واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > پاکستان کے ہیروز > قائد اعظم (RA)




قائد اعظم ھم شرمندہ ہیں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-12-10, 03:52 PM   #1
قائد اعظم ھم شرمندہ ہیں
نیلم خان نیلم خان آن لائن ہے 25-12-10, 03:52 PM

قوم آج بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا 135 واں یوم ولادت اس حالت میں منا رہی ہے کہ قائد کا پاکستان لہو لہان ہے دہشت گردی بدامنی کرپشن اور حکمران کی لوٹ مار کی وجہ سے قائد کا خواب ہنوز تشنہ تعبیر ہے

پاکستان قائد اعظم کے خوابوں کی تعبیر اور ان کی جدوجہد کا حاصل تھا یہ برصغیر کے مسلمانوں کی خوش قسمتی تھی کہ انہین قدرت نے قائد اعظم جیسا لیڈر عطا کیا جس کی انتھک محنت اور کاوش سے اپنی قوم کو وہ عزت عظمنت اور سربلندی دی کہ دنیا حیران رہ گئ یہ قائد اعظم کا اپنے مشن کے ساتھ خلوص اور عزم تھا کہ اپنے ناتواں اور نحیف سے وجود کے ساتھ انہوں نے صدی کا سب سے بڑا معرکہ سر انجام دیا وہ اپنے کاز کے ساتھ اتنا مخلص تھے کہ جس نے انہیں ایک بار دیکھا یا سنا تو ان کی آواز پر لبیک کہنے پر مجبور ہو گیا ان کی قیادت اور رہنمائ میں لاکھوں مسلمانون نے اس تحریک میں حصہ لیا اور ان کے مشن کی حقانیت پر یقین رکھتے ہوئے اپنی جانوں‌کا نذرانہ پیش کیا قیام پاکستان سے قبل خطے پر انگریزوں کے ساتھ ساتھ مکارو عیاش ہندوؤں کا اقتدار تھا جو مسلمانوں کو محکوم اور مقہور رکھنا اپنی ذمداری سمجھتے تھے قائد اعظم نے دو قومی نظریہ پیش کیا جس کے مطابق مسلمان علٰٰیحدہ تشخص اور پہچان رکھتے ہیں لہذا ان کے لئے ایک ایسا ملک ہو جہاں وہ اپنے مذہب معاملات کو مکمل آزادی کے ساتھ سر انجام دے سکیں قائد اعظم ملک کو ایک روشن خیال اور جدید اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے جہان نہ صرف مسلمان اپنی زندگیاں گزارنے میں آزاد و خود مختار ہوں بلکہ اقلیتوں کو بھی جانی مالی اور مذہبی اعتبار سے مکمل آزادی حاصل ہو قائد اعظم اسلامی اصولوں پر مبنی جمہوریت کے قائل تھے اور اسی طرز حکمرانی کو وہ ملک عزیز کے لئے پسند کرتے تھے

پاکستان کو قائم ہوئے 63 سال کا عرصہ گزر چکا ہے افسوس کہ ھم آج تک اس ملک کو قائد اعظم کے خواب کے مطابق تشکیل نہ دے سکے فلاحی مملکت تو دور کی بات ھمارے کرپٹ اور بد عنوان حکمرانوں نے اسے بھاری مملکت بنا دیا اپنی ایک تقریر میں قائد اعظم نے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ اگر غریب کو 2 وقت کی روٹی نہیں ملتی تو انہیں پاکستان کی کوئ ضرورت نہیں

افسوس کہ آج پاکستان میں وہی سب کچھ ہو رہا ہے جس کی پیش گوئ قائد اعظم نے کی تھی غریب ایک وقت کی روٹی کو ترس رہا ہے امیر امیر تر اور گریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے مائیں اپنے ہاتھوں سے اپنے معصوم بچوں کے گلے کاٹنے پر مجبور ہیں باپ شفقت پدری کو پس پشت ڈال کر بچوں کو زہر کے انجکشن لگا رہے ہیں غریب چلتی ٹرینوں کے نیچے سر رکھ کر جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں اہل فکر حیران و پریشان ہیں یہی قائد اعظم کا پاکستان ہے قائد اعظم تو اسے فلاحی مملکت بنانا چاہتے تھے ان کی خواہش تھی کہ پاکستان کے لئے وفاقی طرز کا ایک آئین ہونا چاہیئے جس میں ایک مظبوط مرکز پاکستان کی وحدت اور سالمیت کا ضامن ہو یہاں تو ہر کوئ اپنی ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائے بیٹھا ہے کسی کے ذہن میں بھی پاکستان کا خیال نہیں ہر ایک کو اپنی ذات اور جماعت کی فکر کھائے جا رہی ہے کوئ بہت مخلص ہے تو وہ اپنے صوبے کے لئے جنگ لڑتا ہے باقی سارا پاکستان اس کی طرف سے بھاڑ میں جائے اسے اس کی کوئ پرواہ نہیں قائد اظم آئین اور قانون کی بالا دستی پر یقین رکھتے تھے ان کی خواہش تھی کہ ملک کے لئے ایک جمہوری آئین ہو ایسا آئین جو اسلامی تعلیمات کے مطابق جمہوریت معاشرتی انصاف اور انسانی مساوات کو یقینی بنا سکے جبکہ آج کے حکمران تو آئین اور قانون کی دھجیاں بکھرنے میں مصروف ہیں


ایک آمر نے آئین کو ردی کے چند صفحات کہا تو ملک میں ہاہاکار مچ گئ آج آئین کو عملاً ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیا گیا ہے مگر جمہوریت کے علمبردار خاموش ہیں ھم ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ ملک میں‌صدارتی نظام ہونا چاہیئے یا پارلیمانی؟ آمریت ھمارے لئے بہتر ہے کہ جمہوریت ؟ اختیارات کا منبع و مرکز کون ہو؟ عوام تو دور کی بات سیاست دانوں کے ذہن میں بھی اس بارے میں کوئ واضع نہیں ہیں وہ وقتی مفادات اور منافع کو دیکھ کر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرتے رہتے ہیں کبھی اپنے مفاد کی خاطر آمر کا ساتھ دیتے ہیں تو کبھی جمہوریت کی طرف لڑھک جاتے ہیں آمر کے مضبوط اور پختہ ستون ہی اس آمر کی رخصت کے بعد جمہوریت زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں ان کے اس عمل کو دیکھ کر یہ یقین ہو جاتا ہے کہ آج جمہوریت تماش بینوں میں گھری ہوئ ہے ادارے باہمی دست و گریباں ہیں ہر کوئ اپنی بالا دستی اور طاقت کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے عدلیہ کو انتظامیہ سے شکایتیں ہیں تو انتظامیہ کا دعوٰی ہے کہ عدلیہ اپنی حدود تجاوز کر رہی ہے ایک دوسرے کو اپنی حد میں رکھنے کے لئے ہر قسم کے حربے آزمائے جا رہے ہیں یوں سیاست دانوں کی دال روٹی چلتی رہتی ہے امن و امان کی صورتحال انتہائ مخدوش ہے اب تو مساجد اور مزارات بھی محفوظ نہیں ہیں‌آئین اور قانوں کی حفاظت کے لئے ادارے تو موجود ہیں مگر ان کے ہوتے ہوئے بھی بھینس اسی کی ہے جس کے پاس لاٹھی ہے حکمران کرپشن کی دلدل میں اس حد تک لت پت ہو گئے ہیں کہ وزراء بھی کرپشن کے حق میں بیان دیتے ہیں عوام تو عوام حکمران بھی ٹیکس دینا اپنی توہین سمجھتے ہیں وزیر اعظم تک کے عہدے پر فائز لوگ کئ برسوں سے ٹیکس ادا نہین کر رہے افسر شاہی خود سر ہو چکی ہے حکومت انتظامی معاملات اداروں کی بجائے بیورو کریسی سے چلا رہی ہے
قائد اعظم نے ایک موقع پر سرکاری افسروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ہک وہ زمانہ چلا گیا جب انتظامیہ کے ذریعے حکومت کی جاتی تھی اب عوام کی حکومت ہو گی جو جمہوری اور پارلیمانی طریقے پر عوام کے سامنے جوابدہ ہو گی قائد اعظم کے خواب ان کے ساتھ ہی ان کی قبر میں اتر گئے بعد میں آنے والے لوگ کھوٹے سکے ثابت ہوئے جنہوں نے اپنی جاگیرداریاں اور زمینداریاں مضبوط کیں - سیاسی رہنما ہوں یا مذہبی قیادت اپنے مفادات کو دیکھ کر چلنے لگے سیاسی لوگوں کو اقتدار سے دور کیا جائے تو جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے اور مذہبی قیادت کو اقتدار سے ہٹایا جائے تو اسلام خطرے میں پڑ جاتا ہے مذہب اور جمہوریت کے نام پر ہر کوئ اپنی ڈگڈی بجا رہا ہے نتیجہ یہ ہے کہ ملک میں جمہوریت ہے ناں مذہب کی حکمرانی
کراچی بار ایسوسی ایشن سے اپنے خطاب میں قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ 'میں ان لوگوں کی بات نہیں سمجھ سکتا کہ جو یہ پراپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ پاکستان کو دستور شریعت کی بنیاد پر نہیں‌بنایا جائے گا اسلام کے اصول عام زندگی میں آج بھی اس طرح قابل اطلاق ہیں جس طرح 13 سو سال پہلے تھے مین یہ صاف صاف بتا دینا چاہتا ہوں کہ نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ یہاں کے غیر مسلمان کو بھی کوئ ڈر اور خوف نہیں ہونا چاہئے ۔ اسلام اور اس کے نظریات نے ہمیں‌ جمہوریت کا درس دے رکھا ہے ہر شخص سے انصاف، رواداری اور مساوی برتاؤ اسلام کا بنیادی اصول ہے پھر کسی کو ایسی جمہوریت مساوات اور آزادی سے خوف کیوں لاحق ہو؟ ان لوگوں کو کہنے دیجیئے ھم دستور پاکستان بنائیں گے اور دنیا کو دکھائیں گے کہ یہ ریا اک اعلٰی آئینی نمونہ


قائد اعظم ھم شرمندہ ہیں
__________________
سمندر نے سمندر ،دریا نے دریا جانا مجھے
جسکا جتنا ظرف تھا اتنا ہی پہچانا مجھے

Last edited by نیلم خان; 26-12-10 at 07:37 PM..

 
نیلم خان's Avatar
نیلم خان
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
شکریہ: 25,577
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 338
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا
Kamran_Tabasum (06-01-11), فرحان دانش (25-12-10), ھارون اعظم (25-12-10), بزم خیال (26-12-10), تانیہ رحمان ستارہ (25-12-10), سحر (26-12-10), غلام خان (28-12-10)
پرانا 25-12-10, 04:13 PM   #2
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
کمائي: 561,157
شکریہ: 25,577
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

دوسرا حصہ رات کو پیش کرو ں گی کچھ مہماں آ گئے ہیں
نیلم خان آن لائن ہے   Reply With Quote
نیلم خان کا شکریہ ادا کیا گیا
Kamran_Tabasum (06-01-11)
پرانا 25-12-10, 04:19 PM   #3
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,228
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

واقعی ہم شرمندہ ہیں۔

اگلے حصے کا انتظارہے۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
Kamran_Tabasum (06-01-11), نیلم خان (25-12-10)
پرانا 25-12-10, 04:23 PM   #4
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Nov 2007
مقام: Lahore, Punjab, Pakistan
عمر: 41
مراسلات: 134
کمائي: 3,031
شکریہ: 9
94 مراسلہ میں 267 بارشکریہ ادا کیا گیا
lordforkland کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں lordforkland کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں lordforkland کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں lordforkland کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں lordforkland کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اگر صرف اپنے آپ کو ٹھیک کر لیا جائے۔ اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا محاسبہ کر لیا جائے تو میرا خیال ہے کہ کچھ شرمندگی کم ہو سکتی ہے۔
lordforkland آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے lordforkland کا شکریہ ادا کیا
Kamran_Tabasum (06-01-11), نیلم خان (26-12-10)
پرانا 25-12-10, 04:29 PM   #5
Senior Member
 
تانیہ رحمان ستارہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2008
مراسلات: 1,302
کمائي: 30,791
شکریہ: 1,240
1,047 مراسلہ میں 3,049 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : lordforkland مراسلہ دیکھیں
اگر صرف اپنے آپ کو ٹھیک کر لیا جائے۔ اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا محاسبہ کر لیا جائے تو میرا خیال ہے کہ کچھ شرمندگی کم ہو سکتی ہے۔
کہنا آسان ہے کرنا مشکل ۔ یہی ہمارا سب سے بڑا مسلہ ہے ۔۔۔۔
تانیہ رحمان ستارہ آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے تانیہ رحمان ستارہ کا شکریہ ادا کیا
Kamran_Tabasum (06-01-11), نیلم خان (26-12-10)
پرانا 25-12-10, 04:33 PM   #6
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Nov 2007
مقام: Lahore, Punjab, Pakistan
عمر: 41
مراسلات: 134
کمائي: 3,031
شکریہ: 9
94 مراسلہ میں 267 بارشکریہ ادا کیا گیا
lordforkland کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں lordforkland کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں lordforkland کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں lordforkland کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں lordforkland کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یہ سوچ کر کہ کہنا آسان ہے کرنا مشکل کیا ہم کوشش بھی نہیں کر سکتے؟
lordforkland آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے lordforkland کا شکریہ ادا کیا
Kamran_Tabasum (06-01-11), نیلم خان (26-12-10)
پرانا 26-12-10, 06:55 AM   #7
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,427
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
یہاں تو ہر کوئ اپنی ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائے بیٹھا ہے کسی کے ذہن میں بھی پاکستان کا خیال نہیں ہر ایک کو اپنی ذات اور جماعت کی فکر کھائے جا رہی ہے کوئ بہت مخلص ہے تو وہ اپنے صوبے کے لئے جنگ لڑتا ہے باقی سارا پاکستان اس کی طرف سے بھاڑ میں جائے اسے اس کی کوئ پرواہ نہیں قائد اعظم آئین اور قانون کی بالا دستی پر یقین رکھتے تھے ان کی خواہش تھی کہ ملک کے لئے ایک جمہوری آئین ہو ایسا آئین جو اسلامی تعلیمات کے مطابق جمہوریت معاشرتی انصاف اور انسانی مساوات کو یقینی بنا سکے جبکہ آج کے حکمران تو آئین اور قانون کی دھجیاں بکھرنے میں مصروف ہیں
یہ ہیں وہ لوگ جنہیں اصل میں شرمندہ ہونا چاہئے ۔
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
Kamran_Tabasum (06-01-11), نیلم خان (26-12-10), غلام خان (28-12-10)
پرانا 26-12-10, 07:41 PM   #8
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
کمائي: 561,157
شکریہ: 25,577
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت شکریہ محمود بھائ

دوسرا حصہ سبز رنگ میں پیش خدمت ہے
نیلم خان آن لائن ہے   Reply With Quote
نیلم خان کا شکریہ ادا کیا گیا
Kamran_Tabasum (06-01-11)
پرانا 01-01-11, 02:57 PM   #9
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
کمائي: 561,157
شکریہ: 25,577
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت شکریہ محمود بھائ

دوسرا حصہ سبز رنگ میں پیش خدمت ہے
نیلم خان آن لائن ہے   Reply With Quote
نیلم خان کا شکریہ ادا کیا گیا
Kamran_Tabasum (06-01-11)
پرانا 06-01-11, 12:05 AM   #10
Senior Member
 
Kamran_Tabasum's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: rawalpindi
مراسلات: 1,090
کمائي: 13,504
شکریہ: 12,553
976 مراسلہ میں 2,849 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اے روح قائد ھم تجھ سے شرمندہ ہیں
Kamran_Tabasum آف لائن ہے   Reply With Quote
Kamran_Tabasum کا شکریہ ادا کیا گیا
نیلم خان (06-01-11)
پرانا 06-01-11, 09:23 PM   #11
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
کمائي: 561,157
شکریہ: 25,577
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Kamran_Tabasum مراسلہ دیکھیں
اے روح قائد ھم تجھ سے شرمندہ ہیں
آپ کی تشریف آوری کا شکریہ ۔
نیلم خان آن لائن ہے   Reply With Quote
نیلم خان کا شکریہ ادا کیا گیا
Kamran_Tabasum (19-01-11)
جواب

Tags
color, پہچان, پاکستان, پسند, مکمل, مسجد, آج, آزادی, امیر, اسلامی, بچوں, جناح, خوش, دنیا, سال, علی, عنوان, عرصہ, عزیز, عزم, عزت, غریب, صوبے, صدی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:51 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger