سورۃ الکافرون
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
قُلْ يَا اَيُّھَا الْكَافِرُونَ
(اے پیغمبر ان منکران اسلام سے) کہہ دو کہ اے کافرو!
لا اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ
جن (بتوں) کو تم پوچتے ہو ان کو میں نہیں پوجتا
وَلا اَنْتُمْ عَابِدُونَ مَا اعْبُدُ
اور جس (خدا) کی میں عبادت کرتا ہوں اس کی تم عبادت نہیں کرتے
وَلا اَنَا عَابِدٌ مَا عَبَدْتُمْ
اور( میں پھر کہتا ہوں کہ) جن کی تم پرستش کرتے ہوں ان کی میں پرستش کرنے والا نہیں ہوں
وَلا اَنْتُمْ عَابِدُونَ مَا اَعْبُدُ
اور نہ تم اس کی بندگی کرنے والے (معلوم ہوتے) ہو جس کی میں بندگی کرتا ہوں
لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ
تم اپنے دین پر میں اپنے دین پر
سورہ الکافرون کو اکثر مفسرین نے مکّی قرار دیا ہے عبداللہ بن زبیر نے اس کو مدنی کہا ہے
لیکن موضوع کے اعتبار سے یہ مکّی ہونے کے قریب ہے
قریش کے لوگوں نے حضور

کی شدید مخالفت تو کی ہی تھی لیکن اسلام کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے ان کو کئی مرتبہ مصالحت پر بھی مجبور کیا
قریش کے لوگ آپ

کو مال و دولت اور من پسند عورت سے شادی کی آفر کرچکے تھے کے ہمارے معبودوں کی برائی سے باز رہیں جن کو آپ

رد کرچکے تھے
آخر انہوں نے تجویز دی کے ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کریں اور ایک سال ہم آپ کے معبود کی عبادت کریں
حضور

نے فرمایا میں اپنے رب کے حکم کا انتظار کرتا ہوں
اس پر یہ وحی نازل ہوئی
تخلیص و تدوین : فیصل ناصر