وَمَنۡ یُّطِعِ اللہَ وَالرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنْعَمَ اللہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیۡقِیۡنَ وَالشُّہَدَآءِ وَالصّٰلِحِیۡنَ ۚ وَحَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًا
(النساء 69﴾
اور جو اللّٰہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اُسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللّٰہ نے فضل کیا یعنی انبیاء (01) اور صدیق (02) اور شہید (03) اور نیک لوگ (04) یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں
(01)
تو انبیاء (علیہ السلام) کے مخلص فرمانبردار جنت میں اُن کی صحبت ودیدار سے محروم نہ ہوں گے۔
(02)
صدیق انبیاء (علیہ السلام) کے سچے متبعین کو کہتے ہیں جو اخلاص کے ساتھ اُن کی راہ پر قائم رہیں مگر اس آیت میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے افاضل اصحاب مُراد ہیں جیسے کہ حضرت ابوبکر صدیق ۔ (رضی اللہ تعالٰی عنہ)
(03)
جنہوں نے راہِ خدا میں جانیں دیں ۔
(04)
وہ دیندار جو حق العباد اور حق اللّٰہ دونوں ادا کریں اور اُن کے احوال و اعمال اور ظاہر و باطن اچھے اور پاک ہوں
شانِ نزول: حضرت ثوبان (رضی اللہ تعالٰی عنہ) سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کمال محبّت رکھتے تھے جُدائی کی تاب نہ تھی ایک روز اس قدر غمگین اور رنجیدہ حاضر ہوئے کہ چہرہ کا رنگ بدل گیاتھا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج رنگ کیوں بدلاہوا ہے عرض کیا نہ مجھے کوئی بیماری ہے نہ درد بَجُز اس کے کہ جب حضور سامنے نہیں ہوتے تو انتہا درجہ کی وحشت و پریشانی ہوجاتی ہے جب آخر ت کو یاد کرتا ہوں تو یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ وہاں میں کس طرح دیدار پاسکوں گا آپ اعلی ترین مقام میں ہوں گے مجھے اللّٰہ تعالی نے اپنے کرم سے جنت بھی دی تو اس مقام عالی تک رسائی کہاں ، اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور انہیں تسکین دی گئی کہ باوجود فرق منازل کے فرمانبرداروں کو باریابی اور معیت کی نعمت سے سرفراز فرمایا جائے گا ۔