واپس چلیں   پاکستان کی آواز > کھیل اور فن > فن و فنکار



فن و فنکار یہاں آپ ساری دنیا کے فن و فنکار کے بارے میں پڑھ سکتے ہیں


لاہور: عالمی فنکار میلہ ختم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 04-12-07, 04:00 PM   #1
Senior Member
 
چاچا کمال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 47
مراسلات: 938
کمائي: 7,620
شکریہ: 36
189 مراسلہ میں 304 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default لاہور: عالمی فنکار میلہ ختم

لاہور: عالمی فنکار میلہ ختم

جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا سالانہ عالمی فن کار میلہ لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔ میلے کے منتظمِ اعلٰی عثمان پیر زادہ نے بتایا کہ گیارہ روز تک جاری رہنے والے اس میلے میں بائیس ملکوں کے پانچ سو طائفوں نے شرکت کی جن میں شامل ملکی اور غیر ملکی فنکاروں کی مجموعی تعداد بارہ سو تک جا پہنچتی ہے۔
ان کے علاوہ بڑی تعداد میں غیر ملکی صحافی، فوٹوگرافر اور ٹیلی ویژن ٹیمیں بھی یہ میلہ دیکھنے کےلئے لاہور آئیں۔

اگرچہ اِس برس پاکستان میں دِگرگوں سیاسی حالات کے باعث اس سالانہ میلے کا انعقاد مشکل دکھائی دیتا تھا اور مغربی ممالک کی حکومتیں بھی اس سفر کے معاملے میں اپنے شہریوں کی حوصلہ افزائی نہیں کر رہی تھیں، اس کے باوجود دنیا بھر سے اتنے فنکاروں کا لاہور میں جمع ہونا منتظمین کے مطابق میلے کی عالمی مقبولیت کا غماز ہے۔

یہ اجتماع گذشتہ چھ برسوں سے لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں قائم الحمراء آرٹ کونسل میں منعقد ہوتا ہے۔ اس سے قبل نوجوانوں کےلئے میوزیکل کانسرٹ، بچوں کے پُتلی تماشے، کلاسیکی موسیقی اور عارفہ کلام کی محفلیں نیز تھیٹر اور فلم کے شو الگ الگ موقعوں پر منعقد کئے جاتے تھے اور یہ سلسلہ کوئی پندرہ برس سے جاری تھا لیکن سن 2001 میں اِن سب تقریبات کو مِلا کر ایک ہی ’مہا میلے‘ میں ضم کردیا گیا۔

اس برس بھی 22 نومبر سے 2 دسمبر تک جاری رہنے والے اس عالمی میلے میں یہ تمام رنگ برنگی تفریحات شامل تھیں اور بچوں سے لیکر بڑے بوڑھوں تک ہر شخص کی دلچسپی کا سامان موجود تھا۔

یورپ اور امریکہ سے آنے والے فنکاروں کا خرچ عام طور پر متعلقہ ملکوں کے سفارتخانے، آرٹ کونسلیں، این جی اوز یا دیگر آرٹ نواز ادارے برداشت کرتے ہیں لیکن اس بار تجرباتی تھیٹر کی معروف برطانوی اداکارہ میرلین ہیتھ کاک کو جب کوئی سرپرست نہ ملا تو انھوں نے خود اپنا ٹکٹ خریدا اور لاہور پہنچ گئیں۔ اُن کا تیار کردہ ’ون وومن شو‘ میلے میں بہت پسند کیا گیا۔

بھارت سے آئے ہوئے ایک تھیٹر گروپ نے ’چیخوف کہانیاں‘ کے نام سے جو کھیل پیش کیا وہ ایک طرح سے اس میلے کی بین الاقوامی نوعیت کا آئِینہ دار ہے کیونکہ اس میں ایک روسی لکھاری کی کہانیوں کو ایک امریکی مصنف نے کھیل کی شکل دی تھی جس کا ترجمہ ایک ہندوستانی ادیب نے کیا تھا اور جسے بھارتی اداکار پاکستانی ناظرین کے سامنے پیش کر رہے تھے۔

پولینڈ کے ایک فنکار نے یہ کھیل دیکھ کر بے ساختہ کہا ’اس سے بڑھ کر بین الاقوامیت اور کیا ہوسکتی ہے۔‘ یہ فنکار یقیناً اُن ڈیڑھ لاکھ ناظرین کی نمائندگی کر رہا تھا جنھوں نے 11 روز کے دوران اس میلے میں شرکت کی ہے۔ یہ میلہ رفیع پیر تھیٹر ورکشاپ کی جانب سے ہر سال منعقد کیا جاتا ہے۔

رفیع پیر

اٹھارہ سو اٹھانوے میں پیدا ہونے والے رفیع پیر برصغیر کی ایک نرالی شخصیت تھے۔ اُن کے والد پیر تاج الدین جو کہ پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے، جن کا شمار اپنے وقت کی معروف سیاسی شخصیات میں ہوتا تھا اور ہندوستان کی مسلم سیاست میں اُن کا ایک نمایاں کردار رہا تھا۔

رفیع پیر جب اٹھارہ برس کے تھے تو ان کے والد نے انہیں مزید تعلیم کے لئے انگلستان بھیج دیا۔ لیکن کالج میں سرکارِ برطانیہ کے خلاف ایک مظاہرے کا اہتمام کرتے ہوئے رفیع پیر حکام کی نظروں میں آگئے اور آخرِ کار انھیں برطانیہ سے نکلنا پڑا۔

تاہم انہوں نے سفرِ یورپ کو بے کار نہ جانے دیا اور عازمِ جرمنی ہوئے جہاں خوش قسمتی سے اُن کی ملاقات بیسویں صدی کے عظیم ڈائریکٹر اور اداکار میکس رائن ہارٹ سے ہوئی۔ مزید خوش قسمتی یہ ہوئی کہ میکس نے رفیع پیر کو اپنی شاگردی کا شرف بخشا اور کئی برس تک انہیں صداکاری اور اداکاری کے اسرار و رموز سمجھائے۔

چنانچہ جب رفیع پیر ہندوستان لوٹے تو وہ اپنے ملک میں واحد نوجوان تھے جنہوں نے جدید تھیٹر کی یورپی تربیت حاصل کر رکھی تھی۔

جرمنی سے حاصل ہونے والے عِلم اور تجربے کو انہوں نے دیگر ہندوستانی نوجوانوں تک پہنچانے کے لئے ڈرامہ مرکز کے نام سے ایک ادارہ بھی قائم کیا جو کئی برس چلتا رہا۔

چھہتر سال کی عمر میں سنہ 1974 میں جب لاہور میں اُن کی وفات ہوئی تو اُن کی اولاد نے اس کارِ خیر کو آگے بڑھانے کی ٹھانی۔ ادارے کا نیا نام رفیع پیر تھیٹر ورکشاپ رکھا گیا اور اس کے تحت دیگر کئی منصوبوں کے علاوہ عالمی فن کاروں کے سالانہ اجتماع کا اہتمام بھی ہونے لگا۔
چاچا کمال آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فن, کالج, پاکستان, پاکستانی, پسند, لوٹے, امریکہ, بچوں, تاج, تعلیم, خوش, خلاف, سفر, سیاست, شخص, صحافی،, صدی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:38 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger