’’قائداعظم … ایک تاریخ ، ایک تاریخ ساز‘‘
ڈاکٹر سید محمد اکرم اکرام
بیسویں صدی کے نصف اول میں برصغیر کے کروڑوں مسلمان انگریزوں اور ہندوئوں کے ہاتھوں بے دست و پا ہو رہے تھے۔ ان مایوس کن حالات میں ایک معروف مسلمان عالم نے یہ فتویٰ دیا کہ مسلمان ہندوستان کو چھوڑ کر چلے جائیں۔ دوسرے بزرگ عالم دین نے یہ فیصلہ سنایا کہ مسلمان ہندو قومیت اختیار کرکے ہندوستان ہی میں رہیں۔ یہ دونوں راستے نہ صرف مسلمانوں کو نجات نہیں دے سکتے تھے بلکہ ان کے جان ومال اور مذہب و ملت کیلئے تباہ کن تھے۔ تیسرا راستہ علامہ محمد اقبال علیہ رحمہ نے یہ دکھایا کہ مسلمان اپنے آپ کو اقلیت تصور نہ کریں وہ ایک عظیم تہذیب وتمدن کے وارث اور قابل فخر تاریخ اور اسکی روایات کے امین ہیں۔ وہ آئینی طور پر ایک آزاد اسلامی ریاست حاصل کریں اور اسلامی روایات کیمطابق سربلند ہو کر زندگی بسر کریں۔ یہ ان کا حق ہے۔ علامہ اقبال علیہ رحمہ نے آخری خط مورخہ30 اکتوبر1937 میں بصیغہ راز لکھا:…
’’ہمیں مسلمانوں کی تنظیم کیلئے اپنی تمام قوتیں ہمیشہ سے زیادہ گرم جوشی کیساتھ وقف کر دینی چاہئیں اور اس وقت تک دم نہ لینا چاہئے جب تک پانچ صوبوں میں مسلمانوں کی حکومت قائم نہیں ہو جاتی اور بلوچستان کو اصلاحات نہیں ملتی۔
چنانچہ 1940ء میں مسلمانوں کیلئے ایک مستقل ریاست کے قیام کا مطالبہ قائداعظم علیہ رحمہ کی قیادت میں بہت زور پکڑ گیا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کا 27 واں سالانہ اجلاس مارچ1940ء کے تیسرے ہفتے میں لاہور میں ہوا۔ مسلمانان ہند کا ہی ایک عظیم الشان اجتماع تھا جس کیلئے اقبال علیہ رحمہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں از حد آرزو مند تھے۔ اس اجلاس میں بتاریخ 23 مارچ مسلمانان ہند کیلئے مستقل مملکت کی قرارداد منظور ہوئی جسے ہندو پریس نے ازراہ طنز قرارداد پاکستان کا نام دیا، پھر یہ اسی نام سے مشہور ہو گئی۔ قائداعظم نے 22 مارچ کے اجلاس میں اپنے صدارتی خطاب میں ہندو مسلم دونوں قوموں کے مختلف اور متضاد نظریات و روایات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:
’’
…اس بات کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے کہ ہمارے ہندو بھائی اسلام اور ہندو مت کی اصل ماہیت کو آخر کیوں نہیں سمجھتے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں مذہب نہیں بلکہ ایک دوسرے سے مختلف دو معاشرتی نظام ہیں اور متحدہ قومیت ایک ایسا خواب ہے جو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ ہندوستان میں ایک قوم کا غلط تصور حد اعتدال سے نکل گیا ہے اور آج ہماری بہت سی مشکلات کا باعث بن رہا ہے اور اگر ہم نے بروقت اپنے رجحانات کی اصلاح نہ کی تو یہ چیز ہندوستان کی بربادی پر منتج ہو گی۔ ہندو اور مسلمان الگ الگ فلسفہ مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ دونوں کی معاشرت جدا جدا ہے، دونوں کا ادب ایک دوسرے سے مختلف ہے، ان میں باہمی شادیاں نہیں ہوتیں۔ وہ ایک دوسرے کیساتھ کھانا بھی نہیں کھاتے، حقیقتاً وہ دو الگ الگ تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں جن کی بنیادیں متضاد تصورات پر قائم ہیں۔ یہ حقیقت عین واضح ہے کہ ہندو اور مسلمان دو مختلف تاریخوں سے وجدان حاصل کرتے ہیں۔ ان کا رویہ الگ ہے۔ انکے مشاہیر الگ ہیں اور وہ ایک دوسرے سے مختلف تاریخی سرمایہ رکھتے ہیں، عموماً ایسا ہوتا ہے کہ انکی فتح و شکست مختلف حیثیتیں رکھتی ہیں۔
’’دو ایسی قوموں کو ایک سلطنت میں جمع کر دینا، جہاں ایک عدد اقلیت ہو اور دوسری اکثریت میں، یہ عمل محض باہمی منافرت کو بڑھائے گا اور بالآخر اس نظام کی بربادی کا باعث ہو گا جو اس ملک کی حکومت کیلئے وضع کی جائیگا‘‘۔
4اپریل 1946ء کو قائداعظم علیہ رحمہ نے برطانوی نے برطانوی کیبنٹ مشن سے ملاقات کی اور ہندوستان میں خود مختار اسلامی مملکت کی تشکیل کو ناگزیر قرار دیا۔ اگرچہ کیبنٹ مشن اور کانگریس ایک جان ہو کر تشکیل پاکستان کی راہ میں قدم قدم پر رکاوٹیں پیدا کرتے رہے لیکن قائداعظم اپنے ایمان راسخ اور دلائل قطعی کیساتھ ایک پہاڑ کی طرح اپنے موقف پر قائم رہے یہاں تک کہ تمام سرکش اور مخالف طاقتیں انکے سامنے جھک گئیں۔ انگریزوں اور ہندوئوں نے مطالبہ پاکستان تسلیم کیا۔ 3جون 1947ء کو لارڈ مائونٹ بیٹن نے برصغیر کی آزادی اور پاکستان کے قیام کا واضح اعلان کیا۔ 7 اگست کو قائداعظم محمد علی جناح دہلی سے کراچی پہنچے جہاں ہزاروں افراد نے ان کا استقبال کیا۔ 10 اگست کو کراچی میں نو منتخب دستور ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس ہوا۔ 11 اگست 1947ء کو پاکستان دستور ساز اسمبلی کا دوسرا اجلاس ہوا۔ قائداعظم نے اپنی صدارتی تقریر میں فرمایا:
’’…آپ آزاد ہیں‘ آپ آزادانہ اپنے مندروں میں جا سکتے ہیں۔ آپ آزادانہ اپنی مسجدوں میں جا سکتے ہیں، اس مملکت پاکستان میں کسی بھی عبادت گاہ میں جا سکتے ہیں، آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا فرقہ سے ہو، اس کا امور مملکت سے کوئی تعلق نہیں‘‘۔
’’آج آپ از روئے انصاف کہہ سکتے ہیں کہ برطانیہ میں کیتھولکس اور پروٹسٹنٹس کا کوئی وجود نہیں۔ جو حقیقت آج ہے وہ یہ ہے کہ ہر آدمی برطانیہ کا ایک شہری ہے۔ یکساں درجے کا شہری ہے‘‘۔
’’اب میرا خیال ہے کہ ہم اسی نقطہ نظر کو اپنے سامنے رکھیں کہ بتدریج ہندو ہندو نہیں رہیں گے اور مسلمان مسلمان نہیں رہیں گے۔ مذہبی نقطہ نظر سے نہیں کیونکہ مذہب تو ہر فرد کا ذاتی ایمان ہے بلکہ سیاسی نقطہ نظر سے وہ ریاست کے شہری متصور ہوں گے‘‘۔14
جولائی 1947ء کو فرمایا۔
’’ جب آپ حکومت کی بات کرتے ہیں تو مجھے شبہ ہونے لگتا ہے کہ آپ نے اسلام کا مطالعہ نہیں کی۔ ہم نے تیرہ سو سال پہلے جمہوریت سیکھ لی تھی۔ آپ پاکستان کے طرز حکومت کے بارے میں میری ذاتی رائے معلوم کرنا چاہتے ہیں تو میں کہتا ہوں کہ دستور ساز اسمبلی جیسے بااختیار ادارے کے فیصلے سے پہلے کوئی ذمہ دار شخص اپنی ذاتی رائے کا اظہار نہیں کر سکتا اور نہ ہی کرنا چاہئے۔ پاکستان کیلئے دستور بنانا دستور ساز اسمبلی کا کام ہے‘‘۔
قائداعظم نے عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریب میں پاکستان کے آئین کی اساس کی وضاحت کرتے ہوئے 25 جنوری 1948ء کو فرمایا:
’’میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں نہ لوگوں کا ایک طبقہ جو دانست طور پر شرارت کرنا چاہتا ہے یہ پراپیگنڈہ کر رہا ہے کہ پاکستان کے دستور کی اساس شریعت پر استوار نہیں کی جائیگی۔ آج بھی اسلامی اصولوں کا زندگی پر اسی طرح اطلاق ہوتا ہے جس طرح تیرہ سو برس پہلے ہوتا تھا‘‘۔قائداعظم نے اسلامیہ کالج پشاور مورخہ 13 جنوری 1948 کو فرمایا: ’’اسلام ہماری زندگی اور ہمارے وجود کا بنیادی سرچشمہ ہے۔ ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کیلئے نہیں حاصل کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں۔‘‘
قائد اعظم نے کہا:
’’اسلامی حکومت کے تصور کا یہ امتیاز پیش نظر رہنا چاہئے کہ اس میں اطاعت اور وفاکیشی کا مرجع خدا کی ذات ہے جس کی تعمیل کا عمل ذریعہ قرآن مجید کے احکام اور اصول ہیں اسلام میں اصلاً کسی بادشاہ کی اطاعت ہے نہ پارلیمنٹ کی نہ کسی شخص اور ادارے کی۔ قرآن کریم کے احکام ہی سیاست ومعاشرت میں ہماری آزادی کی حدود متعین کر سکتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں اسلامی حکومت قرآن کے اصول واحکام کی حکومت ہے۔‘‘’’اسلام اور اسکی بلند نظری نے جمہوریت سکھائی‘ اسلام نے مساوات سکھائی‘ ہر شخص سے انصاف اور رواداری کا حکم دیا ہے‘ کسی بھی شخص کے پاس کیا جواز ہے کہ وہ عوام الناس کیلئے انصاف‘ رواداری اور دیانت داری کے اعلیٰ معیار پر مبنی جمہوریت‘ مساوات اور آزادی سے گھبرائے۔‘‘
’’ہم نے اسلام اور اسکے نظریات سے جمہوریت کا سبق سیکھا ہے۔ اسلام نے ہمیں انسانی مساوات‘ انصاف اور ہر ایک سے رواداری کی درس دیا ہے۔ ہم ان عظیم الشان روایات کے وارث اور امین ہیں‘‘۔
قائد اعظم کے ان بیانات کے بعد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے بارے میں کیا کوئی ابہام باقی رہ جاتا ہے؟
اصل ربط