| فضیلیت قرآن فضیلیت قرآن |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 412
|
||||
| 13 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | Miss Khan (30-12-11), rana ammar mazhar (02-01-12), sahj (01-08-09), shafirajput (30-12-11), فکری (01-01-12), کنعان (01-01-12), مرزا عامر (30-12-11), wajee (03-01-12), ابو عمار (02-07-09), ارشد کمبوہ (30-12-11), حیدر Rehan (30-12-11), حسن قادری (31-12-11), رضی (02-07-09) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
جزاک اللہ خیرا یا عمی۔ تقبل اللہ منا و منکم صالح الاعمال
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | Miss Khan (30-12-11), rana ammar mazhar (02-01-12), sahj (01-08-09), shafirajput (30-12-11), فیصل ناصر (01-01-12), مرزا عامر (30-12-11), رضی (02-07-09) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2011
مقام: Karachi
عمر: 28
مراسلات: 2,199
کمائي: 23,519
شکریہ: 3,763
1,315 مراسلہ میں 3,006 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بے شک۔۔۔۔۔۔۔۔جزاک اللہ خیرا
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے Miss Khan کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (02-01-12), مرزا عامر (30-12-11) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
کیا انسان کے اعمال اللہ ہی کے مقرر کردہ نوری مخلوق یا فرشتوں سے پوشیدہ ہیں جو نامہ اعمال لکھ رہے ہیں ؟
اور تم جس حال میں ہوتے ہو یا قرآن میں سے کچھ پڑھتے ہو یا تم لوگ کوئی کام کرتے ہوتو ہم وہاں موجود ہوتے ہیں جب تم اس میں مصروف ہوتے ہو اور تمہارے رب سے ذرہ بھر بھی کوئی چیز پوشدیہ نہیں ہے نہ زمین میں اور نہ آسمان میں اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹی اور نہ بڑی مگر کتاب روشن میں ہے [10:61] ۔۔۔نوٹ۔۔ تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جو قران سیکھتے ہیں اور لوگوں کو سیکھاتے ہیں اور جو لوگ اللہ کی ایتوں پر غور کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ان کے لیے خوشخبری ہے |
|
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (02-01-12) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
آیت بہت آسان اور سیدھی ہے ۔۔
یوں تو یہ کام علمائے اکرم کا ہی تھا مگر وہ تو نہ جانے کن بحثوں میں مصروف ہیں کہ کچھ نظر ہی نہی آتا ۔کہاں سے نظر ائے وہ تو انکھیں بند کرکے خود بھی قران پڑھتے ہیں اور دوسروں کو بھی ویسے ہی حکم دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جتنا زیادہ جھوم جھوم کر پڑھو گئے اللہ خوش ہوگا ۔ اللہ کی جماعت جیسے نورانی فرشتے ہیں ’وحی الہی کو ’لوح محفوظ‘ سے لے کر انبیا اکرم ص پر وحی کرتی ہے اللہ کی جماعت کو جب خود اللہ نے الگ نہی کیا اور جگہ جگہ قران میں ’ہم‘ اسی لیے ہے تو پھر اس امت نے کس طرح الگ کرتے کرتے بلکل ہی بھلادیا ۔۔۔؟ اگر عربی اور اردو میں واضع نہی ہوتا تو کسی اور زبان میں ترجمہ پڑھ لیں And you are not (engaged) in any affair, nor do you recite concerning it any portion of the Quran, nor do you do any work but We are witnesses over you when you enter into it, and there does not lie concealed from your Lord the weight of an atom in the earth or in the heaven, nor any thing less than that nor greater, but it is in a clear book کسی مولوی صاحب سے پوچھیں کہ مولوی صاحب یہ ’’ ہم ‘‘ کیا ہے اس کے کیا معنی ہیں تو مولوی صاحب بادشاہ کی نقل اتارتے ہوئے کہتے ہیں دیکھو جیسے بادشاہ ہوتے ہیں کبھی کوئی اہم بات کرتے ہیں تو وہ خود کو ’ہم ‘ کہتے ہیں پھر اور مزید پوچھ لو کہ مولوی صاحب کچھ سمجھ نہی آیا مزید کچھ ارشاد فرمائیں تو انگلینڈ کی ملکہ کا خط پڑھ کر سناتے ہیں دیکھو وہ بھی خط میں خود کو ’ہم‘ کہہ کرمخاطب کرتی ہے اب اگر اپنی پر ہنسی پر قابو کرکے یہ پوچھ لیں کہ کہ مولوی صاحب کیا اب قران کو پڑھنے اور سمجھنے کے لیے ہمیں انگلینڈ کی ملکہ کا خط پہلے پڑھنا پڑے گا ؟ تو وہ گھور کر دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دو ایتیں کیا پڑھ لیں خود کو عالم سمجھنے لگے ہیں ۔ ۔ خیر یہ بھی زکر کردوں کہ کسی بھی زبان میں یہاں تک کہ عربی میں بھی یہ کوئی لغت نہی ہے کہ ’میں ‘ خود بخود ’ہم‘ ہوجائے جہاں ’انا میں‘ لکھا ہو وہ خودبخود ’ نحن ہم‘ کا ترجمہ کرنے لگے بے شک یہ قران اللہ ہی کا پیغام ہے اللہ کی جماعت جیسے نورانی فرشتے ہیں ’وحی الہی کو ’لوح محفوظ‘ سے لے کر انبیا اکرم ص پر وحی کرتی ہے نقصانات پر نظر کی جائے تو عام لوگوں کو چونکہ قران میں جا بجا ’ہم‘ کا لفظ پڑھتے پڑھتے ایک عادت ہوگئی ہے تو وہ اللہ کی جماعت کو اللہ ہی سمجھنے لگے ہیں ۔۔۔ دوسری طرف اللہ کو ’خود ’ہم‘ کہنے کا سمجھنے کی وجہ سے ’ امت نے اللہ کو ’آپ‘ کہہ کر پکارنا شروع کردیا ہے یعنی جہالت بھرے گمان پر پیدا ہونے والے سوال کا جواب کیا نکالا کہ امت کے انہی علماوں میں یہ بحث پاگل پن کی حد تک بڑھ گئی کوئی مولوی کہتا ہے کہ اللہ چونکہ واحد ہے اس لیے اسے ’تو‘ ہی کہا جائے گا جو علما اس ’ہم“ کو نہ سمجھ سکئے انھونے اعلان کردیا کہ اللہ کو جب بھی پکارا جائے گا تو ’’اپ‘ کہہ کر پکارا جائے گا ایک جملہ جو یوں تھا اے اللہ تو کتنا اچھا ہے ایک نیا جملہ بن گیا اور عجیب تاثر دینے لگا ۔ ۔ پڑھئے ۔۔ اے اللہ اپ کتنے اچھے ہیں کوئی پوچھ لے مولوی صاحب کیا تعلیم دے رہے ہیں ؟ اللہ تو ایک ہے وہ احد ہے یہ تو سارا جملہ ہی صیغہ واحد سے صیغہ جمع میں تبدیل ہوگیا۔۔۔اتنا گھورئیں گئے کہ وہ شخص ساری زندگی توبہ کرئے کہ نہ جانے کتنا بڑا کفر کردیا ۔۔۔اور پھر کبھی کسی مولوی سے پوچھنے کی ہمت نہی رہتی ۔ ۔ ۔ ادھر بھی دیکھئے شیعہ ملاوں کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ بچارے اپنی جان سنبھانے اور نئے نئے فتوں سے خود کو بچانے ان موضوعات کو سامنے نہی لاتے کہ پہلے ہی بہت بدنام ہوچکے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایسے مسائل کو نہ چھیڑو اور جیسے جیسے یہ علمائے اہلسنت و الجماعت کے قران پڑھتے ہیں ویسے ویسے ہی پڑھتے اور کرتے چلے جاو ۔۔۔۔ اس لیے کم از کم میں تو جنگ اخبار پر لکھی ہوئی ایت کو بچپن سے یوں ہی پڑھتا رہا ہوں۔ پھر بھی اہل تشیع علما سے یہ ضرور سنا ہے جو کہ اتنا کم ہے کہ نہ سننے کے برابر ہے کہ وہ کہتے ہیں قران میں جہاں جہاں اللہ نے کوئی براہ راست حکم دیا ہے یا کوئی کام کیا ہے وہاں وہاں اللہ کے لیے صیغہ واحد کا استعمال یعنی لفظ ’میں ‘ استعمال ہوا ہے ۔ لکھنے کو تو بہت کچھ ہے مگر کہیں ایسا نہ ہو کہ مراسلہ ہی بند ہوجائے ۔ ۔ اس لیے ہاتھ روک لیتاہوں۔۔ |
|
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (03-01-12) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,635
کمائي: 32,130
شکریہ: 3,022
1,410 مراسلہ میں 4,199 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللہ ہم کو قرآن سمھجنے کی توفیق دے آمین
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حسن قادری کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (04-01-12), حیدر Rehan (02-01-12) |
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
دوسری بات سے متفق ہوں ۔ جب اللہ اپنی سلطنت کے ساتھ یعنی اپنے نظام کے ساتھ بات کرتا ہے تو وہاں لفظ ہم کا استعمال ہوتا ہے ۔ نہ صرف قران میں بلکہ توریت زبور اور انجیل میں بھی۔ اور جب کبھی صرف اپنی خاص بات کرتا ہے تو میں کا استعمال کرتا ہے۔ حضرت موسیٰ سے جب اللہ نے بات کی تو لفظ میں استعمال کیا۔ یعنی اتنی خالص کے درمیان میں کوئی نہیں تھا ۔ اب ایسی بات شاید یا تو وہ سمجھ نہ آئے یا حسب عادت اس کا انکار کر دیا جائے۔ سورۃ بقرہ میں کچھ اس طرح ارشاد ہوتا ہے کہ جب بندے میرے متعلق پوچھتے ہیں تو کہ دو کہ میں قریب ہوں یاد رہے یہاں ہم استعمال نہیں ہوا ۔ جب اور آگے کچھ اس طرح ہے کہ جب کوئی پکارنے والا پاکارتا ہے یعنی دعا کرتا ہے تو میں اس کی دعا سنتا ہوں اور اس کا جواب دیتا ہوں ۔ یہاں بھی اللہ کا اور بندے کا خاص رشتہ ہے ۔ درمیان میں نہ کوئی رسول نہ کوئی دوسرا مولا نہ کوئی داتا اور نہ ہی کوئی غوث۔ صرف اللہ واحد اپنی ذات کے ساتھ اور بندے کا تعلق۔ سمجھ آ جائے تو مان لیں نہ آئے تو انکار کر دیں۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (04-01-12), skjatala (03-01-12), فکری (01-01-12), فیصل ناصر (02-01-12), حیدر (02-01-12), حیدر Rehan (02-01-12), عبداللہ حیدر (01-01-12) |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بھی ہیں
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (04-01-12), حیدر (02-01-12) |
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
’ہم‘ اور میں کے فرق میں ’اللہ کی نوری جماعت جیسے فرشتے ہیں یا جس کو اپ روح القدس بھی سمجھ سکتےہیں۔ میں وہ الفاظ استعمال کررہا ہوں جو کوئی بھی آسانی سے سمجھ سکتا ہے اور یہ کہ اسی باتیں امت کے عام افراد بھی جانتے ہیں ۔۔۔میں تو ان باتوں کو آیت کے ساتھ ملا کر صرف کنفرم کررہا ہوں کہ قران میں وہی باتیں کہاں کہاں لکھی گئی ہیں۔۔ جیسے ہر شخص کے دائیں بائیں/ یا کاندھوں پر دو فرشتے ہوتے ہیں جو اللہ کے حکم سے ہی اعمال تحریر کرتے رہتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسی ایات میں ہم استعمال ہوگا ۔۔ یقین نہ آئے بٹن دبائیں سو ایات سامنے آئیں گی سجھ جائیں جیسے امتوں پر عذاب ۔۔۔۔نسبت اللہ ہی کی طرف جائے گی اگرچہ کچھ یا ایک فرشتہ ہی ایسا عمل کرئے گا اپ ایات چیک کرلیں ۔ ۔ ۔ ۔ایسے سارے اعمال اور ایات میں ’ہم‘ استعمال ہورہا ہے جیسے انسانی رزق و پیدائش وغیرہ سے متعلق آیات ۔ ۔ پڑھیں ان میں ’ہم‘ کا صیغہ یعنی جمع کا صیغہ ہی استعمال ہوگا ۔۔ اور وہ ایات بھی ہیں جن میں صاف بیان ہے کہ یہ تمام باتیں اللہ ہی کی طرف سے مقرر کردہ ہیں اللہ ہی کرنے والہ ہے بے شک نسبت اللہ ہی کی طرف جائے گی کسی بھی کام کے کرنے یا روک لیے جانے کی وجہ سے ۔۔ |
|
|
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (03-01-12) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
مرزا عامر ۔۔ کم از کم کراچی میں آپ صیغہ واحد کے لیئے بکثرت استعمال ہوتا ہے ۔ باقی دنیا کا علم نہیں ۔
جواب ۔۔اردو بولنے والے دراصل مختلف شعرا اور ادیبوں کے ایک مخصوص روئے ، تحریر اور خوش بیانی کی وجہ سے بھی متاثر ہیں ۔۔لیکن ساتھ ساتھ ’ہم اور میں‘ کے فرق کو بھی سمجھتے ہیں۔ مرزا عامر ۔۔جب اللہ اپنی سلطنت کے ساتھ یعنی اپنے نظام کے ساتھ بات کرتا ہے تو وہاں لفظ ہم کا استعمال ہوتا ہے ۔ نہ صرف قران میں بلکہ توریت زبور اور انجیل میں بھی۔ جواب ۔۔بادشاہوں نے بھی گفتگو میں اسلوب کے طور پر جو ’ہم‘ کا صیغہ استعمال کیا ہے وہ یہی ہے ۔۔۔۔اس کو اور آسان لفظوں میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں بادشاہوں نے ’ہم‘ کا صیغہ بھی وہیں استعمال کیا ہے جہاں وہ اپنی سلطنت اور سلطنت کے کارندوں یا وزرا کو شامل کرتے رہے تھے یا کرتے ہیں۔ یعنی ہم فلاں ملک کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بادشاہی انداز میں ایک جملہ یعنی یہ فیصلہ اگرچہ ’بادشاہ ‘کا ہے لیکن بادشاہ کے ساتھ اس کے وزرا اور لشکر سب شامل ہیں۔ مرزا عامر ۔۔اور جب کبھی صرف اپنی خاص بات کرتا ہے تو میں کا استعمال کرتا ہے۔ جواب۔۔ قریب ترین پہچ رہے ہو ۔۔۔لیکن یہ بھی یاد رکھو کہ خاص بات اور عام بات سے کوئی تعلق نہی ہے ۔ ۔اپ پورا قران پڑھ ڈالیں ۔ ۔یہ تاثر ہی غلط دیا گیا ہے کیونکہ کتنی ہی عام باتیں اور خاص باتیں ہیں جن میں صیغہ واحد بھی استعمال ہوا ہے اور صیغہ جمع بھی۔ مرزا عامر ۔۔حضرت موسیٰ سے جب اللہ نے بات کی تو لفظ میں استعمال کیا۔ یعنی اتنی خالص کے درمیان میں کوئی نہیں تھا ۔ جواب۔۔اگرچہ سمجھنے کی کوشش کررہے ہو لیکن میں وہ باریکی بیان کردوں جو تمھارے اگے سمجھنے کے لیے پیش آئے گی یا جس پر سوال ہو سکتا ہے ۔۔۔ویسے تفصیلی بات اس پر بعد میں ہوگی ۔۔ورنہ موضوع بہت مشکل ہوجائے گا ۔ لیکن تھوڑا سا کہتا چلو کہ ۔ یہاں صرف اللہ کا ’کلام و پیغام‘ خالص ہے ۔ یہ بھی یاد رکھو ۔۔کہ حضرت موسی علیہ سلام بظاہر جس سے باتیں کررہے ہیں یا جس کےسامنے کھڑے ہیں وہ آگ ہے ۔۔۔۔۔اور کچھ مقامات پر شجر بھی ہے ۔ اور جو حضرت موسی ع سن رہے ہیں وہ آواز بھی ہے ۔ یعنی سننا اور دیکھائی دینا ۔۔ ۔ ۔ حضرت موسی ع یا دوسرے انبیا اکرم کا سننا اور دیکھائی دینا یہ ایک آسانی ہے تاکہ ’ایک سمت کی طرف متوجہ ہوا جائے اور اواز اس لیے ہے کہ اللہ کا پیغام سن لیا جائے‘ جس کی دلیل یہ ہے کہ ۔۔۔۔اللہ براہ راست کبھی کچھ نہی کہتا سوائے یہ کہ پردہ و وحی درمیان میں ہو۔ یعنی یہاں صرف ’کلام خدا‘ ۔۔’پیغام خدا‘ خالص ہے ۔ یہ موضوع صرف پہلی بار سمجھنے کے لیے مشکل ہے ۔۔پھر آسان ہے دلیل ۔۔کیونکہ قران میں ہے کہ قران کو اسان کردیا گیا ہے۔ مرزا عامر ۔۔ سورۃ بقرہ میں کچھ اس طرح ارشاد ہوتا ہے کہ جب بندے میرے متعلق پوچھتے ہیں تو کہ دو کہ میں قریب ہوں یاد رہے یہاں ہم استعمال نہیں ہوا ۔ جب اور آگے کچھ اس طرح ہے کہ جب کوئی پکارنے والا پاکارتا ہے یعنی دعا کرتا ہے تو میں اس کی دعا سنتا ہوں اور اس کا جواب دیتا ہوں ۔ یہاں بھی اللہ کا اور بندے کا خاص رشتہ ہے ۔ درمیان میں نہ کوئی رسول نہ کوئی دوسرا مولا نہ کوئی داتا اور نہ ہی کوئی غوث۔ صرف اللہ واحد اپنی ذات کے ساتھ اور بندے کا تعلق۔ سمجھ آ جائے تو مان لیں نہ آئے تو انکار کر دیں۔ جواب ۔۔ آصل موضؤع یعنی قران میں ’ہم صیغہ جمع‘ تم نے درست کہا کہ انہی آیات کہ پچھلی یا پہلی آیات میں یہ ضرور لکھا ہوگا کہ اللہ کا فرمان ہے کہ۔ یا یہ کہ کہہ دو کہ اللہ تمھاری شہہ رگ سے بھی قریب ہے یا یہ کہ میں بندے سے جب کوئی پکارنے والا پاکارتا ہے یعنی دعا کرتا ہے تو میں اس کی دعا سنتا ہوں اور اس کا جواب دیتا ہوں۔ بس اللہ کا آصل پیغام ان ’امین وحی‘ یا فرشتے یا روح القدس ۔۔یعنی ’ہم‘ کے زریعہ ہی ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ کا فرمان ہے کہ ۔۔ بس یہاں ’ہم‘ کو سمجھنے کے لیے ایسی بہت سے آیات ہیں ۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (03-01-12), مرزا عامر (03-01-12) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
’قران میں کہیں صیغہ واحدمتکلم یعنی ’میں‘ اور کہیں صیغہ جمع متکلم یعنی ’ہم‘ کا استعمال کیوں؟
سورہ بنی اسرائیل ایت نمبر 20 ہم ہر ایک کی مدد کرتے ہیں ان (طالبانِ دنیا) کی بھی اور ان (طالبانِ آخرت) کی بھی (اے حبیبِ مکرّم! یہ سب کچھ) آپ کے رب کی عطا سے ہے، اور آپ کے رب کی عطا (کسی کے لئے) ممنوع اور بند نہیں ہے، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کی نورانی جماعت جیسے فرشتے یا روح القدس جو ’وحی الہی کو لوح محفوظ سے انبیا اکرم پر وحی‘ کرتے ہیں۔ اگر اسی آیت سے صیغہ جمع متکلم یعنی ’ہم‘ کو سمجھیں۔ ہم ہر ایک کی مدد کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہ سب کچھ آپ کے رب کی عطا سے ہے اور اپ کے رب کی عطا کسی کے لیے بند نہی ہے۔ یہ آیت موضوع کے تناظر میں دیکھیں تو بہت ہی اعلی آیت ہے یعنی جو مدد کرتے ہیں وہ ہیں ’ہم‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔اور انکا مدد کرنا اللہ ہی کی عطا سے ہے ساتھ ساتھ ہے کہ۔۔ ’جو آپ ص کا رب ہے‘ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ ’ہم‘ کو جو عطا ملی ہے کہ وہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں وہ اللہ ہی کی وجہ سے ہے جب اللہ ہی کی وجہ سے ہے جو تمام عالمین کا رب ہے اور رسول اللہ ص کا بھی رب ہے ۔۔ تو سوال یہ بنا کہ۔۔۔۔۔۔۔ کیا ان کا بھی رب نہی ہوا ؟۔ یا اس طرح سمجھیں ۔۔ رب عالمین کی عطا سے ’مدد کرنےوالے کوئی اور ہیں اور ’رب ‘ کوئی اور ہے بے شک اللہ ہی تمام عالمین کا رب ہے۔ نوٹ۔۔۔ میں یہ کہہ چکا ہوں کہ یہ مسائل علمائے اکرم سے متعلق ہیں اور انھیں اور ان کو ہی ہی ان پر لکھنا چاہئے چاہے وہ یہی لکھ دیں کہ اس موضوع پر کوئی بات نہ کرئے ۔ فاروق بھائی، عادل سہیل بھائی یا عبداللہ ۔جیسے افراد بھی موجود ہیں ۔ان کو اس پر کچھ نہ کچھ لکھنے کی ضرورت ہے ۔ صرف ایک فتوی کی کاپی جس پر لکھا ہے کہ قران میں جہاں جہاں اللہ اپنی تعظیم بیان کرنا چاہتا ہے وہاں وہاں وہ صیغہ جمع ’ہم‘ کا استعمال کرتا ہے کہہ کر سمجھانا ان کے لیے تو ہو سکتا ہے کہ جو لاٹھی سے ہنکائے جاسکتے ہیں کیونکہ مجھ جیسوں کو تو یہ سمجھ اس لیے نہی آتی کہ اللہ کی تعظیم تو ہر جگہ اور ہر کام میں ہے ۔ کبھی کم اور کبھی زیادہ کیوں؟ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (03-01-12), مرزا عامر (03-01-12) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() |
’اللہ کی نورانی جماعت‘ جیسے فرشتے یا روح القدس جو ’وحی الہی کو لوح محفوظ سے انبیا اکرم پر وحی‘ کرتے ہیں۔
وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَآئِكَةِ اسْجُدُواْ لِآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِيسَ لَمْ يَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ 7:11 اور ہم نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہاری صورتیں بنائیں پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو پھر سوائے ابلیس کے سب نے سجدہ کیا وہ سجدہ کرنے والوں میں سے نہ تھا نوٹ۔۔یہاں ’ہم‘ کی قدرت و طاقت کو دیکھ کر پریشان نہ ہوں ۔ ۔ سب لوگ جانتے ہیں انہی باتوں سے ہی سمجھ لیں کہ خلقتِ آدم کے وقت اللہ نے فرشتوں کو یہ بھی حکم دیا تھا کہ مٹی لائی جائے ، یا یہ کہ فرشتوں سے اللہ نے مٹی کے زریعے ادم کا پتلا بنوایا ۔ ۔ تخلیق آدم کی نسبت اللہ ہی کی طرف جائے گی ۔چاہے عمل انجام دینے والے اور ہی کیوں نہ ہوں جیسے فرشتے بارش برساتے ہیں ۔ ۔ ۔لیکن چونکہ اللہ کے حکم سے ہے اس لیے اللہ ہی کرتا ہے۔ اس کے فورا بعد والی آیات پرنظر ڈالیں ۔۔ اس ایت میں بھی صیغہ متکلم واحدیعنی ’میں‘ اور صیغہ جمع متکلم یعنی ’ہم‘ استعمال ۔۔۔۔ساتھ ساتھ ہے۔ ۔مختصراً جب ابلیس نے ’اللہ کی جماعت یعنی ’ہم‘ کے حکم کی تعمیل نہ کی تب اللہ کا پردہ وحی کے زریعے ارشاد ہوا اور وہ ارشاد ’صیغہ واحد متکلم ہے۔ قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلاَّ تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ قَالَ أَنَاْ خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ 7:12 ارشاد ہوا: (اے ابلیس!) تجھے کس (بات) نے روکا تھا کہ تو نے سجدہ نہ کیا جبکہ میں نے تجھے حکم دیا تھا، اس نے کہا: میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو تو نے مٹی سے بنایا ہے قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ أَن تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِينَ ارشاد ہوا: پس تو یہاں سے اتر جا تجھے کوئی حق نہیں پہنچتا کہ تو یہاں تکّبر کرے پس (میری بارگاہ سے) نکل جا بیشک تو ذلیل و خوار لوگوں میں سے ہے 7:13 |
|
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (04-01-12) |
![]() |
| Tags |
| color, قرآن, قران, لوگ, اللہ, حال, صالح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| پوائینٹ ہی پوائینٹس حاصل کریں | ایس اے نقوی | خاص آفرز اور اعلانات | 227 | 29-05-11 11:43 PM |
| بھوشن کمار اپادھے ، پولیس کمشنر شعلہ پور، اسلام کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ | فاروق سرورخان | اسلام اور عصر حاضر | 6 | 22-10-10 11:11 PM |
| عدم کارکردگی پر پورٹ آف سنگاپورکو گودارپورٹ سے نکال سکتے ہیں بابر غوری | جاویداسد | خبریں | 5 | 05-10-10 06:07 AM |
| ادھورے خواب ہیں میرے ادھوری ذات میری ہے | جواد رضا خان جامی | جواد رضا خان جامی | 0 | 18-06-10 04:01 PM |
| تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھو | The Great | شعر و شاعری | 4 | 15-09-09 09:44 PM |