ہے شب قدر ونوروز سے مل جائے اور کبھی کوئی اور اہم واقعہ جیسا کہ سال دھم ہجری میں ۱۸ ذی الحجہ نوروز کے دن سے مل گئی یا ایک دو دن آگے پیچھے آئی کے شاید شیعوں کی توجہ نوروز کی طرف اس روایت کی وجہ سے ہو ، لیکن حقیقت میں شیعہ یوم غدیر کی اہمیت کے قائل ہیں نہ کہ نوروز کے ، اور ہم دیکھتے ہیں کہ حدیث معلی میں جن واقعات کا ذکر ہوا ہے ان میں ایک یہ بھی ہے ، شاید امامؑ کا ان امور سے متعلق ذکر کرنے کا ہدف لوگوں کے ذہنوں کو نورو ز سے دور کرنا اور دوسرے حوادث الہی کی جانب اشارہ کرنا ہے جو اس دن واقع ہوئے ہیں ، کیونکہ امام ؑ عباسی خلفاء کے زمانے میں رہتے تھے جو ایرانیوں سے گہرے مراسم رکھتےتھے ، جہاں تک اس دن غسل یا کوئی مستحب عبادی عمل بیان ہوا ہے تو اسکی بھی شاید یہی وجہ نوروز کا رخ موڑنا ہو۔

اسلام کے بعد نوروز کو اہمیت اور رواج دینے والے کون تھے؟

سب سے زیادہ بنو امیہ اور عباسی خلفاء نے اس دن کو رواج دینے میں اہم کردار ادا کیا ، کیونکہ نوروز کے اہم رسم و رواج میں حکمرانوں کو تحفے دینا تھا اور دو سرے ایرانیوں سے بہتر مراسم حکمرانوں کی طاقت اور حمایت کے لئے بھی ضروری تھے 8۔ بنی امیہ کے بعد بنی عباس کے خلفاء جو ایرانیوں کی مدد سے خلافت و حکومت پر پہنچے اور انکی حکومت میں ایرانی وزراء بھی تھے ایرانیوں سے حمایت کے اظہار کے لئے نوروز میں مکمل آزادی دی جاتی تاکہ ایرانیوں کی ہمدردیاں حاصل کی جاسکیں، عباسیوں کی مرکزی حکومت کی کمزور ہونے کے بعد اسلامی ممالک کے ارد گرد مختلف ریاستیں قائم ہوئیں جن میں صفاری9، سامانی10 ، آل بویہ 11، غزنوی12، سلجوقی13 ، خوارزمی14 وغیرہ کی حکومتیں شامل تھیں یہ تمام کے تمام مذہب اور عقیدے کے اعتبار سے اپنے آپ کو بغداد کے حاکم اور خلیفہ کا تابع مانتی تھیں لیکن ہر حال میں ملی تعصب اور ایرانی ہونے کو مورد توجہ قرار دیتی تھیں اور ایرانی آثار اور سنتوں کی بھرپور کوشش کرتی تھیں جن میں سے ایک سنت عید نوروز ہے۔

شاہ جلال الدین ملکشاہ کے زمانے میں سلجوقی بادشاہ تھا عید نوروز کو سال کا آغاز قر ار دیا اور اس نے رسمی طور پر شمسی سال کو حکومتی سال قرار دیا 15 ان حکومتوں میں سب سے زیادہ صفوی حکومت نے فارسی زبان اور انکے آئین کو زندہ کرنے رکھنے کی کوشش کی اسکے بعد ایرانی مقتدری جیسے سامانی جو ایران کے پرانی ثقافت ، خراسان کی وجہ سے وجود میں آئے تھے انہوں نے بھی بہت سی پرانی سنتوں کو زندہ اور رائج کیا 16 نوروز کو رائج کرنے کی دوسری وجہ آئین کی تدوین اور لوگوں سے خراج لینے کا مسئلہ ہے، خلفاء آئین اور قانون ایرانیوں سے لیتے تھے اصطخری کہتا ہے کہ ایرانی خلافت کے آئین کو وجود میں لانے والے ہیں اور ان حکومتوں کی آئینی اور سیاسی نظام میں تر قی ایرانیوں کی وجہ سے تھی17۔ اور کیونکہ ایرانیوں کے آئین کی اصل کو ساسانیوں سے لیا گیا ہے لہذا مجبور تھے کہ ان تمام کاموں کو انجام دیں جو ان قوانین میں موجود تھے۔ ایران میں سال کا آغاز شمسی سال سے ہوتا تھا اور تمام امور کا آغازاسی دن سے ہوتا اور اسی طرح کھیتی باڑی کا آغاز اسی مہینہ سے ہوتا تھا لہذا حکومتی عہدیدار نوروز کو بہت اہمیت دیتے تھے18 ابوریحان بیرونی اس سلسلہ میں کہتا ہے19 کہ: یہی شمسی سال ایران کے تحت رہنے والے اسلامی ممالک میں استعمال ہونے لگا اور فارسی نام اور مہینہ بھی انہی کے حساب سے گنے جانے لگے ۔ نوروز کے زندہ رہنے کی تیسری وجہ کچھ افراد اور گروہ تھے جو مستقیماً اسلامی اور عربی ثقافت سے مقابلہ کرنے کے لئے یہ کام کرتے تھے یہ لوگ کوشش کرتے تھے کہ اسلام سے پہلے رہنے والی ایرانی رسم و رواج کو رائج کرکے لوگوں کو اسلامی ثقافت سے دور کیا جائے اور انکی توجہ اسلام سے پہلے والی رسوم کی طرف مشغول رکھی جائے مقامی حکومت کا وجود جن کو اوپر بیان کیا گیا ہے اور کچھ انقلاب جیسے “باب خردمین” اور “نھضت شعوبیہ ” کا نام ان سلسلوں میں شامل ہے نمونہ کے طور رپر بے دین شہنشاہ رضا شاہ کے ۲۵۰۰ سالہ شہنشاہی جشن کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد بھی بہت سے لوگ مومن مسلمانوں کے خلاف خاص طور پر ایرانی متعصب افراد جن میں زرتشت اور یہودی وغیرہ شامل ہیں یہ کوشش کررہے ہیں کہ سیزدہ بدر اور چہار شنبہ سوری جیسی رسموں 20 کو باقی رکھا جائے اسلام مخالف میڈیا بھی (جیسے امریکہ،برطانیہ اور اسرائیل) اس سلسلے میں بھرپور کردار ادا کرکے ان تہواروں کو رواج دینے کے لیئے اپنا کردار ادا کررہے ہیں لیکن اب باشعور مسلمان تبلیغاتی جنگ کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔

مجوسی کون ہیں؟

(إِنَّ الَّذينَ آمَنُوا وَ الَّذينَ هادُوا وَ الصَّابِئينَ وَ النَّصارى‏ وَ الْمَجُوسَ وَ الَّذينَ أَشْرَكُوا إِنَّ اللَّهَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ إِنَّ اللَّهَ عَلى‏ كُلِّ شَيْ‏ءٍ شَهيدٌ (الحج/17)

لفط مجوس قرآن میں ایک مرتبہ ذکر ہوا ہے، اور آیت میں مجوس کو ایمان والوں کی صف میں شامل کیا گیا ہے جبکہ مقابل میں دوسرا گروہ مشرکین کا بیان ہوا ، ایسا آیت کے مضمون سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مجوس اہل کتاب تھے اور اہل دین و آئین الہی تھے جسکی وجہ سے انکو ایمان والوں کی صف میں شمار کیاگیا ہے، اسلامی روایات میں مجوسیوں کو انبیاء کا پیروکار قرار دیا گیا ہے اور بعد میں یہ الہی تعلیمات سے شرک و انحراف کا شکار ہوگئے۔

مکہ کے مشرکین نے پیامبر اسلام ﷺسے تقاضا کیا کہ ان سے جزیہ لے کر انہیں بت پرستی کی اجازت دے دیں پیامبر اسلام ﷺ نے فرمایا: میں اہل کتاب کے علاوہ کسی سے جزیہ نہیں لیتا؟ مشرکین نے جوابی خط لکھا اور کہا : آپ کس طرح یہ کہتے ہیں جبکہ آپ نے منطقہ ھجر کے مجوسیوںسے جزیہ وصول کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ان المجوس كان لهم نبى فقتلوه و كتاب احرقوه21

مجوسیوں کے پاس خدا کا نبی بھیجا گیا انہوں نے نبی کو شہید کردیا اور آسمانی کتاب کو جلادیا، ایک اور اصبغ ابن نباتہ حضرت علی ؑ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی ؑ منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا: سَلُونِي قَبْلَ أَنْ تَفْقِدُونِي ، مجھ سے پوچھو اس سے پہلے کہ میں تم سے رخصت ہوجاوں :

فَقَامَ إِلَيْهِ الْأَشْعَثُ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ كَيْفَ تُؤْخَذُ الْجِزْيَةُ مِنَ الْمَجُوسِ وَ لَمْ يُنْزَلْ عَلَيْهِمْ كِتَابٌ وَ لَمْ يُبْعَثْ إِلَيْهِمْ نَبِيٌّ فَقَالَ بَلَى يَا أَشْعَثُ قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ كِتَاباً وَ بَعَثَ إِلَيْهِمْ نَبِيّا، اشعث ابن قیس کھڑا ہوا اور کہا مجوسیوں سے کس طرح جزیہ وصول کیا جاسکتا ہے جبکہ ان پر نہ ہی نبی آیا اور نہ ہی کوئی کتاب؟ حضرت علی ؑ نے جواب دیا: خدا نے ان پر نبی بھی بھیجا اور کتاب بھی .22،اسی طرح ایک حدیث میں امام سجاد: علی ابن الحسین ؑ سے ملتا ہے کہ انہوں نے فرمایا: عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ع أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ص قَالَ سَنُّوا بِهِمْ سُنَّةَ أَهْلِ الْكِتَابِ يَعْنِي الْمَجُوسَ,

پیامبر اسلام ﷺ نے فرمایا: ان (مجوسیوں) سے اہل کتاب کے قانون کے مطابق رویہ رکھو23۔

ان روایات سے یہ معلوم ہوتا کہ ایرانی جو مجوسی تھے دراصل دین الہی نبی اور کتاب کا حامل تھے اور زمانے کے گزرنے کے ساتھ ان میں انحرافات پیدا ہوئے اور آتش پرست بن گئے، لہذا انکے عقائد اور رسوم کے مطالعے کے وقت اس نکتہ کی طرف توجہ ضروری ہے۔

نوروز کی حقیقت کیا ہے؟

نوروز سے متعلق کئی اقوال تاریخ میں ملتے ہیں جو ایک دوسرے سے مختلف ہیں ہم اس تحریر کے اختصار کے خاطر صرف انکے بارے میں اشارے کررہے ہیں:

