مَا یَوَدُّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنْ اَہۡلِ الْکِتٰبِ وَلَا الْمُشْرِکِیۡنَ اَنۡ یُّنَزَّلَ عَلَیۡکُمۡ مِّنْ خَیۡرٍ مِّنۡ رَّبِّکُمْ ؕ وَاللہُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَاللہُ ذُوۡالْفَضْلِ الْعَظِیۡمِ
﴿البقرہ 105﴾
وہ جو کافر ہیں کتابی یا مشرک (01) وہ نہیں چاہتے کہ تم پر کوئی بھلائی اترے تمہارے رب کے پاس سے (02) اور اللّٰہ اپنی رحمت سے خاص کرتا ہے جسے چاہے اور اللّٰہ بڑے فضل والا
(01)
شان نُزول : یہود کی ایک جماعت مسلمانوں سے دوستی و خیر خواہی کا اظہار کرتی تھی ان کی تکذیب میں یہ آیت نازل ہوئی مسلمانوں کو بتایا گیا کہ کفار خیر خواہی کے دعوے میں جھوٹے ہیں۔
(جمل)
(02)
یعنی کفار اہل کتاب اور مشرکین دونوں مسلمانوں سے بغض رکھتے ہیں اور اس رنج میں ہیں کہ ان کے نبی محمد مصطفٰےصلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو نبوت و وحی عطا ہوئی اور مسلمانوں کو یہ نعمت عظمیٰ ملی
(خازن وغیرہ)