| فن و فنکار یہاں آپ ساری دنیا کے فن و فنکار کے بارے میں پڑھ سکتے ہیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
معروف بھارتی دانش ور، بزرگ صحافی اور پاک ہند دوستی کے پُرجوش علم بردار کلدیپ نیر نے کہا ہے کہ پاکستانی اور ہندوستانی پنجاب کی اسمبلیوں کو ایک قراردار کے ذریعے ایک دوسرے کے عوام سے معافی مانگنی چاہیئے اور اُس ظلم و ستم کی مذمت کرنی چاہیئے جو تقسیمِ ہند کے وقت دونوں فرقوں نے ایک دوسرے کے ساتھ روا رکھا۔
کلدیپ نیر پنجابی یونیورسٹی پٹیالہ میں پاکستان اور یورپ سے آنے والے پنجابی مندوبین سے خطاب کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ نِصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد اب ہمیں ماضی کی حماقتوں کو فراموش کر کے ایک تابندہ مستقبل کی طرف بڑھنا ہے جو کہ علاقائی تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ کلدیپ نیر نے مطالبہ کیا کہ پاک و ہند میں آمد و رفت کےلئے ویزے کی پابندی ختم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے دونوں حصّوں میں نہ صرف ادیبوں اور شاعروں کا تبادلہ ہونا چاہیئے بلکہ کالجوں کے طلباء اور سکولوں کے بچوں کو بھی ایک دوسرے کے علاقوں کا دورہ کرنا چاہیئے تاکہ آنے والی نسل دوستی اور بھائی چارے کی بنیاد پر ایک نئے معاشرے کی تعمیر کر سکے۔ پنجابی یونیورسٹی پٹیالہ کے وائس چانسلر جسپال سنگھ نے مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے انھیں خوشخبری دی کہ اب پنجابی یونیورسٹی کی ایک نئی ویب سائٹ کا آغاز ہو گیا ہے جسکے ذریعے دونوں ملکوں کے پنجابی ادیب ایک دوسرے کی تازہ نگارشات سے آگاہی حاصل کر سکیں گے اور ان تخلیقات پر باہمی تبادلہء خیال بھی کر سکیں گے۔ ہالینڈ سے آئے ہوئے پنجابی شاعر اور ادیب اسد مفتی نے اپنا یورپی تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ یورپ میں جب مسافروں کی بس یا ٹرین ایک ملک سے دوسرے ملک کی حدود میں داخل ہوتی ہے تو مسافروں کو پتہ بھی نہیں چلتا حالانکہ وہ سب الگ الگ اور خودمختار ریاستیں ہیں اور بعض صورتوں میں وہاں زبان اور کلچر کا بھی بہت فرق ہوتا ہے۔ لیکن سرحدوں پر نہ تو خاردار تاریں ہیں نہ ویزے کی پڑتال کرنے والا بارودی عملہ۔۔۔ لیکن اسکے برعکس لاہور سے امرتسر جانا ہو یا امرتسر سے لاہور آنا ہو تو اپنے ہی ہم زبان محافظوں کے سامنے مجرموں کی طرح پیش ہونا پڑتا ہے۔ اسد مفتی نے منٹو کے ایک افسانے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ آخر ہم کب تک ٹوبہ ٹیک سنگھ بنے دیوانہ وار سرحد کے آر پار دیکھتے رہیں گے۔ ناروے سے آئے ہوئے پنجابی شاعر اور کالم نگار مسعود منور نے اپنے چُلبلے انداز میں تازہ کلام سنایا اور نظموں کے درمیان چُٹکلوں کی پھلجھڑیاں بھی چھوڑتے رہے۔ منو بھائی نے حاضرین کی فرمائش پر اپنی چند مقبولِ عام پنجابی نظمیں سنائیں اور کچھ نیا کلام بھی پیش کیا۔ پاکستان سے پٹیالہ جانے والے دیگر ادیبوں اور شاعروں میں احمد سلیم، روشن آرا نزہت، شعیب عادل، زاہد عکاسی، سلمیٰ اعوان، ثروت محی الدین اور نیلم بشیر شامل تھیں۔ بھارتی پنجاب کے دورے سے لوٹنے والے اِن ادیبوں اور صحافیوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی پنجاب میں بھی بھارتی دانش وروں اور طالب علموں کےلئے آمد و رفت میں سہولتیں پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ملکوں میں سیاسی مفاہمت اور اقتصادی تعاون کی فضا پیدا ہوسکے۔ پٹیالہ میں اس حالیہ اجتماع کا اہتمام پنجابی یونیورسٹی پٹیالہ اور پنجابی جاگرن کمیٹی نے مشترکہ طور پر کیا تھا جس میں شرکت کےلئے پاکستان کے علاوہ یورپ سے بھی کچھ پاکستانی شاعر اور ادیب پٹیالہ گئے۔
__________________
----------
![]() |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 20
مراسلات: 5,772
کمائي: 82,792
شکریہ: 2
2,019 مراسلہ میں 3,246 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھا لکھا ھے اپ نے۔
|
|
|
|