| فیشن اور بیوٹی ٹپس فیشن اور بیوٹی ٹپس |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,715
کمائي: 35,933
شکریہ: 165
749 مراسلہ میں 1,729 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
چکنی جلد کی دیکھ بھال کرنا بہت ہی مشکل کام ہوتا ہے زیادہ تر جلدی بیماریاں بھی ایسی ہی جلد کی حامل خواتین کو ہوتی ہیں۔ اس قسم کی جلد کے مسام کھلے ہوتے ہیں اور سطح چکنی ہوتی ہے اسی لئے ایسی جلد میں مہاسے' بلیک ہیڈز اور ڈنبل نکلنے کا رجحان پایا جاتا ہے اور دیکھنے میں جلد پھیکی سی نظر آتی ہے اس کی وجہ جلد کی اندرونی سطح میں پائے جانے والے غدودوں کا زیادہ مقدار میں چکنائی بنانا ہے۔ بدقسمتی سے اس قسم کی جلد پر مہاسے آسانی سے پیدا ہو جاتے ہیں مگر اچھی بات یہ ہے کہ چکنی جلد زیادہ عرصے تک جوان رہتی ہے جو ایک تقویت کی بات ہے۔
جلد کی خصوصی حفاظت: اس بات کا خیال رکھیں کہ چکنی جلد کے ساتھ سختی کا برتائو نہ کریں۔ خصوصاً مہاسے نکلنے کے دوران تویہی دل چاہتا ہے کہ اسے خوب رگڑ ڈالیں۔ بہت زیادہ رگڑنے سے چکنائی کے غدود اور زیادہ سیبم پیدا کرنے لگتے ہیں جبکہ جلد کی اوپری سطح خشک اور روکھی نظر آنے لگتی ہے۔ چکنی جلد کی حفاظت کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایسی مصنوعات استعمال کریں جو جلد کی سطح سے نزاکت کے ساتھ چکنائی دور کر دیں اور مساموں کو کھول دیں۔ یہ مصنوعات جلد کو خشک بھی نہیں کرتیں اور اسے نقصان بھی نہیں پہنچاتیں' جلد کی نظر آنے والی اوپری سطح کو ملائم اور چمکدار رکھنے کے لئے چکنائی کی نہیں بلکہ نمی کی ضرورت ہوتی ہے۔ مہاسوں اور پھنسیوں سے ہوشیاررہیں! مہاسوں کے مرض میں مبتلا ہر خاتون کو اس کی تکلیف کا احساس ہوتا ہے۔ عموماً یہ ہر ایک کی زندگی میں اس وقت نکلتے ہیں جب وہ پہلے ہی عدم تحفظ کا شکار ہو یعنی آغاز جوانی کے وقت یہ مرض جینیاتی ہونے کے علاوہ ہارمونز کی تبدیلی کے باعث پیدا ہوتا ہے اور جلد زیادہ سیبم پیدا کرنے لگتی ہے۔ ذہنی دبائو' غلط طرز زندگی اور جلد کی حفاظت میں بے احتیاطی برتنا بھی اس کے پیدا ہونے کے باعث ہیں۔ جلد کی باقاعدگی سے حفاظت کریں تو مہاسوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ مہاسوں کو نوچنے سے احتراز کریں کیونکہ اس طرح جلد پر نشان رہ جاتے ہیں۔ آج کل کی مصنوعات میں ایسے اجزاء شامل کئے جاتے ہیں جو مہاسوں کے علاج میں مفید ہوتے ہیں۔ اگر ان سے فائدہ نہ ہو تو پھر اپنے معالج سے مشورہ حاصل کریں وہ یا تو خود علاج کرے گا یا پھر آپ کو کسی ماہر امراض جلد کے پاس بھیج دے گا۔ جیسی بھی صورت ہو اپنا علاج دل جمعی سے کرا لیں۔ آپ کا سارا چہرہ چکنائی پیدا کرتا ہو تب بھی یہ خیال رکھیں کہ آنکھوںکے اطراف کی جلد بہت نازک ہوتی ہے۔ اس لئے اتارتے وقت ان کے اطراف کی جلد کو رگڑیں مت۔ روئی کی ایک پھریری کو بغیر چکنائی کے ریموور میں بھگو لیں اور آنکھوں کے اوپر چند سیکنڈ کے لئے رکھ دیں تاکہ ان کا میک اپ اس میں گھل جائے پھر آنکھوں کے پپوٹوں کے اوپر سے بڑی ملائمت کے ساتھ مسکارا میک اپ چھڑا لیں۔ اوپری اور نچلی پلکوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کریں۔نرم فیشل واش کا جھاگ بنا کر منہ پر مل لیں۔ یہ عام صابن سے کہیں بہتر ہے۔ کیونکہ فیشل واش آپ کے چہرے کی جلد کی نمی کو خشک نہیں کرتا۔ بلکہ صرف گردوغبار اور چکنائی ہی دور کرتا ہے۔ انگلیوںکی پوروں کی مدد سے اس جھاگ کو منہ پر آہستہ آہستہ ملیں پھر نیم گرم پانی سے صابن کے جھاگ کو دھو کر صاف کر لیں۔روئی کی پھریری کو تازہ کرنے والے ایسٹرنجنٹ لوشن میں بھگو لیں۔ پھر اس کو چہرے کی پوری جلد پر آہستگی سے ملیں تاکہ اس میں تازگی اور ٹھنڈک پیدا ہو جائے۔ یہ لوشن آپ کی جلد پر نہ تو جلن پیدا کرے گا اور نہ ہی چبھن کا احساس ہو گا لیکن اگر ایسا ہو تو پھر زیادہ ہلکی مصنوعات استعمال کریں ۔ ٭٭ |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
بہت خوب شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|