ایرانی آئین کی کتاب میں یہ ذکر ملتا ہے کہ یہ لوگ اس تہوار کو وہ دن مانتے ہیں جس دن “اھور مزدا” (دنیا کے خدا) کو پیدا کیا اس دن کو اسی وجہ سے مبارک مانتے ہیں ایرانی بادشاہ بھی اس دن کو متبرک سمجھتے ہیں اور اپنی مسند نشینی کا آغاز اسی دن سے کرتے تھے 24 زرتشت کو کتاب اور احادیث کی روشنی میں اہل کتاب میں سے مانا گیا ہے اور بعید نہیں کہ نوروز انکے اصل اعتقادات میں سے ہو یعنی قرآن کی زبان میں ایام اللہ ہو اور زمانے کے بدلنے کے ساتھ تحریفات کردیا گیا ہو جس طرح تاریخ میں ملتا ہے کہ کعبہ توحید پرستوں کی عبادت کا مرکز تھا لیکن دور دراز کے رہنے والوں کی لئے مشقت کا سبب ہونے کی بنا پر لوگ وہاں سے پتھر لے جاتے اور اپنے اپنے علاقوں میں انکی پرستش شروع کردی گئی اور یہیں سے شرک اور بت پرستوں کی بنیاد پڑی۔

اس سلسلے میں آیات قرآنی سے استفادہ کیا گیا ہے: إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذي خَلَقَ السَّماواتِ وَ الْأَرْضَ في‏ سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوى‏ عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهارَ يَطْلُبُهُ حَثيثاً وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُومَ مُسَخَّراتٍ بِأَمْرِهِ أَلا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْأَمْرُ تَبارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعالَمينَ (اعراف/54)

بیشک تمہارا خدا وہ ہے جس نے زمین و آسمان کو چھ دنوں میں پیدا کیا ۰۰۰۰۰ 25 اسی طرح سے توریت میں بھی آسمان اور زمین کی خلقت کے سلسلے میں چھ دن کا ذکر ملتا ہے یہ بات قابل ذکر ہے کہ نوروز بھی چھ دن پر مشتمل ہوتی ہے، لہذا ممکن ہے کہ اس دین الہی میں آسمان اور زمین کی خلقت کو ایک Event کے طور پر منایا جاتا ہو اور زمانہ گزرنے کے ساتھ اس میں تحریف ہوگئی ہو۔

یاقوت حموی نقل کرتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں: حمدان بن سحت جرجانی نے کہا کہ ہم عید نوروز میں ذوالریاستین (فضل بن سہل) کی محفل میں تھے کہ عمر بن رستمی (جو عباسی خلیفہ مامون کا کمانڈر تھا) نجومیوں سے عید نوروز کے بارے میں سوال کیا: کہا گیا : پرانے زمانے دجلہ میں کے آس پاس ایک قوم وبا ئی مرض کا شکار ہوگئی گرچہ انہوں نے اس علاقے سے کوچ کرلیا لیکن مرض کی وجہ سے وہ گویا وہ مرگئے ،خداوند عالم نے اول فروردین (شمسی مہینہ) میں بارش نازل کی جس کی وجہ سے انہیں نئی زندگی نصیب ہوئی اسی مناسبت نے مقامی بادشاہ نے اس دن کا نام نوروز رکھ دیا، جب عباسی خلیفہ مامون کو اس بات کی خبر دی گئی تو اس نے کہا یہ مطلب قرآن میں بھی موجود ہے، اور اس آیت کی تلاوت کی: أَ لَمْ تَرَ إِلَى الَّذينَ خَرَجُوا مِنْ دِيارِهِمْ وَ هُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقالَ لَهُمُ اللَّهُ مُوتُوا ثُمَّ أَحْياهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَشْكُرُونَ.26

بطور اختصار نوروز کے متعلق جو اطلاعات تاریخ سے ملتی ہیں ان سے کسی یقینی نطریہ کا حصول ممکن نہیں اور قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے کہ:

انَّ الظَنَّ لا يُغۡنِي مِنَ الۡحَقِّ شَيۡئاً ، آج کل جس تہوار کو نوروز کے نام سے منایا جاتا ہے گرچہ کے اس کا آغاز ایرانی قدیم مذہب سے تعلق رکھتا ہے لیکن اس زمانے میں اسکو بہار کے آغاز میں ملی Event کے طور پر منایا جاتا ہے نہ کسی مذہبی عید کے طور رپر اور نہ ہی کوئی ایسے خلاف شریعت امور اس خوشی میں دیکھنے میں ملتے ہیں جس کے خلاف کوئی شرعی دلیل ہو۔
علی امامی ،استاد دانشگاہ ہمدان یونیورسٹی ایران

ترجمہ: سید ارتضی حسن رضوی

حوالہ جات:

1 کچھ لوگوں کی طرف اشارہ جنہوں نے نوروز کو ثابت کرنے کے لیئے بہت سے مقالات اور کتابیں لکھی ہیں ، تفصیلی معلومات کے لئے کتاب الذریعہ کی طرف رجوع کریں
2 تاریخ یعقوبی بیروت پرنٹ، ج۱، ص۱۷۴، ابوحنیفہ الدینوری تحقیق عبدالمنعم عامر، اخبار الطوال پرنٹ دار الاحیاء الکتب العربیہ ص۲، عمر ابن ابراھیم نیشاپوری نوروز نامہ تہران طھوری، سیکنڈ پرنٹ، ۱۳۵۷ ھ ش ص۱۲( جب کیومرث پہلا ایرانی بادشاہ حکومت پر بیٹھا اور چاہا کہ دن اور ماہ معین کئے جائیں اور انکا نام رکھا جائے، تاریخ کا آغاز کیا جائے تاکہ لوگ جان جائیں، دیکھا کہ اس دن (اول فروردین) پہلا منٹ ہے کہ برج حمل میں داخل ہوا ہے، عجمی نجومیوں کو بلایا اور کہا آج سے تاریخ کا آغاز کرو، سارے نجومی جمع ہوگئے اور اسی دن سے تاریخ رکھی گئی۔
3 اہل سنت کے مشہور امام محمد غزالی نے کتاب کیمیاوی سعادت ج۱، ص ۴۷۷ میں لکھا ہے کہ جو کچھ بھی نوروز کے عنوان سے خریدا اور بیچا جاتا ہے بذات خود حرام نہیں لیکن اگر آتش پرستوں کے مذہبی شعائر کا اظہار ہوتا ہے ت حرام ہے
4 ابن شہر آشوب نے مناقب آل ابی طالب ؑ ج۴، ص ۳۱۹ میں لکھا ہے کہ: حکی ان منصور تقدم الی موسی بن جعفر ؑ بالجلوس للتھیۃ فی یوم النیروز و قبض ما یحمل الیہ فقال انی قد فتشت الاخبار عن جدی رسول اللہ فلم اجد لھذا العید خبراً و انہ سنۃ الفرس و محالھا الاسلام و معاذ اللہ ان نحیا ما محا لھا الاسلام فقال المنصور انما نفعل ھذا سیا سۃ للجند فساٗلتک باللہ العظیم الا جلست فجلس۔ و دخلت علیہ الملوک والامرء والاجناد یھتونہ و یحملون الیہ الھدایا والتحف و علی راسہ خادم المنصور یحصی ما یحمل فدخل فی آخر الناس رجل شیخ کبیر السن فقال لہ یا ابن رسول اللہ ﷺ اننی رجل صعلوک لا مال لی اتحفک بثلاث ابیات ثلاثہ قالھا جدی فی جدک الحسین بن علیؑ
محمد بن عبدالرؤف المنادی تحقیق احمد عبدالاسلام قبض التقدیر شرح الجامع الصغیر ج۶، ص ۴۳۳ 5
6 شیخ طوسی تھذیب الاسلام ج۶م ص۳۷۸: الكافي:5 ص141- عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ وَ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ جَمِيعاً عَنِ ابْنِ مَحْبُوبٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْكَرْخِيِّ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع عَنِ الرَّجُلِ تَكُونُ لَهُ الضَّيْعَةُ الْكَبِيرَةُ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْمِهْرَجَانِ أَوِ النَّيْرُوزِ أَهْدَوْا إِلَيْهِ الشَّيْ‏ءَ لَيْسَ هُوَ عَلَيْهِمْ يَتَقَرَّبُونَ بِذَلِكَ إِلَيْهِ فَقَالَ أَ لَيْسَ هُمْ مُصَلِّينَ قُلْتُ بَلَى قَالَ فَلْيَقْبَلْ هَدِيَّتَهُمْ وَ لْيُكَافِهِمْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ص قَالَ لَوْ أُهدِيَ إِلَيَّ كُرَاعٌ لَقَبِلْتُ وَ كَانَ ذَلِكَ مِنَ الدِّينِ وَ لَوْ أَنَّ كَافِراً أَوْ مُنَافِقاً أَهْدَى إِلَيَّ وَسْقاً مَا قَبِلْتُ وَ كَانَ ذَلِكَ مِنَ الدِّينِ أَبَى اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ لِي زَبْدَ الْمُشْرِكِينَ وَ الْمُنَافِقِينَ وَ طَعَامَهُمْ
بحار الانوار ج۵۶، ص۹۲7
8 سید عبد اللہ شھرستانی در تاریخ و دین نجف مطبعۃ الادب ص ۱۲
9 صفاریان ایرانی بادشاہ تھاجو ۳۴۷؁ھ سے ۳۹۳؁ھ ایران کے بڑے حصہ پر حکومت کرتے تھے وہ سیستان و بلوچستان سے اٹھے اور یعقوب لیث ان کا لیڈر تھا انہوں نے بغداد کے خلیفہ کو شکست دی اور حکومت کا آغاز کیا۔
10 سامانیان ایرانی النسل تھے جو اپنے آپ کو سردار بھرام چوبین سے منصوب کرتے تھے ا نہوں نے ۳۷۹؁ھ سے ۳۸۹؁ھ تک خراسان ، ماوراء النھرین، سمرقند ، بخار ا اور شرقی ایران پر حکومت کی۔
11 آل بویہ بھی ایرانی النسل تھے اور اپنے آپ کو ایرانی سردار بھرامگور سے منسوب کرتے تھے،انہوں نے شمال ایران میں قیام کیا اور تمام ایران پر قبضہ کرلیا انکی حکومت ۳۲۰؁ھ سے ۴۷۷؁ھ تک قائم رہی کچھ عرصے انہوں نے بغداد پر بھی قبضہ کیا۔
12 غزنوی نسلی لحاظ سے ترک تھے انہوں نے ماوراء النھرین ، مرکز ایران اور شرق ایران پر تسلط حاصل کیا انکی حکومت ۳۵۱؁ھ سے ۵۸۲؁ھ تک رہی۔
13 سلجوقیان ۴۲۸؁ھ سے ۵۹۰؁ھ تک نیشاپور میں حکومت کرتے رہے انکا پہلا حاکم طغرل شاہ سلجوقی تھا جو علاء الدین تکش خوارزم کے ہاتھوں ہلاک ہوا۔
14 خوارزم شاھان ۴۹۰؁ھ سے ۵۱۸؁ھ حکومت کرتا رہا، اور انکا پہلا حاکم انوشگتین اور آخری بادشاہ سلطان قطب الدین محمود تھا جو مغلوں کے ہاتھوں ہلاک ہوا۔
15 الکامل فی التاریخ ج۱،ص۹۸، ۴۶۷؁ھ کے واقعات
16 پرویز اذکابی ، نوروز اور تاریخچہ ومرجع شناسی ، تہران پرنٹ ۱۳۵۳؁ھ ص ۱۴ کےبعد
17 المسالک و الممالک مصر پرنٹ , ۱۲۶۱؁ھ ص۸۸
18 ساسانیان اسلام سے پہلے آخری ایرانی بادشاہ
19 ابو ريحان بيروني –الاثار الباقيه ص68
20 یہ رسمیں آتش پرستوں کی باقیات ہیں سیزدہ بدر کے دن گھرسے باہر رہا جاتا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس طرح نحوست باہر نکل جاتی ہے، اسی طرح چہار سنبہ سوری میں شب برات کی طرح آتش بازی کی جاتی ہے ان دونوں رسموں کا تعلق اسلام سے قطعاً نہیں ہے۔
21 الكافي ج3ص566 باب صدقة أهل الجزية
22 مجلسي بحارالانوار ج10ص119- وسائل‏الشيعة ج 15 ص128
23 تفسير نمونه ذيل آيه شريفه 17ازسوره مباركه حج
24 دنياي كتاب 1370ه ش ص250
25 یہ موضوع قرآن میں سات مرتبہ ذکر ہوا ہے جیسے: )اعراف/54-يونس/3-هود/7-فرقان/59-حم فصلت(سجده)/4-ق /38-حديد/4(
26 ياقوت حموي معجم البلدان بيروت داراحياء التراث العربي ج1 ص451ـ

Last edited by عارف اقبال; 22-03-10 at 02:56 PM.
عارف اقبال آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عارف اقبال کا شکریہ ادا کیا
اویسی (24-04-10), حیدر Rehan (22-03-10)
پرانا 22-03-10, 03:47 PM   #33
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: مثال بنو امیہ اور قبیلہ ہنی ہاشم

حیدر Rehan صاحب
آپ کے غیر سنجیدہ روئیے کی وجہ سے ارادہ تو یہی تھا کہ آپ کو آپ کے حال پر چھوڑ دیا جائے
مگر کیا کیا جائے آپ کی باتوں سے عوام الناس کو آگاہ نہ کیاجائے تو بھی ایک فتنہ پھیلنے کا اندیشہ ہے
ورنہ مجھ سمیت فورم کے اکثر ممبر آپ کی بے سروپا باتوں میں الجھنے سے گریز کرتے ہيں
خیر تھوڑی سے کوشش کرتا ہوں کہ کچھ باتیں بیان کروں جو آپ کی عقل شریف میں نہ آسکے تو کم سے کم آپ کے دھاگوں سے گمراہ ہونے والوں کی سمجھ میں تو آ سکے۔۔
اقتباس:

پہلے رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم کو بنو امیہ ک سازشوں نے مکہ سے ہجرت کرنے پر مجبور کیا
اقتباس:
بنو امیہ نے اگرچہ دیگر قبائل کے کافروں کو ساتھ ملالیا تھا
یہ تو آپکے اپنے الفاظ ہیں ورنہ تاریخ بتاتی ہے کہ ان میں کفار بنو امیہ کے ساتھ تمام کفار شامل تھے حتی کہ بنو ہاشم و دیگر قبائل بھی ۔۔

اقتباس:

کبھی ان کا نام خوارج پڑا کبھی منافق ۔
اقتباس:
کوفہ و شام میں امام حسین (ع) کے قتل کے فتوی انھی نام نہاد علماوں نے جگہ جگہ نشر کیے ۔
ان باتوں کا تاریخ و مغازی وغیرہ میں کہیں ذکر نہيں ہے آپ کے الفاظ آپ کو مبارک ہوں
مزید بہت کچھ کہنا چاہوں گا ۔
فی الحال بس ۔
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
نورالدین کا شکریہ ادا کیا گیا
عادل سہیل (22-03-10)
پرانا 22-03-10, 03:58 PM   #34
Senior Member
 
عارف اقبال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 979
کمائي: 15,198
شکریہ: 1,882
726 مراسلہ میں 1,803 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نورالدین صاحب معاف کیجئے گا
مجھے اپنے دستخط کے پہلے مصرع اب یہ آنکھیں تشکیل سے تابندہ نہیںکا مفہوم بتا دیجئیے
بہت بہت شکریہ
عارف اقبال آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 22-03-10, 04:09 PM   #35
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Post شکریہ

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : یونس عارف مراسلہ دیکھیں
نوروز، بہار کا آغاز
ہمارے ایک استاد سے گفتگوکی پوری تحریر پیش خدمت ہے امید ہے موثرہو


نوروز، بہار کا آغاز

اس موضوع پر تحقیقی گفتگو سے پہلے اس بات کا بیان ضروری ہے کہ پاکستان میں میڈیا کی ترقی کے بہت سے مثبت اور بعض منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں، مثبت باتوں کو سراہنا ہر ایک تعلیم یافتہ فرد کے اخلاقی فرائض میں سے ہے تو منفی باتوں کو منعکس کرنا بھی ایک اہل قلم کی ذمہ داریوں میں سے ہے، بعض اوقات اہل سنت و الجماعت یا شیعہ مکتب فکر کی نمائندگی میں ایسے کم علم ،شہرت پرست لوگ مکتب کی نمائندگی کرتے نظر آتے ہیں جو کسی طور پر بھی اس بات کے اہل نہیں ہوتے

بعض لوگ موضوع پر مکمل عبور نہ رکھنے کی وجہ سے بھی اپنے مکتب فکر کی صحیح رائے پیش نہیں کرپاتے اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بعض لوگ بغیر تحقیق کے اسی گفتگو سے ایک خاص نظریہ قائم کرلیتے ہیں جو قطعا متعلقہ مکتب فکرکی حقیق رائے نہیں ہوتا لہذا ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کے علمی موضوعات پر تحقیقی ریسرچ مختلف طریقوں سے عوام تک پہنچتی رہے تاکہ مسلمانوں کے مختلف مکتب فکر ایک دوسرے کے صحیح نظریات کے بارے میں علم حاصل کرکے قریب سے قریب تر ہوسکیں۔

انہی موضوعات میں سے ایک متنازع موضوع نوروز ہے اور بعض مسلمان اس موضوع کے بارے میں صحیح طور پر معلومات نہیں رکھتے یہ مقالہ اس مقصد سے پیش کیا جارہا ہے تاکہ عوام و خواص کو اس دن کے بارے میں علمی معلومات دلائل اور تاریخی شواہد کی روشی میں فراہم کی جاسکے۔
- ۔ ۔ ـ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ماشا ءللہ یونس بھائی بہت کار آمد معلومت فراہم کی ہیں
تفصیل سے مطالعہ کروں گا فی الحال اس پوسٹ کو میں نے اپنے خاص بک مارک میں شامل کر لیا ہے ۔
مگر پہلے کچھ اپ سیٹ کو سیٹ کردوں
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 22-03-10, 04:27 PM   #36
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : یونس عارف مراسلہ دیکھیں
نوروز، بہار کا آغاز
ہمارے ایک استاد سے گفتگوکی پوری تحریر پیش خدمت ہے امید ہے موثرہو


نوروز، بہار کا آغاز

اس موضوع پر تحقیقی گفتگو سے پہلے اس بات کا بیان ضروری ہے کہ پاکستان میں میڈیا کی ترقی کے بہت سے مثبت اور بعض منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں، مثبت باتوں کو سراہنا ہر ایک تعلیم یافتہ فرد کے اخلاقی فرائض میں سے ہے تو منفی باتوں کو منعکس کرنا بھی ایک اہل قلم کی ذمہ داریوں میں سے ہے، بعض اوقات اہل سنت و الجماعت یا شیعہ مکتب فکر کی نمائندگی میں ایسے کم علم ،شہرت پرست لوگ مکتب کی نمائندگی کرتے نظر آتے ہیں جو کسی طور پر بھی اس بات کے اہل نہیں ہوتے

بعض لوگ موضوع پر مکمل عبور نہ رکھنے کی وجہ سے بھی اپنے مکتب فکر کی صحیح رائے پیش نہیں کرپاتے اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بعض لوگ بغیر تحقیق کے اسی گفتگو سے ایک خاص نظریہ قائم کرلیتے ہیں جو قطعا متعلقہ مکتب فکرکی حقیق رائے نہیں ہوتا لہذا ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کے علمی موضوعات پر تحقیقی ریسرچ مختلف طریقوں سے عوام تک پہنچتی رہے تاکہ مسلمانوں کے مختلف مکتب فکر ایک دوسرے کے صحیح نظریات کے بارے میں علم حاصل کرکے قریب سے قریب تر ہوسکیں۔

انہی موضوعات میں سے ایک متنازع موضوع نوروز ہے اور بعض مسلمان اس موضوع کے بارے میں صحیح طور پر معلومات نہیں رکھتے یہ مقالہ اس مقصد سے پیش کیا جارہا ہے تاکہ عوام و خواص کو اس دن کے بارے میں علمی معلومات دلائل اور تاریخی شواہد کی روشی میں فراہم کی جاسکے۔

ایران میں اس عید کو ملی تہوار ا ور زمین کا سورج کے گرد چکر مکمل ہونے پر بہار کے آغاز کے طور پر منایا جاتا ہے، اور عید طبیعت سمجھا جاتا ہے جن میں تمام مکاتب فکر شامل نظر آتے ہیں، طبیعت میں آنے والی تبدیلی کو اگر دیکھا جائے تو بہار انسان کے مزاج میں خوشی کی کیفیت لاتی ہے ،ہر شی تروتازہ اور ہری بھری ہوجاتی ہے ، بلبلوں کا چہچہانا بہار کی آمد کی خبر دیتا ہے، پس انسانی فطرت میں خوشی کی لہر کا اظہار نوروز ہے جبکہ ہندوستان او رپاکستان میں بعض شیعہ مکتب فکر کے سادہ لوح افراد اسکو مذہبی تہوار سمجھتے ہیں1، جبکہ بعض شدت پسند ،تنگ نظر، عادت سے عاجز ، نام نہاد اسلامی ٹھیکیدار ، اسکو بدعت ، کفر اور دیگر تمغوں سے نوازتے ہیں ۔

ہمدان یونیورسٹی کے استاد محترم امامی فر صاحب نے ایک محقق کے عنوان سے اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی ہم انکی فارسی تحریر کا اردو ترجمہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں امید ہے یہ مقالہ قارئین کی معلومات میں اضافہ اور حقیقی مطلب تک پہچنے کے لیئے مفید ہوگا۔

سب سے پہلے ہم اس پہلو پر گفتگو کرتے ہیں کہ خود عید کے بارے میں اسلام کا نظریہ کیا ہے؟

ہم ایک عام قانون کی طرف اشارہ سے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہیں اور وہ یہ کہ ہر قوم اور ملت کسی اہم واقعہ یا حادثہ جو انکے لیئے اہمیت کا حامل ہو بعنوان آغاز سال قرار دیتے ہیں، اور اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں، اور اسکو ایک Event قرار دیتے ہیں، بعنوان مثال عیسائی حضرت عیسی کی پیدائش کے دن کو سال کا آغاز قرار دیتے ہیں، مسلمان ہجرت پیامبر اسلام ﷺ کو آغاز اسلامی سال قرار دیتے ہیں اور ایرانی شمسی نظام یعنی مین کا سورج کے گرد چکر مکمل ہونے کو سال آغاز شمار کرتے ہیں، ایرانی اس آغاز کو ثقافتی دن سمجھ کر مناتے ہیں اور یہ دن فقط ایران تک محدود نہیں بلکہ فارسی زبان جہاں جہاں بولی جاتی ہے وہاں اس کے اثرات زیادہ واضح نظر آتے ہیں جیسے تاجیکستان، افغانستان،آزربائیجان، اور ہندوستان اور پاکستان کے بعض لوگ اس کو Event کے طور پر مناتے ہیں۔

مشہور تاریخ دان یعقوبی رقم فرماتے ہیں کہ: انکے سال کا پہلا دن نوروز کے نام سے ہے ، جس میں آب نیسان بھی برستا ہے یہ اس وقت ہے جب سورج برج حمل میں داخل ہوتا ہے اور یہ دن ایرانیوں کے لئے بڑی عید ہے2۔ البتہ اس بات کو ایرانیوں کا حسن سلیقہ سمجھنا چاہیے کہ بہار کو سال کےآغاز کے لئے انتخاب کیا جس میں نباتات دوبارہ تروتازہ ہوتے ہیں اور ہریالی کا آغا ہوتا ہے، جس طرح کچھ ممالک عیسوی سال کو جشن کے طور پر مناتے ہیں۔

نورو ز کے بارے میں اسلام کی نظر کیا ہے؟

کسی بات کو بیان کرنے سے پہلے مقدمہ کے طور پر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اسلام میں دو طرح کے احکامات ہوتے ہیں:

1. احکام تاسیسی: ان احکام کو کہا جاتا ہے اسلام سے پہلے نہیں تھے یعنی لوگوں کا اس سے پہلے سابقہ نہیں تھا اور اسلام نے آکر انہیں بنیادی شک عطا کی ہے۔
2. احکام امضائی: ان احکام کو کہا جاتا ہے جو اسلام سے پہلے تھے یعنی لوگوں اس کو انجام دیتے تھے اور کسی اسلامی قانون کے مخالف نہیں تھے اور اسلام نے یا تو انکو مورد تائید قرار دیا اس لئے بہت سے احکام، مختلف ادیان میں یا حد اقل فطرت انسانی میں ایک جیسے ہیں او اسلام نے مختلف کلچرز ، مختلف علوم، آداب و رسوم کے سامنے ان اصل قوانین کی پیروی کی ہے۔

جس زمانے میں اسلام نے فتوحات کے ذریعہ پھیلنا شروع کیا اس وقت مختلف قومی ثقافتوں اور رسم و رواج سے سامنا ہوا ،اسلام اِن موارد سے دو طرح پیش آیا:

1. وہ آداب و رسوم جو اسلامی اہداف اور اصول کے مخالف تھے ان سے شدت کے ساتھ پیش آیا۔
2. وہ آداب و رسوم جو اسلامی اہداف و اصول کے برخلاف نہیں تھے اور نہ ہیں اس صورت میں یا اسکی تائید کی یا انکے مقابلے میں مخالفانہ رویہ اختیار نہیں کیا یعنی خاموشی اختیار کی۔

نوروز بھی ان قواعد اور قانون کلی سے خالی نہیں، نوروز کے مثبت پہلو بھی تھے اور منفی بھی، صلہ رحمی، دوسروں کو تحفے دینا، گھر کو صاف ستھرا کرنا، ایک دوسرے کی دعوت کرنا، غریبوں کی مدد کرنا وغیرہ وہ امور تھے جو مثبت اور اسلام میں قابل تحسین ہیں اور خود ہر ایک موضوع پر احادیث نبوی ﷺ کے ذریعے مسلمانوں کو رغبت دلائی گئی ہے3۔ کچھ منفی پہلو بھی ہیں جیسے علم کی کمی کی بنا پر اس کو مذہبی تہوار سمجھنا، بعض لوگوں کا اسراف کرنا ، اس دن گناہوں کا ارتکاب کرنا جیسے موسیقی وغیرہ جو ہر وقت اور ہر موقعہ پر حرام ہیں اور کوئی مسلمان ان امور کو انجام دینے کی اجازت نہیں دے گا چاہے وہ کسی بھی مکتب فکر یا قوم و ملت سے تعلق رکھتا ہو۔

کیا نوروز کا تعلق کسی ایک مکتب فکر سے ہے؟

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا واقعاً نوروز کسی ایک مکتب فکر کی عید ہے یا نہیں؟

اس سوال کا جواب بالکل واضح ہے اور اس موضوع پر کسی بحث کی ضرورت نہیں اس لئے کہ اس تہوار کا مذہب اور کسی عقیدے یا فرقے سے کوئی تعلق نہیں ہے، ایران جہاں اس عید کا آغاز ہوا ،وہاں اس وقت بھی شیعہ اور سنی سب مل کر نوروز کو ملی عید کے طور پر مناتے ہیں، ایران کے علاوہ دوسرے ملکوں جیسے افغانستان، پاکستان، ترکمانستان، تاجیکستان، ازبکستان،آذربائیجان جن میں اکثریت اہل سنت کی ہے وہ بھی عید نوروز کو روایتی طور پر مناتے ہیں ان کے لئے ہم کیا رائے قائم کرسکتے ہیں؟ اور بہت سے ممالک ایسے ہیں جہاں بالکل اس تہوار کو نہیں منایا جاتا جبکہ دونوں مکتب فکر وہاں زندگی گزارتے ہیں جیسے کویت، لبنان اور عراق وغیرہ لہذا کسی خاص گروہ سے نسبت دینے کا یہ مطلب ہے کہ دشمن اس موضوع کے ذریعے بھی مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کرنا چاہتا ہے، اوراب دشمن کا نیا طریقہ اسلامی لباس اور لبادہ میں نام نہاد مفتیوں کے فتووں کے ذریعے مسلمانوں میں دوری ایجاد کرنا ہے، لیکن الحمدللہ اب تمام مسلمان ان بیوقوف شدت پسند مولویوں کو جانتے ہیں جو دشمن کے آلہ کار ہیں اور خصوصا پاکستان میں سرگرم عمل ہیں تاکہ اس اسلامی ملک میں بدامنی ایجاد کرکے کافروں کو بہانہ فراہم کریں ۔

مذہبی تہوار یا رسوم ہر مکتب فکر میں ہر جگہ مشترکہ طور پر منائی جاتی ہیں جیسے شیعہ اثنا عشری دنیا کے جس خطہ میں ہو امام حسین ؑ کا غم یا پیامبر اسلام ﷺ کے حضرت علی ؑ کی ولایت کے اعلان کے دن کو مناتے ہیں۔

امام موسی کاظم ؑ سے روایت ہے کہ انہوں نے نوروز کو مجوسیوں کی سنت اور اسکے احیاء کو حرام قرار دیا 4 دوسری روایت میں نقل ہوا ہے کہ عراق میں میں امیر المومنین حضرت علی ؑ کے لئے فالودہ لایا گیا ۔ امام ؑ نے سوال کیا : یہ کیا ہے؟ کہا گیا نوروز کی مناسبت سے ہے ۔ امام ؑ نے فرمایا ہمارے لئے ہر دن نوروز ہے5 یہ نوروز سے متعلق امام علی ؑ کی بے اعتنائی کی دلیل ہے یعنی امام علیؑ کی نظر میں دوسرے دنوں اور اس نوروز میں کوئی فرق نہیں۔

اسی طرح دوسری روایات میں آیا ہے کہ امام جعفر صادق ؑ سے نوروز کے دن تحفے لینے کے بارے میں سوال کیا گیا : امام ؑ نے سوال کیا کیا تحفہ دینے والا اور لینے والا دونوں نماز پڑھتے ہیں ؟ جواب دیا گیا: جی ہاں ، امام جعفر صادق نے فرمایا : پھر کوئی اشکال نہیں6۔ اس حدیث سے بھی یہی سمجھ میں آتا ہے کہ امام نوروز کو کوئی مذہبی حیثیت نہیں دے رہے بلکہ انکی نظر میں اہمیت ایمان کی ہے اور اسکی پہچان نماز سے ہوتی ہے۔

لیکن ہمیں عملی طور پر یہ نظر آتا ہے کہ کچھ لوگ نوروز کو مذہبی رنگ دیتے نظر آتے ہیں اور اسکو مقدس مانتے ہیں اسکی کیا وجہ ہے؟ تحقیق سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ایک روایت ملتی ہے جو معلیٰ بن خنیس نے امام جعفر صادق ؑ سے نقل کی ہے7 امام ؑ نے اس دن کچھ حادثات کو ذکر کیا ہے جو اتفاقی طور پر نوروز سے مل گئے ۔

پھر بھی بطور یقینی اسکو نوروز کی اہمیت پر حمل نہیں کرسکتے اسلئے کہ سال شمسی و قمری دونوں مطابق نہیں ہیں بلکہ کبھی ممکن ہے شب قدر ونوروز سے مل جائے اور کبھی کوئی اور اہم واقعہ جیسا کہ سال دھم ہجری میں ۱۸ ذی الحجہ نوروز کے دن سے مل گئی یا ایک دو دن آگے پیچھے آئی کے شاید شیعوں کی توجہ نوروز کی طرف اس روایت کی وجہ سے ہو ، لیکن حقیقت میں شیعہ یوم غدیر کی اہمیت کے قائل ہیں نہ کہ نوروز کے ، اور ہم دیکھتے ہیں کہ حدیث معلی میں جن واقعات کا ذکر ہوا ہے ان میں ایک یہ بھی ہے ، شاید امامؑ کا ان امور سے متعلق ذکر کرنے کا ہدف لوگوں کے ذہنوں کو نورو ز سے دور کرنا اور دوسرے حوادث الہی کی جانب اشارہ کرنا ہے جو اس دن واقع ہوئے ہیں ، کیونکہ امام ؑ عباسی خلفاء کے زمانے میں رہتے تھے جو ایرانیوں سے گہرے مراسم رکھتےتھے ، جہاں تک اس دن غسل یا کوئی مستحب عبادی عمل بیان ہوا ہے تو اسکی بھی شاید یہی وجہ نوروز کا رخ موڑنا ہو۔

اسلام کے بعد نوروز کو اہمیت اور رواج دینے والے کون تھے؟

سب سے زیادہ بنو امیہ اور عباسی خلفاء نے اس دن کو رواج دینے میں اہم کردار ادا کیا ، کیونکہ نوروز کے اہم رسم و رواج میں حکمرانوں کو تحفے دینا تھا اور دو سرے ایرانیوں سے بہتر مراسم حکمرانوں کی طاقت اور حمایت کے لئے بھی ضروری تھے 8۔ بنی امیہ کے بعد بنی عباس کے خلفاء جو ایرانیوں کی مدد سے خلافت و حکومت پر پہنچے اور انکی حکومت میں ایرانی وزراء بھی تھے ایرانیوں سے حمایت کے اظہار کے لئے نوروز میں مکمل آزادی دی جاتی تاکہ ایرانیوں کی ہمدردیاں حاصل کی جاسکیں، عباسیوں کی مرکزی حکومت کی کمزور ہونے کے بعد اسلامی ممالک کے ارد گرد مختلف ریاستیں قائم ہوئیں جن میں صفاری9، سامانی10 ، آل بویہ 11، غزنوی12، سلجوقی13 ، خوارزمی14 وغیرہ کی حکومتیں شامل تھیں یہ تمام کے تمام مذہب اور عقیدے کے اعتبار سے اپنے آپ کو بغداد کے حاکم اور خلیفہ کا تابع مانتی تھیں لیکن ہر حال میں ملی تعصب اور ایرانی ہونے کو مورد توجہ قرار دیتی تھیں اور ایرانی آثار اور سنتوں کی بھرپور کوشش کرتی تھیں جن میں سے ایک سنت عید نوروز ہے۔

شاہ جلال الدین ملکشاہ کے زمانے میں سلجوقی بادشاہ تھا عید نوروز کو سال کا آغاز قر ار دیا اور اس نے رسمی طور پر شمسی سال کو حکومتی سال قرار دیا 15 ان حکومتوں میں سب سے زیادہ صفوی حکومت نے فارسی زبان اور انکے آئین کو زندہ کرنے رکھنے کی کوشش کی اسکے بعد ایرانی مقتدری جیسے سامانی جو ایران کے پرانی ثقافت ، خراسان کی وجہ سے وجود میں آئے تھے انہوں نے بھی بہت سی پرانی سنتوں کو زندہ اور رائج کیا 16 نوروز کو رائج کرنے کی دوسری وجہ آئین کی تدوین اور لوگوں سے خراج لینے کا مسئلہ ہے، خلفاء آئین اور قانون ایرانیوں سے لیتے تھے اصطخری کہتا ہے کہ ایرانی خلافت کے آئین کو وجود میں لانے والے ہیں اور ان حکومتوں کی آئینی اور سیاسی نظام میں تر قی ایرانیوں کی وجہ سے تھی17۔ اور کیونکہ ایرانیوں کے آئین کی اصل کو ساسانیوں سے لیا گیا ہے لہذا مجبور تھے کہ ان تمام کاموں کو انجام دیں جو ان قوانین میں موجود تھے۔ ایران میں سال کا آغاز شمسی سال سے ہوتا تھا اور تمام امور کا آغازاسی دن سے ہوتا اور اسی طرح کھیتی باڑی کا آغاز اسی مہینہ سے ہوتا تھا لہذا حکومتی عہدیدار نوروز کو بہت اہمیت دیتے تھے18 ابوریحان بیرونی اس سلسلہ میں کہتا ہے19 کہ: یہی شمسی سال ایران کے تحت رہنے والے اسلامی ممالک میں استعمال ہونے لگا اور فارسی نام اور مہینہ بھی انہی کے حساب سے گنے جانے لگے ۔ نوروز کے زندہ رہنے کی تیسری وجہ کچھ افراد اور گروہ تھے جو مستقیماً اسلامی اور عربی ثقافت سے مقابلہ کرنے کے لئے یہ کام کرتے تھے یہ لوگ کوشش کرتے تھے کہ اسلام سے پہلے رہنے والی ایرانی رسم و رواج کو رائج کرکے لوگوں کو اسلامی ثقافت سے دور کیا جائے اور انکی توجہ اسلام سے پہلے والی رسوم کی طرف مشغول رکھی جائے مقامی حکومت کا وجود جن کو اوپر بیان کیا گیا ہے اور کچھ انقلاب جیسے “باب خردمین” اور “نھضت شعوبیہ ” کا نام ان سلسلوں میں شامل ہے نمونہ کے طور رپر بے دین شہنشاہ رضا شاہ کے ۲۵۰۰ سالہ شہنشاہی جشن کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد بھی بہت سے لوگ مومن مسلمانوں کے خلاف خاص طور پر ایرانی متعصب افراد جن میں زرتشت اور یہودی وغیرہ شامل ہیں یہ کوشش کررہے ہیں کہ سیزدہ بدر اور چہار شنبہ سوری جیسی رسموں 20 کو باقی رکھا جائے اسلام مخالف میڈیا بھی (جیسے امریکہ،برطانیہ اور اسرائیل) اس سلسلے میں بھرپور کردار ادا کرکے ان تہواروں کو رواج دینے کے لیئے اپنا کردار ادا کررہے ہیں لیکن اب باشعور مسلمان تبلیغاتی جنگ کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔

مجوسی کون ہیں؟

(إِنَّ الَّذينَ آمَنُوا وَ الَّذينَ هادُوا وَ الصَّابِئينَ وَ النَّصارى‏ وَ الْمَجُوسَ وَ الَّذينَ أَشْرَكُوا إِنَّ اللَّهَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ إِنَّ اللَّهَ عَلى‏ كُلِّ شَيْ‏ءٍ شَهيدٌ (الحج/17)

لفط مجوس قرآن میں ایک مرتبہ ذکر ہوا ہے، اور آیت میں مجوس کو ایمان والوں کی صف میں شامل کیا گیا ہے جبکہ مقابل میں دوسرا گروہ مشرکین کا بیان ہوا ، ایسا آیت کے مضمون سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مجوس اہل کتاب تھے اور اہل دین و آئین الہی تھے جسکی وجہ سے انکو ایمان والوں کی صف میں شمار کیاگیا ہے، اسلامی روایات میں مجوسیوں کو انبیاء کا پیروکار قرار دیا گیا ہے اور بعد میں یہ الہی تعلیمات سے شرک و انحراف کا شکار ہوگئے۔

مکہ کے مشرکین نے پیامبر اسلام ﷺسے تقاضا کیا کہ ان سے جزیہ لے کر انہیں بت پرستی کی اجازت دے دیں پیامبر اسلام ﷺ نے فرمایا: میں اہل کتاب کے علاوہ کسی سے جزیہ نہیں لیتا؟ مشرکین نے جوابی خط لکھا اور کہا : آپ کس طرح یہ کہتے ہیں جبکہ آپ نے منطقہ ھجر کے مجوسیوںسے جزیہ وصول کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ان المجوس كان لهم نبى فقتلوه و كتاب احرقوه21

مجوسیوں کے پاس خدا کا نبی بھیجا گیا انہوں نے نبی کو شہید کردیا اور آسمانی کتاب کو جلادیا، ایک اور اصبغ ابن نباتہ حضرت علی ؑ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی ؑ منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا: سَلُونِي قَبْلَ أَنْ تَفْقِدُونِي ، مجھ سے پوچھو اس سے پہلے کہ میں تم سے رخصت ہوجاوں :

فَقَامَ إِلَيْهِ الْأَشْعَثُ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ كَيْفَ تُؤْخَذُ الْجِزْيَةُ مِنَ الْمَجُوسِ وَ لَمْ يُنْزَلْ عَلَيْهِمْ كِتَابٌ وَ لَمْ يُبْعَثْ إِلَيْهِمْ نَبِيٌّ فَقَالَ بَلَى يَا أَشْعَثُ قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ كِتَاباً وَ بَعَثَ إِلَيْهِمْ نَبِيّا، اشعث ابن قیس کھڑا ہوا اور کہا مجوسیوں سے کس طرح جزیہ وصول کیا جاسکتا ہے جبکہ ان پر نہ ہی نبی آیا اور نہ ہی کوئی کتاب؟ حضرت علی ؑ نے جواب دیا: خدا نے ان پر نبی بھی بھیجا اور کتاب بھی .22،اسی طرح ایک حدیث میں امام سجاد: علی ابن الحسین ؑ سے ملتا ہے کہ انہوں نے فرمایا: عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ع أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ص قَالَ سَنُّوا بِهِمْ سُنَّةَ أَهْلِ الْكِتَابِ يَعْنِي الْمَجُوسَ,

پیامبر اسلام ﷺ نے فرمایا: ان (مجوسیوں) سے اہل کتاب کے قانون کے مطابق رویہ رکھو23۔

ان روایات سے یہ معلوم ہوتا کہ ایرانی جو مجوسی تھے دراصل دین الہی نبی اور کتاب کا حامل تھے اور زمانے کے گزرنے کے ساتھ ان میں انحرافات پیدا ہوئے اور آتش پرست بن گئے، لہذا انکے عقائد اور رسوم کے مطالعے کے وقت اس نکتہ کی طرف توجہ ضروری ہے۔

نوروز کی حقیقت کیا ہے؟

نوروز سے متعلق کئی اقوال تاریخ میں ملتے ہیں جو ایک دوسرے سے مختلف ہیں ہم اس تحریر کے اختصار کے خاطر صرف انکے بارے میں اشارے کررہے ہیں:

ایرانی آئین کی کتاب میں یہ ذکر ملتا ہے کہ یہ لوگ اس تہوار کو وہ دن مانتے ہیں جس دن “اھور مزدا” (دنیا کے خدا) کو پیدا کیا اس دن کو اسی وجہ سے مبارک مانتے ہیں ایرانی بادشاہ بھی اس دن کو متبرک سمجھتے ہیں اور اپنی مسند نشینی کا آغاز اسی دن سے کرتے تھے 24 زرتشت کو کتاب اور احادیث کی روشنی میں اہل کتاب میں سے مانا گیا ہے اور بعید نہیں کہ نوروز انکے اصل اعتقادات میں سے ہو یعنی قرآن کی زبان میں ایام اللہ ہو اور زمانے کے بدلنے کے ساتھ تحریفات کردیا گیا ہو جس طرح تاریخ میں ملتا ہے کہ کعبہ توحید پرستوں کی عبادت کا مرکز تھا لیکن دور دراز کے رہنے والوں کی لئے مشقت کا سبب ہونے کی بنا پر لوگ وہاں سے پتھر لے جاتے اور اپنے اپنے علاقوں میں انکی پرستش شروع کردی گئی اور یہیں سے شرک اور بت پرستوں کی بنیاد پڑی۔

اس سلسلے میں آیات قرآنی سے استفادہ کیا گیا ہے: إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذي خَلَقَ السَّماواتِ وَ الْأَرْضَ في‏ سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوى‏ عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهارَ يَطْلُبُهُ حَثيثاً وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُومَ مُسَخَّراتٍ بِأَمْرِهِ أَلا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْأَمْرُ تَبارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعالَمينَ (اعراف/54)

بیشک تمہارا خدا وہ ہے جس نے زمین و آسمان کو چھ دنوں میں پیدا کیا ۰۰۰۰۰ 25 اسی طرح سے توریت میں بھی آسمان اور زمین کی خلقت کے سلسلے میں چھ دن کا ذکر ملتا ہے یہ بات قابل ذکر ہے کہ نوروز بھی چھ دن پر مشتمل ہوتی ہے، لہذا ممکن ہے کہ اس دین الہی میں آسمان اور زمین کی خلقت کو ایک Event کے طور پر منایا جاتا ہو اور زمانہ گزرنے کے ساتھ اس میں تحریف ہوگئی ہو۔

یاقوت حموی نقل کرتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں: حمدان بن سحت جرجانی نے کہا کہ ہم عید نوروز میں ذوالریاستین (فضل بن سہل) کی محفل میں تھے کہ عمر بن رستمی (جو عباسی خلیفہ مامون کا کمانڈر تھا) نجومیوں سے عید نوروز کے بارے میں سوال کیا: کہا گیا : پرانے زمانے دجلہ میں کے آس پاس ایک قوم وبا ئی مرض کا شکار ہوگئی گرچہ انہوں نے اس علاقے سے کوچ کرلیا لیکن مرض کی وجہ سے وہ گویا وہ مرگئے ،خداوند عالم نے اول فروردین (شمسی مہینہ) میں بارش نازل کی جس کی وجہ سے انہیں نئی زندگی نصیب ہوئی اسی مناسبت نے مقامی بادشاہ نے اس دن کا نام نوروز رکھ دیا، جب عباسی خلیفہ مامون کو اس بات کی خبر دی گئی تو اس نے کہا یہ مطلب قرآن میں بھی موجود ہے، اور اس آیت کی تلاوت کی: أَ لَمْ تَرَ إِلَى الَّذينَ خَرَجُوا مِنْ دِيارِهِمْ وَ هُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقالَ لَهُمُ اللَّهُ مُوتُوا ثُمَّ أَحْياهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَشْكُرُونَ.26

بطور اختصار نوروز کے متعلق جو اطلاعات تاریخ سے ملتی ہیں ان سے کسی یقینی نطریہ کا حصول ممکن نہیں اور قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے کہ:

انَّ الظَنَّ لا يُغۡنِي مِنَ الۡحَقِّ شَيۡئاً ، آج کل جس تہوار کو نوروز کے نام سے منایا جاتا ہے گرچہ کے اس کا آغاز ایرانی قدیم مذہب سے تعلق رکھتا ہے لیکن اس زمانے میں اسکو بہار کے آغاز میں ملی Event کے طور پر منایا جاتا ہے نہ کسی مذہبی عید کے طور رپر اور نہ ہی کوئی ایسے خلاف شریعت امور اس خوشی میں دیکھنے میں ملتے ہیں جس کے خلاف کوئی شرعی دلیل ہو۔
علی امامی ،استاد دانشگاہ ہمدان یونیورسٹی ایران

ترجمہ: سید ارتضی حسن رضوی

حوالہ جات:

1 کچھ لوگوں کی طرف اشارہ جنہوں نے نوروز کو ثابت کرنے کے لیئے بہت سے مقالات اور کتابیں لکھی ہیں ، تفصیلی معلومات کے لئے کتاب الذریعہ کی طرف رجوع کریں
2 تاریخ یعقوبی بیروت پرنٹ، ج۱، ص۱۷۴، ابوحنیفہ الدینوری تحقیق عبدالمنعم عامر، اخبار الطوال پرنٹ دار الاحیاء الکتب العربیہ ص۲، عمر ابن ابراھیم نیشاپوری نوروز نامہ تہران طھوری، سیکنڈ پرنٹ، ۱۳۵۷ ھ ش ص۱۲( جب کیومرث پہلا ایرانی بادشاہ حکومت پر بیٹھا اور چاہا کہ دن اور ماہ معین کئے جائیں اور انکا نام رکھا جائے، تاریخ کا آغاز کیا جائے تاکہ لوگ جان جائیں، دیکھا کہ اس دن (اول فروردین) پہلا منٹ ہے کہ برج حمل میں داخل ہوا ہے، عجمی نجومیوں کو بلایا اور کہا آج سے تاریخ کا آغاز کرو، سارے نجومی جمع ہوگئے اور اسی دن سے تاریخ رکھی گئی۔
3 اہل سنت کے مشہور امام محمد غزالی نے کتاب کیمیاوی سعادت ج۱، ص ۴۷۷ میں لکھا ہے کہ جو کچھ بھی نوروز کے عنوان سے خریدا اور بیچا جاتا ہے بذات خود حرام نہیں لیکن اگر آتش پرستوں کے مذہبی شعائر کا اظہار ہوتا ہے ت حرام ہے
4 ابن شہر آشوب نے مناقب آل ابی طالب ؑ ج۴، ص ۳۱۹ میں لکھا ہے کہ: حکی ان منصور تقدم الی موسی بن جعفر ؑ بالجلوس للتھیۃ فی یوم النیروز و قبض ما یحمل الیہ فقال انی قد فتشت الاخبار عن جدی رسول اللہ فلم اجد لھذا العید خبراً و انہ سنۃ الفرس و محالھا الاسلام و معاذ اللہ ان نحیا ما محا لھا الاسلام فقال المنصور انما نفعل ھذا سیا سۃ للجند فساٗلتک باللہ العظیم الا جلست فجلس۔ و دخلت علیہ الملوک والامرء والاجناد یھتونہ و یحملون الیہ الھدایا والتحف و علی راسہ خادم المنصور یحصی ما یحمل فدخل فی آخر الناس رجل شیخ کبیر السن فقال لہ یا ابن رسول اللہ ﷺ اننی رجل صعلوک لا مال لی اتحفک بثلاث ابیات ثلاثہ قالھا جدی فی جدک الحسین بن علیؑ
محمد بن عبدالرؤف المنادی تحقیق احمد عبدالاسلام قبض التقدیر شرح الجامع الصغیر ج۶، ص ۴۳۳ 5
6 شیخ طوسی تھذیب الاسلام ج۶م ص۳۷۸: الكافي:5 ص141- عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ وَ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ جَمِيعاً عَنِ ابْنِ مَحْبُوبٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْكَرْخِيِّ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع عَنِ الرَّجُلِ تَكُونُ لَهُ الضَّيْعَةُ الْكَبِيرَةُ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْمِهْرَجَانِ أَوِ النَّيْرُوزِ أَهْدَوْا إِلَيْهِ الشَّيْ‏ءَ لَيْسَ هُوَ عَلَيْهِمْ يَتَقَرَّبُونَ بِذَلِكَ إِلَيْهِ فَقَالَ أَ لَيْسَ هُمْ مُصَلِّينَ قُلْتُ بَلَى قَالَ فَلْيَقْبَلْ هَدِيَّتَهُمْ وَ لْيُكَافِهِمْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ص قَالَ لَوْ أُهدِيَ إِلَيَّ كُرَاعٌ لَقَبِلْتُ وَ كَانَ ذَلِكَ مِنَ الدِّينِ وَ لَوْ أَنَّ كَافِراً أَوْ مُنَافِقاً أَهْدَى إِلَيَّ وَسْقاً مَا قَبِلْتُ وَ كَانَ ذَلِكَ مِنَ الدِّينِ أَبَى اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ لِي زَبْدَ الْمُشْرِكِينَ وَ الْمُنَافِقِينَ وَ طَعَامَهُمْ
بحار الانوار ج۵۶، ص۹۲7
8 سید عبد اللہ شھرستانی در تاریخ و دین نجف مطبعۃ الادب ص ۱۲
9 صفاریان ایرانی بادشاہ تھاجو ۳۴۷؁ھ سے ۳۹۳؁ھ ایران کے بڑے حصہ پر حکومت کرتے تھے وہ سیستان و بلوچستان سے اٹھے اور یعقوب لیث ان کا لیڈر تھا انہوں نے بغداد کے خلیفہ کو شکست دی اور حکومت کا آغاز کیا۔
10 سامانیان ایرانی النسل تھے جو اپنے آپ کو سردار بھرام چوبین سے منصوب کرتے تھے ا نہوں نے ۳۷۹؁ھ سے ۳۸۹؁ھ تک خراسان ، ماوراء النھرین، سمرقند ، بخار ا اور شرقی ایران پر حکومت کی۔
11 آل بویہ بھی ایرانی النسل تھے اور اپنے آپ کو ایرانی سردار بھرامگور سے منسوب کرتے تھے،انہوں نے شمال ایران میں قیام کیا اور تمام ایران پر قبضہ کرلیا انکی حکومت ۳۲۰؁ھ سے ۴۷۷؁ھ تک قائم رہی کچھ عرصے انہوں نے بغداد پر بھی قبضہ کیا۔
12 غزنوی نسلی لحاظ سے ترک تھے انہوں نے ماوراء النھرین ، مرکز ایران اور شرق ایران پر تسلط حاصل کیا انکی حکومت ۳۵۱؁ھ سے ۵۸۲؁ھ تک رہی۔
13 سلجوقیان ۴۲۸؁ھ سے ۵۹۰؁ھ تک نیشاپور میں حکومت کرتے رہے انکا پہلا حاکم طغرل شاہ سلجوقی تھا جو علاء الدین تکش خوارزم کے ہاتھوں ہلاک ہوا۔
14 خوارزم شاھان ۴۹۰؁ھ سے ۵۱۸؁ھ حکومت کرتا رہا، اور انکا پہلا حاکم انوشگتین اور آخری بادشاہ سلطان قطب الدین محمود تھا جو مغلوں کے ہاتھوں ہلاک ہوا۔
15 الکامل فی التاریخ ج۱،ص۹۸، ۴۶۷؁ھ کے واقعات
16 پرویز اذکابی ، نوروز اور تاریخچہ ومرجع شناسی ، تہران پرنٹ ۱۳۵۳؁ھ ص ۱۴ کےبعد
17 المسالک و الممالک مصر پرنٹ , ۱۲۶۱؁ھ ص۸۸
18 ساسانیان اسلام سے پہلے آخری ایرانی بادشاہ
19 ابو ريحان بيروني –الاثار الباقيه ص68
20 یہ رسمیں آتش پرستوں کی باقیات ہیں سیزدہ بدر کے دن گھرسے باہر رہا جاتا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس طرح نحوست باہر نکل جاتی ہے، اسی طرح چہار سنبہ سوری میں شب برات کی طرح آتش بازی کی جاتی ہے ان دونوں رسموں کا تعلق اسلام سے قطعاً نہیں ہے۔
21 الكافي ج3ص566 باب صدقة أهل الجزية
22 مجلسي بحارالانوار ج10ص119- وسائل‏الشيعة ج 15 ص128
23 تفسير نمونه ذيل آيه شريفه 17ازسوره مباركه حج
24 دنياي كتاب 1370ه ش ص250
25 یہ موضوع قرآن میں سات مرتبہ ذکر ہوا ہے جیسے: )اعراف/54-يونس/3-هود/7-فرقان/59-حم فصلت(سجده)/4-ق /38-حديد/4(
26 ياقوت حموي معجم البلدان بيروت داراحياء التراث العربي ج1 ص451ـ
سرورق کے لیے پیش کریں۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (22-03-10), اویسی (24-04-10), حیدر Rehan (22-03-10), عارف اقبال (22-03-10)
پرانا 22-03-10, 04:31 PM   #37
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Talking یادش بخیر

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : یونس عارف مراسلہ دیکھیں
نورالدین صاحب معاف کیجئے گا
مجھے اپنے دستخط کے پہلے مصرع اب یہ آنکھیں تشکیل سے تابندہ نہیںکا مفہوم بتا دیجئیے
بہت بہت شکریہ
آداب یونس بھائی
بہت ذاتی، عجیب اور دلچسپ تذکرہ چھیڑ دیا ہے
مختصراً یہ کہ یہ شعر امجد اسلام امجد کا ہے
یہ شعر میں نے ان کے ایک ٹی وی انٹرویو میں ان دنوں سنا تھا جب میں کافی برے حالات کی زد میں تھا ۔
ٹھوکریں تو کھاتا تھا مگر ان سے سیکھنے کا شعور نہیں تھا ۔۔
جیسے کہتے ہیں نا کہ بعض محبتیں پہلی نظر میں ہوجاتی ہیں اسی طرح یہ شعر بھی پہلی بار ہی سن کر مجھے یاد ہوگیا بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ دل و دماغ کی گہرائیوں میں اتر گیا ہے اور میں گم سم ٹی وی کی طرف دیکھے جا رہا تھا مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ امجد اسلام امجد نے یہ شعر سو فیصد میرے لیے ہی کہا ہے (ہر انسان کی طرح مجھے بھی یہ غلط فہمی تھی کہ مجھ سے زیادہ دکھی اور پریشان اور کوئی نہی)
اس زمانے میں میرا ادبی ذوق سے اتنا ہی تعلق تھا جتنا بھینس کا مائکر سافٹ سے
اتنا بد ذوق ہونے کے باوجود یہ شعر مجھے ایک بار سن کر ہی زبانی ياد ہوگیا
بہر حال میں آج بھی اس شعر کی مکمل طور پر تشریح نہیں بتا سکتا بس اتنا جانتا ہوں کہ یہ میری روح کی آواز ہے ۔۔
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
نورالدین کا شکریہ ادا کیا گیا
شاہ جی 90 (22-03-10)
پرانا 22-03-10, 04:45 PM   #38
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نورالدین مراسلہ دیکھیں
آداب یونس بھائی
بہت ذاتی، عجیب اور دلچسپ تذکرہ چھیڑ دیا ہے
مختصراً یہ کہ یہ شعر امجد اسلام امجد کا ہے
یہ شعر میں نے ان کے ایک ٹی وی انٹرویو میں ان دنوں سنا تھا جب میں کافی برے حالات کی زد میں تھا ۔
ٹھوکریں تو کھاتا تھا مگر ان سے سیکھنے کا شعور نہیں تھا ۔۔
جیسے کہتے ہیں نا کہ بعض محبتیں پہلی نظر میں ہوجاتی ہیں اسی طرح یہ شعر بھی پہلی بار ہی سن کر مجھے یاد ہوگیا بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ دل و دماغ کی گہرائیوں میں اتر گیا ہے اور میں گم سم ٹی وی کی طرف دیکھے جا رہا تھا مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ امجد اسلام امجد نے یہ شعر سو فیصد میرے لیے ہی کہا ہے (ہر انسان کی طرح مجھے بھی یہ غلط فہمی تھی کہ مجھ سے زیادہ دکھی اور پریشان اور کوئی نہی)
اس زمانے میں میرا ادبی ذوق سے اتنا ہی تعلق تھا جتنا بھینس کا مائکر سافٹ سے
اتنا بد ذوق ہونے کے باوجود یہ شعر مجھے ایک بار سن کر ہی زبانی ياد ہوگیا
بہر حال میں آج بھی اس شعر کی مکمل طور پر تشریح نہیں بتا سکتا بس اتنا جانتا ہوں کہ یہ میری روح کی آواز ہے ۔۔
بےخوب۔۔۔ اتنی بڑی کہانی سنا دی ۔ ۔ ۔
وہ نہی بتایا جو پوچھا تھا ۔ ۔ ۔
نہی پتا تھا منع کردیتے کہ مجھے پتا نہی یا یاد نہی رہا ۔ ۔ ۔
کہو کھیت کی ۔۔۔۔۔۔۔سنتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
اویسی (24-04-10)
پرانا 22-03-10, 05:08 PM   #39
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,486
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
رہی بات رسول اللہ (صلی علیہ والہ وسلم )کی اس دنیا سے پردہ کرنے والی بات تو ہمارے یہاں 27 صفر کی تاریخ ہے ۔ ۔ ۔
ارے ارے ریحان بھائی! کچھ خیال کریں۔ پھر تین دن جنازہ نہ پڑھنے والی کہانی کا کیا بنے گا۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (23-03-10), نورالدین (22-03-10), عادل سہیل (22-03-10)
پرانا 22-03-10, 05:45 PM   #40
Senior Member
 
عارف اقبال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 979
کمائي: 15,198
شکریہ: 1,882
726 مراسلہ میں 1,803 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : یونس عارف مراسلہ دیکھیں
نورالدین صاحب معاف کیجئے گا
مجھے اپنے دستخط کے پہلے مصرع اب یہ آنکھیں تشکیل سے تابندہ نہیںکا مفہوم بتا دیجئیے
بہت بہت شکریہ
مجھے صرف ٹھوری وضاحت کی ضرورت ہے پاکستانی بھائیوں سے ،میری اردو کمزورہے
امید ہے تعاون کرینگے
عارف اقبال آف لائن ہے   Reply With Quote
عارف اقبال کا شکریہ ادا کیا گیا
نورالدین (24-03-10)
پرانا 22-03-10, 06:32 PM   #41
Senior Member
 
عارف اقبال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 979
کمائي: 15,198
شکریہ: 1,882
726 مراسلہ میں 1,803 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جشن نوروز جمہوری آذربائیجان میں


ہر سال 21 مارچ کے دن آذربائیجان میں نوروز کا جشن خصوصی اہتمام اور جوش و خروش سے منایاجاتا ہے۔ نوروز کو آذربائیجان کی تاریخ،ثقافت اور نفسیات میں انتہائی اہم مقام حاصل ہے۔ نوروز فطرت کی تجدید کا دن تصور کیا جاتا ہے۔ نوروز کا مطلب نیا دن ہے۔ جشن نوروز آذربائیجان کے علاوہ وسط ایشیائی ممالک (جو ترک قومیتوں پر مشتمل ہیں) ایران، افغانستان، تاجکستان اور پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے کچھ حصوں میں منایا جاتا ہے۔ اس دن کی ایک ہی وقت میں مذہبی،ثقافتی، روایتی اور تہذیبی اہمیت ہے۔ اس لئے یہ دن فقط ایک تہوار ہی نہیں ہوتا۔

اس دن کو عوام اور حکومت دونوں ہی عقیدت و احترام سے مناتے ہیں۔ روایات اور عقیدت دونوں مل کر اس دن کو ایسا خوصی مقام بخشتے ہیں جو عموماً کسی دوسرے عام تہوار کو حاصل نہیں ہوتا۔

نوروز کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ اس کا وجود حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے بھی بہت پہلے ملتا ہے۔ نوروز کی علامتیں آگ ، روشنی اور سورج ہیں۔ ان مظاہر قدرت کی عبادت اس خطہ ارض میں ”جس میں ایران، آذربائیجان اور موجودہ عراق و شام کے چند علاقے شامل ہیں”۔ تین ہزار سال قبل مسیح بھی کی جاتی تھی۔ مشہور ایرانی بادشاہ زرتشت کے دور میں نوروز کو خصوصی مقام حاصل ہوا۔ زرتشت کے دور میں نوروز چار قدرتی عناصر پانی، مٹی، آگ اور ہوا کامظہر اور علامت سمجھا جاتا تھا۔ اس عقیدے اور حکومتی دلچسپی نے نوروز کو بہت رنگارنگ اور پُروقار بنا دیا۔ بعد میں آگ کی پرستش بہت بڑے پیمانے پر ہونے لگی اور یہ ایک باقاعدہ مذہب کا درجہ حاصل کر گئی۔ زرتشت کی نسبت سے آگ کی عبادت کرنے والوںکو زرتشتی بھی کہا جاتا تھا۔

اسلام کی آمد اور فتح ایران تک ایران، آذربائیجان اور قرب و جوار میں آگ کی پرستش کو اہم مقام حاصل تھا اور ملک کا سرکاری مذہب بھی یہی تھا۔ ساتویں صدی عیسوی میں اسلام قبول کر لینے کے باوجود نوروز منانے کی روایت جاری رہی۔ لوگوں کی بہت بڑی اکثریت اسلام قبول کرنے اور مسلمان ہو جانے کے باوجود نوروز کو بدستور اسی جوش و عقیدت سے مناتی ہے۔ لوگ نوروز کو قومی دن کی سی عقیدت کے ساتھ مناتے تھے۔ اسی لئے باکو کا آتش کدہ جہاں پرانے دور سے آگ جلتی رہتی ہے بدستور قائم و دائم ہے۔ باکو کا یہ قدیم آتش کدہ دنیا بھر کے آتش پرستوں کے لئے خصوصی عقیدت کا مرکز رہا ہے۔ آج جب کہ دنیا میں آتش پرستی کا رجحان قریباً معدوم ہونے کے قریب ہے، باکو کی ”آتش گاہ” پوری دنیا میںمشہورہے۔

سوویت دور میں جب آذربائیجان پر روسیوں کا قبضہ تھا۔ نوروز کا تہوار غیر سرکاری طور پر منایا جاتا تھا۔ کمیونسٹ روس نے اقلیتوں اور مفتوح قوموں کو روسی بنانے کے لئے مقامی مذہبی اور ثقافتی تہواروں پر پابندی لگا رکھی تھی۔ اس قانون کی خلاف ورزی پر مقامی لوگوں کو سخت اور کڑی سزائیں دی جاتی تھیں۔ ان تمام سختیوں اور پابندیوں کے باوجود نوروز کی اہمیت اور مقام لوگوں کے دلوں میں موجود رہا اور لوگ اس کو ہر صورت میں مناتے رہے۔ ہر خاندان انفرادی طور پر اس ہزاروں سال قدیم روایت و رواج کو مناتا رہا۔1991ء میں آذربائیجان کے آزادی حاصل کرتے ہی نوروز کی رونقیں بحال ہو گئیں اور اس دن کو قومی تعطیل قرار دیا گیا۔ آذربائیجان کے قومی ہیرو حیدر علی یو اس تہوار کو بہت اہمیت دیتے تھے اور نوروز کے تمام پروگراموں میںشرکت کرتے تھے۔ یہ روایت آذربائیجان کی موجودہ قیادت نے بھی قائم رکھی ہوئی ہے۔

نوروز بہار کی آمد کے ساتھ وابستہ ہے۔یہ وہ موسم ہوتا ہے جب زرعی سرگرمیاں زوروں پر ہوتی ہیں۔فطرت کا نیا دور شروع ہوتا ہے اور گرمیوں کا آغازہوتا ہے۔ یہ وقت بہت اہم ہوتا ہے۔ اس کے متعلق بہت سی روایات اور رواج وابستہ ہیں۔ جادو، زمین اور فطرت میں ہونے والی تبدیلیوں اور فطرت کے خاتمے اور نئے جنم کے نظریات جیسی چیزیں نوروز سے منسوب ہیں۔اصل دن سے قریباً ایک ماہ قبل تقریبات کا آغاز ہو جاتا ہے۔ یہ چار ہفتے دراصل چہار شنبے ہیں۔ ہر بدھ یا چہار شنبہ فطرت کے چار عناصر سے منسوب ہیں۔ ان کے نام مختلف جگہوں پر مختلف ہیں۔ ان چار بدھ یا چہار شنبوں کے بارے میں آذربائیجان کے علاقے شیروان میں دلچسپ کہانی مشہور ہے۔ چار چہار شنبوں میں سے پہلا ہوا کے لئے مخصوص ہے، دوسرا پانی ، تیسرا زمین اور چوتھا درختوں اور پودوں کے احیاء کے لئے مخصوص ہے۔ان چار مخصوص چہار شنبوں میں سے آخری یعنی ہوا کا چہار شنبہ سب سے اہم ہے کیونکہ اس دن سب سے اہم تقریبات کا انعقاد ہوتا ہے اور یہ تقریبات انسانی زندگی کے تمام پہلوئوں کا احاطہ کئے ہوتی ہیں۔یہ رسومات انسان کی فلاح و بہبود کے لئے ہوتی ہیں۔ ان کا مقصد گزشتہ سال کے مصائب اور تکالیف سے چھٹکارا پانا اور نئے سال کے ایسے مسائل سے بچنا ہوتا ہے۔

ان ضروری رسومات میں ایک ضروری رسم روایتی خوراک سمینی کا تیار کرنا اور پیش کرنا ہوتا ہے۔ یہ گندم سے تیار کی جاتی ہے اور اپنے اندر جادوئی اثر اور مذہبی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کو تبرک سمجھا جاتا ہے مثلاً سمینی کو بانجھ عورتوں کا بانجھ پن دور کرنے کے لئے اچھا سمجھا جاتا ہے۔گندم سے بھری تھالی کو عورت کے سر پررکھا جاتا ہے۔ دوسری عورت اس میں تھوڑا سا پانی ملا دیتی ہے۔قینچی سے سکرٹ کاٹتی ہے اور ساتھ ہی بڑبڑاتی ہے۔ ”اے قوت (قادر) تو نے جس طرح اس سمینی کو بارآور کیا اسی طرح اس عورت کی گود بھی ہری کر”۔ یہ رسم صرف عورتوں تک محدود ہوتی ہے۔سمینی والے برتن کے نیچے قصبے کی سب سے خوش مزاج اور ہنس مکھ عورت آگ جلاتی ہے لیکن اس ساری تقریب کی قیادت سب سے زیادہ پُروقار اور عمر رسیدہ عورت کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ تقریب باپردہ جگہ پر منعقد ہوتی ہے جہاں مردوں کا جانا ممنوع ہوتا ہے۔ نظر بد، بُری نظر والی عورتوں سے بچائو کے لئے کچھ علاقوںمیں سمینی میں تھوڑا سا نمک بھی ملا دیا جاتا ہے۔ اس تقریب کو ”سمینی تویو” کہا جاتا ہے۔تقریب میں روایتی ناچ اور گانا بجانا بھی شامل ہوتا ہے۔

آذربائیجان ماضی میں آتش پرستی کا گہوارہ ہونے کی بناء پر نوروز پر آگ سے متعلقہ بہت سی رسومات کے لئے مشہور ہے۔ آگ سے متعلقہ رواجوں کا مقصد اپنے آپ کو پاک و صاف کرنا ہوتا ہے۔ جشنِ نوروز کے سلسلے میں لوگ گھروں، چھتوں، گلیوں اور مکانوں کے شیڈز پر چھوٹی چھوٹی آگ جلاتے ہیں۔آخری بدھ یعنی چہار شبنے کے دن آگ کے اوپر سے چھلانگ لگانا ضروری ہوتا ہے۔ اس کے لئے عمر اور جنس کی کوئی قید نہیں ہوتی۔ یہ نوروزکی تقریبات کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے۔سوسائٹی کے تمام افراد اس میں حصہ لیتے ہیں۔ جمپ لگانے کے لئے ضروری ہے کہ یا تو آدمی ایک ہی آگ کے او پر سے سات دفعہ گزرنے اور یا پھر آگ کی سات جگہوں کو پھلانگے۔ پرانے قدیم دور میں آگ کسی چھوٹے لڑکے سے لگوائی جاتی تھی اور ایسی آگ کو صحیح اور پاک سمجھا جاتا تھا۔چھٹیوں کے دنوں میں گھریلو صفائی پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے اور کھانے بنائے جاتے ہیں۔ ان کھانوں کی بھی اپنی روایات ہیں۔نوروز کی رسموں میں سات جادو کا عنصر ضرور شامل ہوتا ہے۔آذربائیجانی لوگ کھانے کی میز پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ ضروری ہے کہ سات قسم کے کھانے پکے ہوں اور ہر کھانے کا نام (س) سے شروع ہوتا ہو مثلاً سبزی، سرکہ، سود (دودھ) سمینی وغیرہ۔

چھٹی والی میز پر ایک آئینے کا رنگ دار انڈوں کے ساتھ ہونا ضروری ہے۔اس کے علاوہ میز پر موم بتی بھی ہونی چاہئے۔موم بتی آگ اور روشنی کی علامت ہونے کی وجہ سے ضروری سمجھی جاتی ہے۔آئینہ خوشی کے اظہار کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ عام طور پر روایتی آذری پلائو کی مختلف اقسام، مٹھائیاں اور فروٹ ہالیڈے ٹیبل کا لازمی جزو سمجھی جاتی تھی۔ علاقائی خوراک میں تنوع لازمی امر ہے۔ آذربائیجان آج بھی نوروز کی زیادہ تر روایات اور رسوم کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ صرف علاقائی خدوخال کے مختلف ہونے کی وجہ سے معمولی فرق ہوسکتا ہے۔ نوروز کی چھٹی کو تمام دیگر چھٹیوں سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔اس کی تیاریاں بہت پہلے شروع ہو جاتی ہیں۔ ہر منگل کو صحنوں اور دروازوں پر آگ جلائی جاتی ہے۔ عورتیں بلائوں کو دور کرنے کی دعائیں مانگتی ہیں۔ بچے کھیلتے کودتے اور خوش رہتے ہیں کیونکہ ان کو مٹھائیاں اور ٹافیاں ملتی ہیں جس سے وہ نوروز کا صحیح لطف اٹھاتے ہیں۔ایک اور طریقہ ”سلامہ” تھا۔ گائوں اور پرانے شہروں میں زیادہ مکان ایک منزلہ تھے اور ان پر چڑھنا مشکل نہ ہوتا تھا۔ بچے اسی کے ساتھ ایک تھیلی وغیرہ باندھ کر کسی گھر کی چمنی میں لٹکاتے تھے۔ یہ تھیلی خالی واپس نہیں آتی تھی۔

چھٹی کے دن تمام گھر والے اکٹھے ہوتے ہیں۔ گھر کا سربراہ بھی موجودہ ہوتا ہے، کھانا سجا ہوتا ہے اور نہ تو وہ خود کھانے کو ہاتھ لگاتا ہے اور نہ ہی گھر کا کوئی دوسرا فرد کھانے کو ہاتھ لگا سکتا ہے۔ اتنے میں گھر میں عموماً بڑا بیٹا بھاگتا ہوا داخل ہوتا ہے اور بیان کرتا ہے کہ اس نے ابھی ابھی بندوق کی آواز سنی ہے جس کا مطلب ہے کہ چھٹی آ گئی ہے۔ گھر کا سربراہ گھڑی نکال کر وقت دیکھتا ہے اور کہتا ہے کہ ابھی تو کئی منٹ باقی ہیں۔ پھر وہ ہالیڈے تربوز کو چکھتا ہے۔میزبان دودھ پلائو وغیرہ سے تمام لوگوں کی خدمت کرتی ہے۔ گھر کے دروازے کھلے ہونے کا مطلب ہوتا ہے کہ میزبان گھر پر موجود ہے۔ قالین پر طرح طرح کے میوہ جات، کھانے اور مٹھائیاں وغیرہ مہمانوں کی منتظر ہوتی ہیں۔ نوروز کے موقع پر مختلف روایتی کھیلوں کے مقابلے بھی ہوتے ہیں۔مہمان نوازی کی اپنی اپنی روایت ہیں جن پر آذری سختی سے عمل کرتے ہیں۔ نوروز کے تین دن بعد لوگ ایک دوسرے کے گھروں کا دورہ کرتے ہیں اور مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس کے بعد عورتیں ایک ہفتے تک اپنی تقریبات منا کر لطف اندوز ہوتی ہیں۔ گائوں میں لوگ نوروز سے آنے والے سال کی خصوصیات کا تعین کرتے ہیں۔ اس سے وہ خشک سالی، بارشوں، موسم اور پیداوار کے متعلق اندازے قائم کرتے ہیں۔ روایات کے متعلق پہلا دن موسم بہار کی علامت ہوتا ہے۔ دوسرا گرمی، تیسرا خزاں اور چوتھا سردی کے موسم کی نشاندہی کرتا ہے۔ نوروز کی تین دن کے لئے چھٹیاں ہوتی ہیں اور آذربائیجان میں یہ دن سب سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔
عارف اقبال آف لائن ہے   Reply With Quote
عارف اقبال کا شکریہ ادا کیا گیا
نورالدین (22-03-10)
پرانا 22-03-10, 09:52 PM   #42
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اس دن کی ایک ہی وقت میں مذہبی،ثقافتی، روایتی اور تہذیبی اہمیت ہے۔
یونس بھائی اختلاف یہیں سے شروع ہوتا ہے
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (24-03-10), عارف اقبال (22-03-10)
پرانا 22-03-10, 10:02 PM   #43
Senior Member
 
عارف اقبال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 979
کمائي: 15,198
شکریہ: 1,882
726 مراسلہ میں 1,803 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فیصل ناصر صاحب بہت بہت شکریہ
اگر واقعی اختلاف اس بات سے شروع ہوتا ہے تومیں ۔ میں اس بات سے مراجعت اختیار کرتا ہوں۔

نوروز کی ایک ہی وقت میں ثقافتی، روایتی اور تہذیبی اہمیت ہے۔
عارف اقبال آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عارف اقبال کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (23-03-10), نورالدین (24-03-10)
پرانا 23-03-10, 12:33 AM   #44
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
یونس بھائی اختلاف یہیں سے شروع ہوتا ہے
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
ماشاء اللہ تبارک اللہ ، فیصل بھائی ، اسے کہتے ہیں کوزے میں دریا بند کرنا ، اللہ مزید ہمت دے، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (23-03-10), نورالدین (24-03-10), شاہ جی 90 (24-03-10)
پرانا 23-03-10, 12:41 AM   #45
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : یونس عارف مراسلہ دیکھیں
فیصل ناصر صاحب بہت بہت شکریہ
اگر واقعی اختلاف اس بات سے شروع ہوتا ہے تومیں ۔ میں اس بات سے مراجعت اختیار کرتا ہوں۔

نوروز کی ایک ہی وقت میں ثقافتی، روایتی اور تہذیبی اہمیت ہے۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ ، بھائی یونس عارف ،
اگر ہم سب اسی طرح اپنی اصلاح کی جرات کرتے رہیں تو ان شاء اللہ بہت سے اختلافات ختم سکتے ہیں ،
اب اگر آپ نو روز کو دین سے الگ رکھتے ہوئے ، فقط ایرانی روایات کے مطابق ایرانی ثقافت و تہذیب کا ایک تہوار سمجھتے ہوئے اس کے بارے میں گفتگو کریں تو ان شاء اللہ کسی کو اعتراض نہ ہو گا ، لیکن یہ نصیحت ضرور کی جائے گی کہ مسلمان کسی بھی زمین پر بستا ہو اس کی تہذیب و ثقافت اسلامی ہی ہونی چاہیے ، پس اسے چاہیے کہ اُس کی علاقائی تہذیب و ثقافت میں پائی جانے والی چیزوں کو اللہ اور رسول اللہ‌صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مقرر کردہ کسوٹیوں پر پرکھتے ہوئے قبول کرے یا رد کرے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (23-03-10), نورالدین (24-03-10), شاہ جی 90 (24-03-10), عارف اقبال (23-03-10)
جواب

Tags
blog, com, image, کرتے, گھر, پہلی, وقت, لوگ, چھوڑ, چین, ملک, ممکن, اسلامی, اسلامی تاریخ, خوش, دنیا, دعائیں, سورج, سال, شور, طور, عید, عالم, عراق, صحیح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
امریکہ میں عید کے روز قران جلایا گیا عدنان دانی خبریں 0 14-09-10 07:07 PM
عیدکارڈز کی روائت دم توڑ رہی ہے ڈاکٹرنور عید منائیں پاک ڈاٹ نیٹ کے سنگ 25 11-09-09 12:24 PM
عید کارڈز!!!!!!!!!!!!!! وجدان عید منائیں پاک ڈاٹ نیٹ کے سنگ 21 01-09-09 11:41 AM
روز عید شکیب جلالی Real_Light شکیب جلالی 0 23-05-08 08:00 PM
چند روز میں نوز شر یف کے پاکستان آنے امکان ،سعودی عر ب فر یقین میں کم از کم مفاہمت کرا نے میں کامیاب عبدالقدوس خبریں 0 22-11-07 08:05 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:28 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger