| فن و فنکار یہاں آپ ساری دنیا کے فن و فنکار کے بارے میں پڑھ سکتے ہیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
ستاسی سالہ برطانوی مصنفہ ڈورس لیسنگ کو سنہ 2007 کے نوبل انعام برائے ادب کا حقدار قرار دیا گیا ہے۔
یہ اعزاز انھیں ستاون برس سے جاری ان کی ادبی خدمات کے صلے میں دیا گیا ہے۔ انعام جاری کرنے والی سویڈش اکیڈمی کے بقول’مصنفہ کی ژرف نگاہی اور شعلہ بیانی نے نسوانی تجربے کو ایک ایسے بصیرت افروز رزمیے کی شکل میں پیش کیا ہے جو ایک منقسم تہذیب کامحاسبہ کر رہا ہے‘۔ ڈورس لیسنگ کو سات لاکھ تریسٹھ ہزار برطانوی پاؤنڈز کے برابر رقم انعام میں ملے گی۔ علاوہ ازیں انہیں سونے کا ایک تمغہ اور سٹاک ہوم جا کر اکیڈمی سے خطاب کرنے کی دعوت بھی ملے گی۔ مصنفہ ڈورس لیسنگ کی پیدائش تو ایران میں ہوئی تھی اور زندگی کا کچھ حصہ انھوں نے افریقہ میں گزارالیکن بالآخر 1949 میں انھوں نے برطانیہ میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ گذشتہ ایک صدی سے زیادہ کے عرصے میں ادب کا نوبل انعام حاصل کرنے والی وہ صرف گیارہویں خاتون ہیں۔ ان کی معروف کتابوں میں’دی گولڈن نوٹ بک‘، ’میموائرز آف اے سروائیور‘ اور ’دی سمر بیفور دی ڈارک‘ شامل ہیں۔ انیس سو باسٹھ میں جب’دی گولڈن نوٹ بک‘ منظرِعام پر آئی تو تحریکِ نسواں کے حامیوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا لیکن خود مصنفہ نے کبھی نسوانی تحریک کے لیے کسی جوش و خروش کا مظاہرہ نہیں کیا۔ گذشتہ تیس برس کے دوران انھیں تین بار ُبکرپرائز کے لئے بھی نامزد کیا گیا لیکن یہ انعام ان کے مقدر میں نہ تھا۔ اس مرتبہ بھی غالب قیاس تو یہ تھا کہ ادب کا نوبل انعام امریکی مصنف فِلپ روتھ کو ملے گا لیکن قرعہ فال برطانوی مصنفہ ڈورس لیسنگ کے نام نکلا۔
__________________
----------
![]() |
|
|
|