| فن و فنکار یہاں آپ ساری دنیا کے فن و فنکار کے بارے میں پڑھ سکتے ہیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
مسلمانوں کے تصوف کی طرف مغرب کی رغبت یوں تو کوئی نئی بات نہیں اور اس موضوع پر بہت سی ایسی کتابیں ہیں جو یا تو مسلم صوفیا کی تحریوں سے اقتباسات پر مشتمل ہیں یا مکمل ترجمہ ہیں یا اسلام قبول کرنے والوں نے لکھی ہیں۔
لیکن آکسفرڈ یونیورسٹی پریس نے ڈاکٹر جرجن واسم فریمبجن کی جو کتاب انگریزی میں شائع کی ہے وہ قدرے الگ نوعیت کی ہے۔ خود ڈاکٹر فریمبجن کے مطابق ’یہ علمی مطالعہ نہیں ہے۔ میں نے سیہون میں لال شہباز قلندر کی درگاہ بظور زائر اپنے تجربات و محسوسات کو اظہار دینے کے لیے ادبی اور داخلی انداز اختیار کیا ہے۔‘ یہ تجربات اور محسوسات انھیں لال شہباز کی درگاہ پرگزارے گئے ان پانچ دنوں اور راتوں کے دوران حاصل ہوئے جن میں عُرس کا موقع بھی شامل تھا۔ڈاکٹر فریمبجن نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ ان کی یہ کتاب نوجوانوں اور مغرب میں رہنے والوں کے لیے زیادہ دلچسپی کی حامل ہو گی۔ کتاب کی رونمائی منگل کو آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کے کراچی میں واقع صدر دفتر میں کیا گیا۔ تقریب کے آغاز پر آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کی منیجنگ ڈائریکٹر امینہ سیّدمصنف کا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ جرجن واسم فریمبجن میونخ میں انسانی نسلوں کا عجائب گھر اورینٹل ڈیپارٹمنٹ کے نگرانِ اعلیٰ اور میونخ یونیورسٹی میں اسلامک سٹڈیز کے پروفیسر ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان سمیت کئی اور ملکوں میں بھی مہمان پروفیسر کی حیثیت سے تدریسی فرائض انجام دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی یہ کتاب پہلے جرمن زبان میں شائع ہوئی اور اب انگریزی میں شائع کی جا رہی ہے اور اس سے ہمیں تصوف و درویشی کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔امینہ سیّد کے مطابق ’ ثقافت اور روحانی رنگا رنگی سے بھرے تجربات اور محسوسات کو ڈاکٹر فریمبجن نے انتہائی قابلِ اعتبار اور دلکش انداز میں بیان کیا ہے‘۔ تقریب مہمانِ خصوصی اور بنیادی مقرر لال شہباز کی درگاہ کے سجادہ نشین ڈاکٹر سیّدمہدی رضا شاہ سبزواری تھے۔ ان کا خاندان ساڑھے سات سو سال سے درگاہ کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تصور کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ تصور اور عمل کے فرق کو سمجھا جائےعمل ان تصورات کے ساتھ چلتا ہے جو دیرپا ہوتے ہیں۔ انھوں نے دھمال کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’ تال کی ماتراؤں پر دھمال دراصل اس وجد تک رسائی کا ذریعہ ہے جو تصور اور عمل کی یکجائی سے حاصل ہوتا ہے‘۔انھوں نے تال کو علامتی زبان قرار دیا اور کہا اس زبان کے ذریعے پیغام رسانی کا کام قدیم زمانوں سے جاری ہے اور یہ زبان ایسی ہے جسے دھمال ڈالنے والے کا دماغ نہیں دل اور جسم سمجھتا ہے۔ تقریب سے مصور اور ’اے جرنی ود دا صوفیز آف انڈس کی مصنفہ ثمینہ قریشی اور ٹیلی ویژن کی پیشکار عطیہ خان نے بھی خطاب کیا۔ تقریب کا آغاز ستار اور طبلے پر ’لال مری پت رکھیو۔ ۔ ۔ ‘ سے اور اختتام جگل بندی ہر ہوا۔ جس کے ستار پر شہروز حسین اور طبلے پر وجاحت حسین تھے۔ لال صوفی کی درگاہ پر
__________________
کدی حال تان پوچھیا کر
دل دے تھورے ہین کج ویکھ کےروسیا کر |
|
|
|
| پاکستانی کا شکریہ ادا کیا گیا | saraah (24-03-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,228
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلامُ علیکم
شیئرنگ کا شُکریہ، باقی رائے اسکو پڑھ کردی جائے گی۔ جزاک اللہ خیر |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کراچی, گھر, پہلے, پاکستان, یوں, یا, وضاحت, مکمل, موقع, مسلمانوں, مطابق, انداز, اسلام, اعلیٰ, تعارف, حامل, خصوصی, دیکھ, سال, علمی, علامتی, عجائب, عطیہ, صوفی, صدر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| چاہت کے اصول | راجہ اکرام | گپ شپ | 28 | 08-10-10 12:19 AM |
| ہمارا اصول یہ ہے کہ ہمارا کوئی اصول نہیں | فیصل ناصر | عمومی بحث | 36 | 08-10-09 03:03 AM |
| سنہری اصول: | اسد لطیف | عمومی بحث | 9 | 11-04-09 03:39 AM |
| پکا اُصول | عبدالقدوس | قہقہے ہی قہقے | 1 | 19-04-08 03:10 AM |
| 25 سنہری اصول۔۔۔۔۔۔۔۔۔ | پاکستانی | اسلامی نظریہ حیات | 5 | 06-06-07 10:34 AM |