| فلمی دنیا لالی وڈ ، بالی وڈ ،ہالی وڈ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
گزشہ دنوں ریلیز ہونے والی فلم بول کے متعلق ایک خبر پڑھ کر تجسس بڑھ گیا کہ مسلک اہل تشیع نے فلم بول کے خلاف مظاہرہ کیا اور اس بات پر احتجاج ریکارڈ کرایا کہ شعیب منصور نے اس فلم کے ذریعے شیعوں کے تاثر کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔
![]() تب سے اس فلم کو دیکھنے کی خواہش رہی اب دیکھنے کے بعدحاضر ہوں جناب فلم " بول " کی کہانی کے ساتھ ۔ ![]() فلم کا آغاز دلچسپی کا عنصر بڑھانے کے لیے سسپنس سے کیا گیا ہے۔ اور وہ سسپنس ہے ۔ ایک لڑکی کے پھانسی سے قبل کچھ " بول " کر دنیا کو سوال دینے کی خواہش کا ۔ یہ لڑکی ہے اس فلم کے مرکزی کردار حکیم شفاعت اللہ کی بیٹی زينب ۔ دونوں باپ بیٹی ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں ۔ اور ان کے مد مقابل ہونے کی وجہ ہے دین اور مذہب ۔ یعنی اعتدال بہ مقابلہ گھٹن ۔ ۔ حکیم شفاعت اللہ مذہبی لحاظ سے اہلسنت اور ذات کے لحاظ سے دہلی کے اعلی خاندان سے تعلق رکھتے ہيں ۔ ان دو نام نہاد فضیلتوں نے حکیم صاحب کا مزاج رعونت اور خوش فہمی سے بھر پور بنا دیا ۔ گھر کو اپنے رعب میں رکھنے کے شوق نے انہیں اولاد کی محبت سے دور کر دیا تھا اور انہیں سوچنے کی بھی فرصت نہیں تھی کہ ان کا مستقبل کہاں ہے ۔ " میں چاہتا ہوں کہ آخرت میں میں اپنی امت کی کثرت پر فخر کرسکوں " ہر مذہبی انسان کی طرح حکیم صاحب بھی اس روایت کو سر کا تاج بنا کر بیوی کو بچہ پیدا کرنے کی مشین سمجھ بیٹھے ۔بیٹیوں کی قطار میں وہ بیٹو ں کابھی انتظار کرتے رہے جس میں بیٹا ایک آیا بھی تو ادھورا یعنی لڑکی نما ۔ اس مسئلے نے ان کو اور پریشان کر دیا ۔ اس بیٹے کو انہوں نے شروع میں شرمندگی کے مارے قتل کر دینے کا فیصلہ کیا مگر باز رہے ۔وہ بچہ ساری دنیا سے کٹ کر اپنی سات بہنوں کے درمیان پرورش پاتا رہا مگر باپ کی شفقت سے محروم ۔ اور دنیا کے سرد و گرم سے انجان ۔ مگر کب تک ان کی بڑی بیٹی زينب ( حمیمہ ملک)نے باالآخر اس مسئلے کو اپنے گھر میں اجاگر کرتے ہوئے اس کے خلاف بولنا شروع کیا اس کے اسی حق گوئی اور بے باکی نے اس کو اپنے گھرمیں بسنے نہيں دیا۔ چودہ اولادیں پیدا کرنے والے اور زندگی با ادب و با لحاظ طریقے سے گزارنے والے حکیم شفاعت اللہ کو اپنی بیٹی کا اختلاف کرنا نا گوار گزرا اور یہ ناگواری کچھ واقعات کے بعد تو زہر خند مزاج میں بدلنے لگی ۔وہ ان تمام "خرافات" کا تانا بانا جہنم او رجنت سے جوڑتے رہے ۔ مگر بیٹی نے بولنے کے ساتھ کچھ کر دکھانے کی بھی ہمت کی ۔ اورباپ کے علم میں لائے بغیر ماں کا آپریشن کروادیا بندش اولاد کے لیے ۔ ان کے پڑوسی ماسٹر اختر حسین صاحب کا گھرایک ملنسار اور مثالی گھر انہ تھا ۔ جو جدید دور کے ایک تعلیم یافتہ اور روشن خیال انسان تھے اور برائے نام اہل تشیع تھے ۔جن کے دونوں بچے بیٹی اور بیٹا مصطفی ( عاطف اسلم ) اعلی تعلیم حاصل کر رہے تھے ۔ ان کے ساتھ مل بیٹھ کر ان سات لڑکیوں کا کچھ ہنسنابولنا ہو جاتا تھا تو ان کے چہرے پر رونق آجاتی تھی ۔ حکیم صاحب کو غرور تھا تو اس بات کا کیوں کہ وہ زندگی مذہبی اصولوں کے مطابق گزارتے ہيں تو وہ بالکل صحیح ہیں ۔ تصاویر کے وہ خلاف تھے ۔ موسیقی ان کی نظر میں جرم تھی ۔خواتین کا بولنا ان کے لیے خطرہ ۔ بچے پیدا کرنے کا ان کا اپنا نظریہ تھا ۔ بچیوں کے رشتے طے کرنے کا ان کا اپنا معیار تھا ۔ اولاد میں پیدائشی نقص ہو جائے تو وہ کسی اور کا مسئلہ۔ اپنے کو لاجواب کرنے والے ہر سوال کو وہ تشدد اور ڈانٹ ڈپٹ سے دبانے کی کوشش کرتے تھے ۔ نظریات اور خیالات کے گھمنڈ میں وہ بھول گئے تھے کہ انسان کی سب سے پہلی ضرورت مذہب نہيں پیٹ ہے ۔ اگر آپ کا پیٹ ٹھیک ہے تو سب ٹھیک ہے ۔ فرسودہ روایات کو ماننے اور حکمت کے ناکام فن کو گلے سے لگائے رکھنے کے چکر میں انہوں نے کوئي ڈھنگ کا ذریعہ معاش نہيں بنایا بلکہ اپنے معاشی مستقبل کی طرف سے حد درجہ غافل رہے ۔ اور اگر کسی نے انہیں احساس دلانے کی کوشش بھی کی تو وہ مجرم ٹھہرا ۔ اللہ پر بھروسہ کے نام پر کاہلی کی افیون کھاتے کھاتے وہ دن آگئے جب توکل کا فلسفہ غائب ہوا اور ان کو اپنی جان اور عزت بچانے کے لیے انہی حقیر اور قابل نفرت لوگوں سے مدد مانگنی پڑی جن کو وہ ساری زندگی مذہب اور ذات کے نام پر ٹھکراتے رہے ۔ مسائل کے ان انبار نے حکیم صاحب کو مزید چڑچڑا اور بد مزاج بنا دیا ۔ ![]() ان کے بیٹی نما بیٹے کو بہت سوچ بچار کے بعد ماں بہنوں نے گھر سے باہر کچھ کام دھندہ سیکھنے کی کوششوں میں لگا دیا ۔ مگر ان کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ دنیا سیفی جیسے چیونٹیوں کے لیے کتنی بڑی ہاتھی ہے۔ وہ بے چارہ چند بے ہودہ لوگوں کے ہتھے چڑھ گیا ۔ گھر تو واپس آ گیا مگر حکیم صاحب نے چھپ کر اس کے آنسووں سے بھری باتیں سن لیں جو اس نے اپنی ماں اور بہنوں کے سامنے بیان کی ۔ حکیم صاحب نے اس بات کو اپنی ذات پر دھبہ سمجھتے ہوئے اپنے اس معصوم بچے کو دم گھونٹ کر مار دیا ۔ بچے کی موت اپنی آنکھوں سے دیکھ کر زینب وقتی طور پر اپنے حواس کھو بیٹھی ۔ مگر یہ بات کب تک چھپتی بالآخر پولیس نے حکیم صاحب کے احترام کو مد نظر رکھتے ہوئے اس معاملے کو نہ اچھالنے کا ارادہ ظاہر کیا بہ عوض چند لاکھ روپے ۔ مگر یہ چند لاکھ روپے بھی حکیم صاحب کے پیروں تلے زمین کھینچ لے گئے ۔ انہوں نے اپنی دکان بیچ کر وہ مسئلہ حل کیا ۔ اور اناڑیوں کی طرح روڈ پر آکر حکمت کرنے لگے ۔مگر ان کے برے رویے کی سزا اب انہیں مل رہی تھی بیوی اللہ میاں کی گائے ہو کر کچھ نہیں کہتی تھی ۔ پھر بھی حکیم صاحب کی خود غرضی کا یہ عالم تھاکہ گھر والوں کو دکھ دے سکتے تھے مگر خود کی ذات پر کوئی چوٹ برداشت نہيں کر سکتے تھے ۔ تنگ دستی اب ان کے مزاج کو اس درجہ پر لے آئی جسے ٹیبل کے اُس طرف کے لوگ گراوٹ کہتے ہيں اور اِس طرف کے لوگ اعتدال ۔ ان کے بہتر دنوں میں ایک کنجر ذات کا چوہدری ان سے دوائی لینے آیا کرتا تھا اس نے ان کو آفر کی تھی کہ ہمارے بچوں کو سپارہ پڑھا دیں تو آپ کی آمدنی ہو جایا کرے گی ۔ اس وقت انہوں نے حقارت سے رد کر دیا ۔ مگر جب مذہب اور نسلی امتیاز کے بتوں سے کوئی روٹی نہ نکلی تو وہ اسی کنجر کے پاس گئے اور ان شیعوں کی دکھتی رگ پکڑ کر بات کی اور اس طرح " مولا علی "کے کرم سے روزی لگ گئي ۔ اب حکیم صاحب اپنی دکان بیچنے کے بعد تو روڈ پر آ ہی چکے تھے ۔ اس مجبوری نے ان کو انہی کنجروں کا کھاناکھانے پر مجبور کر دیا وہ ان کے نوٹوں کو گھر لا کر صابن سے دھو کر سکھا کر استعمال کرتے ۔ یعنی پاک کر کے " بزعم خود "۔ گھر کی غربت اور برسوں کی حبس زدہ ماحول سے تنگ عائشہ نے بالآخر ہمت کر کے مصطفی کے ساتھ ایک کنسرٹ کیا ۔ جس سے اس میں ایک خوش گوار اعتماد سا آ گیا ۔ حکیم صاحب کے خود سر رویے کے نتائج نے اب بھی انکا پیچھا نہیں چھوڑا تھا محلے کی مسجد کے حساب کتاب میں حکیم صاحب نے بہ حالت مجبوری کچھ پیسے استعمال کر لیے ۔ اب اچانک مسجد کمیٹی نے ان سے حسابات واپس مانگ لیے تو انہیں خیال آیا کہ پونے دو لاکھ روپے انہيں کہیں سے بھی پورے کرنے پڑیں گے ۔ انہوں نے پھر اسی چوہدری کے سامنے اپنا دکھڑا رویا تو اس دوران وہ چوہدری یہ جان کر حیرت زدہ رہ گیا کہ اتفاق سے حکیم صاحب بیٹیاں پیدا کرنے کےماہر ہيں ۔تب اس کنجر کی نظروں میں حکیم صاحب کی وقعت اور بڑھ گئی اور اس نے ان کی مجبوری کے بدلے ان سے سودا کیا اپنے ہاں ایک بیٹی پیدا کرنے کا ۔ پہلے تو حکیم صاحب ہکا بکا رہ گئے اس عجیب و غریب سودے پر کہ آج تک عورت بکتی رہی مگر یہ کیسا سودا ہے جہاں مرد بک رہا ہے۔ بہ دل نہ خواستہ انہوں نے اس طوائف سے نکاح کے ذریعے ایسا کرنے کی حامی بھر لی ۔ کیوں کہ اس کنجروں کے چوہدری نے ان یہ کہہ کر لاجواب کر دیا کہ بیٹی ہوئی تو ہماری اور بیٹا ہوا تو آپ اپنے بڑھاپے کا سہارا سمجھ کر رکھ لیں۔ ![]() بے آب و گیاہ ویرانے میں پانی نہ ہو تو وہاں پانی آ ہی جاتا ہے ۔ زمین سے نہ آئے تو آسمان سے تو آہی جاتا ہے۔ کچھ ایسا ہی حکیم صاحب کے گھر میں ہوا ۔ان کی بیٹیاں باپ کے رویے سے مایوس ہو چکی تھیں اور انہيں یقین تھا کہ باپ کوئي ڈھنگ سے رشتہ نہيں ہونے دے گا ۔ اس لیے فرقہ پرستی کوبالائے طاق رکھتے ہوئے ایک بیٹی عائشہ کا نکاح اپنے پڑوس کے لڑکے مصطفی سے کر دیا ۔ اور موت جیسے خوف کے ساتھ باپ کے آنے کا انتظار کرتے رہے ۔ باپ جب طوائف سے سہاگ رات منا کر گھر آیا تو یہ خبر سن کر سیخ پا ہو گیا ۔ مگر کھل کر بولنے کی شوقین بیٹی نے یہاں بھی باپ کی مار برداشت کی اور اس کے احترا م میں فرق نہ آنے دیا ۔ مفلسی سے بچنے اور کھوکھلے کردار کے بھرم کو قائم رکھنے کی کوششوں میں انہوں نے ایک طوائف کو منہ تو لگا لیا مگر وہ تھی بہر حال ایک عورت ، مزیداس کی ادائیں اور رہن سہن ان کے اعلی ظرف خاندانی راویات سے میل نہیں کھاتی تھیں ۔ توقع کے عین مطابق وہاں بھی لڑکی ہوئی ۔ جس سے ظاہر ہے حکیم صاحب کا کوئی تعلق نہیں ہونا تھا ۔مگر پھر بھی ان کے اندر تھوڑی غیرت جاگ گئی اور وہ اس بچی کو اپنے ہاں لے جانے کی کوشش کرنے لگے ۔معاہدے کی خلاف ورزی کی کوشش پر اس کنجر نے ان کو مار مار کر وہاں سے نکال دیا ۔ حالات کے اس الٹ پھیر نے حکیم صاحب کو زبان کو تالا لگا دیا ۔کھانا ، پینا ، نمازیں وغیرہ سب بھول گئے ۔ مگر اپنے تکبر کے خول میں بند بھلا وہ اپنے دل کی بھڑاس کس کے سامنے نکالتے ،کس طرح سمجھتے کہ انہوں نے بچے پیدا نہیں کیے تھے بلکہ مارے تھے ۔بالآخر ان کی دوسری بیوی نے ان کی بچی کو ان کے گھر پہنچا دیا تو ان کی بیٹیوں پر یہ راز کھلا کہ جھوٹی روایات کا غرور سے گندھا محل زمین بوس ہو چکا ہے ۔بس ہماری نظروں سے چھپانے کے لیے چند ریت اڑائےجا رہے تھے ۔تا کہ ہم سر نہ اٹھا سکیں ۔ ہمیشہ کی طرح حکیم صاحب نے چند پھوں پھاں کر کے بولنے والوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی ۔ بہر حال حسب توقع کنجر وں کے سربراہ اس بچی کو واپس لینے آگئے حکیم صاحب کا دروازہ توڑ کر ۔ یہاں بھی حکیم صاحب نے خود ساختہ غیرت مندانہ قانون کے تحت نومولود بچی کو مار دینے کا سفاکانہ فیصلہ کیا جس سے روکنے کے لیے بیٹی زینب کو باپ کے سر پر وار کرنا پڑا ۔ یہ وار اتنا مہلک ثابت ہوا کہ وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے ۔ اور اس دماغ کا خاتمہ ہوا جس کی گرمی نے پورے آٹھ نفوس کے خاندان کا جینا حرام کر رکھا تھا ۔اب سارا طوفان تھم چکا تھا ۔کنجروں کے چوہدری کو حکیم صاحب کی بیگم نے بتایا کہ بچی کو اس کا باپ مار چکا ہے۔ اس نے مصیبت زدہ گھر دیکھ کر زیادہ تنگ نہیں کیا اور یقین کر کے چلا گیا ہمیشہ کے لیے ۔ یہی وہ قتل تھا جس کی سزا میں اس لڑکی زينب کو سزائے موت دی گئی کیوں کہ اس نے عدالتوں میں زيادہ دفاع نہیں کیا تھا بس خاموش رہی تھی ۔ مگر اپنے بہنوئی مصطفی کے کہنے پر اس نے وزیر اعظم پاکستان سے درخواست کی کہ پھانسی سے پہلے وہ کچھ بول کر دنیا کو جگانا چاہتی ہے ۔ اس کو میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا اور اس نے آہستہ آہستہ اپنی کہانی دنیا کو سنائی ۔ اس دوران ایک رپورٹر نے اس کو بچانے کی بھرپور کوشش کی ۔ زینب کی بات جاری تھی مگر بات مکمل ہونے سے پہلے جیلر نے وقت کی کمی کی وجہ سے سب کو ہٹانے کاآرڈر دیا کہ پھانسی کاوقت ہونے والاہے ۔ مگر لیور کھینچنے سے پہلے تک زینب نے چلا چلا کر دنیا سے سوال پوچھا … کہ صرف مارنا ہی جرم کیوں ہے ؟ پیدا کرنا جرم کیوں نہيں ہے۔ ؟ کیوں کہ جب کھلا نہيں سکتے تو پیدا کیوں کر تے ہو ۔؟
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔ Last edited by نورالدین; 16-09-11 at 11:12 AM. |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا | shafresha (15-09-11), فرحان دانش (15-09-11), پاکستانی (15-09-11), محمد یاسرعلی (15-09-11), wajee (07-10-11), آبی ٹوکول (15-09-11), حیدر Rehan (15-09-11), عبدالقدوس (15-09-11) |
|
|
#3 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 612
کمائي: 11,125
شکریہ: 130
384 مراسلہ میں 966 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مذاہبی فرقوں پر فلم نہیں بنانی چاہے
اقتباس:
فلم کی کہانی تو اچھی ہے.فلم کے بارے میں کہا گیا کہ یہ ہماری سماجی زندگی کی عکسی کرتی ہے.یہ درست ہے. کیا کو ئی اہلسنت یا دیوبنداپنی بیٹی کا رشتہ کسی اہلحدیث یا شعیہ یا کسی اور فرقہ میں کرتا ہے.یہ ہمارے معاشرے کی مثالیں ہیں. اور بچے پیدا کرنے میں بھی فخر محسوس کیا جاتا ہے. چاہے گھر میں کھانے کو کچھ ہو یا نہ ہوں. ہمارے ہاں یہ عام بات ہے. بچے تو پیدا کر لتے ہیں مگر ان کی تعلیم و تربیت کا کیا ؟ بچو کو مذاہبی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم بھی دی جانی چاہے. کنجر ہمارے معاشرے کا ہی ایک گندا پہلو ہے.وہ ہم میں سے ہی ہے.ان کا کو مذاہب نہیں ہوتا. نوٹ میں نے ابھی فلم نہیں دیکھئ.آپ سے یہ کہانی ہی سنی ہے ابھی میں نے تو ابھی خدا کے لئے بھی نہیں دیکھی
__________________
تم قاتل نہیں ہو پیشہ ور گدھے! Last edited by زبیرافتحار; 15-09-11 at 11:51 AM. |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے زبیرافتحار کا شکریہ ادا کیا | shafresha (15-09-11), نورالدین (15-09-11), محمد یاسرعلی (15-09-11), حیدر Rehan (15-09-11), عبدالقدوس (15-09-11) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
یہ فلم کی شہرت کے لیے پبلیسٹی اسٹنٹ ہوتے ہیں ۔۔۔۔
بس لوگوں نے فلم شوق سے دیکھی اہم بات یہ ہے کہ کچھ اچھے میسجز جو بہت ضروری تھے لوگوں تک پہچ گیے ۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
ویسے تو یہ ہوتا ہے کے انڈین فلم اندین سینماء میں لگے نہ لگے پاکستان میں کیبل پہ پہلے چل جاتی ہے لیکن اب کی بار انڈیا بازی لے گیا ہے سنا ہے وہاں ٹی وی پہ لگ چکی ہے ویسے کیا یہ انڈین سینماء میں ریلیز نہیں ہوتی یا ہوئی تھی ؟
__________________
فیس بک پہ پاک نیٹ کا حلقہ احباب https://www.facebook.com/groups/pak.net دوستوں سے گزارش ہے کہ اپنے شائع کردہ موضوع کو یہاں بھی شئیر کردیا کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پاک نیٹ کی فیملی کا حصہ بنایا جاسکے۔ |
|
|
|
| محمد یاسرعلی کا شکریہ ادا کیا گیا | نورالدین (16-09-11) |
|
|
#6 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
میں نے فلم دیکھی ہے میرے خیال سے ایکسٹریم ازم صرف ایک جگہ پر دیکھایا گیا ہے جہاں سیفی کو اسکا باپ قتل کردیتا ہے باقی 99 فیصد معاشرے کی عکاسی ہے
__________________
![]() http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,301
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کہانی پڑھنے کے بعد مجھے تو یہ لگا کہ اس فلم میں تصویر کا اک رخ دکھایا گیا ہے۔۔ ایسٹریم ازم کی صرف وہ انتہا جو مذہبی لبادے میں ہوتی ہے
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | نورالدین (15-10-11) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بول دیکھی ایک اچھی پروڈکشن اور ڈائیریکشن تھی فلم میں ہمارے معاشرے کی بہترین عکاسی کی گئی تمام کردار حقیقت کہ بالکل قریب تر تھے سلتگے ہوئے موضوعات پر ا یک بہت ہی عمدہ کاوش تھی تمام کردار بہت خوب تھے اورتمام کردار نگاروں نے بھی اپنی اپنی جگہ خوب کام کیا بالخصوص حکیم صاحب اور زینب کا کردار کرنے والے فنکاروں نے تو اپنے اپنے کریکٹر میں جان ہی ڈال دی حکیم صاحب تو لےدئے گئے ۔ گو کہ میں اوریجنل پرنٹ میں نہیں دیکھ سکا مگر تاہم مجموعی طور پر سینیماٹو گرافی اور صوتی اثرات عمدہ دکھائی دیئے موسیقی واجبی سی تھی مکالمے جاندار تھے چند ایک جگہوں پر رائٹر کی مس انٹرپریشن سے اختلاف بھی کیا جاسکتا ہے مگر مجموعی طور پر فلم مجھ پر ایک اچھا تاثر چھوڑ گئی یہ کہا جا سکتا ہے کہ عمدہ پیغام کو اچھے طریقے سے پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے مگر تاہم پیغام پہنچانے کی حقیقت کہ ساتھ کہیں کہیں اختلاف بھی کیا جاسکتا ہے ۔اور اسکے ساتھ ساتھ یہ کہ پاکستان کے پاس ٹیلنٹ کی کمی نہیں اگر وسائل ہوں تو بین الاقوامی سطح کی فلمیں بن سکتی ہیں خصوصی طو رپر اس فلم میں جس طرح سے حقیقت کہ قریب ڈائلاگ ڈلیوری اور مکالمے بازی کو دکھایا گیا ہے وہ عمومی طور پر پاکستانی روایتی فلموں سے بہت ہٹ کر ہے اور یہی فلم کی جان بھی ہے ۔۔۔
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیکرِ دلرُبا بن کے آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فلم, فن, پولیس, پاک, پاکستان, پاکستانی, واقعات, وزیر, لڑکی, نفرت, نظر, مکمل, مولا علی, موت, مقابلہ, ماں, محبت, مسائل, مسجد, آپریشن, احتجاج, بول, بچوں, تعلیم, تصاویر, جرم, سودا, عورت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| انٹرنیٹ میں انقلابی سہولتوں کا اضافہ: "بنگ" اور "ویوز" | Hashims | Search Engines | 8 | 02-09-11 03:24 PM |
| اسلامی سکرین سیور """ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ؟ """" | عادل سہیل | اسلام اور معاشرہ | 17 | 23-02-11 07:37 PM |
| سہر ے والوں نے"خوشی" کیلئے تین "جنا زے "تیار کردیے | جاویداسد | خبریں | 1 | 11-11-10 03:27 PM |
| "کوئی" "کسی" سفارت خانے سے وزیر اعظم ہاوس کی جاسوسی کر رہا تھا | حیدر | خبریں | 6 | 11-10-10 04:49 PM |
| کراچی میں پولیس کا "ناکے پہ ناکہ "اور ڈاکو ں کا "ڈاکے پہ ڈاکہ"جاری | جاویداسد | خبریں | 0 | 01-10-10 06:38 PM |