واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم > فضیلیت قرآن



فضیلیت قرآن فضیلیت قرآن


قرآن پڑھنے کے آداب

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 11-02-11, 06:33 PM   #1
قرآن پڑھنے کے آداب
زارا زارا آف لائن ہے 11-02-11, 06:33 PM

السلام علیکم

حدیث نمبر : 5045
حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا جرير بن حازم الأزدي، حدثنا قتادة، قال سألت أنس بن مالك عن قراءة النبي، صلى الله عليه وسلم فقال كان يمد مدا‏.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہاہم سے جریر بن حازم ازدی نے بیا ن کیا ، کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت قرآن مجید کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے بتلایا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ان الفاظ کوکھینچ کر پڑھتے تھے جن میں مد ہوتا تھا ۔

حدیث نمبر : 5046
حدثنا عمرو بن عاصم، حدثنا همام، عن قتادة، قال سئل أنس كيف كانت قراءة النبي صلى الله عليه وسلم‏.‏ فقال كانت مدا‏.‏ ثم قرأ بسم الله الرحمن الرحيم، يمد ببسم الله، ويمد بالرحمن، ويمد بالرحيم‏.‏
ہم سے عمرو بن عاصم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پو چھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرات کیسی تھی ؟ انہوں نے بیان کیا کہ مد کے ساتھ ۔ پھر آپ نے بسم اللہ الر حمٰن الرحیم پڑھا اور کہا کہ بسم اللہ ( میں اللہ کی لام ) کو مد کے ساتھ پڑھتے ، ، الرحمٰن ( میں میم ) کو مد کے ساتھ پڑھتے اور الرحیم ( میں حاء کو ) مد کے ساتھ پڑھتے ۔

قوله تعالى ‏{‏ورتل القرآن ترتيلا‏}‏ وقوله ‏{‏وقرآنا فرقناه لتقرأه على الناس على مكث‏}‏ وما يكره أن يهذ كهذ الشعر‏.‏ ‏{‏يفرق‏}‏ يفصل‏.‏ قال ابن عباس ‏{‏فرقناه‏}‏ فصلناه‏.‏
اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ مزمل میں فرمایا ” اور قرآن مجید کو ترتیل سے پڑھ ۔ “ ( یعنی ہر ایک حرف اچھی طرح نکال کر اطمینان کے ساتھ ) اور سورۃ بنی اسرائیل میں فرمایا اور ہم نے قرآن مجید کو تھوڑا تھوڑا کرکے اس لئے بھیجا کہ تو ٹھہر ٹھہر کر لوگوں کو پڑھ کر سنائے اور شعر و سخن کی طرح اس کا جلد ی جلدی پڑھنا مکروہ ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہمانے کہا اس سورت میں جو لفظ فرقنا کا لفظ ہے ( وقرآنا فرقناہ ) اس کا معنی یہ ہے کہ ہم نے اسے کئی حصے کرکے اتارا ۔

حدیث نمبر : 45043
حدثنا أبو النعمان، حدثنا مهدي بن ميمون، حدثنا واصل، عن أبي وائل، عن عبد الله، قال غدونا على عبد الله فقال رجل قرأت المفصل البارحة‏.‏ فقال هذا كهذ الشعر، إنا قد سمعنا القراءة وإني لأحفظ القرناء التي كان يقرأ بهن النبي صلى الله عليه وسلم ثماني عشرة سورة من المفصل وسورتين من آل حم‏.‏
ہم سے ابو النعمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے مہدی بن میمون نے ، کہا ہم سے واصل احدب نے ، ان سے ابو وائل نے عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ ہم ان کی خدمت میں صبح سویرے حاضر ہوئے ۔ حاضر ین میں سے ایک صاحب نے کہا کہ رات میں نے ( تمام ) مفصل سورتیں پڑھ ڈالیں ۔ اس پر عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بولے جیسے اشعار جلدی جلدی پڑھتے ہیں تم نے ویسے ہی پڑھ لی ہوگی ۔ ہم سے قرات سنی ہے اور مجھے وہ جوڑ والی سورتیں بھی یاد ہیں جن کو ملا کر نمازوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے ۔ یہ اٹھارہ سورتیں مفصل کی ہیں اور وہ دو سورتیں جن کے شروع میں حم ہے ۔

