واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خاص مواقع > عید منائیں پاک ڈاٹ نیٹ کے سنگ



عید منائیں پاک ڈاٹ نیٹ کے سنگ آو مل کر عید منائیں


فطرانہ کی ادائیگی!

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-09-09, 01:22 PM   #1
فطرانہ کی ادائیگی!
دل پشاور دل پشاور آف لائن ہے 19-09-09, 01:22 PM

اس سال صدقہ فطر یعنی فطرانہ کی رقم 65 یا 80 روپے فقہ حنفی اور 120 روپے فقہ جعفریہ مقرر کی گئی ہے۔ عید الفطر کی نماز سے قبل یہ صدقہ ادا کرنا ضروری ہے۔

دل پشاور
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Sep 2009
مقام: Peshawar
مراسلات: 30
شکریہ: 1
23 مراسلہ میں 60 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 280
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے دل پشاور کا شکریہ ادا کیا
shafresha (02-09-10), احمد بلال (29-08-10)
پرانا 19-09-09, 01:27 PM   #2
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Sep 2009
مقام: Peshawar
مراسلات: 30
کمائي: 824
شکریہ: 1
23 مراسلہ میں 60 بارشکریہ ادا کیا گیا
دل پشاور کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں دل پشاور کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default چاند دیکھنے کی دعا

اَیُّہَا الْخَلْقُ الْمَطِیْعُ الدَّائِبُ السَّرِیْعُ الْمُتَرَدِّدُ فِیْ مَنَازِلِ التَّقْدِیْرِ الْمُتَصَرِّفُ فِیْ فَلَکِ التَّدْبِیْرِ اٰمَنْتُ بِمَنْ نَوَّ رَبِّکَ الظُّلَمَ وَ اَوْضَحَبِکَ الْبُہَمَ وَ جَعَلَکَ اٰیَةً مِّنْ اٰیَاتِ مُلْکِہ وَ عَلاَمَةً مِنْ عَلاَمَاتِ سُلْطَانِہ وَامْتَہَنَکَ بِالزِّیَادَةِ وَالنُّقْصَانِ وَ الطُّلُوْعِ وَ الْاُفُوْلِ وَ الْاِنَارَةِ وَ الْکُسُوْفِ فِیْ کُلِّ ذٰلِکَ اَنْتَ لَہ مُطِیْعٌ وَ اِلٰی اِرَادَتِہ سَرِیْعٌ سُیْحَانَہ مَآ اَعْجَبَ مَا دَبَّرَ فِیْ اَمْرِکَ وَ اَلْطَفَ مَا صَنَعَ فِیْ شَانِکَ جَعَلَکَ مِفْتَاحَ شَہْرٍ حَادِثٍ لِاَمْرٍ حَادِثٍ فَاَسْئَلُ اللهَ رَبِّیْ وَ رَبَّکَ وَ خَالِقِیْ وَ خَالِقَکَ وَ مُقَدِّرِیْ وَ مُقَدِّرَکَ وَ مُصَوِّرِیْ وَ مُصَوِّرَکَ اَنْ یُصَلِّیَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ اٰلِہ وَ اَنْ یَّجْعَلَکَ ہِلاَلَ بَرَکَةٍ لاَ تَمْحَقُہَا الْاَیَّامُ وَ طَہَارَةٍ لاَ تُدَلِّسُہَا الْاٰثَامِ ہِلاَلَ اَمْنٍ مِنَ الْاٰفَاتِ وَ سَلاَمَةٍ مِّنَ السَّیِّئٰافِ ہِلاَلَ سَعْدٍ لاَ نَحْسٍ فِیْہِ وَ یُمْنٍ لاَ نَکَدَ مَعَہ وَ یُسْرٍ لاَ یُمَازِجُہ عُسْرٍ وَ خَیْرِ لاَ یَشُوْبُہ شَرٌّہِلاَلَ اَمْنٍ وَ اِیْمَانٍ وَ نِعْمَةٍ وَ اِحْسَانٍ وَ سَلاَمَةٍ وَ اِسْلاَمٍ اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ اٰلِہ وَ اجئعَلْنَا مِنْ اَرْضٰی مَنْ طَلَعَ عَلَیْہِ وَ اضزْکٰی مَنْ نَظَرَ اِلَیْہِ وَ اَسْعَدَ مَنْ تَعَبَّدَ لضکَ فِیْہِ وَ وَفِّقْنَا فِیْہِ لِلتَّوْبَةِ وَاعْصِمْنَا فِیْہِ مِنَ الْحَوْبَةِ وَاحْفَظْنَا مِنْ مُبَاشَرَةِ مَعْصِیَتِکَ وَ اَوْزِعْنَا فِیْہِ شُکْرَ نِعْمَتِکَ وَ اَلْبِسئنَا فِیْہِ جُنَنَ الْعَافِیَةِ وَ اَتْمِمْ عَلَیْنَا بِاسْتِکْمَالِ طَاعَتِکَ فِیْہِ الْمِنَّةِ اِنَّکَ الْمَنَّانُ الْحَمِیْدُ۔ وَ صَلَّی اللهُ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ اٰلِہ الطَّیِّبِیْنَ الطَّاہِرِیْنَ۔

ترجمہ:
اے فرما نبردار، سرگرم عمل اورتیرز ومخلوق اور مقررہ منزلوں میں یکے بعد دیگرے واردہونے اورفلک نظم وتدبیر میں تصرف کرنے والے میں اس ذات پر ایمان لایا جس نے تیرے ذریعہ تاریکیوں کو روشن اور ڈھلی چھپی چیزوں کو آشکارا کیا اور تجھے اپنے شاہی وفرمانروائی کی نشانیوں میں ایک نشانی اوراپنے غلبہ واقتدار کی علامتوں میں سے ایک علامت قرار دیا اور تجھے بڑھنے گھٹنے نکلنے چھپنے او رچمکنے گہنانے سے تسخیر کیا۔ ان تمام حالات میں تو اس کے زیر فرمان اوراس کے ارادہ کی جانب رواں دواں ہے تیرے بارے میں اس کی تدبیر وکارسازی کتنی عجیب اورتیری نسبت اس کی صناعی کتنی لطیف ہے تجھے پیش آیندہ حالات کے لیے نئے مہینہ کی کلید قراردیا، تو اب میں اللہ تعالی سے جو میرا پروردگار اور تیرا پروردگار میر اخالق اور تیرا خالق۔ میرا نفش آرا اورتیرا نقس آرا ، اور میرا صورت گر اورتیرا صورت گر ہے سوال کرتا ہوں کہ وہ رحمت نازل کرے محمد اوعر ان کی آل پر اورتجھے ایسی برکت والا چاند قرار دے ، جسے دنوں کی گردشیں زائل نہ کر سکیں اور ایسی پاکیزگی والا جسے گناہ کی کثافتیں آلودہ نہ کر سکیں۔ ایسا چاند جو آفتوں سے بری او ربرائیوں سے محفوظ ہو سر سر یمن وسعادت کا چاند جسے تنگی وعسرت سے کوئی لگاو ہو اور ایسی آسانی وکشائش کا جس میں دشواری کی آمیزش نہ ہو اورایسی بھلائی کا جس میں برائی کا شائبہ نہ ہو،غرض سرتاپا امن ایمان ، نعمت ، حسن عمل ، سلامتی اوراطاعت وفرمانبرداری کا چاند ہو۔ اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اورجن جن پر اپنا پر تو ڈالے ان سے بڑھ کر ہمیں خوشنود ، اور جو جو اسے دیکھے ان سب سے زیادہ درست کا ر اور جو جو اس مہینہ میں تیری عبادت کرے ان سب سے زیادہ خوش نصیب قرار دے او ر ہمیں اس میں توبہ کی توفیق دے اور گناہوں سے دور اورمعصیت کے ارتکاب سے محفوظ رکھ۔اور ہمارے دل میں اپنی نعمتوں پر ادائے شکر کا ولولہ پیدا کر اور ہمیں امن وعافیت کی سپر میں ڈھانپ لے او راس طرح ہم پر اپنی نعمت کو تمام کر کہ تیرے فرائض اطاعت کو پورے طور سے انجام دیں۔ بیشک تو نعمتوں کا بخشنے والا اور قابل ستائش ہے رحمت فراواں نازل کرے اللہ محمد او ران کی پاک وپاکیزہ آل پر۔ (صحیفہ کاملہ)
...........
دل پشاور آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے دل پشاور کا شکریہ ادا کیا
shafresha (02-09-10), احمد بلال (29-08-10)
پرانا 20-09-09, 10:31 PM   #3
Senior Member
 
The Great's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 20
مراسلات: 5,772
کمائي: 82,792
شکریہ: 2
2,019 مراسلہ میں 3,246 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : دل پشاور مراسلہ دیکھیں
اس سال صدقہ فطر یعنی فطرانہ کی رقم 65 یا 80 روپے فقہ حنفی اور 120 روپے فقہ جعفریہ مقرر کی گئی ہے۔ عید الفطر کی نماز سے قبل یہ صدقہ ادا کرنا ضروری ہے۔
بھائی 60RS بنتا ھے میرے خساب سے۔۔۔
The Great آف لائن ہے   Reply With Quote
The Great کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (02-09-10)
پرانا 29-08-10, 02:31 PM   #4
Senior Member
 
گوندل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 469
کمائي: 16,103
شکریہ: 285
375 مراسلہ میں 1,185 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ الٹا کم کرو، یار پانچ سات روپے زیادہ جانے دو،کوئی بات نہیں۔ اللہ کے گھر ہی جائے گا۔
ویسے ایک بات ہے کہ جس دن میں نے اخبارمیں خبر پڑھی کہ روزے کا فدیہ اور فطرانہ کی رقم ساٹھ،ستر،پچھتر یا اسی روپے مقرر کی گئی ہے ،اسی دن میں نے ایک ہوٹل پر بینر لگا دیکھا کہ افطار ڈنر بوفے 500 روپے اور آگے کہیں 750 روپے بھی تھا۔ اور ہوٹل کے اندر اور باہر اہل ایمان کا جمگھٹا تھا۔ 750 کا افطار کرنے والوں کا سحری کا بجٹ 300سے 500 تو ہوگا۔ مگر روزہ نہ رکھنے کا فدیہ اور فطرانہ وہی لوگ 60 سے 70 روپے دے کرکیا اس فریضے سے بخوبی سبک دوش ہو جائیں گے۔ کیا واقعی ان کے لیے بھی یہی شرح کافی ہے۔
__________________
عابد
گوندل آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے گوندل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (02-09-10), فیصل ناصر (02-09-10), چیتا چالباز (05-09-10), منتظمین (30-08-10), محمد عاصم (02-09-10), مرزا عامر (29-08-10), احمد بلال (29-08-10), عبدالقدوس (29-08-10)
پرانا 29-08-10, 03:01 PM   #5
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,361
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میں گوندل صاحب سے بالکل متفق ہوں
عبدالقدوس آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا
shafresha (02-09-10), گوندل (29-08-10), مرزا عامر (02-09-10)
پرانا 02-09-10, 04:29 AM   #6
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
کمائي: 52,638
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : دل پشاور مراسلہ دیکھیں
اس سال صدقہ فطر یعنی فطرانہ کی رقم 65 یا 80 روپے فقہ حنفی اور 120 روپے فقہ جعفریہ مقرر کی گئی ہے۔ عید الفطر کی نماز سے قبل یہ صدقہ ادا کرنا ضروری ہے۔
حدیث کے مطابق اڑھائی کلو طعام دینے کا حکم ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنی اپنی مالی استطاعت کے مطابق فطرانہ ادا کرتے تھے کوئی تو اڑھائی کلو کجھور دیتے اور کوئی اڑھائی کلو جوء دیتے اور کوئی اڑھائی کلو منقہ دیتے اسی طرح اپنی اسطاعت کے مطابق عمل کیا جاتا تھا آج بھی ہمیں چاہیے کہ صرف اڑھائی کلو آٹے کی قیمت نہ نکالیں بلکہ طعام میں جتنے بھی اجناس آتے ہیں ان کے مطابق فطرانہ کی رقم بنا کر دینی چاہیے۔
گوندل بھائی نے بات صحیح کہی کہ اپنی ذات پر جتنا دل میں آئے خرچ کرتے ہیں اور جب معاملہ اللہ کی راہ میں دینے کا آتا ہے تو پتا نہیں کیوں ہمارے دل تنگ پڑ جاتے ہیں۔
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (02-09-10), فیصل ناصر (02-09-10), مرزا عامر (02-09-10), طاھر (02-09-10), عبداللہ حیدر (02-09-10)
پرانا 02-09-10, 04:48 AM   #7
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,787
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ایم کیو ایم والے تو 70 روپے کے حساب سے پرچیاں‌کاٹ رہے ہیں۔
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (02-09-10)
پرانا 02-09-10, 08:08 AM   #8
Senior Member
 
گوندل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 469
کمائي: 16,103
شکریہ: 285
375 مراسلہ میں 1,185 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ویسے بجائے مذہبی وسیاسی جماعتوں سے پرچیاں کٹوانے کے، خود اپنے اردگرد کے لوگوں،بالترتیب ،سب سے پہلے مستحق رشتہ داروں،ہمسایوں،اور پھر دور کے لوگوں کو اپنے صدقات وزکوٰۃ سے مستفید کرنا چاہیے۔
اسلام نے ایک ترتیب مقرر کی ہے کہ احسان،بھلائی،نصیحت،تبلیغ، انفاق،سب کا آغاز اپنے گھرسے اور پھرخاندان،رشتہ دار،قریبی ہمسائے،دورکے ہمسائے اور پھر اسی طرح آگے۔(ماسوائے ان چیزوں کےجن کواللہ اوراسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طورپرمتعین کردیا ہے)
گوندل آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے گوندل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (02-09-10), فیصل ناصر (02-09-10), مرزا عامر (02-09-10), عارف اقبال (02-09-10)
پرانا 05-09-10, 05:50 PM   #9
Senior Member
 
چیتا چالباز's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 801
کمائي: 15,661
شکریہ: 1,491
503 مراسلہ میں 1,172 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عيد سے ہفتہ قبل فطرانہ كى ادائيگى كرنا
ميں نے عيد سے ہفتہ قبل ہى فطرانہ ادا كر ديا، كيا يہ فطرانہ كفائت كر جائيگا، اور اگر كفائت نہيں كريگا تو مجھے كيا كرنا ہوگا ؟


الحمد للہ:

اول:

فطرانہ كى ادائيگى كے وقت ميں اہل علم كے كئى ايك اقوال ہيں:

پہلا قول:

عيد سے دو روز قبل ادا كيا جائے، مالكيہ، حنابلہ كا مسلك يہى ہے انہوں نے ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما كى درج ذيل حديث سے استدلال كيا ہے:

ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ:

" اور وہ عيد الفطر سے ايك يا دو دن قبل فطرانہ ادا كيا كرتے تھے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 1511 ).

اور بعض علماء كا كہنا ہے كہ: عيد سے تين روز قبل فطرانہ ادا كيا جائے.

امام مالك رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" مجھے نافع نے بتايا كہ ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما فطرانہ دے كر فطرانہ جمع كرنے والے كے پاس عيد سے دو يا تين روز قبل بھيجا كرتے تھے "

ديكھيں: المدونۃ ( 1 / 385 ).

شيخ ابن باز رحمہ اللہ نے يہى قول اختيار كيا ہے.

ديكھيں: مجموع الفتاوى ابن باز ( 14 / 216 ).

دوسرا قول:

رمضان المبارك كے شروع ميں ہى فطرانہ ادا كرنا جائز ہے، احناف كے ہاں اسى كا فتوى ہے، اور شافعيہ كے ہاں بھى يہى صحيح ہے.

ديكھيں: كتاب الام ( 2 / 75 ) المجموع ( 6 / 87 ) بدائع الصنائع ( 2 / 74 ).

ان كا كہنا ہے: اس ليے كہ فطرانہ كا سبب روزہ ركھنا اور روزے ختم ہونا ہے، اور جب دونوں سببوں ميں سے كوئى ايك پايا جائے تو اس ميں جلدى كرنى جائز ہے، جس طرح مال كى زكاۃ كى ادائيگى بھى پہلے كى جا سكتى ہے، كہ جب مال نصاب كو پہنچ جائے تو سال پورا ہونے سے قبل زكاۃ دينى جائز ہے.

تيسرا قول:

سال كے شروع ميں ہى فطرانہ ادا كرنا جائز ہے، يہ بعض احناف اور بعض شافعيہ كا قول ہے، ان كا كہنا ہے: اس ليے كہ يہ بھى زكاۃ ہے، تو يہ مال كى زكاۃ كى مشابہ ہونے كى بنا پر مطلقا پہلے ادا كرنا جائز ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ " المغنى " ميں لكھتے ہيں:

" فطرانہ كے فرض ہونے كا سبب روزے ختم ہونا ہے، اس كى دليل يہ ہے كہ اس كى اضافت ہى اس ( يعنى روزے ) كى طرف كى گئى ہے، اور اس سے مقصود ايك مخصوص وقت ميں اس سے مستغنى ہونا ہے، اس ليے اس كى وقت سے پہلے ادائيگى جائز نہيں " انتہى.

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ المقدسى ( 2 / 676 ).

شيخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ سے دريافت كيا گيا:

" ميں نے مكہ آنے سے قبل مصر ميں ہى رمضان كے شروع ميں فطرانہ ادا كر ديا تھا، اور اب ميں مكہ مكرمہ ميں مقيم ہوں، تو كيا ميرے ذمہ فطرانہ كى ادائيگى ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

جى ہاں آپ كے ذمہ فطرانہ كى ادائيگى ہے، كيونكہ آپ نے فطرانہ وقت سے قبل ادا كيا ہے، فطرانہ كى اضافت اس كے سبب كى جانب ہے، اور آپ چاہيں تو يہ بھى كہہ سكتے ہيں: اس كى اضافت اس كے وقت كى جانب ہے، اور ان دونوں صورتوں كى عربى لغت ميں وجوہات ہيں، اللہ تعالى كا فرمان ہے:

" مكر الليل و النھار "

يہاں كسى چيز كى اس كے وقت كى طرف اضافت ہے، اور اہل علم كا كہتے ہيں: باب السجود السہو، يہ كسى چيز كى اس كے سبب كى جانب اضافت ہے.

تو يہاں فطرانہ كو فطر كى طرف مضاف كيا گيا ہے، كيونكہ يہ فطرانہ كا سبب ہے؛ اور اس ليے بھى كہ يہ فطرانہ كى ادائيگى كا وقت ہے، اور يہ تو معلوم ہى ہے كہ رمضان المبارك كے روزوں سے مكمل افطار، تو رمضان المبارك كے آخرى دن ہوتى ہے، اس ليے رمضان المبارك كے آخرى يوم كا سورج غروب ہونے سے قبل فطرانہ ادا كرنا جائز نہيں.

ليكن عيد الفطر سے صرف ايك يا دو دن قبل فطرانہ ادا كرنے كى اجازت دى گئى ہے، وگرنہ فطرانہ كى ادائيگى كا حقيقى وقت تو رمضان المبارك كے آخرى روزے كا سورج غروب ہونے كے بعد ہى ہے؛ اس ليے كہ يہى وہ وقت ہے جس سے رمضان كا اختتام ہوتا اور عيد الفطر آتى ہے، اس ليے ہم كہينگے كہ:

افضل يہى ہے كہ اگر ممكن ہو سكے تو آپ عيد الفطر كى صبح فطرانہ ادا كريں.

ديكھيں: مجموع الفتاوى ابن عثيمين زكاۃ الفطر سوال نمبر ( 180 ).

دوم:

آپ كے ليے رمضان المبارك كے شروع ميں ہى كسى خيراتى تنظيم يا بااعتماد شخص كو اپنى جانب سے فطرانہ كى ادائيگى كا وكيل بنانا جائز ہے ليكن شرط يہ ہے كہ وكيل عيد سے ايك يا دو دن قبل آپ كا فطرانہ تقسيم كرے، كيونكہ مشتحقين فقراء اور مساكين كو زكاۃ اور فطرانہ دينا ہى شرعى زكاۃ اور شريعت نے اس كى وقت كو مقيد كرتے ہوئے عيد سے ايك يا دو روز قبل مقرر كيا ہے.

اور فطرانہ كى ادائيگى ميں كسى كو وكيل بنانا يہ نيكى و تقوى ميں تعاون كے باب ميں شامل ہوتا ہے، اور اس كے ليے كوئى وقت مقرر نہيں.

اس كى تفصيل سوال نمبر ( 10526 ) كے جواب ميں بيان ہو چكى ہے آپ ا س كا مطالعہ كريں.

حاصل يہ ہوا كہ: آپ كا عيد سے ايك ہفتہ قبل فطرانہ ادا كرنا كفائت نہيں كريگا، اس ليے آپ فطرانہ دوبارہ ادا كريں، ليكن اگر آپ نے كسى خيراتى تنظيم وغيرہ كو ديا كہ وہ آپ كى جانب سے وقت پر عيد سے ايك يا دو دن قبل فطرانہ تقسيم كر ديں، تو آپ اپنى جانب سے حق ادا كر ديا، اور يہ فطرانہ ان شاء اللہ صحيح اور مقبول شمار ہو گا.

واللہ اعلم .
__________________
فرشتہ مجھ کو کہنے سے میری تحقیر ہوتی ہے ،
میں مسجود ملائک ہوں مجھے انسان رہنے دو،
چیتا چالباز آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے چیتا چالباز کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-09-10), فیصل ناصر (05-09-10), گوندل (06-09-10)
جواب

Tags
color, ہے۔, کلید, گھر, گئی, لوگ, نماز, متفق, ایمان, اللہ, بالکل, حسن, خبر, دیکھا, دل, دعا, روزہ, سال, سحری, عید, عید الفطر, عبادت, عجیب, صحیفہ, صدقہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:32 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger