واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > پاک۔نیٹ پراجیکٹس > قران پراجیکٹ (http://quran.pak.net)



قران پراجیکٹ (http://quran.pak.net) قران پراجیکٹ http://quran.pak.net/


ترجمہ قرآن

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-02-11, 02:03 PM  
ترجمہ قرآن
زارا زارا آف لائن ہے 09-02-11, 02:03 PM

پاره الم

سُورة الْفَاتِحَة

1. سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کی پرورش فرمانے والا ہےo

2. نہایت مہربان بہت رحم فرمانے والا ہےo

3. روزِ جزا کا مالک ہےo

4. (اے اللہ!) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیںo

5. ہمیں سیدھا راستہ دکھاo

6. ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایاo

7. ان لوگوں کا نہیں جن پر غضب کیا گیا ہے اور نہ (ہی) گمراہوں کاo


سُورة الْبَقَرَة

1. الف لام میم (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)o

2. (یہ) وہ عظیم کتاب ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں، (یہ) پرہیزگاروں کے لئے ہدایت ہےo

3. جو غیب پر ایمان لاتے اور نماز کو (تمام حقوق کے ساتھ) قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے (ہماری راہ) میں خرچ کرتے ہیںo

4. اور وہ لوگ جو آپ کی طرف نازل کیا گیا اور جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا (سب) پر ایمان لاتے ہیں، اور وہ آخرت پر بھی (کامل) یقین رکھتے ہیںo

5. وہی اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی حقیقی کامیابی پانے والے ہیںo

6. بیشک جنہوں نے کفر اپنا لیا ہے ان کے لئے برابر ہے خواہ آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں، وہ ایمان نہیں لائیں گےo

7. اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مُہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ (پڑ گیا) ہے اور ان کے لئے سخت عذاب ہےo

8. اور لوگوں میں سے بعض وہ (بھی) ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ پر اور یومِ قیامت پر ایمان لائے حالانکہ وہ (ہرگز) مومن نہیں ہیںo

9. وہ اللہ کو (یعنی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو)٭ اور ایمان والوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں مگر (فی الحقیقت) وہ اپنے آپ کو ہی دھوکہ دے رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ہےo
٭ اس مقام پر مضاف محذوف ہے جو کہ رسول ہے یعنی یُخٰدِعُونَ اﷲَ کہہ کر مراد یُخٰدِعُونَ رَسُولَ اﷲِ لیا گیا ہے۔ اکثر ائمہ مفسرین نے یہ معنی بیان کیا ہے۔ بطور حوالہ ملاحظہ فرمائیں (تفسیر القرطبی، البیضاوی، البغوی، النسفی، الکشاف، المظھری، زاد المسیر، الخازن وغیرھم)۔
10. ان کے دلوں میں بیماری ہے، پس اللہ نے ان کی بیماری کو اور بڑھا دیا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولتے تھےo

11. اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد بپا نہ کرو، تو کہتے ہیں: ہم ہی تو اصلاح کرنے والے ہیںo

12. آگاہ ہو جاؤ! یہی لوگ (حقیقت میں) فساد کرنے والے ہیں مگر انہیں (اس کا) احساس تک نہیںo

13. اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ (تم بھی) ایمان لاؤ جیسے (دوسرے) لوگ ایمان لے آئے ہیں، تو کہتے ہیں: کیا ہم بھی (اسی طرح) ایمان لے آئیں جس طرح (وہ) بیوقوف ایمان لے آئے، جان لو! بیوقوف (درحقیقت) وہ خود ہیں لیکن انہیں (اپنی بیوقوفی اور ہلکے پن کا) علم نہیںo

14. اور جب وہ (منافق) اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم (بھی) ایمان لے آئے ہیں، اور جب اپنے شیطانوں سے تنہائی میں ملتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم یقیناً تمہارے ساتھ ہیں، ہم (مسلمانوں کا تو) محض مذاق اڑاتے ہیںo

15. اللہ انہیں ان کے مذاق کی سزا دیتا ہے اور انہیں ڈھیل دیتا ہے (تاکہ وہ خود اپنے انجام تک جا پہنچیں) سو وہ خود اپنی سرکشی میں بھٹک رہے ہیںo

16. یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی لیکن ان کی تجارت فائدہ مند نہ ہوئی اور وہ (فائدہ مند اور نفع بخش سودے کی) راہ جانتے ہی نہ تھےo

17. ان کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے جس نے (تاریک ماحول میں) آگ جلائی اور جب اس نے گرد و نواح کو روشن کر دیا تو اللہ نے ان کا نور سلب کر لیا اور انہیں تاریکیوں میں چھوڑ دیا اب وہ کچھ نہیں دیکھتےo

18. یہ بہرے، گونگے (اور) اندھے ہیں پس وہ (راہِ راست کی طرف) نہیں لوٹیں گےo

19. یا ان کی مثال اس بارش کی سی ہے جو آسمان سے برس رہی ہے جس میں اندھیریاں ہیں اور گرج اور چمک (بھی) ہے تو وہ کڑک کے باعث موت کے ڈر سے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں، اور اللہ کافروں کو گھیرے ہوئے ہےo

20. یوں لگتا ہے کہ بجلی ان کی بینائی اُچک لے جائے گی، جب بھی ان کے لئے (ماحول میں) کچھ چمک ہوتی ہے تو اس میں چلنے لگتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو کھڑے ہو جاتے ہیں، اور اگر اللہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت بالکل سلب کر لیتا، بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہےo

21. اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا اور ان لوگوں کو (بھی) جو تم سے پیشتر تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤo

22. جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو عمارت بنایا اور آسمانوں کی طرف سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعے تمہارے کھانے کے لئے (انواع و اقسام کے) پھل پیدا کئے، پس تم اللہ کے لئے شریک نہ ٹھہراؤ حالانکہ تم (حقیقتِ حال) جانتے ہوo

23. اور اگر تم اس (کلام) کے بارے میں شک میں مبتلا ہو جو ہم نے اپنے (برگزیدہ) بندے پر نازل کیا ہے تو اس جیسی کوئی ایک سورت ہی بنا لاؤ، اور (اس کام کے لئے بیشک) اللہ کے سوا اپنے (سب) حمائتیوں کو بلا لو اگر تم (اپنے شک اور انکار میں) سچے ہوo

24. پھر اگر تم ایسا نہ کر سکو اور ہرگز نہ کر سکو گے تو اس آگ سے بچو جس کا ایندھن آدمی (یعنی کافر) اور پتھر (یعنی ان کے بت) ہیں، جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہےo

25. اور (اے حبیب!) آپ ان لوگوں کو خوشخبری سنا دیں جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے کہ ان کے لئے (بہشت کے) باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جب انہیں ان باغات میں سے کوئی پھل کھانے کو دیا جائے گا تو (اس کی ظاہری صورت دیکھ کر) کہیں گے: یہ تو وہی پھل ہے جو ہمیں (دنیا میں) پہلے دیا گیا تھا، حالانکہ انہیں (صورت میں) ملتے جلتے پھل دیئے گئے ہوں گے، ان کے لئے جنت میں پاکیزہ بیویاں (بھی) ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گےo

26. بیشک اللہ اس بات سے نہیں شرماتا کہ (سمجھانے کے لئے) کوئی بھی مثال بیان فرمائے (خواہ) مچھر کی ہو یا (ایسی چیز کی جو حقارت میں) اس سے بھی بڑھ کر ہو، تو جو لوگ ایمان لائے وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ مثال ان کے رب کی طرف سے حق (کی نشاندہی) ہے، اور جنہوں نے کفر اختیار کیا وہ (اسے سن کر یہ) کہتے ہیں کہ ایسی تمثیل سے اللہ کو کیا سروکار؟ (اس طرح) اللہ ایک ہی بات کے ذریعے بہت سے لوگوں کو گمراہ ٹھہراتا ہے اور بہت سے لوگوں کو ہدایت دیتا ہے اور اس سے صرف انہی کو گمراہی میں ڈالتا ہے جو (پہلے ہی) نافرمان ہیںo

27. (یہ نافرمان وہ لوگ ہیں) جو اللہ کے عہد کو اس سے پختہ کرنے کے بعد توڑتے ہیں، اور اس (تعلق) کو کاٹتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اور زمین میں فساد بپا کرتے ہیں، یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیںo

28. تم کس طرح اللہ کا انکار کرتے ہو حالانکہ تم بے جان تھے اس نے تمہیں زندگی بخشی، پھر تمہیں موت سے ہمکنار کرے گا اور پھر تمہیں زندہ کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گےo

29. وہی ہے جس نے سب کچھ جو زمین میں ہے تمہارے لئے پیدا کیا، پھر وہ (کائنات کے) بالائی حصوں کی طرف متوجہ ہوا تو اس نے انہیں درست کر کے ان کے سات آسمانی طبقات بنا دیئے، اور وہ ہر چیز کا جاننے والا ہےo

30. اور (وہ وقت یاد کریں) جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں، انہوں نے عرض کیا: کیا تُو زمین میں کسی ایسے شخص کو (نائب) بنائے گا جو اس میں فساد انگیزی کرے گا اور خونریزی کرے گا؟ حالانکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور (ہمہ وقت) پاکیزگی بیان کرتے ہیں، (اللہ نے) فرمایا: میں وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتےo

31. اور اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو تمام (اشیاء کے) نام سکھا دیئے پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا، اور فرمایا: مجھے ان اشیاء کے نام بتا دو اگر تم (اپنے خیال میں) سچے ہوo

32. فرشتوں نے عرض کیا: تیری ذات (ہر نقص سے) پاک ہے ہمیں کچھ علم نہیں مگر اسی قدر جو تو نے ہمیں سکھایا ہے، بیشک تو ہی (سب کچھ) جاننے والا حکمت والا ہےo

33. اللہ نے فرمایا: اے آدم! (اب تم) انہیں ان اشیاء کے ناموں سے آگاہ کرو، پس جب آدم (علیہ السلام) نے انہیں ان اشیاء کے ناموں سے آگاہ کیا تو (اللہ نے) فرمایا: کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی (سب) مخفی حقیقتوں کو جانتا ہوں، اور وہ بھی جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہوo

34. اور (وہ وقت بھی یاد کریں) جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، اس نے انکار اور تکبر کیا اور (نتیجۃً) کافروں میں سے ہو گیاo

35. اور ہم نے حکم دیا: اے آدم! تم اور تمہاری بیوی اس جنت میں رہائش رکھو اور تم دونوں اس میں سے جو چاہو، جہاں سے چاہو کھاؤ، مگر اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ حد سے بڑھنے والوں میں (شامل) ہو جاؤ گےo

36. پھر شیطان نے انہیں اس جگہ سے ہلا دیا اور انہیں اس (راحت کے) مقام سے جہاں وہ تھے الگ کر دیا، اور (بالآخر) ہم نے حکم دیا کہ تم نیچے اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن رہو گے۔ اب تمہارے لئے زمین میں ہی معیّنہ مدت تک جائے قرار ہے اور نفع اٹھانا مقدّر کر دیا گیا ہےo

37. پھر آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب سے (عاجزی اور معافی کے) چند کلمات سیکھ لئے پس اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، بیشک وہی بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہےo

38. ہم نے فرمایا: تم سب جنت سے اتر جاؤ، پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت پہنچے تو جو بھی میری ہدایت کی پیروی کرے گا، نہ ان پر کوئی خوف (طاری) ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گےo

39. اور جو لوگ کفر کریں گے اور ہماری آیتوں کو جھٹلائیں گے تو وہی دوزخی ہوں گی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گےo

40. اے اولادِ یعقوب! میرے وہ انعام یاد کرو جو میں نے تم پر کئے اور تم میرے (ساتھ کیا ہوا) وعدہ پورا کرو میں تمہارے (ساتھ کیا ہوا) وعدہ پورا کروں گا، اور مجھ ہی سے ڈرا کروo

41. اور اس (کتاب) پر ایمان لاؤ جو میں نے (اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر) اتاری (ہے، حالانکہ) یہ اس کی (اصلاً) تصدیق کرتی ہے جو تمہارے پاس ہے اور تم ہی سب سے پہلے اس کے منکر نہ بنو اور میری آیتوں کو (دنیا کی) تھوڑی سی قیمت پر فروخت نہ کرو اور مجھ ہی سے ڈرتے رہوo

42. اور حق کی آمیزش باطل کے ساتھ نہ کرو اور نہ ہی حق کو جان بوجھ کر چھپاؤo

43. اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دیا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ (مل کر) رکوع کیا کروo

44. کیا تم دوسرے لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو حالانکہ تم (اللہ کی) کتاب (بھی) پڑھتے ہو، تو کیا تم نہیں سوچتے؟o

45. اور صبر اور نماز کے ذریعے (اللہ سے) مدد چاہو، اور بیشک یہ گراں ہے مگر (ان) عاجزوں پر (ہرگز) نہیں (جن کے دل محبتِ الٰہی سے خستہ اور خشیتِ الٰہی سے شکستہ ہیں)o

46. (یہ وہ لوگ ہیں) جو یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں اور وہ اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیںo

47. اے اولادِ یعقوب! میرے وہ انعام یاد کرو جو میں نے تم پر کئے اور یہ کہ میں نے تمہیں (اس زمانے میں) سب لوگوں پر فضیلت دیo

48. اور اُس دن سے ڈرو جس دن کوئی جان کسی دوسرے کی طرف سے کچھ بدلہ نہ دے سکے گی اور نہ اس کی طرف سے (کسی ایسے شخص کی) کوئی سفارش قبول کی جائے گی (جسے اِذنِ اِلٰہی حاصل نہ ہوگا) اور نہ اس کی طرف سے (جان چھڑانے کے لئے) کوئی معاوضہ قبول کیا جائے گا اور نہ (اَمرِ الٰہی کے خلاف) ان کی اِمداد کی جا سکے گیo

49. اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے تمہیں قومِ فرعون سے نجات بخشی جو تمہیں انتہائی سخت عذاب دیتے تھے تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے تھے، اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی (کڑی) آزمائش تھیo

50. اور جب ہم نے تمہیں (بچانے کے) لئے دریا کو پھاڑ دیا سو ہم نے تمہیں (اس طرح) نجات عطا کی اور (دوسری طرف) ہم نے تمہاری آنکھوں کے سامنے قومِ فرعون کو غرق کر دیاo

51. اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے چالیس راتوں کا وعدہ فرمایا تھا پھر تم نے موسیٰ (علیہ السلام کے چلّہءِ اعتکاف میں جانے) کے بعد بچھڑے کو (اپنا) معبود بنا لیا اور تم واقعی بڑے ظالم تھےo

52. پھر ہم نے اس کے بعد (بھی) تمہیں معاف کر دیا تاکہ تم شکرگزار ہو o

5جاؤ3. اور جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب اور حق و باطل میں فرق کرنے والا (معجزہ) عطا کیا تاکہ تم راہِ ہدایت پاؤo

54. اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم! بیشک تم نے بچھڑے کو (اپنا معبود) بنا کر اپنی جانوں پر (بڑا) ظلم کیا ہے، تو اب اپنے پیدا فرمانے والے (حقیقی رب) کے حضور توبہ کرو، پس (آپس میں) ایک دوسرے کو قتل کر ڈالو (اس طرح کہ جنہوں نے بچھڑے کی پرستش نہیں کی اور اپنے دین پر قائم رہے ہیں وہ بچھڑے کی پرستش کر کے دین سے پھر جانے والوں کو سزا کے طور پر قتل کر دیں)، یہی (عمل) تمہارے لئے تمہارے خالق کے نزدیک بہترین (توبہ) ہے، پھر اس نے تمہاری توبہ قبول فرما لی، یقینا وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہےo

55. اور جب تم نے کہا: اے موسیٰ! ہم آپ پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ ہم اللہ کو (آنکھوں کے سامنے) بالکل آشکارا دیکھ لیں پس (اس پر) تمہیں کڑک نے آلیا (جو تمہاری موت کا باعث بن گئی) اور تم (خود یہ منظر) دیکھتے رہےo

56. پھر ہم نے تمہارے مرنے کے بعد تمہیں (دوبارہ) زندہ کیا تاکہ تم (ہمارا) شکر ادا کروo

57. اور (یاد کرو) جب ہم نے تم پر (وادئ تِیہ میں) بادل کا سایہ کئے رکھا اور ہم نے تم پر مَنّ و سلوٰی اتارا کہ تم ہماری عطا کی ہوئی پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ، سو انہوں نے (نافرمانی اور ناشکری کر کے) ہمارا کچھ نہیں بگاڑا مگر اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے رہےo

58. اور (یاد کرو) جب ہم نے فرمایا: اس شہر میں داخل ہو جاؤ اور اس میں جہاں سے چاہو خوب جی بھر کے کھاؤ اور (یہ کہ شہر کے) دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا اور یہ کہتے جانا: (اے ہمارے رب! ہم سب خطاؤں کی) بخشش چاہتے ہیں، (تو) ہم تمہاری (گزشتہ) خطائیں معاف فرما دیں گے، اور (علاوہ اس کے) نیکوکاروں کو مزید (لطف و کرم سے) نوازیں گےo

59. پھر (ان) ظالموں نے اس قول کو جو ان سے کہا گیا تھا ایک اور کلمہ سے بدل ڈالا سو ہم نے (ان) ظالموں پر آسمان سے (بصورتِ طاعون) سخت آفت اتار دی اس وجہ سے کہ وہ (مسلسل) حکم عدولی کر رہے تھےo

60. اور (وہ وقت بھی یا دکرو) جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لئے پانی مانگا تو ہم نے فرمایا: اپنا عصا اس پتھر پر مارو، پھر اس (پتھر) سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے، واقعۃً ہر گروہ نے اپنا اپنا گھاٹ پہچان لیا، (ہم نے فرمایا اﷲ کے (عطا کردہ) رزق میں سے کھاؤ اور پیو لیکن زمین میں فساد انگیزی نہ کرتے پھروo

61. اور جب تم نے کہا: اے موسیٰ! ہم فقط ایک کھانے (یعنی منّ و سلویٰ) پر ہرگز صبر نہیں کر سکتے تو آپ اپنے رب سے (ہمارے حق میں) دعا کیجئے کہ وہ ہمارے لئے زمین سے اگنے والی چیزوں میں سے ساگ اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز پیدا کر دے، (موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے) فرمایا: کیا تم اس چیز کو جو ادنیٰ ہے بہتر چیز کے بدلے مانگتے ہو؟ (اگر تمہاری یہی خواہش ہے تو) کسی بھی شہر میں جا اترو یقیناً (وہاں) تمہارے لئے وہ کچھ (میسر) ہو گا جو تم مانگتے ہو، اور ان پر ذلّت اور محتاجی مسلط کر دی گئی، اور وہ اللہ کے غضب میں لوٹ گئے، یہ اس وجہ سے (ہوا) کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کیا کرتے اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے تھے، اور یہ اس وجہ سے بھی ہوا کہ وہ نافرمانی کیا کرتے اور (ہمیشہ) حد سے بڑھ جاتے تھےo

62. بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی ہوئے اور (جو) نصاریٰ اور صابی (تھے ان میں سے) جو (بھی) اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اس نے اچھے عمل کئے، تو ان کے لئے ان کے رب کے ہاں ان کا اجر ہے، ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گےo

63. اور (یاد کرو) جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا اور تمہارے اوپر طور کو اٹھا کھڑا کیا، کہ جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطی سے پکڑے رہو اور جو کچھ اس (کتاب تورات) میں (لکھا) ہے اسے یاد رکھو تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤo

64. پھر اس (عہد اور تنبیہ) کے بعد بھی تم نے روگردانی کی، پس اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم یقینا تباہ ہو جاتےo

65. اور (اے یہود!) تم یقیناً ان لوگوں سے خوب واقف ہو جنہوں نے تم میں سے ہفتہ کے دن (کے احکام کے بارے میں) سرکشی کی تھی تو ہم نے ان سے فرمایا کہ تم دھتکارے ہوئے بندر بن جاؤo

66. پس ہم نے اس (واقعہ) کو اس زمانے اور اس کے بعد والے لوگوں کے لئے (باعثِ) عبرت اور پرہیزگاروں کے لئے (مُوجبِ) نصیحت بنا دیاo

67. اور (وہ واقعہ بھی یاد کرو) جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو، (تو) وہ بولے: کیا آپ ہمیں مسخرہ بناتے ہیں؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا: اللہ کی پناہ مانگتا ہوں (اس سے) کہ میں جاہلوں میں سے ہو جاؤںo

68. (تب) انہوں نے کہا: آپ ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ہم پر واضح کر دے کہ (وہ) گائے کیسی ہو؟ (موسیٰ علیہ السلام نے) کہا: بیشک وہ فرماتا ہے کہ وہ گائے نہ تو بوڑھی ہو اور نہ بالکل کم عمر (اَوسَر)، بلکہ درمیانی عمر کی (راس) ہو، پس اب تعمیل کرو جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہےo

69. وہ (پھر) بولے: اپنے رب سے ہمارے حق میں دعا کریں وہ ہمارے لئے واضح کر دے کہ اس کا رنگ کیسا ہو؟ (موسیٰ علیہ السلام نے) کہا: وہ فرماتا ہے کہ وہ گائے زرد رنگ کی ہو، اس کی رنگت خوب گہری ہو (ایسی جاذبِ نظر ہو کہ) دیکھنے والوں کو بہت بھلی لگےo

70. (اب) انہوں نے کہا: آپ ہمارے لئے اپنے رب سے درخواست کیجئے کہ وہ ہم پر واضح فرما دے کہ وہ کون سی گائے ہے؟ (کیونکہ) ہم پر گائے مشتبہ ہو گئی ہے، اور یقیناً اگر اللہ نے چاہا تو ہم ضرور ہدایت یافتہ ہو جائیں گےo

71. (موسیٰ علیہ السلام نے کہا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (وہ کوئی گھٹیا گائے نہیں بلکہ) یقینی طور پر ایسی (اعلیٰ) گائے ہو جس سے نہ زمین میں ہل چلانے کی محنت لی جاتی ہو اور نہ کھیتی کو پانی دیتی ہو، بالکل تندرست ہو اس میں کوئی داغ دھبہ بھی نہ ہو، انہوں نے کہا: اب آپ ٹھیک بات لائے (ہیں)، پھر انہوں نے اس کو ذبح کیا حالانکہ وہ ذبح کرتے معلوم نہ ہوتے تھےo

72. اور جب تم نے ایک شخص کو قتل کر دیا پھر تم آپس میں اس (کے الزام) میں جھگڑنے لگے، اور اللہ (وہ بات) ظاہر فرمانے والا تھا جسے تم چھپا رہے تھےo

73. پھر ہم نے حکم دیا کہ اس (مُردہ) پر اس (گائے) کا ایک ٹکڑا مارو، اسی طرح اللہ مُردوں کو زندہ فرماتا ہے (یا قیامت کے دن مُردوں کو زندہ کرے گا) اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم عقل و شعور سے کام لوo

74. پھر اس کے بعد (بھی) تمہارے دل سخت ہوگئے چنانچہ وہ (سختی میں) پتھروں جیسے (ہوگئے) ہیں یا ان سے بھی زیادہ سخت (ہو چکے ہیں، اس لئے کہ) بیشک پتھروں میں (تو) بعض ایسے بھی ہیں جن سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں، اور یقیناً ان میں سے بعض وہ (پتھر) بھی ہیں جو پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی ابل پڑتا ہے، اور بیشک ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں، (افسوس! تمہارے دلوں میں اس قدر نرمی، خستگی اور شکستگی بھی نہیں رہی،) اور اللہ تمہارے کاموں سے بے خبر نہیںo

75. (اے مسلمانو!) کیا تم یہ توقع رکھتے ہو کہ وہ (یہودی) تم پر یقین کر لیں گے جبکہ ان میں سے ایک گروہ کے لوگ ایسے (بھی) تھے کہ اللہ کا کلام (تورات) سنتے پھر اسے سمجھنے کے بعد (خود) بدل دیتے حالانکہ وہ خوب جانتے تھے (کہ حقیقت کیا ہے اور وہ کیا کر رہے ہیں)o

76. اور (ان کا حال تو یہ ہو چکا ہے کہ) جب اہلِ ایمان سے ملتے ہیں (تو) کہتے ہیں: ہم (بھی تمہاری طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر) ایمان لے آئے ہیں، اور جب آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ تنہائی میں ہوتے ہیں (تو) کہتے ہیں: کیا تم ان (مسلمانوں) سے (نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت اور شان کے بارے میں) وہ باتیں بیان کر دیتے ہو جو اللہ نے تم پر (تورات کے ذریعے) ظاہر کی ہیں تاکہ اس سے وہ تمہارے رب کے حضور تمہیں پر حجت قائم کریں، کیا تم (اتنی) عقل (بھی) نہیں رکھتے؟o

77. کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ کو وہ سب کچھ معلوم ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیںo

78. اور ان (یہود) میں سے (بعض) ان پڑھ (بھی) ہیں جنہیں (سوائے سنی سنائی جھوٹی امیدوں کے) کتاب (کے معنی و مفہوم) کا کوئی علم ہی نہیں وہ (کتاب کو) صرف زبانی پڑھنا جانتے ہیں یہ لوگ محض وہم و گمان میں پڑے رہتے ہیںo

79. پس ایسے لوگوں کے لئے بڑی خرابی ہے جو اپنے ہی ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے عوض تھوڑے سے دام کما لیں، سو ان کے لئے اس (کتاب کی وجہ) سے ہلاکت ہے جو ان کے ہاتھوں نے تحریر کی اور اس (معاوضہ کی وجہ) سے تباہی ہے جو وہ کما رہے ہیںo

80. اور وہ (یہود) یہ (بھی) کہتے ہیں کہ ہمیں (دوزخ کی) آگ ہرگز نہیں چھوئے گی سوائے گنتی کے چند دنوں کے، (ذرا) آپ (ان سے) پوچھیں: کیا تم اللہ سے کوئی (ایسا) وعدہ لے چکے ہو؟ پھر تو وہ اپنے وعدے کے خلاف ہرگز نہ کرے گا یا تم اللہ پر یونہی (وہ) بہتان باندھتے ہو جو تم خود بھی نہیں جانتےo

81. ہاں واقعی جس نے برائی اختیار کی اور اس کے گناہوں نے اس کو ہر طرف سے گھیر لیا تو وہی لوگ دوزخی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیںo

82. اور جو لوگ ایمان لائے اور (انہوں نے) نیک عمل کیے تو وہی لوگ جنّتی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیںo

83. اور (یاد کرو) جب ہم نے اولادِ یعقوب سے پختہ وعدہ لیا کہ اللہ کے سوا (کسی اور کی) عبادت نہ کرنا، اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور قرابت داروں اور یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ بھی (بھلائی کرنا) اور عام لوگوں سے (بھی نرمی اور خوش خُلقی کے ساتھ) نیکی کی بات کہنا اور نماز قائم رکھنا اور زکوٰۃ دیتے رہنا، پھر تم میں سے چند لوگوں کے سوا سارے (اس عہد سے) رُوگرداں ہو گئے اور تم (حق سے) گریز ہی کرنے والے ہوo

84. اور جب ہم نے تم سے (یہ) پختہ عہد (بھی) لیا کہ تم (آپس میں) ایک دوسرے کا خون نہیں بہاؤ گے اور نہ اپنے لوگوں کو (اپنے گھروں اور بستیوں سے نکال کر) جلاوطن کرو گے پھر تم نے (اس امر کا) اقرار کر لیا اور تم (اس کی) گواہی (بھی) دیتے ہوo

85. پھر تم ہی وہ لوگ ہو کہ اپنوں کو قتل کر رہے ہو اور اپنے ہی ایک گروہ کو ان کے وطن سے باہر نکال رہے ہو اور (مستزاد یہ کہ) ان کے خلاف گناہ اور زیادتی کے ساتھ (ان کے دشمنوں کی) مدد بھی کرتے ہو، اور اگر وہ قیدی ہو کر تمہارے پا س آجائیں تو ان کا فدیہ دے کر چھڑا لیتے ہو (تاکہ وہ تمہارے احسان مند رہیں) حالانکہ ان کا وطن سے نکالا جانا بھی تم پر حرام کر دیا گیا تھا، کیا تم کتاب کے بعض حصوں پر ایمان رکھتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو؟ پس تم میں سے جو شخص ایسا کرے اس کی کیا سزا ہو سکتی ہے سوائے اس کے کہ دنیا کی زندگی میں ذلّت (اور رُسوائی) ہو، اور قیامت کے دن (بھی ایسے لوگ) سخت ترین عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے، اور اللہ تمہارے کاموں سے بے خبر نہیںo

86. یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے میں دنیا کی زندگی خرید لی ہے، پس نہ ان پر سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ہی ان کو مدد دی جائے گیo

87. اور بیشک ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب (تورات) عطا کی اور ان کے بعد ہم نے پے در پے (بہت سے) پیغمبر بھیجے، اور ہم نے مریم (علیھا السلام) کے فرزند عیسیٰ (علیہ السلام) کو (بھی) روشن نشانیاں عطا کیں اور ہم نے پاک روح کے ذریعے ان کی تائید (اور مدد) کی، تو کیا (ہوا) جب بھی کوئی پیغمبر تمہارے پاس وہ (احکام) لایا جنہیں تمہارے نفس پسند نہیں کرتے تھے تو تم (وہیں) اکڑ گئے اور بعضوں کو تم نے جھٹلایا اور بعضوں کو تم قتل کرنے لگےo

88. اور یہودیوں نے کہا: ہمارے دلوں پر غلاف ہیں، (ایسا نہیں) بلکہ ان کے کفر کے باعث اللہ نے ان پر لعنت کر دی ہے سو وہ بہت ہی کم ایمان رکھتے ہیںo

89. اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے وہ کتاب (قرآن) آئی جو اس کتاب (تورات) کی (اصلاً) تصدیق کرنے والی ہے جو ان کے پاس موجود تھی، حالانکہ اس سے پہلے وہ خود (نبی آخر الزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان پر اترنے والی کتاب قرآن کے وسیلے سے) کافروں پر فتح یابی (کی دعا) مانگتے تھے، سو جب ان کے پاس وہی نبی (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اوپر نازل ہونے والی کتاب قرآن کے ساتھ) تشریف لے آیا جسے وہ (پہلے ہی سے) پہچانتے تھے تو اسی کے منکر ہو گئے، پس (ایسے دانستہ) انکار کرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہےo

90. انہوں نے اپنی جانوں کا کیا برا سودا کیا کہ اللہ کی نازل کردہ کتاب کا انکار کر رہے ہیں، محض اس حسد میں کہ اللہ اپنے فضل سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے (وحی) نازل فرماتا ہے، پس وہ غضب در غضب کے سزاوار ہوئے، اور کافروں کے لئے ذلّت انگیز عذاب ہےo

91. اور جب ان سے کہا جاتا ہے: اس (کتاب) پر ایمان لاؤ جسے اللہ نے (اب) نازل فرمایا ہے، (تو) کہتے ہیں: ہم صرف اس (کتاب) پر ایمان رکھتے ہیں جو ہم پر نازل کی گئی، اور وہ اس کے علاوہ کا انکار کرتے ہیں، حالانکہ وہ (قرآن بھی) حق ہے (اور) اس (کتاب) کی (بھی) تصدیق کرتا ہے جو ان کے پاس ہے، آپ (ان سے) دریافت فرمائیں کہ پھر تم اس سے پہلے انبیاء کو کیوں قتل کرتے رہے ہو اگر تم (واقعی اپنی ہی کتاب پر) ایمان رکھتے ہوo

92. اور (صورت حال یہ ہے کہ) تمہارے پاس (خود) موسیٰ (علیہ السلام) کھلی نشانیاں لائے پھر تم نے ان کے پیچھے بچھڑے کو معبود بنا لیا اور تم (حقیقت میں) ہو ہی جفاکارo

93. اور جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا اور ہم نے تمہارے اوپر طور کو اٹھا کھڑا کیا (یہ فرما کر کہ) اس (کتاب) کو مضبوطی سے تھامے رکھو جو ہم نے تمہیں عطا کی ہے اور (ہمارا حکم) سنو، تو (تمہارے بڑوں نے) کہا: ہم نے سن لیا مگر مانا نہیں، اور ان کے دلوں میں ان کے کفر کے باعث بچھڑے کی محبت رچا دی گئی تھی، (اے محبوب! انہیں) بتا دیں یہ باتیں بہت (ہی) بری ہیں جن کا حکم تمہیں تمہارا (نام نہاد) ایمان دے رہا ہے اگر (تم واقعۃً ان پر) ایمان رکھتے ہوo

94. آپ فرما دیں: اگر آخرت کا گھر اللہ کے نزدیک صرف تمہارے لئے ہی مخصوص ہے اور لوگوں کے لئے نہیں تو تم (بے دھڑک) موت کی آرزو کرو اگر تم (اپنے خیال میں) سچے ہوo

95. وہ ہرگز کبھی بھی اس کی آرزو نہیں کریں گے ان گناہوں (اور مَظالِم) کے باعث جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں (یا پہلے کر چکے ہیں) اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہےo

96. آپ انہیں یقیناً سب لوگوں سے زیادہ جینے کی ہوس میں مبتلا پائیں گے اور (یہاں تک کہ) مشرکوں سے بھی زیادہ، ان میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ کاش اسے ہزار برس کی عمر مل جائے، اگر اسے اتنی عمر مل بھی جائے، تو بھی یہ اسے عذاب سے بچانے والی نہیں ہو سکتی، اور اللہ ان کے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہےo

97. آپ فرما دیں: جو شخص جبریل کا دشمن ہے (وہ ظلم کر رہا ہے) کیونکہ اس نے (تو) اس (قرآن) کو آپ کے دل پر اللہ کے حکم سے اتارا ہے (جو) اپنے سے پہلے (کی کتابوں) کی تصدیق کرنے والا ہے اور مؤمنوں کے لئے (سراسر) ہدایت اور خوشخبری ہےo

98. جو شخص اللہ کا اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں کا اور جبریل اور میکائیل کا دشمن ہوا تو یقیناً اللہ (بھی ان) کافروں کا دشمن ہےo

99. اور بیشک ہم نے آپ کی طرف روشن آیتیں اتاری ہیں اور ان (نشانیوں) کا سوائے نافرمانوں کے کوئی انکار نہیں کر سکتاo

100. اور کیا (ایسا نہیں کہ) جب بھی انہوں نے کوئی عہد کیا تو ان میں سے ایک گروہ نے اسے توڑ کر پھینک دیا، بلکہ ان میں سے اکثر ایمان ہی نہیں رکھتےo

101. اور (اسی طرح) جب ان کے پاس اللہ کی جانب سے رسول (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے جو اس کتاب کی (اصلاً) تصدیق کرنے والے ہیں جو ان کے پاس (پہلے سے) موجود تھی تو (انہی) اہلِ کتاب میں سے ایک گروہ نے اللہ کی (اسی) کتاب (تورات) کو پسِ پشت پھینک دیا، گویا وہ (اس کو) جانتے ہی نہیں (حالانکہ اسی تورات نے انہیں نبی آخرالزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری کی خبر دی تھی)o

102. اور وہ (یہود تو) اس چیز (یعنی جادو) کے پیچھے (بھی) لگ گئے تھے جو سلیمان (علیہ السلام) کے عہدِ حکومت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے حالانکہ سلیمان (علیہ السلام) نے (کوئی) کفر نہیں کیا بلکہ کفر تو شیطانوں نے کیا جو لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور اس (جادو کے علم) کے پیچھے (بھی) لگ گئے جو شہر بابل میں ہاروت اور ماروت (نامی) دو فرشتوں پر اتارا گیا تھا، وہ دونوں کسی کو کچھ نہ سکھاتے تھے یہاں تک کہ کہہ دیتے کہ ہم تو محض آزمائش (کے لئے) ہیں سو تم (اس پر اعتقاد رکھ کر) کافر نہ بنو، اس کے باوجود وہ (یہودی) ان دونوں سے ایسا (منتر) سیکھتے تھے جس کے ذریعے شوہر اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیتے، حالانکہ وہ اس کے ذریعے کسی کو بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر اللہ ہی کے حکم سے اور یہ لوگ وہی چیزیں سیکھتے ہیں جو ان کے لئے ضرر رساں ہیں اور انہیں نفع نہیں پہنچاتیں اور انہیں (یہ بھی) یقینا معلوم تھا کہ جو کوئی اس (کفر یا جادو ٹونے) کا خریدار بنا اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں (ہوگا)، اور وہ بہت ہی بری چیز ہے جس کے بدلے میں انہوں نے اپنی جانوں (کی حقیقی بہتری یعنی اُخروی فلاح) کو بیچ ڈالا، کاش! وہ اس (سودے کی حقیقت) کو جانتےo

103. اور اگر وہ ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو اللہ کی بارگاہ سے (تھوڑا سا) ثواب (بھی ان سب چیزوں سے) کہیں بہتر ہوتا، کاش! وہ (اس راز سے) آگاہ ہوتےo

104. اے ایمان والو! (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے) رَاعِنَا مت کہا کرو بلکہ (ادب سے) اُنْظُرْنَا (ہماری طرف نظرِ کرم فرمائیے) کہا کرو اور (ان کا ارشاد) بغور سنتے رہا کرو، اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہےo

105. نہ وہ لوگ جو اہلِ کتاب میں سے کافر ہو گئے اور نہ ہی مشرکین اسے پسند کرتے ہیں کہ تمہارے رب کی طرف سے تم پر کوئی بھلائی اترے، اور اللہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر لیتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہےo

106. ہم جب کوئی آیت منسوخ کر دیتے ہیں یا اسے فراموش کرا دیتے ہیں (تو بہرصورت) اس سے بہتر یا ویسی ہی (کوئی اور آیت) لے آتے ہیں، کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر (کامل) قدرت رکھتا ہےo

107. کیا تمہیں معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کے لئے ہے، اور اللہ کے سوا نہ تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ ہی مددگارo

108. (اے مسلمانو!) کیا تم چاہتے ہو کہ تم بھی اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح سوالات کرو جیسا کہ اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) سے سوال کیے گئے تھے، تو جو کوئی ایمان کے بدلے کفر حاصل کرے پس وہ واقعۃً سیدھے راستے سے بھٹک گیاo

109. بہت سے اہلِ کتاب کی یہ خواہش ہے تمہارے ایمان لے آنے کے بعد پھر تمہیں کفر کی طرف لوٹا دیں، اس حسد کے باعث جو ان کے دلوں میں ہے اس کے باوجود کہ ان پر حق خوب ظاہر ہو چکا ہے، سو تم درگزر کرتے رہو اور نظرانداز کرتے رہو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم بھیج دے، بیشک اللہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہےo

110. اور نماز قائم (کیا) کرو اور زکوٰۃ دیتے رہا کرو، اور تم اپنے لئے جو نیکی بھی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے حضور پا لو گے، جو کچھ تم کر رہے ہو یقینا اللہ اسے دیکھ رہا ہےo

111. اور (اہلِ کتاب) کہتے ہیں کہ جنت میں ہرگز کوئی بھی داخل نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ وہ یہودی ہو یا نصرانی، یہ ان کی باطل امیدیں ہیں، آپ فرما دیں کہ اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو تو اپنی (اس خواہش پر) سند لاؤo

112. ہاں، جس نے اپنا چہرہ اﷲ کے لئے جھکا دیا (یعنی خود کو اﷲ کے سپرد کر دیا) اور وہ صاحبِ اِحسان ہو گیا تو اس کے لئے اس کا اجر اس کے رب کے ہاں ہے اور ایسے لوگوں پر نہ کوئی خوف ہو گا اورنہ وہ رنجیدہ ہوں گےo

113. اور یہود کہتے ہیں کہ نصرانیوں کی بنیاد کسی شے (یعنی صحیح عقیدے) پر نہیں اور نصرانی کہتے ہیں کہ یہودیوں کی بنیاد کسی شے پر نہیں، حالانکہ وہ (سب اللہ کی نازل کردہ) کتاب پڑھتے ہیں، اسی طرح وہ (مشرک) لوگ جن کے پاس (سرے سے کوئی آسمانی) علم ہی نہیں وہ بھی انہی جیسی بات کرتے ہیں، پس اللہ ان کے درمیان قیامت کے دن اس معاملے میں (خود ہی) فیصلہ فرما دے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہتے ہیںo

114. اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ کی مسجدوں میں اس کے نام کا ذکر کیے جانے سے روک دے اور انہیں ویران کرنے کی کوشش کرے! انہیں ایسا کرنا مناسب نہ تھا کہ مسجدوں میں داخل ہوتے مگر ڈرتے ہوئے، ان کے لئے دنیا میں (بھی) ذلّت ہے اور ان کے لئے آخرت میں (بھی) بڑا عذاب ہےo

115. اور مشرق و مغرب (سب) اللہ ہی کا ہے، پس تم جدھر بھی رخ کرو ادھر ہی اللہ کی توجہ ہے (یعنی ہر سمت ہی اللہ کی ذات جلوہ گر ہے)، بیشک اللہ بڑی وسعت والا سب کچھ جاننے والا ہےo

116. اور وہ کہتے ہیں: اللہ نے اپنے لئے اولاد بنائی ہے، حالانکہ وہ (اس سے) پاک ہے، بلکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) اسی کی (خَلق اور مِلک) ہے، (اور) سب کے سب اس کے فرماں بردار ہیںo

117. وہی آسمانوں اور زمین کو وجود میں لانے والا ہے، اور جب کسی چیز (کے ایجاد) کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو پھر اس کو صرف یہی فرماتا ہے کہ "تو ہو جا" پس وہ ہوجاتی ہےo

118. اور جو لوگ علم نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اللہ ہم سے کلام کیوں نہیں فرماتا یا ہمارے پاس (براہِ راست) کوئی نشانی کیوں نہیں آتی؟ اسی طرح ان سے پہلے لوگوں نے بھی انہی جیسی بات کہی تھی، ان (سب) لوگوں کے دل آپس میں ایک جیسے ہیں، بیشک ہم نے یقین والوں کے لئے نشانیاں خوب واضح کر دی ہیںo

119. (اے محبوبِ مکرّم!) بیشک ہم نے آپ کو حق کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے اور اہلِ دوزخ کے بارے میں آپ سے پرسش نہیں کی جائے گیo

120. اور یہود و نصارٰی آپ سے (اس وقت تک) ہرگز خوش نہیں ہوں گے جب تک آپ ان کے مذہب کی پیروی اختیار نہ کر لیں، آپ فرما دیں کہ بیشک اللہ کی (عطا کردہ) ہدایت ہی (حقیقی) ہدایت ہے، (امت کی تعلیم کے لئے فرمایا اور اگر (بفرضِ محال) آپ نے اس علم کے بعد جو آپ کے پاس (اللہ کی طرف سے) آچکا ہے، ان کی خواہشات کی پیروی کی تو آپ کے لئے اللہ سے بچانے والا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگارo

121. (ایسے لوگ بھی ہیں) جنہیں ہم نے کتاب دی وہ اسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسے پڑھنے کا حق ہے، وہی لوگ اس (کتاب) پر ایمان رکھتے ہیں، اور جو اس کا انکار کر رہے ہیں سو وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیںo

122. اے اولادِ یعقوب! میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر ارزانی فرمائی اور (خصوصاً) یہ کہ میں نے تمہیں اس زمانے کے تمام لوگوں پر فضیلت عطا کیo

123. اور اس دن سے ڈرو جب کوئی جان کسی دوسری جان کی جگہ کوئی بدلہ نہ دے سکے گی اور نہ اس کی طرف سے (اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے) کوئی معاوضہ قبول کیا جائے گا اور نہ اس کو (اِذنِ الٰہی کے بغیر) کوئی سفارش ہی فائدہ پہنچا سکے گی اور نہ (اَمرِِ الٰہی کے خلاف) انہیں کوئی مدد دی جا سکے گیo

124. اور (وہ وقت یاد کرو) جب ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے رب نے کئی باتوں میں آزمایا تو انہوں نے وہ پوری کر دیں، (اس پر) اللہ نے فرمایا: میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بناؤں گا، انہوں نے عرض کیا: (کیا) میری اولاد میں سے بھی؟ ارشاد ہوا: (ہاں! مگر) میرا وعدہ ظالموں کو نہیں پہنچتاo

125. اور (یاد کرو) جب ہم نے اس گھر (خانہ کعبہ) کو لوگوں کے لئے رجوع (اور اجتماع) کا مرکز اور جائے امان بنا دیا، اور (حکم دیا کہ) ابراہیم (علیہ السلام) کے کھڑے ہونے کی جگہ کو مقامِ نماز بنا لو، اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل (علیھما السلام) کو تاکید فرمائی کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے پاک (صاف) کر دوo

126. اور جب ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا: اے میرے رب! اسے امن والا شہر بنا دے اور اس کے باشندوں کو طرح طرح کے پھلوں سے نواز (یعنی) ان لوگوں کو جو ان میں سے اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان لائے، (اللہ نے) فرمایا: اور جو کوئی کفر کرے گا اس کو بھی زندگی کی تھوڑی مدت (کے لئے) فائدہ پہنچاؤں گا پھر اسے (اس کے کفر کے باعث) دوزخ کے عذاب کی طرف (جانے پر) مجبور کر دوں گا اور وہ بہت بری جگہ ہےo

127. اور (یاد کرو) جب ابراہیم اور اسماعیل (علیھما السلام) خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے (تو دونوں دعا کر رہے تھے) کہ اے ہمارے رب! تو ہم سے (یہ خدمت) قبول فرما لے، بیشک تو خوب سننے والا خوب جاننے والا ہےo

128. اے ہمارے رب! ہم دونوں کو اپنے حکم کے سامنے جھکنے والا بنا اور ہماری اولاد سے بھی ایک امت کو خاص اپنا تابع فرمان بنا اور ہمیں ہماری عبادت (اور حج کے) قواعد بتا دے اور ہم پر (رحمت و مغفرت) کی نظر فرما، بیشک تو ہی بہت توبہ قبول فرمانے والا مہربان ہےo

129. اے ہمارے رب! ان میں انہی میں سے (وہ آخری اور برگزیدہ) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث فرما جو ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے (کر دانائے راز بنا دے) اور ان (کے نفوس و قلوب) کو خوب پاک صاف کر دے، بیشک تو ہی غالب حکمت والا ہےo

130. اور کون ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) کے دین سے رُوگرداں ہو سوائے اس کے جس نے خود کو مبتلائے حماقت کر رکھا ہو، اور بیشک ہم نے انہیں ضرور دنیا میں (بھی) منتخب فرما لیا تھا اور یقیناً وہ آخرت میں (بھی) بلند رتبہ مقرّبین میں ہوں گےo

131. اور جب ان کے رب نے ان سے فرمایا: (میرے سامنے) گردن جھکا دو، تو عرض کرنے لگے: میں نے سارے جہانوں کے رب کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیاo

132. اور ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو اسی بات کی وصیت کی اور یعقوب (علیہ السلام) نے بھی (یہی کہا اے میرے لڑکو! بیشک اللہ نے تمہارے لئے (یہی) دین (اسلام) پسند فرمایا ہے سو تم (بہرصورت) مسلمان رہتے ہوئے ہی مرناo

133. کیا تم (اس وقت) حاضر تھے جب یعقوب (علیہ السلام) کو موت آئی، جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے پوچھا: تم میرے (انتقال کے) بعد کس کی عبادت کرو گے؟ تو انہوں نے کہا: ہم آپ کے معبود اور آپ کے باپ دادا ابراہیم اور اسماعیل اور اسحٰق (علیھم السلام) کے معبود کی عبادت کریں گے جو معبودِ یکتا ہے، اور ہم (سب) اسی کے فرماں بردار رہیں گےo

134. وہ ایک امت تھی جو گزر چکی، ان کے لئے وہی کچھ ہوگا جو انہوں نے کمایا اور تمہارے لئے وہ ہوگا جو تم کماؤ گے اور تم سے ان کے اعمال کی باز پُرس نہ کی جائے گیo

135. اور (اہلِ کتاب) کہتے ہیں: یہودی یا نصرانی ہو جاؤ ہدایت پا جاؤ گے، آپ فرما دیں کہ (نہیں) بلکہ ہم تو (اس) ابراہیم (علیہ السلام) کا دین اختیار کیے ہوئے ہیں جو ہر باطل سے جدا صرف اللہ کی طرف متوجہ تھے، اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھےo

136. (اے مسلمانو!) تم کہہ دو: ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس (کتاب) پر جو ہماری طرف اتاری گئی اور اس پر (بھی) جو ابراہیم اور اسماعیل اور اسحٰق اور یعقوب (علیھم السلام) اور ان کی اولاد کی طرف اتاری گئی اور ان (کتابوں) پر بھی جو موسیٰ اور عیسیٰ (علیھما السلام) کو عطا کی گئیں اور (اسی طرح) جو دوسرے انبیاء (علیھم السلام) کو ان کے رب کی طرف سے عطا کی گئیں، ہم ان میں سے کسی ایک (پر بھی ایمان) میں فرق نہیں کرتے، اور ہم اسی (معبودِ واحد) کے فرماں بردار ہیں o

137. پھر اگر وہ (بھی) اسی طرح ایمان لائیں جیسے تم اس پر ایمان لائے ہو تو وہ (واقعی) ہدایت پا جائیں گے، اور اگر وہ منہ پھیر لیں تو (سمجھ لیں کہ) وہ محض مخالفت میں ہیں، پس اب اللہ آپ کو ان کے شر سے بچانے کے لئے کافی ہوگا، اور وہ خوب سننے والا جاننے والا ہےo

138. (کہہ دو: ہم) اللہ کے رنگ (میں رنگے گئے ہیں) اور کس کا رنگ اللہ کے رنگ سے بہتر ہے اور ہم تو اسی کے عبادت گزار ہیںo

139. فرما دیں: کیا تم اللہ کے بارے میں ہم سے جھگڑا کرتے ہو حالانکہ وہ ہمارا (بھی) رب ہے، اور تمہارا (بھی) رب ہے اور ہمارے لئے ہمارے اعمال اور تمہارے لئے تمہارے اعمال ہیں، اور ہم تو خالصۃً اسی کے ہو چکے ہیںo

140. (اے اہلِ کتاب!) کیا تم یہ کہتے ہو کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحٰق اور یعقوب (علیھم السلام) اور ان کے بیٹے یہودی یا نصرانی تھے، فرما دیں: کیا تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ؟ اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اس گواہی کو چھپائے جو اس کے پاس اللہ کی طرف سے (کتاب میں موجود) ہے، اور اللہ تمہارے کاموں سے بے خبر نہیںo

141. وہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی، جو اس نے کمایا وہ اس کے لئے تھا اور جو تم کماؤ گے وہ تمہارے لئے ہوگا، اور تم سے ان کے اعمال کی نسبت نہیں پوچھا جائے گاo
__________________

 
زارا's Avatar
زارا
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 3611
Reply With Quote
پرانا 09-02-11, 02:57 PM   #16
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,228
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default پارہ نمبر 14

پاره رُبَمَا

2. کفار (آخرت میں مومنوں پر اللہ کی رحمت کے مناظر دیکھ کر) بار بار آرزو کریں گے کہ کاش! وہ مسلمان ہوتےo

3. آپ (غمگین نہ ہوں) انہیں چھوڑ دیجئے وہ کھاتے (پیتے) رہیں اور عیش کرتے رہیں اور (ان کی) جھوٹی امیدیں انہیں (آخرت سے) غافل رکھیں پھر وہ عنقریب (اپنا انجام) جان لیں گےo

4. اور ہم نے کوئی بھی بستی ہلاک نہیں کی مگر یہ کہ اُس کے لئے ایک معلوم نوشتۂ (قانون) تھا (جس کی انہوں نے خلاف ورزی کی اور اپنے انجام کو جا پہنچے)o

5. کوئی بھی قوم (قانونِ عروج و زوال کی) اپنی مقررہ مدت سے نہ آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ پیچھے ہٹ سکتی ہےo

6. اور (کفار گستاخی کرتے ہوئے) کہتے ہیں: اے وہ شخص جس پر قرآن اتارا گیا ہے! بیشک تم دیوانے ہوo

7. تم ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لے آتے اگر تم سچے ہوo

8. ہم فرشتوں کو نہیں اتارا کرتے مگر (فیصلۂ) حق کے ساتھ (یعنی جب عذاب کی گھڑی آپہنچے تو اس کے نفاذ کے لئے اتارتے ہیں) اور اس وقت انہیں مہلت نہیں دی جاتیo

9. بیشک یہ ذکرِ عظیم (قرآن) ہم نے ہی اتارا ہے اور یقیناً ہم ہی اس کی حفاظت کریں گےo

10. اور بیشک ہم نے آپ سے قبل پہلی امتوں میں بھی رسول بھیجے تھےo

11. اور ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا تھا مگر یہ کہ وہ اس کے ساتھ مذاق کیا کرتے تھےo

12. اسی طرح ہم اس (تمسخر اور استہزاء) کو مجرموں کے دلوں میں داخل کر دیتے ہیںo

13. یہ لوگ اِس (قرآن) پر ایمان نہیں لائیں گے اور بیشک پہلوں کی (یہی) روش گزر چکی ہےo

14. اور اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ (بھی) کھول دیں (اور ان کے لئے یہ بھی ممکن بنا دیں کہ) وہ سارا دن اس میں (سے) اوپر چڑھتے رہیںo

15. (تب بھی) یہ لوگ یقیناً (یہ) کہیں گے کہ ہماری آنکھیں (کسی حیلہ و فریب کے ذریعے) باندھ دی گئی ہیں بلکہ ہم لوگوں پر جادو کر دیا گیا ہےo

16. اور بیشک ہم نے آسمان میں (کہکشاؤں کی صورت میں ستاروں کی حفاطت کے لئے) قلعے بنائے اور ہم نے اس (خلائی کائنات) کو دیکھنے والوں کے لئے آراستہ کر دیاo

17. اور ہم نے اس (آسمانی کائنات کے نظام) کو ہر مردود شیطان (یعنی ہر سرکش قوت کے شرانگیز عمل) سے محفوظ کر دیاo

18. مگر جو کوئی بھی چوری چھپے سننے کے لئے آگھسا تو اس کے پیچھے ایک (جلتا) چمکتا شہاب ہو جاتا ہےo

19. اور زمین کو ہم نے (گولائی کے باوجود) پھیلا دیا اور ہم نے اس میں (مختلف مادوں کو باہم ملا کر) مضبوط پہاڑ بنا دیئے اور ہم نے اس میں ہر جنس کو (مطلوبہ) توازن کے مطابق نشو و نما دیo

20. اور ہم نے اس میں تمہارے لئے اسبابِ معیشت پیدا کئے اور ان (انسانوں، جانوروں اور پرندوں) کے لئے بھی جنہیں تم رزق مہیا نہیں کرتےo

21. اور (کائنات) کی کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے مگر یہ کہ ہمارے پاس اس کے خزانے ہیں اور ہم اسے صرف معیّن مقدار کے مطابق ہی اتارتے رہتے ہیںo

22. اور ہم ہواؤں کو بادلوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے بھیجتے ہیں پھر ہم آسمان کی جانب سے پانی اتارتے ہیں پھر ہم اسے تم ہی کو پلاتے ہیں اور تم اس کے خزانے رکھنے والے نہیں ہوo

23. اور بیشک ہم ہی جلاتے ہیں اور مارتے ہیں اور ہم ہی (سب کے) وارث (و مالک) ہیںo

24. اور بیشک ہم اُن کو بھی جانتے ہیں جو تم سے پہلے گزر چکے اور بیشک ہم بعد میں آنے والوں کو بھی جانتے ہیںo

25. اور بیشک آپ کا رب ہی تو انہیں (روزِ قیامت) جمع فرمائے گا۔ بیشک وہ بڑی حکمت والا خوب جاننے والا ہےo

26. اور بیشک ہم نے انسان کی (کیمیائی) تخلیق ایسے خشک بجنے والے گارے سے کی جو (پہلے) سِن رسیدہ (اور دھوپ اور دیگر طبیعیاتی اور کیمیائی اثرات کے باعث تغیر پذیر ہو کر) سیاہ بو دار ہو چکا تھاo

27. اور اِس سے پہلے ہم نے جنّوں کو شدید جلا دینے والی آگ سے پیدا کیا جس میں دھواں نہیں تھاo

28. اور (وہ واقعہ یاد کیجئے) جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں سِن رسیدہ (اور) سیاہ بودار، بجنے والے گارے سے ایک بشری پیکر پیدا کرنے والا ہوںo

29. پھر جب میں اس کی (ظاہری) تشکیل کو کامل طور پر درست حالت میں لا چکوں اور اس پیکرِ (بشری کے باطن) میں اپنی (نورانی) روح پھونک دوں تو تم اس کے لئے سجدہ میں گر پڑناo

30. پس (اس پیکرِ بشری کے اندر نورِ ربانی کا چراغ جلتے ہی) سارے کے سارے فرشتوں نے سجدہ کیاo

31. سوائے ابلیس کے، اس نے سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہونے سے انکار کر دیاo

32. (اللہ نے) ارشاد فرمایا: اے ابلیس! تجھے کیا ہو گیا ہے کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہواo

33. (ابلیس نے) کہا: میں ہر گز ایسا نہیں (ہو سکتا) کہ بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے سِن رسیدہ (اور) سیاہ بودار، بجنے والے گارے سے تخلیق کیا ہےo

34. (اللہ نے) فرمایا: تو یہاں سے نکل جا پس بیشک تو مردود (راندۂ درگاہ) ہےo

35. اور بیشک تجھ پر روزِ جزا تک لعنت (پڑتی) رہے گیo

36. اُس نے کہا: اے پروردگار! پس تو مجھے اُس دن تک مہلت دے دے (جس دن) لوگ (دوبارہ) اٹھائے جائیں گےo

37. اللہ نے فرمایا: سو بیشک تو مہلت یافتہ لوگوں میں سے ہےo

38. وقتِ مقررہ کے دن (قیامت) تکo

39. ابلیس نے کہا: اے پروردگار! اس سبب سے جو تو نے مجھے گمراہ کیا میں (بھی) یقیناً ان کے لئے زمین میں (گناہوں اور نافرمانیوں کو) خوب آراستہ و خوش نما بنا دوں گا اور ان سب کو ضرور گمراہ کر کے رہوں گاo

40. سوائے تیرے ان برگزیدہ بندوں کے جو (میرے اور نفس کے فریبوں سے) خلاصی پا چکے ہیںo

41. اللہ نے ارشاد فرمایا: یہ (اخلاص ہی) راستہ ہے جو سیدھا میرے در پر آتا ہےo

42. بیشک میرے (اخلاص یافتہ) بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا سوائے ان بھٹکے ہوؤں کے جنہوں نے تیری راہ اختیار کیo

43. اور بیشک ان سب کے لئے وعدہ کی جگہ جہنم ہےo

44. جس کے سات دروازے ہیں، ہر دروازے کے لئے ان میں سے الگ حصہ مخصوص کیا گیا ہےo

45. بیشک متقی لوگ باغوں اور چشموں میں رہیں گےo

46. (ان سے کہا جائے گا ان میں سلامتی کے ساتھ بے خوف ہو کر داخل ہو o

4جاؤ7. اور ہم وہ ساری کدورت باہر کھینچ لیں گے جو (دنیا میں) ان کے سینوں میں (مغالطہ کے باعث ایک دوسرے سے) تھی، وہ (جنت میں) بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گےo

48. انہیں وہاں کوئی تکلیف نہ پہنچے گی اور نہ ہی وہ وہاں سے نکالے جائیں گےo

49. (اے حبیب!) آپ میرے بندوں کو بتا دیجئے کہ میں ہی بیشک بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہوںo

50. اور (اس بات سے بھی آگاہ کر دیجئے) کہ میرا ہی عذاب بڑا دردناک عذاب ہےo

51. اور انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کی خبر (بھی) سنائیےo

52. جب وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے تو انہوں نے (آپ کو) سلام کہا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ ہم آپ سے کچھ ڈر محسوس کر رہے ہیںo

53. (مہمان فرشتوں نے) کہا: آپ خائف نہ ہوں ہم آپ کو ایک دانش مند لڑکے (کی پیدائش) کی خوشخبری سناتے ہیںo

54. ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا: تم مجھے اس حال میں خوشخبری سنا رہے ہو جبکہ مجھے بڑھاپا لاحق ہو چکا ہے سو اب تم کس چیز کی خوشخبری سناتے ہوo

55. انہوں نے کہا: ہم آپ کو سچی بشارت دے رہے ہیں سو آپ نا امید نہ ہوںo

56. ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا: اپنے رب کی رحمت سے گمراہوں کے سوا اور کون مایوس ہو سکتا ہےo

57. ابراہیم (علیہ السلام) نے دریافت کیا: اے (اللہ کے) بھیجے ہوئے فرشتو! (اس بشارت کے علاوہ) اور تمہارا کیا کام ہے (جس کے لئے آئے ہو)o

58. انہوں نے کہا: ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیںo

59. سوائے لوط (علیہ السلام) کے گھرانے کے، بیشک ہم ان سب کو ضرور بچا لیں گےo

60. بجز ان کی بیوی کے، ہم (یہ) طے کر چکے ہیں کہ وہ ضرور (عذاب کے لئے) پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہےo

61. پھر جب لوط (علیہ السلام) کے خاندان کے پاس وہ فرستادہ (فرشتے) آئےo

62. لوط (علیہ السلام) نے کہا: بیشک تم اجنبی لوگ (معلوم ہوتے) ہوo

63. انہوں نے کہا: (ایسا نہیں) بلکہ ہم آپ کے پاس وہ (عذاب) لے کر آئے ہیں جس میں یہ لوگ شک کرتے رہے ہیںo

64. اور ہم آپ کے پاس حق (کا فیصلہ) لے کر آئے ہیں اور ہم یقیناً سچے ہیںo

65. پس آپ اپنے اہلِ خانہ کو رات کے کسی حصہ میں لے کر نکل جائیے اور آپ خود ان کے پیچھے پیچھے چلئے اور آپ میں سے کوئی مڑ کر (بھی) پیچھے نہ دیکھے اور آپ کو جہاں جانے کا حکم دیا گیا ہے (وہاں) چلے جائیےo

66. اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو اس فیصلہ سے بذریعہ وحی آگاہ کر دیا کہ بیشک اُن کے صبح کرتے ہی اُن لوگوں کی جڑ کٹ جائے گیo

67. اور اہلِ شہر (اپنی بد مستی میں) خوشیاں مناتے ہوئے (لوط علیہ السلام کے پاس) آپہنچےo

68. لوط (علیہ السلام) نے کہا: بیشک یہ لوگ میرے مہمان ہیں پس تم مجھے (اِن کے بارے میں) شرم سار نہ کروo

69. اور اللہ (کے غضب) سے ڈرو اور مجھے رسوا نہ کروo

70. وہ (بد مست لوگ) بولے: (اے لوط!) کیا ہم نے تمہیں دنیا بھر کے لوگوں (کی حمایت) سے منع نہیں کیا تھاo

71. لوط (علیہ السلام) نے کہا: یہ میری (قوم کی) بیٹیاں ہیں اگر تم کچھ کرنا چاہتے ہو (تو بجائے بدکرداری کے ان سے نکاح کر لو)o

72. (اے حبیبِ مکرّم!) آپ کی عمرِ مبارک کی قَسم، بیشک یہ لوگ (بھی قومِ لوط کی طرح) اپنی بدمستی میں سرگرداں پھر رہے ہیںo

73. پس انہیں طلوعِ آفتاب کے ساتھ ہی سخت آتشیں کڑک نے آلیاo

74. سو ہم نے ان کی بستی کو زِیر و زَبر کر دیا اور ہم نے ان پر پتھر کی طرح سخت مٹی کے کنکر برسائےo

75. بیشک اس (واقعہ) میں اہلِ فراست کے لئے نشانیاں ہیںo

76. اور بیشک وہ بستی ایک آباد راستہ پر واقع ہےo

77. بیشک اس (واقعۂ قومِ لوط) میں اہلِ ایمان کے لئے نشانی (عبرت) ہےo

78. اور بیشک باشندگانِ اَیکہ (یعنی گھنی جھاڑیوں کے رہنے والے) بھی بڑے ظالم تھےo

79. پس ہم نے ان سے (بھی) انتقام لیا، اور یہ دونوں (بستیاں) کھلے راستہ پر (موجود) ہیںo

80. اور بیشک وادئ حجر کے باشندوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایاo

81. اور ہم نے انہیں (بھی) اپنی نشانیاں دیں مگر وہ ان سے رُوگردانی کرتے رہےo

82. اور وہ لوگ بے خوف و خطر پہاڑوں میں گھر تراشتے تھےo

83. تو انہیں (بھی) صبح کرتے ہی خوفناک کڑک نے آپکڑاo

84. سو جو (مال) وہ کمایا کرتے تھے وہ ان سے (اللہ کے عذاب) کو دفع نہ کر سکاo

85. اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے عبث پیدا نہیں کیا، اور یقیناً قیامت کی گھڑی آنے والی ہے، سو (اے اخلاقِ مجسّم!) آپ بڑے حسن و خوبی کے ساتھ درگزر کرتے رہئےo

86. بیشک آپ کا رب ہی سب کو پیدا فرمانے والا خوب جاننے والا ہےo

87. اور بیشک ہم نے آپ کو بار بار دہرائی جانے والی سات آیتیں (یعنی سورۂ فاتحہ) اور بڑی عظمت والا قرآن عطا فرمایا ہےo

88. آپ ان چیزوں کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھئے جن سے ہم نے کافروں کے گروہوں کو (چند روزہ) عیش کے لئے بہرہ مند کیا ہے، اور ان (کی گمراہی) پر رنجیدہ خاطر بھی نہ ہوں اور اہلِ ایمان (کی دل جوئی) کے لئے اپنے (شفقت و التفات کے) بازو جھکائے رکھئےo

89. اور فرما دیجئے کہ بیشک (اب) میں ہی (عذابِ الٰہی کا) واضح و صریح ڈر سنانے والا ہوںo

90. جیسا (عذاب) کہ ہم نے تقسیم کرنے والوں (یعنی یہود و نصارٰی) پر اتارا تھاo

91. جنہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے (کر کے تقسیم) کر ڈالا (یعنی موافق آیتوں کو مان لیا اور غیر موافق کو نہ مانا)o

92. سو آپ کے رب کی قسم! ہم ان سب سے ضرور پرسش کریں گےo

93. ان اعمال سے متعلق جو وہ کرتے رہے تھےo

94. پس آپ وہ (باتیں) اعلانیہ کہہ ڈالیں جن کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اور آپ مشرکوں سے منہ پھیر لیجئےo

95. بیشک مذاق کرنے والوں (کو انجام تک پہنچانے) کے لئے ہم آپ کو کافی ہیںo

96. جو اللہ کے ساتھ دوسرا معبود بناتے ہیں سو وہ عنقریب (اپنا انجام) جان لیں گےo

97. اور بیشک ہم جانتے ہیں کہ آپ کا سینۂ (اقدس) ان باتوں سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیںo

98. سو آپ حمد کے ساتھ اپنے رب کی تسبیح کیا کریں اور سجود کرنے والوں میں (شامل) رہا کریںo

99. اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کو (آپ کی شان کے لائق) مقامِ یقین مل جائے (یعنی انشراحِ کامل نصیب ہو جائے یا لمحۂ وصالِ حق)o


سُورة النَّحْل

1. اللہ کا وعدہ (قریب) آپہنچا سو تم اس کے چاہنے میں عجلت نہ کرو۔ وہ پاک ہے اور وہ ان چیزوں سے برتر ہے جنہیں کفار (اس کا) شریک ٹھہراتے ہیںo

2. وہی فرشتوں کو وحی کے ساتھ (جو جملہ تعلیماتِ دین کی روح اور جان ہے) اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے نازل فرماتا ہے کہ (لوگوں کو) ڈر سناؤ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں سو میری پرہیزگاری اختیار کروo

3. اُسی نے آسمانوں اور زمین کو درست تدبیر کے ساتھ پیدا فرمایا، وہ ان چیزوں سے برتر ہے جنہیں کفار (اس کا) شریک گردانتے ہیںo

4. اُسی نے انسان کو ایک تولیدی قطرہ سے پیدا فرمایا، پھر بھی وہ (اللہ کے حضور مطیع ہونے کی بجائے) کھلا جھگڑالو بن گیاo

5. اور اُسی نے تمہارے لئے چوپائے پیدا فرمائے، ان میں تمہارے لئے گرم لباس ہے اور (دوسرے) فوائد ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے (بھی) ہوo

6. اور ان میں تمہارے لئے رونق (اور دل کشی بھی) ہے جب تم شام کو چراگاہ سے (واپس) لاتے ہو اور جب تم صبح کو (چرانے کے لئے) لے جاتے ہوo

7. اور یہ (جانور) تمہارے بوجھ (بھی) ان شہروں تک اٹھا لے جاتے ہیں جہاں تم بغیر جانکاہ مشقت کے نہیں پہنچ سکتے تھے، بیشک تمہارا رب نہایت شفقت والا نہایت مہربان ہےo

8. اور (اُسی نے) گھوڑوں اور خچروں اور گدھوں کو (پیدا کیا) تاکہ تم ان پر سواری کر سکو اور وہ (تمہارے لئے) باعثِ زینت بھی ہوں، اور وہ (مزید ایسی بازینت سواریوں کو بھی) پیدا فرمائے گا جنہیں تم (آج) نہیں جانتےo

9. اور درمیانی راہ اللہ (کے دروازے) پر جا پہنچتی ہے اور اس میں سے کئی ٹیڑھی راہیں بھی (نکلتی) ہیں، اور اگر وہ چاہتا تو تم سب ہی کو ہدایت فرما دیتاo

10. وہی ہے جس نے تمہارے لئے آسمان کی جانب سے پانی اتارا، اس میں سے (کچھ) پینے کا ہے اور اسی میں سے (کچھ) شجر کاری کا ہے (جس سے نباتات، سبزے اور چراگاہیں اُگتی ہیں) جن میں تم (اپنے مویشی) چراتے ہوo

11. اُسی پانی سے تمہارے لئے کھیت اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل (اور میوے) اگاتا ہے، بیشک اِس میں غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لئے نشانی ہےo

12. اور اُسی نے تمہارے لئے رات اور دن کو اور سورج اور چاند کو مسخر کر دیا، اور تمام ستارے بھی اُسی کی تدبیر (سے نظام) کے پابند ہیں، بیشک اس میں عقل رکھنے والے لوگوں کے لئے نشانیاں ہیںo

13. اور (حیوانات، نباتات اور معدنیات وغیرہ میں سے بقیہ) جو کچھ بھی اس نے تمہارے لئے زمین میں پیدا فرمایا ہے جن کے رنگ (یعنی جنسیں، نوعیں، قسمیں، خواص اور منافع) الگ الگ ہیں (سب تمہارے لئے مسخر ہیں)، بیشک اس میں نصیحت قبول کرنے والے لوگوں کے لئے نشانی ہےo

14. اور وہی ہے جس نے (فضا و بر کے علاوہ) بحر (یعنی دریاؤں اور سمندروں) کو بھی مسخر فرما دیا تاکہ تم اس میں سے تازہ (و پسندیدہ) گوشت کھاؤ اور تم اس میں سے موتی (وغیرہ) نکالو جنہیں تم زیبائش کے لئے پہنتے ہو، اور (اے انسان!) تُو کشتیوں (اور جہازوں) کو دیکھتا ہے جو (دریاؤں اور سمندروں کا) پانی چیرتے ہوئے اس میں چلے جاتے ہیں، اور (یہ سب کچھ اس لئے کیا) تاکہ تم (دور دور تک) اس کا فضل (یعنی رزق) تلاش کرو اور یہ کہ تم شکر گزار بن جاؤo

15. اور اسی نے زمین میں (مختلف مادوں کو باہم ملا کر) بھاری پہاڑ بنا دیئے تاکہ ایسا نہ ہو کہ کہیں وہ (اپنے مدار میں حرکت کرتے ہوئے) تمہیں لے کر کانپنے لگے اور نہریں اور (قدرتی) راستے (بھی) بنائے تاکہ تم (منزلوں تک پہنچنے کے لئے) راہ پا سکوo

16. اور (دن کو راہ تلاش کرنے کے لئے) علامتیں بنائیں، اور (رات کو) لوگ ستاروں کے ذریعہ (بھی) راہ پاتے ہیںo

17. کیا وہ خالق جو (اتنا کچھ) پیدا فرمائے اس کے مثل ہو سکتا ہے جو (کچھ بھی) پیدا نہ کر سکے، کیا تم لوگ نصیحت قبول نہیں کرتےo

18. اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو انہیں پورا شمار نہ کر سکو گے، بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہےo

19. اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہوo

20. اور یہ (مشرک) لوگ جن (بتوں) کو اللہ کے سوا پوجتے ہیں وہ کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ خود پیدا کئے گئے ہیںo

21. (وہ) مُردے ہیں زندہ نہیں، اور (انہیں اتنا بھی) شعور نہیں کہ (لوگ) کب اٹھائے جائیں گےo

22. تمہارا معبود، معبودِ یکتا ہے، پس جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل منکر ہیں اور وہ سرکش و متکبّر ہیںo

23. یہ بات حق و ثابت ہے کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں، بیشک وہ سرکشوں متکبّروں کو پسند نہیں کرتاo

24. اور جب اُن سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا نازل فرمایا ہے؟ (تو) وہ کہتے ہیں: اگلی قوموں کے جھوٹے قصے (اتارے ہیں)o

25. (یہ سب کچھ اس لئے کہہ رہے ہیں) تاکہ روزِ قیامت وہ اپنے (اعمالِ بد کے) پورے پورے بوجھ اٹھائیں اور کچھ بوجھ اُن لوگوں کے بھی (اٹھائیں) جنہیں (اپنی) جہالت کے ذریعہ گمراہ کئے جا رہے ہیں، جان لو! بہت بُرا بوجھ ہے جو یہ اٹھا رہے ہیںo

26. بیشک اُن لوگوں نے (بھی) فریب کیا جو اِن سے پہلے تھے تو اللہ نے اُن (کے مکر و فریب) کی عمارت کو بنیادوں سے اکھاڑ دیا تو ان کے اوپر سے ان پر چھت گر پڑی اور ان پر اس طرف سے عذاب آپہنچا جس کا اُنہیں کچھ خیال بھی نہ تھاo

27. پھر وہ اُنہیں قیامت کے دن رسوا کرے گا اور ارشاد فرمائے گا: میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کے حق میں تم (مومنوں سے) جھگڑا کرتے تھے؟ وہ لوگ جنہیں علم دیا گیا ہے کہیں گے: بیشک آج کافروں پر (ہر قسم کی) رسوائی اور بربادی ہےo

28. جن کی روحیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر (بدستور) ظلم کئے جا رہے ہوں، سو وہ (روزِ قیامت) اطاعت و فرمانبرداری کا اظہار کریں گے (اور کہیں گے ہم (دنیا میں) کوئی برائی نہیں کیا کرتے تھے، کیوں نہیں بیشک اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کیا کرتے تھےo

29. پس تم دوزخ کے دروازوں سے داخل ہو جاؤ، تم اس میں ہمیشہ رہنے والے ہو، سو تکبّر کرنے والوں کا کیا ہی برا ٹھکانا ہےo

30. اور پرہیزگار لوگوں سے کہا جائے کہ تمہارے رب نے کیا نازل فرمایا ہے؟ وہ کہتے ہیں: (دنیا و آخرت کی) بھلائی (اتاری ہے)، ان لوگوں کے لئے جو نیکی کرتے رہے اس دنیا میں (بھی) بھلائی ہے، اور آخرت کا گھر تو ضرور ہی بہتر ہے، اور پرہیزگاروں کا گھر کیا ہی خوب ہےo

31. سدا بہار باغات ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہوں گی، اِن میں اُن کے لئے جو کچھ وہ چاہیں گے (میسّر) ہوگا، اس طرح اللہ پرہیزگاروں کو صلہ عطا فرماتا ہےo

32. جن کی روحیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ (نیکی و طاعت کے باعث) پاکیزہ اور خوش و خرم ہوں، (ان سے فرشتے قبضِ روح کے وقت ہی کہہ دیتے ہیں تم پر سلامتی ہو، تم جنت میں داخل ہو جاؤ ان (اَعمالِ صالحہ) کے باعث جو تم کیا کرتے تھےo

33. یہ اور کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں سوائے اِس کے کہ ِان کے پاس فرشتے آجائیں یا آپ کے رب کا حکمِ (عذاب) آپہنچے، یہی کچھ ان لوگوں نے (بھی) کیا تھا جو اِن سے پہلے تھے، اور اللہ نے اُن پر ظلم نہیں کیا تھا لیکن وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا کرتے تھےo

34. سو جو اَعمال انہوں نے کئے تھے انہی کی سزائیں ان کو پہنچیں اور اسی (عذاب) نے انہیں آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھےo

35. اور مشرک لوگ کہتے ہیں: اگر اللہ چاہتا تو ہم اس کے سوا کسی بھی چیز کی پرستش نہ کرتے، نہ ہی ہم اور نہ ہمارے باپ دادا، اور نہ ہم اس کے (حکم کے) بغیر کسی چیز کو حرام قرار دیتے، یہی کچھ ان لوگوں نے (بھی) کیا تھا جو اِن سے پہلے تھے، تو کیا رسولوں کے ذمہ (اللہ کے پیغام اور احکام) واضح طور پر پہنچا دینے کے علاوہ بھی کچھ ہےo

36. اور بیشک ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ (لوگو) تم اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت (یعنی شیطان اور بتوں کی اطاعت و پرستش) سے اجتناب کرو، سو اُن میں بعض وہ ہوئے جنہیں اللہ نے ہدایت فرما دی اور اُن میں بعض وہ ہوئے جن پر گمراہی (ٹھیک) ثابت ہوئی، سو تم لوگ زمین میں سیر و سیاحت کرو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہواo

37. اگر آپ ان کے ہدایت پر آجانے کی شدید طلب رکھتے ہیں تو (آپ اپنی طبیعتِ مطہرہ پر اس قدر بوجھ نہ لائیں) بیشک اللہ جسے گمراہ ٹھہرا دیتا ہے اسے ہدایت نہیں فرماتا اور ان کے لئے کوئی مددگار نہیں ہوتاo

38. اور یہ لوگ بڑی شدّ و مد سے اللہ کی قَسمیں کھاتے ہیں کہ جو مَر جائے اللہ اسے (دوبارہ) نہیں اٹھائے گا، کیوں نہیں اس کے ذمۂ کرم پر سچا وعدہ ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتےo

39. (مُردوں کا اٹھایا جانا اس لئے ہے) تاکہ ان کے لئے وہ (حق) بات واضح کر دے جس میں وہ لوگ اختلاف کرتے ہیں اور یہ کہ کافر لوگ جان لیں کہ حقیقت میں وہی جھوٹے ہیںo

40. ہمارا فرمان تو کسی چیز کے لئے صرف اِسی قدر ہوتا ہے کہ جب ہم اُس (کو وجود میں لانے) کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم اُسے فرماتے ہیں: ”ہو جا“ پس وہ ہو جاتی ہےo

41. اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی اس کے بعد کہ ان پر (طرح طرح کے) ظلم توڑے گئے تو ہم ضرور انہیں دنیا (ہی) میں بہتر ٹھکانا دیں گے، اور آخرت کا اجر تو یقیناً بہت بڑا ہے، کاش! وہ (اس راز کو) جانتے ہوتےo

42. جن لوگوں نے صبر کیا اور اپنے رب پر توکل کئے رکھتے ہیںo

43. اور ہم نے آپ سے پہلے بھی مَردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے سو تم اہلِ ذکر سے پوچھ لیا کرو اگر تمہیں خود (کچھ) معلوم نہ ہوo

44. (انہیں بھی) واضح دلائل اور کتابوں کے ساتھ (بھیجا تھا)، اور (اے نبیِ مکرّم!) ہم نے آپ کی طرف ذکرِ عظیم (قرآن) نازل فرمایا ہے تاکہ آپ لوگوں کے لئے وہ (پیغام اور احکام) خوب واضح کر دیں جو ان کی طرف اتارے گئے ہیں اور تاکہ وہ غور و فکر کریںo

45. کیا وہ برے مکر و فریب کرنے والے لوگ اس بات سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے یا (کسی) ایسی جگہ سے ان پر عذاب بھیج دے جس کا انہیں کوئی خیال بھی نہ ہوo

46. یا ان کی نقل و حرکت (سفر اور شغلِ تجارت) کے دوران ہی انہیں پکڑ لے سو وہ اللہ کو عاجز نہیں کر سکتےo

47. یا انہیں ان کے خوف زدہ ہونے پر پکڑ لے، تو بیشک تمہارا رب بڑا شفیق نہایت مہربان ہےo

48. کیا انہوں نے ان (سایہ دار) چیزوں کی طرف نہیں دیکھا جو اللہ نے پیدا فرمائی ہیں (کہ) ان کے سائے دائیں اور بائیں اَطراف سے اللہ کے لئے سجدہ کرتے ہوئے پھرتے رہتے ہیں اور وہ (درحقیقت) طاعت و عاجزی کا اظہار کرتے ہیںo

49. اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے جملہ جاندار اور فرشتے، اللہ (ہی) کو سجدہ کرتے ہیں اور وہ (ذرا بھی) غرور و تکبر نہیں کرتےo

50. وہ اپنے رب سے جو ان کے اوپر ہے ڈرتے رہتے ہیں اور جو حکم انہیں دیا جاتا ہے (اسے) بجا لاتے ہیںo

51. اور اللہ نے فرمایا ہے: تم دو معبود مت بناؤ، بیشک وہی (اللہ) معبودِ یکتا ہے، اور تم مجھ ہی سے ڈرتے رہوo

52. اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) اسی کا ہے اور (سب کے لئے) اسی کی فرمانبرداری واجب ہے۔ تو کیا تم غیر اَز خدا (کسی) سے ڈرتے ہوo

53. اور تمہیں جو نعمت بھی حاصل ہے سو وہ اللہ ہی کی جانب سے ہے، پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو تم اسی کے آگے گریہ و زاری کرتے ہوo

54. پھر جب اللہ اس تکلیف کو تم سے دور فرما دیتا ہے تو تم میں سے ایک گروہ اس وقت اپنے رب سے شرک کرنے لگتا ہےo

55. (یہ کفر و شرک اس لئے) تاکہ وہ ان (نعمتوں) کی ناشکری کریں جو ہم نے انہیں عطا کر رکھی ہیں، پس (اے مشرکو! چند روزہ) فائدہ اٹھا لو پھر تم عنقریب (اپنے انجام کو) جان لو گےo

56. اور یہ ان (بتوں) کے لئے جن (کی حقیقت) کو وہ خود بھی نہیں جانتے اس رزق میں سے حصہ مقرر کرتے ہیں جو ہم نے انہیں عطا کر رکھا ہے۔ اللہ کی قسم! تم سے اس بہتان کی نسبت ضرور پوچھ گچھ کی جائے گی جو تم باندھا کرتے ہوo

57. اور یہ (کفار و مشرکین) اللہ کے لئے بیٹیاں مقرر کرتے ہیں وہ (اس سے) پاک ہے اور اپنے لئے وہ کچھ (یعنی بیٹے) جن کی وہ خواہش کرتے ہیںo

58. اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی (کی پیدائش) کی خبر سنائی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور وہ غصہ سے بھر جاتا ہےo

59. وہ لوگوں سے چُھپا پھرتا ہے (بزعمِ خویش) اس بری خبر کی وجہ سے جو اسے سنائی گئی ہے، (اب یہ سوچنے لگتا ہے کہ) آیا اسے ذلت و رسوائی کے ساتھ (زندہ) رکھے یا اسے مٹی میں دبا دے (یعنی زندہ درگور کر دے)، خبردار! کتنا برا فیصلہ ہے جو وہ کرتے ہیںo

60. ان لوگوں کی جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے (یہ) نہایت بری صفت ہے، اور بلند تر صفت اللہ ہی کی ہے اور وہ غالب حکمت والا ہےo

61. اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے ظلم کے عوض (فوراً) پکڑ لیا کرتا تو اس (زمین) پر کسی جاندار کو نہ چھوڑتا لیکن وہ انہیں مقررہ میعاد تک مہلت دیتا ہے، پھر جب ان کا مقرر وقت آپہنچتا ہے تو وہ نہ ایک گھڑی پیچھے ہو سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیںo

62. اور وہ اللہ کے لئے وہ کچھ مقرر کرتے ہیں جو (اپنے لئے) ناپسند کرتے ہیں اور ان کی زبانیں جھوٹ بولتی ہیں کہ ان کے لئے بھلائی ہے، (ہرگز نہیں!) حقیقت یہ ہے کہ ان کے لئے دوزخ ہے اور یہ (دوزخ میں) سب سے پہلے بھیجے جائیں گے (اور اس میں ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیئے جائیں گے)o

63. اللہ کی قسم! یقیناً ہم نے آپ سے پہلے (بھی بہت سی) امتوں کی طرف رسول بھیجے تو شیطان نے ان (امتوں) کے لئے ان کے (برے) اعمال آراستہ و خوش نما کر دکھائے، سو وہی (شیطان) آج ان کا دوست ہے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہےo

64. اور ہم نے آپ کی طرف کتاب نہیں اتاری مگر اس لئے کہ آپ ان پر وہ (اُمور) واضح کر دیں جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں اور (اس لئے کہ یہ کتاب) ہدایت اور رحمت ہے اس قوم کے لئے جو ایمان لے آئی ہےo

65. اور اللہ نے آسمان کی جانب سے پانی اتارا اور اس کے ذریعہ زمین کو اس کے مردہ (یعنی بنجر) ہونے کے بعد زندہ (یعنی سرسبز و شاداب) کر دیا۔ بیشک اس میں (نصیحت) سننے والوں کے لئے نشانی ہےo

66. اور بیشک تمہارے لئے مویشیوں میں (بھی) مقامِ غور ہے، ہم ان کے جسموں کے اندر کی اس چیز سے جو آنتوں کے (بعض) مشمولات اور خون کے اختلاط سے (وجود میں آتی ہے) خالص دودھ نکال کر تمہیں پلاتے ہیں (جو) پینے والوں کے لئے فرحت بخش ہوتا ہےo

67. اور کھجور اور انگور کے پھلوں سے تم شکّر اور (دیگر) عمدہ غذائیں بناتے ہو، بیشک اس میں اہلِ عقل کے لئے نشانی ہےo

68. اور آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں (خیال) ڈال دیا کہ تو بعض پہاڑوں میں اپنے گھر بنا اور بعض درختوں میں اور بعض چھپروں میں (بھی) جنہیں لوگ (چھت کی طرح) اونچا بناتے ہیںo

69. پس تو ہر قسم کے پھلوں سے رس چوسا کر پھر اپنے رب کے (سمجھائے ہوئے) راستوں پر (جو ان پھلوں اور پھولوں تک جاتے ہیں جن سے تو نے رس چوسنا ہے، دوسری مکھیوں کے لئے بھی) آسانی فراہم کرتے ہوئے چلا کر، ان کے شکموں سے ایک پینے کی چیز نکلتی ہے (وہ شہد ہے) جس کے رنگ جداگانہ ہوتے ہیں، اس میں لوگوں کے لئے شفا ہے، بیشک اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لئے نشانی ہےo

70. اور اللہ نے تمہیں پیدا فرمایا ہے پھر وہ تمہیں وفات دیتا (یعنی تمہاری روح قبض کرتا) ہے۔ اور تم میں سے کسی کو ناقص ترین عمر (بڑھاپا) کی طرف پھیر دیا جاتا ہے تاکہ (زندگی میں بہت کچھ) جان لینے کے بعد اب کچھ بھی نہ جانے (یعنی انسان مرنے سے پہلے اپنی بے بسی و کم مائیگی کا منظر بھی دیکھ لے)، بیشک اللہ خوب جاننے والا بڑی قدرت والا ہےo

71. اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق (کے درجات) میں فضیلت دی ہے (تاکہ وہ تمہیں حکمِ انفاق کے ذریعے آزمائے)، مگر جن لوگوں کو فضیلت دی گئی ہے وہ اپنی دولت (کے کچھ حصہ کو بھی) اپنے زیردست لوگوں پر نہیں لوٹاتے (یعنی خرچ نہیں کرتے) حالانکہ وہ سب اس میں (بنیادی ضروریات کی حد تک) برابر ہیں، تو کیا وہ اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیںo

72. اور اللہ نے تم ہی میں سے تمہارے لئے جوڑے پیدا فرمائے اور تمہارے جوڑوں (یعنی بیویوں) سے تمہارے لئے بیٹے اور پوتے/ نواسے پیدا فرمائے اور تمہیں پاکیزہ رزق عطا فرمایا، تو کیا پھر بھی وہ (حق کو چھوڑ کر) باطل پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کی نعمت سے وہ ناشکری کرتے ہیںo

73. اور اللہ کے سوا ان (بتوں) کی پرستش کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین سے ان کے لئے کسی قدر رزق دینے کے بھی مالک نہیں ہیں اور نہ ہی کچھ قدرت رکھتے ہیںo

74. پس تم اللہ کے لئے مثل نہ ٹھہرایا کرو، بیشک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتےo

75. اللہ نے ایک مثال بیان فرمائی ہے (کہ) ایک غلام ہے (جو کسی کی) ملکیت میں ہے (خود) کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور (دوسرا) وہ شخص ہے جسے ہم نے اپنی طرف سے عمدہ روزی عطا فرمائی ہے سو وہ اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتا ہے، کیا وہ برابر ہو سکتے ہیں، سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر (بنیادی حقیقت کو بھی) نہیں جانتےo

76. اور اللہ نے دو (ایسے) آدمیوں کی مثال بیان فرمائی ہے جن میں سے ایک گونگا ہے وہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور وہ اپنے مالک پر بوجھ ہے وہ (مالک) اسے جدھر بھی بھیجتا ہے کوئی بھلائی لے کر نہیں آتا، کیا وہ (گونگا) اور (دوسرا) وہ شخص جو (اس منصب کا حامل ہے کہ) لوگوں کو عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے اور وہ خود بھی سیدھی راہ پر گامزن ہے (دونوں) برابر ہو سکتے ہیںo

77. اور آسمانوں اور زمین کا (سب) غیب اللہ ہی کے لئے ہے، اور قیامت کے بپا ہونے کا واقعہ اس قدر تیزی سے ہوگا جیسے آنکھ کا جھپکنا یا ا س سے بھی تیز تر، بیشک اللہ ہر چیز پر بڑا قادر ہےo

78. اور اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ سے (اس حالت میں) باہر نکالا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اور اس نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تاکہ تم شکر بجا لاؤo

79. کیا انہوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا جو آسمان کی ہوا میں (قانونِ حرکت و پرواز کے) پابند (ہو کر اڑتے رہتے) ہیں، انہیں اللہ کے (قانون کے) سوا کوئی چیز تھامے ہوئے نہیں ہے۔ بیشک اس (پرواز کے اصول) میں ایمان والوں کے لئے نشانیاں ہیںo

80. اور اللہ نے تمہارے لئے تمہارے گھروں کو (مستقل) سکونت کی جگہ بنایا اور تمہارے لئے چوپایوں کی کھالوں سے (عارضی) گھر (یعنی خیمے) بنائے جنہیں تم اپنے سفر کے وقت اور (دورانِ سفر منزلوں پر) اپنے ٹھہرنے کے وقت ہلکا پھلکا پاتے ہو اور (اسی اللہ نے تمہارے لئے) بھیڑوں اور دنبوں کی اون اور اونٹوں کی پشم اور بکریوں کے بالوں سے گھریلو استعمال اور (معیشت و تجارت میں) فائدہ اٹھانے کے اسباب بنائے (جو) مقررہ مدت تک (ہیں)o

81. اور اللہ ہی نے تمہارے لئے اپنی پیدا کردہ کئی چیزوں کے سائے بنائے اور اس نے تمہارے لئے پہاڑوں میں پناہ گاہیں بنائیں اور اس نے تمہارے لئے (کچھ) ایسے لباس بنائے جو تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں اور (کچھ) ایسے لباس جو تمہیں شدید جنگ میں (دشمن کے وار سے) بچاتے ہیں، اس طرح اللہ تم پر اپنی نعمتِ (کفالت و حفاظت) پوری فرماتا ہے تاکہ تم (اس کے حضور) سرِ نیاز خم کر دوo

82. سو اگر (پھر بھی) وہ رُوگردانی کریں تو (اے نبیِ معظم!) آپ کے ذمہ تو صرف (میرے پیغام اور احکام کو) صاف صاف پہنچا دینا ہےo

83. یہ لوگ اللہ کی نعمت کو پہچانتے ہیں پھر اس کا انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر کافر ہیںo

84. اور جس دن ہم ہر اُمت سے (اس کے رسول کو اس کے اعمال پر) گواہ بنا کر اٹھائیں گے پھر کافر لوگوں کو (کوئی عذر پیش کرنے کی) اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ (اس وقت) ان سے توبہ و رجوع کا مطالبہ کیا جائے گاo

85. اور جب ظالم لوگ عذاب دیکھ لیں گے تو نہ ان سے (اس عذاب کی) تخفیف کی جائے گی اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گیo

86. اور جب مشرک لوگ اپنے (خود ساختہ) شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے: اے ہمارے رب! یہی ہمارے شریک تھے جن کی ہم تجھے چھوڑ کر پرستش کرتے تھے، پس وہ (شرکاء) انہیں (جواباً) پیغام بھیجیں گے کہ بیشک تم جھوٹے ہوo

87. اور یہ (مشرکین) اس دن اللہ کے حضور عاجزی و فرمانبرداری ظاہر کریں گے اور ان سے وہ سارا بہتان جاتا رہے گا جو یہ باندھا کرتے تھےo

88. جن لوگوں نے کفر کیا اور (دوسروں کو) اللہ کی راہ سے روکتے رہے ہم ان کے عذاب پر عذاب کا اضافہ کریں گے اس وجہ سے کہ وہ فساد انگیزی کرتے تھےo

89. اور (یہ) وہ دن ہوگا (جب) ہم ہر امت میں انہی میں سے خود ان پر ایک گواہ اٹھائیں گے اور (اے حبیبِ مکرّم!) ہم آپ کو ان سب (امتوں اور پیغمبروں) پر گواہ بنا کر لائیں گے، اور ہم نے آپ پر وہ عظیم کتاب نازل فرمائی ہے جو ہر چیز کا بڑا واضح بیان ہے اور مسلمانوں کے لئے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہےo

90. بیشک اللہ (ہر ایک کے ساتھ) عدل اور احسان کا حکم فرماتا ہے اور قرابت داروں کو دیتے رہنے کا اور بے حیائی اور برے کاموں اور سرکشی و نافرمانی سے منع فرماتا ہے، وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے تاکہ تم خوب یاد رکھوo

91. اور تم اللہ کا عہد پورا کر دیا کرو جب تم عہد کرو اور قسموں کو پختہ کر لینے کے بعد انہیں مت توڑا کرو حالانکہ تم اللہ کو اپنے آپ پر ضامن بنا چکے ہو، بیشک اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہوo

92. اور اس عورت کی طرح نہ ہو جاؤ جس نے اپنا سوت مضبوط کات لینے کے بعد توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، تم اپنی قَسموں کو اپنے درمیان فریب کاری کا ذریعہ بناتے ہو تاکہ (اس طرح) ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ہو جائے، بات یہ ہے کہ اللہ (بھی) تمہیں اسی کے ذریعہ آزماتا ہے، اور وہ تمہارے لئے قیامت کے دن ان باتوں کو ضرور واضح فرما دے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھےo

93. اور اگر اللہ چاہتا تو تم (سب) کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ ٹھہرا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت فرما دیتا ہے، اور تم سے ان کاموں کی نسبت ضرور پوچھا جائے گا جو تم انجام دیا کرتے تھےo

94. اور تم اپنی قَسموں کو آپس میں فریب کاری کا ذریعہ نہ بنایا کرو ورنہ قدم (اسلام پر) جم جانے کے بعد لڑکھڑا جائے گا اور تم اس وجہ سے کہ اللہ کی راہ سے روکتے تھے برے انجام کا مزہ چکھو گے، اور تمہارے لئے زبردست عذاب ہےo

95. اور اللہ کے عہد حقیر سی قیمت (یعنی دنیوی مال و دولت) کے عوض مت بیچ ڈالا کرو، بیشک جو (اجر) اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم (اس راز کو) جانتے ہوo

96. جو (مال و زر) تمہارے پاس ہے فنا ہو جائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے باقی رہنے والا ہے، اور ہم ان لوگوں کو جنہوں نے صبر کیا ضرور ان کا اجر عطا فرمائیں گے ان کے اچھے اعمال کے عوض جو وہ انجام دیتے رہے o

9تھے7. جو کوئی نیک عمل کرے (خواہ) مرد ہو یا عورت جبکہ وہ مومن ہو تو ہم اسے ضرور پاکیزہ زندگی کے ساتھ زندہ رکھیں گے، اور انہیں ضرور ان کا اجر (بھی) عطا فرمائیں گے ان اچھے اعمال کے عوض جو وہ انجام دیتے تھےo

98. سو جب آپ قرآن پڑھنے لگیں تو شیطان مردود (کی وسوسہ اندازیوں) سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کریںo

99. بیشک اسے ان لوگوں پر کچھ (بھی) غلبہ حاصل نہیں ہے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیںo

100. بس اس کا غلبہ صرف انہی لوگوں پر ہے جو اسے دوست بناتے ہیں اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے ہیںo

101. اور جب ہم کسی آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور اللہ (ہی) بہتر جانتا ہے جو (کچھ) وہ نازل فرماتا ہے (تو) کفار کہتے ہیں کہ آپ تو بس اپنی طرف سے گھڑنے والے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر لوگ (آیتوں کے اتارنے اور بدلنے کی حکمت) نہیں جانتےo

102. فرما دیجئے: اس (قرآن) کو روحُ القدس (جبرئیل علیہ السلام) نے آپ کے رب کی طرف سے سچائی کے ساتھ اتارا ہے تاکہ ایمان والوں کو ثابت قدم رکھے اور (یہ) مسلمانوں کے لئے ہدایت اور بشارت ہےo

103. اور بیشک ہم جانتے ہیں کہ وہ (کفار و مشرکین) کہتے ہیں کہ انہیں یہ (قرآن) محض کوئی آدمی ہی سکھاتا ہے، جس شخص کی طرف وہ بات کو حق سے ہٹاتے ہوئے منسوب کرتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے اور یہ قرآن واضح و روشن عربی زبان (میں) ہےo

104. بیشک جو لوگ اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے اللہ انہیں ہدایت (یعنی صحیح فہم و بصیرت کی توفیق بھی) نہیں دیتا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہےo

105. بیشک جھوٹی افترا پردازی (بھی) وہی لوگ کرتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے اور وہی لوگ جھوٹے ہیںo

106. جو شخص اپنے ایمان لانے کے بعد کفر کرے، سوائے اس کے جسے انتہائی مجبور کر دیا گیا مگر اس کا دل (بدستور) ایمان سے مطمئن ہے، لیکن (ہاں) وہ شخص جس نے (دوبارہ) شرحِ صدر کے ساتھ کفر (اختیار) کیا سو ان پر اللہ کی طرف سے غضب ہے اور ان کے لئے زبردست عذاب ہےo

107. یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے دنیوی زندگی کو آخرت پر عزیز رکھا اور اس لئے کہ اللہ کافروں کی قوم کو ہدایت نہیں فرماتاo

108. یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر مُہر لگا دی ہے اور یہی لوگ ہی (آخرت کے انجام سے) غافل ہیںo

109. یہ حقیقت ہے کہ بیشک یہی لوگ آخرت میں خسارہ اٹھانے والے ہیںo

110. پھر آپ کا رب ان لوگوں کے لئے جنہوں نے آزمائشوں (اور تکلیفوں) میں مبتلا کئے جانے کے بعد ہجرت کی (یعنی اللہ کے لئے اپنے وطن چھوڑ دیئے) پھر جہاد کئے اور (پریشانیوں پر) صبر کئے تو (اے حبیبِ مکرّم!) آپ کا رب اس کے بعد بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہےo

111. وہ دن (یاد کریں) جب ہر شخص محض اپنی جان کی طرف سے (دفاع کے لئے) جھگڑتا ہوا حاضر ہوگا اور ہر جان کو جو کچھ اس نے کیا ہوگا اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گاo

112. اور اللہ نے ایک ایسی بستی کی مثال بیان فرمائی ہے جو (بڑے) امن اور اطمینان سے (آباد) تھی اس کا رزق اس کے (مکینوں کے) پاس ہر طرف سے بڑی وسعت و فراغت کے ساتھ آتا تھا پھر اس بستی (والوں) نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے اسے بھوک اور خوف کے عذاب کا لباس پہنا دیا ان اعمال کے سبب سے جو وہ کرتے تھےo

113. اور بیشک ان کے پاس انہی میں سے ایک رسول آیا تو انہوں نے اسے جھٹلایا پس انہیں عذاب نے آپکڑا اور وہ ظالم ہی تھےo

114. پس جو حلال اور پاکیزہ رزق تمہیں اللہ نے بخشا ہے، تم اس میں سے کھایا کرو اور اللہ کی نعمت کا شکر بجا لاتے رہو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہوo

115. اس نے تم پر صرف مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور وہ (جانور) جس پر ذبح کرتے وقت غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو، حرام کیا ہے، پھر جو شخص حالتِ اضطرار (یعنی انتہائی مجبوری کی حالت) میں ہو، نہ (طلبِ لذت میں احکامِ الٰہی سے) سرکشی کرنے والا ہو اور نہ (مجبوری کی حد سے) تجاوز کرنے والا ہو، تو بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہےo

116. اور وہ جھوٹ مت کہا کرو جو تمہاری زبانیں بیان کرتی رہتی ہیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے اس طرح کہ تم اللہ پر جھوٹا بہتان باندھو، بیشک جو لوگ اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتے ہیں وہ (کبھی) فلاح نہیں پائیں گےo

117. فائدہ تھوڑا ہے مگر ان کے لئے عذاب (بڑا) دردناک ہےo

118. اور یہود پر ہم نے وہی چیزیں حرام کی تھیں جو ہم پہلے آپ سے بیان کر چکے ہیں اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا تھا لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کیا کرتے تھےo

119. پھر بیشک آپ کا رب ان لوگوں کے لئے جنہوں نے نادانی سے غلطیاں کیں پھر اس کے بعد تائب ہوگئے اور (اپنی) حالت درست کرلی تو بیشک آپ کا رب اس کے بعد بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہےo

120. بیشک ابراہیم (علیہ السلام تنہا ذات میں) ایک اُمت تھے، اللہ کے بڑے فرمانبردار تھے، ہر باطل سے کنارہ کش (صرف اسی کی طرف یک سُو) تھے، اور مشرکوں میں سے نہ تھےo

121. اس (اللہ) کی نعمتوں پر شاکر تھے، اللہ نے انہیں چن (کر اپنی بارگاہ میں خاص برگزیدہ بنا) لیا اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت فرما دیo

122. اور ہم نے اسے دنیا میں (بھی) بھلائی عطا فرمائی، اور بیشک وہ آخرت میں (بھی) صالحین میں سے ہوں گےo

123. پھر (اے حبیبِ مکرّم!) ہم نے آپ کی طرف وحی بھیجی کہ آپ ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کی پیروی کریں جو ہر باطل سے جدا تھے، اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھےo

124. ہفتہ کا دن صرف انہی لوگوں پر مقرر کیا گیا تھا جنہوں نے اس میں اختلاف کیا، اور بیشک آپ کا رب قیامت کے دن اُن کے درمیان اُن (باتوں) کا فیصلہ فرما دے گا جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھےo

125. (اے رسولِ معظّم!) آپ اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بحث (بھی) ایسے انداز سے کیجئے جو نہایت حسین ہو، بیشک آپ کا رب اس شخص کو (بھی) خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہ ہدایت یافتہ لوگوں کو (بھی) خوب جانتا ہےo

126. اور اگر تم سزا دینا چاہو تو اتنی ہی سزا دو جس قدر تکلیف تمہیں دی گئی تھی، اور اگر تم صبر کرو تو یقیناً وہ صبر کرنے والوں کے لئے بہتر ہےo

127. اور (اے حبیبِ مکرّم!) صبر کیجئے اور آپ کا صبر کرنا اللہ ہی کے ساتھ ہے اور آپ ان (کی سرکشی) پر رنجیدہ خاطر نہ ہوا کریں اور آپ ان کی فریب کاریوں سے (اپنے کشادہ سینہ میں) تنگی (بھی) محسوس نہ کیا کریںo

128. بیشک اللہ اُن لوگوں کو اپنی معیتِ (خاص) سے نوازتا ہے جو صاحبانِ تقوٰی ہوں اور وہ لوگ جو صاحبانِ اِحسان (بھی) ہوںo
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-02-11, 02:58 PM   #17
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت عمدہ سوچ اورکوشش زارا۔ اللہ تمہیں جزائے خیر دے۔ آمین۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-02-11, 03:10 PM   #18
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,228
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default پارہ نمبر15

پاره سُبْحَانَ الَّذِي

سُورة الْإِسْرَاء / بَنِيْ إِسْرَآءِيْل

1. وہ ذات (ہر نقص اور کمزوری سے) پاک ہے جو رات کے تھوڑے سے حصہ میں اپنے (محبوب اور مقرّب) بندے کو مسجدِ حرام سے (اس) مسجدِ اقصٰی تک لے گئی جس کے گرد و نواح کو ہم نے بابرکت بنا دیا ہے تاکہ ہم اس (بندۂ کامل) کو اپنی نشانیاں دکھائیں، بیشک وہی خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہےo

2. اور ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو کتاب (تورات) عطا کی اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لئے ہدایت بنایا (اور انہیں حکم دیا) کہ تم میرے سوا کسی کو کار ساز نہ ٹھہراؤo

3. (اے) ان لوگوں کی اولاد جنہیں ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ (کشتی میں) اٹھا لیا تھا، بیشک نوح (علیہ السلام) بڑے شکر گزار بندے تھےo

4. اور ہم نے کتاب میں بنی اسرائیل کو قطعی طور پر بتا دیا تھا کہ تم زمین میں ضرور دو مرتبہ فساد کرو گے اور (اطاعتِ الٰہی سے) بڑی سرکشی برتو گےo

5. پھر جب ان دونوں میں سے پہلی مرتبہ کا وعدہ آپہنچا تو ہم نے تم پر اپنے ایسے بندے مسلّط کر دیئے جو سخت جنگ جُو تھے پھر وہ (تمہاری) تلاش میں (تمہارے) گھروں تک جا گھسے، اور (یہ) وعدہ ضرور پورا ہونا ہی تھاo

6. پھر ہم نے ان کے اوپر غلبہ کو تمہارے حق میں پلٹا دیا اور ہم نے اموال و اولاد (کی کثرت) کے ذریعے تمہاری مدد فرمائی اور ہم نے تمہیں افرادی قوت میں (بھی) بڑھا دیاo

7. اگر تم بھلائی کرو گے تو اپنے (ہی) لئے بھلائی کرو گے، اور اگر تم برائی کرو گے تو اپنی (ہی) جان کے لئے، پھر جب دوسرے وعدہ کی گھڑی آئی (تو اور ظالموں کو تم پر مسلّط کر دیا) تاکہ (مار مار کر) تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور تاکہ مسجدِ اقصٰی میں (اسی طرح) داخل ہوں جیسے اس میں (حملہ آور لوگ) پہلی مرتبہ داخل ہوئے تھے اور تاکہ جس (مقام) پر غلبہ پائیں اسے تباہ و برباد کر ڈالیںo

8. امید ہے (اس کے بعد) تمہارا رب تم پر رحم فرمائے گا اور اگر تم نے پھر وہی (سرکشی کا طرزِ عمل اختیار) کیا تو ہم بھی وہی (عذاب دوبارہ) کریں گے، اور ہم نے دوزخ کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا دیا ہےo

9. بیشک یہ قرآن اس (منزل) کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو سب سے درست ہے اور ان مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں اس بات کی خوشخبری سناتا ہے کہ ان کے لئے بڑا اجر ہےo

10. اور یہ کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے لئے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہےo

11. اور انسان (کبھی تنگ دل اور پریشان ہو کر) برائی کی دعا مانگنے لگتا ہے جس طرح (اپنے لئے) بھلائی کی دعا مانگتا ہے، اور انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہےo

12. اور ہم نے رات اور دن کو (اپنی قدرت کی) دو نشانیاں بنایا پھر ہم نے رات کی نشانی کو تاریک بنایا اور ہم نے دن کی نشانی کو روشن بنایا تاکہ تم اپنے رب کا فضل (رزق) تلاش کر سکو اور تاکہ تم برسوں کا شمار اور حساب معلوم کر سکو، اور ہم نے ہر چیز کو پوری تفصیل سے واضح کر دیا ہےo

13. اور ہم نے ہر انسان کے اعمال کا نوشتہ اس کی گردن میں لٹکا دیا ہے، اور ہم اس کے لئے قیامت کے دن (یہ) نامۂ اعمال نکالیں گے جسے وہ (اپنے سامنے) کھلا ہوا پائے گاo

14. (اس سے کہا جائے گا اپنی کتابِ (اَعمال) پڑھ لے، آج تو اپنا حساب جانچنے کے لئے خود ہی کافی ہےo

15. جو کوئی راہِ ہدایت اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے فائدہ کے لئے ہدایت پر چلتا ہے اور جو شخص گمراہ ہوتا ہے تو اس کی گمراہی کا وبال (بھی) اسی پر ہے، اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے (کے گناہوں) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، اور ہم ہرگز عذاب دینے والے نہیں ہیں یہاں تک کہ ہم (اس قوم میں) کسی رسول کو بھیج لیںo

16. اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم وہاں کے امراء اور خوشحال لوگوں کو (کوئی) حکم دیتے ہیں (تاکہ ان کے ذریعہ عوام اور غرباء بھی درست ہو جائیں) تو وہ اس (بستی) میں نافرمانی کرتے ہیں پس اس پر ہمارا فرمانِ (عذاب) واجب ہو جاتا ہے پھر ہم اس بستی کو بالکل ہی مسمار کر دیتے ہیںo

17. اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کے بعد کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر ڈالا، اور آپ کا رب کافی ہے (وہ) اپنے بندوں کے گناہوں سے خوب خبردار خوب دیکھنے والا ہےo

18. جو کوئی صرف دنیا کی خوشحالی (کی صورت میں اپنی محنت کا جلدی بدلہ) چاہتا ہے تو ہم اسی دنیا میں جسے چاہتے ہیں جتنا چاہتے ہیں جلدی دے دیتے ہیں پھر ہم نے اس کے لئے دوزخ بنا دی ہے جس میں وہ ملامت سنتا ہوا (رب کی رحمت سے) دھتکارا ہوا داخل ہوگاo

19. اور جو شخص آخرت کا خواہش مند ہوا اور اس نے اس کے لئے اس کے لائق کوشش کی اور وہ مومن (بھی) ہے تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش مقبولیت پائے گیo

20. ہم ہر ایک کی مدد کرتے ہیں ان (طالبانِ دنیا) کی بھی اور ان (طالبانِ آخرت) کی بھی (اے حبیبِ مکرّم! یہ سب کچھ) آپ کے رب کی عطا سے ہے، اور آپ کے رب کی عطا (کسی کے لئے) ممنوع اور بند نہیں ہےo

21. دیکھئے ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر کس طرح فضیلت دے رکھی ہے، اور یقینًا آخرت (دنیا کے مقابلہ میں) درجات کے لحاظ سے (بھی) بہت بڑی ہے اور فضیلت کے لحاظ سے (بھی) بہت بڑی ہےo

22. (اے سننے والے!) اﷲ کے ساتھ دوسرا معبود نہ بنا (ورنہ) تو ملامت زدہ (اور) بے یار و مددگار ہو کر بیٹھا رہ جائے گاo

23. اور آپ کے رب نے حکم فرما دیا ہے کہ تم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تمہارے سامنے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ”اُف“ بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کیا کروo

24. اور ان دونوں کے لئے نرم دلی سے عجز و انکساری کے بازو جھکائے رکھو اور (اﷲ کے حضور) عرض کرتے رہو: اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھاo

25. تمہارا رب ان (باتوں) سے خوب آگاہ ہے جو تمہارے دلوں میں ہیں، اگر تم نیک سیرت ہو جاؤ تو بیشک وہ (اﷲ اپنی طرف) رجوع کرنے والوں کو بہت بخشنے والا ہےo

26. اور قرابت داروں کو ان کا حق ادا کرو اور محتاجوں اور مسافروں کو بھی (دو) اور (اپنا مال) فضول خرچی سے مت اڑاؤo

27. بیشک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہےo

28. اور اگر تم (اپنی تنگ دستی کے باعث) ان (مستحقین) سے گریز کرنا چاہتے ہو اپنے رب کی جانب سے رحمت (خوش حالی) کے انتظار میں جس کی تم توقع رکھتے ہو تو ان سے نرمی کی بات کہہ دیا کروo

29. اور نہ اپنا ہاتھ اپنی گردن سے باندھا ہوا رکھو (کہ کسی کو کچھ نہ دو) اور نہ ہی اسے سارا کا سارا کھول دو (کہ سب کچھ ہی دے ڈالو) کہ پھر تمہیں خود ملامت زدہ (اور) تھکا ہارا بن کر بیٹھنا پڑےo

30. بیشک آپ کا رب جس کے لئے چاہتاہے رزق کشادہ فرما دیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے، بیشک وہ اپنے بندوں (کے اعمال و احوال) کی خوب خبر رکھنے والا خوب دیکھنے والا ہےo

31. اور تم اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل مت کرو، ہم ہی انہیں (بھی) روزی دیتے ہیں اور تمہیں بھی، بیشک ان کو قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہےo

32. تم زنا (بدکاری) کے قریب بھی مت جانا بیشک یہ بے حیائی کا کام ہے، اور بہت ہی بری راہ ہےo

33. تم کسی جان کو قتل مت کرنا جسے (قتل کرنا) اﷲ نے حرام قرار دیا ہے سوائے اس کے کہ (اس کا قتل کرنا شریعت کی رُو سے) حق ہو، اور جو شخص ظلماً قتل کردیا گیا تو بیشک ہم نے اس کے وارث کے لئے (قصاص کا) حق مقرر کر دیا ہے سو وہ بھی (قصاص کے طور پر بدلہ کے) قتل میں حد سے تجاوز نہ کرے، بیشک وہ (اﷲ کی طرف سے) مدد یافتہ ہے (سو اس کی مدد و حمایت کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی)o

34. اور تم یتیم کے مال کے (بھی) قریب تک نہ جانا مگر ایسے طریقہ سے جو (یتیم کے لئے) بہتر ہو یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے, اور وعدہ پورا کیا کرو، بیشک وعدہ کی ضرور پوچھ گچھ ہوگیo

35. اور ناپ پورا رکھا کرو جب (بھی) تم (کوئی چیز) ناپو اور (جب تولنے لگو تو) سیدھے ترازو سے تولا کرو، یہ (دیانت داری) بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے (بھی) خوب تر ہےo

36. اور (اے انسان!) تو اس بات کی پیروی نہ کر جس کا تجھے (صحیح) علم نہیں، بیشک کان اور آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے باز پرس ہوگیo

37. اور زمین میں اکڑ کر مت چل، بیشک تو زمین کو (اپنی رعونت کے زور سے) ہرگز چیر نہیں سکتا اور نہ ہی ہرگز تو بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ سکتا ہے (تو جو کچھ ہے وہی رہے گا)o

38. ان سب (مذکورہ) باتوں کی برائی تیرے رب کو بڑی ناپسند ہےo

39. یہ حکمت و دانائی کی ان باتوں میں سے ہے جو آپ کے رب نے آپ کی طرف وحی فرمائی ہیں، اور (اے انسان!) اﷲ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ ٹھہرا (ورنہ) تو ملامت زدہ (اور اﷲ کی رحمت سے) دھتکارا ہوا ہو کر دوزخ میں جھونک دیا جائے گاo

40. (اے مشرکو! خود سوچو!) بھلا تمہیں تو تمہارے رب نے بیٹوں کے لئے چن لیا ہے اور (اپنے لئے) اس نے فرشتوں کو بیٹیاں بنا لیا ہے، بیشک تم (اپنے ہی گھڑے ہوئے خیالات کے پیمانہ پر) بڑی سخت بات کہتے ہوo

41. اور بیشک ہم نے اس قرآن میں (حقائق اور نصائح کو) انداز بدل کر بار بار بیان کیا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں، مگر (منکرین کا عالم یہ ہے کہ) اس سے ان کی نفرت ہی مزید بڑھتی جاتی ہےo

42. فرما دیجئے: اگر اس کے ساتھ کچھ اور بھی معبود ہوتے جیسا کہ وہ (کفار و مشرکین) کہتے ہیں تو وہ (مل کر) مالکِ عرش تک پہنچنے (یعنی اس کے نظامِ اقتدار میں دخل اندازی کرنے) کا کوئی راستہ ضرور تلاش کرلیتےo

43. وہ پاک ہے اور ان باتوں سے جو وہ کہتے رہتے ہیں بہت ہی بلند و برتر ہےo

44. ساتوں آسمان اور زمین اور وہ سارے موجودات جو ان میں ہیں اﷲ کی تسبیح کرتے رہتے ہیں، اور (جملہ کائنات میں) کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح (کی کیفیت) کو سمجھ نہیں سکتے، بیشک وہ بڑا بُردبار بڑا بخشنے والا ہےo

45. اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں (تو) ہم آپ کے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ایک پوشیدہ پردہ حائل کر دیتے ہیںo

46. اور ہم ان کے دلوں پر (بھی) پردے ڈال دیتے ہیں تاکہ وہ اسے سمجھ (نہ) سکیں اور ان کے کانوں میں بوجھ پیدا کر دیتے ہیں (تاکہ اسے سن نہ سکیں)، اور جب آپ قرآن میں اپنے رب کا تنہا ذکر کرتے ہیں (ان کے بتوں کا نام نہیں آتا) تو وہ نفرت کرتے ہوئے پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیںo

47. ہم خوب جانتے ہیں یہ جس مقصد کے لئے دھیان سے سنتے ہیں جب یہ آپ کی طرف کان لگاتے ہیں اور جب یہ سرگوشیاں کرتے ہیں جب یہ ظالم لوگ (مسلمانوں سے) کہتے ہیں کہ تم تو محض ایک ایسے شخص کی پیروی کر رہے ہو جو سحر زدہ ہے (یعنی اس پر جادو کردیا گیا ہے تو ہم یہ سب کچھ دیکھ اور سن رہے ہوتے ہیں)o

48. (اے حبیب!) دیکھئے (یہ لوگ) آپ کے لئے کیسی (کیسی) تشبیہیں دیتے ہیں پس یہ گمراہ ہو چکے، اب راہِ راست پر نہیں آسکتےo

49. اور کہتے ہیں: جب ہم (مَر کر بوسیدہ) ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو کیا ہمیں اَز سرِ نو پیدا کر کے اٹھایا جائے گاo

50. فرما دیجئے: تم پتھر ہو جاؤ یا لوہاo

51. یا کوئی ایسی مخلوق جو تمہارے خیال میں (ان چیزوں سے بھی) زیادہ سخت ہو (کہ اس میں زندگی پانے کی بالکل صلاحیت ہی نہ ہو)، پھر وہ (اس حال میں) کہیں گے کہ ہمیں کون دوبارہ زندہ کرے گا؟ فرما دیجئے: وہی جس نے تمہیں پہلی بار پیدا فرمایا تھا، پھر وہ (تعجب اور تمسخر کے طور پر) آپ کے سامنے اپنے سر ہلا دیں گے اور کہیں گے: یہ کب ہوگا؟ فرما دیجئے: امید ہے جلد ہی ہو جائے گاo

52. جس دن وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی حمد کے ساتھ جواب دو گے اور خیال کرتے ہوگے کہ تم (دنیا میں) بہت تھوڑا عرصہ ٹھہرے ہوo

53. اور آپ میرے بندوں سے فرما دیں کہ وہ ایسی باتیں کیا کریں جو بہتر ہوں، بیشک شیطان لوگوں کے درمیان فساد بپا کرتا ہے، یقینا شیطان انسان کا کھلا دشمن ہےo

54. تمہارا رب تمہارے حال سے بہتر واقف ہے، اگر چاہے تم پر رحم فرما دے یا اگر چاہے تم پر عذاب کرے، اور ہم نے آپ کو ان پر (ان کے امور کا) ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجاo

55. اور آپ کا رب ان کو خوب جانتا ہے جو آسمانوں اور زمین میں (آباد) ہیں، اور بیشک ہم نے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت بخشی اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو زبور عطا کیo

56. فرما دیجئے: تم ان سب کو بلا لو جنہیں تم اﷲ کے سوا (معبود) گمان کرتے ہو وہ تم سے تکلیف دور کرنے پر قادر نہیں ہیں اور نہ (اسے دوسروں کی طرف) پھیر دینے کا (اختیار رکھتے ہیں)o

57. یہ لوگ جن کی عبادت کرتے ہیں (یعنی ملائکہ، جنّات، عیسٰی اور عزیر علیہما السلام وغیرھم کے بت اور تصویریں بنا کر انہیں پوجتے ہیں) وہ (تو خود ہی) اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں سے (بارگاہِ الٰہی میں) زیادہ مقرّب کون ہے اور (وہ خود) اس کی رحمت کے امیدوار ہیں اور (وہ خود ہی) اس کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں، (اب تم ہی بتاؤ کہ وہ معبود کیسے ہو سکتے ہیں وہ تو خود معبودِ برحق کے سامنے جھک رہے ہیں)، بیشک آپ کے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہےo

58. اور (کفر و سرکشی کرنے والوں کی) کوئی بستی ایسی نہیں مگر ہم اسے روزِ قیامت سے قبل ہی تباہ کر دیں گے یا اسے نہایت ہی سخت عذاب دیں گے، یہ (امر) کتاب (لوحِ محفوظ) میں لکھا ہوا ہےo

59. اور ہم کو (اب بھی ان کے مطالبہ پر) نشانیاں بھیجنے سے (کسی چیز نے) منع نہیں کیا سوائے اس کے کہ ان ہی (نشانیوں) کو پہلے لوگوں نے جھٹلا دیا تھا (سو اس کے بعد وہ فوراً تباہ و برباد کر دیئے گئے اور کوئی مہلت باقی نہ رہی، اے حبیب! ہم آپ کی بِعثت کے بعد آپ کی قوم سے یہ معاملہ نہیں کرنا چاہتے)، اور ہم نے قومِ ثمود کو (صالح علیہ السلام کی) اونٹنی (کی) کھلی نشانی دی تھی تو انہوں نے اس پر ظلم کیا، اور ہم نشانیاں نہیں بھیجا کرتے مگر (عذاب کی آمد سے قبل آخری بار) خوفزدہ کرنے کے لئے (پھر جب اس نشانی کا انکار ہو جاتا ہے تو اسی وقت تباہ کن عذاب بھیج دیا جاتا ہے)o

60. اور (یاد کیجئے) جب ہم نے آپ سے فرمایا کہ بیشک آپ کے رب نے (سب) لوگوں کو (اپنے علم و قدرت کے) احاطہ میں لے رکھا ہے، اور ہم نے تو (شبِ معراج کے) اس نظّارہ کو جو ہم نے آپ کو دکھایا لوگوں کے لئے صرف ایک آزمائش بنایا ہے (ایمان والے مان گئے اور ظاہر بین الجھ گئے) اور اس درخت (شجرۃ الزقوم) کو بھی جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے، اور ہم انہیں ڈراتے ہیں مگر یہ (ڈرانا بھی) ان میں کوئی اضافہ نہیں کرتا سوائے اور بڑی سرکشی کےo

61. اور (وہ وقت یاد کیجئے) جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ تم آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا، اس نے کہا: کیا اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہےo

62. (اور شیطان یہ بھی کہنے لگا مجھے بتا تو سہی کہ یہ وہ شخص ہے جسے تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے (آخر اس کی کیا وجہ ہے؟) اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے دے تو میں اس کی اولاد کو سوائے چند افراد کے (اپنے قبضہ میں لے کر) جڑ سے اکھاڑ دوں گاo

63. اﷲ نے فرمایا: جا (تجھے مہلت ہے) پس ان میں سے جو بھی تیری پیروی کرے گا تو بیشک دوزخ (ہی) تم سب کی پوری پوری سزا ہےo

64. اور جس پر بھی تیرا بس چل سکتا ہے تو (اسے) اپنی آواز سے ڈگمگا لے اور ان پر اپنی (فوج کے) سوار اور پیادہ دستوں کو چڑھا دے اور ان کے مال و اولاد میں ان کا شریک بن جا اور ان سے (جھوٹے) وعدے کر، اور ان سے شیطان دھوکہ و فریب کے سوا (کوئی) وعدہ نہیں کرتاo

65. بیشک جو میرے بندے ہیں ان پر تیرا تسلط نہیں ہو سکے گا، اور تیرا رب ان (اﷲ والوں) کی کارسازی کے لئے کافی ہےo

66. تمہارا رب وہ ہے جو سمندر (اور دریا) میں تمہارے لئے (جہاز اور) کشتیاں رواں فرماتا ہے تاکہ تم (اندرونی و بیرونی تجارت کے ذریعہ) اس کا فضل (یعنی رزق) تلاش کرو، بیشک وہ تم پر بڑا مہربان ہےo

67. اور جب سمندر میں تمہیں کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے تو وہ (سب بت تمہارے ذہنوں سے) گم ہو جاتے ہیں جن کی تم پرستش کرتے رہتے ہو سوائے اسی (اﷲ) کے (جسے تم اس وقت یاد کرتے ہو)، پھر جب وہ (اﷲ) تمہیں بچا کر خشکی کی طرف لے جاتا ہے (تو پھر اس سے) رُوگردانی کرنے لگتے ہو، اور انسان بڑا ناشکرا واقع ہوا ہےo

68. کیا تم اس بات سے بے خوف ہو گئے ہو کہ وہ تمہیں خشکی کے کنارے پر ہی (زمین میں) دھنسا دے یا تم پر پتھر برسانے والی آندھی بھیج دے پھر تم اپنے لئے کوئی کارساز نہ پاسکو گےo

69. یا تم اس بات سے بے خوف ہوگئے ہو کہ وہ تمہیں دوبارہ اس (سمندر) میں پلٹا کر لے جائے اور تم پر کشتیاں توڑ دینے والی آندھی بھیج دے پھر تمہیں اس کفر کے باعث جو تم کرتے تھے (سمندر میں) غرق کر دے پھر تم اپنے لئے اس (ڈبونے) پر ہم سے مؤاخذہ کرنے والا کوئی نہیں پاؤ گےo

70. اور بیشک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور ہم نے ان کو خشکی اور تری (یعنی شہروں اور صحراؤں اور سمندروں اور دریاؤں) میں (مختلف سواریوں پر) سوار کیا اور ہم نے انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق عطا کیا اور ہم نے انہیں اکثر مخلوقات پر جنہیں ہم نے پیدا کیا ہے فضیلت دے کر برتر بنا دیاo

71. وہ دن (یاد کریں) جب ہم لوگوں کے ہر طبقہ کو ان کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے، سو جسے اس کا نوشتۂ اَعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا پس یہ لوگ اپنا نامۂ اعمال (مسرت و شادمانی سے) پڑھیں گے اور ان پر دھاگے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گاo

72. اور جو شخص اس (دنیا) میں (حق سے) اندھا رہا سو وہ آخرت میں بھی اندھا اور راہِ (نجات) سے بھٹکا رہے گاo

73. اور کفار تو یہی چاہتے تھے کہ آپ کو اس (حکمِ الٰہی) سے پھیر دیں جس کی ہم نے آپ کی طرف وحی فرمائی ہے تاکہ آپ اس (وحی) کے سوا ہم پر کچھ اور (باتوں) کو منسوب کر دیں اور تب آپ کو اپنا دوست بنا لیںo

74. اور اگر ہم نے آپ کو (پہلے ہی سے عصمتِ نبوت کے ذریعہ) ثابت قدم نہ بنایا ہوتا تو تب بھی آپ ان کی طرف (اپنے پاکیزہ نفس اور طبعی استعداد کے باعث) بہت ہی معمولی سے جھکاؤ کے قریب جاتے۔(ان کی طرف پھر بھی زیادہ مائل نہ ہوتے اور وہ ناکام رہتے مگر اﷲ نے آپ کو عصمتِ نبوت کے ذریعہ اس معمولی سے میلان کے قریب جانے سے بھی محفوظ فرما لیا ہے)o

75. (اگر بالفرض آپ مائل ہو جاتے تو) اس وقت ہم آپ کو دوگنا مزہ زندگی میں اور دوگنا موت میں چکھاتے پھر آپ اپنے لئے (بھی) ہم پر کوئی مدد گار نہ پاتےo

76. اور کفار یہ بھی چاہتے تھے کہ آپ کے قدم سرزمینِ (مکّہ) سے اکھاڑ دیں تاکہ وہ آپ کو یہاں سے نکال سکیں اور (اگر بالفرض ایسا ہو جاتا تو) اس وقت وہ (خود بھی) آپ کے پیچھے تھوڑی سی مدت کے سوا ٹھہر نہ سکتےo

77. ان سب رسولوں (کے لئے اﷲ) کا دستور (یہی رہا ہے) جنہیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا اور آپ ہمارے دستور میں کوئی تبدیلی نہیں پائیں گےo

78. آپ سورج ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک (ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی) نماز قائم فرمایا کریں اور نمازِ فجر کا قرآن پڑھنا بھی (لازم کر لیں)، بیشک نمازِ فجر کے قرآن میں (فرشتوں کی) حاضری ہوتی ہے (اور حضوری بھی نصیب ہوتی ہے)o

79. اور رات کے کچھ حصہ میں (بھی) قرآن کے ساتھ (شب خیزی کرتے ہوئے) نماز تہجد پڑھا کریں یہ خاص آپ کے لئے زیادہ (کی گئی) ہے یقیناً آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا (یعنی وہ مقامِ شفاعتِ عظمٰی جہاں جملہ اوّلین و آخرین آپ کی طرف رجوع اور آپ کی حمد کریں گے)o

80. اور آپ (اپنے رب کے حضور یہ) عرض کرتے رہیں: اے میرے رب! مجھے سچائی (خوشنودی) کے ساتھ داخل فرما (جہاں بھی داخل فرمانا ہو) اور مجھے سچائی (و خوشنودی) کے ساتھ باہر لے آ(جہاں سے بھی لانا ہو) اور مجھے اپنی جانب سے مددگار غلبہ و قوت عطا فرما دےo

81. اور فرما دیجئے: حق آگیا اور باطل بھاگ گیا، بیشک باطل نے زائل و نابود ہی ہو جانا ہےo

82. اور ہم قرآن میں وہ چیز نازل فرما رہے ہیں جو ایمان والوں کے لئے شفاء اور رحمت ہے اور ظالموں کے لئے تو صرف نقصان ہی میں اضافہ کر رہا ہےo

83. اور جب ہم انسان پر (کوئی) انعام فرماتے ہیں تو وہ (شکر سے) گریز کرتا اور پہلو تہی کر جاتا ہے اور جب اسے کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو مایوس ہو جاتا ہے (گویا نہ شاکر ہے نہ صابر)o

84. فرما دیجئے: ہر کوئی (اپنے) اپنے طریقہ و فطرت پر عمل پیرا ہے، اور آپ کا رب خوب جانتا ہے کہ سب سے زیادہ سیدھی راہ پر کون ہےo

85. اور یہ (کفّار) آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، فرما دیجئے: روح میرے رب کے اَمر سے ہے اور تمہیں بہت ہی تھوڑا سا علم دیا گیا ہےo

86. اور اگر ہم چاہیں تو اس (کتاب) کو جو ہم نے آپ کی طرف وحی فرمائی ہے (لوگوں کے دلوں اور تحریری نسخوں سے) محو فرما دیں پھر آپ اپنے لئے اس (وحی) کے لے جانے پر ہماری بارگاہ میں کوئی وکالت کرنے والا بھی نہ پائیں گےo

87. مگر یہ کہ آپ کے رب کی رحمت سے (ہم نے اسے قائم رکھا ہے)، بیشک (یہ) آپ پر (اور آپ کے وسیلہ سے آپ کی امّت پر)اس کا بہت بڑا فضل ہےo

88. فرما دیجئے: اگر تمام انسان اور جنّات اس بات پر جمع ہو جائیں کہ وہ اس قرآن کے مثل (کوئی دوسرا کلام بنا) لائیں گے تو (بھی) وہ اس کی مثل نہیں لاسکتے اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مددگار بن جائیںo

89. اور بیشک ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر طرح کی مثال (مختلف طریقوں سے) بار بار بیان کی ہے مگر اکثر لوگوں نے (اسے) قبول نہ کیا (یہ) سوائے ناشکری کے (اور کچھ نہیں)o

90. اور وہ (کفّارِ مکّہ) کہتے ہیں کہ ہم آپ پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ آپ ہمارے لئے زمین سے کوئی چشمہ جاری کر دیںo

91. یا آپ کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو تو آپ اس کے اندر بہتی ہوئی نہریں جاری کردیںo

92. یا جیسا کہ آپ کا خیال ہے ہم پر (ابھی) آسمان کے چند ٹکڑے گرا دیں یا آپ اﷲ کو اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لے آئیںo

93. یا آپ کا کوئی سونے کا گھر ہو (جس میں آپ خوب عیش سے رہیں) یا آپ آسمان پر چڑھ جائیں، پھر بھی ہم آپ کے (آسمان میں) چڑھ جانے پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ آپ (وہاں سے) ہمارے اوپر کوئی کتاب اتار لائیں جسے ہم (خود) پڑھ سکیں، فرما دیجئے: میرا رب (ان خرافات میں الجھنے سے) پاک ہے میں تو ایک انسان (اور) اﷲ کا بھیجا ہوا (رسول) ہوںo

94. اور (ان) لوگوں کو ایمان لانے سے اور کوئی چیز مانع نہ ہوئی جبکہ ان کے پاس ہدایت (بھی) آچکی تھی سوائے اس کے کہ وہ کہنے لگے: کیا اﷲ نے (ایک) بشر کو رسول بنا کر بھیجا ہےo

95. فرما دیجئے: اگر زمین میں (انسانوں کی بجائے) فرشتے چلتے پھرتے سکونت پذیر ہوتے تو یقیناً ہم (بھی) ان پر آسمان سے کسی فرشتہ کو رسول بنا کر اتارتےo

96. فرما دیجئے: میرے اور تمہارے درمیان اﷲ ہی گواہ کے طور پر کافی ہے، بیشک وہ اپنے بندوں سے خوب آگاہ خوب دیکھنے والا ہےo

97. اور اﷲ جسے ہدایت فرما دے تو وہی ہدایت یافتہ ہے، اور جسے وہ گمراہ ٹھہرا دے تو آپ ان کے لئے اس کے سوا مددگار نہیں پائیں گے، اور ہم انہیں قیامت کے دن اوندھے منہ اٹھائیں گے اس حال میں کہ وہ اندھے، گونگے اور بہرے ہوں گے، ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، جب بھی وہ بجھنے لگے گی ہم انہیں (عذاب دینے کے لئے) اور زیادہ بھڑکا دیں گےo

98. یہ ان لوگوں کی سزا ہے اس وجہ سے کہ انہوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور یہ کہتے رہے کہ کیا جب ہم (مَر کر بوسیدہ) ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو کیا ہم اَز سرِ نو پیدا کر کے اٹھائے جائیں گےo

99. کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جس اﷲ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا ہے (وہ) اس بات پر (بھی) قادر ہے کہ وہ ان لوگوں کی مثل (دوبارہ) پیدا فرما دے اور اس نے ان کے لئے ایک وقت مقرر فرما دیا ہے جس میں کوئی شک نہیں، پھر بھی ظالموں نے انکار کردیا ہے مگر (یہ) ناشکری ہےo

100. فرما دیجئے: اگر تم میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے تو تب بھی (سب) خرچ ہوجانے کے خوف سے تم (اپنے ہاتھ) روکے رکھتے، اور انسان بہت ہی تنگ دل اور بخیل واقع ہوا ہےo

101. اور بیشک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو نو روشن نشانیاں دیں تو آپ بنی اسرائیل سے پوچھیئے جب (موسٰی علیہ السلام) ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا: میں تو یہی خیال کرتا ہوں کہ اے موسٰی! تم سحر زدہ ہو (تمہیں جادو کر دیا گیا ہے)o

102. موسٰی (علیہ السلام) نے فرمایا: تو (دل سے) جانتا ہے کہ ان نشانیوں کو کسی اور نے نہیں اتارا مگر آسمانوں اور زمین کے رب نے عبرت و بصیرت بنا کر، اور میں تو یہی خیال کرتا ہوں کہ اے فرعون! تم ہلاک زدہ ہو (تو جلدی ہلاک ہوا چاہتا ہے)o

103. پھر (فرعون نے) ارادہ کیا کہ ان کو (یعنی موسٰی علیہ السلام اور ان کی قوم کو) سر زمینِ (مصر) سے اکھاڑ کر پھینک دے پس ہم نے اسے اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو غرق کردیاo

104. اور ہم نے اس کے بعد بنی اسرائیل سے فرمایا: تم اس ملک میں آباد ہو جاؤ پھر جب آخرت کا وعدہ آجائے گا (تو) ہم تم سب کو اکٹھا سمیٹ کر لے جائیں گےo

105. اور حق کے ساتھ ہی ہم نے اس (قرآن) کو اتارا ہے اور حق ہی کے ساتھ وہ اترا ہے، اور (اے حبیبِ مکرّم!) ہم نے آپ کو خوشخبری سنانے والا اور ڈر سنانے والا ہی بنا کر بھیجا ہےo

106. اور قرآن کو ہم نے جدا جدا کر کے اتارا تاکہ آپ اسے لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں اور ہم نے اسے رفتہ رفتہ (حالات اور مصالح کے مطابق) تدریجاً اتارا ہےo

107. فرما دیجئے: تم اس پر ایمان لاؤ یا ایمان نہ لاؤ، بیشک جن لوگوں کو اس سے قبل علمِ (کتاب) عطا کیا گیا تھا جب یہ (قرآن) انہیں پڑھ کر سنایا جاتا ہے وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گر پڑتے ہیںo

108. اور کہتے ہیں: ہمارا رب پاک ہے، بیشک ہمارے رب کا وعدہ پورا ہو کر ہی رہنا تھاo

109. اور ٹھوڑیوں کے بل گریہ و زاری کرتے ہوئے گر جاتے ہیں، اور یہ (قرآن) ان کے خشوع و خضوع میں مزید اضافہ کرتا چلا جاتا ہےo

110. فرما دیجئے کہ اﷲ کو پکارو یا رحمان کو پکارو، جس نام سے بھی پکارتے ہو (سب) اچھے نام اسی کے ہیں، اور نہ اپنی نماز (میں قرات) بلند آواز سے کریں اور نہ بالکل آہستہ پڑھیں اور دونوں کے درمیان (معتدل) راستہ اختیار فرمائیںo

111. اور فرمائیے کہ سب تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہیں جس نے نہ تو (اپنے لئے) کوئی بیٹا بنایا اور نہ ہی (اس کی) سلطنت و فرمانروائی میں کوئی شریک ہے اور نہ کمزوری کے باعث اس کا کوئی مددگار ہے (اے حبیب!) آپ اسی کو بزرگ تر جان کر اس کی خوب بڑائی (بیان) کرتے رہئےo


سُورة الْكَهْف

1. تمام تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہیں جس نے اپنے (محبوب و مقرّب) بندے پر کتابِ (عظیم) نازل فرمائی اور اس میں کوئی کجی نہ رکھیo

2. (اسے) سیدھا اور معتدل (بنایا) تاکہ وہ (منکرین کو) اﷲ کی طرف سے (آنے والے) شدید عذاب سے ڈرائے اور مومنین کو جو نیک اعمال کرتے ہیں خوشخبری سنائے کہ ان کے لئے بہتر اجر (جنت) ہےo

3. جس میں وہ ہمیشہ رہیں گےo

4. اور (نیز) ان لوگوں کو ڈرائے جو کہتے ہیں کہ اﷲ نے (اپنے لئے) لڑکا بنا رکھا ہےo

5. نہ اس کا کوئی علم انہیں ہے اور نہ ان کے باپ دادا کو تھا، (یہ) کتنا بڑا بول ہے جو ان کے منہ سے نکل رہا ہے، وہ (سراسر) جھوٹ کے سوا کچھ کہتے ہی نہیںo

6. (اے حبیبِ مکرّم!) تو کیا آپ ان کے پیچھے شدتِ غم میں اپنی جانِ (عزیز بھی) گھلا دیں گے اگر وہ اس کلامِ (ربّانی) پر ایمان نہ لائےo

7. اور بیشک ہم نے اُن تمام چیزوں کو جو زمین پر ہیں اس کے لئے باعثِ زینت (و آرائش) بنایا تاکہ ہم ان لوگوں کو (جو زمین کے باسی ہیں) آزمائیں کہ ان میں سے بہ اِعتبارِ عمل کون بہتر ہےo

8. اور بیشک ہم اِن (تمام) چیزوں کو جو اس (روئے زمین) پر ہیں (نابود کر کے) بنجر میدان بنا دینے والے ہیںo

9. کیا آپ نے یہ خیال کیا ہے کہ کہف و رقیم (یعنی غار اور لوحِ غار یا وادئ رقیم) والے ہماری (قدرت کی) نشانیوں میں سے (کتنی) عجیب نشانی o

1تھے0. (وہ وقت یاد کیجئے) جب چند نوجوان غار میں پناہ گزیں ہوئے تو انہوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہمیں اپنی بارگاہ سے رحمت عطا فرما اور ہمارے کام میں راہ یابی (کے اسباب) مہیا فرماo

11. پس ہم نے اس غار میں گنتی کے چند سال ان کے کانوں پر تھپکی دے کر (انہیں سلا دیا)o

12. پھر ہم نے انہیں اٹھا دیا کہ دیکھیں دونوں گروہوں میں سے کون اس (مدّت) کو صحیح شمار کرنے والا ہے جو وہ (غار میں) ٹھہرے رہےo

13. (اب) ہم آپ کو ان کا حال صحیح صحیح سناتے ہیں، بیشک وہ (چند) نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کے لئے (نورِ) ہدایت میں اور اضافہ فرما دیاo

14. اور ہم نے ان کے دلوں کو (اپنے ربط و نسبت سے) مضبوط و مستحکم فرما دیا، جب وہ (اپنے بادشاہ کے سامنے) کھڑے ہوئے تو کہنے لگے: ہمارا رب تو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم اس کے سوا ہرگز کسی (جھوٹے) معبود کی پرستش نہیں کریں گے (اگر ایسا کریں تو) اس وقت ہم ضرور حق سے ہٹی ہوئی بات کریں گےo

15. یہ ہماری قوم کے لوگ ہیں جنہوں نے اس کے سوا کئی معبود بنا لئے ہیں، تو یہ ان (کے معبود ہونے) پر کوئی واضح سند کیوں نہیں لاتے؟ سو اُس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتا ہےo

16. اور (ان نوجوانوں نے آپس میں کہا جب تم ان سے اور ان (جھوٹے معبودوں) سے جنہیں یہ اﷲ کے سوا پوجتے ہیں کنارہ کش ہو گئے ہو تو تم (اس) غار میں پناہ لے لو، تمہارا رب تمہارے لئے اپنی رحمت کشادہ فرما دے گا اور تمہارے لئے تمہارے کام میں سہولت مہیا فرما دے گاo

17. اور آپ دیکھتے ہیں جب سورج طلوع ہوتا ہے تو ان کے غار سے دائیں جانب ہٹ جاتا ہے اور جب غروب ہونے لگتا ہے تو ان سے بائیں جانب کترا جاتا ہے اور وہ اس غار کے کشادہ میدان میں (لیٹے) ہیں، یہ (سورج کا اپنے راستے کو بدل لینا) اﷲ کی (قدرت کی بڑی) نشانیوں میں سے ہے، جسے اﷲ ہدایت فرما دے سو وہی ہدایت یافتہ ہے، اور جسے وہ گمراہ ٹھہرا دے تو آپ اس کے لئے کوئی ولی مرشد (یعنی راہ دکھانے والا مددگار) نہیں پائیں گےo

18. اور (اے سننے والے!) تو انہیں (دیکھے تو) بیدار خیال کرے گا حالانکہ وہ سوئے ہوئے ہیں اور ہم (وقفوں کے ساتھ) انہیں دائیں جانب اور بائیں جانب کروٹیں بدلاتے رہتے ہیں، اور ان کا کتا (ان کی) چوکھٹ پر اپنے دونوں بازو پھیلائے (بیٹھا) ہے، اگر تو انہیں جھانک کر دیکھ لیتا تو ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا اور تیرے دل میں ان کی دہشت بھر جاتیo

19. اور اسی طرح ہم نے انہیں اٹھا دیا تاکہ وہ آپس میں دریافت کریں، (چنانچہ) ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا: تم (یہاں) کتنا عرصہ ٹھہرے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم (یہاں) ایک دن یا اس کا (بھی) کچھ حصہ ٹھہرے ہیں، (بالآخر) کہنے لگے: تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ تم (یہاں) کتنا عرصہ ٹھہرے ہو، سو تم اپنے میں سے کسی ایک کو اپنا یہ سکہ دے کر شہر کی طرف بھیجو پھر وہ دیکھے کہ کون سا کھانا زیادہ حلال اور پاکیزہ ہے تو اس میں سے کچھ کھانا تمہارے پاس لے آئے اور اسے چاہئے کہ (آنے جانے اور خریدنے میں) آہستگی اور نرمی سے کام لے اور کسی ایک شخص کو (بھی) تمہاری خبر نہ ہونے دےo

20. بیشک اگر انہوں نے تم (سے آگاہ ہو کر تم) پر دسترس پالی تو تمہیں سنگسار کر ڈالیں گے یا تمہیں (جبرًا) اپنے مذہب میں پلٹا لیں گے اور (اگر ایسا ہو گیا تو) تب تم ہرگز کبھی بھی فلاح نہیں پاؤ گےo

21. اور اس طرح ہم نے ان (کے حال) پر ان لوگوں کو (جو چند صدیاں بعد کے تھے) مطلع کردیا تاکہ وہ جان لیں کہ اﷲ کا وعدہ سچا ہے اور یہ (بھی) کہ قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے۔ جب وہ (بستی والے) آپس میں ان کے معاملہ میں جھگڑا کرنے لگے (جب اصحابِ کہف وفات پاگئے) تو انہوں نے کہا کہ ان (کے غار) پر ایک عمارت (بطور یادگار) بنا دو، ان کا رب ان (کے حال) سے خوب واقف ہے، ان (ایمان والوں) نے کہا جنہیں ان کے معاملہ پر غلبہ حاصل تھا کہ ہم ان (کے دروازہ) پر ضرور ایک مسجد بنائیں گے (تاکہ مسلمان اس میں نماز پڑھیں اور ان کی قربت سے خصوصی برکت حاصل کریں)o

22. (اب) کچھ لوگ کہیں گے: (اصحابِ کہف) تین تھے ان میں سے چوتھا ان کا کتا تھا، اور بعض کہیں گے: پانچ تھے ان میں سے چھٹا ان کا کتا تھا، یہ بِن دیکھے اندازے ہیں، اور بعض کہیں گے: (وہ) سات تھے اور ان میں سے آٹھواں ان کا کتا تھا۔ فرما دیجئے: میرا رب ہی ان کی تعداد کو خوب جانتا ہے اور سوائے چند لوگوں کے ان (کی صحیح تعداد) کا علم کسی کو نہیں، سو آپ کسی سے ان کے بارے میں بحث نہ کیا کریں سوائے اس قدر وضاحت کے جو ظاہر ہو چکی ہے اور نہ ان میں سے کسی سے ان (اصحابِ کہف) کے بارے میں کچھ دریافت کریںo

23. اورکسی بھی چیز کی نسبت یہ ہرگز نہ کہا کریں کہ میں اس کام کو کل کرنے والا ہوںo

24. مگر یہ کہ اگر اﷲ چاہے (یعنی اِن شاء اﷲ کہہ کر) اور اپنے رب کا ذکر کیا کریں جب آپ بھول جائیں اور کہیں: امید ہے میرا رب مجھے اس سے (بھی) قریب تر ہدایت کی راہ دکھا دے گاo

25. اور وہ (اصحابِ کہف) اپنی غار میں تین سو برس ٹھہرے رہے اور انہوں نے (اس پر) نو (سال) اور بڑھا دیئےo

26. فرما دیجئے: اﷲ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنی مدت (وہاں) ٹھہرے رہے، آسمانوں اور زمین کی (سب) پوشیدہ باتیں اسی کے علم میں ہیں، کیا خوب دیکھنے والا اور کیاخوب سننے والا ہے، اس کے سوا ان کا نہ کوئی کارساز ہے اور نہ وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک فرماتا ہےo

27. اور آپ وہ (کلام) پڑھ کر سنائیں جو آپ کے رب کی کتاب میں سے آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے، اس کے کلام کو کوئی بدلنے والا نہیں اور آپ اس کے سوا ہرگز کوئی جائے پناہ نہیں پائیں گےo

28. (اے میرے بندے!) تو اپنے آپ کو ان لوگوں کی سنگت میں جمائے رکھا کر جو صبح و شام اپنے رب کو یاد کرتے ہیں اس کی رضا کے طلب گار رہتے ہیں (اس کی دید کے متمنی اور اس کا مکھڑا تکنے کے آرزو مند ہیں) تیری (محبت اور توجہ کی) نگاہیں ان سے نہ ہٹیں، کیا تو (ان فقیروں سے دھیان ہٹا کر) دنیوی زندگی کی آرائش چاہتا ہے، اور تو اس شخص کی اطاعت (بھی) نہ کر جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی ہوائے نفس کی پیروی کرتا ہے اور اس کا حال حد سے گزر گیا ہےo

29. اور فرما دیجئے کہ (یہ) حق تمہارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے انکار کردے، بیشک ہم نے ظالموں کے لئے (دوزخ کی) آگ تیار کر رکھی ہے جس کی دیواریں انہیں گھیر لیں گی، اور اگر وہ (پیاس اور تکلیف کے باعث) فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا جو ان کے چہروں کو بھون دے گا، کتنا برا مشروب ہے، اور کتنی بری آرام گاہ ہےo

30. بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے یقیناً ہم اس شخص کا اجر ضائع نہیں کرتے جو نیک عمل کرتا ہےo

31. ان لوگوں کے لئے ہمیشہ (آباد) رہنے والے باغات ہیں (جن میں) ان (کے محلات) کے نیچے نہریں جاری ہیں انہیں ان جنتوں میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ باریک دیبا اور بھاری اطلس کے (ریشمی) سبز لباس پہنیں گے اور پر تکلف تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے، کیا خوب ثواب ہے اور کتنی حسین آرام گاہ ہےo

32. اور آپ ان سے ان دو شخصوں کی مثال بیان کریں جن میں سے ایک کے لئے ہم نے انگور کے دو باغات بنائے اور ہم نے ان دونوں کو تمام اَطراف سے کھجور کے درختوں کے ساتھ ڈھانپ دیا اور ہم نے ان کے درمیان (سرسبز و شاداب) کھیتیاں اگا دیںo

33. یہ دونوں باغ (کثرت سے) اپنے پھل لائے اور ان کی (پیداوار) میں کوئی کمی نہ رہی اور ہم نے ان دونوں (میں سے ہر ایک) کے درمیان ایک نہر (بھی) جاری کر دیo

34. اور اس شخص کے پاس (اس کے سوا بھی) بہت سے پھل (یعنی وسائل) تھے، تو اس نے اپنے ساتھی سے کہا اور وہ اس سے تبادلہ خیال کر رہا تھا کہ میں تجھ سے مال و دولت میں کہیں زیادہ ہوں اور قبیلہ و خاندان کے لحاظ سے (بھی) زیادہ باعزت ہوںo

35. اور وہ (اسے لے کر) اپنے باغ میں داخل ہوا (تکبّر کی صورت میں) اپنی جان پر ظلم کرتے ہوئے کہنے لگا: میں یہ گمان (ہی) نہیں کرتا کہ یہ باغ تباہ ہوگاo

36. اور نہ ہی یہ گمان کرتا ہوں کہ قیامت قائم ہوگی اور اگر (بالفرض) میں اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو بھی یقیناً میں ان باغات سے بہتر پلٹنے کی جگہ پاؤں گاo

37. اس کے ساتھی نے اس سے کہا اور وہ اس سے تبادلہء خیال کر رہا تھا: کیا تو نے اس (رب) کا انکار کیا ہے جس نے تجھے (اوّلاً) مٹی سے پیدا کیا پھر ایک تولیدی قطرہ سے پھر تجھے (جسمانی طور پر) پورا مرد بنا دیاo

38. لیکن میں (تو یہ کہتا ہوں) کہ وہی اﷲ میرا رب ہے اور میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں گردانتاo

39. اور جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تو تو نے کیوں نہیں کہا: ”ما شاء اﷲ لا قوۃ اِلا باﷲ“ (وہی ہونا ہے جو اﷲ چاہے کسی کو کچھ طاقت نہیں مگر اﷲ کی مدد سے)، اگر تو (اِس وقت) مجھے مال و اولاد میں اپنے سے کم تر دیکھتا ہے (تو کیا ہوا)o

40. کچھ بعید نہیں کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا فرمائے اور اس (باغ) پر آسمان سے کوئی عذاب بھیج دے پھر وہ چٹیل چکنی زمین بن جائےo

41. یا اس کا پانی زمین کی گہرائی میں چلا جائے پھر تو اسے حاصل کرنے کی طاقت بھی نہ پا سکےo

42. اور (اس تکبّر کے باعث) اس کے (سارے) پھل (تباہی میں) گھیر لئے گئے تو صبح کو وہ اس پونجی پر جو اس نے اس (باغ کے لگانے) میں خرچ کی تھی کفِ افسوس ملتا رہ گیا اور وہ باغ اپنے چھپروں پر گرا پڑا تھا اور وہ (سراپا حسرت و یاس بن کر) کہہ رہا تھا: ہائے کاش! میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہوتا (اور اپنے اوپر گھمنڈ نہ کیا ہوتا)o

43. اور اس کے لئے کوئی گروہ (بھی) ایسا نہ تھا جو اﷲ کے مقابلہ میں اس کی مدد کرتے اور نہ وہ خود (ہی اس تباہی کا) بدلہ لینے کے قابل تھاo

44. یہاں (پتہ چلتا ہے) کہ سب اختیار اﷲ ہی کا ہے (جو) حق ہے، وہی بہتر ہے انعام دینے میں اور وہی بہتر ہے انجام کرنے میںo

45. اور آپ انہیں دنیوی زندگی کی مثال (بھی) بیان کیجئے (جو) اس پانی جیسی ہے جسے ہم نے آسمان کی طرف سے اتارا تو اس کے باعث زمین کا سبزہ خوب گھنا ہوگیا پھر وہ سوکھی گھاس کا چورا بن گیا جسے ہوائیں اڑا لے جاتی ہیں، اور اﷲ ہر چیز پر کامل قدرت والا ہےo

46. مال اور اولاد (تو صرف) دنیاوی زندگی کی زینت ہیں اور (حقیقت میں) باقی رہنے والی (تو) نیکیاں (ہیں جو) آپ کے رب کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے (بھی) بہتر ہیں اور آرزو کے لحاظ سے (بھی) خوب تر ہیںo

47. وہ دن (قیامت کا) ہوگا جب ہم پہاڑوں کو (ریزہ ریزہ کر کے فضا میں) چلائیں گے اور آپ زمین کو صاف میدان دیکھیں گے (اس پر شجر، حجر اور حیوانات و نباتات میں سے کچھ بھی نہ ہوگا) اور ہم سب انسانوں کو جمع فرمائیں گے اور ان میں سے کسی کو (بھی) نہیں چھوڑیں گےo

48. اور (سب لوگ) آپ کے رب کے حضور قطار در قطار پیش کئے جائیں گے، (ان سے کہا جائے گا بیشک تم ہمارے پاس (آج اسی طرح) آئے ہو جیسا کہ ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا بلکہ تم یہ گمان کرتے تھے کہ ہم تمہارے لئے ہرگز وعدہ کا وقت مقرر ہی نہیں کریں گےo

49. اور (ہر ایک کے سامنے) اَعمال نامہ رکھ دیا جائے گا سو آپ مجرموں کو دیکھیں گے (وہ) ان (گناہوں اور جرموں) سے خوفزدہ ہوں گے جو اس (اَعمال نامہ) میں درج ہوں گے اور کہیں گے: ہائے ہلاکت! اس اَعمال نامہ کو کیا ہوا ہے اس نے نہ کوئی چھوٹی (بات) چھوڑی ہے اور نہ کوئی بڑی (بات)، مگر اس نے (ہر ہر بات کو) شمار کر لیا ہے اور وہ جو کچھ کرتے رہے تھے (اپنے سامنے) حاضر پائیں گے، اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہ فرمائے گاo

50. اور (وہ وقت یاد کیجئے) جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ تم آدم (علیہ السلام) کو سجدۂ (تعظیم) کرو سو ان (سب) نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، وہ (ابلیس) جنّات میں سے تھا تو وہ اپنے رب کی طاعت سے باہر نکل گیا، کیا تم اس کو اور اس کی اولاد کو مجھے چھوڑ کر دوست بنا رہے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں، یہ ظالموں کے لئے کیا ہی برا بدل ہے (جو انہوں نے میری جگہ منتخب کیا ہے)o

51. میں نے نہ (تو) انہیں آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر (معاونت یا گواہی کے لئے) بلایا تھا اور نہ خود ان کی اپنی تخلیق (کے وقت)، اور نہ (ہی) میں ایسا تھا کہ گمراہ کرنے والوں کو (اپنا) دست و بازو بناتاo

52. اور وہ دن (یاد کرو جب) اﷲ فرمائے گا: انہیں پکارو جنہیں تم میرا شریک گمان کرتے تھے، سو وہ انہیں بلائیں گے مگر وہ انہیں کوئی جواب نہ دیں گے اور ہم ان کے درمیان (ایک وادئ جہنم کو) ہلاکت کی جگہ بنا دیں گےo

53. اور مجرم لوگ آتشِ دوزخ کو دیکھیں گے تو جان لیں گے کہ وہ یقیناً اسی میں گرنے والے ہیں اور وہ اس سے گریز کی کوئی جگہ نہ پاسکیں گےo

54. اور بیشک ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر طرح کی مثال کو (انداز بدل بدل کر) بار بار بیان کیا ہے، اور انسان جھگڑنے میں ہر چیز سے بڑھ کر ہےo

55. اور لوگوں کو جبکہ ان کے پاس ہدایت آچکی تھی کسی نے (اس بات سے) منع نہیں کیا تھا کہ وہ ایمان لائیں اور اپنے رب سے مغفرت طلب کریں سوائے اس (انتظار) کے کہ انہیں اگلے لوگوں کا طریقہ (ہلاکت) پیش آئے یا عذاب ان کے سامنے آجائےo

56. اور ہم رسولوں کو نہیں بھیجا کرتے مگر (لوگوں کو) خوشخبری سنانے والے اور ڈر سنانے والے (بنا کر)، اور کافر لوگ (ان رسولوں سے) بیہودہ باتوں کے سہارے جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اس (باطل) کے ذریعہ حق کو زائل کردیں اور وہ میری آیتوں کو اور اس (عذاب) کو جس سے وہ ڈرائے جاتے ہیں ہنسی مذاق بنا لیتے ہیںo

57. اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جسے اس کے رب کی نشانیاں یاد دلائی گئیں تو اس نے ان سے رُوگردانی کی اور ان (بداَعمالیوں) کو بھول گیا جو اس کے ہاتھ آگے بھیج چکے تھے، بیشک ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ وہ اس حق کو سمجھ (نہ) سکیں اور ان کے کانوں میں بوجھ پیدا کر دیا ہے (کہ وہ اس حق کو سن نہ سکیں)، اور اگر آپ انہیں ہدایت کی طرف بلائیں تو وہ کبھی بھی قطعًا ہدایت نہیں پائیں گےo

58. اور آپ کا رب بڑا بخشنے والا صاحبِ رحمت ہے، اگر وہ ان کے کئے پر ان کا مؤاخذہ فرماتا تو ان پر یقیناً جلد عذاب بھیجتا، بلکہ ان کے لئے (تو) وقتِ وعدہ (مقرر) ہے (جب وہ وقت آئے گا تو) اس کے سوا ہرگز کوئی جائے پناہ نہیں پائیں گےo

59. اور یہ بستیاں ہیں ہم نے جن کے رہنے والوں کو ہلاک کر ڈالا جب انہوں نے ظلم کیا اور ہم نے ان کی ہلاکت کے لئے ایک وقت مقرر کر رکھا تھاo

60. اور (وہ واقعہ بھی یاد کیجئے) جب موسٰی (علیہ السلام) نے اپنے (جواں سال ساتھی اور) خادم (یوشع بن نون علیہ السلام) سے کہا: میں (پیچھے) نہیں ہٹ سکتا یہاں تک کہ میں دو دریاؤں کے سنگم کی جگہ تک پہنچ جاؤں یا مدتوں چلتا رہوںo

61. سو جب وہ دونوں دو دریاؤں کے درمیان سنگم پر پہنچے تو وہ دونوں اپنی مچھلی (وہیں) بھول گئے پس وہ (تلی ہوئی مچھلی زندہ ہوکر) دریا میں سرنگ کی طرح اپنا راستہ بناتے ہوئے (نکل گئی)o

62. پھر جب وہ دونوں آگے بڑھ گئے (تو) موسٰی (علیہ السلام) نے اپنے خادم سے کہا: ہمارا کھانا ہمارے پاس لاؤ بیشک ہم نے اپنے اس سفر میں بڑی مشقت کا سامنا کیا ہےo

63. (خادم نے) کہا: کیا آپ نے دیکھا جب ہم نے پتھر کے پاس آرام کیا تھا تو میں (وہاں) مچھلی بھول گیا تھا، اور مجھے یہ کسی نے نہیں بھلایا سوائے شیطان کے کہ میں آپ سے اس کا ذکر کروں، اور اس (مچھلی) نے تو (زندہ ہوکر) دریا میں عجیب طریقہ سے اپنا راستہ بنا لیا تھا (اور وہ غائب ہو گئی تھی)o

64. موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: یہی وہ (مقام) ہے ہم جسے تلاش کر رہے تھے، پس دونوں اپنے قدموں کے نشانات پر (وہی راستہ) تلاش کرتے ہوئے (اسی مقام پر) واپس پلٹ آئےo

65. تو دونوں نے (وہاں) ہمارے بندوں میں سے ایک (خاص) بندے (خضر علیہ السلام) کو پا لیا جسے ہم نے اپنی بارگاہ سے (خصوصی) رحمت عطا کی تھی اور ہم نے اسے اپنا علم لدنّی (یعنی اَسرار و معارف کا الہامی علم) سکھایا تھاo

66. اس سے موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: کیا میں آپ کے ساتھ اس (شرط) پر رہ سکتا ہوں کہ آپ مجھے (بھی) اس علم میں سے کچھ سکھائیں گے جو آپ کو بغرضِ ارشاد سکھایا گیا ہےo

67. اس (خضرعلیہ السلام) نے کہا: بیشک آپ میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہ کر سکیں گےo

68. اور آپ اس (بات) پر کیسے صبر کر سکتے ہیں جسے آپ (پورے طور پر) اپنے احاطہء علم میں نہیں لائے ہوں گےo

69. موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: آپ اِن شاء اﷲ مجھے ضرور صابر پائیں گے اور میں آپ کی کسی بات کی خلاف ورزی نہیں کروں گاo

70. (خضرعلیہ السلام نے) کہا: پس اگر آپ میرے ساتھ رہیں تو مجھ سے کسی چیز کی بابت سوال نہ کریں یہاں تک کہ میں خود آپ سے اس کا ذکر کردوںo

71. پس دونوں چل دیئے یہاں تک کہ جب دونوں کشتی میں سوار ہوئے (تو خضر علیہ السلام نے) اس (کشتی) میں شگاف کر دیا، موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: کیا آپ نے اسے اس لئے (شگاف کر کے) پھاڑ ڈالا ہے کہ آپ کشتی والوں کو غرق کردیں، بیشک آپ نے بڑی عجیب بات کیo

72. (خضرعلیہ السلام نے) کہا: کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہیں کرسکیں گےo

73. موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: آپ میری بھول پر میری گرفت نہ کریں اور میرے (اس) معاملہ میں مجھے زیادہ مشکل میں نہ ڈالیںo

74. پھر وہ دونوں چل دیئے یہاں تک کہ دونوں ایک لڑکے سے ملے تو (خضر علیہ السلام نے) اسے قتل کر ڈالا، موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: کیا آپ نے بے گناہ جان کو بغیر کسی جان (کے بدلہ) کے قتل کر دیا ہے، بیشک آپ نے بڑا ہی سخت کام کیا ہےo
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-02-11, 03:12 PM   #19
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,228
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default پارہ نمبر 16

پاره قَالَ أَلَمْ

75. (خضرعلیہ السلام نے) کہا: کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہ کر سکیں گےo

76. موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: اگر میں اس کے بعد آپ سے کسی چیز کی نسبت سوال کروں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیئے گا، بیشک میری طرف سے آپ حدِ عذر کو پہنچ گئے ہیںo

77. پھر دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب دونوں ایک بستی والوں کے پاس آپہنچے، دونوں نے وہاں کے باشندوں سے کھانا طلب کیا تو انہوں نے ان دونوں کی میزبانی کرنے سے انکار کر دیا، پھر دونوں نے وہاں ایک دیوار پائی جو گرا چاہتی تھی تو (خضر علیہ السلام نے) اسے سیدھا کر دیا، موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: اگر آپ چاہتے تو اس (تعمیر) پر مزدوری لے لیتےo

78. (خضرعلیہ السلام نے) کہا: یہ میرے اور آپ کے درمیان جدائی (کا وقت) ہے، اب میں آپ کو ان باتوں کی حقیقت سے آگاہ کئے دیتا ہوں جن پر آپ صبر نہیں کر سکےo

79. وہ جو کشتی تھی سو وہ چند غریب لوگوں کی تھی وہ دریا میں محنت مزدوری کیا کرتے تھے پس میں نے ارادہ کیا کہ اسے عیب دار کر دوں اور (اس کی وجہ یہ تھی کہ) ان کے آگے ایک (جابر) بادشاہ (کھڑا) تھا جو ہر (بے عیب) کشتی کو زبردستی (مالکوں سے بلامعاوضہ) چھین رہا تھاo

80. اور وہ جو لڑکا تھا تو اس کے ماں باپ صاحبِ ایمان تھے پس ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ (اگر زندہ رہا تو کافر بنے گا اور) ان دونوں کو (بڑا ہو کر) سرکشی اور کفر میں مبتلا کر دے گاo

81. پس ہم نے ارادہ کیا کہ ان کا رب انہیں (ایسا) بدل عطا فرمائے جو پاکیزگی میں (بھی) اس (لڑکے) سے بہتر ہو اور شفقت و رحم دلی میں (بھی والدین سے) قریب تر ہوo

82. اور وہ جو دیوار تھی تو وہ شہر میں (رہنے والے) دو یتیم بچوں کی تھی اور اس کے نیچے ان دونوں کے لئے ایک خزانہ (مدفون) تھا اور ان کا باپ صالح (شخص) تھا، سو آپ کے رب نے ارادہ کیا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور آپ کے رب کی رحمت سے وہ اپنا خزانہ (خود ہی) نکالیں، اور میں نے (جو کچھ بھی کیا) وہ اَز خود نہیں کیا، یہ ان (واقعات) کی حقیقت ہے جن پر آپ صبر نہ کر سکےo

83. اور (اے حبیبِ معظّم!) یہ آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کرتے ہیں، فرما دیجئے: میں ابھی تمہیں اس کے حال کا تذکرہ پڑھ کر سناتا o

8ہوں4. بیشک ہم نے اسے (زمانۂ قدیم میں) زمین پر اقتدار بخشا تھا اور ہم نے اس (کی سلطنت) کو تمام وسائل و اسباب سے نوازا تھاo

85. پس وہ (مزید) اسباب کے پیچھے چل پڑاo

86. یہاں تک کہ وہ غروبِ آفتاب (کی سمت آبادی) کے آخری کنارے پر جا پہنچا وہاں اس نے سورج کے غروب کے منظر کو ایسے محسوس کیا جیسے وہ (کیچڑ کی طرح سیاہ رنگ) پانی کے گرم چشمہ میں ڈوب رہا ہو اور اس نے وہاں ایک قوم کو (آباد) پایا۔ ہم نے فرمایا: اے ذوالقرنین! (یہ تمہاری مرضی پر منحصر ہے) خواہ تم انہیں سزا دو یا ان کے ساتھ اچھا سلوک کروo

87. ذوالقرنین نے کہا: جو شخص (کفر و فسق کی صورت میں) ظلم کرے گا تو ہم اسے ضرور سزا دیں گے، پھر وہ اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے گا، پھر وہ اسے بہت ہی سخت عذاب دے گاo

88. اور جو شخص ایمان لے آئے گا اور نیک عمل کرے گا تو اس کے لئے بہتر جزا ہے اور ہم (بھی) اس کے لئے اپنے احکام میں آسان بات کہیں گےo

89. (مغرب میں فتوحات مکمل کرنے کے بعد) پھر وہ (دوسرے) راستہ پر چل پڑاo

90. یہاں تک کہ وہ طلوعِ آفتاب (کی سمت آبادی) کے آخری کنارے پر جا پہنچا، وہاں اس نے سورج (کے طلوع کے منظر) کو ایسے محسوس کیا (جیسے) سورج (زمین کے اس خطہ پر آباد) ایک قوم پر اُبھر رہا ہو جس کے لئے ہم نے سورج سے (بچاؤ کی خاطر) کوئی حجاب تک نہیں بنایا تھا (یعنی وہ لوگ بغیر لباس اور مکان کے غاروں میں رہتے تھے)o

91. واقعہ اسی طرح ہے، اور جو کچھ اس کے پاس تھا ہم نے اپنے علم سے اس کا احاطہ کر لیا ہےo

92. (مشرق میں فتوحات مکمل کرنے کے بعد) پھر وہ (ایک اور) راستہ پر چل پڑاo

93. یہاں تک کہ وہ (ایک مقام پر) دو پہاڑوں کے درمیان جا پہنچا اس نے ان پہاڑوں کے پیچھے ایک ایسی قوم کو آباد پایا جو (کسی کی) بات نہیں سمجھ سکتے تھےo

94. انہوں نے کہا: اے ذوالقرنین! بیشک یاجوج اور ماجوج نے زمین میں فساد بپا کر رکھا ہے تو کیا ہم آپ کے لئے اس (شرط) پر کچھ مالِ (خراج) مقرر کردیں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک بلند دیوار بنا دیںo

95. (ذوالقرنین نے) کہا: مجھے میرے رب نے اس بارے میں جو اختیار دیا ہے (وہ) بہتر ہے، تم اپنے زورِ بازو (یعنی محنت و مشقت) سے میری مدد کرو، میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار بنا دوں گاo

96. تم مجھے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لا دو، یہاں تک کہ جب اس نے (وہ لوہے کی دیوار پہاڑوں کی) دونوں چوٹیوں کے درمیان برابر کر دی تو کہنے لگا: (اب آگ لگا کر اسے) دھونکو، یہاں تک کہ جب اس نے اس (لوہے) کو (دھونک دھونک کر) آگ بنا ڈالا تو کہنے لگا: میرے پاس لاؤ (اب) میں اس پر پگھلا ہوا تانبا ڈالوں گاo

97. پھر ان (یاجوج اور ماجوج) میں نہ اتنی طاقت تھی کہ اس پر چڑھ سکیں اور نہ اتنی قدرت پا سکے کہ اس میں سوراخ کر دیںo

98. (ذوالقرنین نے) کہا: یہ میرے رب کی جانب سے رحمت ہے، پھر جب میرے رب کا وعدۂ (قیامت قریب) آئے گا تو وہ اس دیوار کو (گرا کر) ہموار کردے گا (دیوار ریزہ ریزہ ہوجائے گی)، اور میرے رب کا وعدہ برحق ہےo

99. اور ہم اس وقت (جملہ مخلوقات یا یاجوج اور ماجوج کو) آزاد کر دیں گے وہ (تیز و تند موجوں کی طرح) ایک دوسرے میں گھس جائیں گے اور صور پھونکا جائے گا تو ہم ان سب کو (میدانِ حشر میں) جمع کرلیں گےo

100. اور ہم اس دن دوزخ کو کافروں کے سامنے بالکل عیاں کر کے پیش کریں گےo

101. وہ لوگ جن کی آنکھیں میری یاد سے حجابِ (غفلت) میں تھیں اور وہ (میرا ذکر) سن بھی نہ سکتے تھےo

102. کیا کافر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو کار ساز بنا لیں گے، بیشک ہم نے کافروں کے لئے جہنم کی میزبانی کو تیار کر رکھا ہےo

103. فرما دیجئے: کیا ہم تمہیں ایسے لوگوں سے خبردار کر دیں جو اعمال کے حساب سے سخت خسارہ پانے والے ہیںo

104. یہ وہ لوگ ہیں جن کی ساری جد و جہد دنیا کی زندگی میں ہی برباد ہوگئی اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم بڑے اچھے کام انجام دے رہے ہیںo

105. یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی نشانیوں کا اور (مرنے کے بعد) اس سے ملاقات کا انکار کردیا ہے سو ان کے سارے اعمال اکارت گئے پس ہم ان کے لئے قیامت کے دن کوئی وزن اور حیثیت (ہی) قائم نہیں کریں گےo

106. یہی دوزخ ہی ان کی جزا ہے اس وجہ سے کہ وہ کفر کرتے رہے اور میری نشانیوں اور میرے رسولوں کا مذاق اڑاتے رہےo

107. بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو ان کے لئے فردوس کے باغات کی مہمانی ہوگیo

108. وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے وہاں سے (اپنا ٹھکانا) کبھی بدلنا نہ چاہیں گےo

109. فرما دیجئے: اگر سمندر میرے رب کے کلمات کے لئے روشنائی ہوجائے تو وہ سمندر میرے رب کے کلمات کے ختم ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجائے گا اگرچہ ہم اس کی مثل اور (سمندر یا روشنائی) مدد کے لئے لے آئیںo

110. فرما دیجئے: میں تو صرف (بخلقتِ ظاہری) بشر ہونے میں تمہاری مثل ہوں (اس کے سوا اور تمہاری مجھ سے کیا مناسبت ہے! ذرا غور کرو) میری طرف وحی کی جاتی ہے (بھلا تم میں یہ نوری استعداد کہاں ہے کہ تم پر کلامِ الٰہی اتر سکے) وہ یہ کہ تمہارا معبود، معبودِ یکتا ہی ہے پس جو شخص اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہے تو اسے چاہئے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرےo


سُورة مَرْيَم

1. کاف، ہا، یا، عین، صاد (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)o

2. یہ آپ کے رب کی رحمت کا ذکر ہے (جو اس نے) اپنے (برگزیدہ) بندے زکریا (علیہ السلام) پر (فرمائی تھی)o

3. جب انہوں نے اپنے رب کو (ادب بھری) دبی آواز سے پکاراo

4. عرض کیا: اے میرے رب! میرے جسم کی ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں اوربڑھاپے کے باعث سر آگ کے شعلہ کی مانند سفید ہوگیا ہے اور اے میرے رب! میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہاo

5. اور میں اپنے (رخصت ہوجانے کے) بعد (بے دین) رشتہ داروں سے ڈرتا ہوں (کہ وہ دین کی نعمت ضائع نہ کر بیٹھیں) اور میری بیوی (بھی) بانجھ ہے سو تو مجھے اپنی (خاص) بارگاہ سے ایک وارث (فرزند) عطا فرماo

6. جو (آسمانی نعمت میں) میرا (بھی) وارث بنے اور یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد (کے سلسلۂ نبوت) کا (بھی) وارث ہو، اور اے میرے رب! تو (بھی) اسے اپنی رضا کا حامل بنا لےo

7. (ارشاد ہوا اے زکریا! بیشک ہم تمہیں ایک لڑکے کی خوشخبری سناتے ہیں جس کا نام یحیٰی (علیہ السلام) ہوگا ہم نے اس سے پہلے اس کا کوئی ہم نام نہیں بنایاo

8. (زکریا علیہ السلام نے) عرض کیا: اے میرے رب! میرے ہاں لڑکا کیسے ہو سکتا ہے درآنحالیکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں خود بڑھاپے کے باعث (انتہائی ضعف میں) سوکھ جانے کی حالت کو پہنچ گیا ہوںo

9. فرمایا: (تعجب نہ کرو) ایسے ہی ہوگا، تمہارے رب نے فرمایا ہے: یہ (لڑکا پیدا کرنا) مجھ پر آسان ہے اور بیشک میں اس سے پہلے تمہیں (بھی) پیدا کرچکا ہوں اس حالت سے کہ تم (سرے سے) کوئی چیز ہی نہ تھےo

10. (زکریا علیہ السلام نے) عرض کیا: اے میرے رب! میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرما، ارشاد ہوا: تمہاری نشانی یہ ہے کہ تم بالکل تندرست ہوتے ہوئے بھی تین رات (دن) لوگوں سے کلام نہ کرسکوگےo

11. پھر (زکریا علیہ السلام) حجرۂ عبادت سے نکل کر اپنے لوگوں کے پاس آئے تو ان کی طرف اشارہ کیا (اور سمجھایا) کہ تم صبح و شام (اللہ کی) تسبیح کیا کروo

12. اے یحیٰی! (ہماری) کتاب (تورات) کو مضبوطی سے تھامے رکھو، اور ہم نے انہیں بچپن ہی سے حکمت و بصیرت (نبوت) عطا فرما دی تھیo

13. اور اپنے لطفِ خاص سے (انہیں) درد و گداز اور پاکیزگی و طہارت (سے بھی نوازا تھا)، اور وہ بڑے پرہیزگار تھےo

14. اور اپنے ماں باپ کے ساتھ بڑی نیکی (اور خدمت) سے پیش آنے والے (تھے) اور (عام لڑکوں کی طرح) ہرگز سرکش و نافرمان نہ تھےo

15. اور یحیٰی پر سلام ہو ان کے میلاد کے دن اور ان کی وفات کے دن اور جس دن وہ زندہ اٹھائے جائیں گےo

16. اور (اے حبیبِ مکرّم!) آپ کتاب (قرآن مجید) میں مریم (علیہا السلام) کا ذکر کیجئے، جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر (عبادت کے لئے خلوت اختیار کرتے ہوئے) مشرقی مکان میں آگئیںo

17. پس انہوں نے ان (گھر والوں اور لوگوں) کی طرف سے حجاب اختیار کر لیا (تاکہ حسنِ مطلق اپنا حجاب اٹھا دے)، تو ہم نے ان کی طرف اپنی روح (یعنی فرشتہ جبرائیل) کو بھیجا سو (جبرائیل) ان کے سامنے مکمل بشری صورت میں ظاہر ہواo

18. (مریم علیہا السلام نے) کہا: بیشک میں تجھ سے (خدائے) رحمان کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو (اللہ سے) ڈرنے والا ہےo

19. (جبرائیل علیہ السلام نے) کہا: میں تو فقط تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں، (اس لئے آیا ہوں) کہ میں تجھے ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروںo

20. (مریم علیہا السلام نے) کہا: میرے ہاں لڑکا کیسے ہوسکتا ہے جبکہ مجھے کسی انسان نے چھوا تک نہیں اور نہ ہی میں بدکار ہوںo

21. (جبرائیل علیہ السلام نے) کہا: (تعجب نہ کر) ایسے ہی ہوگا، تیرے رب نے فرمایا ہے: یہ (کام) مجھ پر آسان ہے، اور (یہ اس لئے ہوگا) تاکہ ہم اسے لوگوں کے لئے نشانی اور اپنی جانب سے رحمت بنادیں، اور یہ امر (پہلے سے) طے شدہ ہےo

22. پس مریم نے اسے پیٹ میں لے لیا اور (آبادی سے) الگ ہوکر دور ایک مقام پر جا بیٹھیںo

23. پھر دردِ زہ انہیں ایک کھجور کے تنے کی طرف لے آیا، وہ (پریشانی کے عالم میں) کہنے لگیں: اے کاش! میں پہلے سے مرگئی ہوتی اور بالکل بھولی بسری ہوچکی ہوتیo

24. پھر ان کے نیچے کی جانب سے (جبرائیل نے یا خود عیسٰی علیہ السلام نے) انہیں آواز دی کہ تو رنجیدہ نہ ہو، بیشک تمہارے رب نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے (یا تمہارے نیچے ایک عظیم المرتبہ انسان کو پیدا کر کے لٹا دیا ہے)o

25. اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلاؤ وہ تم پر تازہ پکی ہوئی کھجوریں گرا دے گاo

26. سو تم کھاؤ اور پیو اور (اپنے حسین و جمیل فرزند کو دیکھ کر) آنکھیں ٹھنڈی کرو، پھر اگر تم کسی بھی انسان کو دیکھو تو (اشارے سے) کہہ دینا کہ میں نے (خدائے) رحمان کے لئے (خاموشی کے) روزہ کی نذر مانی ہوئی ہے سو میں آج کسی انسان سے قطعاً گفتگو نہیں کروں گیo

27. پھر وہ اس (بچے) کو (گود میں) اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آگئیں۔ وہ کہنے لگے: اے مریم! یقیناً تو بہت ہی عجیب چیز لائی ہےo

28. اے ہارون کی بہن! نہ تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ ہی تیری ماں بدچلن تھیo

29. تو مریم نے اس (بچے) کی طرف اشارہ کیا، وہ کہنے لگے: ہم اس سے کس طرح بات کریں جو (ابھی) گہوارہ میں بچہ ہےo

30. (بچہ خود) بول پڑا: بیشک میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی ہے اور مجھے نبی بنایا ہےo

31. اور میں جہاں کہیں بھی رہوں اس نے مجھے سراپا برکت بنایا ہے اور میں جب تک (بھی) زندہ ہوں اس نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم فرمایا ہےo

32. اور اپنی والدہ کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا (بنایا ہے) اور اس نے مجھے سرکش و بدبخت نہیں بنایاo

33. اور مجھ پر سلام ہو میرے میلاد کے دن، اور میری وفات کے دن، اور جس دن میں زندہ اٹھایا جاؤں گاo

34. یہ مریم (علیہا السلام) کے بیٹے عیسٰی (علیہ السلام) ہیں، (یہی) سچی بات ہے جس میں یہ لوگ شک کرتے ہیںo

35. یہ اللہ کی شان نہیں کہ وہ (کسی کو اپنا) بیٹا بنائے، وہ (اس سے) پاک ہے، جب وہ کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو اسے صرف یہی حکم دیتا ہے: ”ہوجا“ بس وہ ہوجاتا ہےo

36. اور بیشک اللہ میرا (بھی) رب ہے اور تمہارا (بھی) رب ہے سو تم اسی کی عبادت کیا کرو، یہی سیدھا راستہ ہےo

37. پھر ان کے فرقے آپس میں اختلاف کرنے لگے، پس کافروں کے لئے (قیامت کے) بڑے دن کی حاضری سے تباہی ہےo

38. جس دن وہ ہمارے پاس حاضر ہوں گے تو کیسے (کان کھول کر) سنیں گے اور (آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر) دیکھیں گے لیکن ظالم لوگ آج کھلی گمراہی میں (غرق) ہیںo

39. اور آپ انہیں حسرت (و ندامت) کے دن سے ڈرائیے جب (ہر) بات کا فیصلہ کردیا جائے گا، مگر وہ غفلت (کی حالت) میں پڑے ہیں اور ایمان لاتے ہی نہیںo

40. بیشک ہم ہی زمین کے (بھی) وارث ہیں اور ان کے (بھی) جو اس پر (رہتے) ہیں اور (سب) ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گےo

41. اور آپ کتاب (قرآن مجید) میں ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے، بیشک وہ بڑے صاحبِ صدق نبی تھےo

42. جب انہوں نے اپنے باپ (یعنی چچا آزر سے جس نے آپ کے والد تارخ کے انتقال کے بعد آپ کو پالا تھا) سے کہا: اے میرے باپ! تم ان (بتوں) کی پرستش کیوں کرتے ہو جو نہ سن سکتے ہیں اور نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ تم سے کوئی (تکلیف دہ) چیز دور کرسکتے ہیںo

43. اے ابّا! بیشک میرے پاس (بارگاہِ الٰہی سے) وہ علم آچکا ہے جو تمہارے پاس نہیں آیا تم میری پیروی کرو میں تمہیں سیدھی راہ دکھاؤں گاo

44. اے ابّا! شیطان کی پرستش نہ کیا کرو، بیشک شیطان (خدائے) رحمان کا بڑا ہی نافرمان ہےo

45. اے ابّا! بیشک میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تمہیں (خدائے) رحمان کا عذاب پہنچے اور تم شیطان کے ساتھی بن جاؤo

46. (آزر نے) کہا: اے ابراہیم! کیا تم میرے معبودوں سے روگرداں ہو؟ اگر واقعی تم (اس مخالفت سے) باز نہ آئے تو میں تمہیں ضرور سنگ سار کر دوں گا اور ایک طویل عرصہ کے لئے تم مجھ سے الگ ہوجاؤo

47. (ابراہیم علیہ السلام نے) کہا: (اچھا) تمہیں سلام، میں اب (بھی) اپنے رب سے تمہارے لئے بخشش مانگوں گا، بیشک وہ مجھ پر بہت مہربان ہے (شاید تمہیں ہدایت عطا فرما دے)o

48. اور میں تم (سب) سے اور ان (بتوں) سے جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو کنارہ کش ہوتا ہوں اور اپنے رب کی عبادت میں (یک سُو ہو کر) مصروف ہوتا ہوں، امید ہے میں اپنے رب کی عبادت کے باعث محرومِ (کرم) نہ رہوں گاo

49. پھر جب ابراہیم (علیہ السلام) ان لوگوں سے اور ان (بتوں) سے جن کی وہ اﷲ کے سوا پرستش کرتے تھے (میل ملاپ چھوڑ کر) بالکل جدا ہو گئے (تو) ہم نے انہیں اسحاق (علیہ السلام جیسے بیٹے) اور یعقوب (علیہ السلام جیسے پوتے) سے نوازا، اور ہم نے ہر (دو) کو نبی بنایاo

50. اور ہم نے ان (سب) کو اپنی (خاص) رحمت بخشی اور ہم نے ان کے لئے (ہر آسمانی مذہب کے ماننے والوں میں) تعریف و ستائش کی زبان بلند کردیo

51. اور (اس) کتاب میں موسٰی (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے، بیشک وہ (نفس کی گرفت سے خلاصی پاکر) برگزیدہ ہو چکے تھے اور صاحبِ رسالت نبی تھےo

52. اور ہم نے انہیں (کوہِ) طور کی داہنی جانب سے ندا دی اور راز و نیاز کی باتیں کرنے کے لئے ہم نے انہیں قربتِ (خاص) سے نوازاo

53. اور ہم نے اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو نبی بنا کر انہیں بخشا (تاکہ وہ ان کے کام میں معاون ہوں)o

54. اور آپ (اس) کتاب میں اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر کریں، بیشک وہ وعدہ کے سچے تھے اور صاحبِ رسالت نبی تھےo

55. اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے، اور وہ اپنے رب کے حضور مقام مرضیّہ پر (فائز) تھے (یعنی ان کا رب ان سے راضی تھا)o

56. اور (اس) کتاب میں ادریس (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے، بیشک وہ بڑے صاحبِ صدق نبی تھےo

57. اور ہم نے انہیں بلند مقام پر اٹھا لیا تھاo

58. یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے زمرۂ انبیاء میں سے آدم (علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں اور ان (مومنوں) میں سے ہیں جنہیں ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں (طوفان سے بچا کر) اٹھا لیا تھا، اور ابراہیم (علیہ السلام) کی اور اسرائیل (یعنی یعقوب علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں اور ان (منتخب) لوگوں میں سے ہیں جنہیں ہم نے ہدایت بخشی اور برگزیدہ بنایا، جب ان پر (خدائے) رحمان کی آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے وہ سجدہ کرتے ہوئے اور (زار و قطار) روتے ہوئے گر پڑتے ہیںo

59. پھر ان کے بعد وہ ناخلف جانشین ہوئے جنہوں نے نمازیں ضائع کردیں اور خواہشاتِ (نفسانی) کے پیرو ہوگئے تو عنقریب وہ آخرت کے عذاب (دوزخ کی وادئ غی) سے دوچار ہوں گےo

60. سوائے اس شخص کے جس نے توبہ کر لی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کرتا رہا تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گاo

61. ایسے سدا بہار باغات میں (رہیں گے) جن کا (خدائے) رحمان نے اپنے بندوں سے غیب میں وعدہ کیا ہے، بیشک اس کا وعدہ پہنچنے ہی والا ہےo

62. وہ اس میں کوئی بے ہودہ بات نہیں سنیں گے مگر (ہر طرف سے) سلام (سنائی دے گا)، ان کے لئے ان کا رزق اس میں صبح و شام (میسر) ہوگاo

63. یہ وہ جنت ہے جس کا ہم اپنے بندوں میں سے اسے وارث بنائیں گے جو متقی ہوگاo

64. اور (جبرائیل میرے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہو کہ) ہم آپ کے رب کے حکم کے بغیر (زمین پر) نہیں اتر سکتے، جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو کچھ ہمارے پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے (سب) اسی کا ہے، اور آپ کا رب (آپ کو) کبھی بھی بھولنے والا نہیں ہےo

65. (وہ) آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دو کے درمیان ہے (سب) کا رب ہے پس اس کی عبادت کیجئے اور اس کی عبادت میں ثابت قدم رہئے، کیا آپ اس کا کوئی ہم نام جانتے ہیںo

66. اور انسان کہتا ہے: کیا جب میں مرجاؤں گا تو عنقریب زندہ کر کے نکالا جاؤں گاo

67. کیا انسان یہ بات یاد نہیں کرتا کہ ہم نے اس سے پہلے (بھی) اسے پیدا کیا تھا جبکہ وہ کوئی چیز ہی نہ تھاo

68. پس آپ کے رب کی قسم ہم ان کو اور (جملہ) شیطانوں کو (قیامت کے دن) ضرور جمع کریں گے پھر ہم ان (سب) کو جہنم کے گرد ضرور حاضر کر دیں گے اس طرح کہ وہ گھٹنوں کے بل گرے پڑے ہوں گےo

69. پھر ہم ہر گروہ سے ایسے شخص کو ضرور چن کر نکال لیں گے جو ان میں سے (خدائے) رحمان پر سب سے زیادہ نافرمان و سرکش ہوگاo

70. پھر ہم ان لوگوں کو خوب جانتے ہیں جو دوزخ میں جھونکے جانے کے زیادہ سزاوار ہیںo

71. اور تم میں سے کوئی شخص نہیں ہے مگر اس کا اس (دوزخ) پر سے گزر ہونے والا ہے، یہ (وعدہ) قطعی طور پر آپ کے رب کے ذمہ ہے جو ضرور پورا ہوکر رہے گاo

72. پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دے دیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دیں گےo

73. اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو کافر لوگ ایمان والوں سے کہتے ہیں: (اسی دنیا میں دیکھ لو! ہم) دونوں گروہوں میں سے کس کی رہائش گاہ بہتر اور مجلس خوب تر ہےo

74. اور ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر ڈالا جو ساز و سامانِ زندگی اور نمود و نمائش کے لحاظ سے (ان سے بھی) کہیں بہتر تھےo

75. فرما دیجئے: جو شخص گمراہی میں مبتلا ہو تو (خدائے) رحمان (بھی) اسے عمر و عیش میں خوب مہلت دیتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ لوگ اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے خواہ عذاب اور خواہ قیامت، تب وہ اس شخص کو جان لیں گے جو رہائش گاہ کے اعتبار سے (بھی) برا ہے اور لشکر کے اعتبار سے (بھی) کمزور تر ہےo

76. اور اللہ ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت میں مزید اضافہ فرماتا ہے، اور باقی رہنے والے نیک اعمال آپ کے رب کے نزدیک اجر و ثواب میں (بھی) بہتر ہیں اور انجام میں (بھی) خوب تر ہیںo

77. کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور کہنے لگا: مجھے (قیامت کے روز بھی اسی طرح) مال و اولاد ضرور دیئے جائیں گےo

78. وہ غیب پر مطلع ہے یا اس نے (خدائے) رحمان سے (کوئی) عہد لے رکھا ہےo

79. ہرگز نہیں! اب ہم وہ سب کچھ لکھتے رہیں گے جو وہ کہتا ہے اور اس کے لئے عذاب (پر عذاب) خوب بڑھاتے چلے جائیں گےo

80. اور (مرنے کے بعد) جو یہ کہہ رہا ہے اس کے ہم ہی وارث ہوں گے اور وہ ہمارے پاس تنہا آئے گا (اس کے مال و اولاد ساتھ نہ ہوں گے)o

81. اور انہوں نے اللہ کے سوا (کئی اور) معبود بنا لئے ہیں تاکہ وہ ان کے لئے باعثِ عزت ہوںo

82. ہرگز (ایسا) نہیں ہے، عنقریب وہ (معبودانِ باطلہ خود) ان کی پرستش کا انکار کر دیں گے اور ان کے دشمن ہوجائیں گےo

83. کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیطانوں کو کافروں پر بھیجا ہے وہ انہیں ہر وقت (اسلام کی مخالفت پر) اکساتے رہتے ہیںo

84. سو آپ ان پر (عذاب کے لئے) جلدی نہ کریں ہم تو خود ہی ان کے (انجام کے) لئے دن شمار کرتے رہتے ہیںo

85. جس دن ہم پرہیزگاروں کو جمع کر کے (خدائے) رحمان کے حضور (معزز مہمانوں کی طرح) سواریوں پر لے جائیں گےo

86. اور ہم مجرموں کو جہنم کی طرف پیاسا ہانک کر لے جائیں گےo

87. (اس دن) لوگ شفاعت کے مالک نہ ہوں گے سوائے ان کے جنہوں نے (خدائے) رحمان سے وعدۂ (شفاعت) لے لیا ہےo

88. اور (کافر) کہتے ہیں کہ (خدائے) رحمان نے (اپنے لئے) لڑکا بنا لیا ہےo

89. (اے کافرو!) بیشک تم بہت ہی سخت اور عجیب بات (زبان پر) لائے ہوo

90. کچھ بعید نہیں کہ اس (بہتان) سے آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گر جائیںo

91. کہ انہوں نے (خدائے) رحمان کے لئے لڑکے کا دعوٰی کیا ہےo

92. اور (خدائے) رحمان کے شایانِ شان نہیں ہے کہ وہ (کسی کو اپنا) لڑکا بنائےo

93. آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی (آباد) ہیں (خواہ فرشتے ہیں یا جن و انس) وہ اللہ کے حضور محض بندہ کے طور پر حاضر ہونے والے ہیںo

94. بیشک اس (اللہ) نے انہیں اپنے (علم کے) احاطہ میں لے لیا ہے اور انہیں(ایک ایک کرکے) پوری طرح شمار کر رکھا ہےo

95. اور ان میں سے ہر ایک قیامت کے دن اس کے حضور تنہا آنے والا ہےo

96. بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے تو (خدائے) رحمان ان کے لئے (لوگوں کے) دلوں میں محبت پیدا فرما دے گاo

97. سو بیشک ہم نے اس (قرآن) کو آپ کی زبان میں ہی آسان کر دیا ہے تاکہ آپ اس کے ذریعہ پرہیزگاروں کو خوشخبری سنا سکیں اور اس کے ذریعہ جھگڑالو قوم کو ڈر سنا سکیںo

98. اور ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر دیا ہے، کیا آپ ان میں سے کسی کا وجود بھی دیکھتے ہیں یا کسی کی کوئی آہٹ بھی سنتے ہیںo


سُورة طهٰ

1. طا، ہا (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)o

2. (اے محبوبِ مکرّم!) ہم نے آپ پر قرآن (اس لئے) نازل نہیں فرمایا کہ آپ مشقت میں پڑ جائیںo

3. مگر (اسے) اس شخص کے لئے نصیحت (بنا کر اتارا) ہے جو (اپنے رب سے) ڈرتا ہےo

4. (یہ) اس (اللہ) کی طرف سے اتارا ہوا ہے جس نے زمین اور بلند و بالا آسمان پیدا فرمائےo

5. (وہ) نہایت رحمت والا (ہے) جو عرش (یعنی جملہ نظام ہائے کائنات کے اقتدار) پر متمکّن ہوگیاo

6. (پس) جو کچھ آسمانوں (کی بالائی نوری کائناتوں اور خلائی مادی کائناتوں) میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان (فضائی اور ہوائی کرّوں میں) ہے اور جو کچھ سطح ارضی کے نیچے آخری تہہ تک ہے سب اسی کے (نظام اور قدرت کے تابع) ہیںo

7. اور اگر آپ ذکر و دعا میں جہر (یعنی آواز بلند) کریں (تو بھی کوئی حرج نہیں) وہ تو سِرّ (یعنی دلوں کے رازوں) اور اخفی (یعنی سب سے زیادہ مخفی بھیدوں) کو بھی جانتا ہے (تو بلند التجاؤں کو کیوں نہیں سنے گا)o

8. اللہ (اسی کا اسمِ ذات) ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں (گویا تم اسی کا اثبات کرو اور باقی سب جھوٹے معبودوں کی نفی کر دو)، اس کے لئے (اور بھی) بہت خوبصورت نام ہیں (جو اس کی حسین و جمیل صفات کا پتہ دیتے ہیں)o

9. اور کیا آپ کے پاس موسٰی (علیہ السلام) کی خبر آچکی ہےo

10. جب موسٰی (علیہ السلام) نے (مدین سے واپس مصر آتے ہوئے) ایک آگ دیکھی تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا: تم یہاں ٹھہرے رہو میں نے ایک آگ دیکھی ہے (یا میں نے ایک آگ میں انس و محبت کا شعلہ پایا ہے) شاید میں اس میں سے کوئی چنگاری تمہارے لئے (بھی) لے آؤں یا میں اس آگ پر (سے وہ) رہنمائی پا لوں (جس کی تلاش میں سرگرداں ہوں)o

11. پھر جب وہ اس (آگ) کے پاس پہنچے تو ندا کی گئی: اے موسٰیo

12. بیشک میں ہی تمہارا رب ہوں سو تم اپنے جوتے اتار دو، بیشک تم طوٰی کی مقدس وادی میں ہوo

13. اور میں نے تمہیں (اپنی رسالت کے لئے) چن لیا ہے پس تم پوری توجہ سے سنو جو تمہیں وحی کی جا رہی ہےo

14. بیشک میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں سو تم میری عبادت کیا کرو اور میری یاد کی خاطر نماز قائم کیا کروo

15. بیشک قیامت کی گھڑی آنے والی ہے، میں اسے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر جان کو اس (عمل) کا بدلہ دیا جائے جس کے لئے وہ کوشاں ہےo

16. پس تمہیں وہ شخص اس (کے دھیان) سے روکے نہ رکھے جو (خود) اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہشِ (نفس) کا پیرو ہے ورنہ تم (بھی) ہلاک ہوجاؤ گےo

17. اور یہ تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے اے موسیo

18. انہوں نے کہا: یہ میری لاٹھی ہے، میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور میں اس سے اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے لئے کئی اور فائدے بھی ہیںo

19. ارشاد ہوا: اے موسٰی! اسے (زمین پر) ڈال دوo

20. پس انہوں نے اسے (زمین پر) ڈال دیا تو وہ اچانک سانپ ہوگیا (جو ادھر ادھر) دوڑنے لگاo

21. ارشاد فرمایا: اسے پکڑ لو اور مت ڈرو ہم اسے ابھی اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گےo

22. اور (حکم ہوا اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبا لو وہ بغیر کسی بیماری کے سفید چمک دار ہو کر نکلے گا (یہ) دوسری نشانی ہےo

23. یہ اس لئے (کر رہے ہیں) کہ ہم تمہیں اپنی (قدرت کی) بڑی بڑی نشانیاں دکھائیںo

24. تم فرعون کے پاس جاؤ وہ (نافرمانی و سرکشی میں) حد سے بڑھ گیا ہےo

25. (موسٰی علیہ السلام نے) عرض کیا: اے میرے رب! میرے لئے میرا سینہ کشادہ فرما دےo

26. اور میرا کارِ (رسالت) میرے لئے آسان فرما دےo

27. اور میری زبان کی گرہ کھول دےo

28. کہ لوگ میری بات (آسانی سے) سمجھ سکیںo

29. اور میرے گھر والوں میں سے میرا ایک وزیر بنا دےo

30. (وہ) میرا بھائی ہارون (علیہ السلام) ہوo

31. اس سے میری کمرِ ہمت مضبوط فرما دےo

32. اور اسے میرے کارِ (رسالت) میں شریک فرما دےo

33. تاکہ ہم (دونوں) کثرت سے تیری تسبیح کیا کریںo

34. اور ہم کثرت سے تیرا ذکر کیا کریںo

35. بیشک تو ہمیں (سب حالات کے تناظر میں) خوب دیکھنے والا ہےo

36. (اللہ نے) ارشاد فرمایا: اے موسٰی! تمہاری ہر مانگ تمہیں عطا کردیo

37. اور بیشک ہم نے تم پر ایک اور بار (اس سے پہلے بھی) احسان فرمایا o

3تھا8. جب ہم نے تمہاری والدہ کے دل میں وہ بات ڈال دی جو ڈالی گئی تھیo

39. کہ تم اس (موسٰی علیہ السلام) کو صندوق میں رکھ دو پھر اس (صندوق) کو دریا میں ڈال دو پھر دریا اسے کنارے کے ساتھ آلگائے گا، اسے میرا دشمن اور اس کا دشمن اٹھا لے گا، اور میں نے تجھ پر اپنی جناب سے (خاص) محبت کا پرتَو ڈال دیا ہے (یعنی تیری صورت کو اس قدر پیاری اور من موہنی بنا دیا ہے کہ جو تجھے دیکھے گا فریفتہ ہو جائے گا)، اور (یہ اس لئے کیا) تاکہ تمہاری پرورش میری آنکھوں کے سامنے کی جائےo

40. اور جب تمہاری بہن (اجنبی بن کر) چلتے چلتے (فرعون کے گھر والوں سے) کہنے لگی: کیا میں تمہیں کسی (ایسی عورت) کی نشاندہی کر دوں جو اس (بچہ) کی پرورش کر دے، پھر ہم نے تم کو تمہاری والدہ کی طرف (پرورش کے بہانے) واپس لوٹا دیا تاکہ اس کی آنکھ بھی ٹھنڈی ہوتی رہے اور وہ رنجیدہ بھی نہ ہو، اور تم نے (قومِ فرعون کے) ایک (کافر) شخص کو مار ڈالا تھا پھر ہم نے تمہیں (اس) غم سے (بھی) نجات بخشی اور ہم نے تمہیں بہت سی آزمائشوں سے گزار کر خوب جانچا، پھر تم کئی سال اہلِ مدین میں ٹھہرے رہے پھر تم (اللہ کے) مقرر کردہ وقت پر (یہاں) آگئے اے موسٰی! (اس وقت ان کی عمر ٹھیک چالیس برس ہوگئی تھی)o

41. اور (اب) میں نے تمہیں اپنے (امرِ رسالت اور خصوصی انعام کے) لئے چن لیا ہےo

42. تم اور تمہارا بھائی (ہارون) میری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرناo

43. تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ بیشک وہ سرکشی میں حد سے گزر چکا ہےo

44. سو تم دونوں اس سے نرم (انداز میں) گفتگو کرنا شاید وہ نصیحت قبول کر لے یا (میرے غضب سے) ڈرنے لگےo

45. دونوں نے عرض کیا: اے ہمارے رب! بیشک ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے (گا) یا (زیادہ) سرکش ہوجائے (گا)o

46. ارشاد فرمایا: تم دونوں نہ ڈرو بیشک میں تم دونوں کے ساتھ ہوں میں (سب کچھ) سنتا اور دیکھتا ہوںo

47. پس تم دونوں اس کے پاس جاؤ اور کہو: ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے (رسول) ہیں سو تو بنی اسرائیل کو (اپنی غلامی سے آزاد کرکے) ہمارے ساتھ بھیج دے اور انہیں (مزید) اذیت نہ پہنچا، بیشک ہم تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں، اور اس شخص پر سلامتی ہو جس نے ہدایت کی پیروی کیo

48. بیشک ہماری طرف وحی بھیجی گئی ہے کہ عذاب (ہر) اس شخص پر ہوگا جو (رسول کو) جھٹلائے گا اور (اس سے) منہ پھیر لے گاo

49. (فرعون نے) کہا: تو اے موسٰی! تم دونوں کا رب کون ہےo

50. (موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: ہمارا رب وہی ہے جس نے ہر چیز کو (اس کے لائق) وجود بخشا پھر (اس کے حسبِ حال) اس کی رہنمائی کیo

51. (فرعون نے) کہا: تو (ان) پہلی قوموں کا کیا حال ہوا (جو تمہارے رب کو نہیں مانتی تھیں)o

52. (موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: ان کا علم میرے رب کے پاس کتاب میں (محفوظ) ہے، نہ میرا رب بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہےo

53. وہی ہے جس نے زمین کو تمہارے رہنے کی جگہ بنایا اور اس میں تمہارے (سفر کرنے کے) لئے راستے بنائے اور آسمان کی جانب سے پانی اتارا، پھر ہم نے اس (پانی) کے ذریعے (زمین سے) انواع و اقسام کی نباتات کے جوڑے نکال دیئےo

54. تم کھاؤ اور اپنے مویشیوں کو چراؤ، بیشک اس میں دانش مندوں کے لئے نشانیاں ہیںo

55. (زمین کی) اسی (مٹی) سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں ہم تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے ہم تمہیں دوسری مرتبہ (پھر) نکالیں گےo

56. اور بیشک ہم نے اس (فرعون) کو اپنی ساری نشانیاں (جو موسٰی اور ہارون علیھما السلام کو دی گئی تھیں) دکھائیں مگر اس نے جھٹلایا اور (ماننے سے) انکار کر دیاo

57. اس نے کہا: اے موسٰی! کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ تم اپنے جادو کے ذریعہ ہمیں ہمارے ملک سے نکال دوo

58. سو ہم بھی تمہارے پاس اسی کی مانند جادو لائیں گے تم ہمارے اور اپنے درمیان (مقابلہ کے لئے) وعدہ طے کرلو جس کی خلاف ورزی نہ ہم کریں اور نہ ہی تم، (مقابلہ کی جگہ) کھلا اور ہموار میدان ہوo

59. (موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: تمہارے وعدے کا دن یومِ عید (سالانہ جشن کا دن) ہے اور یہ کہ (اس دن) سارے لوگ چاشت کے وقت جمع ہوجائیںo

60. پھر فرعون (مجلس سے) واپس مڑ گیا سو اس نے اپنے مکر و فریب (کی تدبیروں) کو اکٹھا کیا پھر (مقررہ وقت پر) آگیاo

61. موسٰی (علیہ السلام) نے ان (جادوگروں) سے فرمایا: تم پر افسوس (خبردار!) اللہ پر جھوٹا بہتان مت باندھنا ورنہ وہ تمہیں عذاب کے ذریعے تباہ و برباد کردے گا اور واقعی وہ شخص نامراد ہوا جس نے (اللہ پر) بہتان باندھاo

62. چنانچہ وہ (جادوگر) اپنے معاملہ میں باہم جھگڑ پڑے اور چپکے چپکے سرگوشیاں کرنے لگےo

63. کہنے لگے: یہ دونوں واقعی جادوگر ہیں جو یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ تمہیں جادو کے ذریعہ تمہاری سر زمین سے نکال باہر کریں اور تمہارے مثالی مذہب و ثقافت کو نابود کردیںo

64. (انہوں نے باہم فیصلہ کیا) پس تم (جادو کی) اپنی ساری تدابیر جمع کر لو پھر قطار باندھ کر (اکٹھے ہی) میدان میں آجاؤ، اور آج کے دن وہی کامیاب رہے گا جو غالب آجائے گاo

65. (جادوگر) بولے: اے موسٰی! یا تو تم (اپنی چیز) ڈالو اور یا ہم ہی پہلے ڈالنے والے ہوجائیںo

66. (موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: بلکہ تم ہی ڈال دو، پھر کیا تھا اچانک ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ان کے جادو کے اثر سے موسٰی (علیہ السلام) کے خیال میں یوں محسوس ہونے لگیں جیسے وہ (میدان میں) دوڑ رہی ہیںo

67. تو موسٰی (علیہ السلام) اپنے دل میں ایک چھپا ہوا خوف سا پانے لگےo

68. ہم نے (موسٰی علیہ السلام سے) فرمایا: خوف مت کرو بیشک تم ہی غالب رہوگےo

69. اور تم (اس لاٹھی کو) جو تمہارے داہنے ہاتھ میں ہے (زمین پر) ڈال دو وہ اس (فریب) کو نگل جائے گی جو انہوں نے (مصنوعی طور پر) بنا رکھا ہے۔ جو کچھ انہوں نے بنا رکھا ہے (وہ تو) فقط جادوگر کا فریب ہے، اور جادوگر جہاں کہیں بھی آئے گا فلاح نہیں پائے گاo

70. (پھر ایسا ہی ہوا) پس سارے جادوگر سجدہ میں گر پڑے کہنے لگے: ہم ہارون اور موسٰی (علیہما السلام) کے رب پر ایمان لے آئےo

71. (فرعون) کہنے لگا: تم اس پر ایمان لے آئے ہو قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں، بیشک وہ (موسٰی) تمہارا (بھی) بڑا (استاد) ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے، پس (اب) میں ضرور تمہارے ہاتھ اور تمہارے پاؤں الٹی سمتوں سے کاٹوں گا اور تمہیں ضرور کھجور کے تنوں میں سولی چڑھاؤں گا اور تم ضرور جان لوگے کہ ہم میں سے کون عذاب دینے میں زیادہ سخت اور زیادہ مدت تک باقی رہنے والا ہےo

72. (جادوگروں نے) کہا: ہم تمہیں ہرگز ان واضح دلائل پر ترجیح نہیں دیں گے جو ہمارے پاس آچکے ہیں، اس (رب) کی قسم جس نے ہمیں پیدا فرمایا ہے! تو جو حکم کرنے والا ہے کر لے، تُو فقط (اس چند روزہ) دنیوی زندگی ہی سے متعلق فیصلہ کر سکتا ہےo

73. بیشک ہم اپنے رب پر ایمان لائے ہیں تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے اور اسے بھی (معاف فرما دے) جس جادوگری پر تو نے ہمیں مجبور کیا تھا، اور اللہ ہی بہتر ہے اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہےo

74. بیشک جو شخص اپنے رب کے پاس مجرم بن کر آئے گا تو بیشک اس کے لئے جہنم ہے، (اور وہ ایسا عذاب ہے کہ) نہ وہ اس میں مر سکے گا اور نہ ہی زندہ رہے گاo

75. اور جو شخص اس کے حضور مومن بن کر آئے گا (مزید یہ کہ) اس نے نیک عمل کئے ہوں گے تو ان ہی لوگوں کے لئے بلند درجات ہیںo

76. (وہ) سدا بہار باغات ہیں جن کے نیچے سے نہریں رواں ہیں (وہ) ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، اور یہ اس شخص کا صلہ ہے جو (کفر و معصیت کی آلودگی سے) پاک ہو گیاo

77. اور بیشک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے کر نکل جاؤ، سو ان کے لئے دریا میں (اپنا عصا مار کر) خشک راستہ بنا لو، نہ (فرعون کے) آپکڑنے کا خوف کرو اور نہ (غرق ہونے کا) اندیشہ رکھوo

78. پھر فرعون نے اپنے لشکروں کے ساتھ ان کا تعاقب کیا پس دریا (کی موجوں) نے انہیں ڈھانپ لیا جتنا بھی انہیں ڈھانپاo

79. اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کردیا اور انہیں سیدھے راستہ پر نہ لگایاo

80. اے بنی اسرائیل! (دیکھو) بیشک ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات بخشی اور ہم نے تم سے (کوہِ) طور کی داہنی جانب (آنے کا) وعدہ کیا اور (وہاں) ہم نے تم پر من و سلوٰی اتاراo

81. (اور تم سے فرمایا ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جن کی ہم نے تمہیں روزی دی ہے اور اس میں حد سے نہ بڑھو ورنہ تم پر میرا غضب واجب ہو جائے گا، اور جس پر میرا غضب واجب ہوگیا سو وہ واقعی ہلاک ہوگیاo

82. اور بیشک میں بہت زیادہ بخشنے والا ہوں اس شخص کو جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کیا پھر ہدایت پر (قائم) رہاo

83. اور اے موسٰی! تم نے اپنی قوم سے (پہلے طور پر آجانے میں) جلدی کیوں کیo

84. (موسٰی علیہ السلام نے) عرض کیا: وہ لوگ بھی میرے پیچھے آرہے ہیں اور میں نے (غلبۂ شوق و محبت میں) تیرے حضور پہنچنے میں جلدی کی ہے اے میرے رب! تاکہ تو راضی ہو جائےo

85. ارشاد ہوا: بیشک ہم نے تمہارے (آنے کے) بعد تمہاری قوم کو فتنہ میں مبتلا کر دیا ہے اور انہیں سامری نے گمراہ کر ڈالا ہےo

86. پس موسٰی (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف سخت غضبناک (اور) رنجیدہ ہوکر پلٹ گئے (اور) فرمایا: اے میری قوم! کیا تمہارے رب نے تم سے ایک اچھا وعدہ نہیں فرمایا تھا، کیا تم پر وعدہ (کے پورے ہونے) میں طویل مدت گزر گئی تھی، کیا تم نے یہ چاہا کہ تم پر تمہارے رب کی طرف سے غضب واجب (اور نازل) ہوجائے؟ پس تم نے میرے وعدہ کی خلاف ورزی کی ہےo

87. وہ بولے: ہم نے اپنے اختیار سے آپ کے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کی مگر (ہوا یہ کہ) قوم کے زیورات کے بھاری بوجھ ہم پر لاد دیئے گئے تھے تو ہم نے انہیں (آگ میں) ڈال دیا پھر اسی طرح سامری نے (بھی) ڈال دیئےo

88. پھر اس (سامری) نے ان کے لئے (ان گلے ہوئے زیورات سے) ایک بچھڑے کا قالب (تیار کرکے) نکال لیا اس میں (سے) گائے کی سی آواز (نکلتی) تھی تو انہوں نے کہا: یہ تمہارا معبود ہے اور موسٰی (علیہ السلام) کا (بھی یہی) معبود ہے بس وہ (سامری یہاں پر) بھول گیاo

89. بھلا کیا وہ (اتنا بھی) نہیں دیکھتے تھے کہ وہ (بچھڑا) انہیں کسی بات کا جواب (بھی) نہیں دے سکتا اور نہ ان کے لئے کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہے اور نہ نفع کاo

90. اور بیشک ہارون (علیہ السلام) نے (بھی) ان کو اس سے پہلے (تنبیہاً) کہہ دیا تھا کہ اے قوم! تم اس (بچھڑے) کے ذریعہ تو بس فتنہ میں ہی مبتلا ہوگئے ہو، حالانکہ بیشک تمہارا رب (یہ نہیں وہی) رحمان ہے پس تم میری پیروی کرو اور میرے حکم کی اطاعت کروo

91. وہ بولی: ہم تو اسی (کی پوجا) پر جمے رہیں گے تاوقتیکہ موسٰی (علیہ السلام) ہماری طرف پلٹ آئیںo

92. (موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: اے ہارون! تم کو کس چیز نے روکے رکھا جب تم نے دیکھا کہ یہ گمراہ ہو رہے ہیںo

93. (مزید یہ کہ تمہیں کس نے منع کیا کہ انہیں سختی سے روکنے میں) تم میرے طریقے کی پیروی نہ کرو، کیا تم نے میری نافرمانی کیo

94. (ہارون علیہ السلام نے) کہا: اے میری ماں کے بیٹے! آپ نہ میری داڑھی پکڑیں اور نہ میرا سر، میں (سختی کرنے میں) اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ (نہ) کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل کے درمیان فرقہ بندی کردی ہے اور میرے قول کی نگہداشت نہیں کیo

95. (موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: اے سامری! (بتا) تیرا کیا معاملہ ہےo

96. اس نے کہا: میں نے وہ چیز دیکھی جو ان لوگوں نے نہیں دیکھی تھی سو میں نے اُس فرستادہ (فرشتے) کے نقش قدم سے (جو آپ کے پاس آیا تھا) ایک مٹھی (مٹی کی) بھر لی پھر میں نے اسے (بچھڑے کے قالب میں) ڈال دیا اور اسی طرح میرے نفس نے مجھے (یہ بات) بھلی کر دکھائیo

97. (موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: پس تو (یہاں سے نکل کر) چلا جا چنانچہ تیرے لئے (ساری) زندگی میں یہ (سزا) ہے کہ تو (ہر کسی کو یہی) کہتا رہے: (مجھے) نہ چھونا (مجھے نہ چھونا)، اور بیشک تیرے لئے ایک اور وعدۂ (عذاب) بھی ہے جس کی ہرگز خلاف ورزی نہ ہوگی، اور تو اپنے اس (من گھڑت) معبود کی طرف دیکھ جس (کی پوجا) پر تو جم کر بیٹھا رہا، ہم اسے ضرور جلا ڈالیں گے پھر ہم اس (کی راکھ) کو ضرور دریا میں اچھی طرح بکھیر دیں گےo

98. (لوگو!) تمہارا معبود صرف (وہی) اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ہر چیز کو (اپنے) علم کے احاطہ میں لئے ہوئے ہےo

99. اس طرح ہم آپ کو (اے حبیبِ معظّم!) ان (قوموں) کی خبریں سناتے ہیں جو گزر چکی ہیں اور بیشک ہم نے آپ کو اپنی خاص جناب سے ذکر (یعنی نصیحت نامہ) عطا فرمایا ہےo

100. جو شخص اس سے روگردانی کرے گا تو بیشک وہ قیامت کے دن سخت بوجھ اٹھائے گاo

101. وہ اس (عذاب) میں ہمیشہ (پڑے) رہیں گے، اور ان کے لئے قیامت کے دن بہت ہی بُرا بوجھ ہوگاo

102. جس دن صور پھونکا جائے گا اور اس دن ہم مجرموں کو یوں جمع کریں گے کہ ان کے جسم اور آنکھیں (شدتِ خوف اور اندھے پن کے باعث) نیلگوں ہوں گیo

103. آپس میں چپکے چپکے باتیں کرتے ہوں گے کہ تم دنیا میں مشکل سے دس دن ہی ٹھہرے ہوگےo

104. ہم خوب جانتے ہیں وہ جو کچھ کہہ رہے ہوں گے جبکہ ان میں سے ایک عقل و عمل میں بہتر شخص کہے گا کہ تم تو ایک دن کے سوا (دنیا میں) ٹھہرے ہی نہیں ہوo

105. اور آپ سے یہ لوگ پہاڑوں کی نسبت سوال کرتے ہیں، سو فرمادیجئے: میرا رب انہیں ریزہ ریزہ کر کے اڑا دے گاo

106. پھر اسے ہموار اور بے آب و گیاہ زمین بنا دے گاo

107. جس میں آپ نہ کوئی پستی دیکھیں گے نہ کوئی بلندیo

108. اس دن لوگ پکارنے والے کے پیچھے چلتے جائیں گے اس (کے پیچھے چلنے) میں کوئی کجی نہیں ہوگی، اور (خدائے) رحمان کے جلال سے سب آوازیں پست ہوجائیں گی پس تم ہلکی سی آہٹ کے سوا کچھ نہ سنوگےo

109. اس دن سفارش سود مند نہ ہوگی سوائے اس شخص (کی سفارش) کے جسے (خدائے) رحمان نے اذن (و اجازت) دے دی ہے اور جس کی بات سے وہ راضی ہوگیا ہے (جیسا کہ انبیاء و مرسلین، اولیاء، متقین، معصوم بچوں اور دیگر کئی بندوں کا شفاعت کرنا ثابت ہے)o

110. وہ ان (سب چیزوں) کو جانتا ہے جو ان کے آگے ہیں اور جو ان کے پیچھے ہیں اور وہ (اپنے) علم سے اس (کے علم) کا احاطہ نہیں کرسکتےo

111. اور (سب) چہرے اس ہمیشہ زندہ (اور) قائم رہنے والے (رب) کے حضور جھک جائیں گے، اور بیشک وہ شخص نامراد ہوگا جس نے ظلم کا بوجھ اٹھا لیاo

112. اور جو شخص نیک عمل کرتا ہے اور وہ صاحبِ ایمان بھی ہے تو اسے نہ کسی ظلم کا خوف ہوگا اور نہ نقصان کاo

113. اور اسی طرح ہم نے اس (آخری وحی) کو عربی زبان میں (بشکلِ) قرآن اتارا ہے اور ہم نے اس میں (عذاب سے) ڈرانے کی باتیں بار بار (مختلف طریقوں سے) بیان کی ہیں تاکہ وہ پرہیزگار بن جائیں یا (یہ قرآن) ان (کے دلوں) میں یادِ (آخرت یا قبولِ نصیحت کا جذبہ) پیدا کردےo

114. پس اللہ بلند شان والا ہے وہی بادشاہِ حقیقی ہے، اور آپ قرآن (کے پڑھنے) میں جلدی نہ کیا کریں قبل اس کے کہ اس کی وحی آپ پر پوری اتر جائے، اور آپ (رب کے حضور یہ) عرض کیا کریں کہ اے میرے رب! مجھے علم میں اور بڑھا دےo

115. اور درحقیقت ہم نے اس سے (بہت) پہلے آدم (علیہ السلام) کو تاکیدی حکم فرمایا تھا سو وہ بھول گئے اور ہم نے ان میں بالکل (نافرمانی کا کوئی) ارادہ نہیں پایا (یہ محض ایک بھول تھی)o

116. اور (وہ وقت یاد کریں) جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا: تم آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیاo

117. پھر ہم نے فرمایا: اے آدم! بیشک یہ (شیطان) تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے، سو یہ کہیں تم دونوں کو جنت سے نکلوا نہ دے پھر تم مشقت میں پڑ جاؤ گےo

118. بیشک تمہارے لئے اس (جنت) میں یہ (راحت) ہے کہ تمہیں نہ بھوک لگے گی اور نہ برہنہ ہوگےo

119. اور یہ کہ تمہیں نہ یہاں پیاس لگے گی اور نہ دھوپ ستائے گیo

120. پس شیطان نے انہیں (ایک) خیال دلا دیا وہ کہنے لگا: اے آدم! کیا میں تمہیں (قربِ الٰہی کی جنت میں) دائمی زندگی بسر کرنے کا درخت بتا دوں اور (ایسی ملکوتی) بادشاہت (کا راز) بھی جسے نہ زوال آئے گا نہ فنا ہوگیo

121. سو دونوں نے (اس مقامِ قربِ الٰہی کی لازوال زندگی کے شوق میں) اس درخت سے پھل کھا لیا پس ان پر ان کے مقام ہائے سَتَر ظاہر ہو گئے اور دونوں اپنے (بدن) پر جنت (کے درختوں) کے پتے چپکانے لگے اور آدم (علیہ السلام) سے اپنے رب کے حکم (کو سمجھنے) میں فروگذاشت ہوئی٭ سو وہ (جنت میں دائمی زندگی کی) مراد نہ پا سکےo
٭ (کہ ممانعت مخصوص ایک درخت کی تھی یا اس کی پوری نوع کی تھی، کیونکہ آپ علیہ السلام نے پھل اس مخصوص درخت کا نہیں کھایا تھا بلکہ اسی نوع کے دوسرے درخت سے کھایا تھا، یہ سمجھ کر کہ شاید ممانعت اسی ایک درخت کی تھی۔)
122. پھر ان کے رب نے انہیں (اپنی قربت و نبوت کے لئے) چن لیا اور ان پر (عفو و رحمت کی خاص) توجہ فرمائی اور منزلِ مقصود کی راہ دکھا دیo

123. ارشاد ہوا: تم یہاں سے سب کے سب اتر جاؤ، تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہوں گے، پھر جب میری جانب سے تمہارے پاس کوئی ہدایت (وحی) آجائے سو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا تو وہ نہ (دنیا میں) گمراہ ہوگا اور نہ (آخرت میں) بدنصیب ہوگاo

124. اور جس نے میرے ذکر (یعنی میری یاد اور نصیحت) سے روگردانی کی تو اس کے لئے دنیاوی معاش (بھی) تنگ کردیا جائے گا اور ہم اسے قیامت کے دن (بھی) اندھا اٹھائیں گےo

125. وہ کہے گا: اے میرے رب! تو نے مجھے (آج) اندھا کیوں اٹھایا حالانکہ میں (دنیا میں) بینا تھاo

126. ارشاد ہوگا: ایسا ہی (ہوا کہ دنیا میں) تیرے پاس ہماری نشانیاں آئیں پس تو نے انہیں بھلا دیا اور آج اسی طرح تو (بھی) بھلا دیا جائے گاo

127. اور اسی طرح ہم اس شخص کو بدلہ دیتے ہیں جو (گناہوں میں) حد سے نکل جائے اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لائے، اور بیشک آخرت کا عذاب بڑا ہی سخت اور ہمیشہ رہنے والا ہےo

128. کیا انہیں (اس بات نے) ہدایت نہ دی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی امتوں کو ہلاک کر دیا جن کی رہائش گاہوں میں (اب) یہ لوگ چلتے پھرتے ہیں، بیشک اس میں دانش مندوں کے لئے (بہت سی) نشانیاں ہیںo

129. اور اگر آپ کے رب کی جانب سے ایک بات پہلے سے طے نہ ہو چکی ہوتی اور (ان کے عذاب کے لئے قیامت کا) وقت مقرر نہ ہوتا تو (ان پر عذاب کا ابھی اترنا) لازم ہو جاتاo

130. پس آپ ان کی (دل آزار) باتوں پر صبر فرمایا کریں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیا کریں طلوعِ آفتاب سے پہل۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-02-11, 03:23 PM   #20
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,228
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default پارہ نمبر 17

پاره إِقْتَرَبَ

سُورة الْأَنْبِيَآء

1. لوگوں کے لئے ان کے حساب کا وقت قریب آپہنچا مگر وہ غفلت میں (پڑے طاعت سے) منہ پھیرے ہوئے ہیںo

2. ان کے پاس ان کے رب کی جانب سے جب بھی کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو وہ اسے یوں (بے پرواہی سے) سنتے ہیں گویا وہ کھیل کود میں لگے ہوئے ہیںo

3. ان کے دل غافل ہو چکے ہیں، اور (یہ) ظالم لوگ (آپ کے خلاف) آہستہ آہستہ سرگوشیاں کرتے ہیں کہ یہ تو محض تمہارے ہی جیسا ایک بشر ہے، کیا پھر (بھی) تم (اس کے) جادو کے پاس جاتے ہو حالانکہ تم دیکھ رہے ہوo

4. (نبئ معظّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے) فرمایا کہ میرا رب آسمان اور زمین میں کہی جانے والی (ہر) بات کو جانتا ہے اور وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہےo

5. بلکہ (ظالموں نے یہاں تک) کہا کہ یہ (قرآن) پریشان خوابوں (میں دیکھی ہوئی باتیں) ہیں بلکہ اس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے (خود ہی) گھڑ لیا ہے بلکہ (یہ کہ) وہ شاعر ہے، (اگر یہ سچا ہے) تو یہ (بھی) ہمارے پاس کوئی نشانی لے آئے جیسا کہ اگلے (رسول نشانیوں کے ساتھ) بھیجے گئے تھےo

6. ان سے پہلے ہم نے جس بھی بستی کو ہلاک کیا وہ (انہی نشانیوں پر) ایمان نہیں لائی تھی، تو کیا یہ ایمان لے آئیں گےo

7. اور (اے حبیبِ مکرّم!) ہم نے آپ سے پہلے (بھی) مَردوں کو ہی (رسول بنا کر) بھیجا تھا ہم ان کی طرف وحی بھیجا کرتے تھے (لوگو!) تم اہلِ ذکر سے پوچھ لیا کرو اگر تم (خود) نہ جانتے ہوo

8. اور ہم نے ان (انبیاء) کو ایسے جسم والا نہیں بنایا تھا کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ ہی وہ (دنیا میں بہ حیاتِ ظاہری) ہمیشہ رہنے والے تھےo

9. پھر ہم نے انہیں اپنا وعدہ سچا کر دکھایا پھر ہم نے انہیں اور جسے ہم نے چاہا نجات بخشی اور ہم نے حد سے بڑھ جانے والوں کو ہلاک کر ڈالاo

10. بیشک ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل فرمائی ہے جس میں تمہاری نصیحت (کا سامان) ہے، کیا تم عقل نہیں رکھتےo

11. اور ہم نے کتنی ہی بستیوں کو تباہ و برباد کر ڈالا جو ظالم تھیں اور ان کے بعد ہم نے اور قوموں کو پیدا فرما دیاo

12. پھر جب انہوں نے ہمارے عذاب (کی آمد) کو محسوس کیا تو وہ وہاں سے تیزی کے ساتھ بھاگنے لگےo

13. (ان سے کہا گیا تم جلدی مت بھاگو اور اسی جگہ واپس لوٹ جاؤ جس میں تمہیں آسائشیں دی گئی تھیں اور اپنی (پرتعیش) رہائش گاہوں کی طرف (پلٹ جاؤ) شاید تم سے باز پرس کی جائےo

14. وہ کہنے لگے: ہائے شومئ قسمت! بیشک ہم ظالم تھےo

15. سو ہمیشہ ان کی یہی فریاد رہی یہاں تک کہ ہم نے ان کو کٹی ہوئی کھیتی (اور) بجھی ہوئی آگ (کے ڈھیر) کی طرح بنا دیاo

16. اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل تماشے کے طور پر (بے کار) نہیں بنایاo

17. اگر ہم کوئی کھیل تماشا اختیار کرنا چاہتے تو اسے اپنی ہی طرف سے اختیار کر لیتے اگر ہم (ایسا) کرنے والے ہوتےo

18. بلکہ ہم حق سے باطل پر پوری قوت کے ساتھ چوٹ لگاتے ہیں سو حق اسے کچل دیتا ہے پس وہ (باطل) ہلاک ہو جاتا ہے، اور تمہارے لئے ان باتوں کے باعث تباہی ہے جو تم بیان کرتے ہوo

19. اور جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے اسی کا (بندہ و مملوک) ہے، اور جو (فرشتے) اس کی قربت میں (رہتے) ہیں وہ نہ تو اس کی عبادت سے تکبّر کرتے ہیں اور نہ وہ (اس کی طاعت بجا لاتے ہوئے) تھکتے ہیںo

20. وہ رات دن (اس کی) تسبیح کرتے رہتے ہیں اور معمولی سا وقفہ بھی نہیں کرتےo

21. کیا ان (کافروں) نے زمین (کی چیزوں) میں سے ایسے معبود بنا لئے ہیں جو (مُردوں کو) زندہ کر کے اٹھا سکتے ہیںo

22. اگر ان دونوں (زمین و آسمان) میں اﷲ کے سوا اور (بھی) معبود ہوتے تو یہ دونوں تباہ ہو جاتے، پس اﷲ جو عرش کا مالک ہے ان (باتوں) سے پاک ہے جو یہ (مشرک) بیان کرتے ہیںo

23. اس سے اس کی بازپرس نہیں کی جا سکتی وہ جو کچھ بھی کرتا ہے، اور ان سے (ہر کام کی) بازپرس کی جائے گیo

24. کیا ان (کافروں) نے اسے چھوڑ کر اور معبود بنا لئے ہیں؟ فرما دیجئے: اپنی دلیل لاؤ، یہ (قرآن) ان لوگوں کا ذکر ہے جو میرے ساتھ ہیں اور ان کا (بھی) ذکر ہے جو مجھ سے پہلے تھے بلکہ ان میں سے اکثر لوگ حق کو نہیں جانتے اِس لئے وہ اِس سے رُوگردانی کئے ہوئے ہیںo

25. اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر ہم اس کی طرف یہی وحی کرتے رہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں پس تم میری (ہی) عبادت کیا کروo

26. یہ لوگ کہتے ہیں کہ (خدائے) رحمان نے (فرشتوں کو اپنی) اولاد بنا رکھا ہے وہ پاک ہے، بلکہ (جن فرشتوں کو یہ اُس کی اولاد سمجھتے ہیں) وہ (اﷲ کے) معزز بندے ہیںo

27. وہ کسی بات (کے کرنے) میں اس سے سبقت نہیں کرتے اور وہ اسی کے امر کی تعمیل کرتے رہتے ہیںo

28. وہ (اﷲ) ان چیزوں کو جانتا ہے جو ان کے سامنے ہیں اور جو ان کے پیچھے ہیں اور وہ (اس کے حضور) سفارش بھی نہیں کرتے مگر اس کے لئے (کرتے ہیں) جس سے وہ خوش ہوگیا ہو اور وہ اس کی ہیبت و جلال سے خائف رہتے ہیںo

29. اور ان میں سے کون ہے جو کہہ دے کہ میں اس (اﷲ) کے سوا معبود ہوں سو ہم اسی کو دوزخ کی سزا دیں گے، اسی طرح ہم ظالموں کو سزا دیا کرتے ہیںo

30. اور کیا کافر لوگوں نے نہیں دیکھا کہ جملہ آسمانی کائنات اور زمین (سب) ایک اکائی کی شکل میں جڑے ہوئے تھے پس ہم نے ان کو پھاڑ کر جدا کر دیا، اور ہم نے (زمین پر) پیکرِ حیات (کی زندگی) کی نمود پانی سے کی، تو کیا وہ (قرآن کے بیان کردہ اِن حقائق سے آگاہ ہو کر بھی) ایمان نہیں لاتےo

31. اور ہم نے زمین میں مضبوط پہاڑ بنا دیئے تاکہ ایسا نہ ہو کہ کہیں وہ (اپنے مدار میں حرکت کرتے ہوئے) انہیں لے کر کانپنے لگے اور ہم نے اس (زمین) میں کشادہ راستے بنائے تاکہ لوگ (مختلف منزلوں تک پہنچنے کے لئے) راہ پاسکیںo

32. اور ہم نے سماء (یعنی زمین کے بالائی کرّوں) کو محفوظ چھت بنایا (تاکہ اہلِ زمین کو خلا سے آنے والی مہلک قوتوں اور جارحانہ لہروں کے مضر اثرات سے بچائیں) اور وہ اِن (سماوی طبقات کی) نشانیوں سے رُوگرداں ہیںo

33. اور وہی (اﷲ) ہے جس نے رات اور دن کو پیدا کیا اور سورج اور چاند کو (بھی)، تمام (آسمانی کرّے) اپنے اپنے مدار کے اندر تیزی سے تیرتے چلے جاتے ہیںo

34. اور ہم نے آپ سے پہلے کسی اِنسان کو (دنیا کی ظاہری زندگی میں) بقائے دوام نہیں بخشی، تو کیا اگر آپ (یہاں سے) اِنتقال فرما جائیں تو یہ لوگ ہمیشہ رہنے والے ہیںo

35. ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور ہم تمہیں برائی اور بھلائی میں آزمائش کے لئے مبتلا کرتے ہیں، اور تم ہماری ہی طرف پلٹائے جاؤ گےo

36. اور جب کافر لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ سے محض تمسخر ہی کرنے لگتے ہیں (اور کہتے ہیں کیا یہی ہے وہ شخص جو تمہارے معبودوں کا (ردّ و انکار کے ساتھ) ذکر کرتا ہے؟ اور وہ خود (خدائے) رحمان کے ذکر سے انکاری ہیںo

37. انسان (فطرتًا) جلد بازی میں سے پیدا کیا گیا ہے، میں تمہیں جلد ہی اپنی نشانیاں دکھاؤں گا پس تم جلدی کا مطالبہ نہ کروo

38. اور وہ کہتے ہیں: یہ وعدۂ (عذاب) کب (پورا) ہوگا اگر تم سچے ہوo

39. اگر کافر لوگ وہ وقت جان لیتے جبکہ وہ (دوزخ کی) آگ کو نہ اپنے چہروں سے روک سکیں گے اور نہ اپنی پشتوں سے اور نہ ہی ان کی مدد کی جائے گی (تو پھر عذاب طلب کرنے میں جلدی کا شور نہ کرتے)o

40. بلکہ (قیامت) انہیں اچانک آپہنچے گی تو انہیں بدحواس کر دے گی سو وہ نہ تو اسے لوٹا دینے کی طاقت رکھتے ہوں گے اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گیo

41. اور بیشک آپ سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ مذاق کیا گیا سو ان لوگوں میں سے انہیں جو تمسخر کرتے تھے اسی (عذاب) نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھےo

42. فرما دیجئے: شب و روز (خدائے) رحمان (کے عذاب) سے تمہاری حفاظت و نگہبانی کون کر سکتا ہے، بلکہ وہ اپنے (اسی) رب کے ذکر سے گریزاں ہےo

43. کیا ہمارے سوا ان کے کچھ اور معبود ہیں جو انہیں (عذاب سے) بچا سکیں، وہ تو خود اپنی ہی مدد پر قدرت نہیں رکھتے اور نہ ہماری طرف سے انہیں کوئی تائید و رفاقت میسّر ہوگیo

44. بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے آباء و اجداد کو (فراخئ عیش سے) بہرہ مند فرمایا تھا یہاں تک کہ ان کی عمریں بھی دراز ہوتی گئیں، تو کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم (اب اسلامی فتوحات کے ذریعہ ان کے زیرِ تسلّط) علاقوں کو تمام اَطراف سے گھٹاتے چلے جا رہے ہیں، تو کیا وہ (اب) غلبہ پانے والے ہیںo

45. فرما دیجئے: میں تو تمہیں صرف وحی کے ذریعہ ہی ڈراتا ہوں، اور بہرے پکار کو نہیں سنا کرتے جب بھی انہیں ڈرایا جائےo

46. اگر واقعتاً انہیں آپ کے رب کی طرف سے تھوڑا سا عذاب (بھی) چھو جائے تو وہ ضرور کہنے لگیں گے: ہائے ہماری بدقسمتی! بیشک ہم ہی ظالم تھےo

47. اور ہم قیامت کے دن عدل و انصاف کے ترازو رکھ دیں گے سو کسی جان پر کوئی ظلم نہ کیا جائے گا، اور اگر (کسی کا عمل) رائی کے دانہ کے برابر بھی ہوگا (تو) ہم اسے (بھی) حاضر کر دیں گے، اور ہم حساب کرنے کو کافی ہیںo

48. اور بیشک ہم نے موسٰی اور ہارون (علیہما السلام) کو (حق و باطل میں) فرق کرنے والی اور (سراپا) روشنی اور پرہیز گاروں کے لئے نصیحت (پر مبنی کتاب تورات) عطا فرمائیo

49. جو لوگ اپنے رب سے نادیدہ ڈرتے ہیں اور جو قیامت (کی ہولناکیوں) سے خائف رہتے ہیںo

50. یہ (قرآن) برکت والا ذکر ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے، کیا تم اِس سے انکار کرنے والے ہوo

51. اور بیشک ہم نے پہلے سے ہی ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے (مرتبہ کے مطابق) فہم و ہدایت دے رکھی تھی اور ہم ان (کی استعداد و اہلیت) کو خوب جاننے والے تھےo

52. جب انہوں نے اپنے باپ (چچا) اور اپنی قوم سے فرمایا: یہ کیسی مورتیاں ہیں جن (کی پرستش) پر تم جمے بیٹھے ہوo

53. وہ بولے: ہم نے اپنے باپ دادا کو انہی کی پرستش کرتے پایا تھاo

54. (ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا: بیشک تم اور تمہارے باپ دادا (سب) صریح گمراہی میں تھےo

55. وہ بولے: کیا (صرف) تم ہی حق لائے ہو یا تم (محض) تماشا گروں میں سے o

5ہو6. (ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا: بلکہ تمہارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان (سب) کو پیدا فرمایا اور میں اس (بات) پر گواہی دینے والوں میں سے ہوںo

57. اور اﷲ کی قسم! میں تمہارے بتوں کے ساتھ ضرور ایک تدبیر عمل میں لاؤں گا اس کے بعد کہ جب تم پیٹھ پھیر کر پلٹ جاؤ گےo

58. پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے ان (بتوں) کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا سوائے بڑے (بُت) کے تاکہ وہ لوگ اس کی طرف رجوع کریںo

59. وہ کہنے لگے: ہمارے معبودوں کا یہ حال کس نے کیا ہے؟ بیشک وہ ضرور ظالموں میں سے ہےo

60. (کچھ) لوگ بولے: ہم نے ایک نوجوان کا سنا ہے جو ان کا ذکر (انکار و تنقید سے) کرتا ہے اسے ابراہیم کہا جاتا ہےo

61. وہ بولے: اسے لوگوں کے سامنے لے آؤ تاکہ وہ (اسے) دیکھ لیںo

62. (جب ابراہیم علیہ السلام آئے تو) وہ کہنے لگے: کیا تم نے ہی ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حال کیا ہے اے ابراہیمo

63. آپ نے فرمایا: بلکہ یہ (کام) ان کے اس بڑے (بت) نے کیا ہوگا تو ان (بتوں) سے ہی پوچھو اگر وہ بول سکتے ہیںo

64. پھر وہ اپنی ہی (سوچوں کی) طرف پلٹ گئے تو کہنے لگے: بیشک تم خود ہی (ان مجبور و بے بس بتوں کی پوجا کر کے) ظالم (ہوگئے) ہوo

65. پھر وہ اپنے سروں کے بل اوندھے کر دیئے گئے (یعنی ان کی عقلیں اوندھی ہوگئیں اور کہنے لگے بیشک (اے ابراہیم!) تم خود ہی جانتے ہو کہ یہ تو بولتے نہیں ہیںo

66. (ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا: پھر کیا تم اﷲ کو چھوڑ کر ان (مورتیوں) کو پوجتے ہو جو نہ تمہیں کچھ نفع دے سکتی ہیں اور نہ تمہیں نقصان پہنچا سکتی ہیںo

67. تف ہے تم پر (بھی) اور ان (بتوں) پر (بھی) جنہیں تم اﷲ کے سوا پوجتے ہو، تو کیا تم عقل نہیں رکھتےo

68. وہ بولے: اس کو جلا دو اور اپنے (تباہ حال) معبودوں کی مدد کرو اگر تم (کچھ) کرنے والے ہوo

69. ہم نے فرمایا: اے آگ! تو ابراہیم پر ٹھنڈی اور سراپا سلامتی ہو جاo

70. اور انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ بری چال کا ارادہ کیا تھا مگر ہم نے انہیں بری طرح ناکام کر دیاo

71. اور ہم ابراہیم (علیہ السلام) کو اور لوط (علیہ السلام) کو (جو آپ کے بھتیجے یعنی آپ کے بھائی ہاران کے بیٹے تھے) بچا کر (عراق سے) اس سرزمینِ (شام) کی طرف لے گئے جس میں ہم نے جہان والوں کے لئے برکتیں رکھی ہیںo

72. اور ہم نے انہیں (فرزند) اسحاق (علیہ السلام) بخشا اور (پوتا) یعقوب (علیہ السلام ان کی دعا سے) اضافی بخشا، اور ہم نے ان سب کو صالح بنایا تھاo

73. اور ہم نے انہیں (انسانیت کا) پیشوا بنایا وہ (لوگوں کو) ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اور ہم نے ان کی طرف اَعمالِ خیر اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے (کے احکام) کی وحی بھیجی، اور وہ سب ہمارے عبادت گزار تھےo

74. اور لوط (علیہ السلام) کو (بھی) ہم نے حکمت اور علم سے نوازا تھا اور ہم نے انہیں اس بستی سے نجات دی جہاں کے لوگ گندے کام کیا کرتے تھے۔ بیشک وہ بہت ہی بری (اور) بد کردار قوم تھیo

75. اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو اپنے حریمِ رحمت میں داخل فرما لیا۔ بیشک وہ صالحین میں سے تھےo

76. اور نوح (علیہ السلام کو بھی یاد کریں) جب انہوں نے ان (انبیاء علیہم السلام) سے پہلے (ہمیں) پکارا تھا سو ہم نے ان کی دعا قبول فرمائی پس ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بڑے شدید غم و اندوہ سے نجات بخشیo

77. اور ہم نے اس قوم (کے اذیت ناک ماحول) میں ان کی مدد فرمائی جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے۔ بیشک وہ (بھی) بہت بری قوم تھی سو ہم نے ان سب کو غرق کر دیاo

78. اور داؤد اور سلیمان (علیہما السلام کا قصہ بھی یاد کریں) جب وہ دونوں کھیتی (کے ایک مقدمہ) میں فیصلہ کرنے لگے جب ایک قوم کی بکریاں اس میں رات کے وقت بغیر چرواہے کے گھس گئی تھیں (اور اس کھیتی کو تباہ کر دیا تھا)، اور ہم ان کے فیصلہ کا مشاہدہ فرما رہے تھےo

79. چنانچہ ہم ہی نے سلیمان (علیہ السلام) کو وہ (فیصلہ کرنے کا طریقہ) سکھایا تھا اور ہم نے ان سب کو حکمت اور علم سے نوازا تھا اور ہم نے پہاڑوں اور پرندوں (تک) کو داؤد (علیہ السلام) کے (حکم کے) ساتھ پابند کر دیا تھا وہ (سب ان کے ساتھ مل کر) تسبیح پڑھتے تھے، اور ہم ہی (یہ سب کچھ) کرنے والے تھےo

80. اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو تمہارے لئے زِرہ بنانے کا فن سکھایا تھا تاکہ وہ تمہاری لڑائی میں تمہیں ضرر سے بچائے، تو کیا تم شکر گزار ہوo

81. اور (ہم نے) سلیمان (علیہ السلام) کے لئے تیز ہوا کو (مسخّر کردیا) جو ان کے حکم سے (جملہ اَطراف و اَکناف سے) اس سرزمینِ (شام) کی طرف چلا کرتی تھی جس میں ہم نے برکتیں رکھی ہیں، اور ہم ہر چیز کو (خوب) جاننے والے ہیںo

82. اور کچھ شیطان (دیووں اور جنّوں) کو بھی (سلیمان علیہ السلام کے تابع کر دیا تھا) جو ان کے لئے (دریا میں) غوطے لگاتے تھے اور اس کے سوا (ان کے حکم پر) دیگر خدمات بھی انجام دیتے تھے، اور ہم ہی ان (دیووں) کے نگہبان تھےo

83. اور ایوب (علیہ السلام کا قصّہ یاد کریں) جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے تکلیف چھو رہی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر مہربان ہےo

84. تو ہم نے ان کی دعا قبول فرما لی اور انہیں جو تکلیف (پہنچ رہی) تھی سو ہم نے اسے دور کر دیا اور ہم نے انہیں ان کے اہل و عیال (بھی) عطا فرمائے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور (عطا فرما دیئے)، یہ ہماری طرف سے خاص رحمت اور عبادت گزاروں کے لئے نصیحت ہے (کہ اﷲ صبر و شکر کا اجر کیسے دیتا ہے)o

85. اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل (علیہم السلام کو بھی یاد فرمائیں)، یہ سب صابر لوگ تھےo

86. اور ہم نے انہیں اپنے (دامنِ) رحمت میں داخل فرمایا۔ بیشک وہ نیکو کاروں میں سے تھےo

87. اور ذوالنون (مچھلی کے پیٹ والے نبی علیہ السلام کو بھی یاد فرمائیے) جب وہ (اپنی قوم پر) غضبناک ہو کر چل دیئے پس انہوں نے یہ خیال کر لیا کہ ہم ان پر (اس سفر میں) کوئی تنگی نہیں کریں گے پھر انہوں نے (دریا، رات اور مچھلی کے پیٹ کی تہہ در تہہ) تاریکیوں میں (پھنس کر) پکارا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تیری ذات پاک ہے، بیشک میں ہی (اپنی جان پر) زیادتی کرنے والوں میں سے تھاo

88. پس ہم نے ان کی دعا قبول فرما لی اور ہم نے انہیں غم سے نجات بخشی، اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیا کرتے ہیںo

89. اور زکریا (علیہ السلام کو بھی یاد کریں) جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا: اے میرے رب! مجھے اکیلا مت چھوڑ اور تو سب وارثوں سے بہتر ہےo

90. تو ہم نے ان کی دعا قبول فرما لی اور ہم نے انہیں یحیٰی (علیہ السلام) عطا فرمایا اور ان کی خاطر ان کی زوجہ کو (بھی) درست (قابلِ اولاد) بنا دیا۔ بیشک یہ (سب) نیکی کے کاموں (کی انجام دہی) میں جلدی کرتے تھے اور ہمیں شوق و رغبت اور خوف و خشیّت (کی کیفیتوں) کے ساتھ پکارا کرتے تھے، اور ہمارے حضور بڑے عجز و نیاز کے ساتھ گڑگڑاتے تھےo

91. اس (پاکیزہ) خاتون (مریم علیہا السلام) کو (بھی یاد کریں) جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی پھر ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور ہم نے اسے اور اس کے بیٹے (عیسٰی علیہ السلام) کو جہان والوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنا دیاo

92. بیشک یہ تمہاری ملت ہے (سب) ایک ہی ملت ہے اور میں تمہارا رب ہوں پس تم میری (ہی) عبادت کیا کروo

93. اور ان (اہلِ کتاب) نے آپس میں اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، یہ سب ہماری ہی جانب لوٹ کر آنے والے ہیںo

94. پس جو کوئی نیک عمل کرے اور وہ مومن بھی ہو تو اس کی کوشش (کی جزا) کا انکار نہ ہوگا، اور بیشک ہم اس کے (سب) اعمال کو لکھ رہے ہیںo

95. اور جس بستی کو ہم نے ہلاک کر ڈالا ناممکن ہے کہ اس کے لوگ (مرنے کے بعد) ہماری طرف پلٹ کر نہ آئیںo

96. یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے اتر آئیں گےo

97. اور (قیامت کا) سچا وعدہ قریب ہو جائے گا تو اچانک کافر لوگوں کی آنکھیں کھلی رہ جائیں گی (وہ پکار اٹھیں گے ہائے ہماری شومئ قسمت! کہ ہم اس (دن کی آمد) سے غفلت میں پڑے رہے بلکہ ہم ظالم تھےo

98. بیشک تم اور وہ (بت) جن کی تم اﷲ کے سوا پرستش کرتے تھے (سب) دوزخ کا ایندھن ہیں، تم اس میں داخل ہونے والے ہوo

99. اگر یہ (واقعۃً) معبود ہوتے تو جہنم میں داخل نہ ہوتے، اور وہ سب اس میں ہمیشہ رہیں گےo

100. وہاں ان کی (آہوں کا شور اور) چیخ و پکار ہوگی اور اس میں کچھ (اور) نہ سن سکیں گےo

101. بیشک جن لوگوں کے لئے پہلے سے ہی ہماری طرف سے بھلائی مقرر ہو چکی ہے وہ اس (جہنم) سے دور رکھے جائیں گےo

102. وہ اس کی آہٹ بھی نہ سنیں گے اور وہ ان (نعمتوں) میں ہمیشہ رہیں گے جن کی ان کے دل خواہش کریں گےo

103. (روزِ قیامت کی) سب سے بڑی ہولناکی (بھی) انہیں رنجیدہ نہیں کرے گی اور فرشتے ان کا استقبال کریں گے (اور کہیں گے یہ تمہارا (ہی) دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہاo

104. اس دن ہم (ساری) سماوی کائنات کو اس طرح لپیٹ دیں گے جیسے لکھے ہوئے کاغذات کو لپیٹ دیا جاتا ہے، جس طرح ہم نے (کائنات کو) پہلی بار پیدا کیا تھا ہم (اس کے ختم ہو جانے کے بعد) اسی عملِ تخلیق کو دہرائیں گے۔ یہ وعدہ پورا کرنا ہم نے لازم کر لیا ہے۔ ہم (یہ اعادہ) ضرور کرنے والے ہیںo

105. اور بلا شبہ ہم نے زبور میں نصیحت کے (بیان کے) بعد یہ لکھ دیا تھا کہ (عالمِ آخرت کی) زمین کے وارث صرف میرے نیکو کار بندے ہوں گےo

106. بیشک اس (قرآن) میں عبادت گزاروں کے لئے (حصولِ مقصد کی) کفایت و ضمانت ہےo

107. اور (اے رسولِ محتشم!) ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کرo

108. فرما دیجئے کہ میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود فقط ایک (ہی) معبود ہے، تو کیا تم اسلام قبول کرتے ہوo

109. پھر اگر وہ رُوگردانی کریں تو فرما دیجئے: میں نے تم سب کو یکساں طور پر باخبر کر دیا ہے، اور میں نہیں جانتا کہ وہ (عذاب) نزدیک ہے یا دور جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہےo

110. بیشک وہ بلند آواز کی بات بھی جانتا ہے اور وہ (کچھ) بھی جانتا ہے جو تم چھپاتے ہوo

111. اور میں یہ نہیں جانتا شاید یہ (تاخیرِ عذاب اور تمہیں دی گئی ڈھیل) تمہارے حق میں آزمائش ہو اور (تمہیں) ایک مقرر وقت تک فائدہ پہنچانا مقصود ہوo

112. (ہمارے حبیب نے) عرض کیا: اے میرے رب! (ہمارے درمیان) حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے، اور ہمارا رب بے حد رحم فرمانے والا ہے، اسی سے مدد طلب کی جاتی ہے ان (دل آزار) باتوں پر جو (اے کافرو!) تم بیان کرتے ہوo


سُورة الْحَجّ

1. اے لوگو! اپنے رب سے ڈرتے رہو۔ بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہےo

2. جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی (ماں) اس (بچی) کو بھول جائے گی جسے وہ دودھ پلا رہی تھی اور ہر حمل والی عورت اپنا حمل گرا دے گی اور (اے دیکھنے والے!) تو لوگوں کو نشہ (کی حالت) میں دیکھے گا حالانکہ وہ (فی الحقیقت) نشہ میں نہیں ہوں گے لیکن اﷲ کا عذاب (ہی اتنا) سخت ہوگا (کہ ہر شخص حواس باختہ ہو جائے گا)o

3. اور کچھ لوگ (ایسے) ہیں جو اﷲ کے بارے میں بغیر علم و دانش کے جھگڑا کرتے ہیں اور ہر سرکش شیطان کی پیروی کرتے ہیںo

4. جس (شیطان) کے بارے میں لکھ دیا گیا ہے کہ جو شخص اسے دوست رکھے گا سو وہ اسے گمراہ کر دے گا اور اسے دوزخ کے عذاب کا راستہ دکھائے گاo

5. اے لوگو! اگر تمہیں (مرنے کے بعد) جی اٹھنے میں شک ہے تو (اپنی تخلیق و ارتقاء پر غور کرو) کہ ہم نے تمہاری تخلیق (کی کیمیائی ابتداء) مٹی سے کی پھر (حیاتیاتی ابتداء) ایک تولیدی قطرہ سے پھر (رِحمِ مادر کے اندر جونک کی صورت میں) معلق وجود سے پھر ایک (ایسے) لوتھڑے سے جو دانتوں سے چبایا ہوا لگتا ہے، جس میں بعض اعضاء کی ابتدائی تخلیق نمایاں ہو چکی ہے اور بعض (اعضاء) کی تخلیق ابھی عمل میں نہیں آئی تاکہ ہم تمہارے لئے (اپنی قدرت اور اپنے کلام کی حقانیت) ظاہر کر دیں، اور ہم جسے چاہتے ہیں رحموں میں مقررہ مدت تک ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر ہم تمہیں بچہ بنا کر نکالتے ہیں، پھر (تمہاری پرورش کرتے ہیں) تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچ جاؤ، اور تم میں سے وہ بھی ہیں جو (جلد) وفات پا جاتے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو نہایت ناکارہ عمر تک لوٹائے جاتے ہیں تاکہ وہ (شخص یہ منظر بھی دیکھ لے کہ) سب کچھ جان لینے کے بعد (اب پھر) کچھ (بھی) نہیں جانتا، اور تو زمین کو بالکل خشک (مُردہ) دیکھتا ہے پھر جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو اس میں تازگی و شادابی کی جنبش آجاتی ہے اور وہ پھولنے بڑھنے لگتی ہے اور خوش نما نباتات میں سے ہر نوع کے جوڑے اگاتی ہےo

6. یہ (سب کچھ) اس لئے (ہوتا رہتا) ہے کہ اﷲ ہی سچا (خالق اور رب) ہے اور بیشک وہی مُردوں (بے جان) کو زندہ (جان دار) کرتا ہے, اور یقینًا وہی ہر چیز پر بڑا قادر ہےo

7. اور بیشک قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں اور یقیناً اﷲ ان لوگوں کو زندہ کر کے اٹھا دے گا جو قبروں میں ہوں گےo

8. اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اﷲ (کی ذات و صفات اور قدرتوں) کے بارے میں جھگڑا کرتے رہتے ہیں بغیر علم و دانش کے اور بغیر کسی ہدایت و دلیل کے اور بغیر کسی روشن کتاب کے (جو آسمان سے اتری ہو)o

9. اپنی گردن کو (تکبّر سے) مروڑے ہوئے تاکہ (دوسروں کو بھی) اﷲ کی راہ سے بہکا دے، اس کے لئے دنیا میں (بھی) رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم اسے جلا دینے والے عذاب کا مزہ چکھائیں گےo

10. یہ تیرے ان اعمال کے باعث ہے جو تیرے ہاتھ آگے بھیج چکے تھے اور بیشک اﷲ اپنے بندوں پر بالکل ظلم کرنے والا نہیں ہےo

11. اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو (بالکل دین کے) کنارے پر (رہ کر) اﷲ کی عبادت کرتا ہے، پس اگر اسے کوئی (دنیاوی) بھلائی پہنچتی ہے تو وہ اس (دین) سے مطمئن ہو جاتا ہے اور اگر اسے کوئی آزمائش پہنچتی ہے تو اپنے منہ کے بل (دین سے) پلٹ جاتا ہے، اس نے دنیا میں (بھی) نقصان اٹھایا اور آخرت میں (بھی)، یہی تو واضح (طور پر) بڑا خسارہ ہےo

12. وہ (شخص) اﷲ کو چھوڑ کر اس (بت) کی عبادت کرتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچا سکے اور نہ ہی اسے نفع پہنچا سکے، یہی تو (بہت) دور کی گمراہی o

1ہے3. وہ اسے پوجتا ہے جس کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ قریب ہے، وہ کیا ہی برا مددگار ہے اور کیا ہی برا ساتھی ہےo

14. بیشک اﷲ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے نہریں رواں ہیں، یقیناً اﷲ جو ارادہ فرماتا ہے کر دیتا ہےo

15. جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ اﷲ اپنے (محبوب و برگزیدہ) رسول کی دنیا و آخرت میں ہرگز مدد نہیں کرے گا اسے چاہئے کہ (گھر کی) چھت سے ایک رسی باندھ کر لٹک جائے پھر (خود کو) پھانسی دے لے پھر دیکھے کیا اس کی یہ تدبیر اس (نصرتِ الٰہی) کو دور کر دیتی ہے جس پر غصہ کھا رہا ہےo

16. اور اسی طرح ہم نے اس (پورے قرآن) کو روشن دلائل کی صورت میں نازل فرمایا ہے اور بیشک اﷲ جسے ارادہ فرماتا ہے ہدایت سے نوازتا ہےo

17. بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور ستارہ پرست اور نصارٰی (عیسائی) اور آتش پرست اور جو مشرک ہوئے، یقیناً اﷲ قیامت کے دن ان (سب) کے درمیان فیصلہ فرما دے گا۔ بیشک اﷲ ہر چیز کا مشاہدہ فرما رہا ہےo

18. کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اﷲ ہی کے لئے (وہ ساری مخلوق) سجدہ ریز ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور سورج (بھی) اور چاند (بھی) اور ستارے (بھی) اور پہاڑ (بھی) اور درخت (بھی) اور جانور (بھی) اور بہت سے انسان (بھی)، اور بہت سے (انسان) ایسے بھی ہیں جن پر (ان کے کفر و شرک کے باعث) عذاب ثابت ہو چکا ہے، اور اﷲ جسے ذلیل کر دے تو اسے کوئی عزت دینے والا نہیں ہے۔ بیشک اﷲ جو چاہتا ہے کر دیتا ہےo

19. یہ دو فریق ہیں جو اپنے رب کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں پس جو کافر ہوگئے ہیں ان کے لئے آتشِ دوزخ کے کپڑے کاٹ (کر، سِی) دیئے گئے ہیں۔ ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گاo

20. جس سے ان کے شکموں میں جو کچھ ہے پگھل جائے گا اور (ان کی) کھالیں بھیo

21. اور ان (کے سروں پر مارنے) کے لئے لوہے کے ہتھوڑے ہوں گےo

22. وہ جب بھی شدّتِ تکلیف سے وہاں سے نکلنے کا ارادہ کریں گے (تو) اس میں واپس لوٹا دیئے جائیں گے اور (ان سے کہا جائے گا سخت آگ کے عذاب کا مزہ چکھوo

23. بیشک اﷲ ان لوگوں کو جو ایمان لے آئے ہیں اور نیک اعمال انجام دیتے ہیں جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے نہریں جاری ہیں وہاں انہیں سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کیا جائے گا، اور وہاں ان کا لباس ریشم ہوگاo

24. اور انہیں (دنیا میں) پاکیزہ قول کی ہدایت کی گئی اور انہیں (اسلام کے) پسندیدہ راستہ کی طرف رہنمائی کی گئیo

25. بیشک جن لوگوں نے کفر کیا ہے اور (دوسروں کو) اﷲ کی راہ سے اور اس مسجدِ حرام (کعبۃ اﷲ) سے روکتے ہیں جسے ہم نے سب لوگوں کے لئے یکساں بنایا ہے اس میں وہاں کے باسی اور پردیسی (میں کوئی فرق نہیں)، اور جو شخص اس میں ناحق طریقہ سے کج روی (یعنی مقررہ حدود و حقوق کی خلاف ورزی) کا ارادہ کرے ہم اسے دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گےo

26. اور (وہ وقت یاد کیجئے) جب ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بیت اﷲ (یعنی خانہ کعبہ کی تعمیر) کی جگہ کا تعین کر دیا (اور انہیں حکم فرمایا) کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانا اور میرے گھر کو (تعمیر کرنے کے بعد) طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع کر نے والوں اور سجود کرنے والوں کے لئے پاک و صاف رکھناo

27. اور تم لوگوں میں حج کا بلند آواز سے اعلان کرو وہ تمہارے پاس پیدل اور تمام دبلے اونٹوں پر (سوار) حاضر ہو جائیں گے جو دور دراز کے راستوں سے آتے ہیںo

28. تاکہ وہ اپنے فوائد (بھی) پائیں اور (قربانی کے) مقررہ دنوں کے اندر اﷲ نے جو مویشی چوپائے ان کو بخشے ہیں ان پر (ذبح کے وقت) اﷲ کے نام کا ذکر بھی کریں، پس تم اس میں سے خود (بھی) کھاؤ اور خستہ حال محتاج کو (بھی) کھلاؤo

29. پھر انہیں چاہئے کہ (احرام سے نکلتے ہوئے بال اور ناخن کٹوا کر) اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں (یا بقیہ مناسک) پوری کریں اور (اﷲ کے) قدیم گھر (خانہ کعبہ) کا طوافِ (زیارت) کریںo

30. یہی (حکم) ہے، اور جو شخص اﷲ (کی بارگاہ) سے عزت یافتہ چیزوں کی تعظیم کرتا ہے تو وہ اس کے رب کے ہاں اس کے لئے بہتر ہے، اور تمہارے لئے (سب) مویشی (چوپائے) حلال کر دیئے گئے ہیں سوائے ان کے جن کی ممانعت تمہیں پڑھ کر سنائی گئی ہے سو تم بتوں کی پلیدی سے بچا کرو اور جھوٹی بات سے پرہیز کیا کروo

31. صرف اﷲ کے ہوکر رہو اس کے ساتھ (کسی کو) شریک نہ ٹھہراتے ہوئے، اور جو کوئی اﷲ کے ساتھ شرک کرتاہے تو گویا وہ (ایسے ہے جیسے) آسمان سے گر پڑے پھر اس کو پرندے اچک لے جائیں یا ہوا اس کو کسی دور کی جگہ میں نیچے جا پھینکےo

32. یہی (حکم) ہے، اور جو شخص اﷲ کی نشانیوں کی تعظیم کرتا ہے (یعنی ان جانداروں، یادگاروں، مقامات، احکام اور مناسک وغیرہ کی تعظیم جو اﷲ یا اﷲ والوں کے ساتھ کسی اچھی نسبت یا تعلق کی وجہ سے جانے پہچانے جاتے ہیں) تو یہ (تعظیم) دلوں کے تقوٰی میں سے ہے (یہ تعظیم وہی لوگ بجا لاتے ہیں جن کے دلوں کو تقوٰی نصیب ہوگیا ہو)o

33. تمہارے لئے ان (قربانی کے جانوروں) میں مقررہ مدت تک فوائد ہیں پھر انہیں قدیم گھر (خانہ کعبہ) کی طرف (ذبح کے لئے) پہنچنا ہےo

34. اور ہم نے ہر امت کے لئے ایک قربانی مقرر کر دی ہے تاکہ وہ ان مویشی چوپایوں پر جو اﷲ نے انہیں عنایت فرمائے ہیں (ذبح کے وقت) اﷲ کا نام لیں، سو تمہارا معبود ایک (ہی) معبود ہے پس تم اسی کے فرمانبردار بن جاؤ، اور (اے حبیب!) عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیںo

35. (یہ) وہ لوگ ہیں کہ جب اﷲ کا ذکر کیا جاتا ہے (تو) ان کے دل ڈرنے لگتے ہیں اور جو مصیبتیں انہیں پہنچتی ہیں ان پر صبر کرتے ہیں اور نماز قائم رکھنے والے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیںo

36. اور قربانی کے بڑے جانوروں (یعنی اونٹ اور گائے وغیرہ) کو ہم نے تمہارے لئے اﷲ کی نشانیوں میں سے بنا دیا ہے ان میں تمہارے لئے بھلائی ہے پس تم (انہیں) قطار میں کھڑا کر کے (نیزہ مار کر نحر کے وقت) ان پر اﷲ کا نام لو، پھر جب وہ اپنے پہلو کے بل گر جائیں تو تم خود (بھی) اس میں سے کھاؤ اور قناعت سے بیٹھے رہنے والوں کو اور سوال کرنے والے (محتاجوں) کو (بھی) کھلاؤ۔ اس طرح ہم نے انہیں تمہارے تابع کر دیا ہے تاکہ تم شکر بجا لاؤo

37. ہرگز نہ (تو) اﷲ کو ان (قربانیوں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون مگر اسے تمہاری طرف سے تقوٰی پہنچتا ہے، اس طرح (اﷲ نے) انہیں تمہارے تابع کر دیا ہے تاکہ تم (وقتِ ذبح) اﷲ کی تکبیر کہو جیسے اس نے تمہیں ہدایت فرمائی ہے، اور آپ نیکی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیںo

38. بیشک اﷲ صاحبِ ایمان لوگوں سے (دشمنوں کا فتنہ و شر) دور کرتا رہتا ہے۔ بیشک اﷲ کسی خائن (اور) ناشکرے کو پسند نہیں کرتاo

39. ان لوگوں کو (جہاد کی) اجازت دے دی گئی ہے جن سے (ناحق) جنگ کی جارہی ہے اس وجہ سے کہ ان پر ظلم کیا گیا، اور بیشک اﷲ ان (مظلوموں) کی مدد پر بڑا قادر ہےo

40. (یہ) وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے صرف اس بنا پر کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اﷲ ہے (یعنی انہوں نے باطل کی فرمانروائی تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا)، اور اگر اﷲ انسانی طبقات میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ (جہاد و انقلابی جد و جہد کی صورت میں) ہٹاتا نہ رہتا تو خانقاہیں اور گرجے اور کلیسے اور مسجدیں (یعنی تمام ادیان کے مذہبی مراکز اور عبادت گاہیں) مسمار اور ویران کر دی جاتیں جن میں کثرت سے اﷲ کے نام کا ذکر کیا جاتا ہے، اور جو شخص اﷲ (کے دین) کی مدد کرتا ہے یقیناً اﷲ اس کی مدد فرماتا ہے۔ بیشک اﷲ ضرور (بڑی) قوت والا (سب پر) غالب ہے (گویا حق اور باطل کے تضاد و تصادم کے انقلابی عمل سے ہی حق کی بقا ممکن ہے)o

41. (یہ اہلِ حق) وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار دے دیں (تو) وہ نماز (کا نظام) قائم کریں اور زکوٰۃ کی ادائیگی (کا انتظام) کریں اور (پورے معاشرے میں نیکی اور) بھلائی کا حکم کریں اور (لوگوں کو) برائی سے روک دیں، اور سب کاموں کا انجام اﷲ ہی کے اختیار میں ہےo

42. اور اگر یہ (کفار) آپ کو جھٹلاتے ہیں تو ا ن سے پہلے قومِ نوح اور عاد و ثمود نے بھی (اپنے رسولوں کو) جھٹلایا تھاo

43. اور قومِ ابراہیم اور قومِ لوط نے (بھی)o

44. اور باشندگانِ مدین نے (بھی جھٹلایا تھا) اور موسٰی (علیہ السلام) کو بھی جھٹلایا گیا سو میں (ان سب) کافروں کو مہلت دیتا رہا پھر میں نے انہیں پکڑ لیا، پھر (بتائیے) میرا عذاب کیسا تھاo

45. پھر کتنی ہی (ایسی) بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کر ڈالا اس حال میں کہ وہ ظالم تھیں پس وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور (ان کی ہلاکت سے) کتنے کنویں بے کار (ہوگئے) اور کتنے مضبوط محل اجڑے پڑے (ہیں)o

46. تو کیا انہوں نے زمین میں سیر و سیاحت نہیں کی کہ (شاید ان کھنڈرات کو دیکھ کر) ان کے دل (ایسے) ہو جاتے جن سے وہ سمجھ سکتے یا کان (ایسے) ہو جاتے جن سے وہ (حق کی بات) سن سکتے، تو حقیقت یہ ہے کہ (ایسوں کی) آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں لیکن دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں o

4ہیں7. اور یہ آپ سے عذاب میں جلدی کے خواہش مند ہیں اور اﷲ ہرگز اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہ کرے گا، اور (جب عذاب کا وقت آئے گا) تو (عذاب کا) ایک دن آپ کے رب کے ہاں ایک ہزار سال کی مانند ہے (اس حساب سے) جو تم شمار کرتے ہوo

48. اور کتنی ہی بستیاں (ایسی) ہیں جن کو میں نے مہلت دی حالانکہ وہ ظالم تھیں پھر میں نے انہیں (عذاب کی) گرفت میں لے لیا، اور (ہر کسی کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہےo

49. فرما دیجئے: اے لوگو! میں تو محض تمہارے لئے (عذابِ الٰہی کا) ڈر سنانے والا ہوںo

50. پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لئے مغفرت ہے اور (مزید) بزرگی والی عطا ہےo

51. اور جو لوگ ہماری آیتوں (کے ردّ) میں کوشاں رہتے ہیں اس خیال سے کہ (ہمیں) عاجز کردیں گے وہی لوگ اہلِ دوزخ ہیںo

52. اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا اور نہ کوئی نبی مگر (سب کے ساتھ یہ واقعہ گزرا کہ) جب اس (رسول یا نبی) نے (لوگوں پر کلامِ الٰہی) پڑھا (تو) شیطان نے (لوگوں کے ذہنوں میں) اس (نبی کے) پڑھے ہوئے (یعنی تلاوت شدہ) کلام میں (اپنی طرف سے باطل شبہات اور فاسد خیالات کو) ملا دیا، سو شیطان جو (وسوسے سننے والوں کے ذہنوں میں) ڈالتا ہے اﷲ انہیں زائل فرما دیتا ہے پھر اللہ اپنی آیتوں کو (اہلِ ایمان کے دلوں میں) نہایت مضبوط کر دیتا ہے، اور اﷲ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہےo

53. (یہ اس لئے ہوتا ہے) تاکہ اﷲ ان (باطل خیالات اور فاسد شبہات) کو جو شیطان (لوگوں کے ذہنوں میں) ڈالتا ہے ایسے لوگوں کے لئے آزمائش بنا دے جن کے دلوں میں (منافقت کی) بیماری ہے اور جن لوگوں کے دل (کفر و عناد کے باعث) سخت ہیں، اور بیشک ظالم لوگ بڑی شدید مخالفت میں مبتلا ہیںo

54. اور تاکہ وہ لوگ جنہیں علم (صحیح) عطا کیا گیا ہے جان لیں کہ وہی (وحی جس کی پیغمبر نے تلاوت کی ہے) آپ کے رب کی طرف سے (مَبنی) برحق ہے سو وہ اسی پر ایمان لائیں (اور شیطانی وسوسوں کو ردّ کردیں) اور ان کے دل اس (رب) کے لئے عاجزی کریں، اور بیشک اﷲ مومنوں کو ضرور سیدھی راہ کی طرف ہدایت فرمانے والا ہےo

55. اور کافر لوگ ہمیشہ اس (قرآن) کے حوالے سے شک میں رہیں گے یہاں تک کہ اچانک ان پر قیامت آپہنچے یا اس دن کا عذاب آجائے جس سے نجات کا کوئی امکان نہیںo

56. حکمرانی اس دن صرف اﷲ ہی کی ہوگی۔ وہی ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا، پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے (وہ) نعمت کے باغات میں (قیام پذیر) ہوں گےo

57. اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا تو انہی لوگوں کے لئے ذلت آمیز عذاب ہوگاo

58. اور جن لوگوں نے اﷲ کی راہ میں (وطن سے) ہجرت کی پھر قتل کر دیئے گئے یا (راہِ حق کی مصیبتیں جھیلتے جھیلتے) مرگئے تو اﷲ انہیں ضرور رزقِ حسن (یعنی اُخروی عطاؤں) کی روزی بخشے گا، اور بیشک اﷲ سب سے بہتر رزق دینے والا ہےo

59. وہ ضرور انہیں اس جگہ (یعنی مقامِ رضوان میں) داخل فرمائے گا جس سے وہ راضی ہو جائیں گے، اور بیشک اﷲ خوب جاننے والا بُردبار ہےo

60. (حکم) یہی ہے، اور جس شخص نے اتنا ہی بدلہ لیا جتنی اسے اذیت دی گئی تھی پھر اس شخص پر زیادتی کی جائے تو اﷲ ضرور اس کی مدد فرمائے گا۔ بیشک اﷲ درگزر فرمانے والا بڑا بخشنے والا ہےo

61. یہ اس وجہ سے ہے کہ اﷲ رات کو دن میں داخل فرماتا ہے اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے اور بیشک اﷲ خوب سننے والا دیکھنے والا ہےo

62. یہ اس لئے کہ اﷲ ہی حق ہے اور بیشک وہ (کفار) اس کے سوا جو کچھ (بھی) پوجتے ہیں وہ باطل ہے اور یقیناً اﷲ ہی بہت بلند بہت بڑا ہےo

63. کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اﷲ آسمان کی جانب سے پانی اتارتا ہے تو زمین سرسبز و شاداب ہو جاتی ہے۔ بیشک اﷲ مہربان (اور) بڑا خبردار ہےo

64. اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور بیشک اﷲ ہی بے نیاز قابلِ ستائش ہےo

65. کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اﷲ نے جو کچھ زمین میں ہے تمہارے لئے مسخر فرما دیا ہے اور کشتیوں کو (بھی) جو اس کے اَمر (یعنی قانون) سے سمندر (و دریا) میں چلتی ہیں، اور آسمان (یعنی خلائی و فضائی کرّوں) کو زمین پر گرنے سے (ایک آفاقی نظام کے ذریعہ) تھامے ہوئے ہے مگر اسی کے حکم سے (جب وہ چاہے گا آپس میں ٹکرا جائیں گے)۔ بیشک اﷲ تمام انسانوں کے ساتھ نہایت شفقت فرمانے والا بڑا مہربان ہےo

66. اور وہی ہے جس نے تمہیں زندگی بخشی پھر تمہیں موت دیتا ہے پھر تمہیں (دوبارہ) زندگی دے گا۔ بیشک انسان ہی بڑا ناشکر گزار ہےo

67. ہم نے ہر ایک امت کے لئے (احکامِ شریعت یا عبادت و قربانی کی) ایک راہ مقرر کر دی ہے، انہیں اسی پر چلنا ہے، سو یہ لوگ آپ سے ہرگز (اﷲ کے) حکم میں جھگڑا نہ کریں، اور آپ اپنے رب کی طرف بلاتے رہیں۔ بیشک آپ ہی سیدھی (راہِ) ہدایت پر ہیںo

68. اگر وہ آپ سے جھگڑا کریں تو آپ فرما دیجئے: اﷲ بہتر جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہوo

69. اﷲ تمہارے درمیان قیامت کے دن ان تمام باتوں کا فیصلہ فرما دے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے تھےo

70. کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اﷲ وہ سب کچھ جانتا ہے جو آسمان اور زمین میں ہے، بیشک یہ سب کتاب (لوحِ محفوظ) میں (درج) ہے، یقیناً یہ سب اﷲ پر (بہت) آسان ہےo

71. اور یہ لوگ اﷲ کے سوا ان (بتوں) کی پرستش کرتے ہیں جس کی اُس نے کوئی سند نہیں اتاری اور نہ (ہی) انہیں اس (بت پرستی کے انجام) کا کچھ علم ہے، اور (قیامت کے دن) ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگاo

72. اور جب ان (کافروں) پر ہماری روشن آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں (تو) آپ ان کافروں کے چہروں میں ناپسندیدگی (و ناگواری کے آثار) صاف دیکھ سکتے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ عنقریب ان لوگوں پر جھپٹ پڑیں گے جو انہیں ہماری آیات پڑھ کر سنا رہے ہیں، آپ فرما دیجئے: (اے مضطرب ہونے والے کافرو!) کیا میں تمہیں اس سے (بھی) زیادہ تکلیف دہ چیز سے آگاہ کروں؟ (وہ دوزخ کی) آگ ہے، جس کا اﷲ نے کافروں سے وعدہ کر رکھا ہے، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہےo

73. اے لوگو! ایک مثال بیان کی جاتی ہے سو اسے غور سے سنو: بیشک جن (بتوں) کو تم اﷲ کے سوا پوجتے ہو وہ ہرگز ایک مکھی (بھی) پیدا نہیں کرسکتے اگرچہ وہ سب اس (کام) کے لئے جمع ہو جائیں، اور اگر ان سے مکھی کوئی چیز چھین کر لے جائے (تو) وہ اس چیز کو اس (مکھی) سے چھڑا (بھی) نہیں سکتے، کتنا بے بس ہے طالب (عابد) بھی اور مطلوب (معبود) بھیo

74. ان (کافروں) نے اﷲ کی قدر نہ کی جیسی اس کی قدر کرنا چاہئے تھی۔ بیشک اﷲ بڑی قوت والا (ہر چیز پر) غالب ہےo

75. اﷲ فرشتوں میں سے (بھی) اور انسانوں میں سے (بھی اپنا) پیغام پہنچانے والوں کو منتخب فرما لیتا ہے۔ بیشک اﷲ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہےo

76. وہ ان (چیزوں) کو (خوب) جانتا ہے جو ان کے آگے ہیں اور جو ان کے پیچھے ہیں، اور تمام کام اسی کی طرف لوٹائے جاتے ہیںo

77. اے ایمان والو! تم رکوع کرتے رہو اور سجود کرتے رہو، اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو اور (دیگر) نیک کام کئے جاؤ تاکہ تم فلاح پا سکوo

78. اور اﷲ (کی محبت و طاعت اور اس کے دین کی اشاعت و اقامت) میں جہاد کرو جیسا کہ اس کے جہاد کا حق ہے۔ اس نے تمہیں منتخب فرما لیا ہے اور اس نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔ (یہی) تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا دین ہے۔ اس (اﷲ) نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے، اس سے پہلے (کی کتابوں میں) بھی اور اس (قرآن) میں بھی تاکہ یہ رسولِ (آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم پر گواہ ہو جائیں اور تم بنی نوع انسان پر گواہ ہو جاؤ، پس (اس مرتبہ پر فائز رہنے کے لئے) تم نماز قائم کیا کرو اور زکوٰۃ ادا کیا کرو اور اﷲ (کے دامن) کو مضبوطی سے تھامے رکھو، وہی تمہارا مددگار (و کارساز) ہے، پس وہ کتنا اچھا کارساز (ہے) اور کتنا اچھا مددگار ہےo
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-02-11, 03:24 PM   #21
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,228
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default پارہ نمبر 18

پاره قَدْ أَفْلَحَ

سُورة الْمُؤْمِنُوْن

1. بیشک ایمان والے مراد پا گئےo

2. جو لوگ اپنی نماز میں عجز و نیاز کرتے ہیںo

3. اور جو بیہودہ باتوں سے (ہر وقت) کنارہ کش رہتے ہیںo

4. اور جو (ہمیشہ) زکوٰۃ ادا (کر کے اپنی جان و مال کو پاک) کرتے رہتے ہیںo

5. اور جو (دائماً) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے رہتے ہیںo

6. سوائے اپنی بیویوں کے یا ان باندیوں کے جو ان کے ہاتھوں کی مملوک ہیں، بیشک (احکامِ شریعت کے مطابق ان کے پاس جانے سے) ان پر کوئی ملامت نہیںo

7. پھر جو شخص ان (حلال عورتوں) کے سوا کسی اور کا خواہش مند ہوا تو ایسے لوگ ہی حد سے تجاوز کرنے والے (سرکش) ہیںo

8. اور جو لوگ اپنی امانتوں اور اپنے وعدوں کی پاسداری کرنے والے ہیںo

9. اور جو اپنی نمازوں کی (مداومت کے ساتھ) حفاظت کرنے والے ہیںo

10. یہی لوگ (جنت کے) وارث ہیںo

11. یہ لوگ جنت کے سب سے اعلیٰ باغات (جہاں تمام نعمتوں، راحتوں اور قربِ الٰہی کی لذتوں کی کثرت ہوگی ان) کی وراثت (بھی) پائیں گے، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گےo

12. اور بیشک ہم نے انسان کی تخلیق (کی ابتداء) مٹی (کے کیمیائی اجزاء) کے خلاصہ سے فرمائیo

13. پھر اسے نطفہ (تولیدی قطرہ) بنا کر ایک مضبوط جگہ (رحمِ مادر) میں رکھاo

14. پھر ہم نے اس نطفہ کو (رحمِ مادر کے اندر جونک کی صورت میں) معلّق وجود بنا دیا، پھر ہم نے اس معلّق وجود کو ایک (ایسا) لوتھڑا بنا دیا جو دانتوں سے چبایا ہوا لگتا ہے، پھر ہم نے اس لوتھڑے سے ہڈیوں کا ڈھانچہ بنایا، پھر ہم نے ان ہڈیوں پر گوشت (اور پٹھے) چڑھائے، پھر ہم نے اسے تخلیق کی دوسری صورت میں (بدل کر تدریجاً) نشو و نما دی، پھر اللہ نے (اسے) بڑھا (کر محکم وجود بنا) دیا جو سب سے بہتر پیدا فرمانے والا ہےo

15. پھر بیشک تم اس (زندگی) کے بعد ضرور مرنے والے ہوo

16. پھر بیشک تم قیامت کے دن (زندہ کر کے) اٹھائے جاؤ گےo

17. اور بیشک ہم نے تمہارے اوپر (کرّۂ اَرضی کے گرد فضائے بسیط میں نظامِ کائنات کی حفاظت کے لئے) سات راستے (یعنی سات مقناطیسی پٹیاں یا میدان) بنائے ہیں، اور ہم (کائنات کی) تخلیق (اور اس کی حفاطت کے تقاضوں) سے بے خبر نہ تھےo

18. اور ہم ایک اندازہ کے مطابق (عرصہ دراز تک) بادلوں سے پانی برساتے رہے، پھر (جب زمین ٹھنڈی ہوگئی تو) ہم نے اس پانی کو زمین (کی نشیبی جگہوں) میں ٹھہرا دیا (جس سے ابتدائی سمندر وجود میں آئے) اور بیشک ہم اسے (بخارات بنا کر) اڑا دینے پر بھی قدرت رکھتے ہیںo

19. پھر ہم نے تمہارے لئے اس سے (درجہ بہ درجہ یعنی پہلے ابتدائی نباتات پھر بڑے پودے پھر درخت وجود میں لاتے ہوئے) کھجور اور انگور کے باغات بنا دیئے (مزید برآں) تمہارے لئے زمین میں (اور بھی) بہت سے پھل اور میوے (پیدا کئے) اور (اب) تم ان میں سے کھاتے ہوo

20. اور یہ درخت (زیتون بھی ہم نے پیدا کیا ہے) جو طورِ سینا سے نکلتا ہے (اور) تیل اور کھانے والوں کے لئے سالن لے کر اگتا ہےo

21. اور بیشک تمہارے لئے چوپایوں میں (بھی) غور طلب پہلو ہیں، جو کچھ ان کے شکموں میں ہوتا ہے ہم تمہیں اس میں سے (بعض اجزاء کو دودھ بنا کر) پلاتے ہیں اور تمہارے لئے ان میں (اور بھی) بہت سے فوائد ہیں اور تم ان میں سے (بعض کو) کھاتے (بھی) ہوo

22. اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار (بھی) کئے جاتے ہوo

23. اور بیشک ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے فرمایا: اے لوگو! تم اللہ کی عبادت کیا کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے، تو کیا تم نہیں ڈرتےo

24. تو ان کی قوم کے سردار (اور وڈیرے) جو کفر کر رہے تھے کہنے لگے: یہ شخص محض تمہارے ہی جیسا ایک بشر ہے (اس کے سوا کچھ نہیں)، یہ تم پر (اپنی) فضیلت و برتری قائم کرنا چاہتا ہے، اور اگر اللہ (ہدایت کے لئے کسی پیغمبر کو بھیجنا) چاہتا تو فرشتوں کو اتار دیتا، ہم نے تو یہ بات (کہ ہمارے جیسا ہی ایک شخص ہمارا رسول بنا دیا جائے) اپنے اگلے آباء و اجداد میں (کبھی) نہیں سنیo

25. یہ شخص تو سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ اسے دیوانگی (کا عارضہ لاحق ہو گیا) ہے سو تم ایک عرصہ تک اس کا انتظار کرو (دیکھو آگے کیا کرتا o

2ہے)6. نوح (علیہ السلام) نے عرض کیا: اے میرے رب! میری مدد فرما کیونکہ انہوں نے مجھے جھٹلا دیا ہےo

27. پھر ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ تم ہماری نگرانی میں اور ہمارے حکم کے مطابق ایک کشتی بناؤ سو جب ہمارا حکمِ (عذاب) آجائے اور تنور (بھر کر پانی) ابلنے لگے تو تم اس میں ہر قسم کے جانوروں میں سے دو دو جوڑے (نر و مادہ) بٹھا لینا اور اپنے گھر والوں کو بھی (اس میں سوار کر لینا) سوائے ان میں سے اس شخص کے جس پر فرمانِ (عذاب) پہلے ہی صادر ہو چکا ہے، اور مجھ سے ان لوگوں کے بارے میں کچھ عرض بھی نہ کرنا جنہوں نے (تمہارے انکار و استہزاء کی صورت میں) ظلم کیا ہے، وہ (بہر طور) ڈبو دیئے جائیں گےo

28. پھر جب تم اور تمہاری سنگت والے (لوگ) کشتی میں ٹھیک طرح سے بیٹھ جائیں تو کہنا (کہ) ساری تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے ہمیں ظالم قوم سے نجات بخشیo

29. اور عرض کرنا: اے میرے رب! مجھے با برکت منزل پر اتار اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہےo

30. بیشک اس (واقعہ) میں (بہت سی) نشانیاں ہیں اور یقیناً ہم آزمائش کرنے والے ہیںo

31. پھر ہم نے ان کے بعد دوسری قوم کو پیدا فرمایاo

32. سو ہم نے ان میں (بھی) انہی میں سے رسول بھیجا کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے، تو کیا تم نہیں ڈرتےo

33. اور ان کی قوم کے (بھی وہی) سردار (اور وڈیرے) بول اٹھے جو کفر کر رہے تھے اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلاتے تھے اور ہم نے انہیں دنیوی زندگی میں (مال و دولت کی کثرت کے باعث) آسودگی (بھی) دے رکھی تھی (لوگوں سے کہنے لگے) کہ یہ شخص تو محض تمہارے ہی جیسا ایک بشر ہے، وہی چیزیں کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی کچھ پیتا ہے جو تم پیتے ہوo

34. اور اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک بشر کی اطاعت کر لی تو پھر تم ضرور خسارہ اٹھانے والے ہو گےo

35. کیا یہ (شخص) تم سے یہ وعدہ کر رہا ہے کہ جب تم مر جاؤ گے اور تم مٹی اور (بوسیدہ) ہڈیاں ہو جاؤ گے تو تم (دوبارہ زندہ ہو کر) نکالے جاؤ گےo

36. بعید (اَز قیاس) بعید (اَز وقوع) ہیں وہ باتیں جن کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہےo

37. وہ (آخرت کی زندگی کچھ) نہیں ہماری زندگانی تو یہی دنیا ہے ہم (یہیں) مرتے اور جیتے ہیں اور (بس ختم)، ہم (دوبارہ) نہیں اٹھائے جائیں گےo

38. یہ تو محض ایسا شخص ہے جس نے اللہ پر جھوٹا بہتان لگایا ہے اور ہم بالکل اس پر ایمان لانے والے نہیں ہیںo

39. (پیغمبر نے) عرض کیا: اے میرے رب! میری مدد فرما اس صورتحال میں کہ انہوں نے مجھے جھٹلا دیا ہےo

40. ارشاد ہوا: تھوڑی ہی دیر میں وہ پشیماں ہو کر رہ جائیں گےo

41. پس سچے وعدہ کے مطابق انہیں خوفناک آواز نے آپکڑا سو ہم نے انہیں خس و خاشاک بنا دیا، پس ظالم قوم کے لئے (ہماری رحمت سے) دوری و محرومی ہےo

42. پھر ہم نے ان کے بعد (یکے بعد دیگرے) دوسری امتوں کو پیدا فرمایاo

43. کوئی بھی امت اپنے وقت مقرر سے نہ آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ وہ لوگ پیچھے ہٹ سکتے ہیںo

44. پھر ہم نے پے در پے اپنے رسولوں کو بھیجا۔ جب بھی کسی امت کے پاس اس کا رسول آتا وہ اسے جھٹلا دیتے تو ہم (بھی) ان میں سے بعض کو بعض کے پیچھے (ہلاک در ہلاک) کرتے چلے گئے اور ہم نے انہیں داستانیں بنا ڈالا، پس ہلاکت ہو ان لوگوں کے لئے جو ایمان نہیں لاتےo

45. پھر ہم نے موسٰی (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں اور روشن دلیل دے کر بھیجاo

46. فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی طرف تو انہوں نے بھی تکبّر و رعونت سے کام لیا اور وہ بھی (بڑے) ظالم و سرکش لوگ تھےo

47. سو انہوں نے (بھی یہی) کہا کہ کیا ہم اپنے جیسے دو بشروں پر ایمان لے آئیں حالانکہ ان کی قوم کے لوگ ہماری پرستش کرتے ہیںo

48. پس انہوں نے (بھی) ان دونوں کو جھٹلا دیا سو وہ بھی ہلاک کئے گئے لوگوں میں سے ہو گئےo

49. اور بیشک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی تاکہ وہ لوگ ہدایت پاجائیںo

50. اور ہم نے ابن مریم (عیسٰی علیہ السلام) کو اور ان کی ماں کو اپنی (زبردست) نشانی بنایا اور ہم نے ان دونوں کو ایک (ایسی) بلند زمین میں سکونت بخشی جو بآسائش و آرام رہنے کے قابل (بھی) تھی اور وہاں آنکھوں کے (نظارے کے) لئے بہتے پانی (یعنی نہریں، آبشاریں اور چشمے بھی) تھےo

51. اے رُسُلِ (عظام!) تم پاکیزہ چیزوں میں سے کھایا کرو (جیسا کہ تمہارا معمول ہے) اور نیک عمل کرتے رہو، بیشک میں جو عمل بھی تم کرتے ہو اس سے خوب واقف ہوںo

52. اور بیشک یہ تمہاری امت ہے (جو حقیقت میں) ایک ہی امت (ہے) اور میں تمہارا رب ہوں سو مجھ سے ڈرا کروo

53. پس انہوں نے اپنے (دین کے) امر کو آپس میں اختلاف کر کے فرقہ فرقہ کر ڈالا، ہر فرقہ والے اسی قدر (دین کے حصہ) سے جو ان کے پاس ہے خوش ہیںo

54. پس آپ ان کو ایک عرصہ تک ان کے نشۂ جہالت و ضلالت میں چھوڑے رکھئےo

55. کیا وہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم جو (دنیا میں) مال و اولاد کے ذریعہ ان کی مدد کر رہے ہیںo

56. تو ہم ان کے لئے بھلائیوں (کی فراہمی) میں جلدی کر رہے ہیں، (ایسا نہیں) بلکہ انہیں شعور ہی نہیں ہےo

57. بیشک جو لوگ اپنے رب کی خشیّت سے مضطرب اور لرزاں رہتے ہیںo

58. اور جو لوگ اپنے رب کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیںo

59. اور جو لوگ اپنے رب کے ساتھ (کسی کو) شریک نہیں ٹھہراتےo

60. اور جو لوگ (اللہ کی راہ میں اتنا کچھ) دیتے ہیں جتنا وہ دے سکتے ہیں اور (اس کے باوجود) ان کے دل خائف رہتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں (کہیں یہ نامقبول نہ ہو جائے)o

61. یہی لوگ بھلائیوں (کے سمیٹنے میں) جلدی کر رہے ہیں اور وہی اس میں آگے نکل جانے والے ہیںo

62. اور ہم کسی جان کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی استعداد کے مطابق اور ہمارے پاس نوشتۂ (اَعمال موجود) ہے جو سچ سچ کہہ دے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گاo

63. بلکہ ان کے دل اس (قرآن کے پیغام) سے غفلت میں (پڑے) ہیں اور اس کے سوا (بھی) ان کے کئی اور (برے) اعمال ہیں جن پر وہ عمل پیرا ہیںo

64. یہاں تک کہ جب ہم ان کے امیر اور آسودہ حال لوگوں کو عذاب کی گرفت میں لیں گے تو اس وقت وہ چیخ اٹھیں گےo

65. (ان سے کہا جائے گا تم آج مت چیخو، بیشک ہماری طرف سے تمہاری کوئی مدد نہیں کی جائے گےo

66. بیشک میری آیتیں تم پر پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی تھیں تو تم ایڑیوں کے بل الٹے پلٹ جایا کرتے تھےo

67. اس سے غرور و تکبّر کرتے ہوئے رات کے اندھیرے میں بے ہودہ گوئی کرتے تھےo

68. سو کیا انہوں نے اس فرمانِ (الٰہی) میں غور و خوض نہیں کیا یا ان کے پاس کوئی ایسی چیز آگئی ہے جو ان کے اگلے باپ دادا کے پاس نہیں آئی تھیo

69. یا انہوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا سو (اس لئے) وہ اس کے منکر ہو گئے ہیںo

70. یا یہ کہتے ہیں کہ اس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جنون (لاحق) ہو گیا ہے، (ایسا ہر گز نہیں) بلکہ وہ ان کے پاس حق لے کر تشریف لائے ہیں اور ان میں سے اکثر لوگ حق کو پسند نہیں کرتےo

71. اور اگر حق (تعالیٰ) ان کی خواہشات کی پیروی کرتا تو (سارے) آسمان اور زمین اور جو (مخلوقات و موجودات) ان میں ہیں سب تباہ و برباد ہو جاتے بلکہ ہم ان کے پاس وہ (قرآن) لائے ہیں جس میں ان کی عزت و شرف (اور ناموری کا راز) ہے سو وہ اپنی عزت ہی سے منہ پھیر رہے ہیںo

72. کیا آپ ان سے (تبلیغِ رسالت پر) کچھ اجرت مانگتے ہیں؟ (ایسا بھی نہیں ہے) آپ کے تو رب کا اجر (ہی بہت) بہتر ہے اور وہ سب سے بہتر روزی رساں ہےo

73. اور بیشک آپ تو (انہی کے بھلے کے لئے) انہیں سیدھی راہ کی طرف بلاتے ہیںo

74. اور بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے (وہ) ضرور (سیدھی) راہ سے کترائے رہتے ہیںo

75. اور اگر ہم ان پر رحم فرما دیں اور جو تکلیف انہیں (لاحق) ہے اسے دور کر دیں تو وہ بھٹکتے ہوئے اپنی سرکشی میں مزید پکے ہو جائیں گےo

76. اور بیشک ہم نے انہیں عذاب میں پکڑ لیا پھر (بھی) انہوں نے اپنے رب کے لئے عاجزی اختیار نہ کی اور نہ وہ (اس کے حضور) گڑگڑائےo

77. یہاں تک کہ جب ہم ان پر نہایت سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں گے (تو) اس وقت وہ اس میں انتہائی حیرت سے ساکت و مایوس (پڑے) رہیں گےo

78. اور وہی ہے جو تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل (و دماغ) رفتہ رفتہ وجود میں لایا، (مگر) تم لوگ بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہوo

79. اور وہی ہے جس نے تمہیں روئے زمین پر پیدا کر کے پھیلا دیا اور تم اسی کے حضور جمع کئے جاؤ گےo

80. اور وہی ہے جو زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے اور شب و روز کا گردش کرنا (بھی) اسی کے اختیار میں ہے۔ سو کیا تم سمجھتے نہیں ہوo

81. بلکہ یہ لوگ (بھی) اسی طرح کی باتیں کرتے ہیں جس طرح کی اگلے (کافر) کرتے رہے ہیںo

82. یہ کہتے ہیں کہ جب ہم مر جائیں گے اور ہم خاک اور (بوسیدہ) ہڈیاں ہو جائیں گے تو کیا ہم (پھر زندہ کر کے) اٹھائے جائیں گےo

83. بیشک ہم سے (بھی) اور ہمارے آباء و اجداد سے (بھی) پہلے یہی وعدہ کیا جاتا رہا (ہے)، یہ (باتیں) محض پہلے لوگوں کے افسانے ہیںo

84. (ان سے) فرمائیے کہ زمین اور جو کوئی اس میں (رہ رہا) ہے (سب) کس کی مِلک ہے، اگر تم (کچھ) جانتے ہوo

85. وہ فوراً بول اٹھیں گے کہ (سب کچھ) اللہ کا ہے، (تو) آپ فرمائیں: پھر تم نصیحت قبول کیوں نہیں کرتےo

86. (ان سے دریافت) فرمائیے کہ ساتوں آسمانوں کا اور عرشِ عظیم (یعنی ساری کائنات کے اقتدارِ اعلیٰ) کا مالک کون ہے؟o

87. وہ فوراً کہیں گے: یہ (سب کچھ) اللہ کا ہے (تو) آپ فرمائیں: پھر تم ڈرتے کیوں نہیں ہوo

88. آپ (ان سے) فرمائیے کہ وہ کون ہے جس کے دستِ قدرت میں ہر چیز کی کامل ملکیت ہے اور جو پناہ دیتا ہے اور جس کے خلاف (کوئی) پناہ نہیں دی جا سکتی، اگر تم (کچھ) جانتے ہوo

89. وہ فوراً کہیں گے: یہ (سب شانیں) اللہ ہی کے لئے ہیں، (تو) آپ فرمائیں: پھر تمہیں کہاں سے (جادو کی طرح) فریب دیا جا رہا ہےo

90. بلکہ ہم نے انہیں حق پہنچا دیا اور بیشک وہ جھوٹے ہیںo

91. اللہ نے (اپنے لئے) کوئی اولاد نہیں بنائی اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ورنہ ہر خدا اپنی اپنی مخلوق کو ضرور (الگ) لے جاتا اور یقیناً وہ ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرتے (اور پوری کائنات میں فساد بپا ہو جاتا)۔ اللہ ان باتوں سے پاک ہے جو وہ بیان کرتے ہیںo

92. (وہ) پوشیدہ اور آشکار (سب چیزوں) کا جاننے والا ہے سو وہ ان چیزوں سے بلند و برتر ہے جنہیں یہ شریک ٹھہراتے ہیںo

93. آپ (دعا) فرمائیے کہ اے میرے رب! اگر تو مجھے وہ (عذاب) دکھانے لگے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہےo

94. (تو) اے میرے رب! مجھے ظالم قوم میں شامل نہ فرماناo

95. اور بیشک ہم اس بات پرضرور قادر ہیں کہ ہم آپ کو وہ (عذاب) دکھا دیں جس کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیںo

96. آپ برائی کو ایسے طریقہ سے دفع کیا کریں جو سب سے بہتر ہو، ہم ان (باتوں) کو خوب جانتے ہیں جو یہ بیان کرتے ہیںo

97. اور آپ (دعا) فرمائیے: اے میرے رب! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوںo

98. اور اے میرے رب! میں اس بات سے (بھی) تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیںo

99. یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آجائے گی (تو) وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے (دنیا میں) واپس بھیج دےo

100. تاکہ میں اس (دنیا) میں کچھ نیک عمل کر لوں جسے میں چھوڑ آیا ہوں۔ ہر گز نہیں، یہ وہ بات ہے جسے وہ (بطورِ حسرت) کہہ رہا ہوگا اور ان کے آگے اس دن تک ایک پردہ (حائل) ہے (جس دن) وہ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گےo

101. پھر جب صور پھونکا جائے گا تو ان کے درمیان اس دن نہ رشتے (باقی) رہیں گے اور نہ وہ ایک دوسرے کا حال پوچھ سکیں گےo

102. پس جن کے پلڑے (زیادہ اعمال کے باعث) بھاری ہوں گے تو وہی لوگ کامیاب و کامران ہوں گےo

103. اور جن کے پلڑے (اعمال کا وزن نہ ہونے کے باعث) ہلکے ہوں گے تو یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا وہ ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے ہیںo

104. ان کے چہروں کو آگ جھلس دے گی اور وہ اس میں دانت نکلے بگڑے ہوئے منہ کے ساتھ پڑے ہوں گےo

105. (ان سے کہا جائے گا کیا تم پر میری آیتیں پڑھ پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں پھر تم انہیں جھٹلایا کرتے تھےo

106. وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی تھی اور ہم یقیناً گمراہ قوم تھےo

107. اے ہمارے رب! تو ہمیں یہاں سے نکال دے پھر اگر ہم (اسی گمراہی کا) اعادہ کریں تو بیشک ہم ظالم ہوں گےo

108. ارشاد ہو گا: (اب) اسی میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کروo

109. بیشک میرے بندوں میں سے ایک طبقہ ایسا بھی تھا جو (میرے حضور) عرض کیا کرتے تھے: اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے ہیں پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو (ہی) سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہےo

110. تو تم ان کا تمسخر کیا کرتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے تمہیں میری یاد بھی بھلا دی اور تم (صرف) ان کی تضحیک ہی کرتے رہتے تھےo

111. بیشک آج میں نے انہیں ان کے صبر کا جو وہ کرتے رہے (یہ) صلہ عطا فرمایا ہے کہ وہ کامیاب ہو گئے ہیںo

112. ارشاد ہو گا کہ تم زمین میں برسوں کے شمار سے کتنی مدت ٹھہرے رہے (ہو)o

113. وہ کہیں گے: ہم ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرے (ہوں گے) آپ اعداد و شمار کرنے والوں سے پوچھ لیںo

114. ارشاد ہوگا: تم (وہاں) نہیں ٹھہرے مگر بہت ہی تھوڑا عرصہ، کاش! تم (یہ بات وہیں) جانتے ہوتےo

115. سو کیا تم نے یہ خیال کر لیا تھا کہ ہم نے تمہیں بے کار (و بے مقصد) پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گےo

116. پس اللہ جو بادشاہِ حقیقی ہے بلند و برتر ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، بزرگی اور عزت والے عرش (اقتدار) کا (وہی) مالک ہےo

117. اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کی پرستش کرتا ہے اس کے پاس اس کی کوئی سند نہیں ہے سو اس کا حساب اس کے رب ہی کے پاس ہے۔ بیشک کافر لوگ فلاح نہیں پائیں گےo

118. اور آپ عرض کیجئے: اے میرے رب! تو بخش دے اور رحم فرما اور تو (ہی) سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہےo


سُورة النُّوْر

1. (یہ) ایک (عظیم) سورت ہے جسے ہم نے اتارا ہے اور ہم نے اس (کے احکام) کو فرض کر دیا ہے اور ہم نے اس میں واضح آیتیں نازل فرمائی ہیں تاکہ تم نصیحت حاصل کروo

2. بدکار عورت اور بدکار مرد (اگر غیر شادی شدہ ہوں) تو ان دونوں میں سے ہر ایک کو (شرائطِ حد کے ساتھ جرمِ زنا کے ثابت ہو جانے پر) سو (سو) کوڑے مارو (جبکہ شادی شدہ مرد و عورت کی بدکاری پر سزا رجم ہے اور یہ سزائے موت ہے) اور تمہیں ان دونوں پر (دین کے حکم کے اجراء) میں ذرا ترس نہیں آنا چاہئے اگر تم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو، اور چاہئے کہ ان دونوں کی سزا (کے موقع) پر مسلمانوں کی (ایک اچھی خاصی) جماعت موجود ہوo

3. بدکار مرد سوائے بدکار عورت یا مشرک عورت کے (کسی پاکیزہ عورت سے) نکاح (کرنا پسند) نہیں کرتا اور بدکار عورت (بھی) سوائے بدکار مرد یا مشرک کے (کسی صالح شخص سے) نکاح (کرنا پسند) نہیں کرتی، اور یہ (فعلِ زنا) مسلمانوں پر حرام کر دیا گیا ہےo

4. اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر (بدکاری کی) تہمت لگائیں پھر چار گواہ پیش نہ کر سکیں تو تم انہیں (سزائے قذف کے طور پر) اسّی کوڑے لگاؤ اور کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو، اور یہی لوگ بدکردار ہیںo

5. سوائے ان کے جنہوں نے اس (تہمت لگنے) کے بعد توبہ کر لی اور (اپنی) اصلاح کر لی، تو بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے (ان کا شمار فاسقوں میں نہیں ہوگا مگر اس سے حدِ قذف معاف نہیں ہوگی)o

6. اور جو لوگ اپنی بیویوں پر (بدکاری کی) تہمت لگائیں اور ان کے پاس سوائے اپنی ذات کے کوئی گواہ نہ ہوں تو ایسے کسی بھی ایک شخص کی گواہی یہ ہے کہ (وہ خود) چار مرتبہ اللہ کی قَسم کھا کر گواہی دے کہ وہ (الزام لگانے میں) سچا ہےo

7. اور پانچویں مرتبہ یہ (کہے) کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹا ہوo

8. اور (اسی طرح) یہ بات اس (عورت) سے (بھی) سزا کو ٹال سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر (خود) گواہی دے کہ وہ (مرد اس تہمت کے لگانے میں) جھوٹا ہےo

9. اور پانچویں مرتبہ یہ (کہے) کہ اس پر (یعنی مجھ پر) اللہ کا غضب ہو اگر یہ (مرد اس الزام لگانے میں) سچا ہوo

10. اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی (تو تم ایسے حالات میں زیادہ پریشان ہوتے) اور بیشک اللہ بڑا ہی توبہ قبول فرمانے والا بڑی حکمت والا ہےo

11. بیشک جن لوگوں نے (عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اﷲ عنہا پر) بہتان لگایا تھا (وہ بھی) تم ہی میں سے ایک جماعت تھی، تم اس (بہتان کے واقعہ) کو اپنے حق میں برا مت سمجھو بلکہ وہ تمہارے حق میں بہتر (ہوگیا) ہے٭ ان میں سے ہر ایک کے لئے اتنا ہی گناہ ہے جتنا اس نے کمایا، اور ان میں سے جس نے اس (بہتان) میں سب سے زیادہ حصہ لیا اس کے لئے زبردست عذاب ہےo
٭ (کیونکہ تمہیں اسی حوالے سے احکامِ شریعت مل گئے اور عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اﷲ عنہا کی پاک دامنی کا گواہ خود اللہ بن گیا جس سے تمہیں ان کی شان کا پتہ چل گیا۔)
12. ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے اس (بہتان) کو سنا تھا تو مومن مرد اور مومن عورتیں اپنوں کے بارے میں نیک گمان کر لیتے اور (یہ) کہہ دیتے کہ یہ کھلا (جھوٹ پر مبنی) بہتان ہےo

13. یہ (افترا پرداز لوگ) اس (طوفان) پر چار گواہ کیوں نہ لائے، پھر جب وہ گواہ نہیں لا سکے تو یہی لوگ اللہ کے نزدیک جھوٹے ہیںo

14. اور اگر تم پر دنیا و آخرت میں اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جس (تہمت کے) چرچے میں تم پڑ گئے ہو اس پر تمہیں زبردست عذاب o

1پہنچتا5. جب تم اس (بات) کو (ایک دوسرے سے سن کر) اپنی زبانوں پر لاتے رہے اور اپنے منہ سے وہ کچھ کہتے رہے جس کا (خود) تمہیں کوئی علم ہی نہ تھا اور اس (چرچے) کو معمولی بات خیال کر رہے تھے، حالانکہ وہ اللہ کے حضور بہت بڑی (جسارت ہو رہی) تھیo

16. اور جب تم نے یہ (بہتان) سنا تھا تو تم نے (اسی وقت) یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمارے لئے یہ (جائز ہی) نہیں کہ ہم اسے زبان پر لے آئیں (بلکہ تم یہ کہتے کہ اے اللہ!) تو پاک ہے (اس بات سے کہ ایسی عورت کو اپنے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبوب زوجہ بنا دے)، یہ بہت بڑا بہتان ہےo

17. اللہ تم کو نصیحت فرماتا ہے کہ پھر کبھی بھی ایسی بات (عمر بھر) نہ کرنا اگر تم اہلِ ایمان ہوo

18. اور اللہ تمہارے لئے آیتوں کو واضح طور پر بیان فرماتا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہےo

19. بیشک جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلے ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے، اور اللہ (ایسے لوگوں کے عزائم کو) جانتا ہے اور تم نہیں جانتےo

20. اور اگر تم پر (اس رسولِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقہ میں) اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو (تم بھی پہلی امتوں کی طرح تباہ کر دیئے جاتے) مگر اللہ بڑا شفیق بڑا رحم فرمانے والا ہےo

21. اے ایمان والو! شیطان کے راستوں پر نہ چلو، اور جو شخص شیطان کے نقوشِ قدم پر چلتا ہے تو وہ یقیناً بے حیائی اور برے کاموں (کے فروغ) کا حکم دیتا ہے، اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی شخص بھی کبھی (اس گناہِ تہمت کے داغ سے) پاک نہ ہو سکتا لیکن اللہ جسے چاہتا ہے پاک فرما دیتا ہے، اور اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہےo

22. اور تم میں سے (دینی) بزرگی والے اور (دنیوی) کشائش والے (اب) اس بات کی قَسم نہ کھائیں کہ وہ (اس بہتان کے جرم میں شریک) رشتہ داروں اور محتاجوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو (مالی امداد نہ) دیں گے انہیں چاہئے کہ (ان کا قصور) معاف کر دیں اور (ان کی غلطی سے) درگزر کریں، کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے، اور اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہےo

23. بیشک جو لوگ ان پارسا مومن عورتوں پر جو (برائی کے تصور سے بھی) بے خبر اور ناآشنا ہیں (ایسی) تہمت لگاتے ہیں وہ دنیا اور آخرت (دونوں جہانوں) میں ملعون ہیں اور ان کے لئے زبردست عذاب ہےo

24. جس دن (خود) ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں انہی کے خلاف گواہی دیں گے کہ جو کچھ وہ کرتے رہے تھےo

25. اس دن اللہ انہیں ان (کے اعمال) کی پوری پوری جزا جس کے وہ صحیح حق دار ہیں دے دے گا اور وہ جان لیں گے کہ اللہ (خود بھی) حق ہے (اور حق کو) ظاہر فرمانے والا (بھی) ہےo

26. ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لئے (مخصوص) ہیں اور پلید مرد پلید عورتوں کے لئے ہیں، اور (اسی طرح) پاک و طیب عورتیں پاکیزہ مردوں کے لئے (مخصوص) ہیں اور پاک و طیب مرد پاکیزہ عورتوں کے لئے ہیں (سو تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پاکیزگی و طہارت کو دیکھ کر خود سوچ لیتے کہ اللہ نے ان کے لئے زوجہ بھی کس قدر پاکیزہ و طیب بنائی ہوگی)، یہ (پاکیزہ لوگ) ان (تہمتوں) سے کلیتًا بری ہیں جو یہ (بدزبان) لوگ کہہ رہے ہیں، ان کے لئے (تو) بخشائش اور عزت و بزرگی والی عطا (مقدر ہو چکی) ہے (تم ان کی شان میں زبان درازی کر کے کیوں اپنا منہ کالا اور اپنی آخرت تباہ و برباد کرتے ہو)o

27. اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو، یہاں تک کہ تم ان سے اجازت لے لو اور ان کے رہنے والوں کو (داخل ہوتے ہی) سلام کہا کرو، یہ تمہارے لئے بہتر (نصیحت) ہے تاکہ تم (اس کی حکمتوں میں) غور و فکر کروo

28. پھر اگر تم ان (گھروں) میں کسی شخص کو موجود نہ پاؤ تو تم ان کے اندر مت جایا کرو یہاں تک کہ تمہیں (اس بات کی) اجازت دی جائے اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس چلے جاؤ تو تم واپس پلٹ جایا کرو، یہ تمہارے حق میں بڑی پاکیزہ بات ہے، اور اللہ ان کاموں سے جو تم کرتے ہو خوب آگاہ ہےo

29. اس میں تم پر گناہ نہیں کہ تم ان مکانات (و عمارات) میں جو کسی کی مستقل رہائش گاہ نہیں ہیں (مثلاً ہوٹل، سرائے اور مسافر خانے وغیرہ میں بغیر اجازت کے) چلے جاؤ (کہ) ان میں تمہیں فائدہ اٹھانے کا حق (حاصل) ہے، اور اللہ ان (سب باتوں) کو جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہوo

30. آپ مومن مَردوں سے فرما دیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں، یہ ان کے لئے بڑی پاکیزہ بات ہے۔ بیشک اللہ ان کاموں سے خوب آگاہ ہے جو یہ انجام دے رہے ہیںo

31. اور آپ مومن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے (اسی حصہ) کے جو اس میں سے خود ظاہر ہوتا ہے اور وہ اپنے سروں پر اوڑھے ہوئے دوپٹے (اور چادریں) اپنے گریبانوں اور سینوں پر (بھی) ڈالے رہا کریں اور وہ اپنے بناؤ سنگھار کو (کسی پر) ظاہر نہ کیا کریں سوائے اپنے شوہروں کے یا اپنے باپ دادا یا اپنے شوہروں کے باپ دادا کے یا اپنے بیٹوں یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجوں یا اپنے بھانجوں کے یا اپنی (ہم مذہب، مسلمان) عورتوں یا اپنی مملوکہ باندیوں کے یا مردوں میں سے وہ خدمت گار جو خواہش و شہوت سے خالی ہوں یا وہ بچے جو (کم سِنی کے باعث ابھی) عورتوں کی پردہ والی چیزوں سے آگاہ نہیں ہوئے (یہ بھی مستثنٰی ہیں) اور نہ (چلتے ہوئے) اپنے پاؤں (زمین پر اس طرح) مارا کریں کہ (پیروں کی جھنکار سے) ان کا وہ سنگھار معلوم ہو جائے جسے وہ (حکمِ شریعت سے) پوشیدہ کئے ہوئے ہیں، اور تم سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو اے مومنو! تاکہ تم (ان احکام پر عمل پیرا ہو کر) فلاح پا جاؤo

32. اور تم اپنے مردوں اور عورتوں میں سے ان کا نکاح کر دیا کرو جو (عمرِ نکاح کے باوجود) بغیر ازدواجی زندگی کے (رہ رہے) ہوں اور اپنے باصلاحیت غلاموں اور باندیوں کا بھی (نکاح کر دیا کرو)، اگر وہ محتاج ہوں گے (تو) اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا، اور اللہ بڑی وسعت والا بڑے علم والا ہےo

33. اور ایسے لوگوں کو پاک دامنی اختیار کرنا چاہئے جو نکاح (کی استطاعت) نہیں پاتے یہاں تک کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی فرما دے، اور تمہارے زیردست (غلاموں اور باندیوں) میں سے جو مکاتب (کچھ مال کما کر دینے کی شرط پر آزاد) ہونا چاہیں تو انہیں مکاتب (مذکورہ شرط پر آزاد) کر دو اگر تم ان میں بھلائی جانتے ہو، اور تم (خود بھی) انہیں اللہ کے مال میں سے (آزاد ہونے کے لئے) دے دو جو اس نے تمہیں عطا فرمایا ہے، اور تم اپنی باندیوں کو دنیوی زندگی کا فائدہ حاصل کرنے کے لئے بدکاری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ پاک دامن (یا حفاطتِ نکاح میں) رہنا چاہتی ہیں، اور جو شخص انہیں مجبور کرے گا تو اللہ ان کے مجبور ہو جانے کے بعد (بھی) بڑا بخشنے والا مہربان ہےo

34. اور بیشک ہم نے تمہاری طرف واضح اور روشن آیتیں نازل فرمائی ہیں اور کچھ ان لوگوں کی مثالیں (یعنی قصۂ عائشہ کی طرح قصۂ مریم اور قصۂ یوسف) جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور (یہ) پرہیزگاروں کے لئے نصیحت ہےo

35. اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اس کے نور کی مثال (جو نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شکل میں دنیا میں روشن ہے) اس طاق (نما سینۂ اقدس) جیسی ہے جس میں چراغِ (نبوت روشن) ہے؛ (وہ) چراغ، فانوس (قلبِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں رکھا ہے۔ (یہ) فانوس (نورِ الٰہی کے پرتَو سے اس قدر منور ہے) گویا ایک درخشندہ ستارہ ہے (یہ چراغِ نبوت) جو زیتون کے مبارک درخت سے (یعنی عالم قدس کے بابرکت رابطہ وحی سے یا انبیاء و رسل ہی کے مبارک شجرۂ نبوت سے) روشن ہوا ہے نہ (فقط) شرقی ہے اور نہ غربی (بلکہ اپنے فیضِ نور کی وسعت میں عالم گیر ہے) ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تیل (خود ہی) چمک رہا ہے اگرچہ ابھی اسے (وحی ربّانی اور معجزاتِ آسمانی کی) آگ نے چھوا بھی نہیں، (وہ) نور کے اوپر نور ہے (یعنی نورِ وجود پر نورِ نبوت گویا وہ ذات دوہرے نور کا پیکر ہے)، اللہ جسے چاہتا ہے اپنے نور (کی معرفت) تک پہنچا دیتا ہے، اور اللہ لوگوں (کی ہدایت) کے لئے مثالیں بیان فرماتا ہے، اور اللہ ہر چیز سے خوب آگاہ ہےo

36. (اللہ کا یہ نور) ایسے گھروں (مساجد اور مراکز) میں (میسر آتا ہے) جن (کی قدر و منزلت) کے بلند کئے جانے اور جن میں اللہ کے نام کا ذکر کئے جانے کا حکم اللہ نے دیا ہے (یہ وہ گھر ہیں کہ اللہ والے) ان میں صبح و شام اس کی تسبیح کرتے ہیںo

37. (اللہ کے اس نور کے حامل) وہی مردانِ (خدا) ہیں جنہیں تجارت اور خرید و فروخت نہ اللہ کی یاد سے غافل کرتی ہے اور نہ نماز قائم کرنے سے اور نہ زکوٰۃ ادا کرنے سے (بلکہ دنیوی فرائض کی ادائیگی کے دوران بھی) وہ (ہمہ وقت) اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں (خوف کے باعث) دل اور آنکھیں (سب) الٹ پلٹ ہو جائیں گیo

38. تاکہ اللہ انہیں ان (نیک) اعمال کا بہتر بدلہ دے جو انہوں نے کئے ہیں اور اپنے فضل سے انہیں اور (بھی) زیادہ (عطا) فرما دے، اور اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق (و عطا) سے نوازتا ہےo

39. اور کافروں کے اعمال چٹیل میدان میں سراب کی مانند ہیں جس کو پیاسا پانی سمجھتا ہے۔ یہاں تک کہ جب اس کے پاس آتا ہے تو اسے کچھ (بھی) نہیں پاتا (اسی طرح اس نے آخرت میں) اللہ کو اپنے پاس پایا مگر اللہ نے اس کا پورا حساب (دنیا میں ہی) چکا دیا تھا، اور اللہ جلد حساب کرنے والا o

4ہے0. یا (کافروں کے اعمال) اس گہرے سمندر کی تاریکیوں کی مانند ہیں جسے موج نے ڈھانپا ہوا ہو (پھر) اس کے اوپر ایک اور موج ہو (اور) اس کے اوپر بادل ہوں (یہ تہ در تہ) تاریکیاں ایک دوسرے کے اوپر ہیں، جب (ایسے سمندر میں ڈوبنے والا کوئی شخص) اپنا ہاتھ باہر نکالے تو اسے (کوئی بھی) دیکھ نہ سکے، اور جس کے لئے اللہ ہی نے نورِ (ہدایت) نہیں بنایا تو اس کے لئے (کہیں بھی) نور نہیں ہوتاo

41. کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہے وہ (سب) اللہ ہی کی تسبیح کرتے ہیں اور پرندے (بھی فضاؤں میں) پر پھیلائے ہوئے (اسی کی تسبیح کرتے ہیں)، ہر ایک (اللہ کے حضور) اپنی نماز اور اپنی تسبیح کو جانتا ہے، اور اللہ ان کاموں سے خوب آگاہ ہے جو وہ انجام دیتے ہیںo

42. اور سارے آسمانوں اور زمین کی حکمرانی اللہ ہی کی ہے، اور سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہےo

43. کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی بادل کو (پہلے) آہستہ آہستہ چلاتا ہے پھر اس (کے مختلف ٹکڑوں) کو آپس میں ملا دیتا ہے پھر اسے تہ بہ تہ بنا دیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے درمیان خالی جگہوں سے بارش نکل کر برستی ہے، اور وہ اسی آسمان (یعنی فضا) میں برفانی پہاڑوں کی طرح (دکھائی دینے والے) بادلوں میں سے اولے برساتا ہے، پھر جس پر چاہتا ہے ان اولوں کو گراتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ان کو پھیر دیتا ہے (مزید یہ کہ انہی بادلوں سے بجلی بھی پیدا کرتا ہے)، یوں لگتا ہے کہ اس (بادل) کی بجلی کی چمک آنکھوں (کو خیرہ کر کے ان) کی بینائی اچک لے جائے گیo

44. اور اللہ رات اور دن کو (ایک دوسرے کے اوپر) پلٹتا رہتا ہے، اور بیشک اس میں عقل و بصیرت والوں کے لئے (بڑی) رہنمائی ہےo

45. اور اللہ نے ہر چلنے پھرنے والے (جاندار) کی پیدائش (کی کیمیائی ابتداء) پانی سے فرمائی، پھر ان میں سے بعض وہ ہوئے جو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں اور ان میں سے بعض وہ ہوئے جو دو پاؤں پر چلتے ہیں، اور ان میں سے بعض وہ ہوئے جو چار (پیروں) پر چلتے ہیں، اللہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا رہتا ہے، بیشک اللہ ہر چیز پر بڑا قادر ہےo

46. یقیناً ہم نے واضح اور روشن بیان والی آیتیں نازل فرمائی ہیں، اور اللہ (ان کے ذریعے) جسے چاہتا ہے سیدھی راہ کی طرف ہدایت فرما دیتا ہےo

47. اور وہ (لوگ) کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے ہیں اور اطاعت کرتے ہیں پھر اس (قول) کے بعد ان میں سے ایک گروہ (اپنے اقرار سے) رُوگردانی کرتا ہے، اور یہ لوگ (حقیقت میں) مومن (ہی) نہیں ہیںo

48. اور جب ان لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بلایا جاتا ہے کہ وہ ان کے درمیان فیصلہ فرما دے تو اس وقت ان میں سے ایک گروہ (دربارِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آنے سے) گریزاں ہوتا ہےo

49. اور اگر وہ حق والے ہوتے تو وہ اس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف مطیع ہو کر تیزی سے چلے آتےo

50. کیا ان کے دلوں میں (منافقت کی) بیماری ہے یا وہ (شانِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں) شک کرتے ہیں یا وہ اس بات کا اندیشہ رکھتے ہیں کہ اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پر ظلم کریں گے، (نہیں) بلکہ وہی لوگ خود ظالم ہیںo

51. ایمان والوں کی بات تو فقط یہ ہوتی ہے کہ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ فرمائے تو وہ یہی کچھ کہیں کہ ہم نے سن لیا، اور ہم (سراپا) اطاعت پیرا ہو گئے، اور ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیںo

52. اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرتا ہے اور اللہ سے ڈرتا اور اس کا تقوٰی اختیار کرتا ہے پس ایسے ہی لوگ مراد پانے والے ہیںo

53. اور وہ لوگ اللہ کی بڑی بھاری (تاکیدی) قَسمیں کھاتے ہیں کہ اگر آپ انہیں حکم دیں تو وہ (جہاد کے لئے) ضرور نکلیں گے، آپ فرما دیں کہ تم قَسمیں مت کھاؤ (بلکہ) معروف طریقہ سے فرمانبرداری (درکار) ہے، بیشک اللہ ان کاموں سے خوب آگاہ ہے جو تم کرتے ہوo

54. فرما دیجئے: تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو، پھر اگر تم نے (اطاعت) سے رُوگردانی کی تو (جان لو) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ وہی کچھ ہے جو ان پر لازم کیا گیا اور تمہارے ذمہ وہ ہے جو تم پر لازم کیا گیا ہے، اور اگر تم ان کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جاؤ گے، اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر (احکام کو) صریحاً پہنچا دینے کے سوا (کچھ لازم) نہیں ہےo

55. اللہ نے ایسے لوگوں سے وعدہ فرمایا ہے (جس کا ایفا اور تعمیل امت پر لازم ہے) جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ ضرور انہی کو زمین میں خلافت (یعنی امانتِ اقتدار کا حق) عطا فرمائے گا جیسا کہ اس نے ان لوگوں کو (حقِ) حکومت بخشا تھا جو ان سے پہلے تھے اور ان کے لئے ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند فرمایا ہے (غلبہ و اقتدار کے ذریعہ) مضبوط و مستحکم فرما دے گا اور وہ ضرور (اس تمکّن کے باعث) ان کے پچھلے خوف کو (جو ان کی سیاسی، معاشی اور سماجی کمزوری کی وجہ سے تھا) ان کے لئے امن و حفاظت کی حالت سے بدل دے گا، وہ (بے خوف ہو کر) میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے (یعنی صرف میرے حکم اور نظام کے تابع رہیں گے)، اور جس نے اس کے بعد ناشکری (یعنی میرے احکام سے انحراف و انکار) کو اختیار کیا تو وہی لوگ فاسق (و نافرمان) ہوں گےo

56. اور تم نماز (کے نظام) کو قائم رکھو اور زکوٰۃ کی ادائیگی (کا انتظام) کرتے رہو اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی (مکمل) اطاعت بجا لاؤ تاکہ تم پر رحم فرمایا جائے (یعنی غلبہ و اقتدار، استحکام اور امن و حفاظت کی نعمتوں کو برقرار رکھا جائے)o

57. اور یہ خیال ہر گز نہ کرنا کہ انکار و ناشکری کرنے والے لوگ زمین میں (اپنے ہلاک کئے جانے سے اللہ کو) عاجز کر دیں گے، اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہےo

58. اے ایمان والو! چاہئے کہ تمہارے زیردست (غلام اور باندیاں) اور تمہارے ہی وہ بچے جو (ابھی) جوان نہیں ہوئے (تمہارے پاس آنے کے لئے) تین مواقع پر تم سے اجازت لیا کریں: (ایک) نمازِ فجر سے پہلے اور (دوسرے) دوپہر کے وقت جب تم (آرام کے لئے) کپڑے اتارتے ہو اور (تیسرے) نمازِ عشاء کے بعد (جب تم خواب گاہوں میں چلے جاتے ہو)، (یہ) تین (وقت) تمہارے پردے کے ہیں، ان (اوقات) کے علاوہ نہ تم پر کوئی گناہ ہے اور نہ ان پر، (کیونکہ بقیہ اوقات میں وہ) تمہارے ہاں کثرت کے ساتھ ایک دوسرے کے پاس آتے جاتے رہتے ہیں، اسی طرح اللہ تمہارے لئے آیتیں واضح فرماتا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا حکمت والا ہےo

59. اور جب تم میں سے بچے حدِ بلوغ کو پہنچ جائیں تو وہ (تمہارے پاس آنے کے لئے) اجازت لیا کریں جیسا کہ ان سے پہلے (دیگر بالغ افراد) اجازت لیتے رہتے ہیں۔ اس طرح اللہ تمہارے لئے اپنے احکام خُوب واضح فرماتا ہے، اور اللہ خوب علم والا اور حکمت والا ہےo

60. اور وہ بوڑھی خانہ نشین عورتیں جنہیں (اب) نکاح کی خواہش نہیں رہی ان پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے (اوپر سے ڈھانپنے والے اضافی) کپڑے اتار لیں بشرطیکہ وہ (بھی) اپنی آرائش کو ظاہر کرنے والی نہ بنیں، اور اگر وہ (مزید) پرہیزگاری اختیار کریں (یعنی زائد اوڑھنے والے کپڑے بھی نہ اتاریں) تو ان کے لئے بہتر ہے، اور اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہےo

61. اندھے پر کوئی رکاوٹ نہیں اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج ہے اور نہ بیمار پر کوئی گناہ ہے اور نہ خود تمہارے لئے (کوئی مضائقہ ہے) کہ تم اپنے گھروں سے (کھانا) کھا لو یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا جن گھروں کی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہیں (یعنی جن میں ان کے مالکوں کی طرف سے تمہیں ہر قسم کے تصرف کی اجازت ہے) یا اپنے دوستوں کے گھروں سے (کھانا کھا لینے میں مضائقہ نہیں)، تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ تم سب کے سب مل کر کھاؤ یا الگ الگ، پھر جب تم گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنے (گھر والوں) پر سلام کہا کرو (یہ) اللہ کی طرف سے بابرکت پاکیزہ دعا ہے، اس طرح اللہ اپنی آیتوں کو تمہارے لئے واضح فرماتا ہے تاکہ تم (احکامِ شریعت اور آدابِ زندگی کو) سمجھ سکوo

62. ایمان والے تو وہی لوگ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے ہیں اور جب وہ آپ کے ساتھ کسی ایسے (اجتماعی) کام پر حاضر ہوں جو (لوگوں کو) یکجا کرنے والا ہو تو وہاں سے چلے نہ جا ئیں (یعنی امت میں اجتماعیت اور وحدت پیدا کرنے کے عمل میں دل جمعی سے شریک ہوں) جب تک کہ وہ (کسی خاص عذر کے باعث) آپ سے اجازت نہ لے لیں، (اے رسولِ معظّم!) بیشک جو لوگ (آپ ہی کو حاکم اور مَرجَع سمجھ کر) آپ سے اجازت طلب کرتے ہیں وہی لوگ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان رکھنے والے ہیں، پھر جب وہ آپ سے اپنے کسی کام کے لئے (جانے کی) اجازت چاہیں تو آپ (حاکم و مختار ہیں) ان میں سے جسے چاہیں اجازت مرحمت فرما دیں اور ان کے لئے (اپنی مجلس سے اجازت لے کر جانے پر بھی) اللہ سے بخشش مانگیں (کہ کہیں اتنی بات پر بھی گرفت نہ ہو جائے)، بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہےo

63. (اے مسلمانو!) تم رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کو بلانے کی مثل قرار نہ دو (جب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلانا تمہارے باہمی بلاوے کی مثل نہیں تو خود رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی تمہاری مثل کیسے ہو سکتی ہے)، بیشک اللہ ایسے لوگوں کو (خوب) جانتا ہے جو تم میں سے ایک دوسرے کی آڑ میں (دربارِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) چپکے سے کھسک جاتے ہیں، پس وہ لوگ ڈریں جو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے امرِ (ادب) کی خلاف ورزی کر رہے ہیں کہ (دنیا میں ہی) انہیں کوئی آفت آپہنچے گی یا (آخرت میں) ان پر دردناک عذاب آن پڑے گاo

64. خبردار! جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) اللہ ہی کا ہے، وہ یقیناً جانتا ہے جس حال پر تم ہو (ایمان پر ہو یا منافقت پر)، اور جس دن لوگ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے تو وہ انہیں بتا دے گا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہےo


سُورة الْفُرْقَان

1. (وہ اللہ) بڑی برکت والا ہے جس نے (حق و باطل میں فرق اور) فیصلہ کرنے والا (قرآن) اپنے (محبوب و مقرّب) بندہ پر نازل فرمایا تاکہ وہ تمام جہانوں کے لئے ڈر سنانے والا ہو جائےo

2. وہ (اللہ) کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کے لئے ہے اور جس نے نہ (اپنے لئے) کوئی اولاد بنائی ہے اور نہ بادشاہی میں اس کا کوئی شریک ہے اور اسی نے ہر چیز کو پیدا فرمایا ہے پھر اس (کی بقا و ارتقاء کے ہر مرحلہ پر اس کے خواص، افعال اور مدت، الغرض ہر چیز) کو ایک مقررہ اندازے پر ٹھہرایا ہےo

3. اور ان (مشرکین) نے اللہ کو چھوڑ کر اور معبود بنا لئے ہیں جو کوئی چیز بھی پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ خود پیدا کئے گئے ہیں اور نہ ہی وہ اپنے لئے کسی نقصان کے مالک ہیں اور نہ نفع کے اور نہ وہ موت کے مالک ہیں اور نہ حیات کے اور نہ (ہی مرنے کے بعد) اٹھا کر جمع کرنے کا (اختیار رکھتے ہیں)o

4. اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) محض افتراء ہے جسے اس (مدعئ رسالت) نے گھڑ لیا ہے اور اس (کے گھڑنے) پر دوسرے لوگوں نے اس کی مدد کی ہے، بیشک کافر ظلم اور جھوٹ پر (اتر) آئے ہیںo

5. اور کہتے ہیں: (یہ قرآن) اگلوں کے افسانے ہیں جن کو اس شخص نے لکھوا رکھا ہے پھر وہ (افسانے) اسے صبح و شام پڑھ کر سنائے جاتے ہیں (تاکہ انہیں یاد کر کے آگے سنا سکے)o

6. فرما دیجئے: اِس (قرآن) کو اُس (اللہ) نے نازل فرمایا ہے جو آسمانوں اور زمین میں (موجود) تمام رازوں کو جانتا ہے، بیشک وہ بڑا بخشنے والا مہربان ہےo

7. اور وہ کہتے ہیں کہ اس رسول کو کیا ہوا ہے، یہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ اس کی طرف کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا کہ وہ اس کے ساتھ (مل کر) ڈر سنانے والا ہوتاo

8. یا اس کی طرف کوئی خزانہ اتار دیا جاتا یا (کم از کم) اس کا کوئی باغ ہوتا جس (کی آمدنی) سے وہ کھایا کرتا اور ظالم لوگ (مسلمانوں) سے کہتے ہیں کہ تم تو محض ایک سحر زدہ شخص کی پیروی کر رہے ہوo

9. (اے حبیبِ مکرّم!) ملاحظہ فرمائیے یہ لوگ آپ کے لئے کیسی (کیسی) مثالیں بیان کرتے ہیں پس یہ گمراہ ہو چکے ہیں سو یہ (ہدایت کا) کوئی راستہ نہیں پا سکتےo

10. وہ بڑی برکت والا ہے اگر چاہے تو آپ کے لئے (دنیا ہی میں) اس سے (کہیں) بہتر باغات بنا دے جن کے نیچے سے نہریں رواں ہوں اور آپ کے لئے عالی شان محلات بنا دے (مگر نبوت و رسالت کے لئے یہ شرائط نہیں ہیں)o

11. بلکہ انہوں نے قیامت کو (بھی) جھٹلا دیا ہے، اور ہم نے (ہر) اس شخص کے لئے جو قیامت کو جھٹلاتا ہے (دوزخ کی) بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہےo

12. جب وہ (آتشِ دوزخ) دور کی جگہ سے (ہی) ان کے سامنے ہوگی یہ اس کے جوش مارنے اور چنگھاڑنے کی آواز کو سنیں گےo

13. اور جب وہ اس میں کسی تنگ جگہ سے زنجیروں کے ساتھ جکڑے ہوئے (یا اپنے شیطانوں کے ساتھ بندھے ہوئے) ڈالے جائیں گے اس وقت وہ (اپنی) ہلاکت کو پکاریں گےo

14. (ان سے کہا جائے گا آج (صرف) ایک ہی ہلاکت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی ہلاکتوں کو پکاروo

15. فرما دیجئے: کیا یہ (حالت) بہتر ہے یا دائمی جنت (کی زندگی) جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے، یہ ان (کے اعمال) کی جزا اور ٹھکانا ہےo

16. ان کے لئے ان (جنتوں) میں وہ (سب کچھ میسّر) ہوگا جو وہ چاہیں گے (اس میں) ہمیشہ رہیں گے، یہ آپ کے رب کے ذمۂ (کرم) پر مطلوبہ وعدہ ہے (جو پورا ہو کر رہے گا)o

17. اور اس دن اللہ انہیں اور ان کو، جن کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتے تھے، جمع کرے گا، پھر فرمائے گا: کیا تم نے ہی میرے ان بندوں کو گمراہ کر دیا تھا یا وہ (خود) ہی راہ سے بھٹک گئے تھےo

18. وہ کہیں گے: تیری ذات پاک ہے ہمیں (تو) یہ بات (بھی) زیبا نہ تھی کہ ہم تیرے سوا اوروں کو دوست (ہی) بنائیں (چہ جائے کہ ہم انہیں تیرے غیر کی عبادت کا کہتے) لیکن (اے مولا!) تو نے انہیں اور ان کے باپ دادا کو (دنیوی مال و اسباب سے) اتنا بہرہ مند فرمایا، یہاں تک کہ وہ تیری یاد (بھی) بھول گئے، اور یہ (بدبخت) ہلاک ہونے والے لوگ (ہی) تھےo

19. سو (اے کافرو!) انہوں نے (تو) ان باتوں میں تمہیں جھٹلا دیا ہے جو تم کہتے تھے پس (اب) تم نہ تو عذاب پھیرنے کی طاقت رکھتے ہو اور نہ (اپنی) مدد کی، اور (سن لو!) تم میں سے جو شخص (بھی) ظلم کرتا ہے ہم اسے بڑے عذاب کا مزہ چکھائیں گےo

20. اور ہم نے آپ سے پہلے رسول نہیں بھیجے مگر (یہ کہ) وہ کھانا (بھی) یقیناً کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی (حسبِ ضرورت) چلتے پھرتے تھے اور ہم نے تم کو ایک دوسرے کے لئے آزمائش بنایا ہے، کیا تم (آزمائش پر) صبر کرو گے؟ اور آپ کا رب خوب دیکھنے والا ہےo
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-02-11, 03:26 PM   #22
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,228
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default پارہ نمبر 19

پاره وَقَالَ الَّذِينَ

21. اور جو لوگ ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے یا ہم اپنے رب کو (اپنی آنکھوں سے) دیکھ لیتے (تو پھر ضرور ایمان لے آتے)، حقیقت میں یہ لوگ اپنے دِلوں میں (اپنے آپ کو) بہت بڑا سمجھنے لگے ہیں اور حد سے بڑھ کر سرکشی کر رہے ہیںo

22. جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے (تو) اس دن مجرموں کے لئے چنداں خوشی کی بات نہ ہوگی بلکہ وہ (انہیں دیکھ کر ڈرتے ہوئے) کہیں گے: کوئی روک والی آڑ ہوتی (جو ہمیں ان سے بچا لیتی یا فرشتے انہیں دیکھ کر کہیں گے کہ تم پر داخلۂ جنت قطعاً ممنوع ہے)o

23. اور (پھر) ہم ان اعمال کی طرف متوجہ ہوں گے جو (بزعمِ خویش) انہوں نے (زندگی میں) کئے تھے تو ہم انہیں بکھرا ہوا غبار بنا دیں گےo

24. اس دن اہلِ جنت کی قیام گاہ (بھی) بہتر ہوگی اور آرام گاہ بھی خوب تر (جہاں وہ حساب و کتاب کی دوپہر کے بعد جا کر قیلولہ کریں گے)o

25. اور اس دن آسمان پھٹ کر بادل (کی طرح دھوئیں) میں بدل جائے گا اور فرشتے گروہ در گروہ اتارے جائیں گےo

26. اس دن سچی حکمرانی صرف (خدائے) رحمان کی ہوگی اور وہ دن کافروں پر سخت (مشکل) ہوگاo

27. اور اس دن ہر ظالم (غصہ اور حسرت سے) اپنے ہاتھوں کو کاٹ کاٹ کھائے گا (اور) کہے گا: کاش! میں نے رسولِ (اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیّت میں (آکر ہدایت کا) راستہ اختیار کر لیا ہوتاo

28. ہائے افسوس! کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتاo

29. بیشک اس نے میرے پاس نصیحت آجانے کے بعد مجھے اس سے بہکا دیا، اور شیطان انسان کو (مصیبت کے وقت) بے یار و مددگار چھوڑ دینے والا ہےo

30. اور رسولِ (اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرض کریں گے: اے رب! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو بالکل ہی چھوڑ رکھا تھاo

31. اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے جرائم شعار لوگوں میں سے (ان کے) دشمن بنائے تھے (جو ان کے پیغمبرانہ مشن کی مخالفت کرتے اور اس طرح حق اور باطل قوتوں کے درمیان تضاد پیدا ہوتا جس سے انقلاب کے لئے سازگار فضا تیار ہو جاتی تھی)، اور آپ کا رب ہدایت کرنے اور مدد فرمانے کے لئے کافی ہےo

32. اور کافر کہتے ہیں کہ اس (رسول) پر قرآن ایک ہی بار (یک جا کرکے) کیوں نہیں اتارا گیا؟ یوں (تھوڑا تھوڑا کر کے اسے) تدریجاً اس لئے اتارا گیا ہے تاکہ ہم اس سے آپ کے قلبِ (اطہر) کو قوت بخشیں اور (اسی وجہ سے) ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا ہے (تاکہ آپ کو ہمارے پیغام کے ذریعے بار بار سکونِ قلب ملتا رہے)o

33. اور یہ (کفار) آپ کے پاس کوئی (ایسی) مثال (سوال اور اعتراض کے طور پر) نہیں لاتے مگر ہم آپ کے پاس (اس کے جواب میں) حق اور (اس سے) بہتر وضاحت کا بیان لے آتے ہیںo

34. (یہ) ایسے لوگ ہیں جو اپنے چہروں کے بل دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے یہی لوگ ہیں جو ٹھکانے کے لحاظ سے نہایت برے اور راستے سے (بھی) بہت بہکے ہوئے ہیںo

35. اور بیشک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی اور ہم نے ان کے ساتھ (ان کی معاونت کے لئے) ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو وزیر بنایاo

36. پھر ہم نے کہا: تم دونوں اس قوم کے پاس جاؤ جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے (جب وہ ہماری تکذیب سے پھر بھی باز نہ آئے) تو ہم نے انہیں بالکل ہی ہلاک کر ڈالاo

37. اور نوح (علیہ السلام) کی قوم کو (بھی)، جب انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا (تو) ہم نے انہیں غرق کر ڈالا اور ہم نے انہیں (دوسرے) لوگوں کے لئے نشانِ عبرت بنا دیا اور ہم نے ظالموں کے لئے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہےo

38. اور عاد اور ثمود اور باشندگانِ رس کو، اور ان کے درمیان بہت سی(اور) امتوں کو (بھی ہلاک کر ڈالا)o

39. اور ہم نے (ان میں سے) ہر ایک (کی نصیحت) کے لئے مثالیں بیان کیں اور (جب وہ سرکشی سے باز نہ آئے تو) ہم نے ان سب کو نیست و نابود کر دیاo

40. اور بیشک یہ (کفار) اس بستی پر سے گزرے ہیں جس پر بری طرح (پتھروں کی) بارش برسائی گئی تھی، تو کیا یہ اس (تباہ شدہ بستی) کو دیکھتے نہ تھے بلکہ یہ تو (مرنے کے بعد) اٹھائے جانے کی امید ہی نہیں رکھتےo

41. اور (اے حبیبِ مکرّم!) جب (بھی) وہ آپ کو دیکھتے ہیں آپ کا مذاق اڑانے کے سوا کچھ نہیں کرتے (اور کہتے ہیں کیا یہی وہ (شخص) ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہےo

42. قریب تھا کہ یہ ہمیں ہمارے معبودوں سے بہکا دیتا اگر ہم ان (کی پرستش) پر ثابت قدم نہ رہتے اور وہ عنقریب جان لیں گے جس وقت عذاب دیکھیں گے کہ کون زیادہ گمراہ تھاo

43. کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے؟ تو کیا آپ اس پر نگہبان بنیں گےo

44. کیا آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے یا سمجھتے ہیں؟ (نہیں) وہ تو چوپایوں کی مانند (ہو چکے) ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر گمراہ ہیںo

45. کیا آپ نے اپنے رب (کی قدرت) کی طرف نگاہ نہیں ڈالی کہ وہ کس طرح (دوپہر تک) سایہ دراز کرتا ہے اور اگر وہ چاہتا تو اسے ضرور ساکن کر دیتا پھر ہم نے سورج کو اس (سایہ) پر دلیل بنایا ہےo

46. پھر ہم آہستہ آہستہ اس (سایہ) کو اپنی طرف کھینچ کر سمیٹ لیتے ہیںo

47. اور وہی ہے جس نے تمہارے لئے رات کو پوشاک (کی طرح ڈھانک لینے والا) بنایا اور نیند کو (تمہارے لئے) آرام (کا باعث) بنایا اور دن کو (کام کاج کے لئے) اٹھ کھڑے ہونے کا وقت بنایاo

48. اور وہی ہے جو اپنی رحمت (کی بارش) سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری بنا کر بھیجتا ہے، اور ہم ہی آسمان سے پاک (صاف کرنے والا) پانی اتارتے ہیںo

49. تاکہ اس کے ذریعے ہم (کسی بھی) مُردہ شہر کو زندگی بخشیں اور (مزید یہ کہ) ہم یہ (پانی) اپنے پیدا کئے ہوئے بہت سے چوپایوں اور (بادیہ نشین) انسانوں کو پلائیںo

50. اور بیشک ہم اس (بارش) کو ان کے درمیان (مختلف شہروں اور وقتوں کے حساب سے) گھماتے (رہتے) ہیں تاکہ وہ غور و فکر کریں پھر بھی اکثر لوگوں نے بجز ناشکری کے (کچھ) قبول نہ کیاo

51. اور اگر ہم چاہتے تو ہر ایک بستی میں ایک ڈر سنانے والا بھیج دیتےo

52. پس (اے مردِ مومن!) تو کافروں کا کہنا نہ مان اور تو اس (قرآن کی دعوت اور دلائل) کے ذریعے ان کے ساتھ بڑا جہاد کرo

53. اور وہی ہے جس نے دو دریاؤں کو ملا دیا۔ یہ (ایک) میٹھا نہایت شیریں ہے اور یہ (دوسرا) کھاری نہایت تلخ ہے۔ اور اس نے ان دونوں کے درمیان ایک پردہ اور مضبوط رکاوٹ بنا دیo

54. اور وہی ہے جس نے پانی (کی مانند ایک نطفہ) سے آدمی کو پیدا کیا پھر اسے نسب اور سسرال (کی قرابت) والا بنایا، اور آپ کا رب بڑی قدرت والا ہےo

55. اور وہ (کفار) اللہ کے سوا ان (بتوں) کی عبادت کرتے ہیں جو انہیں نہ (تو) نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ (ہی) انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں، اور کافر اپنے رب (کی نافرمانی) پر (ہمیشہ شیطان کا) مددگار ہوتا ہےo

56. اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر (اللہ کے اطاعت گزار بندوں کو) خوشخبری سنانے والا اور (بغاوت شعار لوگوں کو) ڈر سنانے والا بنا کرo

57. آپ فرما دیجئے کہ میں تم سے اس (تبلیغ) پر کچھ بھی معاوضہ نہیں مانگتا مگر جو شخص اپنے رب تک (پہنچنے کا) راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے (کرلے)o

58. اور آپ اس (ہمیشہ) زندہ رہنے والے (رب) پر بھروسہ کیجئے جو کبھی نہیں مرے گا اور اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہئے، اور اس کا اپنے بندوں کے گناہوں سے باخبر ہونا کافی ہےo

59. جس نے آسمانی کرّوں اور زمین کو اور اس (کائنات) کو جو ان دونوں کے درمیان ہے چھ اَدوار میں پیدا فرمایا٭ پھر وہ (حسبِ شان) عرش پر جلوہ افروز ہوا (وہ) رحمان ہے، (اے معرفتِ حق کے طالب!) تو اس کے بارے میں کسی باخبر سے پوچھ (بے خبر اس کا حال نہیں جانتے)o
٭ (ستۃ ایام سے مراد چھ اَدوارِ تخلیق ہیں، معروف معنٰی میں چھ دن نہیں کیونکہ یہاں تو خود زمین اور جملہ آسمانی کرّوں، کہکشاؤں، ستاروں، سیاروں اور خلاؤں کی پیدائش کا زمانہ بیان ہو رہا ہے، اس وقت رات اور دن کا وجود کہاں تھا؟)
60. اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم رحمان کو سجدہ کرو تو وہ (منکرینِ حق) کہتے ہیں کہ رحمان کیا (چیز) ہے؟ کیا ہم اسی کو سجدہ کرنے لگ جائیں جس کا آپ ہمیں حکم دے دیں اور اس (حکم) نے انہیں نفرت میں اور بڑھا دیاo

61. وہی بڑی برکت و عظمت والا ہے جس نے آسمانی کائنات میں (کہکشاؤں کی شکل میں) سماوی کرّوں کی وسیع منزلیں بنائیں اور اس میں (سورج کو روشنی اور تپش دینے والا) چراغ بنایا اور (اس نظامِ شمسی کے اندر) چمکنے والا چاند بنایاo

62. اور وہی ذات ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے گردش کرنے والا بنایا اس کے لئے جو غور و فکر کرنا چاہے یا شکر گزاری کا ارادہ کرے (ان تخلیقی قدرتوں میں نصیحت و ہدایت ہے)o

63. اور (خدائے) رحمان کے (مقبول) بندے وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں اور جب ان سے جاہل (اکھڑ) لوگ (ناپسندیدہ) بات کرتے ہیں تو وہ سلام کہتے (ہوئے الگ ہو جاتے) ہیںo

64. اور (یہ) وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کے لئے سجدہ ریزی اور قیامِ (نِیاز) میں راتیں بسر کرتے ہیںo

65. اور (یہ) وہ لوگ ہیں جو (ہمہ وقت حضورِ باری تعالیٰ میں) عرض گزار رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! تو ہم سے دوزخ کا عذاب ہٹا لے، بیشک اس کا عذاب بڑا مہلک (اور دائمی) ہےo

66. بیشک وہ (عارضی ٹھہرنے والوں کے لئے) بُری قرار گاہ اور (دائمی رہنے والوں کے لئے) بُری قیام گاہ ہےo

67. اور (یہ) وہ لوگ ہیں کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ بے جا اڑاتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں اور ان کا خرچ کرنا (زیادتی اور کمی کی) ان دو حدوں کے درمیان اعتدال پر (مبنی) ہوتا ہےo

68. اور (یہ) وہ لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی پوجا نہیں کرتے اور نہ (ہی) کسی ایسی جان کو قتل کرتے ہیں جسے بغیرِ حق مارنا اللہ نے حرام فرمایا ہے اور نہ (ہی) بدکاری کرتے ہیں، اور جو شخص یہ کام کرے گا وہ سزائے گناہ پائے گاo

69. اس کے لئے قیامت کے دن عذاب دو گنا کر دیا جائے گا اور وہ اس میں ذلت و خواری کے ساتھ ہمیشہ رہے گاo

70. مگر جس نے توبہ کر لی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیا تو یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ جن کی برائیوں کو نیکیوں سے بدل دے گا، اور اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہےo

71. اور جس نے توبہ کر لی اور نیک عمل کیا تو اس نے اللہ کی طرف (وہ) رجوع کیا جو رجوع کا حق تھاo

72. اور (یہ) وہ لوگ ہیں جو کذب اور باطل کاموں میں (قولاً اور عملاً دونوں صورتوں میں) حاضر نہیں ہوتے اور جب بے ہودہ کاموں کے پاس سے گزرتے ہیں تو (دامن بچاتے ہوئے) نہایت وقار اور متانت کے ساتھ گزر جاتے ہیںo

73. اور (یہ) وہ لوگ ہیں کہ جب انہیں ان کے رب کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو ان پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گر پڑتے (بلکہ غور و فکر بھی کرتے ہیں)o

74. اور (یہ) وہ لوگ ہیں جو (حضورِ باری تعالیٰ میں) عرض کرتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما، اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا دےo

75. انہی لوگوں کو (جنت میں) بلند ترین محلات ان کے صبر کرنے کی جزا کے طور پر بخشے جائیں گے اور وہاں دعائے خیر اور سلام کے ساتھ ان کا استقبال کیا جائے گاo

76. یہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں وہ (بلند محلاتِ جنت) بہترین قرار گاہ اور (عمدہ) قیام گاہ ہیںo

77. فرما دیجئے: میرے رب کو تمہاری کوئی پرواہ نہیں اگر تم (اس کی) عبادت نہ کرو، پس واقعی تم نے (اسے) جھٹلایا ہے تو اب یہ (جھٹلانا تمہارے لئے) دائمی عذاب بنا رہے گاo


سُورة الشُّعَرَآء

1. طا، سین، میم (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)o

2. یہ (حق کو) واضح کرنے والی کتاب کی آیتیں ہیںo

3. (اے حبیبِ مکرّم!) شاید آپ (اس غم میں) اپنی جانِ (عزیز) ہی دے بیٹھیں گے کہ وہ ایمان نہیں لاتےo

4. اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے (ایسی) نشانی اتار دیں کہ ان کی گردنیں اس کے آگے جھکی رہ جائیںo

5. اور ان کے پاس (خدائے) رحمان کی جانب سے کوئی نئی نصیحت نہیں آتی مگر وہ اس سے رُوگرداں ہو جاتے ہیںo

6. سو بیشک وہ (حق کو) جھٹلا چکے پس عنقریب انہیں اس امر کی خبریں پہنچ جائیں گی جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھےo

7. اور کیا انہوں نے زمین کی طرف نگاہ نہیں کی کہ ہم نے اس میں کتنی ہی نفیس چیزیں اگائی ہیںo

8. بیشک اس میں ضرور (قدرتِ الٰہیہ کی) نشانی ہے اور ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیںo

9. اور یقیناً آپ کا رب ہی تو غالب، مہربان ہےo

10. اور (وہ واقعہ یاد کیجئے) جب آپ کے رب نے موسٰی (علیہ السلام) کو نِدا دی کہ تم ظالموں کی قوم کے پاس جاؤo

11. (یعنی) قومِ فرعون کے پاس، کیا وہ (اللہ سے) نہیں ڈرتےo

12. موسٰی (علیہ السلام) نے عرض کیا: اے رب! میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گےo

13. اور (ایسے ناسازگار ماحول میں) میرا سینہ تنگ ہوجاتا ہے اور میری زبان (روانی سے) نہیں چلتی سو ہارون (علیہ السلام) کی طرف (بھی جبرائیل علیہ السلام کو وحی کے ساتھ) بھیج دے (تاکہ وہ میرا معاون بن جائے)o

14. اور ان کا میرے اوپر (قبطی کو مار ڈالنے کا) ایک الزام بھی ہے سو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر ڈالیں گےo

15. ارشاد ہوا: ہرگز نہیں، پس تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ بیشک ہم تمہارے ساتھ (ہر بات) سننے والے ہیںo

16. پس تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو: ہم سارے جہانوں کے پروردگار کے (بھیجے ہوئے) رسول ہیںo

17. (ہمارا مدعا یہ ہے) کہ تو بنی اسرائیل کو (آزادی دے کر) ہمارے ساتھ بھیج دےo

18. (فرعون نے) کہا: کیا ہم نے تمہیں اپنے یہاں بچپن کی حالت میں پالا نہیں تھا اور تم نے اپنی عمر کے کتنے ہی سال ہمارے اندر بسر کئے تھےo

19. اور (پھر) تم نے اپنا وہ کام کر ڈالا جو تم نے کیا تھا (یعنی ایک قبطی کو قتل کر دیا) اور تم ناشکر گزاروں میں سے ہو (ہماری پرورش اور احسانات کو بھول گئے ہو)o

20. (موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: جب میں نے وہ کام کیا میں بے خبر تھا (کہ کیا ایک گھونسے سے اس کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے)o

21. پھر میں (اس وقت) تمہارے (دائرہ اختیار) سے نکل گیا جب میں تمہارے (ارادوں) سے خوفزدہ ہوا پھر میرے رب نے مجھے حکمِ (نبوت) بخشا اور (بالآخر) مجھے رسولوں میں شامل فرما دیاo

22. اور کیا وہ (کوئی) بھلائی ہے جس کا تو مجھ پر احسان جتا رہا ہے (اس کا سبب بھی یہ تھا) کہ تو نے (میری پوری قوم) بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھاo

23. فرعون نے کہا: سارے جہانوں کا پروردگار کیا چیز ہےo

24. (موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: (وہ) جملہ آسمانوں کا اور زمین کا اور اُس (ساری کائنات) کا رب ہے جو ان دونوں کے درمیان ہے اگر تم یقین کرنے والے ہوo

25. اس نے ان (لوگوں) سے کہا جو اس کے گرد (بیٹھے) تھے: کیا تم سن نہیں رہے ہوo

26. (موسٰی علیہ السلام نے مزید) کہا کہ (وہی) تمہارا (بھی) رب ہے اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا (بھی) رب ہےo

27. (فرعون نے) کہا: بیشک تمہارا رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے ضرور دیوانہ ہےo

28. (موسٰی علیہ السلام نے) کہا: (وہ) مشرق اور مغرب اور اس (ساری کائنات) کا رب ہے جو ان دونوں کے درمیان ہے اگر تم (کچھ) عقل رکھتے ہوo

29. (فرعون نے) کہا: (اے موسٰی!) اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تم کو ضرور (گرفتار کر کے) قیدیوں میں شامل کر دوں گاo

30. (موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: اگرچہ میں تیرے پاس کوئی واضح چیز (بطور معجزہ بھی) لے آؤںo

31. (فرعون نے) کہا: تم اسے لے آؤ اگر تم سچے ہوo

32. پس (موسیٰ علیہ السلام نے) اپنا عصا (زمین پر) ڈال دیا وہ اسی وقت واضح (طور پر) اژدھا بن گیاo

33. اور (موسٰی علیہ السلام نے) اپنا ہاتھ (بغل میں ڈال کر) باہر نکالا تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کے لئے (چمک دار) سفید ہوگیاo

34. (فرعون نے) اپنے ارد گرد (بیٹھے ہوئے) سرداروں سے کہا: بلاشبہ یہ بڑا دانا جادوگر ہےo

35. یہ چاہتا ہے کہ تمہیں اپنے جادو (کے زور) سے تمہارے ملک سے باہر نکال دے پس تم (اب اس کے بارے میں) کیا رائے دیتے ہوo

36. وہ بولے کہ تو اسے اور اس کے بھائی (ہارون کے حکمِ سزا سنانے) کو مؤخر کر دے اور (تمام) شہروں میں (جادوگروں کو بلانے کے لئے) ہرکارے بھیج دےo

37. وہ تیرے پاس ہر بڑے ماہرِ فن جادوگر کو لے آئیںo

38. پس سارے جادوگر مقررہ دن کے معینہ وقت پر جمع کر لئے گئےo

39. اور (فرعون کی طرف سے) لوگوں کو کہا گیا کہ تم (اس موقع پر) جمع ہونے والے ہوo

40. تاکہ ہم جادوگروں (کے دین) کی پیروی کر سکیں اگر وہ (موسٰی اور ہارون پر) غالب آگئےo

41. پھر جب وہ جادوگر آگئے (تو) انہوں نے فرعون سے کہا: کیا ہمارے لئے کوئی اُجرت (بھی مقرر) ہے اگر ہم (مقابلہ میں) غالب ہو جائیںo

42. (فرعون نے) کہا: ہاں بیشک تم اسی وقت (اجرت والوں کی بجائے میرے) قربت والوں میں شامل ہو جاؤ گے (اور قربت کا درجہ اُجرت سے کہیں بلند ہے)o

43. موسٰی (علیہ السلام) نے ان (جادوگروں سے) فرمایا: تم وہ (جادو کی) چیزیں ڈال دو جو تم ڈالنے والے ہوo

44. تو انہوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں ڈال دیں اور کہنے لگے: فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب ہوں گےo

45. پھر موسٰی (علیہ السلام) نے اپنا ڈنڈا ڈال دیا تو وہ (اژدھا بن کر) فوراً ان چیزوں کو نگلنے لگا جو انہوں نے فریب کاری سے (اپنی اصل حقیقت سے) پھیر رکھی تھیںo

46. پس سارے جادوگر سجدہ کرتے ہوئے گر پڑےo

47. وہ کہنے لگے: ہم سارے جہانوں کے پروردگار پر ایمان لے آئےo

48. (جو) موسٰی اور ہارون (علیہما السلام) کا رب ہےo

49. (فرعون نے) کہا: تم اس پر ایمان لے آئے ہو قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دیتا، بیشک یہ (موسٰی علیہ السلام) ہی تمہارا بڑا (استاد) ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے، تم جلد ہی (اپنا انجام) معلوم کر لو گے، میں ضرور ہی تمہارے ہاتھ اور تمہارے پاؤں الٹی طرف سے کاٹ ڈالوں گا اور تم سب کو یقیناً سولی پر چڑھا دوں گاo

50. انہوں نے کہا: (اس میں) کوئی نقصان نہیں، بیشک ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیںo

51. ہم قوی امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہماری خطائیں معاف فرما دے گا، اس وجہ سے کہ (اب) ہم ہی سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیںo

52. اور ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ تم میرے بندوں کو راتوں رات (یہاں سے) لے جاؤ بیشک تمہارا تعاقب کیا جائے گاo

53. پھر فرعون نے شہروں میں ہرکارے بھیج دئیےo

54. (اور کہا بیشک یہ (بنی اسرائیل) تھوڑی سی جماعت ہےo

55. اور بلاشبہ وہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیںo

56. اور یقیناً ہم سب (بھی) مستعد اور چوکس ہیںo

57. پس ہم نے ان (فرعونیوں) کو باغوں اور چشموں سے نکال باہر کیاo

58. اور خزانوں اور نفیس قیام گاہوں سے (بھی نکال دیا)o

59. (ہم نے) اسی طرح (کیا) اور ہم نے بنی اسرائیل کو ان (سب چیزوں) کا وارث بنا دیاo

60. پھر سورج نکلتے وقت ان (فرعونیوں) نے ان کا تعاقب کیاo

61. پھر جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں (تو) موسٰی (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا: (اب) ہم ضرور پکڑے گئےo

62. (موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: ہرگز نہیں، بیشک میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ابھی مجھے راہِ (نجات) دکھا دے گاo

63. پھر ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ اپنا عصا دریا پر مارو، پس دریا (بارہ حصوں میں) پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا زبردست پہاڑ کی مانند ہو گیاo

64. اور ہم نے دوسروں (یعنی فرعون اور اس کے ساتھیوں) کو اس جگہ کے قریب کر دیاo

65. اور ہم نے موسٰی علیہ السلام کو (بھی) نجات بخشی اور ان سب لوگوں کو (بھی) جو ان کے ساتھ تھےo

66. پھر ہم نے دوسروں (یعنی فرعونیوں) کو غرق کر دیاo

67. بیشک اس (واقعہ) میں (قدرتِ الٰہیہ) کی بڑی نشانی ہے، اور ان میں سے اکثر لوگ مومن نہ تھےo

68. اور بیشک آپ کا رب ہی یقیناً غالب رحمت والا ہےo

69. اور آپ ان پر ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ (بھی) پڑھ کر سنا دیںo

70. جب انہوں نے اپنے باپ ٭ اور اپنی قوم سے فرمایا: تم کس چیز کو پوجتے ہوo
٭ (یہ حقیقی باپ نہ تھا، چچا تھا۔ اسی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پرورش کی تھی جس کی وجہ سے اسے باپ کہا کرتے تھے۔ اس کا نام آزر ہے جبکہ آپ کے حقیقی والد کا نام تارخ ہے۔)
71. انہوں نے کہا: ہم بتوں کی پرستش کرتے ہیں اور ہم انہی (کی عبادت و خدمت) کے لئے جمے رہنے والے ہیںo

72. (ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا: کیا وہ تمہیں سنتے ہیں جب تم (ان کو) پکارتے ہوo

73. یا وہ تمہیں نفع پہنچاتے ہیں یا نقصان پہنچاتے ہیںo

74. وہ بولے: (یہ تو معلوم نہیں) لیکن ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا تھاo

75. (ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا: کیا تم نے (کبھی ان کی حقیقت میں) غور کیا ہے جن کی تم پرستش کرتے ہوo

76. تم اور تمہارے اگلے آباء و اجداد (الغرض کسی نے بھی سوچا)o

77. پس وہ (سب بُت) میرے دشمن ہیں سوائے تمام جہانوں کے رب کے (وہی میرا معبود ہے)o

78. وہ جس نے مجھے پیدا کیا سو وہی مجھے ہدایت فرماتا ہےo

79. اور وہی ہے جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہےo

80. اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہےo

81. اور وہی مجھے موت دے گا پھر وہی مجھے (دوبارہ) زندہ فرمائے گاo

82. اور اسی سے میں امید رکھتا ہوں کہ روزِ قیامت وہ میری خطائیں معاف فرما دے گاo

83. اے میرے رب! مجھے علم و عمل میں کمال عطا فرما اور مجھے اپنے قربِ خاص کے سزاواروں میں شامل فرما لےo

84. اور میرے لئے بعد میں آنے والوں میں (بھی) ذکرِ خیر اور قبولیت جاری فرماo

85. اور مجھے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں سے بنا دےo

86. اور میرے باپ کو بخش دے بیشک وہ گمراہوں میں سے تھاo

87. اور مجھے (اُس دن) رسوا نہ کرنا جس دن لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گےo

88. جس دن نہ کوئی مال نفع دے گا اور نہ اولادo

89. مگر وہی شخص (نفع مند ہوگا) جو اللہ کی بارگاہ میں سلامتی والے بے عیب دل کے ساتھ حاضر ہواo

90. اور (اس دن) جنت پرہیزگاروں کے قریب کر دی جائے گےo

91. اور دوزخ گمراہوں کے سامنے ظاہر کر دی جائے گیo

92. اور ان سے کہا جائے گا: وہ (بت) کہاں ہیں جنہیں تم پوجتے تھےo

93. اللہ کے سوا، کیا وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں یا خود اپنی مدد کرسکتے ہیں؟ (کہ اپنے آپ کو دوزخ سے بچالیں)o

94. سو وہ (بت بھی) اس (دوزخ) میں اوندھے منہ گرا دیئے جائیں گے اور گمراہ لوگ (بھی)o

95. اور ابلیس کی ساری فوجیں (بھی واصل جہنم ہوں گی)o

96. وہ (گمراہ لوگ) اس (دوزخ) میں باہم جھگڑا کرتے ہوئے کہیں گےo

97. اللہ کی قسم! ہم کھلی گمراہی میں تھےo

98. جب ہم تمہیں سب جہانوں کے رب کے برابر ٹھہراتے تھےo

99. اور ہم کو (ان) مجرموں کے سوا کسی نے گمراہ نہیں کیاo

100. سو (آج) نہ کوئی ہماری سفارش کرنے والا ہےo

101. اور نہ کوئی گرم جوش دوست ہےo

102. سو کاش ہمیں ایک بار (دنیا میں) پلٹنا (نصیب) ہو جاتا تو ہم مومن ہوجاتےo

103. بیشک اس (واقعہ) میں (قدرتِ الٰہیہ کی) بڑی نشانی ہے، اور ان کے اکثر لوگ مومن نہ تھےo

104. اور بیشک آپ کا رب ہی یقیناً غالب رحمت والا ہےo

105. نوح (علیہ السلام) کی قوم نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایاo

106. جب ان سے ان کے (قومی) بھائی نوح (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہوo

107. بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول (بن کر آیا) ہوںo

108. سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کروo

109. اور میں تم سے اس (تبلیغِ حق) پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا، میرا اجر تو صرف سب جہانوں کے رب کے ذمہ ہےo

110. پس تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرادری کروo

111. وہ بولے: کیا ہم تم پر ایمان لے آئیں حالانکہ تمہاری پیروی (معاشرے کے) انتہائی نچلے اور حقیر (طبقات کے) لوگ کر رہے ہیںo

112. (نوح علیہ السلام نے) فرمایا: میرے علم کو ان کے (پیشہ وارانہ) کاموں سے کیا سروکارo

113. ان کا حساب تو صرف میرے رب ہی کے ذمہ ہے۔ کاش! تم سمجھتے (کہ حقیقی عزت و ذلت کیا ہے)o

114. اور میں مومنوں کو دھتکارنے والا نہیں ہوںo

115. میں تو فقط کھلا ڈر سنانے والا ہوںo

116. وہ بولے: اے نوح! اگر تم (ان باتوں سے) باز نہ آئے تو تمہیں یقیناً سنگ سار کر دیا جائے گاo

117. (نوح علیہ السلام نے) عرض کیا: اے میرے رب! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیاo

118. پس تو میرے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے اور مجھے اور ان مومنوں کو جو میرے ساتھ ہیں نجات دے دےo

119. پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ بھری ہوئی کشتی میں (سوار) تھے نجات دے دیo

120. پھر اس کے بعد ہم نے باقی ماندہ لوگوں کو غرق کر دیاo

121. بیشک اس (واقعہ) میں (قدرتِ الٰہیہ کی) بڑی نشانی ہے اور ان کے اکثر لوگ مومن نہ تھےo

122. اور بیشک آپ کا رب ہی یقیناً غالب رحمت والا ہےo

123. (قومِ) عاد نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایاo

124. جب ا سے ان کے (قومی) بھائی ھود (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہوo

125. بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول (بن کر آیا) ہوںo

126. سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کروo

127. اور میں تم سے اس (تبلیغِ حق) پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا ، میرا اجر تو فقط تمام جہانوں کے رب کے ذمہ ہےo

128. کیا تم ہر اونچی جگہ پر ایک یادگار تعمیر کرتے ہو (محض) تفاخر اور فضول مشغلوں کے لئےo

129. اور تم (تالابوں والے) مضبوط محلات بناتے ہو اس امید پر کہ تم (دنیا میں) ہمیشہ رہو گےo

130. اور جب تم کسی کی گرفت کرتے ہو تو سخت ظالم و جابر بن کر گرفت کرتے ہوo

131. سو تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری اختیار کروo

132. اور اس (اللہ) سے ڈرو جس نے تمہاری ان چیزوں سے مدد کی جو تم جانتے ہوo

133. اس نے تمہاری چوپایہ جانوروں اور اولاد سے مدد فرمائیo

134. اور باغات اور چشموں سے (بھی)o

135. بیشک میں تم پر ایک زبردست دن کے عذاب کا خوف رکھتا ہوںo

136. وہ بولے: ہمارے حق میں برابر ہے خواہ تم نصیحت کرو یا نصیحت کرنے والوں میں نہ بنو (ہم نہیں مانیں گے)o

137. یہ (اور) کچھ نہیں مگر صرف پہلے لوگوں کی عادات (و اطوار) ہیں (جنہیں ہم چھوڑ نہیں سکتے)o

138. اور ہم پر عذاب نہیں کیا جائے گاo

139. سو انہوں نے اس کو (یعنی ھود علیہ السلام کو) جھٹلا دیا پس ہم نے انہیں ہلاک کر ڈالا، بیشک اس (قصہ) میں (قدرتِ الٰہیہ کی) بڑی نشانی ہے، اور ان میں سے اکثر لوگ مومن نہ تھےo

140. اور بیشک آپ کا رب ہی یقیناً غالب رحمت والا ہےo

141. (قومِ) ثمود نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایاo

142. جب ان سے ان کے (قومی) بھائی صالح (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہوo

143. بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول (بن کر آیا) ہوںo

144. پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کروo

145. اور میں تم سے اس (تبلیغِ حق) پر کچھ معاوضہ طلب نہیں کرتا، میرا اجر تو صرف سارے جہانوں کے پروردگار کے ذمہ ہےo

146. کیا تم ان (نعمتوں) میں جو یہاں (تمہیں میسر) ہیں (ہمیشہ کے لئے) امن و اطمینان سے چھوڑ دیئے جاؤ گےo

147. (یعنی یہاں کے) باغوں اور چشموں میںo

148. اور کھیتوں اور کھجوروں میں جن کے خوشے نرم و نازک ہوتے ہیںo

149. اور تم (سنگ تراشی کی) مہارت کے ساتھ پہاڑوں میں تراش (تراش) کر مکانات بناتے ہوo

150. پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کروo

151. اور حد سے تجاوز کرنے والوں کا کہنا نہ مانوo

152. جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور (معاشرہ کی) اصلاح نہیں کرتےo

153. وہ بولے کہ تم تو فقط جادو زدہ لوگوں میں سے ہوo

154. تم تو محض ہمارے جیسے بشر ہو، پس تم کوئی نشانی لے آؤ اگر تم سچے o

1ہو55. (صالح علیہ السلام نے) فرمایا: (وہ نشانی) یہ اونٹنی ہے پانی کا ایک وقت اس کے لئے (مقرر) ہے اور ایک مقررہ دن تمہارے پانی کی باری ہےo

156. اور اِسے برائی (کے ارادہ) سے ہاتھ مت لگانا ورنہ بڑے (سخت) دن کا عذاب تمہیں آپکڑے گاo

157. پھر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں (سو اسے ہلاک کر دیا) پھر وہ (اپنے کئے پر) پشیمان ہو گئےo

158. سو انہیں عذاب نے آپکڑا، بیشک اس (واقعہ) میں بڑی نشانی ہے، اور ان میں سے اکثر لوگ مومن نہ تھےo

159. اور بیشک آپ کا رب ہی بڑا غالب رحمت والا ہےo

160. قومِ لوط نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایاo

161. جب ان سے ان کے (قومی) بھائی لوط (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہوo

162. بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول (بن کر آیا) ہوںo

163. پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت اختیار کروo

164. اور میں تم سے اس (تبلیغِ حق) پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا، میرا اجر تو صرف تمام جہانوں کے رب کے ذمہ ہےo

165. کیا تم سارے جہان والوں میں سے صرف مَردوں ہی کے پاس (اپنی شہوانی خواہشات پوری کرنے کے لئے) آتے ہوo

166. اور اپنی بیویوں کو چھوڑ دیتے ہو جو تمہارے رب نے تمہارے لئے پیدا کی ہیں، بلکہ تم (سرکشی میں) حد سے نکل جانے والے لوگ ہوo

167. وہ بولے: اے لوط! اگر تم (ان باتوں سے) باز نہ آئے تو تم ضرور شہر بدر کئے جانے والوں میں سے ہو جاؤ گےo

168. (لوط علیہ السلام نے) فرمایا: بیشک میں تمہارے عمل سے بیزار ہونے والوں میں سے ہوںo

169. اے رب! تو مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کام کے وبال) سے نجات عطا فرما جو یہ کر رہے ہیںo

170. پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات عطا فرما دیo

171. سوائے ایک بوڑھی عورت کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھیo

172. پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیاo

173. اور ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش برسائی سو ڈرائے ہوئے لوگوں کی بارش کتنی تباہ کن تھیo

174. بیشک اس (واقعہ) میں بڑی نشانی ہے اور ان کے اکثر لوگ مومن نہ تھےo

175. اور بیشک آپ کا رب ہی بڑا غالب رحمت والا ہےo

176. باشندگانِ ایکہ (یعنی جنگل کے رہنے والوں) نے (بھی) رسولوں کو جھٹلایاo

177. جب ان سے شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہوo

178. بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول (بن کر آیا) ہوںo

179. پس تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری اختیار کروo

180. اور میں تم سے اس (تبلیغِ حق) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر تو صرف تمام جہانوں کے رب کے ذمہ ہےo

181. تم پیمانہ پورا بھرا کرو اور (لوگوں کے حقوق کو) نقصان پہنچانے والے نہ بنوo

182. اور سیدھی ترازو سے تولا کروo

183. اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم (تول کے ساتھ) مت دیا کرو اور ملک میں (ایسی اخلاقی، مالی اور سماجی خیانتوں کے ذریعے) فساد انگیزی مت کرتے پھروo

184. اور اس (اللہ) سے ڈرو جس نے تم کو اور پہلی امتوں کو پیدا فرمایاo

185. وہ کہنے لگے: (اے شعیب!) تم تو محض جادو زدہ لوگوں میں سے ہوo

186. اور تم فقط ہمارے جیسے بشر ہی تو ہو اور ہم تمہیں یقیناً جھوٹے لوگوں میں سے خیال کرتے ہیںo

187. پس تم ہمارے اوپر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو اگر تم سچے ہوo

188. (شعیب علیہ السلام نے) فرمایا: میرا رب ان (کارستانیوں) کو خوب جاننے والا ہے جو تم انجام دے رہے ہوo

189. سو انہوں نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلا دیا پس انہیں سائبان کے دن کے عذاب نے آپکڑا، بیشک وہ زبردست دن کا عذاب تھاo

190. بیشک اس (واقعہ) میں بڑی نشانی ہے اور ان کے اکثر لوگ مومن نہ تھے۔o

191. اور بیشک آپ کا رب ہی بڑا غالب رحمت والا ہےo

192. اور بیشک یہ (قرآن) سارے جہانوں کے رب کا نازل کردہ ہےo

193. اسے روح الامین (جبرائیل علیہ السلام) لے کر اترا ہےo

194. آپ کے قلبِ (انور) پر تاکہ آپ (نافرمانوں کو) ڈر سنانے والوں میں سے ہو جائیںo

195. (اس کا نزول) فصیح عربی زبان میں (ہوا) ہےo

196. اور بیشک یہ پہلی امتوں کے صحیفوں میں (بھی مذکور) ہےo

197. اور کیا ان کے لئے (صداقتِ قرآن اور صداقتِ نبوتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی) یہ دلیل (کافی) نہیں ہے کہ اسے بنی اسرائیل کے علماء (بھی) جانتے ہیںo

198. اور اگر ہم اسے غیر عربی لوگوں (یعنی عجمیوں) میں سے کسی پر نازل کرتےo

199. سو وہ اس کو ان لوگوں پر پڑھتا تو (بھی) یہ لوگ اس پر ایمان لانے والے نہ ہوتےo

200. اس طرح ہم نے اس (کے انکار) کو مجرموں کے دلوں میں پختگی سے داخل کر دیا ہےo

201. وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ درد ناک عذاب دیکھ لیںo

202. پس وہ (عذاب) انہیں اچانک آپہنچے گا اور انہیں شعور (بھی) نہ ہوگاo

203. تب وہ کہیں گے: کیا ہمیں مہلت دی جائے گیo

204. کیا یہ ہمارے عذاب میں جلدی کے طلب گار ہیںo

205. بھلا بتائیے اگر ہم انہیں برسوں فائدہ پہنچاتے رہیںo

206. پھر ان کے پاس وہ (عذاب) آپہنچے جس کا ان سے وعدہ کیا جار ہا ہےo

207. (تو) وہ چیزیں (ان سے عذاب کو دفع کرنے میں) کیا کام آئیں گی جن سے وہ فائدہ اٹھاتے رہے تھےo

208. اور ہم نے سوائے ان (بستیوں) کے جن کے لئے ڈرانے والے (آچکے) تھے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیاo

209. (اور یہ بھی) نصیحت کے لئے اور ہم ظالم نہ تھےo

210. اور شیطان اس (قرآن) کو لے کرنہیں اترےo

211. نہ (یہ) ان کے لئے سزاوار ہے اور نہ وہ (اس کی) طاقت رکھتے ہیںo

212. بیشک وہ (اس کلام کے) سننے سے روک دیئے گئے ہیںo

213. پس (اے بندے!) تو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہ پوجا کر ورنہ تو عذاب یافتہ لوگوں میں سے ہو جائے گاo

214. اور (اے حبیبِ مکرّم!) آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو (ہمارے عذاب سے) ڈرائیےo

215. اور آپ اپنا بازوئے (رحمت و شفقت) ان مومنوں کے لئے بچھا دیجئے جنہوں نے آپ کی پیروی اختیار کر لی ہےo

216. پھر اگر وہ آپ کی نافرمانی کریں تو آپ فرما دیجئے کہ میں ان اعمالِ (بد) سے بیزار ہوں جو تم انجام دے رہے ہوo

217. اور بڑے غالب مہربان (رب) پر بھروسہ رکھیےo

218. جو آپ کو (رات کی تنہائیوں میں بھی) دیکھتا ہے جب آپ (نمازِ تہجد کے لئے) قیام کرتے ہیںo

219. اور سجدہ گزاروں میں (بھی) آپ کا پلٹنا دیکھتا (رہتا) ہےo

220. بیشک وہ خوب سننے والا جاننے والا ہےo

221. کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کس پر اترتے ہیںo

222. وہ ہر جھوٹے (بہتان طراز) گناہگار پر اترا کرتے ہیںo

223. جو سنی سنائی باتیں (ان کے کانوں میں) ڈال دیتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیںo

224. اور شاعروں کی پیروی بہکے ہوئے لوگ ہی کرتے ہیںo

225. کیا تو نے نہیں دیکھا کہ وہ (شعراء) ہر وادئ (خیال) میں (یونہی) سرگرداں پھرتے رہتے ہیں (انہیں حق میں سچی دلچسپی اور سنجیدگی نہیں ہوتی بلکہ فقط لفظی و فکری جولانیوں میں مست اور خوش رہتے ہیں)o

226. اور یہ کہ وہ (ایسی باتیں) کہتے ہیں جنہیں (خود) کرتے نہیں ہیںo

227. سوائے ان (شعراء) کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہے (یعنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدح خواں بن گئے) اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد (ظالموں سے بزبانِ شعر) انتقام لیا (اور اپنے کلام کے ذریعے اسلام اور مظلوموں کا دفاع کیا بلکہ ان کاجوش بڑھایا تو یہ شاعری مذموم نہیں)، اور وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا عنقریب جان لیں گے کہ وہ (مرنے کے بعد) کونسی پلٹنے کی جگہ پلٹ کر جاتے ہیںo


سُورة النَّمْل

1. طا، سین (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)، یہ قرآن اور روشن کتاب کی آیتیں ہیںo

2. (جو) ہدایت ہے اور (ایسے) ایمان والوں کے لئے خوشخبری ہےo

3. جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہی ہیں جو آخرت پر (بھی) یقین رکھتے ہیںo

4. بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے اَعمالِ (بد ان کی نگاہوں میں) خوش نما کر دیئے ہیں سو وہ (گمراہی میں) سرگرداں رہتے ہیںo

5. یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے بُرا عذاب ہے اور یہی لوگ آخرت میں (سب سے) زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیںo

6. اور بیشک آپ کو (یہ) قرآن بڑے حکمت والے، علم والے (رب) کی طرف سے سکھایا جا رہا ہےo

7. (وہ واقعہ یاد کریں) جب موسٰی (علیہ السلام) نے اپنی اہلیہ سے فرمایا کہ میں نے ایک آگ دیکھی ہے (یا مجھے ایک آگ میں شعلۂ انس و محبت نظر آیا ہے)، عنقریب میں تمہارے پاس اس میں سے کوئی خبر لاتا ہوں (جس کے لئے مدت سے دشت و بیاباں میں پھر رہے ہیں) یا تمہیں (بھی اس میں سے) کوئی چمکتا ہوا انگارا لا دیتا ہوں تاکہ تم (بھی اس کی حرارت سے) تپ اٹھوo

8. پھر جب وہ اس کے پاس آپہنچے تو آواز دی گئی کہ بابرکت ہے جو اس آگ میں (اپنے حجاب نور کی تجلی فرما رہا) ہے اور وہ (بھی) جو اس کے آس پاس (اُلوہی جلووں کے پرتَو میں) ہے، اور اللہ (ہر قسم کے جسم و مثال سے) پاک ہے جو سارے جہانوں کا رب ہےo

9. اے موسٰی! بیشک وہ (جلوہ فرمانے والا) میں ہی اللہ ہوں جو نہایت غالب حکمت والا ہےo

10. اور (اے موسٰی!) اپنی لاٹھی (زمین پر) ڈال دو، پھر جب (موسٰی نے لاٹھی کو زمین پر ڈالنے کے بعد) اسے دیکھا کہ سانپ کی مانند تیز حرکت کر رہی ہے تو (فطری رد ِعمل کے طور پر) پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر (بھی) نہ دیکھا، (ارشاد ہوا): اے موسٰی! خوف نہ کرو بیشک پیغمبر میرے حضور ڈرا نہیں کرتےo

11. مگر جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد (اسے) نیکی سے بدل دیا تو بیشک میں بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہوںo

12. اور تم اپنا ہاتھ اپنے گریبان کے اندر ڈالو وہ بغیر کسی عیب کے سفید چمک دار (ہو کر) نکلے گا، (یہ دونوں اللہ کی) نو نشانیوں میں (سے) ہیں (انہیں لے کر) فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔ بیشک وہ نافرمان قوم ہیںo

13. پھر جب ان کے پاس ہماری نشانیاں واضح اور روشن ہو کر پہنچ گئیں تو وہ کہنے لگے کہ یہ کھلا جادو ہےo

14. اور انہوں نے ظلم اور تکبّر کے طور پر ان کا سراسر انکار کر دیا حالانکہ ان کے دل ان (نشانیوں کے حق ہونے) کا یقین کر چکے تھے۔ پس آپ دیکھئے کہ فساد بپا کرنے والوں کا کیسا (بُرا) انجام ہواo

15. اور بیشک ہم نے داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کو (غیر معمولی) علم عطا کیا، اور دونوں نے کہا کہ ساری تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت بخشی ہےo

16. اور سلیمان (علیہ السلام)، داؤد (علیہ السلام) کے جانشین ہوئے اور انہوں نے کہا: اے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی (بھی) سکھائی گئی ہے اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔ بیشک یہ (اللہ کا) واضح فضل ہےo

17. اور سلیمان (علیہ السلام) کے لئے ان کے لشکر جنّوں اور انسانوں اور پرندوں (کی تمام جنسوں) میں سے جمع کئے گئے تھے، چنانچہ وہ بغرضِ نظم و تربیت (ان کی خدمت میں) روکے جاتے تھےo

18. یہاں تک کہ جب وہ (لشکر) چیونٹیوں کے میدان پر پہنچے تو ایک چیونٹی کہنے لگی: اے چیونٹیو! اپنی رہائش گاہوں میں داخل ہو جاؤ کہیں سلیمان (علیہ السلام) اور ان کے لشکر تمہیں کچل نہ دیں اس حال میں کہ انہیں خبر بھی نہ ہوo

19. تو وہ (یعنی سلیمان علیہ السلام) اس (چیونٹی) کی بات سے ہنسی کے ساتھ مسکرائے اور عرض کیا: اے پروردگار! مجھے اپنی توفیق سے اس بات پر قائم رکھ کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا لاتا رہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر انعام فرمائی ہے اور میں ایسے نیک عمل کرتا رہوں جن سے تو راضی ہوتا ہے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے خاص قرب والے نیکوکار بندوں میں داخل فرما لےo

20. اور سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کا جائزہ لیا تو کہنے لگے: مجھے کیا ہوا ہے کہ میں ہدہد کو نہیں دیکھ پا رہا یا وہ (واقعی) غائب ہو گیا ہےo

21. میں اسے (بغیر اجازت غائب ہونے پر) ضرور سخت سزا دوں گا یا اسے ضرور ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے پاس (اپنے بے قصور ہونے کی) واضح دلیل لائے گاo

22. پس وہ تھوڑی ہی دیر (باہر) ٹھہرا تھا کہ اس نے (حاضر ہو کر) عرض کیا: مجھے ایک ایسی بات معلوم ہوئی ہے جس پر (شاید) آپ مطلع نہ تھے اور میں آپ کے پاس (ملکِ) سبا سے ایک یقینی خبر لایا ہوںo

23. میں نے (وہاں) ایک ایسی عورت کو پایا ہے جو ان (یعنی ملکِ سبا کے باشندوں) پر حکومت کرتی ہے اور اسے (ملکیت و اقتدار میں) ہر ایک چیز بخشی گئی ہے اور اس کے پاس بہت بڑا تخت ہےo

24. میں نے اسے اور اس کی قوم کو اللہ کی بجائے سورج کو سجدہ کرتے پایا ہے اور شیطان نے ان کے اَعمالِ (بد) ان کے لئے خوب خوش نما بنا دیئے ہیں اور انہیں (توحید کی) راہ سے روک دیا ہے سو وہ ہدایت نہیں پا رہےo

25. اس لئے (روکے گئے ہیں) کہ وہ اس اللہ کے حضور سجدہ ریز نہ ہوں جو آسمانوں اور زمین میں پوشیدہ (حقائق اور موجودات) کو باہر نکالتا (یعنی ظاہر کرتا) ہے اور ان (سب) چیزوں کو جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم آشکار کرتے ہوo

26. اللہ کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں (وہی) عظیم تختِ اقتدار کا مالک ہےo

27. (سلیمان علیہ السلام نے) فرمایا: ہم ابھی دیکھتے ہیں کیا تو سچ کہہ رہا ہے یا توجھوٹ بولنے والوں سے ہےo

28. میرا یہ خط لے جا اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے ہٹ آپھر دیکھ وہ کس بات کی طرف رجوع کرتے ہیںo

29. (ملکہ نے) کہا: اے سردارو! میری طرف ایک نامۂ بزرگ ڈالا گیا ہےo

30. بیشک وہ (خط) سلیمان (علیہ السلام) کی جانب سے (آیا) ہے اور وہ اللہ کے نام سے شروع (کیا گیا) ہے جو بے حد مہربان بڑا رحم فرمانے والا ہےo

31. (اس کامضمون یہ ہے) کہ تم لوگ مجھ پر سربلندی (کی کوشش) مت کرو اور فرمانبردار ہو کر میرے پاس آجاؤo

32. (ملکہ نے) کہا: اے دربار والو! تم مجھے میرے (اس) معاملہ میں مشورہ دو، میں کسی کام کا قطعی فیصلہ کرنے والی نہیں ہوں یہاں تک کہ تم میرے پاس حاضر ہو کر (اس اَمر کے موافق یا مخالف) گواہی دوo

33. انہوں نے کہا: ہم طاقتور اور سخت جنگ جُو ہیں مگر حکم آپ کے اختیار میں ہے سو آپ (خود ہی) غور کر لیں کہ آپ کیا حکم دیتی ہیںo

34. (ملکہ نے) کہا: بیشک جب بادشاہ کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تواسے تباہ و برباد کر دیتے ہیں اور وہاں کے باعزت لوگوں کو ذلیل و رسوا کر ڈالتے ہیں اور یہ (لوگ بھی) اسی طرح کریں گےo

35. اور بیشک میں ان کی طرف کچھ تحفہ بھیجنے والی ہوں پھر دیکھتی ہوں قاصد کیا جواب لے کر واپس لوٹتے ہیںo

36. سو جب وہ (قاصد) سلیمان (علیہ السلام) کے پاس آیا (تو سلیمان علیہ السلام نے اس سے) فرمایا: کیا تم لوگ مال و دولت سے میری مدد کرنا چاہتے ہو۔ سو جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے اس (دولت) سے بہتر ہے جو اس نے تمہیں عطا کی ہے بلکہ تم ہی ہو جو اپنے تحفہ سے فرحاں (اور) نازاں ہوo

37. تو ان کے پاس (تحفہ سمیت) واپس پلٹ جا سو ہم ان پر ایسے لشکروں کے ساتھ (حملہ کرنے) آئیں گے جن سے انہیں مقابلہ (کی طاقت) نہیں ہوگی اور ہم انہیں وہاں سے بے عزت کر کے اس حال میں نکالیں گے کہ وہ (قیدی بن کر) رسوا ہوں گےo

38. (سلیمان علیہ السلام نے) فرمایا: اے دربار والو! تم میں سے کون اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لا سکتا ہے قبل اس کے کہ وہ لوگ فرمانبردار ہو کر میرے پاس آجائیںo

39. ایک قوی ہیکل جِن نے عرض کیا: میں اسے آپ کے پاس لاسکتا ہوں قبل اس کے کہ آپ اپنے مقام سے اٹھیں اور بیشک میں اس (کے لانے) پر طاقتور (اور) امانت دار ہوںo

40. (پھر) ایک ایسے شخص نے عرض کیا جس کے پاس (آسمانی) کتاب کا کچھ علم تھا کہ میں اسے آپ کے پاس لا سکتا ہوں قبل اس کے کہ آپ کی نگاہ آپ کی طرف پلٹے (یعنی پلک جھپکنے سے بھی پہلے)، پھر جب (سلیمان علیہ السلام نے) اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا (تو) کہا: یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں شکر گزاری کرتا ہوں یا نا شکری، اور جس نے (اللہ کا) شکر ادا کیا سو وہ محض اپنی ہی ذات کے فائدہ کے لئے شکر مندی کرتا ہے اور جس نے ناشکری کی تو بیشک میرا رب بے نیاز، کرم فرمانے والا ہےo

41. (سلیمان علیہ السلام نے) فرمایا: اس(ملکہ کے امتحان) کے لئے اس کے تخت کی صورت اور ہیئت بدل دو ہم دیکھیں گے کہ آیا وہ (پہچان کی) راہ پاتی ہے یا ان میں سے ہوتی ہے جو سوجھ بوجھ نہیں رکھتےo

42. پھر جب وہ (ملکہ) آئی تو اس سے کہا گیا: کیا تمہارا تخت اسی طرح کا ہے، وہ کہنے لگی: گویا یہ وہی ہے اور ہمیں اس سے پہلے ہی (نبوتِ سلیمان کے حق ہونے کا) علم ہو چکا تھا اور ہم مسلمان ہو چکے ہیںo

43. اور اس (ملکہ) کو اس (معبودِ باطل) نے (پہلے قبولِ حق سے) روک رکھا تھا جس کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتی رہی تھی۔ بیشک وہ کافروں کی قوم میں سے تھیo

44. اس (ملکہ) سے کہا گیا: اس محل کے صحن میں داخل ہو جا (جس کے نیچے نیلگوں پانی کی لہریں چلتی تھیں)، پھر جب ملکہ نے اس (مزیّن بلوریں فرش) کو دیکھا تو اسے گہرے پانی کا تالاب سمجھا اور اس نے (پائینچے اٹھا کر) اپنی دونوں پنڈلیاں کھول دیں، سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا: یہ تو محل کا شیشوں جڑا صحن ہے، اس (ملکہ) نے عرض کیا: اے میرے پروردگار! (میں اسی طرح فریبِ نظر میں مبتلا تھی) بیشک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور اب میں سلیمان (علیہ السلام) کی معیّت میں اس اللہ کی فرمانبردار ہو گئی ہوں جو تمام جہانوں کا رب ہےo

45. اور بیشک ہم نے قومِ ثمود کے پاس ان کے (قومی) بھائی صالح (علیہ السلام) کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا کہ تم لوگ اللہ کی عبادت کرو تو اس وقت وہ دو فرقے ہو گئے جو آپس میں جھگڑتے تھےo

46. (صالح علیہ السلام نے) فرمایا: اے میری قوم! تم لوگ بھلائی (یعنی رحمت) سے پہلے برائی (یعنی عذاب) میں کیوں جلدی چاہتے ہو؟ تم اللہ سے بخشش کیوں طلب نہیں کرتے تاکہ تم پر رحم کیا جائےo

47. وہ کہنے لگے: ہمیں تم سے (بھی) نحوست پہنچی ہے اور ان لوگوں سے (بھی) جو تمہارے ساتھ ہیں۔ (صالح علیہ السلام نے) فرمایا: تمہاری نحوست (کا سبب) اللہ کے پاس (لکھا ہوا) ہے بلکہ تم لوگ فتنہ میں مبتلا کئے گئے ہوo

48. اور (قومِ ثمود کے) شہر میں نو سرکردہ لیڈر (جو اپنی اپنی جماعتوں کے سربراہ) تھے ملک میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھےo

49. (ان سرغنوں نے) کہا: تم آپس میں اللہ کی قسم کھا کر عہد کرو کہ ہم ضرور رات کو صالح (علیہ السلام) اور اس کے گھر والوں پر قاتلانہ حملہ کریں گے پھر ان کے وارثوں سے کہہ دیں گے کہ ہم ان کی ہلاکت کے موقع پر حاضر ہی نہ تھے اور بیشک ہم سچے ہیںo

50. اور انہوں نے خفیہ سازش کی اور ہم نے (بھی اس کے توڑ کے لئے) خفیہ تدبیر فرمائی اور انہیں خبر بھی نہ ہوئیo

51. تو آپ دیکھئے کہ ان کی (مکارانہ) سازش کا انجام کیسا ہوا، بیشک ہم نے ان (سرداروں) کو اور ان کی ساری قوم کو تباہ و برباد کر دیاo

52. سو یہ ان کے گھر ویران پڑے ہیں اس لئے کہ انہوں نے ظلم کیا تھا۔ بیشک اس میں اس قوم کے لئے (عبرت کی) نشانی ہے جو علم رکھتے ہیںo

53. اور ہم نے ان لوگوں کو نجات بخشی جو ایمان لائے اور تقوٰی شعار ہوئےo

54. اور لوط (علیہ السلام) کو (یاد کریں) جب انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا: کیا تم بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہو حالانکہ تم دیکھتے (بھی) ہوo

55. کیا تم اپنی نفسانی خواہش پوری کرنے کے لئے عورتوں کو چھوڑ کر مَردوں کے پاس جاتے ہو بلکہ تم جاہل لوگ ہوo

56. تو ان کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ کہنے لگے: تم لوط کے گھر والوں کو اپنی بستی سے نکال دو
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-02-11, 03:27 PM   #23
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,228
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default پارہ نمبر 20

پاره أَمَّنْ خَلَقَ

60. بلکہ وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اور تمہارے لئے آسمانی فضا سے پانی اتارا، پھر ہم نے اس (پانی) سے تازہ اور خوش نما باغات اُگائے؟ تمہارے لئے ممکن نہ تھا کہ تم ان (باغات) کے درخت اُگا سکتے۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور بھی) معبود ہے؟ بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو (راہِ حق سے) پرے ہٹ رہے ہیںo

61. بلکہ وہ کون ہے جس نے زمین کو قرار گاہ بنایا اور اس کے درمیان نہریں بنائیں اور اس کے لئے بھاری پہاڑ بنائے۔ اور (کھاری اور شیریں) دو سمندروں کے درمیان آڑ بنائی؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور بھی) معبود ہے؟ بلکہ ان (کفار) میں سے اکثر لوگ بے علم ہیںo

62. بلکہ وہ کون ہے جو بے قرار شخص کی دعا قبول فرماتا ہے جب وہ اسے پکارے اور تکلیف دور فرماتا ہے اور تمہیں زمین میں(پہلے لوگوں کا) وارث و جانشین بناتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور بھی) معبود ہے؟ تم لوگ بہت ہی کم نصیحت قبول کرتے ہوo

63. بلکہ وہ کون ہے جو تمہیں خشک و تر (یعنی زمین اور سمندر) کی تاریکیوں میں راستہ دکھاتا ہے اور جو ہواؤں کو اپنی (بارانِ) رحمت سے پہلے خوشخبری بنا کر بھیجتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور بھی) معبود ہے؟ اللہ ان (معبودانِ باطلہ) سے برتر ہے جنہیں وہ شریک ٹھہراتے ہیںo

64. بلکہ وہ کون ہے جو مخلوق کو پہلی بار پیدا فرماتا ہے پھر اسی (عملِ تخلیق) کو دہرائے گا اور جو تمہیں آسمان و زمین سے رزق عطا فرماتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور بھی)معبود ہے؟ فرما دیجئے: (اے مشرکو!) اپنی دلیل پیش کرو اگر تم سچے ہوo

65. فرمادیجئے کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں (اَز خود) غیب کا علم نہیں رکھتے سوائے اللہ کے (وہ عالم بالذّات ہے) اور نہ ہی وہ یہ خبر رکھتے ہیں کہ وہ (دوبارہ زندہ کر کے) کب اٹھائے جائیں گےo

66. بلکہ آخرت کے بارے میں ان کا علم (اپنی) انتہاء کو پہنچ کر منقطع ہوگیا، مگر وہ اس سے متعلق محض شک میں ہی (مبتلاء) ہیں، بلکہ وہ اس (کے علمِ قطعی) سے اندھے ہیںo

67. اور کافر لوگ کہتے ہیں: کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا (مَر کر) مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم (پھر زندہ کر کے قبروں میں سے) نکالے جائیں گےo

68. درحقیقت اس کا وعدہ ہم سے (بھی) کیا گیا اور اس سے پہلے ہمارے باپ دادا سے (بھی)، یہ اگلے لوگوں کے من گھڑت افسانوں کے سوا کچھ نہیںo

69. فرما دیجئے: تم زمین میں سیر و سیاحت کرو پھر دیکھو مجرموں کا انجام کیسا ہوا o

70. اور (اے حبیبِ مکرّم!) آپ ان (کی باتوں) پر غم زدہ نہ ہوا کریں اور نہ اس مکر و فریب کے باعث جو وہ کر رہے ہیں تنگ دلی میں (مبتلاء) ہوںo

71. اور وہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (بتاؤ) یہ (عذابِ آخرت کا) وعدہ کب پورا ہوگاo

72. فرما دیجئے: کچھ بعید نہیں کہ اس (عذاب) کا کچھ حصہ تمہارے نزدیک ہی آپہنچا ہو جسے تم بہت جلد طلب کر رہے ہوo

73. اور بیشک آپ کا رب لوگوں پر فضل (فرمانے) والا ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ شکر نہیں کرتےo

74. اور بیشک آپ کا رب ان (باتوں) کو ضرور جانتا ہے جو ان کے سینے (اندر) چھپائے ہوئے ہیں اور (ان باتوں کو بھی) جو یہ آشکار کرتے ہیںo

75. اور آسمان اور زمین میں کوئی (بھی) پوشیدہ چیز نہیں ہے مگر (وہ) روشن کتاب (لوح ِمحفوظ) میں (درج) ہےo

76. بیشک یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے وہ بیشتر چیزیں بیان کرتا ہے جن میں وہ اختلاف کرتے ہیںo

77. اور بیشک یہ ہدایت ہے اور مومنوں کے لئے رحمت ہےo

78. اور بیشک آپ کا رب ان (مومنوں اور کافروں) کے درمیان اپنے حکم (عدل) سے فیصلہ فرمائے گا، اور وہ غالب ہے بہت جاننے والا ہےo

79. پس آپ اللہ پر بھروسہ کریں بیشک آپ صریح حق پر (قائم اور فائز) ہیںo

80. بیشک آپ نہ (تو حیاتِ ایمانی سے محروم) مُردوں کو (حق کی بات) سنا سکتے ہیں اور نہ ہی (ایسے) بہروں کو (ہدایت کی) پکار سنا سکتے ہیں جبکہ وہ (غلبۂ کفر کے باعث ہدایت سے) پیٹھ پھیر کر (قبولِ حق سے) رُوگرداں ہو رہے ہوںo

81. اور نہ ہی آپ (دل کے) اندھوں کو ان کی گمراہی سے (بچا کر) ہدایت دینے والے ہیں، آپ تو (فی الحقیقت) انہی کو سناتے ہیں جو (آپ کی دعوت قبول کر کے) ہماری آیتوں پر ایمان لے آتے ہیں سو وہی لوگ مسلمان ہیں (اور وہی زندہ کہلانے کے حق دار ہیں)o

82. اور جب ان پر (عذاب کا) فرمان پورا ہونے کا وقت آجائے گا تو ہم ان کے لئے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے گفتگو کرے گا کیونکہ لوگ ہماری نشانیوں پر یقین نہیں کرتے تھےo

83. اور جس دن ہم ہر امت میں سے ان لوگوں کا (ایک ایک) گروہ جمع کریں گے جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے سو وہ (اکٹھا چلنے کے لئے آگے کی طرف سے) روکے جائیں گےo

84. یہاں تک کہ جب وہ سب (مقامِ حساب پر) آپہنچیں گے تو ارشاد ہوگا کیا تم (بغیر غور و فکر کے) میری آیتوں کو جھٹلاتے تھے حالانکہ تم (اپنے ناقص) علم سے انہیں کاملاً جان بھی نہیں سکے تھے یا (تم خود ہی بتاؤ) اس کے علاوہ اور کیا (سبب) تھا جو تم (حق کی تکذیب) کیا کرتے تھےo

85. اور ان پر (ہمارا) وعدہ پورا ہوچکا اس وجہ سے کہ وہ ظلم کر تے رہے سو وہ (جواب میں) کچھ بول نہ سکیں گےo

86. کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات بنائی تاکہ وہ اس میں آرام کرسکیں اور دن کو (امورِ حیات کی نگرانی کے لئے) روشن (یعنی اشیاء کو دِکھانے اور سُجھانے والا) بنایا، بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیںo

87. اور جس دن صُور پھونکا جائے گا تو وہ (سب لوگ) گھبرا جائیں گے جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں مگر جنہیں اللہ چاہے گا (نہیں گھبرائیں گے)، اور سب اس کی بارگاہ میں عاجزی کرتے ہوئے حاضر ہوں گےo

88. اور (اے انسان!) تو پہاڑوں کو دیکھے گا تو خیال کرے گا کہ جمے ہوئے ہیں حالانکہ وہ بادل کے اڑنے کی طرح اڑ رہے ہوں گے۔ (یہ) اللہ کی کاریگری ہے جس نے ہر چیز کو (حکمت و تدبیر کے ساتھ) مضبوط و مستحکم بنا رکھا ہے۔ بیشک وہ ان سب (کاموں) سے خبردار ہے جو تم کرتے ہوo

89. جو شخص (اس دن) نیکی لے کر آئے گا اس کے لئے اس سے بہتر (جزا) ہوگی اور وہ لوگ اس دن گھبراہٹ سے محفوظ و مامون ہوں گےo

90. اور جو شخص برائی لے کر آئے گا تو ان کے منہ (دوزخ کی) آگ میں اوندھے ڈالے جائیں گے۔ بس تمہیں وہی بدلہ دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھےo

91. (آپ ان سے فرما دیجئے کہ) مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ اس شہرِ (مکّہ) کے رب کی عبادت کروں جس نے اسے عزت و حُرمت والا بنایا ہے اور ہر چیز اُسی کی (مِلک) ہے اور مجھے (یہ) حکم (بھی) دیا گیا ہے کہ میں (اللہ کے) فرمانبرداروں میں رہوںo

92. نیز یہ کہ میں قرآن پڑھ کر سناتا رہوں سو جس شخص نے ہدایت قبول کی تو اس نے اپنے ہی فائدہ کے لئے راہِ راست اختیار کی، اور جو بہکا رہا تو آپ فرما دیں کہ میں تو صِرف ڈر سنانے والوں میں سے ہوںo

93. اور آپ فرمادیجئے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں وہ عنقریب تمہیں اپنی نشانیاں دکھا دے گا سو تم انہیں پہچان لو گے، اور آپ کا رب ان کاموں سے بے خبر نہیں جو تم انجام دیتے ہوo


سُورة الْقَصَص

1. طا، سین، میم (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)o

2. یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیںo

3. (اے حبیبِ مکرّم!) ہم آپ پر موسٰی (علیہ السلام) اور فرعون کے حقیقت پر مبنی حال میں سے ان لوگوں کے لئے کچھ پڑھ کر سناتے ہیں جو ایمان رکھتے ہیںo

4. بیشک فرعون زمین میں سرکش و متکبّر (یعنی آمرِ مطلق) ہوگیا تھا اور اس نے اپنے (ملک کے) باشندوں کو (مختلف) فرقوں (اور گروہوں) میں بانٹ دیا تھا اس نے ان میں سے ایک گروہ (یعنی بنی اسرائیل کے عوام) کو کمزور کردیا تھا کہ ان کے لڑکوں کو (ان کے مستقبل کی طاقت کچلنے کے لئے) ذبح کر ڈالتا اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتا (تاکہ مَردوں کے بغیر ان کی تعداد بڑھے اور ان میں اخلاقی بے راہ روی کا اضافہ ہو)، بیشک وہ فساد انگیز لوگوں میں سے تھاo

5. اور ہم چاہتے تھے کہ ہم ایسے لوگوں پر احسان کریں جو زمین میں (حقوق اور آزادی سے محرومی اور ظلم و استحصال کے باعث) کمزور کر دیئے گئے تھے اور انہیں (مظلوم قوم کے) رہبر و پیشوا بنا دیں اور انہیں (ملکی تخت کا) وارث بنا دیںo

6. اور ہم انہیں ملک میں حکومت و اقتدار بخشیں اور فرعون اور ہامان اور ان دونوں کی فوجوں کو وہ (انقلاب) دکھا دیں جس سے وہ ڈرا کرتے تھےo

7. اور ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کی والدہ کے دل میں یہ بات ڈالی کہ تم انہیں دودھ پلاتی رہو، پھر جب تمہیں ان پر (قتل کردیئے جانے کا) اندیشہ ہو جائے تو انہیں دریا میں ڈال دینا اور نہ تم (اس صورتِ حال سے) خوفزدہ ہونا اور نہ رنجیدہ ہونا، بیشک ہم انہیں تمہاری طرف واپس لوٹانے والے ہیں اور انہیں رسولوں میں(شامل) کرنے والے ہیں۔o

8. پھر فرعون کے گھر والوں نے انہیں (دریا سے) اٹھا لیا تاکہ وہ (مشیّتِ الٰہی سے) ان کے لئے دشمن اور (باعثِ) غم ثابت ہوں، بیشک فرعون اور ہامان اور ان دونوں کی فوجیں سب خطاکار تھےo

9. اور فرعون کی بیوی نے (موسٰی علیہ السلام کو دیکھ کر) کہا کہ (یہ بچہ) میری اور تیری آنکھ کے لئے ٹھنڈک ہے۔ اسے قتل نہ کرو، شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اس کو بیٹا بنالیں اور وہ (اس تجویز کے انجام سے) بے خبر تھےo

10. اور موسٰی (علیہ السلام) کی والدہ کا دل (صبر سے) خالی ہوگیا، قریب تھا کہ وہ (اپنی بے قراری کے باعث) اس راز کو ظاہر کردیتیں اگر ہم ان کے دل پر صبر و سکون کی قوّت نہ اتارتے تاکہ وہ (وعدۂ الٰہی پر) یقین رکھنے والوں میں سے رہیںo

11. اور (موسٰی علیہ السلام کی والدہ نے) ان کی بہن سے کہا کہ (ان کا حال معلوم کرنے کے لئے) ان کے پیچھے جاؤ سو وہ انہیں دور سے دیکھتے رہے اور وہ لوگ (بالکل) بے خبر تھےo

12. اور ہم نے پہلے ہی سے موسٰی (علیہ السلام) پر دائیوں کا دودھ حرام کر دیا تھا سو (موسٰی علیہ السلام کی بہن نے) کہا: کیا میں تمہیں ایسے گھر والوں کی نشاندہی کروں جو تمہارے لئے اس (بچے) کی پرورش کر دیں اور وہ اس کے خیر خواہ (بھی) ہوںo

13. پس ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو (یوں) ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ ان کی آنکھ ٹھنڈی رہے اور وہ رنجیدہ نہ ہوں اور تاکہ وہ (یقین سے) جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتےo

14. اور جب موسٰی (علیہ السلام) اپنی جوانی کو پہنچ گئے اور (سنِّ) اعتدال پر آگئے تو ہم نے انہیں حکمِ (نبوّت) اور علم و دانش سے نوازا، اور ہم نیکوکاروں کو اسی طرح صلہ دیا کرتے ہیںo

15. اور موسٰی (علیہ السلام) شہرِ (مصر) میں داخل ہوئے اس حال میں کہ شہر کے باشندے (نیند میں) غافل پڑے تھے، تو انہوں نے اس میں دو مَردوں کو باہم لڑتے ہوئے پایا یہ (ایک) تو ان کے (اپنے) گروہ (بنی اسرائیل) میں سے تھا اور یہ (دوسرا) ان کے دشمنوں (قومِ فرعون) میں سے تھا، پس اس شخص نے جو انہی کے گروہ میں سے تھا آپ سے اس شخص کے خلاف مدد طلب کی جو آپ کے دشمنوں میں سے تھا پس موسٰی (علیہ السلام) نے اسے مکّا مارا تو اس کا کام تمام کردیا، (پھر) فرمانے لگے: یہ شیطان کا کام ہے (جو مجھ سے سرزَد ہوا ہے)، بیشک وہ صریح بہکانے والا دشمن ہےo

16. (موسٰی علیہ السلام) عرض کرنے لگے: اے میرے رب! بیشک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا سو تو مجھے معاف فرما دے پس اس نے انہیں معاف فرما دیا، بیشک وہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت مہربان ہےo

17. (مزید) عرض کرنے لگے: اے میرے رب! اس سبب سے کہ تو نے مجھ پر (اپنی مغفرت کے ذریعہ) احسان فرمایا ہے اب میں ہرگز مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گاo

18. پس موسٰی (علیہ السلام) نے اس شہر میں ڈرتے ہوئے صبح کی اس انتظار میں (کہ اب کیا ہوگا؟) تو دفعتًہ وہی شخص جس نے آپ سے گزشتہ روز مدد طلب کی تھی آپ کو (دوبارہ) امداد کے لئے پکار رہا ہے تو موسٰی (علیہ السلام) نے اس سے کہا: بیشک تو صریح گمراہ ہےo

19. سو جب انہوں نے ارادہ کیا کہ اس شخص کو پکڑیں جو ان دونوں کا دشمن ہے تو وہ بول اٹھا: اے موسٰی! کیا تم مجھے (بھی) قتل کرنا چاہتے ہو جیسا کہ تم نے کل ایک شخص کو قتل کر ڈالا تھا۔ تم صرف یہی چاہتے ہو کہ ملک میں بڑے جابر بن جاؤ اور تم یہ نہیں چاہتے کہ اصلاح کرنے والوں میں سے o

2بنو0. اور شہر کے آخری کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اس نے کہا: اے موسٰی! (قومِ فرعون کے) سردار آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں کہ وہ آپ کو قتل کردیں سو آپ (یہاں سے) نکل جائیں بیشک میں آپ کے خیر خواہوں میں سے ہوںo

21. سو موسٰی (علیہ السلام) وہاں سے خوف زدہ ہو کر (مددِ الٰہی کا) انتظار کرتے ہوئے نکل کھڑے ہوئے، عرض کیا: اے رب! مجھے ظالم قوم سے نجات عطا فرماo

22. اور جب وہ مَديَن کی طرف رخ کر کے چلے (تو) کہنے لگے: امید ہے میرا رب مجھے (منزلِ مقصود تک پہنچانے کے لئے) سیدھی راہ دکھا دے گاo

23. اور جب وہ مَدْيَنَْ کے پانی (کے کنویں) پر پہنچے تو انہوں نے اس پر لوگوں کا ایک ہجوم پایا جو (اپنے جانوروں کو) پانی پلا رہے تھے اور ان سے الگ ایک جانب دو عورتیں دیکھیں جو (اپنی بکریوں کو) روکے ہوئے تھیں (موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: تم دونوں اس حال میں کیوں (کھڑی) ہو؟ دونوں بولیں کہ ہم (اپنی بکریوں کو) پانی نہیں پلا سکتیں یہاں تک کہ چرواہے (اپنے مویشیوں کو) واپس لے جائیں، اور ہمارے والد عمر رسیدہ بزرگ ہیںo

24. سو انہوں نے دونوں (کے ریوڑ) کو پانی پلا دیا پھر سایہ کی طرف پلٹ گئے اور عرض کیا: اے رب! میں ہر اس بھلائی کا جو تو میری طرف اتارے محتا ج ہوںo

25. پھر (تھوڑی دیر بعد) ان کے پاس ان دونوں میں سے ایک (لڑکی) آئی جو شرم و حیاء (کے انداز) سے چل رہی تھی۔ اس نے کہا: میرے والد آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ وہ آپ کو اس (محنت) کا معاوضہ دیں جو آپ نے ہمارے لئے (بکریوں کو) پانی پلایا ہے۔ سو جب موسٰی (علیہ السلام) ان (لڑکیوں کے والد شعیب علیہ السلام) کے پاس آئے اور ان سے (پچھلے) واقعات بیان کئے تو انہوں نے کہا: آپ خوف نہ کریں آپ نے ظالم قوم سے نجات پا لی ہےo

26. ان میں سے ایک (لڑکی) نے کہا: اے (میرے) والد گرامی! انہیں (اپنے پاس مزدوری) پر رکھ لیں بیشک بہترین شخص جسے آپ مزدوری پر رکھیں وہی ہے جو طاقتور امانت دار ہو (اور یہ اس ذمہ داری کے اہل ہیں)o

27. انہوں نے (موسٰی علیہ السلام سے) کہا: میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو لڑکیوں میں سے ایک کا نکاح آپ سے کردوں اس (مَہر) پر کہ آپ آٹھ سال تک میرے پاس اُجرت پر کام کریں، پھر اگر آپ نے دس (سال) پور ے کردیئے تو آپ کی طرف سے (احسان) ہوگا اور میں آپ پر مشقت نہیں ڈالنا چاہتا، اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے نیک لوگوں میں سے پائیں گےo

28. موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: یہ (معاہدہ) میرے اور آپ کے درمیان (طے) ہوگیا، دو میں سے جو مدت بھی میں پوری کروں سو مجھ پر کوئی جبر نہیں ہوگا، اور اللہ اس (بات) پر جو ہم کہہ رہے ہیں نگہبان ہےo

29. پھر جب موسٰی (علیہ السلام) نے مقررہ مدت پوری کر لی اور اپنی اہلیہ کو لے کر چلے (تو) انہوں نے طور کی جانب سے ایک آگ دیکھی (وہ شعلۂ حسنِ مطلق تھا جس کی طرف آپ کی طبیعت مانوس ہوگئی)، انہوں نے اپنی اہلیہ سے فرمایا: تم (یہیں) ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے۔ شاید میں تمہارے لئے اس (آگ) سے کچھ (اُس کی) خبر لاؤں (جس کی تلاش میں مدتوں سے سرگرداں ہوں) یا آتشِ (سوزاں) کی کوئی چنگاری (لادوں) تاکہ تم (بھی) تپ اٹھوo

30. جب موسٰی (علیہ السلام) وہاں پہنچے تو وادئ (طور) کے دائیں کنارے سے بابرکت مقام میں (واقع) ایک درخت سے آواز دی گئی کہ اے موسٰی! بیشک میں ہی اللہ ہوں (جو) تمام جہانوں کا پروردگار (ہوں)o

31. اور یہ کہ اپنی لاٹھی (زمین پر) ڈال دو، پھر جب موسٰی (علیہ السلام) نے اسے دیکھا کہ وہ تیز لہراتی تڑپتی ہوئی حرکت کر رہی ہے گویا وہ سانپ ہو، تو پیٹھ پھیر کر چل پڑے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا، (ندا آئی اے موسٰی! سامنے آؤ اور خوف نہ کرو، بیشک تم امان یافتہ لوگوں میں سے ہوo

32. اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو وہ بغیر کسی عیب کے سفید چمک دار ہوکر نکلے گا اور خوف (دور کرنے کی غرض) سے اپنا بازو اپنے (سینے کی) طرف سکیڑ لو، پس تمہارے رب کی جانب سے یہ دو دلیلیں فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف (بھیجنے اور مشاہدہ کرانے کے لئے) ہیں، بیشک وہ نافرمان لوگ ہیںo

33. (موسٰی علیہ السلام نے) عرض کیا: اے پروردگار! میں نے ان میں سے ایک شخص کو قتل کر ڈالا تھا سو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کرڈالیں گےo

34. اور میرے بھائی ہارون (علیہ السلام)، وہ زبان میں مجھ سے زیادہ فصیح ہیں سو انہیں میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج دے کہ وہ میری تصدیق کر سکیں میں اس بات سے (بھی) ڈرتا ہوں کہ (وہ) لوگ مجھے جھٹلائیں گےo

35. ارشاد فرمایا: ہم تمہارا بازو تمہارے بھائی کے ذریعے مضبوط کر دیں گے۔ اور ہم تم دونوں کے لئے (لوگوں کے دلوں میں اور تمہاری کاوشوں میں) ہیبت و غلبہ پیدا کئے دیتے ہیں۔ سو وہ ہماری نشانیوں کے سبب سے تم تک (گزند پہنچانے کے لئے) نہیں پہنچ سکیں گے، تم دونوں اور جو لوگ تمہاری پیروی کریں گے غالب رہیں گےo

36. پھر جب موسٰی (علیہ السلام) ان کے پاس ہماری واضح اور روشن نشانیاں لے کر آئے تو وہ لوگ کہنے لگے کہ یہ تو مَن گڑھت جادو کے سوا (کچھ) نہیں ہے۔ اور ہم نے یہ باتیں اپنے پہلے آباء و اجداد میں (کبھی) نہیں سنی تھیںo

37. اور موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: میرا رب اس کو خوب جانتا ہے جو اس کے پاس سے ہدایت لے کر آیا ہے اور اس کو (بھی) جس کے لئے آخرت کے گھر کا انجام (بہتر) ہوگا، بیشک ظالم فلاح نہیں پائیں گےo

38. اور فرعون نے کہا: اے درباریو! میں تمہارے لئے اپنے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں جانتا۔ اے ہامان! میرے لئے گارے کو آگ لگا (کر کچھ اینٹیں پکا) دے، پھر میرے لئے (ان سے) ایک اونچی عمارت تیار کر، شاید میں (اس پر چڑھ کر) موسٰی کے خدا تک رسائی پا سکوں، اور میں تو اس کو جھوٹ بولنے والوں میں گمان کرتا ہوںo

39. اور اس (فرعون) نے خود اور اس کی فوجوں نے ملک میں ناحق تکبّر و سرکشی کی اور یہ گمان کر بیٹھے کہ وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گےo

40. سو ہم نے اس کو اور اس کی فوجوں کو (عذاب میں) پکڑ لیا اور ان کو دریا میں پھینک دیا، تو آپ دیکھئے کہ ظالموں کا انجام کیسا (عبرت ناک) ہواo

41. اور ہم نے انہیں (دوزخیوں کا) پیشوا بنا دیا کہ وہ (لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلاتے تھے اور قیامت کے دن ان کی کوئی مدد نہیں کی جائے گیo

42. اور ہم نے ان کے پیچھے اس دنیا میں (بھی) لعنت لگا دی اور قیامت کے دن (بھی) وہ بدحال لوگوں میں (شمار) ہوں گےo

43. اور بیشک ہم نے اس (صورتِ حال) کے بعد کہ ہم پہلی (نافرمان) قوموں کو ہلاک کر چکے تھے موسٰی (علیہ السلام) کو کتاب عطا کی جو لوگوں کے لئے (خزانۂ) بصیرت اور ہدایت و رحمت تھی، تاکہ وہ نصیحت قبول کریںo

44. اور آپ (اس وقت طُور کے) مغربی جانب (تو موجود) نہیں تھے جب ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کی طرف حکمِ (رسالت) بھیجا تھا، اور نہ (ہی) آپ (ان ستّر افراد میں شامل تھے جو وحیِ موسٰی علیہ السلام کی) گواہی دینے والوں میں سے تھے (پس یہ سارا بیان غیب کی خبر نہیں تو اور کیا ہے؟)o

45. لیکن ہم نے (موسٰی علیہ السلام کے بعد یکے بعد دیگرے) کئی قومیں پیدا فرمائیں پھر ان پر طویل مدّت گزر گئی، اور نہ (ہی) آپ (موسٰی اور شعیب علیہما السلام کی طرح) اہل مدین میں مقیم تھے کہ آپ ان پر ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہوں لیکن ہم ہی (آپ کو اخبارِ غیب سے سرفراز فرما کر) مبعوث فرمانے والے ہیںo

46. اور نہ (ہی) آپ طُور کے کنارے (اس وقت موجود) تھے جب ہم نے (موسٰی علیہ السلام کو) ندا فرمائی مگر (آپ کو ان تمام احوالِ غیب پر مطلع فرمانا) آپ کے رب کی جانب سے (خصوصی) رحمت ہے۔ تاکہ آپ (ان واقعات سے باخبر ہو کر) اس قوم کو (عذابِ الٰہی سے) ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہیں آیا، تاکہ وہ نصیحت قبول کریںo

47. اور (ہم کوئی رسول نہ بھیجتے) اگر یہ بات نہ ہوتی کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچے ان کے اعمالِ بد کے باعث جو انہوں نے خود انجام دیئے تو وہ یہ نہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا تاکہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے اور ہم ایمان والوں میں سے ہوجاتےo

48. پھر جب ان کے پاس ہمارے حضور سے حق آپہنچا (تو) وہ کہنے لگے کہ اس (رسول) کو ان (نشانیوں) جیسی (نشانیاں) کیوں نہیں دی گئیں جو موسٰی (علیہ السلام) کو دی گئیں تھیں؟ کیا انہوں نے ان (نشانیوں) کا انکار نہیں کیا تھا جو اس سے پہلے موسٰی (علیہ السلام) کو دی گئی تھیں؟ وہ کہنے لگے کہ دونوں (قرآن اور تورات) جادو ہیں (جو) ایک دوسرے کی تائید و موافقت کرتے ہیں، اور انہوں نے کہا کہ ہم (ان) سب کے منکر ہیںo

49. آپ فرما دیں کہ تم اللہ کے حضور سے کوئی (اور) کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ ہدایت والی ہو (تو) میں اس کی پیروی کروں گا اگر تم (اپنے الزامات میں) سچے ہوo

50. پھر اگر وہ آپ کا ارشاد قبول نہ کریں تو آپ جان لیں (کہ ان کے لئے کوئی حجت باقی نہیں رہی) وہ محض اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں، اور اس شخص سے زیادہ گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی جانب سے ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کی پیروی کرے۔ بیشک اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتاo

51. اور درحقیقت ہم ان کے لئے پے در پے (قرآن کے) فرمان بھیجتے رہے تاکہ وہ نصیحت قبو ل کریںo

52. جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب عطا کی تھی وہ (اسی ہدایت کے تسلسل میں) اس (قرآن) پر (بھی) ایمان رکھتے ہیںo

53. اور جب ان پر (قرآن) پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں: ہم اس پر ایمان لائے بیشک یہ ہمارے رب کی جانب سے حق ہے، حقیقت میں تو ہم اس سے پہلے ہی مسلمان (یعنی فرمانبردار) ہوچکے تھےo

54. یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دوبار دیا جائے گا اس وجہ سے کہ انہوں نے صبر کیا اور وہ برائی کو بھلائی کے ذریعے دفع کرتے ہیں اور اس عطا میں سے جو ہم نے انہیں بخشی خرچ کرتے ہیںo

55. اورجب وہ کوئی بیہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال، تم پر سلامتی ہو ہم جاہلوں (کے فکر و عمل) کو (اپنانا) نہیں چاہتے (گویا ان کی برائی کے عوض ہم اپنی اچھائی کیوں چھوڑیں)o

56. حقیقت یہ ہے کہ جسے آپ (ہدایت پر لانا) چاہتے ہیں اسے صاحبِ ہدایت آپ خود نہیں بناتے، بلکہ (یوں ہوتا ہے کہ) جسے (آپ چاہتے ہیں اسی کو) اللہ چاہتا ہے (اور آپ کے ذریعے) صاحبِ ہدایت بنا دیتا ہے، اور وہ راہِ ہدایت کی پہچان رکھنے والوں سے خوب واقف ہے (یعنی جو لوگ آپ کی چاھت کی قدر پہچانتے ہیں وہی ہدایت سے نوازے جاتے ہیں)o

57. اور (قدر ناشناس) کہتے ہیں کہ اگر ہم آپ کی معیّت میں ہدایت کی پیروی کر لیں تو ہم اپنے ملک سے اچک لئے جائیں گے۔ کیا ہم نے انہیں (اس) امن والے حرم (شہرِ مکہ جو آپ ہی کا وطن ہے) میں نہیں بسایا جہاں ہماری طرف سے رزق کے طور پر (دنیا کی ہر سمت سے) ہر جنس کے پھل پہنچائے جاتے ہیں، لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے (کہ یہ سب کچھ کس کے صدقے سے ہو رہا ہے)o

58. اور ہم نے کتنی ہی (ایسی) بستیوں کو برباد کر ڈالا جو اپنی خوشحال معیشت پر غرور و ناشکری کر رہی تھیں، تو یہ ان کے (تباہ شدہ) مکانات ہیں جو ان کے بعد کبھی آباد ہی نہیں ہوئے مگر بہت کم، اور (آخر کار) ہم ہی وارث و مالک ہیںo

59. اور آپ کا رب بستیوں کو تباہ کرنے والا نہیں ہے یہاں تک کہ وہ اس کے بڑے مرکزی شہر (capital) میں پیغمبر بھیج دے جو ان پر ہماری آیتیں تلاوت کرے، اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہیں ہیں مگر اس حال میں کہ وہاں کے مکین ظالم ہوںo

60. اور جو چیز بھی تمہیں عطا کی گئی ہے سو (وہ) دنیوی زندگی کا سامان اور اس کی رونق و زینت ہے۔ مگر جو چیز (بھی) اللہ کے پاس ہے وہ (اس سے) زیادہ بہتر اور دائمی ہے۔ کیا تم (اس حقیقت کو) نہیں سمجھتےo

61. کیا وہ شخص جس سے ہم نے کوئی (آخرت کا) اچھا وعدہ فرمایا ہو پھر وہ اسے پانے والا ہو جائے، اس (بدنصیب) کی مثل ہو سکتا ہے جسے ہم نے دنیوی زندگی کے سامان سے نوازا ہو پھر وہ (کفرانِ نعمت کے باعث) روزِ قیامت (عذاب کے لئے) حاضر کئے جانے والوں میں سے ہو جائےo

62. اور جس دن (اللہ) انہیں پکارے گا تو فرمائے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جنہیں تم (معبود) خیال کیا کرتے تھےo

63. وہ لوگ جن پر (عذاب کا) فرمان ثابت ہو چکا کہیں گے: اے ہمارے رب! یہی وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا ہم نے انہیں (اسی طرح) گمراہ کیا تھا جس طرح ہم (خود) گمراہ ہوئے تھے، ہم ان سے بیزاری ظاہر کرتے ہوئے تیری طرف متوجہ ہوتے ہیں اور وہ (درحقیقت) ہماری پرستش نہیں کرتے تھے (بلکہ اپنی نفسانی خواہشات کے پجاری تھے)o

64. اور (ان سے) کہا جائے گا: تم اپنے (خود ساختہ) شریکوں کو بلاؤ، سو وہ انہیں پکاریں گے پس وہ (شریک) انہیں کوئی جواب نہ دیں گے اور وہ لوگ عذاب کو دیکھ لیں گے، کاش! وہ (دنیا میں) راہِ ہدایت پا چکے ہوتےo

65. اور جس دن (اللہ) انہیں پکارے گا تو وہ فرمائے گا: تم نے پیغمبروں کو کیا جواب دیا تھاo

66. تو ان پر اس دن خبریں پوشیدہ ہو جائیں گی سو وہ ایک دوسرے سے پوچھ (بھی) نہ سکیں گےo

67. لیکن جس نے توبہ کر لی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیا تو یقیناً وہ فلاح پانے والوں میں سے ہوگاo

68. اور آپ کا رب جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے اور (جسے چاہتا ہے نبوت اور حقِ شفاعت سے نوازنے کے لئے) منتخب فرما لیتا ہے، ان (منکر اور مشرک) لوگوں کو (اس امر میں) کوئی مرضی اور اختیار حاصل نہیں ہے۔ اللہ پاک ہے اور بالاتر ہے ان (باطل معبودوں) سے جنہیں وہ (اللہ کا) شریک گردانتے ہیں۔o

69. اور آپ کا رب ان (تمام باتوں) کو جانتا ہے جو ان کے سینے (اپنے اندر) چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ وہ آشکار کرتے ہیں۔o

70. اور وہی اللہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ دنیا اور آخرت میں ساری تعریفیں اسی کے لئے ہیں، اور (حقیقی) حکم و فرمانروائی (بھی) اسی کی ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گےo

71. فرما دیجئے: ذرا اتنا بتاؤ کہ اگر اللہ تمہارے اوپر روزِ قیامت تک ہمیشہ رات طاری فرما دے (تو) اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمہیں روشنی لا دے۔ کیا تم (یہ باتیں) سنتے نہیں ہوo

72. فرما دیجئے: ذرا یہ (بھی) بتاؤ کہ اگر اللہ تمہارے اوپر روزِ قیامت تک ہمیشہ دن طاری فرما دے (تو) اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمہیں رات لا دے کہ تم اس میں آرام کر سکو، کیا تم دیکھتے نہیں ہوo

73. اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لئے رات اور دن کو بنایا تاکہ تم رات میں آرام کرو اور (دن میں) اس کا فضل (روزی) تلاش کرسکو اور تاکہ تم شکر گزار بنوo

74. اور جس دن وہ انہیں پکارے گا تو ارشاد فرمائے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جنہیں تم (معبود) خیال کرتے تھےo

75. اور ہم ہر امت سے ایک گواہ نکالیں گے پھر ہم (کفار سے) کہیں گے کہ تم اپنی دلیل لاؤ تو وہ جان لیں گے کہ سچ بات اللہ ہی کی ہے اور ان سے وہ سب (باتیں) جاتی رہیں گی جو وہ جھوٹ باندھا کرتے تھےo

76. بیشک قارون موسٰی (علیہ السلام) کی قوم سے تھا پھر اس نے لوگوں پر سرکشی کی اور ہم نے اسے اس قدر خزانے عطا کئے تھے کہ اس کی کنجیاں (اٹھانا) ایک بڑی طاقتور جماعت کو دشوار ہوتا تھا، جبکہ اس کی قوم نے اس سے کہا: تُو (خوشی کے مارے) غُرور نہ کر بیشک اللہ اِترانے والوں کو پسند نہیں فرماتاo

77. اور تو اس (دولت) میں سے جو اللہ نے تجھے دے رکھی ہے آخرت کا گھر طلب کر، اور دنیا سے (بھی) اپنا حصہ نہ بھول اور تو (لوگوں سے ویسا ہی) احسان کر جیسا احسان اللہ نے تجھ سے فرمایا ہے اور ملک میں (ظلم، ارتکاز اور استحصال کی صورت میں) فساد انگیزی (کی راہیں) تلاش نہ کر، بیشک اللہ فساد بپا کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتاo

78. وہ کہنے لگا: (میں یہ مال معاشرے اور عوام پر کیوں خرچ کروں) مجھے تویہ مال صرف اس (کسبی) علم و ہنر کی بنا پر دیا گیا ہے جو میرے پاس ہے۔ کیا اسے یہ معلوم نہ تھا کہ اللہ نے واقعۃً اس سے پہلے بہت سی ایسی قوموں کو ہلاک کر دیا تھا جو طاقت میں اس سے کہیں زیادہ سخت تھیں اور (مال و دولت اور افرادی قوت کے) جمع کرنے میں کہیں زیادہ (آگے) تھیں، اور (بوقتِ ہلاکت) مجرموں سے ان کے گناہوں کے بارے میں (مزید تحقیق یا کوئی عذر اور سبب) نہیں پوچھا جائے گاo

79. پھر وہ اپنی قوم کے سامنے (پوری) زینت و آرائش (کی حالت) میں نکلا۔ (اس کی ظاہری شان و شوکت کو دیکھ کر) وہ لوگ بول اٹھے جو دنیوی زندگی کے خواہش مند تھے: کاش! ہمارے لئے (بھی) ایسا (مال و متاع) ہوتا جیسا قارون کو دیا گیا ہے، بیشک وہ بڑے نصیب والا ہےo

80. اور (دوسری طرف) وہ لوگ جنہیں علمِ (حق) دیا گیا تھا بول اٹھے: تم پر افسوس ہے اللہ کا ثواب اس شخص کے لئے (اس دولت و زینت سے کہیں زیادہ) بہتر ہے جو ایمان لایا ہو اور نیک عمل کرتا ہو، مگر یہ (اجر و ثواب) صبر کرنے والوں کے سوا کسی کو عطا نہیں کیا جائے گاo

81. پھرہم نے اس (قارون) کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا، سو اللہ کے سوا اس کے لئے کوئی بھی جماعت (ایسی) نہ تھی جو (عذاب سے بچانے میں) اس کی مدد کرسکتی اور نہ وہ خود ہی عذاب کو روک سکاo

82. اور جو لوگ کل اس کے مقام و مرتبہ کی تمنا کر رہے تھے (اَز رہِ ندامت) کہنے لگے: کتنا عجیب ہے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے رزق کشادہ فرماتا اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ فرماتا ہے، اگر اللہ نے ہم پر احسان نہ فرمایا ہوتا تو ہمیں (بھی) دھنسا دیتا، ہائے تعجب ہے! (اب معلوم ہوا) کہ کافر نجات نہیں پا سکتےo

83. (یہ) وہ آخرت کا گھر ہے جسے ہم نے ایسے لوگوں کے لئے بنایا ہے جو نہ (تو) زمین میں سرکشی و تکبر چاہتے ہیں اور نہ فساد انگیزی، اور نیک انجام پرہیزگاروں کے لئے ہےo

84. جو شخص نیکی لے کر آئے گا اس کے لئے اس سے بہتر (صلہ) ہے اور جو شخص برائی لے کر آئے گا تو برے کام کرنے والوں کو کوئی بدلہ نہیں دیا جائے گا مگر اسی قدر جو وہ کرتے رہے تھےo

85. بیشک جس (رب) نے آپ پر قرآن (کی تبلیغ و اقامت کو) فرض کیا ہے یقیناً وہ آپ کو (آپ کی چاہت کے مطابق) لوٹنے کی جگہ (مکہ یا آخرت) کی طرف (فتح و کامیابی کے ساتھ) واپس لے جانے والا ہے۔ فرما دیجئے: میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو ہدایت لے کر آیا اور اسے (بھی) جو صریح گمراہی میں ہے۔٭o
٭ (یہ آیت مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرماتے ہوئے حجفہ کے مقام پر نازل ہوئی اور یہ وعدہ فتح مکہ کے دن پورا ہو گیا۔)
86. اور تم (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وساطت سے اُمتِ محمدی کو خطاب ہے) اس بات کی امید نہ رکھتے تھے کہ تم پر (یہ) کتاب اتاری جائے گی مگر (یہ) تمہارے رب کی رحمت (سے اتری) ہے، پس تم ہرگز کافروں کے مددگار نہ بنناo

87. اور وہ (کفار) تمہیں ہرگز اللہ کی آیتوں (کی تعمیل و تبلیغ) سے باز نہ رکھیں اس کے بعد کہ وہ تمہاری طرف اتاری جا چکی ہیں اور تم (لوگوں کو) اپنے رب کی طرف بلاتے رہو اور مشرکوں میں سے ہرگز نہ ہوناo

88. اور تم اللہ کے ساتھ کسی دوسرے (خود ساختہ) معبود کو نہ پوجا کرو، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس کی ذات کے سوا ہر چیز فانی ہے، حکم اسی کا ہے اور تم (سب) اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گےo


سُورة الْعَنْکَبُوْت

1. الف، لام، میم (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)o

2. کیا لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ (صرف) ان کے (اتنا) کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے ہیں چھوڑ دیئے جائیں گے اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گیo

3. اور بیشک ہم نے ان لوگوں کو (بھی) آزمایا تھا جو ان سے پہلے تھے سو یقیناً اللہ ان لوگوں کو ضرور (آزمائش کے ذریعے) نمایاں فرما دے گا جو (دعوٰی ایمان میں) سچے ہیں اور جھوٹوں کو (بھی) ضرور ظاہر کر دے گاo

4. کیا جو لوگ برے کام کرتے ہیں یہ گمان کئے ہوئے ہیں کہ وہ ہمارے (قابو) سے باہر نکل جائیں گے؟ کیا ہی برا ہے جو وہ (اپنے ذہنوں میں) فیصلہ کرتے ہیںo

5. جو شخص اللہ سے ملاقات کی امید رکھتا ہے تو بیشک اللہ کا مقرر کردہ وقت ضرور آنے والا ہے، اور وہی سننے والا جاننے والا ہےo

6. جو شخص (راہِ حق میں) جد و جہد کرتا ہے وہ اپنے ہی (نفع کے) لئے تگ و دو کرتا ہے، بیشک اللہ تمام جہانوں (کی طاعتوں، کوششوں اور مجاہدوں) سے بے نیاز ہےo

7. اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو ہم ان کی ساری خطائیں ان (کے نامۂ اعمال) سے مٹا دیں گے اور ہم یقیناً انہیں اس سے بہتر جزا عطا فرما دیں گے جو عمل وہ (فی الواقع) کرتے رہے تھےo

8. اور ہم نے انسان کو اس کے والدین سے نیک سلوک کا حکم فرمایا اور اگر وہ تجھ پر (یہ) کوشش کریں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہرائے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو ان کی اطاعت مت کر، میری ہی طرف تم (سب) کو پلٹنا ہے سو میں تمہیں ان (کاموں) سے آگاہ کردوں گا جو تم (دنیا میں) کیا کرتے تھےo

9. اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے تو ہم انہیں ضرور نیکو کاروں (کے گروہ) میں داخل فرما دیں گےo

10. اور لوگوں میں ایسے شخص (بھی) ہوتے ہیں جو (زبان سے) کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے، پھر جب انہیں اللہ کی راہ میں (کوئی) تکلیف پہنچائی جاتی ہے تو وہ لوگوں کی آزمائش کواللہ کے عذاب کی مانند قرار دیتے ہیں، اور اگر آپ کے رب کی جانب سے کوئی مدد آپہنچتی ہے تو وہ یقیناً یہ کہنے لگتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہی تھے، کیا اللہ ان (باتوں) کو نہیں جانتا جو جہان والوں کے سینوں میں (پوشیدہ) ہیںo

11. اور اللہ ضرور ایسے لوگوں کو ممتاز فرما دے گا جو (سچے دل سے) ایمان لائے ہیں اور منافقوں کو (بھی) ضرور ظاہر کر دے گاo

12. اور کافر لوگ ایمان والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہماری راہ کی پیروی کرو اور ہم تمہاری خطاؤں (کے بوجھ) کو اٹھا لیں گے، حالانکہ وہ ان کے گناہوں کا کچھ بھی (بوجھ) اٹھانے والے نہیں ہیں بیشک وہ جھوٹے ہیںo

13. وہ یقیناً اپنے (گناہوں کے) بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ کئی (دوسرے) بوجھ (بھی اپنے اوپر لادے ہوں گے) اور ان سے روزِ قیامت ان (بہتانوں) کی ضرور پرسش کی جائے گی جو وہ گھڑا کرتے تھےo

14. اور بیشک ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس برس کم ایک ہزار سال رہے، پھر ان لوگوں کو طوفان نے آپکڑا اس حال میں کہ وہ ظالم تھےo

15. پھر ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اور (ان کے ہمراہ) کشتی والوں کو نجات بخشی اور ہم نے اس (کشتی اور واقعہ) کو تمام جہان والوں کے لئے نشانی بنا دیاo

16. اور ابراہیم (علیہ السلام) کو (یاد کریں) جب انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو، یہی تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم (حقیقت کو) جانتے ہوo

17. تم تو اللہ کے سوا بتوں کی پوجا کرتے ہو اور محض جھوٹ گھڑتے ہو، بیشک تم اللہ کے سوا جن کی پوجا کرتے ہو وہ تمہارے لئے رزق کے مالک نہیں ہیں پس تم اللہ کی بارگاہ سے رزق طلب کیا کرو اور اسی کی عبادت کیا کرو اور اسی کا شکر بجا لایا کرو، تم اسی کی طرف پلٹائے جاؤ گےo

18. اور اگر تم نے (میری باتوں کو) جھٹلایا تو یقیناً تم سے پہلے (بھی) کئی امتیں (حق کو) جھٹلا چکی ہیں، اور رسول پر واضح طریق سے (احکام) پہنچا دینے کے سوا (کچھ لازم) نہیں ہےo

19. کیا انہوں نے نہیں دیکھا (یعنی غور نہیں کیا) کہ اللہ کس طرح تخلیق کی ابتداء فرماتا ہے پھر (اسی طرح) اس کا اعادہ فرماتا ہے۔ بیشک یہ (کام) اللہ پر آسان ہےo

20. فرما دیجئے: تم زمین میں (کائناتی زندگی کے مطالعہ کے لئے) چلو پھرو، پھر دیکھو (یعنی غور و تحقیق کرو) کہ اس نے مخلوق کی (زندگی کی) ابتداء کیسے فرمائی پھر وہ دوسری زندگی کو کس طرح اٹھا کر (ارتقاء کے مراحل سے گزارتا ہوا) نشو و نما دیتا ہے۔ بیشک اللہ ہر شے پر بڑی قدرت رکھنے والا ہےo

21. وہ جسے چاہتا ہے عذاب دیتا ہے اور جس پر چاہتا ہے رحم فرماتا ہے اور اسی کی طرف تم پلٹائے جاؤ گےo

22. اور نہ تم (اللہ کو) زمین میں عاجز کرنے والے ہو اور نہ آسمان میں اور نہ تمہارے لئے اللہ کے سوا کوئی دوست ہے اور نہ مددگارo

23. اور جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں کا اور اس کی ملاقات کا انکار کیا وہ لوگ میری رحمت سے مایوس ہوگئے اور ان ہی لوگوں کے لئے درد ناک عذاب o

2ہے4. سو قومِ ابراہیم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ کہنے لگے: تم اسے قتل کر ڈالو یا اسے جلا دو، پھر اللہ نے اسے (نمرود کی) آگ سے نجات بخشی، بیشک اس (واقعہ) میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو ایمان لائے ہیںo

25. اور ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا: بس تم نے تو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو معبود بنا لیا ہے محض دنیوی زندگی میں آپس کی دوستی کی خاطر پھر روزِ قیامت تم میں سے (ہر) ایک دوسرے (کی دوستی) کا انکار کر دے گا اور تم میں سے (ہر) ایک دوسرے پر لعنت بھیجے گا، تو تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے اور تمہارے لئے کوئی بھی مددگار نہ ہوگاo

26. پھر لوط (علیہ السلام) ان پر (یعنی ابراہیم علیہ السلام پر) ایمان لے آئے اور انہوں نے کہا: میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں۔ بیشک وہ غالب ہے حکمت والا ہےo

27. اور ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب (علیہما السلام بیٹا اور پوتا) عطا فرمائے اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں نبوت اور کتاب مقرر فرما دی اور ہم نے انہیں دنیا میں (ہی) ان کا صلہ عطا فرما دیا، اور بیشک وہ آخرت میں (بھی) نیکوکاروں میں سے ہیںo

28. اور لوط (علیہ السلام) کو (یاد کریں) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: بیشک تم بڑی بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہو، اقوامِ عالم میں سے کسی ایک (قوم) نے (بھی) اس (بے حیائی) میں تم سے پہل نہیں کیo

29. کیا تم (شہوت رانی کے لئے) مَردوں کے پاس جاتے ہو اور ڈاکہ زنی کرتے ہو اور اپنی (بھری) مجلس میں ناپسندیدہ کام کرتے ہو، تو ان کی قوم کا جواب (بھی) اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ کہنے لگے: تم ہم پر اللہ کا عذاب لے آؤ اگر تم سچے ہوo

30. لوط (علیہ السلام) نے عرض کیا: اے رب! تو فساد انگیزی کرنے والی قوم کے خلاف میری مدد فرماo

31. اور جب ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس خوشخبری لے کر آئے (تو) انہوں نے (ساتھ) یہ (بھی) کہا کہ ہم اس بستی کے مکینوں کو ہلاک کرنے والے ہیں کیونکہ یہاں کے باشندے ظالم ہیںo

32. ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا: اس (بستی) میں تو لوط (علیہ السلام بھی) ہیں، انہوں نے کہا: ہم ان لوگوں کوخوب جانتے ہیں جو (جو) اس میں (رہتے) ہیں ہم لوط (علیہ السلام) کو اور ان کے گھر والوں کو سوائے ان کی عورت کے ضرور بچالیں گے، وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہےo

33. اور جب ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے تو وہ ان (کے آنے) سے رنجیدہ ہوئے اور ان کے (ارادۂ عذاب کے) باعث نڈھال سے ہوگئے اور (فرشتوں نے) کہا: آپ نہ خوفزدہ ہوں اور نہ غم زدہ ہوں، بیشک ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو بچانے والے ہیں سوائے آپ کی عورت کے وہ (عذاب کے لئے) پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہےo

34. بیشک ہم اس بستی کے باشندوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کیا کرتے تھےo

35. اور بیشک ہم نے اس بستی سے (ویران مکانوں کو) ایک واضح نشانی کے طور پر عقل مند لوگوں کے لئے برقرار رکھاo

36. اور مَدیَن کی طرف ان کے (قومی) بھائی شعیب (علیہ السلام) کو (بھیجا)، سو انہوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اور یومِ آخرت کی امید رکھو اور زمین میں فساد انگیزی نہ کرتے پھروo

37. تو انہوں نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلا ڈالا پس انہیں (بھی) زلزلہ (کے عذاب) نے آپکڑا، سو انہوں نے صبح اس حال میں کی کہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ (مُردہ) پڑے تھےo

38. اور عاد اور ثمود کو (بھی ہم نے ہلاک کیا) اور بیشک ان کے کچھ (تباہ شدہ) مکانات تمہارے لیئے (بطورِ عبرت) ظاہر ہو چکے ہیں اور شیطان نے ان کے اَعمالِ بد، ان کے لئے خوش نما بنا دیئے تھے اورانہیں (حق کی) راہ سے پھیر دیا تھا حالانکہ وہ بینا و دانا تھےo

39. اور (ہم نے) قارون اور فرعون اور ہامان کو (بھی ہلاک کیا) اور بیشک موسٰی (علیہ السلام) ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے تھے تو انہوں نے ملک میں غرور و سرکشی کی اور وہ (ہماری گرفت سے) آگے بڑھ جانے والے نہ تھےo

40. سو ہم نے (ان میں سے) ہر ایک کو اس کے گناہ کے باعث پکڑ لیا، اور ان میں سے وہ (طبقہ بھی) تھا جس پر ہم نے پتھر برسانے والی آندھی بھیجی اوران میں سے وہ (طبقہ بھی) تھا جسے دہشت ناک آواز نے آپکڑا اور ان میں سے وہ (طبقہ بھی) تھا جسے ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے (ایک) وہ (طبقہ بھی) تھا جسے ہم نے غرق کر دیا اور ہرگز ایسا نہ تھا کہ اللہ ان پر ظلم کرے بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھےo

41. ایسے (کافر) لوگوں کی مثال جنہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اوروں (یعنی بتوں) کو کارساز بنا لیا ہے مکڑی کی داستان جیسی ہے جس نے (اپنے لئے جالے کا) گھر بنایا، اور بیشک سب گھروں سے زیادہ کمزور مکڑی کا گھر ہے، کاش! وہ لوگ (یہ بات) جانتے ہوتےo

42. بیشک اللہ ان (بتوں کی حقیقت) کو جانتا ہے جن کی بھی وہ اس کے سوا پوجا کرتے ہیں، اور وہی غالب ہے حکمت والا ہےo

43. اور یہ مثالیں ہیں ہم انہیں لوگوں (کے سمجھانے) کے لئے بیان کرتے ہیں، اور انہیں اہلِ علم کے سوا کوئی نہیں سمجھتاo

44. اللہ نے آسمانوں اور زمین کو درست تدبیر کے ساتھ پیدا فرمایا ہے، بیشک اس (تخلیق) میں اہلِ ایمان کے لئے (اس کی وحدانیت اور قدرت کی) نشانی ہےo
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-02-11, 03:28 PM   #24
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,228
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default پارہ نمبر 21

پاره أُتْلُ مَا أُوحِيَ

45. (اے حبیبِ مکرّم!) آپ وہ کتاب پڑھ کر سنائیے جو آپ کی طرف (بذریعہ) وحی بھیجی گئی ہے، اور نماز قائم کیجئے، بیشک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے، اور واقعی اﷲ کا ذکر سب سے بڑا ہے، اور اﷲ ان (کاموں) کو جانتا ہے جو تم کرتے ہوo

46. اور (اے مومنو!) اہلِ کتاب سے نہ جھگڑا کرو مگر ایسے طریقہ سے جو بہتر ہو سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ان میں سے ظلم کیا، اور (ان سے) کہہ دو کہ ہم اس (کتاب) پر ایمان لائے (ہیں) جو ہماری طرف اتاری گئی (ہے) اور جو تمہاری طرف اتاری گئی تھی، اور ہمارا معبود اور تمہارا معبود ایک ہی ہے، اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیںo

47. اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف کتاب اتاری، تو جن (حق شناس) لوگوں کو ہم نے (پہلے سے) کتاب عطا کر رکھی تھی وہ اس (کتاب) پر ایمان لاتے ہیں، اور اِن (اہلِ مکّہ) میں سے (بھی) ایسے ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں، اور ہماری آیتوں کا اِنکار کافروں کے سوا کوئی نہیں کرتاo

48. اور (اے حبیب!) اس سے پہلے آپ کوئی کتاب نہیں پڑھا کرتے تھے اور نہ ہی آپ اسے اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے ورنہ اہلِ باطل اسی وقت ضرور شک میں پڑ جاتےo

49. بلکہ وہ (قرآن ہی کی) واضح آیتیں ہیں جو ان لوگوں کے سینوں میں (محفوظ) ہیں جنہیں (صحیح) علم عطا کیا گیا ہے، اور ظالموں کے سوا ہماری آیتوں کا کوئی انکار نہیں کرتاo

50. اور کفّار کہتے ہیں کہ اِن پر (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر) ان کے رب کی طرف سے نشانیاں کیوں نہیں اتاری گئیں، آپ فرما دیجئے کہ نشانیاں تو اﷲ ہی کے پاس ہیں اور میں تو محض صریح ڈر سنانے والا ہوںo

51. کیا ان کے لئے یہ (نشانی) کافی نہیں ہے کہ ہم نے آپ پر (وہ) کتاب نازل فرمائی ہے جو ان پر پڑھی جاتی ہے (یا ہمیشہ پڑھی جاتی رہے گی)، بیشک اس (کتاب) میں رحمت اور نصیحت ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیںo

52. آپ فرما دیجئے: میرے اور تمہارے درمیان اﷲ ہی گواہ کافی ہے۔ وہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب کا حال) جانتا ہے، اور جو لوگ باطل پر ایمان لائے اور اﷲ کا انکار کیا وہی نقصان اٹھانے والے ہیںo

53. اور یہ لوگ آپ سے عذاب میں جلدی چاہتے ہیں، اور اگر (عذاب کا) وقت مقرر نہ ہوتا تو ان پر عذاب آچکا ہوتا، اور وہ (عذاب یا وقتِ عذاب) ضرور انہیں اچانک آپہنچے گا اور انہیں خبر بھی نہ ہوگیo

54. یہ لوگ آپ سے عذاب جلد طلب کرتے ہیں، اور بیشک دوزخ کافروں کو گھیر لینے والی ہےo

55. جس دن عذاب انہیں ان کے اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے ڈھانپ لے گا تو ارشاد ہوگا: تم ان کاموں کا مزہ چکھو جو تم کرتے تھےo

56. اے میرے بندو! جو ایمان لے آئے ہو بیشک میری زمین کشادہ ہے سو تم میری ہی عبادت کروo

57. ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے، پھر تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گےo

58. اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے ہم انہیں ضرور جنت کے بالائی محلّات میں جگہ دیں گے جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، یہ عملِ (صالح) کرنے والوں کا کیا ہی اچھا اجر ہےo

59. (یہ وہ لوگ ہیں) جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب پر ہی توکّل کرتے رہےo

60. اور کتنے ہی جانور ہیں جو اپنی روزی (اپنے ساتھ) نہیں اٹھائے پھرتے، اﷲ انہیں بھی رزق عطا کرتا ہے اور تمہیں بھی، اور وہ خوب سننے والا جاننے والا ہےo

61. اور اگر آپ اِن (کفّار) سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا اور سورج اور چاند کو کس نے تابع فرمان بنا دیا، تو وہ ضرور کہہ دیں گے: اﷲ نے، پھر وہ کدھر الٹے جا رہے ہیںo

62. اﷲ اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے رزق کشادہ فرما دیتا ہے، اور جس کے لئے (چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے، بیشک اﷲ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہےo

63. اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان سے پانی کس نے اتارا پھر اس سے زمین کو اس کی مُردنی کے بعد حیات (اور تازگی) بخشی، تو وہ ضرور کہہ دیں گے: اﷲ نے، آپ فرما دیں: ساری تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر (لوگ) عقل نہیں رکھتےo

64. اور (اے لوگو!) یہ دنیا کی زندگی کھیل اور تماشے کے سوا کچھ نہیں ہے، اور حقیقت میں آخرت کا گھر ہی (صحیح) زندگی ہے۔ کاش! وہ لوگ (یہ راز) جانتے ہوتےo

65. پھر جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو (مشکل وقت میں بتوں کو چھوڑ کر) صرف اﷲ کو اس کے لئے (اپنا) دین خالص کرتے ہوئے پکارتے ہیں، پھر جب اﷲ انہیں بچا کر خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو اس وقت وہ (دوبارہ) شرک کرنے لگتے ہیںo

66. تاکہ اس (نعمتِ نجات) کی ناشکری کریں جو ہم نے انہیں عطا کی اور (کفر کی زندگی کے حرام) فائدے اٹھاتے رہیں۔ پس وہ عنقریب (اپنا انجام) جان لیں گےo

67. اور کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرمِ (کعبہ) کو جائے امان بنا دیا ہے اور اِن کے اِردگرِد کے لوگ اُچک لئے جاتے ہیں، تو کیا (پھر بھی) وہ باطل پر ایمان رکھتے اور اﷲ کے احسان کی ناشکری کرتے رہیں گےo

68. اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اﷲ پر جھوٹا بہتان باندھے یا حق کو جھٹلا دے جب وہ اس کے پاس آپہنچے۔ کیا دوزخ میں کافروں کے لئے ٹھکانہ (مقرر) نہیں ہےo

69. اور جو لوگ ہمارے حق میں جہاد (اور مجاہدہ) کرتے ہیں تو ہم یقیناً انہیں اپنی (طرف سَیر اور وصول کی) راہیں دکھا دیتے ہیں، اور بیشک اﷲ صاحبانِ احسان کو اپنی معیّت سے نوازتا ہےo


سُورة الرُّوْم

1. الف، لام، میم (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)o

2. اہلِ روم (فارس سے) مغلوب ہوگئےo

3. نزدیک کے ملک میں، اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب ہو جائیں گےo

4. چند ہی سال میں (یعنی دس سال سے کم عرصہ میں)، اَمر تو اﷲ ہی کا ہے پہلے (غلبۂ فارس میں) بھی اور بعد (کے غلبۂ روم میں) بھی، اور اس وقت اہلِ ایمان خوش ہوں گےo

5. اﷲ کی مدد سے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد فرماتا ہے، اور وہ غالب ہے مہربان ہےo

6. (یہ تو) اﷲ کا وعدہ ہے، اﷲ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتےo

7. وہ (تو) دنیا کی ظاہری زندگی کو (ہی) جانتے ہیں اور وہ لوگ آخرت (کی حقیقی زندگی) سے غافل و بے خبر ہیںo

8. کیا انہوں نے اپنے مَن میں کبھی غور نہیں کیا کہ اﷲ نے آسمانوں اور زمین کو اور جوکچھ ان دونوں کے درمیان ہے پیدا نہیں فرمایا مگر (نظامِ) حق اور مقرّرہ مدت (کے دورانیے) کے ساتھ، اور بیشک بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے مُنکِر ہیںo

9. کیا ان لوگوں نے زمین میں سَیر و سیاحت نہیں کی تاکہ وہ دیکھ لیتے کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو ان سے پہلے تھے، وہ لوگ اِن سے زیادہ طاقتور تھے، اور انہوں نے زمین میں زراعت کی تھی اور اسے آباد کیا تھا، اس سے کہیں بڑھ کر جس قدر اِنہوں نے زمین کو آباد کیا ہے، پھر ان کے پاس ان کے پیغمبر واضح نشانیاں لے کر آئے تھے، سو اﷲ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا، لیکن وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھےo

10. پھر ان لوگوں کا انجام بہت برا ہوا جنہوں نے برائی کی اس لئے کہ وہ اﷲ کی آیتوں کو جھٹلاتے اور ان کا مذاق اڑایا کرتے تھےo

11. اﷲ مخلوق کو پہلی بار پیدا فرماتا ہے پھر (وہی) اسے دوبارہ پیدا فرمائے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گےo

12. اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو مجرم لوگ مایوس ہو جائیں گےo

13. اور ان کے (خود ساختہ) شریکوں میں سے ان کے لئے سفارشی نہیں ہوں گے اور وہ (بالآخر) اپنے شریکوں کے (ہی) مُنکِر ہو جائیں گےo

14. اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس دن لوگ (نفسا نفسی میں) الگ الگ ہو جائیں گےo

15. پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے تو وہ باغاتِ جنت میں خوش حال و مسرور کر دیئے جائیں گےo

16. اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا تو یہی لوگ عذاب میں حاضر کئے جائیں گےo

17. پس تم اﷲ کی تسبیح کیا کرو جب تم شام کرو (یعنی مغرب اور عشاء کے وقت) اور جب تم صبح کرو (یعنی فجر کے وقت)o

18. اور ساری تعریفیں آسمانوں اور زمین میں اسی کے لئے ہیں اور (تم تسبیح کیا کرو) سہ پہر کو بھی (یعنی عصر کے وقت) اور جب تم دوپہر کرو (یعنی ظہر کے وقت)o

19. وُہی مُردہ سے زندہ کو نکالتا ہے اور زندہ سے مُردہ کو نکالتا ہے اور زمین کو اس کی مُردنی کے بعد زندہ و شاداب فرماتا ہے، اور تم (بھی) اسی طرح (قبروں سے) نکالے جاؤ گےo

20. اور یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر اب تم انسان ہو جو (زمین میں) پھیلے ہوئے ہوo

21. اور یہ (بھی) اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان کی طرف سکون پاؤ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی، بیشک اس (نظامِ تخلیق) میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیںo

22. اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی تخلیق (بھی) ہے اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف (بھی) ہے، بیشک اس میں اہلِ علم (و تحقیق) کے لئے نشانیاں ہیںo

23. اور اس کی نشانیوں میں سے رات اور دن میں تمہارا سونا اور اس کے فضل (یعنی رزق) کو تمہارا تلاش کرنا (بھی) ہے۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو (غور سے) سنتے ہیںo

24. اور اس کی نشانیوں میں سے یہ (بھی) ہے کہ وہ تمہیں ڈرانے اور امید دلانے کے لئے بجلی دکھاتا ہے اور آسمان سے (بارش کا) پانی اتارتا ہے پھر اس سے زمین کو اس کی مُردنی کے بعد زندہ و شاداب کر دیتا ہے، بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیںo

25. اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ آسمان و زمین اس کے (نظامِ) اَمر کے ساتھ قائم ہیں پھر جب وہ تم کو زمین سے (نکلنے کے لئے) ایک بار پکارے گا تو تم اچانک (باہر) نکل آؤ گےo

26. اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) اسی کا ہے، سب اسی کے اطاعت گزار ہیںo

27. اور وہی ہے جو پہلی بار تخلیق کرتا ہے پھر اس کا اِعادہ فرمائے گا اور یہ (دوبارہ پیدا کرنا) اُس پر بہت آسان ہے۔ اور آسمانوں اور زمین میں سب سے اونچی شان اسی کی ہے، اور وہ غالب ہے حکمت والا ہےo

28. اُس نے (نکتۂ توحید سمجھانے کے لئے) تمہارے لئے تمہاری ذاتی زندگیوں سے ایک مثال بیان فرمائی ہے کہ کیا جو (لونڈی، غلام) تمہاری مِلک میں ہیں اس مال میں جو ہم نے تمہیں عطا کیا ہے شراکت دار ہیں، کہ تم (سب) اس (ملکیت) میں برابر ہو جاؤ۔ (مزید یہ کہ کیا) تم ان سے اسی طرح ڈرتے ہو جس طرح تمہیں اپنوں کا خوف ہوتا ہے (نہیں) اسی طرح ہم عقل رکھنے والوں کے لئے نشانیاں کھول کر بیان کرتے ہیں (کہ اﷲ کا بھی اس کی مخلوق میں کوئی شریک نہیں ہے)o

29. بلکہ جن لوگوں نے ظلم کیا ہے وہ بغیر علم (و ہدایت) کے اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں، پس اس شخص کو کون ہدایت دے سکتا ہے جسے اﷲ نے گمراہ ٹھہرا دیا ہو اور ان لوگوں کے لئے کوئی مددگار نہیں ہےo

30. پس آپ اپنا رخ اﷲ کی اطاعت کے لئے کامل یک سُوئی کے ساتھ قائم رکھیں۔ اﷲ کی (بنائی ہوئی) فطرت (اسلام) ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا فرمایا ہے (اسے اختیار کر لو)، اﷲ کی پیدا کردہ (سرِشت) میں تبدیلی نہیں ہوگی، یہ دین مستقیم ہے لیکن اکثر لوگ (ان حقیقتوں کو) نہیں جانتےo

31. اسی کی طرف رجوع و اِنابت کا حال رکھو اور اس کا تقوٰی اختیار کرو اور نماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے مت ہو جاؤo

32. ان (یہود و نصارٰی) میں سے (بھی نہ ہونا) جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور وہ گروہ در گروہ ہو گئے، ہر گروہ اسی (ٹکڑے) پر اِتراتا ہے جو اس کے پاس ہےo

33. اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے پکارتے ہیں، پھر جب وہ ان کو اپنی جانب سے رحمت سے لطف اندوز فرماتا ہے تو پھر فوراً ان میں سے کچھ لوگ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیںo

34. تاکہ اس نعمت کی ناشکری کریں جو ہم نے انہیں عطا کی ہے پس تم (چند روزہ زندگی کے) فائدے اٹھا لو، پھر عنقریب تم (اپنے انجام کو) جان لو گےo

35. کیا ہم نے ان پر کوئی (ایسی) دلیل اتاری ہے جو ان (بتوں) کے حق میں شہادۃً کلام کرتی ہو جنہیں وہ اﷲ کا شریک بنا رہے ہیںo

36. اور جب ہم لوگوں کو رحمت سے لطف اندوز کرتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہو جاتے ہیں، اور جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے ان (گناہوں) کے باعث جو وہ پہلے سے کر چکے ہیں تو وہ فوراً مایوس ہو جاتے ہیںo

37. کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اﷲ جس کے لئے چاہتا ہے رزق کشادہ فرما دیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیںo

38. پس آپ قرابت دار کو اس کا حق ادا کرتے رہیں اور محتاج اور مسافر کو (ان کا حق)، یہ ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو اﷲ کی رضامندی کے طالب ہیں، اور وہی لوگ مراد پانے والے ہیںo

39. اور جو مال تم سود پر دیتے ہو تاکہ (تمہارا اثاثہ) لوگوں کے مال میں مل کر بڑھتا رہے تو وہ اﷲ کے نزدیک نہیں بڑھے گا اور جو مال تم زکوٰۃ (و خیرات) میں دیتے ہو (فقط) اﷲ کی رضا چاہتے ہوئے تو وہی لوگ (اپنا مال عند اﷲ) کثرت سے بڑھانے والے ہیںo

40. اﷲ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر اس نے تمہیں رزق بخشا پھر تمہیں موت دیتا ہے پھر تمہیں زندہ فرمائے گا، کیا تمہارے (خود ساختہ) شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے جو ان (کاموں) میں سے کچھ بھی کر سکے، وہ (اﷲ) پاک ہے اور ان چیزوں سے برتر ہے جنہیں وہ (اس کا) شریک ٹھہراتے ہیںo

41. بحر و بر میں فساد ان (گناہوں) کے باعث پھیل گیا ہے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کما رکھے ہیں تاکہ (اﷲ) انہیں بعض (برے) اعمال کا مزہ چکھا دے جو انہوں نے کئے ہیں، تاکہ وہ باز آجائیںo

42. آپ فرما دیجئے کہ تم زمین میں سیر و سیاحت کیا کرو پھر دیکھو پہلے لوگوں کا کیسا (عبرت ناک) انجام ہوا، ان میں زیادہ تر مشرک تھےo

43. سو آپ اپنا رُخِ (انور) سیدھے دین کے لئے قائم رکھیئے قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جسے اﷲ کی طرف سے (قطعاً) نہیں پھرنا ہے۔ اس دن سب لوگ جدا جدا ہو جائیں گےo

44. جس نے کفر کیا تو اس کا (وبالِ) کفر اسی پر ہے اور جو نیک عمل کرے سو یہ لوگ اپنے لئے (جنّت کی) آرام گاہیں درست کر رہے ہیںo

45. تاکہ اﷲ اپنے فضل سے ان لوگوں کو بدلہ دے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔ بیشک وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتاo

46. اور اس کی نشانیوں میں سے یہ (بھی) ہے کہ وہ (بارش کی) خوشخبری سنانے والی ہواؤں کو بھیجتا ہے تاکہ تمہیں (بارش کے ثمرات کی صورت میں) اپنی رحمت سے بہرہ اندوز فرمائے اور تاکہ (ان ہواؤں کے ذریعے) جہاز (بھی) اس کے حکم سے چلیں۔ اور (یہ سب) اس لئے ہے کہ تم اس کا فضل (بصورتِ زراعت و تجارت) تلاش کرو اور شاید تم (یوں) شکرگزار ہو جاؤo

47. اور درحقیقت ہم نے آپ سے پہلے رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا اور وہ ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے پھر ہم نے (تکذیب کرنے والے) مجرموں سے بدلہ لے لیا، اور مومنوں کی مدد کرنا ہمارے ذمۂ کرم پر تھا (اور ہے)o

48. اﷲ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے تو وہ بادل کو ابھارتی ہیں پھر وہ اس (بادل) کو فضائے آسمانی میں جس طرح چاہتا ہے پھیلا دیتا ہے پھر اسے (متفرق) ٹکڑے (کر کے تہ بہ تہ) کر دیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ بارش اس کے درمیان سے نکلتی ہے، پھر جب اس (بارش) کو اپنے بندوں میں سے جنہیں چاہتا ہے پہنچا دیتا ہے تو وہ فوراً خوش ہو جاتے ہیںo

49. اگرچہ ان پر بارش کے اتارے جانے سے پہلے وہ لوگ مایوس ہو رہے تھےo

50. سو آپ اﷲ کی رحمت کے اثرات کی طرف دیکھئے کہ وہ کس طرح زمین کو اس کی مُردنی کے بعد زندہ فرما دیتا ہے، بیشک وہ مُردوں کو (بھی اسی طرح) ضرور زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہےo

51. اور اگر ہم (خشک) ہوا بھیج دیں اور وہ (اپنی) کھیتی کو زرد ہوتا ہوا دیکھ لیں تو اس کے بعد وہ (پہلی تمام نعمتوں سے) کفر کرنے لگیں گےo

52. (اے حبیب!) بیشک آپ نہ تو (اِن کافر) مُردوں کو اپنی پکار سناتے ہیں اور نہ (بدبخت) بہروں کو، جبکہ وہ (آپ ہی سے) پیٹھ پھیرے جا رہے ہوںo

53. اور نہ ہی آپ (ان) اندھوں کو (جو محرومِ بصیرت ہیں) گمراہی سے راہِ ہدایت پر لانے والے ہیں، آپ تو صرف انہی لوگوں کو (فہم اور قبولیت کی توفیق کے ساتھ) سناتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لے آتے ہیں، سو وہی مسلمان ہیں (ان کے سوا کسی اور کو آپ سناتے ہی نہیں ہیں)o

54. اﷲ ہی ہے جس نے تمہیں کمزور چیز (یعنی نطفہ) سے پیدا فرمایا پھر اس نے کمزوری کے بعد قوتِ (شباب) پیدا کیا، پھر اس نے قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا پیدا کر دیا، وہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے اور وہ خوب جاننے والا، بڑی قدرت والا ہےo

55. اور جس دن قیامت برپا ہوگی مُجرم لوگ قَسمیں کھائیں گے کہ وہ (دنیا میں) ایک گھڑی کے سوا ٹھہرے ہی نہیں تھے، اسی طرح وہ (دنیا میں بھی حق سے) پھرے رہتے تھےo

56. اور جنہیں علم اور ایمان سے نوازا گیا ہے (ان سے) کہیں گے: درحقیقت تم اﷲ کی کتاب میں (ایک گھڑی نہیں بلکہ) اٹھنے کے دن تک ٹھہرے رہے ہو، سو یہ ہے اٹھنے کا دن، لیکن تم جانتے ہی نہ تھےo

57. پس اس دن ظالموں کو ان کی معذرت کوئی فائدہ نہ دے گی اور نہ ہی ان سے (اﷲ کو) راضی کرنے کا مطالبہ کیا جائے گاo

58. اور درحقیقت ہم نے لوگوں (کے سمجھانے) کے لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کر دی ہے، اور اگر آپ ان کے پاس کوئی (ظاہری) نشانی لے آئیں تب بھی یہ کافر لوگ ضرور (یہی) کہہ دیں گے کہ آپ محض باطل و فریب کار ہیںo

59. اسی طرح اﷲ ان لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے جو (حق کو) نہیں جانتےo

60. پس آپ صبر کیجئے، بیشک اﷲ کا وعدہ سچا ہے، جو لوگ یقین نہیں رکھتے کہیں (ان کی گمراہی کا غم اور ہدایت کی فکر) آپ کو کمزور ہی نہ کر دیں۔ (اے جانِ جہاں! ان کے کفر کو غمِ جاں نہ بنا لیں)o


سُورة لُقْمَان

1. الف، لام، میم (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)o

2. یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیںo

3. جو نیکوکاروں کے لئے ہدایت اور رحمت ہےo

4. جو لوگ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ لوگ جو آخرت پر یقین رکھتے ہیںo

5. یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ ہی فلاح پانے والے ہیںo

6. اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو بیہودہ کلام خریدتے ہیں تاکہ بغیر سوجھ بوجھ کے لوگوں کو اﷲ کی راہ سے بھٹکا دیں اور اس (راہ) کا مذاق اڑائیں، ان ہی لوگوں کے لئے رسوا کن عذاب ہےo

7. اور جب اس پر ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ غرور کرتے ہوئے منہ پھیر لیتا ہے گویا اس نے انہیں سنا ہی نہیں، جیسے اس کے کانوں میں (بہرے پن کی) گرانی ہے، سو آپ اسے دردناک عذاب کی خبر سنا دیںo

8. بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے ان کے لئے نعمتوں کی جنتیں ہیںo

9. (وہ) ان میں ہمیشہ رہیں گے، اﷲ کا وعدہ سچّا ہے، اور وہ غالب ہے حکمت والا ہےo

10. اس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے بنایا (جیسا کہ) تم انہیں دیکھ رہے ہو اور اس نے زمین میں اونچے مضبوط پہاڑ رکھ دیئے تاکہ تمہیں لے کر (دورانِ گردش) نہ کانپے اور اُس نے اس میں ہر قسم کے جانور پھیلا دیئے اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا اور ہم نے اس میں ہر قسم کی عمدہ و مفید نباتات اگا دیںo

11. یہ اﷲ کی مخلوق ہے، پس (اے مشرکو!) مجھے دکھاؤ جو کچھ اﷲ کے سوا دوسروں نے پیدا کیا ہو۔ بلکہ ظالم کھلی گمراہی میں ہیںo

12. اور بیشک ہم نے لقمان کو حکمت و دانائی عطا کی، (اور اس سے فرمایا) کہ اﷲ کا شکر ادا کرو اور جو شکر کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدہ کے لئے شکر کرتا ہے، اور جو ناشکری کرتا ہے تو بیشک اﷲ بے نیاز ہے (خود ہی) سزاوارِ حمد ہےo

13. اور (یاد کیجئے) جب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا اور وہ اسے نصیحت کر رہا تھا: اے میرے فرزند! اﷲ کے ساتھ شرک نہ کرنا، بیشک شِرک بہت بڑا ظلم ہےo

14. اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں (نیکی کا) تاکیدی حکم فرمایا، جسے اس کی ماں تکلیف پر تکلیف کی حالت میں (اپنے پیٹ میں) برداشت کرتی رہی اور جس کا دودھ چھوٹنا بھی دو سال میں ہے (اسے یہ حکم دیا) کہ تو میرا (بھی) شکر ادا کر اور اپنے والدین کا بھی۔ (تجھے) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہےo

15. اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کی کوشش کریں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہرائے جس (کی حقیقت) کا تجھے کچھ علم نہیں ہے تو ان کی اطاعت نہ کرنا، اور دنیا (کے کاموں) میں ان کا اچھے طریقے سے ساتھ دینا، اور (عقیدہ و امورِ آخرت میں) اس شخص کی پیروی کرنا جس نے میری طرف توبہ و طاعت کا سلوک اختیار کیا۔ پھر میری ہی طرف تمہیں پلٹ کر آنا ہے تو میں تمہیں ان کاموں سے باخبر کر دوں گا جو تم کرتے رہے تھےo

16. (لقمان نے کہا اے میرے فرزند! اگر کوئی چیز رائی کے دانہ کے برابر ہو، پھر خواہ وہ کسی چٹان میں (چھُپی) ہو یا آسمانوں میں یا زمین میں (تب بھی) اﷲ اسے (روزِ قیامت حساب کے لئے) موجود کر دے گا۔ بیشک اﷲ باریک بین (بھی) ہے آگاہ و خبردار (بھی) ہےo

17. اے میرے فرزند! تو نماز قائم رکھ اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کر اور جو تکلیف تجھے پہنچے اس پر صبر کر، بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیںo

18. اور لوگوں سے (غرور کے ساتھ) اپنا رخ نہ پھیر، اور زمین پر اکڑ کر مت چل، بیشک اﷲ ہر متکبّر، اِترا کر چلنے والے کو ناپسند فرماتا ہےo

19. اور اپنے چلنے میں میانہ روی اختیار کر، اور اپنی آواز کو کچھ پست رکھا کر، بیشک سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہےo

20. (لوگو!) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اﷲ نے تمہارے لئے ان تمام چیزوں کو مسخّر فرما دیا ہے جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، اور اس نے اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں تم پر پوری کر دی ہیں۔ اور لوگوں میں کچھ ایسے (بھی) ہیں جو اﷲ کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر روشن کتاب (کی دلیل) کےo

21. اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم اس (کتاب) کی پیروی کرو جو اﷲ نے نازل فرمائی ہے تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اس (طریقہ) کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، اور اگرچہ شیطان انہیں عذابِ دوزخ کی طرف ہی بلاتا ہوo

22. جو شخص اپنا رخِ اطاعت اﷲ کی طرف جھکا دے اور وہ (اپنے عَمل اور حال میں) صاحبِ احسان بھی ہو تو اس نے مضبوط حلقہ کو پختگی سے تھام لیا، اور سب کاموں کا انجام اﷲ ہی کی طرف ہےo

23. اور جو کفر کرتا ہے (اے حبیبِ مکرّم!) اس کا کفر آپ کو غمگین نہ کر دے، انہیں (بھی) ہماری ہی طرف پلٹ کر آنا ہے، ہم انہیں ان اعمال سے آگاہ کر دیں گے جو وہ کرتے رہے ہیں، بیشک اﷲ سینوں کی (مخفی) باتوں کو خوب جاننے والا ہےo

24. ہم انہیں (دنیا میں) تھوڑا سا فائدہ پہنچائیں گے پھر ہم انہیں بے بس کر کے سخت عذاب کی طرف لے جائیں گےo

25. اور اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا۔ تو وہ ضرور کہہ دیں گے کہ اﷲ نے، آپ فرما دیجئے: تمام تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہیں بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتےo

26. جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) اﷲ ہی کا ہے، بیشک اﷲ ہی بے نیاز ہے (اَز خود) سزاوارِ حمد ہےo

27. اور اگر زمین میں جتنے درخت ہیں (سب) قلم ہوں اور سمندر (روشنائی ہو) اس کے بعد اور سات سمندر اسے بڑھاتے چلے جائیں تو اﷲ کے کلمات (تب بھی) ختم نہیں ہوں گے۔ بیشک اﷲ غالب ہے حکمت والا ہےo

28. تم سب کو پیدا کرنا اور تم سب کو (مرنے کے بعد) اٹھانا (قدرتِ الٰہیہ کے لئے) صرف ایک شخص (کو پیدا کرنے اور اٹھانے) کی طرح ہے۔ بیشک اﷲ سننے والا دیکھنے والا ہےo

29. کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اﷲ رات کو دن میں داخل فرماتا ہے اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے اور (اسی نے) سورج اور چاند کو مسخّر کر رکھا ہے، ہر کوئی ایک مقرّر میعاد تک چل رہا ہے، اور یہ کہ اﷲ ان (تمام) کاموں سے جو تم کرتے ہو خبردار ہےo

30. یہ اس لئے کہ اﷲ ہی حق ہے اور جن کی یہ لوگ اﷲ کے سوا عبادت کرتے ہیں، وہ باطل ہیں اور یہ کہ اﷲ ہی بلند و بالا، بڑائی والا ہےo

31. کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ کشتیاں سمندر میں اﷲ کی نعمت سے چلتی ہیں تاکہ وہ تمہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھا دے۔ بیشک اس میں ہر بڑے صابر و شاکر کے لئے نشانیاں ہیںo

32. اور جب سمندر کی موج (پہاڑوں، بادلوں یا) سائبانوں کی طرح ان پر چھا جاتی ہے تو وہ (کفّار و مشرکین) اﷲ کو اسی کے لئے اطاعت کو خالص رکھتے ہوئے پکارنے لگتے ہیں، پھر جب وہ انہیں بچا کر خشکی کی طرف لے جاتا ہے تو ان میں سے چند ہی اعتدال کی راہ (یعنی راہِ ہدایت) پر چلنے والے ہوتے ہیں، ہماری آیتوں کا کوئی انکار نہیں کرتا سوائے ہر بڑے عہد شکن اور بڑے ناشکرگزار کےo

33. اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، اور اس دن سے ڈرو جس دن کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے بدلہ نہیں دے سکے گا اور نہ کوئی ایسا فرزند ہوگا جو اپنے والد کی طرف سے کچھ بھی بدلہ دینے والا ہو، بیشک اﷲ کا وعدہ سچا ہے سو دنیا کی زندگی تمہیں ہرگز دھوکہ میں نہ ڈال دے، اور نہ ہی فریب دینے والا (شیطان) تمہیں اﷲ کے بارے میں دھوکہ میں ڈال دےo

34. بیشک اﷲ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، اور وہی بارش اتارتا ہے، اور جو کچھ رحموں میں ہے وہ جانتا ہے، اور کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا (عمل) کمائے گا، اور نہ کوئی شخص یہ جانتا ہے کہ وہ کِس سرزمین پر مرے گا، بیشک اﷲ خوب جاننے والا ہے، خبر رکھنے والا ہے (یعنی علیم بالذّات ہے اور خبیر للغیر ہے، اَز خود ہر شے کا علم رکھتا ہے اور جسے پسند فرمائے باخبر بھی کر دیتا ہے)o


سُورة السَّجْدَة

1. الف، لام، میم (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)o

2. اس کتاب کا اتارا جانا، اس میں کچھ شک نہیں کہ تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہےo

3. کیا کفار و مشرکین یہ کہتے ہیں کہ اسے اس (رسول) نے گھڑ لیا ہے۔ بلکہ وہ آپ کے رب کی طرف سے حق ہے تاکہ آپ اس قوم کو ڈر سنائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہیں آیا تاکہ وہ ہدایت پائیںo

4. اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے (اسے) چھ دنوں (یعنی چھ مدتوں) میں پیدا فرمایا پھر (نظامِ کائنات کے) عرشِ (اقتدار) پر قائم ہوا، تمہارے لئے اسے چھوڑ کر نہ کوئی کارساز ہے اور نہ کوئی سفارشی، سو کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتےo

5. وہ آسمان سے زمین تک (نظامِ اقتدار) کی تدبیر فرماتا ہے پھر وہ امر اس کی طرف ایک دن میں چڑھتا ہے (اور چڑھے گا) جس کی مقدار ایک ہزار سال ہے اس (حساب) سے جو تم شمار کرتے ہوo

6. وہی غیب اور ظاہر کا جاننے والا ہے، غالب و مہربان ہےo

7. وہی ہے جس نے خوبی و حسن بخشا ہر اس چیز کو جسے اس نے پیدا فرمایا اور اس نے انسانی تخلیق کی ابتداء مٹی (یعنی غیر نامی مادّہ) سے کیo

8. پھر اس کی نسل کو حقیر پانی کے نچوڑ (یعنی نطفہ) سے چلایاo

9. پھر اس (میں اعضاء) کو درست کیا اور اس میں اپنی روحِ (حیات) پھونکی اور تمہارے لئے (رحمِ مادر ہی میں پہلے) کان اور (پھر) آنکھیں اور (پھر) دل و دماغ بنائے، تم بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہوo

10. اور کفار کہتے ہیں کہ جب ہم مٹی میں مِل کر گم ہوجائیں گے تو (کیا) ہم اَز سرِ نَو پیدائش میں آئیں گے، بلکہ وہ اپنے رب سے ملاقات ہی کے مُنکِر ہیںo

11. آپ فرما دیں کہ موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے تمہاری روح قبض کرتا ہے پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گےo

12. اور اگر آپ دیکھیں (تو ان پر تعجب کریں) کہ جب مُجرِم لوگ اپنے رب کے حضور سر جھکائے ہوں گے اور (کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور ہم نے سُن لیا، پس (اب) ہمیں (دنیا میں) واپس لوٹا دے کہ ہم نیک عمل کر لیں بیشک ہم یقین کرنے والے ہیںo

13. اور اگر ہم چاہتے تو ہم ہر نفس کو اس کی ہدایت (اَز خود ہی) عطا کر دیتے لیکن میری طرف سے (یہ) فرمان ثابت ہو چکا ہے کہ میں ضرور سب (مُنکر) جنّات اور انسانوں سے دوزخ کو بھر دوں گاo

14. پس (اب) تم مزہ چکھو کہ تم نے اپنے اس دن کی پیشی کو بھلا رکھا تھا، بیشک ہم نے تم کو بھلا دیا ہے اور اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم کرتے رہے تھے دائمی عذاب چکھتے رہوo

15. پس ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنہیں اُن (آیتوں) کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ کرتے ہوئے گر جاتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور وہ تکبّر نہیں کرتےo

16. ان کے پہلو اُن کی خواب گاہوں سے جدا رہتے ہیں اور اپنے رب کو خوف اور امید (کی مِلی جُلی کیفیت) سے پکارتے ہیں اور ہمارے عطا کردہ رزق میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیںo

17. سو کسی کو معلوم نہیں جو آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیدہ رکھی گئی ہے، یہ ان (اَعمالِ صالحہ) کا بدلہ ہوگا جو وہ کرتے رہے تھےo

18. بھلا وہ شخص جو صاحبِ ایمان ہو اس کی مثل ہو سکتا ہے جو نافرمان ہو، (نہیں) یہ (دونوں) برابر نہیں ہو سکتےo

19. چنانچہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے تو ان کے لئے دائمی سکونت کے باغات ہیں، (اللہ کی طرف سے ان کی) ضیافت و اِکرام میں اُن (اَعمال) کے بدلے جو وہ کرتے رہے تھےo

20. اور جو لوگ نافرمان ہوئے سو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ وہ جب بھی اس سے نکل بھاگنے کا ارادہ کریں گے تو اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ اِس آتشِ دوزخ کا عذاب چکھتے رہو جِسے تم جھٹلایا کرتے تھےo

21. اور ہم ان کو یقیناً (آخرت کے) بڑے عذاب سے پہلے قریب تر (دنیوی) عذاب (کا مزہ) چکھائیں گے تاکہ وہ (کفر سے) باز آجائیںo

22. اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جسے اس کے رب کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کی جائے پھر وہ اُن سے منہ پھیر لے، بیشک ہم مُجرموں سے بدلہ لینے والے ہیںo

23. اور بیشک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو کتاب (تورات) عطا فرمائی تو آپ ان کی ملاقات کی نسبت شک میں نہ رہیں (وہ ملاقات آپ سے عنقریب شبِ معراج ہونے والی ہے) اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لئے ہدایت بنایاo

24. اور ہم نے ان میں سے جب وہ صبر کرتے رہے کچھ امام و پیشوا بنا دیئے جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے رہے اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھےo

25. بیشک آپ کا رب ہی ان لوگوں کے درمیان قیامت کے دن ان (باتوں) کا فیصلہ فرما دے گا جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھےo

26. اور کیا انہیں (اس امر سے) ہدایت نہیں ہوئی کہ ہم نے اِن سے پہلے کتنی ہی امّتوں کو ہلاک کر ڈالا تھا جن کی رہائش گاہوں میں (اب) یہ لوگ چَلتے پِھرتے ہیں۔ بیشک اس میں نشانیاں ہیں، تو کیا وہ سنتے نہیں o

2ہیں7. اور کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم پانی کو بنجَر زمین کی طرف بہا لے جاتے ہیں، پھر ہم اس سے کھیت نکالتے ہیں جس سے ان کے چوپائے (بھی) کھاتے ہیں اور وہ خود بھی کھاتے ہیں، تو کیا وہ دیکھتے نہیں ہیںo

28. اور کہتے ہیں: یہ فیصلہ (کا دن) کب ہوگا اگر تم سچے ہوo

29. آپ فرما دیں: فیصلہ کے دن نہ کافروں کو ان کا ایمان فائدہ دے گا اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گیo

30. پس آپ اُن سے منہ پھیر لیجئے اور انتظار کیجئے اور وہ لوگ (بھی) انتظار کر رہے ہیںo


سُورة الْأَحْزَاب

1. اے نبی! آپ اللہ کے تقوٰی پر (حسبِ سابق استقامت سے) قائم رہیں اور کافروں اور منافقوں کا (یہ) کہنا (کہ ہمارے ساتھ مذہبی سمجھوتہ کر لیں ہرگز) نہ مانیں، بیشک اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہےo

2. اور آپ اس (فرمان) کی پیروی جاری رکھیئے جو آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے وحی کیا جاتا ہے، بیشک اللہ ان کاموں سے خبردار ہے جو تم انجام دیتے ہوo

3. اور اللہ پر بھروسہ (جاری) رکھئے، اور اللہ ہی کارساز کافی ہےo

4. اللہ نے کسی آدمی کے لئے اس کے پہلو میں دو دل نہیں بنائے، اور اس نے تمہاری بیویوں کو جنہیں تم ظِہار کرتے ہوئے ماں کہہ دیتے ہو تمہاری مائیں نہیں بنایا، اور نہ تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے (حقیقی) بیٹے بنایا، یہ سب تمہارے منہ کی اپنی باتیں ہیں، اور اللہ حق بات فرماتا ہے، اور وہی (سیدھا) راستہ دکھاتا ہےo

5. تم اُن (منہ بولے بیٹوں) کو ان کے باپ (ہی کے نام) سے پکارا کرو، یہی اللہ کے نزدیک زیادہ عدل ہے، پھر اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو (وہ) دین میں تمہارے بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں۔ اور اس بات میں تم پر کوئی گناہ نہیں جو تم نے غلطی سے کہی لیکن (اس پر ضرور گناہ ہوگا) جس کا ارادہ تمہارے دلوں نے کیا ہو، اور اللہ بہت بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہےo

6. یہ نبیِ (مکرّم) مومنوں کے ساتھ اُن کی جانوں سے زیادہ قریب اور حق دار ہیں اور آپ کی اَزواجِ (مطہّرات) اُن کی مائیں ہیں، اور خونی رشتہ دار اللہ کی کتاب میں (دیگر) مومنین اور مہاجرین کی نسبت (تقسیمِ وراثت میں) ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں سوائے اس کے کہ تم اپنے دوستوں پر احسان کرنا چاہو، یہ حکم کتابِ (الٰہی) میں لکھا ہوا ہےo

7. اور (اے حبیب! یاد کیجئے) جب ہم نے انبیاء سے اُن (کی تبلیغِ رسالت) کا عہد لیا اور (خصوصاً) آپ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ سے اور عیسٰی ابن مریم (علیھم السلام) سے اور ہم نے اُن سے نہایت پختہ عہد لیاo

8. تاکہ (اللہ) سچوں سے اُن کے سچ کے بارے میں دریافت فرمائے، اور اس نے کافروں کے لئے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہےo

9. اے ایمان والو! اپنے اوپر اللہ کا احسان یاد کرو جب (کفار کی) فوجیں تم پر آپہنچیں، تو ہم نے ان پر ہوا اور (فرشتوں کے) لشکروں کو بھیجا جنہیں تم نے نہیں دیکھا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے خوب دیکھنے والا ہےo

10. جب وہ (کافر) تمہارے اوپر (وادی کی بالائی مشرقی جانب) سے اور تمہارے نیچے (وادی کی زیریں مغربی جانب) سے چڑھ آئے تھے اور جب (ہیبت سے تمہاری) آنکھیں پھر گئی تھیں اور (دہشت سے تمہارے) دل حلقوم تک آپہنچے تھے اور تم (خوف و امید کی کیفیت میں) اللہ کی نسبت مختلف گمان کرنے لگے تھےo

11. اُس مقام پر مومنوں کی آزمائش کی گئی اور انہیں نہایت سخت جھٹکے دئیے گئےo

12. اور جب منافق لوگ اور وہ لوگ جن کے دلوں میں (کمزورئ عقیدہ اور شک و شبہ کی) بیماری تھی، یہ کہنے لگے کہ ہم سے اللہ اور اس کے رسول نے صرف دھوکہ اور فریب کے لئے (فتح کا) وعدہ کیا تھاo

13. اور جبکہ اُن میں سے ایک گروہ کہنے لگا: اے اہلِ یثرب! تمہارے (بحفاظت) ٹھہرنے کی کوئی جگہ نہیں رہی، تم واپس (گھروں کو) چلے جاؤ، اور ان میں سے ایک گروہ نبی (اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ کہتے ہوئے (واپس جانے کی) اجازت مانگنے لگا کہ ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں، حالانکہ وہ کھلے نہ تھے، وہ (اس بہانے سے) صرف فرار چاہتے تھےo

14. اور اگر ان پر مدینہ کے اَطراف و اَکناف سے فوجیں داخل کر دی جاتیں پھر اِن (نِفاق کا عقیدہ رکھنے والوں) سے فتنۂ (کفر و شرک) کا سوال کیا جاتا تو وہ اس (مطالبہ) کو بھی پورا کر دیتے، اور تھوڑے سے توقّف کے سوا اس میں تاخیر نہ کرتےo

15. اور بیشک انہوں نے اس سے پہلے اللہ سے عہد کر رکھا تھا کہ پیٹھ پھیر کر نہ بھاگیں گے، اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی (ضرور) باز پُرس ہوگیo

16. فرما دیجئے: تمہیں فرار ہرگز کوئی نفع نہ دے گا، اگر تم موت یا قتل سے (ڈر کر) بھاگے ہو تو تم تھوڑی سی مدت کے سوا (زندگانی کا) کوئی فائدہ نہ اٹھا سکو گےo

17. فرما دیجئے: کون ایسا شخص ہے جو تمہیں اللہ سے بچا سکتا ہے اگر وہ تمہیں تکلیف دینا چاہے یا تم پر رحمت کا ارادہ فرمائے، اور وہ لوگ اپنے لئے اللہ کے سوا نہ کوئی کارساز پائیں گے اور نہ کوئی مددگارo

18. بیشک اﷲ تم میں سے ان لوگوں کو جانتا ہے جو (رسول سے اور ان کی معیّت میں جہاد سے) روکتے ہیں اور جو اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ ہماری طرف آجاؤ، اور یہ لوگ لڑائی میں نہیں آتے مگر بہت ہی کمo

19. تمہارے حق میں بخیل ہو کر (ایسا کرتے ہیں)، پھر جب خوف (کی حالت) پیش آجائے تو آپ دیکھیں گے کہ وہ آپ کی طرف تکتے ہوں گے (اور) ان کی آنکھیں اس شخص کی طرح گھومتی ہوں گی جس پر موت کی غشی طاری ہو رہی ہو، پھر جب خوف جاتا رہے تو تمہیں تیز زبانوں کے ساتھ طعنے دیں گے (آزردہ کریں گے، ان کا حال یہ ہے کہ) مالِ غنیمت پر بڑے حریص ہیں۔ یہ لوگ (حقیقت میں) ایمان ہی نہیں لائے، سو اﷲ نے ان کے اعمال ضبط کر لئے ہیں اور یہ اﷲ پر آسان تھاo

20. یہ لوگ (ابھی تک یہ) گمان کرتے ہیں کہ کافروں کے لشکر (واپس) نہیں گئے اور اگر وہ لشکر (دوبارہ) آجائیں تو یہ چاہیں گے کہ کاش وہ دیہاتیوں میں جا کر بادیہ نشین ہو جائیں (اور) تمہاری خبریں دریافت کرتے رہیں، اور اگر وہ تمہارے اندر موجود ہوں تو بھی بہت ہی کم لوگوں کے سوا وہ جنگ نہیں کریں گےo

21. فی الحقیقت تمہارے لئے رسول اﷲ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات) میں نہایت ہی حسین نمونۂ (حیات) ہے ہر اُس شخص کے لئے جو اﷲ (سے ملنے) کی اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور اﷲ کا ذکر کثرت سے کرتا ہےo

22. اور جب اہلِ ایمان نے (کافروں کے) لشکر دیکھے تو بول اٹھے کہ یہ ہے جس کا اﷲ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ فرمایا تھا اور اﷲ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے، سو اس (منظر) سے ان کے ایمان اور اطاعت گزاری میں اضافہ ہی ہواo

23. مومنوں میں سے (بہت سے) مَردوں نے وہ بات سچ کر دکھائی جس پر انہوں نے اﷲ سے عہد کیا تھا، پس ان میں سے کوئی (تو شہادت پا کر) اپنی نذر پوری کر چکا ہے اور ان میں سے کوئی (اپنی باری کا) انتظار کر رہا ہے، مگر انہوں نے (اپنے عہد میں) ذرا بھی تبدیلی نہیں کیo

24. (یہ) اس لئے کہ اﷲ سچے لوگوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے اور منافقوں کو چاہے تو عذاب دے یا ان کی توبہ قبول فرما لے۔ بیشک اﷲ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہےo

25. اور اﷲ نے کافروں کو ان کے غصّہ کی جلن کے ساتھ (مدینہ سے نامراد) واپس لوٹا دیا کہ وہ کوئی کامیابی نہ پا سکے، اور اﷲ ایمان والوں کے لئے جنگِ (احزاب) میں کافی ہوگیا، اور اﷲ بڑی قوت والا عزت والا ہےo

26. اور (بنو قُرَیظہ کے) جن اہلِ کتاب نے ان (کافروں) کی مدد کی تھی اﷲ نے انہیں (بھی) ان کے قلعوں سے اتار دیا اور ان کے دلوں میں (اسلام کا) رعب ڈال دیا، تم (ان میں سے) ایک گروہ کو (ان کے جنگی جرائم کی پاداش میں) قتل کرتے ہو اور ایک گروہ کو جنگی قیدی بناتے ہوo

27. اور اس نے تمہیں ان (جنگی دشمنوں) کی زمین کا اور ان کے گھروں کا اور ان کے اموال کا اوراس (مفتوحہ) زمین کا جِس میں تم نے (پہلے) قدم بھی نہ رکھا تھا مالک بنا دیا، اور اﷲ ہر چیز پر بڑا قادر ہےo

28. اے نبیِ (مکرَّم!) اپنی اَزواج سے فرما دیں کہ اگر تم دنیا اور اس کی زینت و آرائش کی خواہش مند ہو تو آؤ میں تمہیں مال و متاع دے دوں اور تمہیں حسنِ سلوک کے ساتھ رخصت کر دوںo

29. اور اگر تم اﷲ اور اس کے رسول اور دارِ آخرت کی طلب گار ہو تو بیشک اﷲ نے تم میں نیکوکار بیبیوں کے لئے بہت بڑا اَجر تیار فرما رکھا ہےo

30. اے اَزواجِ نبیِ (مکرّم!) تم میں سے کوئی ظاہری معصیت کی مرتکب ہو تو اس کے لئے عذاب دوگنا کر دیا جائے گا، اور یہ اﷲ پر بہت آسان ہےo
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-02-11, 03:36 PM   #25
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,228
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default پارہ نمبر 22

پاره وَمَن يَقْنُتْ

31. اور تم میں سے جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت گزار رہیں اور نیک اعمال کرتی رہیں تو ہم ان کا ثواب (بھی) انہیں دوگنا دیں گے اور ہم نے اُن کے لئے (جنّت میں) باعزّت رزق تیار کر رکھا ہےo

32. اے اَزواجِ پیغمبر! تم عورتوں میں سے کسی ایک کی بھی مِثل نہیں ہو، اگر تم پرہیزگار رہنا چاہتی ہو تو (مَردوں سے حسبِ ضرورت) بات کرنے میں نرم لہجہ اختیار نہ کرنا کہ جس کے دل میں (نِفاق کی) بیماری ہے (کہیں) وہ لالچ کرنے لگے اور (ہمیشہ) شک اور لچک سے محفوظ بات کرناo

33. اور اپنے گھروں میں سکون سے قیام پذیر رہنا اور پرانی جاہلیت کی طرح زیب و زینت کا اظہار مت کرنا، اور نماز قائم رکھنا اور زکوٰۃ دیتے رہنا اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت گزاری میں رہنا، بس اللہ یہی چاہتا ہے کہ اے (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کے گناہ کا میل (اور شک و نقص کی گرد تک) دُور کر دے اور تمہیں (کامل) طہارت سے نواز کر بالکل پاک صاف کر دےo

34. اور تم اللہ کی آیتوں کو اور (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی) سنت و حکمت کو جن کی تمہارے گھروں میں تلاوت کی جاتی ہے یاد رکھا کرو، بیشک اللہ (اپنے اولیاء کے لئے) صاحبِ لُطف (اور ساری مخلوق کے لئے) خبردار ہےo

35. بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، اور مومن مَرد اور مومن عورتیں، اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں، اور صدق والے مرد اور صدق والی عورتیں، اور صبر والے مرد اور صبر والی عورتیں، اور عاجزی والے مرد اور عاجزی والی عورتیں، اور صدقہ و خیرات کرنے والے مرد اور صدقہ و خیرات کرنے والی عورتیں اور روزہ دار مرد اور روزہ دار عورتیں، اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں، اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں، اللہ نے اِن سب کے لئے بخشِش اور عظیم اجر تیار فرما رکھا ہےo

36. اور نہ کسی مومن مرد کو (یہ) حق حاصل ہے اور نہ کسی مومن عورت کو کہ جب اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی کام کا فیصلہ (یا حکم) فرما دیں تو ان کے لئے اپنے (اس) کام میں (کرنے یا نہ کرنے کا) کوئی اختیار ہو، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کرتا ہے تو وہ یقیناً کھلی گمراہی میں بھٹک گیاo

37. اور (اے حبیب!) یاد کیجئے جب آپ نے اس شخص سے فرمایا جس پر اللہ نے انعام فرمایا تھا اور اس پر آپ نے (بھی) اِنعام فرمایا تھا کہ تُو اپنی بیوی (زینب) کو اپنی زوجیت میں روکے رکھ اور اللہ سے ڈر، اور آپ اپنے دل میں وہ بات٭ پوشیدہ رکھ رہے تھے جِسے اللہ ظاہر فرمانے والا تھا اور آپ (دل میں حیاءً) لوگوں (کی طعنہ زنی) کا خوف رکھتے تھے۔ (اے حبیب! لوگوں کو خاطر میں لانے کی کوئی ضرورت نہ تھی) اور فقط اللہ ہی زیادہ حق دار ہے کہ آپ اس کا خوف رکھیں (اور وہ آپ سے بڑھ کر کس میں ہے؟)، پھر جب (آپ کے متبنٰی) زید نے اسے طلاق دینے کی غرض پوری کرلی، تو ہم نے اس سے آپ کا نکاح کر دیا تاکہ مومنوں پر ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں (کے ساتھ نکاح) کے بارے میں کوئی حَرج نہ رہے جبکہ (طلاق دے کر) وہ ان سے بے غَرض ہو گئے ہوں، اور اللہ کا حکم تو پورا کیا جانے والا ہی تھاo
٭: (کہ زینب کی تمہارے ساتھ مصالحت نہ ہو سکے گی اور منشاء ایزدی کے تحت وہ طلاق کے بعد اَزواجِ مطہرات میں داخل ہوں گی۔)
38. اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس کام (کی انجام دہی) میں کوئی حرج نہیں ہے جو اللہ نے ان کے لئے فرض فرما دیا ہے، اللہ کا یہی طریقہ و دستور اُن لوگوں میں (بھی رہا) ہے جو پہلے گزر چکے، اور اللہ کا حکم فیصلہ ہے جو پورا ہوچکاo

39. وہ (پہلے) لوگ اللہ کے پیغامات پہنچاتے تھے اور اس کا خوف رکھتے تھے اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تھے، اور اللہ حساب لینے والا کافی ہےo

40. محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے آخر میں (سلسلۂ نبوت ختم کرنے والے) ہیں، اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہےo

41. اے ایمان والو! تم اللہ کا کثرت سے ذکر کیا کروo

42. اور صبح و شام اس کی تسبیح کیا کروo

43. وہی ہے جو تم پر درود بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی، تاکہ تمہیں اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لے جائے اور وہ مومنوں پر بڑی مہربانی فرمانے والا ہےo

44. جس دن وہ (مومِن) اس سے ملاقات کریں گے تو ان (کی ملاقات) کا تحفہ سلام ہوگا، اور اس نے ان کے لئے بڑی عظمت والا اجر تیار کر رکھا ہےo

45. اے نبیِ (مکرّم!) بیشک ہم نے آپ کو (حق اور خَلق کا) مشاہدہ کرنے والا اور (حُسنِ آخرت کی) خوشخبری دینے والا اور (عذابِ آخرت کا) ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہےo

46. اور اس کے اِذن سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور منوّر کرنے والا آفتاب (بنا کر بھیجا ہے)o

47. اور اہلِ ایمان کو اس بات کی بشارت دے دیں کہ ان کے لئے اللہ کا بڑا فضل ہے (کہ وہ اس خاتم الانبیاء کی نسبتِ غلامی میں ہیں)o

48. اور آپ کافروں اور منافقوں کا (یہ) کہنا (کہ ہمارے ساتھ مذہبی سمجھوتہ کر لیں ہرگز) نہ مانیں اور اُن کی ایذاء رسانی سے درگزر فرمائیں، اور اﷲ پر بھروسہ (جاری) رکھیں، اور اﷲ ہی (حق و باطل کی معرکہ آرائی میں) کافی کارساز ہےo

49. اے ایمان والو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر تم انہیں طلاق دے دو قبل اس کے کہ تم انہیں مَس کرو (یعنی خلوتِ صحیحہ کرو) تو تمہارے لئے ان پر کوئی عدّت (واجب) نہیں ہے کہ تم اسے شمار کرنے لگو، پس انہیں کچھ مال و متاع دو اور انہیں اچھی طرح حُسنِ سلوک کے ساتھ رخصت کروo

50. اے نبی! بیشک ہم نے آپ کے لئے آپ کی وہ بیویاں حلال فرما دی ہیں جن کا مہَر آپ نے ادا فرما دیا ہے اور جو (احکامِ الٰہی کے مطابق) آپ کی مملوک ہیں، جو اللہ نے آپ کو مالِ غنیمت میں عطا فرمائی ہیں، اور آپ کے چچا کی بیٹیاں، اور آپ کی پھوپھیوں کی بیٹیاں، اور آپ کے ماموں کی بیٹیاں، اور آپ کی خالاؤں کی بیٹیاں، جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے اور کوئی بھی مؤمنہ عورت بشرطیکہ وہ اپنے آپ کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نکاح) کے لئے دے دے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی) اسے اپنے نکاح میں لینے کا ارادہ فرمائیں (تو یہ سب آپ کے لئے حلال ہیں)، (یہ حکم) صرف آپ کے لئے خاص ہے (امّت کے) مومنوں کے لئے نہیں، واقعی ہمیں معلوم ہے جو کچھ ہم نے اُن (مسلمانوں) پر اُن کی بیویوں اور ان کی مملوکہ باندیوں کے بارے میں فرض کیا ہے، (مگر آپ کے حق میں تعدّدِ ازواج کی حِلّت کا خصوصی حکم اِس لئے ہے) تاکہ آپ پر (امتّ میں تعلیم و تربیتِ نسواں کے وسیع انتظام میں) کوئی تنگی نہ رہے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہےo

51. (اے حبیب! آپ کو اختیار ہے) ان میں سے جِس (زوجہ) کو چاہیں (باری میں) مؤخّر رکھیں اور جسے چاہیں اپنے پاس (پہلے) جگہ دیں، اور جن سے آپ نے (عارضی) کنارہ کشی اختیار فرما رکھی تھی آپ انہیں (اپنی قربت کے لئے) طلب فرما لیں تو آپ پر کچھ مضائقہ نہیں، یہ اس کے قریب تر ہے کہ ان کی آنکھیں (آپ کے دیدار سے) ٹھنڈی ہوں گی اور وہ غمگین نہیں رہیں گی اور وہ سب اس سے راضی رہیں گی جو کچھ آپ نے انہیں عطا فرما دیا ہے، اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اور اللہ خوب جاننے والا بڑا حِلم والا ہےo

52. اس کے بعد (کہ انہوں نے دنیوی منفعتوں پر آپ کی رضا و خدمت کو ترجیح دے دی ہے) آپ کے لئے بھی اور عورتیں (نکاح میں لینا) حلال نہیں (تاکہ یہی اَزواج اپنے شرف میں ممتاز رہیں) اور یہ بھی جائز نہیں کہ (بعض کی طلاق کی صورت میں اس عدد کو ہمارا حکم سمجھ کر برقرار رکھنے کے لئے) آپ ان کے بدلے دیگر اَزواج (عقد میں) لے لیں اگرچہ آپ کو ان کا حُسنِ (سیرت و اخلاق اور اشاعتِ دین کا سلیقہ) کتنا ہی عمدہ لگے مگر جو کنیز (ہمارے حکم سے) آپ کی مِلک میں ہو (جائز ہے)، اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہےo

53. اے ایمان والو! نبیِ (مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو سوائے اس کے کہ تمہیں کھانے کے لئے اجازت دی جائے (پھر وقت سے پہلے پہنچ کر) کھانا پکنے کا انتظار کرنے والے نہ بنا کرو، ہاں جب) تم بلائے جاؤ تو (اس وقت) اندر آیا کرو پھر جب کھانا کھا چکو تو (وہاں سے اُٹھ کر) فوراً منتشر ہوجایا کرو اور وہاں باتوں میں دل لگا کر بیٹھے رہنے والے نہ بنو۔ یقیناً تمہارا ایسے (دیر تک بیٹھے) رہنا نبیِ (اکرم) کو تکلیف دیتا ہے اور وہ تم سے (اُٹھ جانے کا کہتے ہوئے) شرماتے ہیں اور اللہ حق (بات کہنے) سے نہیں شرماتا، اور جب تم اُن (اَزواجِ مطّہرات) سے کوئی سامان مانگو تو اُن سے پسِ پردہ پوچھا کرو، یہ (ادب) تمہارے دلوں کے لئے اور ان کے دلوں کے لئے بڑی طہارت کا سبب ہے، اور تمہارے لئے (ہرگز جائز) نہیں کہ تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف پہنچاؤ اور نہ یہ (جائز) ہے کہ تم اُن کے بعد ابَد تک اُن کی اَزواجِ (مطّہرات) سے نکاح کرو، بیشک یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا (گناہ) ہےo

54. خواہ تم کسی چیز کو ظاہر کرو یا اسے چھپاؤ بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہےo

55. ان پر (پردہ نہ کرنے میں) کوئی گناہ نہیں اپنے (حقیقی) آباء سے، اور نہ اپنے بیٹوں سے اور نہ اپنے بھائیوں سے، اور نہ اپنے بھتیجوں سے اور نہ اپنے بھانجوں سے اور نہ اپنی (مسلِم) عورتوں اور نہ اپنی مملوک باندیوں سے، تم اللہ کا تقوٰی (برقرار) رکھو، بیشک اللہ ہر چیز پر گواہ و نگہبان ہےo

56. بیشک اللہ اور ا س کے (سب) فرشتے نبیِ (مکرمّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجتے رہتے ہیں، اے ایمان والو! تم (بھی) اُن پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کروo

57. بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اذیت دیتے ہیں اللہ ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت بھیجتا ہے اور اُس نے ان کے لئے ذِلّت انگیز عذاب تیار کر رکھا ہےo

58. اور جو لوگ مومِن مَردوں اور مومِن عورتوں کو اذیتّ دیتے ہیں بغیر اِس کے کہ انہوں نے کچھ (خطا) کی ہو تو بیشک انہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ (اپنے سَر) لے لیاo

59. اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دیں کہ (باہر نکلتے وقت) اپنی چادریں اپنے اوپر اوڑھ لیا کریں، یہ اس بات کے قریب تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں (کہ یہ پاک دامن آزاد عورتیں ہیں) پھر انہیں (آوارہ باندیاں سمجھ کر غلطی سے) ایذاء نہ دی جائے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہےo

60. اگر منافق لوگ اور وہ لوگ جن کے دلوں میں (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بُغض اور گستاخی کی) بیماری ہے، اور (اسی طرح) مدینہ میں جھوٹی افواہیں پھیلانے والے لوگ (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایذاء رسانی سے) باز نہ آئے تو ہم آپ کو ان پر ضرور مسلّط کر دیں گے پھر وہ مدینہ میں آپ کے پڑوس میں نہ ٹھہر سکیں گے مگر تھوڑے (دن)o

61. (یہ) لعنت کئے ہوئے لوگ جہاں کہیں پائے جائیں، پکڑ لئے جائیں اور چُن چُن کر بری طرح قتل کر دیئے جائیںo

62. اللہ کی (یہی) سنّت اُن لوگوں میں (بھی جاری رہی) ہے جو پہلے گزر چکے ہیں، اور آپ اللہ کے دستور میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پائیں گےo

63. لوگ آپ سے قیامت کے (وقت کے) بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ فرما دیجئے: اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، اور آپ کو کس نے آگاہ کیا شاید قیامت قریب ہی آچکی ہوo

64. بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت فرمائی ہے اور اُن کے لِئے (دوزخ کی) بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہےo

65. جِس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ نہ وہ کوئی حمایتی پائیں گے اور نہ مددگارo

66. جِس دن ان کے مُنہ آتشِ دوزخ میں (بار بار) الٹائے جائیں گے (تو) وہ کہیں گے: اے کاش! ہم نے اللہ کی اطاعت کی ہوتی اور ہم نے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کی ہوتیo

67. اور وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! بیشک ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کا کہا مانا تھا تو انہوں نے ہمیں (سیدھی) راہ سے بہکا دیاo

68. اے ہمارے رب! انہیں دوگنا عذاب دے اور اُن پر بہت بڑی لعنت کرo

69. اے ایمان والو! تم اُن لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے موسٰی (علیہ السلام) کو (گستاخانہ کلمات کے ذریعے) اذیت پہنچائی، پس اللہ نے انہیں اُن باتوں سے بے عیب ثابت کردیا جو وہ کہتے تھے، اور وہ (موسٰی علیہ السلام) اللہ کے ہاں بڑی قدر و منزلت والے تھےo

70. اے ایمان والو! اللہ سے ڈرا کرو اور صحیح اور سیدھی بات کہا کروo

71. وہ تمہارے لئے تمہارے (سارے) اعمال درست فرما دے گا اور تمہارے گناہ تمہارے لئے بخش دے گا، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتا ہے تو بیشک وہ بڑی کامیابی سے سرفراز ہواo

72. بیشک ہم نے (اِطاعت کی) امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کی تو انہوں نے اس (بوجھ) کے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اسے اٹھا لیا، بیشک وہ (اپنی جان پر) بڑی زیادتی کرنے والا (ادائیگئ امانت میں کوتاہی کے انجام سے) بڑا بے خبر و نادان ہےo

73. (یہ) اس لئے کہ اللہ منافق مَردوں اورمنافق عورتوں اور مشرِک مَردوں اور مشرِک عورتوں کو عذاب دے اور اللہ مومِن مَردوں اور مومِن عورتوں کی توبہ قبول فرمائے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہےo


سُورة سَبـَا

1. تمام تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہیں، جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے (سب) اسی کا ہے اور آخرت میں بھی تعریف اسی کے لئے ہے، اور وہ بڑی حکمت والا، خبردار ہےo

2. وہ اُن (سب) چیزوں کو جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتی ہیں اور جو اس میں سے باہر نکلتی ہیں اور جو آسمان سے اترتی ہیں اور جو اس میں چڑھتی ہیں، اور وہ بہت رحم فرمانے والا بڑا بخشنے والا ہےo

3. اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی، آپ فرما دیں: کیوں نہیں؟ میرے عالم الغیب رب کی قسم! وہ تم پر ضرور آئے گی، اس سے نہ آسمانوں میں ذرّہ بھر کوئی چیز غائب ہو سکتی ہے اور نہ زمین میں اور نہ اس سے کوئی چھوٹی (چیز ہے) اور نہ بڑی مگر روشن کتاب (یعنی لوحِ محفوظ) میں (لکھی ہوئی) ہےo

4. تاکہ اﷲ ان لوگوں کو پورا بدلہ عطا فرمائے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے بخشِش اور بزرگی والا (اخروی) رِزق ہےo

5. اور جنہوں نے ہماری آیتوں میں (مخالفانہ) کوشش کی (ہمیں) عاجز کرنے کے زعم میں انہی لوگوں کے لئے سخت دردناک عذاب کی سزا ہےo

6. اور ایسے لوگ جنہیں علم دیا گیا ہے وہ جانتے ہیں کہ جو (کتاب) آپ کے رب کی طرف سے آپ کی جانب اتاری گئی ہے وہی حق ہے اور وہ (کتاب) عزت والے، سب خوبیوں والے (رب) کی راہ کی طرف ہدایت کرتی ہےo

7. اور کافر لوگ (تعجب و استہزاء کی نیت سے) کہتے ہیں کہ کیا ہم تمہیں ایسے شخص کا بتائیں جو تمہیں یہ خبر دیتا ہے کہ جب تم (مَر کر) بالکل ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو یقیناً تمہیں (ایک) نئی پیدائش ملے گیo

8. (یا تو) وہ اﷲ پر جھوٹا بہتان باندھتا ہے یا اسے جنون ہے، (ایسا کچھ بھی نہیں) بلکہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ عذاب اور پرلے درجہ کی گمراہی میں (مبتلا) ہیںo

9. سو کیا انہوں نے اُن (نشانیوں) کو نہیں دیکھا جو آسمان اور زمین سے اُن کے آگے اور اُن کے پیچھے (انہیں گھیرے ہوئے) ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں یا اُن پر آسمان سے کچھ ٹکڑے گرا دیں، بیشک اس میں ہر اس بندے کے لئے نشانی ہے جو اﷲ کی طرف رجوع کرنے والا ہےo

10. اور بیشک ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو اپنی بارگاہ سے بڑا فضل عطا فرمایا، (اور حکم فرمایا اے پہاڑو! تم اِن کے ساتھ مل کر خوش اِلحانی سے (تسبیح) پڑھا کرو، اور پرندوں کو بھی (مسخّر کر کے یہی حکم دیا)، اور ہم نے اُن کے لئے لوہا نرم کر دیاo

11. (اور ارشاد فرمایا) کہ کشادہ زرہیں بناؤ اور (ان کے) حلقے جوڑنے میں اندازے کو ملحوظ رکھو اور (اے آلِ داوؤد!) تم لوگ نیک عمل کرتے رہو، میں اُن (کاموں) کو جو تم کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہوںo

12. اور سلیمان (علیہ السلام) کے لئے (ہم نے) ہوا کو (مسخّر کر دیا) جس کی صبح کی مسافت ایک مہینہ کی (راہ) تھی اور اس کی شام کی مسافت (بھی) ایک ماہ کی راہ ہوتی، اور ہم نے اُن کے لئے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہا دیا، اور کچھ جنّات (ان کے تابع کردیئے) تھے جو اُن کے رب کے حکم سے اُن کے سامنے کام کرتے تھے، اور (فرما دیا تھا کہ) ان میں سے جو کوئی ہمارے حکم سے پھرے گا ہم اسے دوزخ کی بھڑکتی آگ کا عذاب چکھائیں گےo

13. وہ (جنّات) ان کے لئے جو وہ چاہتے تھے بنا دیتے تھے۔ اُن میں بلند و بالا قلعے اور مجسّمے اور بڑے بڑے لگن تھے جو تالاب اور لنگر انداز دیگوں کی مانند تھے۔ اے آلِ داؤد! (اﷲ کا) شکر بجا لاتے رہو، اور میرے بندوں میں شکرگزار کم ہی ہوئے ہیںo

14. پھر جب ہم نے سلیمان (علیہ السلام) پر موت کا حکم صادر فرما دیا تو اُن (جنّات) کو ان کی موت پر کسی نے آگاہی نہ کی سوائے زمین کی دیمک کے جو اُن کے عصا کو کھاتی رہی، پھر جب آپ کا جسم زمین پر آگیا تو جنّات پر ظاہر ہوگیا کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلّت انگیز عذاب میں نہ پڑے رہتےo

15. درحقیقت (قومِ) سبا کے لئے ان کے وطن ہی میں نشانی موجود تھی۔ (وہ) دو باغ تھے، دائیں طرف اور بائیں طرف۔ (اُن سے ارشاد ہوا تم اپنے رب کے رزق سے کھایا کرو اور اس کا شکر بجا لایا کرو۔ (تمہارا) شہر (کتنا) پاکیزہ ہے اور رب بڑا بخشنے والا ہےo

16. پھر انہوں نے (طاعت سے) مُنہ پھیر لیا تو ہم نے ان پر زور دار سیلاب بھیج دیا اور ہم نے اُن کے دونوں باغوں کو دو (ایسے) باغوں سے بدل دیا جن میں بدمزہ پھل اور کچھ جھاؤ اور کچھ تھوڑے سے بیری کے درخت رہ گئے تھےo

17. یہ ہم نے انہیں ان کے کفر و ناشکری کا بدلہ دیا، اور ہم بڑے ناشکرگزار کے سوا (کسی کو ایسی) سزا نہیں دیتےo

18. اور ہم نے ان باشندوں کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دے رکھی تھی، (یمن سے شام تک) نمایاں (اور) متصل بستیاں آباد کر دی تھیں، اور ہم نے ان میں آمد و رفت (کے دوران آرام کرنے) کی منزلیں مقرر کر رکھی تھیں کہ تم لوگ ان میں راتوں کو (بھی) اور دنوں کو (بھی) بے خوف ہو کر چلتے پھرتے رہوo

19. تو وہ کہنے لگے: اے ہمارے رب! ہماری منازلِ سفر کے درمیان فاصلے پیدا کر دے، اور انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تو ہم نے انہیں (عبرت کے) فسانے بنا دیا اور ہم نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے منتشر کر دیا۔ بیشک اس میں بہت صابر اور نہایت شکر گزار شخص کے لئے نشانیاں ہیںo

20. بیشک ابلیس نے ان کے بارے میں اپنا خیال سچ کر دکھایا تو ان لوگوں نے اس کی پیروی کی بجز ایک گروہ کے جو (صحیح) مومنین کا تھاo

21. اور شیطان کا ان پر کچھ زور نہ تھا مگر یہ اس لئے (ہوا) کہ ہم ان لوگوں کو جو آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ان لوگوں سے ممتاز کر دیں جو اس کے بارے میں شک میں ہیں، اور آپ کا رب ہر چیز پر نگہبان ہےo

22. فرما دیجئے: تم انہیں بلا لو جنہیں تم اللہ کے سوا (معبود) سمجھتے ہو، وہ آسمانوں میں ذرّہ بھر کے مالک نہیں ہیں اور نہ زمین میں، اور نہ ان کی دونوں (زمین و آسمان) میں کوئی شراکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہےo

23. اور اس کی بارگاہ میں شفاعت نفع نہ دے گی سوائے جس کے حق میں اس نے اِذن دیا ہوگا، یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جائے گی تو وہ (سوالاً) کہیں گے کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ وہ (جواباً) کہیں گے: 'حق فرمایا' (یعنی اذن دے دیا)، وہی نہایت بلند، بہت بڑا ہےo

24. آپ فرمائیے: تمہیں آسمانوں اور زمین سے روزی کون دیتا ہے، آپ (خود ہی) فرما دیجئے کہ اللہ (دیتا ہے)، اور بیشک ہم یا تم ضرور ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میںo

25. فرما دیجئے: تم سے اس جرم کی باز پرس نہ ہوگی جو (تمہارے گمان میں) ہم سے سرزد ہوا اور نہ ہم سے اس کا پوچھا جائے گا جو تم کرتے ہوo

26. فرما دیجئے: ہم سب کو ہمارا رب (روزِ قیامت) جمع فرمائے گا پھر ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا، اور وہ خوب فیصلہ فرمانے والا خوب جاننے والا ہےo

27. فرما دیجئے: مجھے وہ شریک دکھاؤ جنہیں تم نے اللہ کے ساتھ ملا رکھا ہے، ہرگز (کوئی شریک) نہیں ہے! بلکہ وہی اللہ بڑی عزت والا، بڑی حکمت والا ہےo

28. اور (اے حبیبِ مکرّم!) ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر اس طرح کہ (آپ) پوری انسانیت کے لئے خوشخبری سنانے والے اور ڈر سنانے والے ہیں لیکن اکثر لوگ نہیں جانتےo

29. اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدۂ (آخرت) کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہوo

30. فرما دیجئے: تمہارے لئے وعدہ کا دن مقرر ہے نہ تم اس سے ایک گھڑی پیچھے رہو گے اور نہ آگے بڑھ سکو گےo

31. اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ ہم اس قرآن پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اور نہ اس (وحی) پر جو اس سے پہلے اتر چکی، اور اگر آپ دیکھیں جب ظالم لوگ اپنے رب کے حضور کھڑے کئے جائیں گے (تو کیا منظر ہوگا) کہ ان میں سے ہر ایک (اپنی) بات پھیر کر دوسرے پر ڈال رہا ہوگا، کمزور لوگ متکبّروں سے کہیں گے: اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایمان لے آتےo

32. متکبرّ لوگ کمزوروں سے کہیں گے: کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا اس کے بعد کہ وہ تمہارے پاس آچکی تھی، بلکہ تم خود ہی مُجرم تھےo

33. پھر کمزور لوگ متکبرّوں سے کہیں گے: بلکہ (تمہارے) رات دن کے مَکر ہی نے (ہمیں روکا تھا) جب تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کریں اور ہم اس کے لئے شریک ٹھہرائیں، اور وہ (ایک دوسرے سے) ندامت چھپائیں گے جب وہ عذاب دیکھ لیں گے اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے، اور انہیں اُن کے کئے کا ہی بدلہ دیا جائے گاo

34. اور ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈر سنانے والا نہیں بھیجا مگر یہ کہ وہاں کے خوشحال لوگوں نے (ہمیشہ یہی) کہا کہ تم جو (ہدایت) دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کے مُنکِر ہیںo

35. اور انہوں نے کہا کہ ہم مال و اولاد میں بہت زیادہ ہیں اور ہم پر عذاب نہیں کیا جائے گاo

36. فرما دیجئے: میرا رب جس کے لئے چاہتا ہے رِزق کشادہ فرما دیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتےo

37. اور نہ تمہارے مال اس قابل ہیں اور نہ تمہاری اولاد کہ تمہیں ہمارے حضور قرب اور نزدیکی دلا سکیں مگر جو ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کئے، پس ایسے ہی لوگوں کے لئے دوگنا اجر ہے ان کے عمل کے بدلے میں اور وہ (جنت کے) بالاخانوں میں امن و امان سے ہوں گےo

38. اور جو لوگ ہماری آیتوں میں (مخالفانہ) کوشش کرتے ہیں (ہمیں) عاجز کرنے کے گمان میں، وہی لوگ عذاب میں حاضر کئے جائیں گےo

39. فرما دیجئے: بیشک میرا رب اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے رِزق کشادہ فرما دیتا ہے اور جس کے لئے (چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے، اور تم (اﷲ کی راہ میں) جو کچھ بھی خرچ کرو گے تو وہ اس کے بدلہ میں اور دے گا اور وہ سب سے بہتر رِزق دینے والا ہےo

40. اور جس دن وہ سب کو ایک ساتھ جمع کرے گا پھر فرشتوں سے ارشاد فرمائے گا: کیا یہی لوگ ہیں جو تمہاری عبادت کیا کرتے تھےo

41. وہ عرض کریں گے: تو پاک ہے تو ہی ہمارا دوست ہے نہ کہ یہ لوگ، بلکہ یہ لوگ جنات کی پوجا کیا کرتے تھے، ان میں سے اکثر اُنہی پر ایمان رکھنے والے ہیںo

42. پس آج کے دن تم میں سے کوئی نہ ایک دوسرے کے نفع کا مالک ہے اور نہ نقصان کا، اور ہم ظالموں سے کہیں گے: دوزخ کے عذاب کا مزہ چکھو جسے تم جھٹلایا کرتے تھےo

43. اور جب اُن پر ہماری روشن آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں: یہ (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو ایک ایسا شخص ہے جو تمہیں صرف اُن (بتوں) سے روکنا چاہتا ہے جن کی تمہارے باپ دادا پوجا کیا کرتے تھے، اور یہ (بھی) کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) محض من گھڑت بہتان ہے، اور کافر لوگ اس حق (یعنی قرآن) سے متعلق جبکہ وہ اِن کے پاس آچکا ہے، یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ تو محض کھلا جادو ہےo

44. اور ہم نے ان (اہلِ مکہّ) کو نہ آسمانی کتابیں عطا کی تھیں جنہیں یہ لوگ پڑھتے ہوں اور نہ ہی آپ سے پہلے ان کی طرف کوئی ڈر سنانے والا بھیجا تھاo

45. اور اِن سے پہلے لوگوں نے بھی (حق کو) جھٹلایا تھا اور یہ اس کے دسویں حصّے کو بھی نہیں پہنچے جو کچھ ہم نے اُن (پہلے گزرے ہؤوں) کو دیا تھا پھر انہوں نے (بھی) میرے رسولوں کو جھٹلایا، سو میرا انکار کیسا (عبرت ناک ثابت) ہواo

46. فرما دیجئے: میں تمہیں بس ایک ہی (بات کی) نصیحت کرتا ہوں کہ تم اﷲ کے لئے (روحانی بیداری اور انتباہ کے حال میں) قیام کرو، دو دو اور ایک ایک، پھر تفکّر کرو (یعنی حقیقت کا معاینہ اور مراقبہ کرو تو تمہیں مشاہدہ ہو جائے گا) کہ تمہیں شرفِ صحبت سے نوازنے والے (رسولِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہرگز جنون زدہ نہیں ہیں وہ تو سخت عذاب (کے آنے) سے پہلے تمہیں (بروقت) ڈر سنانے والے ہیں (تاکہ تم غفلت سے جاگ اٹھو)o

47. فرما دیجئے: میں نے (اس اِحسان کا) جو صلہ تم سے مانگا ہو وہ بھی تم ہی کو دے دیا، میرا اجر صرف اﷲ ہی کے ذمّہ ہے، اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہےo

48. فرما دیجئے: میرا رب (انبیاء کی طرف) حق کا القاء فرماتا ہے (وہ) سب غیبوں کو خوب جاننے والا ہےo

49. فرما دیجئے: حق آگیا ہے اور باطل نہ (کچھ) پہلی بار پیدا کر سکتا ہے اور نہ دوبارہ پلٹا سکتا ہےo

50. فرما دیجئے: اگر میں بہک جاؤں تو میرے بہکنے کا گناہ (یا نقصان) میری اپنی ہی ذات پر ہے، اور اگر میں نے ہدایت پا لی ہے تو اس وجہ سے (پائی ہے) کہ میرا رب میری طرف وحی بھیجتا ہے۔ بیشک وہ سننے والا ہے قریب ہےo

51. اور اگر آپ (ان کا حال) دیکھیں جب یہ لوگ بڑے مضطرب ہوں گے، پھر بچ نہ سکیں گے اور نزدیکی جگہ سے ہی پکڑ لئے جائیں گےo

52. اور کہیں گے: ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں، مگر اب وہ (ایمان کو اتنی) دُور کی جگہ سے کہاں پا سکتے ہیںo

53. حالانکہ وہ اس سے پہلے کفر کر چکے، اور وہ بِن دیکھے دور کی جگہ سے باطل گمان کے تیر پھینکتے رہے ہیںo

54. اور ان کے اور ان کی خواہشات کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی جیسا کہ پہلے اُن کے مثل گروہوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔ بیشک وہ دھوکہ میں ڈالنے والے شک میں مبتلا تھےo


سُورة فَاطِر

1. تمام تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہیں جو آسمانوں اور زمین (کی تمام وسعتوں) کا پیدا فرمانے والا ہے، فرشتوں کو جو دو دو اور تین تین اور چار چار پَروں والے ہیں، قاصد بنانے والا ہے، اور تخلیق میں جس قدر چاہتا ہے اضافہ (اور توسیع) فرماتا رہتا ہے، بیشک اﷲ ہر چیز پر بڑا قادر ہےo

2. اﷲ انسانوں کے لئے (اپنے خزانۂ) رحمت سے جو کچھ کھول دے تو اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے، اور جو روک لے تو اس کے بعد کوئی اسے چھوڑنے والا نہیں، اور وہی غالب ہے بڑی حکمت والا ہےo

3. اے لوگو! اپنے اوپر اﷲ کے انعام کو یاد کرو، کیا اﷲ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے روزی دے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پس تم کہاں بہکے پھرتے ہوo

4. اور اگر وہ آپ کو جھٹلائیں تو آپ سے پہلے کتنے ہی رسول جھٹلائے گئے، اور تمام کام اﷲ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گےo

5. اے لوگو! بیشک اﷲ کا وعدہ سچا ہے سو دنیا کی زندگی تمہیں ہرگز فریب نہ دے دے، اور نہ وہ دغا باز شیطان تمہیں اﷲ (کے نام) سے دھوکہ دےo

6. بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے سو تم بھی (اس کی مخالفت کی شکل میں) اسے دشمن ہی بنائے رکھو، وہ تو اپنے گروہ کو صرف اِس لئے بلاتا ہے کہ وہ دوزخیوں میں شامل ہو جائیںo

7. کافر لوگوں کے لئے سخت عذاب ہے، اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے ان کے لئے مغفرت اور بہت بڑا ثواب ہےo

8. بھلا جس شخص کے لئے اس کا برا عمل آراستہ کر دیا گیا ہو اور وہ اسے (حقیقتاً) اچھا سمجھنے لگے (کیا وہ مومنِ صالح جیسا ہو سکتا ہے)، سو بیشک اﷲ جسے چاہتا ہے گمراہ ٹھہرا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت فرماتا ہے، سو (اے جانِ جہاں!) ان پر حسرت اور فرطِ غم میں آپ کی جان نہ جاتی رہے، بیشک وہ جو کچھ سرانجام دیتے ہیں اﷲ اسے خوب جاننے والا ہےo

9. اور اﷲ ہی ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے تو وہ بادل کو ابھار کر اکٹھا کرتی ہیں پھر ہم اس (بادل) کو خشک اور بنجر بستی کی طرف سیرابی کے لئے لے جاتے ہیں، پھر ہم اس کے ذریعے اس زمین کو اس کی مُردنی کے بعد زندگی عطا کرتے ہیں، اسی طرح (مُردوں کا) جی اٹھنا ہوگاo

10. جو شخص عزت چاہتا ہے تو اﷲ ہی کے لئے ساری عزت ہے، پاکیزہ کلمات اسی کی طرف چڑھتے ہیں اور وہی نیک عمل(کے مدارج) کو بلند فرماتا ہے، اور جو لوگ بری چالوں میں لگے رہتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اور ان کا مکر و فریب نیست و نابود ہو جائے گاo

11. اور اﷲ ہی نے تمہیں مٹی (یعنی غیر نامی مادّہ) سے پیدا فرمایا پھر ایک تولیدی قطرہ سے، پھر تمہیں جوڑے جوڑے بنایا، اور کوئی مادّہ حاملہ نہیں ہوتی اور نہ بچہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے، اور نہ کسی دراز عمر شخص کی عمر بڑھائی جاتی ہے اور نہ اس کی عمر کم کی جاتی ہے مگر (یہ سب کچھ) لوحِ (محفوظ) میں ہے، بیشک یہ اﷲ پر بہت آسان ہےo

12. اور دو سمندر (یا دریا) برابر نہیں ہو سکتے، یہ (ایک) شیریں، پیاس بجھانے والا ہے، اس کا پینا خوشگوار ہے اور یہ (دوسرا) کھاری، سخت کڑوا ہے، اور تم ہر ایک سے تازہ گوشت کھاتے ہو، اور زیور (جن میں موتی، مرجان اور مونگے وغیرہ سب شامل ہیں) نکالتے ہو، جنہیں تم پہنتے ہو اور تُو اس میں کشتیوں (اور جہازوں) کو دیکھتا ہے جو (پانی کو) پھاڑتے چلے جاتے ہیں تاکہ تم (بحری تجارت کے راستوں سے) اس کا فضل تلاش کر سکو اور تاکہ تم شکرگزار ہو جاؤo

13. وہ رات کو دن میں داخل فرماتا ہے اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو (ایک نظام کے تحت) مسخرّ فرما رکھا ہے، ہر کوئی ایک مقرر میعاد کے مطابق حرکت پذیر ہے۔ یہی اﷲ تمہارا رب ہے اسی کی ساری بادشاہت ہے، اور اس کے سوا تم جن بتوں کو پوجتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے باریک چھلکے کے (بھی) مالک نہیں ہیںo

14. (اے مشرکو!) اگر تم انہیں پکارو تو وہ (بت ہیں) تمہاری پکار نہیں سُن سکتے اور اگر (بالفرض) وہ سُن لیں تو تمہیں جواب نہیں دے سکتے، اور قیامت کے دن وہ تمہارے شِرک کا بالکل انکار کر دیں گے، اور تجھے خدائے باخبر جیسا کوئی خبردار نہ کرے گاo

15. اے لوگو! تم سب اﷲ کے محتاج ہو اور اﷲ ہی بے نیاز، سزاوارِ حمد و ثنا ہےo

16. اگر وہ چاہے تمہیں نابود کر دے اور نئی مخلوق لے آئےo

17. اور یہ اﷲ پر کچھ مشکل نہیں ہےo

18. اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بارِ (گناہ) نہ اٹھا سکے گا، اور کوئی بوجھ میں دبا ہوا (دوسرے کو) اپنا بوجھ بٹانے کے لئے بلائے گا تو اس سے کچھ بھی بوجھ نہ اٹھایا جا سکے گا خواہ قریبی رشتہ دار ہی ہو، (اے حبیب!) آپ ان ہی لوگوں کو ڈر سناتے ہیں جو اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کوئی پاکیزگی حاصل کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدہ کے لئے پاک ہوتا ہے، اور اﷲ ہی کی طرف پلٹ کر جانا ہےo

19. اور اندھا اور بینا برابر نہیں ہو سکتےo

20. اور نہ تاریکیاں اور نہ نور (برابر ہو سکتے ہیں)o

21. اور نہ سایہ اور نہ دھوپo

22. اور نہ زندہ لوگ اور نہ مُردے برابر ہو سکتے ہیں، بیشک اﷲ جسے چاہتا ہے سنا دیتا ہے، اور آپ کے ذمّہ ان کو سنانا نہیں جو قبروں میں (مدفون) ہیں (یعنی آپ کافروں سے اپنی بات قبول کروانے کے ذمّہ دار نہیں ہیں)o

23. آپ تو فقط ڈر سنانے والے ہیںo

24. بیشک ہم نے آپ کو حق و ہدایت کے ساتھ، خوشخبری سنانے والا اور (آخرت کا) ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور کوئی امّت (ایسی) نہیں مگر اُس میں کوئی (نہ کوئی) ڈر سنانے والا (ضرور) گزرا ہےo

25. اور اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلائیں تو بیشک اِن سے پہلے لوگ (بھی) جھٹلا چکے ہیں، اُن کے پاس (بھی) اُن کے رسول واضح نشانیاں اور صحیفے اور روشن کرنے والی کتاب لے کر آئے تھےo

26. پھر میں نے ان کافروں کو (عذاب میں) پکڑ لیا سو میرا انکار (کیا جانا) کیسا (عبرت ناک) ثابت ہواo

27. کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اﷲ نے آسمان سے پانی اتارا، پھر ہم نے اس سے پھل نکالے جن کے رنگ جداگانہ ہیں، اور (اسی طرح) پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ گھاٹیاں ہیں ان کے رنگ (بھی) مختلف ہیں اور بہت گہری سیاہ (گھاٹیاں) بھی ہیںo

28. اور انسانوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی اسی طرح مختلف رنگ ہیں، بس اﷲ کے بندوں میں سے اس سے وہی ڈرتے ہیں جو (ان حقائق کا بصیرت کے ساتھ) علم رکھنے والے ہیں، یقیناً اﷲ غالب ہے بڑا بخشنے والا ہےo

29. بیشک جو لوگ اﷲ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں، پوشیدہ بھی اور ظاہر بھی، اور ایسی (اُخروی) تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی خسارے میں نہیں ہوگیo

30. تاکہ اﷲ ان کا اجر انہیں پورا پورا عطا فرمائے اور اپنے فضل سے انہیں مزید نوازے، بیشک اﷲ بڑا بخشنے والا، بڑا ہی شکر قبول فرمانے والا ہےo

31. اور جو کتاب (قرآن) ہم نے آپ کی طرف وحی فرمائی ہے، وہی حق ہے اور اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے، بیشک اﷲ اپنے بندوں سے پوری طرح باخبر ہے خوب دیکھنے والا ہےo

32. پھر ہم نے اس کتاب (قرآن) کا وارث ایسے لوگوں کو بنایا جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے چُن لیا (یعنی امّتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو)، سو ان میں سے اپنی جان پر ظلم کرنے والے بھی ہیں، اور ان میں سے درمیان میں رہنے والے بھی ہیں، اور ان میں سے اﷲ کے حکم سے نیکیوں میں آگے بڑھ جانے والے بھی ہیں، یہی (آگے نکل کر کامل ہو جانا ہی) بڑا فضل ہےo

33. (دائمی اِقامت کے لئے) عدن کی جنّتیں ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے، ان میں انہیں سونے اور موتیوں کے کنگنوں سے آراستہ کیا جائے گا اور وہاں ان کی پوشاک ریشمی ہوگیo

34. اور وہ کہیں گے: اﷲ کا شکر و حمد ہے جس نے ہم سے کُل غم دور فرما دیا، بیشک ہمارا رب بڑا بخشنے والا، بڑا شکر قبول فرمانے والا ہےo

35. جس نے ہمیں اپنے فضل سے دائمی اقامت کے گھر لا اتارا ہے، جس میں ہمیں نہ کوئی مشقّت پہنچے گی اور نہ اس میں ہمیں کوئی تھکن پہنچے گیo

36. اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے، نہ ان پر (موت کا) فیصلہ کیا جائے گا کہ مر جائیں اور نہ ان سے عذاب میں سے کچھ کم کیا جائے گا، اسی طرح ہم ہر نافرمان کو بدلہ دیا کرتے ہیںo

37. اور وہ اس دوزخ میں چِلّائیں گے کہ اے ہمارے رب! ہمیں (یہاں سے) نکال دے، (اب) ہم نیک عمل کریں گے ان (اَعمال) سے مختلف جو ہم (پہلے) کیا کرتے تھے۔ (ارشاد ہوگا کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی کہ اس میں جو شخص نصیحت حاصل کرنا چاہتا، وہ سوچ سکتا تھا اور (پھر) تمہارے پاس ڈر سنانے والا بھی آچکا تھا، پس اب (عذاب کا) مزہ چکھو سو ظالموں کے لئے کوئی مددگار نہ ہوگاo

38. بیشک اﷲ آسمانوں اور زمین کے غیب کو جاننے والا ہے، یقیناً وہ سینوں کی (پوشیدہ) باتوں سے خوب واقف ہےo

39. وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں (گزشتہ اقوام کا) جانشین بنایا، پس جس نے کفر کیا سو اس کا وبالِ کفر اسی پر ہوگا، اور کافروں کے حق میں ان کا کفر اُن کے رب کے حضور سوائے ناراضگی کے اور کچھ نہیں بڑھاتا، اور کافروں کے حق میں ان کا کفر سوائے نقصان کے کسی (بھی) اور چیز کا اضافہ نہیں کرتاo

40. فرما دیجئے: کیا تم نے اپنے شریکوں کو دیکھا ہے جنہیں تم اﷲ کے سوا پوجتے ہو، مجھے دکھا دو کہ انہوں نے زمین سے کیا چیز پیدا کی ہے یا آسمانوں (کی تخلیق) میں ان کی کوئی شراکت ہے، یا ہم نے انہیں کوئی کتاب عطا کر رکھی ہے کہ وہ اس کی دلیل پر قائم ہیں؟ (کچھ بھی نہیں ہے) بلکہ ظالم لوگ ایک دوسرے سے فریب کے سوا کوئی وعدہ نہیں کرتےo

41. بیشک اﷲ آسمانوں اور زمین کو (اپنے نظامِ قدرت کے ذریعے) اس بات سے روکے ہوئے ہے کہ وہ (اپنی اپنی جگہوں اور راستوں سے) ہٹ سکیں، اور اگر وہ دونوں ہٹنے لگیں تو اس کے بعد کوئی بھی ان دونوں کو روک نہیں سکتا، بیشک وہ بڑا بُردبار، بڑا بخشنے والا ہےo

42. اور یہ لوگ اﷲ کے ساتھ بڑی پختہ قَسمیں کھایا کرتے تھے کہ اگر اُن کے پاس کوئی ڈر سنانے والا آجائے تو یہ ضرور ہر ایک امّت سے بڑھ کر راہِ راست پر ہوں گے، پھر جب اُن کے پاس ڈر سنانے والے (نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آئے تو اس سے اُن کی حق سے بیزاری میں اضافہ ہی ہواo

43. (انہوں نے) زمین میں اپنے آپ کو سب سے بڑا سمجھنا اور بری چالیں چلنا (اختیار کیا)، اور برُی چالیں اُسی چال چلنے والے کو ہی گھیر لیتی ہیں، سو یہ اگلے لوگوں کی رَوِشِ (عذاب) کے سوا (کسی اور چیز کے) منتظر نہیں ہیں۔ سو آپ اