واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خاص مواقع > عید منائیں پاک ڈاٹ نیٹ کے سنگ



عید منائیں پاک ڈاٹ نیٹ کے سنگ آو مل کر عید منائیں


قربانی کی حکمت اور فلسفہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-11-09, 08:42 PM   #1
قربانی کی حکمت اور فلسفہ
گوندل گوندل آف لائن ہے 15-11-09, 08:42 PM

قربانی کی حکمت اور فلسفہ
دنیا بھر کے مسلمان ہر سال حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم الشان قربانی اوربے مثال اطاعت و فرمانبرداری کی یاد میں قربانی کرتے ہیں۔ ذوالحجہ کا مہینہ مسلمانوں کو یہ بات یاد کراتا ہے کہ اللہ رب العزت کسی فرد کی اطاعت ،فرمانبرداری اور قربانی کو ضائع نہیں کرتا۔ یہ مہینہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ اللہ اپنے مطیع و فرمانبردار بندوں پر کتنا مہربان ہے اور ان کی کتنی زیادہ قدر کرتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی تمام خواہشات، اپنی صلاحیتوں،مال و اولاد، دنیاوی سہولیات الغرض ہر چیز پر اپنے رب کی رضامندی کو مقدم جانا۔سب کچھ رب کے راستے میں قربان کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ اس پر ان کے رب نے بھی ان کے اس جذبے کی قدر کی اور ان کی فرمانبرداری اور اطاعت کو قیامت تک کے لیے مثال بنا دیا۔اللہ نے ان کے لیے آخر ت کا اجر تو رکھا ہی ہے،لیکن دنیا میں بھی ہر اس مقام کو تمام انسانوں کے لیےمعزز و محترم بنا دیا ہے جسے ابراہیم علیہ السلام کے قدموں نے کبھی چھوا تھا۔ ان کی نسل میں نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کرکے، قیامت تک کے لیے دنیا کی امامت و قیادت دے دی۔ جس جگہ انہوں نے رب کی عبادت کی اس جگہ کو ہمیشہ کے لیے بنی نوع انسان کے لیے مقام عبادت بنا دیا۔ان پر قیامت تک کے لیے درود وسلام لازمی کردیا۔ان کے ہر عمل کی تقلید ہم پر فرض کر دی۔یہ ہے بندگی رب کا نتیجہ اور ہمارا رب تو کہتا ہے کہ میں کسی کی نیکی ضائع نہیں کرتا ،چاہے وہ رائی کے دانے کے برابر ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ کا یہی طریقہ سب انسانوں کے لیے ہے۔ جو شخص اپنے رب کا جتنا زیادہ وفادار ہوگا،اپنی خواہشات کو اللہ کے مرضی کے تابع کر دے گا، اللہ اس کے مقام کو دنیا اور آخرت میں بلند کردے گا۔
قربانی کا مفہوم
قربانی کا لفظ"قرب" سے ہے،جس کا مفہوم قریب ہونا ہے۔ یعنی وہ عمل جس کےذریعے سے کوئی شخص کسی کا قرب حاصل کرنا چاہے۔ اسلامی اصطلاح میں اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے اگرکوئی چیز اس کی راہ میں پیش کی جائے تو اس عمل کو قربانی کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے:
واتل علیھم نبا ابنی اٰدم بالحق اذ قربا قربانا فتقبل من احدھما ولم یتقبل من الآخر۔(المائدہ:۲۷)
"(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) ان کو آدم کے دو بیٹوں کے حالات حق کے ساتھ پڑ ھ کر سنائیں کہ جب ان دونوں نے کچھ قربانیاں پیش کیں تو ایک کی قربانی قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبو ل نہیں ہوئی۔"

قرآن مجیدمیں قربانی کے لیے الفاظ "ہدی "،اور" نسک"بھی استعمال ہوئے ہیں،جن سے مراد حج کے دوران کفارے یا شکرانے کے لیےکی جانے والی قربانی ہے۔
قربانی کافلسفہ
اللہ کو راضی کرنے اور اس کی توجہ اور قرب حاصل کرنے کے لیے قربانی کا رواج حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک جاری رہا۔ اس کاسب سے قدیم ذکر ہمیں قرآن سے آدم علیہ السلام کے بیٹوں کی طرف سے دی گئی قربانی کا ملتا ہے۔ اس کے بعد تمام امتوں ،گروہوں،قبائل اور نسلوں میں اس کا وجود کسی نہ کسی طور پر نظر آتا ہے۔مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دوسرے تمام مذاہب میں بھی قربانی کو تقرب کے ذریعے کے طور پر اختیار کیا گیا۔بت پرست اپنے بتوں کے آگے قربانی دیتے تھے۔یہاں تک کہ شیطان کے پجاری شیطان کو راضی کرنے کے لیے بھی قربانی پیش کرتے تھے۔ ایک مسلمان جب اللہ کی بارگاہ میں قربانی پیش کرتا ہے تو اپنا پسندیدہ جانور قربان کرتے وقت ،دراصل علامتی طور پر اپنے آپ کو اور اپنی خواہشات ،آرزؤں ، امنگوں ،صلاحیتوں اور مال و اولادکو اللہ کے راستے میں قربان کرتا ہے۔یہ اس بات کا اعلان بھی ہے کہ مسلمان ہر وقت اس بات کے لیے تیار ہے کہ جب بھی ضرورت پڑے گی وہ اپنا سب کچھ اللہ کے راستے میں نثار کرنے کے لیے تیار ہے۔
قربانی کی غرض و غایت
قربانی دراصل ، کسی انسان کا اللہ کی بارگاہ میں عجز ونیاز اور اطاعت وفرمانبرداری کے اظہار کا طریقہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے دنیا کا سارا کارخانہ اس مقصد کے لیے بنایا ہے کہ انسان کی آزمائش کی جائے ۔ پھر امتحان گاہ دنیا کی اس آزمائش کے نتیجے میں کامیاب قرار پانے والوں کے لیےاللہ نے اجر و ثواب کا وعدہ کیا ہے،جو اس دنیا کے خاتمے کے بعد نئے نظام میں لوگوں کو دیا جائےگا۔ دنیا کا نظام چونکہ عارضی اور امتحان کے مقصد کے لیے قائم کیا گیا تھا، لہذا اس میں نہ تو کسی کی اچھائی کا پورا بدلہ دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی کی برائی کا ۔یہی چیز تقاضا کرتی ہے کہ ایسا کوئی نظام ضرور ہونا چاہیےجہاں انسانوں کی اچھائی اور برائی کا پورا پورا بدلہ دیا جاسکے۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے:
وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون۔
"ہم نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا۔"
یعنی جن و انس کی تخلیق کا مقصد صرف اللہ کی عبادت اور اس کی غیر مشروط اطاعت و فرمان برداری ہے۔ اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد ہے:
الذی خلق الموت والحیٰوۃ لیبلوکم ایکم احسن عملا۔(الملک:۲)
"اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سےکون اچھے عمل کرتا ہے۔"
قربانی کے ذریعے ایک مسلمان،دراصل اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ وہ اپنی جان،اپنا مال ،اپنی خواہشات اور اپنی صلاحیتیں ،سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کر نے کے لیے تیار ہے۔ یہ اس کی اللہ سے وفاداری،محبت اور اطاعت کا اعلان ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
ومن الناس من یتخذ من دون اللہ اندادا یحبونھم کحب اللہ ،والذین آمنوا اشد حبا للہ۔(البقرہ:۱۶۵)
"اور لوگوں میں کچھ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا ہمسر اور مد مقابل بناتے ہیں،اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسی اللہ سے کرنی چاہیے،لیکن ایمان والے تو سب سے زیادہ اللہ ہی سے محبت کرتے ہیں۔"
مسلمانوں کے لیے قربانی مناسک حج میں بھی شامل ہے اور سنت ابراہیمی کے طور پر بھی اسے ادا کیا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ نے مختلف چیزوں میں آزمایا تو آپ ہر آزمائش میں پورے اترے۔ قرآن مجید میں ہے :
واذ ابتلیٰ ابراھیم ربہ بکلمٰت فاتمھن۔(البقرۃ: ۱۲۴)
"اور جب تیرے رب نے ابراہیم کو کچھ باتوں میں آزمایا تو وہ ان میں پورے اترے۔"
۱۔حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کے شرک کے خلا ف آواز بلند کی اور اپنے آپ کو مشرکین سے علیحدہ کرلیا۔قرآن نے بیان کیا ہے:
انی وجھت وجھی للذی فطر السمٰوٰت والارض حنیفا وما انا من المشرکین۔(الانعام:۷۹)
میں نے سب سے یکسو ہو کراپنے آپ کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔"
۲۔ جب ابراہیم علیہ السلام کے والدین ، گھر والوں اور ان کی قوم نے شرک کا راستہ نہ چھوڑا تو ابراہیم علیہ السلام نے ان سب سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔قرآن میں ارشاد ہے:
فلما تبین لہ انہ عدو للہ تبرا منہ،ان ابراہیم لاواہ حلیم۔(التوبہ :۱۱۴)
"جب ان کو معلوم ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہو گئے،کچھ شک نہیں کہ ابراہیم بڑے نرم دل اور تحمل والے تھے۔"
اور فرمایا:
وقال انی ذاھب الیٰ ربی سیھدین۔(سورۃ الصٰفٰت:۹۹)
" اور (ابراہیم نے) کہا میں اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں،وہ مجھے راستہ دکھائے گا۔"
۳۔ ابراہیم علیہ االسلام اور ان کے ساتھیوں نے اللہ کی محبت میں شرک اور بت پرستی میں مبتلا اپنی قوم اور ملت سے بھی اعلان لا تعلقی کر دیا اور اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے کا ارادہ کیا۔(سورۃ محمد :۴)(العنکبوت:۲۶)
۴۔جب شرک اور بت پرستی کے دعویداروں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں جلانے کی دھمکی دی تو آپ نے اپنی جان کی بھی پروا نہیں کی۔قرآن مجید میں ہے:
قالوا حرقوہ وانصروا الھتکم ان کنتم فاعلین۔(سورۃ الانبیا:۶۸)
"وہ کہنے لگے کہ اگر تمھیں کچھ کرنا ہے تو اسے جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو۔"
۵۔ آپ نے اللہ کے حکم کی تعمیل میں اپنی بیوی اور بڑھاپے میں ہونے والی اکلوتی اولاد کو بھی اپنے سے دور کردیا۔قرآن نے اس کا ذکر اس طرح سے کیا ہے:
ربنا انی اسکنت من ذریتی بواد غیر ذی ذرع عند بیتک المحرم۔(سورۃ ابراہیم:۳۷)
" اے میرے رب،میں نے اپنی اولاد اس بیابان میں تیرے محترم گھر کے پاس لا بسائی ہے۔"
۶۔ ابراہیم علیہ السلام سب سے شدید ترین امتحان میں بھی کامیاب و کامران رہے۔ جب ان کے رب نے انھیں اپنے اکلوتے بیٹے کو اس کے راستے میں ذبح کرنے کے لیے کہا تو دونوں باپ بیٹے اللہ کی اطاعت اور محبت میں اس کام کے لیے بھی تیار ہو گئے۔قرآن میں اللہ نے اس عظیم الشان واقعے کا ذکر اس طرح سے کیا ہے:
"(ابراہیم نے دعا کی)اے میرے رب! مجھے نیک اور صالح (اولاد) عطا فرما۔تو ہم نے اسے ایک بردبار لڑکے کی خوش خبری دی۔ جب وہ ان کے ساتھ دوڑنے (کی عمر) کو پہنچا تو ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ بیٹا میں خواب دیکھتا ہوں کہ تم کو ذبح کر رہا ہوں،تو تمہارا کیا خیال ہے؟ بیٹے نے کہا کہ ابا جان جو آپ کو حکم ہوا ہے وہ کیجیے ،اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں سے پائیں گے۔جب دونوں نے حکم مان لیا اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹا دیا ،تو ہم نے پکارا کہ اے ابراہیم تم نے خواب کو سچا کر دکھایا۔ہم نیکو کاروںکو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔بلاشبہ یہ ایک کھلی آزمائش تھی اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ بنا دیا۔"
ان عظیم آزمائشوں کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بے حد قدر کی اور آپ کو لوگوں کا امام بنا دیا۔ آپ کے اسوہ کو قیامت تک کے لیے انسانوں پر لازم کر دیا ۔ آپ کی نسل کو امامت و نبوت عطا فرمائی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ کو اپنا دوست قرار دیا۔قرآن میں ارشاد ہے:
"اور جب اللہ نے چند باتوں میں ابراہیم کی آزمائش کی تو وہ ان میں پورے اترے تو اللہ نے کہا کہ میں تمھیں لوگوں کا امام بناوں گا۔"(سورۃ البقرۃ:۱۲۴)
اور فرمایا:
"اور اس شخص سے اچھا دین کس کا ہو سکتا ہے جس نے اپنے چہرے کو اللہ کے لیے جھکا دیا اور وہ نیکوکار بھی ہے اور اس نے ابراہیم کے طریقے کی پیروی کی جو یکسو تھے۔اور اللہ نے ابراہیم کو اپنا دوست بنا لیا تھا۔"(سورۃ النسا : ۱۲۵)

 
گوندل's Avatar
گوندل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 469
شکریہ: 285
375 مراسلہ میں 1,185 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 210
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے گوندل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (15-11-09), فاروق سرورخان (17-11-09), رانا امر (21-11-09), راجہ اکرام (16-11-09), سحر (16-11-09)
پرانا 15-11-09, 09:26 PM   #2
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,787
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

گوندل بھائی السلام علیکم،
یہ واقعی ایک اچھی تحریر ہے!
میری جانب سے شکریہ قبول فرمائیے!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (17-11-09), گوندل (16-11-09), رانا امر (21-11-09)
پرانا 16-11-09, 10:35 AM   #3
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب محترم گوندل بھائی
اللہ آپ کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے۔۔ آمین
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (17-11-09), گوندل (26-11-09), رانا امر (21-11-09)
پرانا 17-11-09, 10:51 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,645
کمائي: 28,550
شکریہ: 7,151
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

گوندل ، سلام علیکم،
بہت شکریہ ، ان آیات کو شئیر کرنے کے لئے۔ اللہ تعالی آپ کو اس کی جزا دیں۔
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
گوندل (26-11-09), رانا امر (21-11-09)
جواب

Tags
color, فرض, پسندیدہ, قرآن, نثار, نظر, مجید, معلوم, ایمان, اللہ, امتحان, اسلامی, بندگی, خوش, دوست, دعا, راستہ, زندگی, سال, شخص, عبادت, عظیم, صلاحیتیں, صالح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:32 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger