
منگل, 08 جون 2010 13:33
تحریر:سمیع اللہ ملک
بی بی سی کے زیرِ اہتمام ایک عالمی سروے میں قائد اعظم کو جنوبی ایشیا کا عظیم ترین رہنما تسلیم کیا گیا ہے۔ان کی عظمت کے کئی پہلو ہیں ‘جن کا اعتراف دنیا کے تمام انصاف پسند حلقوںنے کیا ہے حتیٰ کہ منصف مزاج ہندو مصنفین اور دانشوروں نے بھی ان کی جرات و استقامت ‘بالغ نظری ‘دور اندیشی ‘جمہوریت وقانون پسندی اور دیانت وامانت کو خراجِ تحسین پیش کیا اور بعض ہندورہنماوں نے یہ تک کہا کہ کانگرس میں ایک قائد اعظم ہوتا تو برصغیر کی تقسیم نہ ہوتی۔
قائد اعظم نے علیحدہ وطن کا مطالبہ اس وقت کیا جب سفیر اتحاد کی حیثیت سے برصغیر کی دونوں قوموں کو اکٹھا رکھنے اور ہندو اکثریت کو مسلم اقلیت کے سیاسی و اقتصادی حقوق جمہوری اصولوں کے مطابق تسلیم کرنے کی کوششیں ناکام ہو گئیں اور انتہا پسند ‘تنگ نظراور مسلم دشمن کانگریسی قیادت نے ثابت کردیا کہ وہ متحدہ ہندوستان میں ماضی کی حکمران مسلمان قوم کا وجود برداشت کرنے اور آزادی کے بعد اسے عزت و احترام کے ساتھ اپنے ساتھ رکھنے پر آمادہ نہیں۔قائداعظم نے ایک گولی چلائے بغیر اپنی باعزم قیادت اور اسلامیانِ برصغیر کی جمہوری جدوجہد کے ذریعے آزاد خود مختارریاست حاصل کی جس کے بارے میں وہ باربار یقین دلا چکے تھے کہ نئی ریاست اسلام کا قلعہ ہوگی اور اس کے سنہری اصولوں کا احیاءکرے گی‘جمہوری پارلیمانی نظام کے تحت کام کرے گی اور جدید تقاضوں کے مطابق صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست ہوگی۔
اقبال نے دوقومی نظریہ کے تحت ایک آزاد مسلم ریاست کو جو تصور پیش کیا اور جسے قائد اعظم نے حاصل کرنے کےلئے مردانہ وار جدوجہد کی‘اس کے بارے میں بانی پاکستان نے باربار واضح کیا کہ وہ مسلمانوں کے معاش اور روزگار کا مسئلہ حل کرے گی۔ایک موقع پر انہوں نے کھل کر یہ کہا کہ مجھے ایسے پاکستان میں کوئی دلچسپی نہیں جو جاگیرداروں‘وڈیروںاور سرمایہ داروں کے حقوق کا محافظ ہو۔قائد اعظم نے اپنی زندگی میں پاکستان کےلئے اسلامی جمہوری پارلیمانی نظا م پسند کیا‘آئین کے بارے میں واضح طور پر کہا کہ اسلام کے جمہوری اصولوں کے مطابق مدون ہوگا۔نئی ریاست میں اقلیتوں کو مکمل حقوق حاصل ہونگے جو اسلام نے انہیں عطا کئے ہیں اور فوج کا کردار منتخب جمہوری حکومت کے ایک ماتحت ادارے کا ہوگا۔
یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ قائدکی زندگی ہی میں فوج کے انگریز کمانڈرانچیف نے حکم عدولی کی اور قائد اعظم کے احکامات کے تحت پاکستان کی شہہ رگ کشمیر میں فوجی دستے بھیجنے سے انکار کیا جب کہ بھارت کے فوجی کمانڈر انچیف نے جواہرلال نہروکے احکام کی مکمل اطاعت کی اور سرینگر ائیر پورٹ پر قبضہ کرکے مجاہدین کے بڑھتے ہوئے قدم روک دیئے۔
قا ئد اعظم کی وفات کے صرف دس سال بعد جنرل ایوب خان نے جمہوری نظام کی بساط لپیٹ کر ملک میں فوج کی حکمرانی کا اصول متعارف کرایاجو کسی نہ کسی شکل میں مروج ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان نسل کو تاریخ کے حوالے سے بتایا جائے کہ کن مشکل حالات میں پاکستان کو حاصل کیا گیااس کا اندازہ ہمیں قائد اعظم کے اس خط سے ہوتا ہے جو انہوں نے ۵۲ستمبر ۴۴۹۱ءکو یعنی ملاقاتوں کے آخری دنوں میں گاندھی جی کو لکھا۔قائداعظم لکھتے ہیں” کہ آپ پہلے ہی قرارداد لاہور کے بنیادی اصولوں کو مسترد کر چکے ہیں‘آپ یہ تسلیم نہیں کرتے کہ مسلمان ایک قوم ہیں ‘آپ یہ تسلیم نہیں کرتے کہ مسلمانوں کو حقِ خود اختیاری ہے اور وہی اسے استعمال کر سکتے ہیں‘آپ یہ نہیں مانتے کہ پاکستان دو خطوں اور چھ صوبوںپر مشتمل ہے آپ سے خط و کتابت اور بحث کے بعد میں یہ کہہ سکتا ہوںکہ انڈیا کی پاکستان اور ہندوستان میں تقسیم کی آوازصرف آپ کے لبوں پر ہے ‘یہ آپ کے دل کی آواز نہیں۔“گاندھی کے اس رویے سے ناکامی اس بات چیت کا مقدر بن گئی۔
۹۲ستمبر۴۴۹۱ءکوویول نے اپنی ڈائری میں لکھاکہ” مجھے (اس گفت و شنید سے)بہتر نتیجے کی توقع تھی۔اس سے ایک لیڈرکے طور پر گاندھی کی شہرت کو شدید دھچکا لگا ہے۔جناح کا کام بہت آسان تھا‘انہیں گاندھی جی سے صرف یہ کہتے رہنا تھاکہ تم بکواس کر رہے ہو اور یہ بات ٹھیک بھی تھی لیکن انہوں نے یہ بات گستاخانہ انداز میں کیمیرے خیال میں اس سے اپنے پیروکاروں میں جناح کی عزت تو شائد بڑھ گئی ہولیکن اس معقول آدمیوں کے درمیان ان کی شہرت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔“ویول اور دیگر انگریز حکمرانوں کی نظر میں معقول آدمی وہ ہے جو ان ہی کے دماغ سے سوچے اور اس پر عمل کرے۔ان کی معقولیت کی ڈکشنری میں آزادانہ فکروعمل کی کوئی گنجائش نہیں!
مذاکرات کی ناکامی کے بعد قائد اعظم نے۴اکتوبر۴۴۹۱ءکو ایک پریس کانفرنس میں اپنے نقطہ نظرکی وضاحت کی۔ایک اخباری نمائندہ نے ان سے پوچھاکہ کیا مستقبل قریب میں گاندھی جی سے آپ کی ملاقات کا کوئی امکان ہے؟قائد اعظم نے مزاحاً کہا کہ مسٹر گاندھی جی کہتے ہیںکہ اس کا انحصار ان کے دل کی آواز پرہے ‘چونکہ میری وہاں تک رسائی نہیں ‘اس لئے میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔حقیقت یہ ہے کہ گاندھی جی کی نیت معاملات کو طے کرنے کی تھی ہی نہیں۔قائد اعظم سے گفت و شنید کے دوران ہی انہوں نے راجکوپال اچاریہ سے کہا تھا کہ اس بات چیت سے میرا اصل مقصد جناح کے منہ سے یہ کہلوانا ہے کہ پاکستان کاتصور ہی غلط اور لغو ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ گاندھی جی کو قائداعظم کی صلاحیتوں کا صحیح اندازہ نہیں تھا اس لئے ان کی تمام تدابیر غیر موثر رہیں۔
۵۴۹۱ءمیں قائد اعظم کو نظر آرہا تھا کہ اب برطانوی حکومت کو ہندوستان میں الیکشن کرانے ہی پڑیں گے چنانچہ انہوں نے اپنی مہم کا آغاز کرتے ہوئے ۶۱/اگست ۵۴۹۱ءکو بمبئی سے ایک بیان میں کہا کہ مسٹر گاندھی جی جب مناسب سمجھیںوہ کسی کے بھی نمائندے نہیں ہوتے ‘وہ ذاتی حیثیت میں بات کرتے ہیں‘وہ کانگرس کے چارآنے کے بھی رکن نہیں۔وہ اپنے آپ کو صفر کر لیتے ہیںاور اپنی اندرونی آواز سے مشورہ کرتے ہیں‘تاہم جب ضرورت پڑے تو وہ کانگرس کے سپریم آمر بن جاتے ہیںاور اپنے آپ کو سارے ہندوستان کا نمائندہ سمجھتے ہیں۔مسٹر گاندھی ایک معمہ ہیںمسلمانوں اور مسلم لیگ کے خلاف کانگرس میں اتنا زہر اور تلخی ہے کہ انہیں نیچا دکھانے کےلئے وہ ہر سطح سے نیچے گر سکتی ہے اور تمام اصولوں کو ترک کر سکتی ہے۔
۰۱/اکتوبر ۵۴۹۱ءکو کوئٹہ مسلم لیگ کے زیرِ اہتمام ایک جلسہ عام میں انہوں نے گاندھی جی کی سیاست کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہاکہ” لیڈری حاصل کرنا ‘پولیس لاٹھی چارج کے موقع پر بکری کی طرح بیٹھ جانا‘پھر جیل چلے جانا‘پھر وزن کم ہونے کی شکائت کرنااور پھر اس طرح رہائی حاصل کرلینا‘میں اس قسم کی جدوجہد پر یقین نہیں رکھتالیکن جب آزمائش کا وقت آئے تو سب سے پہلے میں اپنے سینے پر گولی کھاوں گا“۔۱۲نومبر ۵۴۹۱ءکو پشاور میں تقریر کرتے ہوئے کہاکہ کانگرس کو پاکستان کا مطالبہ تسلیم کرنا ہوگایا مسلمانوں کو کچلنا ہوگالیکن اب کوئی طاقت دس کروڑ مسلمانوں کو کچل نہیں سکتی۔۴۲نومبر کو انہوں نے اسی شہر میں کہا کہ” جب تک میں زندہ ہوںمسلمانوں کے خون کا ایک قطرہ بھی بے فائدہ نہیں بہنے دوں گا‘میں مسلمانوں کو کبھی بھی ہندوو¿ں کا غلام نہیں بننے دوں گاانگریز اور ہندو دونوں مسلمانوں کے دوست نہیں ہیں۔ ہمارے ذہنوں میں یہ بالکل واضح ہے کہ ہمیں ان دونوں سے لڑنا ہےہم ان کی متحدہ طاقت سے لڑیں گے اور انشاءاللہ کامیاب ہوں گے۔ “
۳دسمبر۵۴۹۱ءکو گاندھی جی کی بنگال کے گورنر”کیسی“(Casey)سے ملاقات ہوئی تو گاندھی جی نے ان سے کہا کہ” جناح ایک جاہ پسند آدمی ہیں اور ان کی سوچ یہ ہے کہ وہ ہندوستان‘مشرقِ وسطیٰ اور دیگر ممالک کے مسلمانوں کے درمیان رابطہ قائم کریں‘میں نہیں سمجھتاکہ جناح اپنے ان خوابوں سے باہرآسکتے ہیں۔“ دراصل گاندھی جی الیکشن کے نتائج اور اس کے متوقع اثرات کااندازہ ہورہا تھااس لئے قیامِ پاکستان سے پہلے ہی انہیں اسلامی یکجہتی کی فکر پریشان کر رہی تھی ‘واضح رہے کہ یہ وہی گاندھی جی ہیں جومسلمانوں میں بھی اپنی لیڈرشپ قائم کرنے کےلئے تحریکِ خلافت کی قیادت سنبھالے ہوئے تھے‘اب وہ بنگال کے پاکستان مخالف گورنر کے ذہن کومزید زہر آلودکرنے کےلئے اپنے ترکش کے سارے تیر استعمال کررہے تھے۔
۳۲مارچ ۶۴۹۱ءکو کیبنٹ مشن ہندوستان آیا۔۳/اپریل۶۴۹۱ءکو گاندھی جی کی مشن سے گفتگو ہوئی‘انہوں نے صرف ایک دھوتی باندھی ہوئی تھی اور بہت صحت مند دکھائی دے رہے تھے۔گاندھی جی نے مشن سے کہا کہ جناح کو ملک کی پہلی (عبوری)حکومت بنانے دیں‘وزاراءملک کے منتخب نمائندوں میں سے ہوں‘جناح جس کو چاہیں لیں لیکن وزاراءکو اپنی اپنی اسمبلی سے اعتمادکا ووٹ لینا پڑے گا۔اگر جناح حکومت بنانے سے انکار کر دیںتو پھر کانگرس کویہی پیشکش کی جائے۔آپ نے گاندھی جی کا انداز دیکھا کہ وزیراعظم جناح صرف ان لوگوں کو چن سکیں گے جن پر ان کی اسمبلیاں اعتماد کا اظہار کریں۔اپنی آبادی کی وجہ سے مسلم اقلیتی صوبوں کی اسمبلیوں میں ہندووں کی بڑی بھاری اکثریت تھی‘ادھر عوام میں انتہائی مقبولیت کے باوجود‘مسلم اکثریتی صوبوںکی اسمبلیوں میں مسلمانوں کو آبادی کے لحاظ سے نشستیںنہ ملنے پر مسلم لیگ کو قطعی اکثریت حاصل نہ تھی اس لئے مجبوراً اسے تقریباًسارے کے سارے کانگریسی ہندو یاغیر لیگی مسلمان وزیررکھنے پڑتے۔ایسی پیشکش کو قائداعظم کیوں قبول کرتے اور اس کے بعد حکومت خود بخود کانگرس کے پاس چلی جاتی۔یہ تھی گاندھی جی کی پیشکش قائد اعظم کےلئے!
بر وایں دام بر مرغ دگرنہ
کہ عنقارا بلنداست آشیانہ
پیتھک لارنس نے گاندھی جی سے کہا کہ اس طرح تو جناح کے زیادہ تر وزاراءغیر لیگی ہی ہونگے‘گاندھی جی نے کہا کہ اس سے تو گریز نہیں‘ایسی بات کو کون آگے بڑھاتا۔
لارڈ ماونٹ بیٹن نے متحدہ ہندوستان کے آخری وائسرائے کے طورپر ۴۲مارچ کو حلف اٹھایااور فورا ً بعد سیاسی لیڈروں سے ملاقاتیں شروع کر دیں۔گاندھی جی نے ۱۳مارچ سے ۴۱ اپریل ۷۴۹۱ءتک ہر روز لارد ماونٹ بیٹن سے ملاقات کی ۔یکم اپریل کی ملاقات میں گاندھی جی نے تجویز کیاکہ مسٹر جناح کو متحدہ ہندوستان کا وزیراعظم بنا دیا جائےاور جب تک وہ ہندوستانی عوام کے مفاد میں کام کرتے رہیںگے‘کانگرس ان کے سا تھ پورے خلوص کے ساتھ تعاو ن کرے گیاس بات کا فیصلہ کہ وہ عوام کے مفاد میں کام کر رہے ہیں یانہیں‘صرف اور صرف لارڈ ماونٹ بیٹن ہی کریں گے‘اگر جناح یہ تجویز نہ مانیں تو پھر کانگرس کو یہی پیشکش کی جائے۔ماونٹ بیٹن تسلیم کرتے ہیں کہ میں گاندھی کی یہ تجویز سن کر ہکا بکا رہ گیا۔انہوں نے گاندھی جی سے پوچھا کہ اس تجویز کے بارے میں مسٹرجناح کاکیا تاثر ہوگا؟گاندھی جی نے جواب دیا اگر آپ انہیں یہ کہیں گے کہ یہ تجویز گاندھی کی طرف سے آئی ہے تو جناح کہیں گے”مکارگاندھی“۔ماونٹ بیٹن نے مزے لے لے کر پوچھا”غالباً یہ بات درست ہوگی۔“اس پر گاندھی جی بڑے جوش سے کہا” نہیں نہیں میں یہ تجویزپورے خلوص سے پیش کررہا ہوں۔“
قائداعظم سے بات کرنے سے پہلے ماونٹ بیٹن نے اسی دن یہ بات نہرو کو بتائی تو یہ سن کران کے مہاتما (گاندھی)ان کی جگہ قائدِ اعظم کو وزیراعظم بنانے کی پیشکش کررہے ہیں‘ نہرو کے پاوں تلے سے زمین نکل گئی۔نہرو نے ماونٹ بیٹن سے کہا کہ گزشتہ برس گاندھی جی کیبنٹ مشن کے سامنے بھی ایسی ہی تجویز پیش کی تھی لیکن یہ مسئلے کا ایک غیر حقیقی حل ہے۔گاندھی جی کو دہلی میں چند دن اور رہنا چاہئے کیونکہ چار مہینے تک مرکز سے دور رہنے کی وجہ سے وہ تیزی سے معاملات سے بے خبرہوتے جا رہے ہیں۔نہرو کی رائے سننے کے بعد ماونٹ بیٹن نے قائد اعظم سے بات کرنا مناسب نہ سمجھااور اگر ماونٹ بیٹن قائد اعظم سے یہ بات کر بھی لیتے کیا ہوتا؟وہ اپنی ذات کےلئے قوم کو داو پر لگادینے والے ہر گز نہیں تھے‘اس قسم کی پیشکش کووہ بغیر کسی تامل کے ٹھکرا دیتے۔
ا
ن چند واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ گاندھی جی کی نیت اور طریقِ کارکو قائداعظم خوب سمجھتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ان کا ہر لحاظ سے مناسب جواب دیا!
رہے نام میرے رب کا جس نے پاکستان کو ایک خاص مبارک رات کو ایک بہت بڑے مقصد کےلئے بنایا!