حدیث نمبر : 5044
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا جرير، عن موسى بن أبي عائشة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ في قوله ‏{‏لا تحرك به لسانك لتعجل به‏}‏ قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا نزل جبريل بالوحى وكان مما يحرك به لسانه وشفتيه فيشتد عليه وكان يعرف منه، فأنزل الله الآية التي في ‏{‏لا أقسم بيوم القيامة‏}‏ ‏{‏لا تحرك به لسانك لتعجل به * إن علينا جمعه وقرآنه * فإذا قرأناه فاتبع قرآنه‏}‏ فإذا أنزلناه فاستمع ‏{‏ثم إن علينا بيانه‏}‏ قال إن علينا أن نبينه بلسانك‏.‏ قال وكان إذا أتاه جبريل أطرق، فإذا ذهب قرأه كما وعده الله‏.‏
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر بن عبد الحمید نے بیان کیا ، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے ۔ ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” آپ قرآن کو جلدی جلدی لینے کے لئے اس پر زبان کو نہ ہلایا کریں ۔ “ بیان کیا کہ جب جبریل علیہ السلام وحی لے کر نازل ہوتے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان اور ہونٹ ہلایا کرتے تھے ۔ اس کی وجہ سے آپ کے لئے وحی یاد کرنے میں بہت بار پڑتا تھا اور یہ آپ کے چہرے سے بھی ظاہر ہوجاتا تھا ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت جو سورۃ ” لااقسم بیوم القیٰمۃ “ میں ہے ، نازل کی کہ آپ قرآن کو جلدی جلدی لینے کے لئے اس پر زبان کو نہ ہلایا کریں یہ تو ہمارے ذمہ ہے اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھوانا تو جب ہم اسے پڑھنے لگےں تو آپ اس کے پیچھے پیچھے پڑھا کریں پھر آپ کی زبان سے اس کی تفسیر بیان کرادینابھی ہمارے ذمہ ہے ۔ “ راوی نے بیان کیا کہ پھر جب جبریل علیہ السلام آتے تو آپ سر جھکالیتے اورجب واپس جاتے تو پڑھتے جیسا کہ اللہ نے آپ سے یاد کروانے کا وعدہ کیاتھا ۔ کہ تیرے دل میں جمادینا اس کو پڑھا دینا ہمارا کا م ہے پھر آپ اس کے موافق پڑھتے ۔
تشریح : آیت ثم ان علینا بیانہ ( القیا مہ: 19 ) سے ثابت ہواکہ سلسلہ تفسیرقرآن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا جسے لفظ حدیث سے تعبیر کیا جاتا ہے یہ سارا ذخیرہ بھی اللہ پاک ہی کا تعلیم فر مودہ ہے۔ اسی سے احادیث کووحی غیر متلوسے تعبیرکیا گیا ہے جولوگ احادیث صحیحہ کے منکر ہیں وہ قرآن پاک کی اس آیت کا انکار کر تے ہیں اس لئے وہ صرف منکر حدیث ہی نہیں بلکہ منکر قرآن بھی ہیں ھداھم اللہ الی صراط مستقیم آیت۔

والسلام
زارا
__________________

 
زارا's Avatar
زارا
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 280
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
محمدعدنان (12-02-11), مرزا عامر (11-02-11)
پرانا 12-02-11, 08:13 AM   #2
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,194
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جزاک اللہ
بہت اچھی شئیرنگ ہے
شکریہ
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ہوتے, ہوتا, ہے۔, کرتے, پاک, قرآن, مجید, اللہ, اشعار, تلاوت قرآن, تعلیم, ثابت, جلد, حرف, خدمت, دل, سوال, سنی, شروع, عمرو, عائشہ, عباس, صبح, صرف, صراط


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:45 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger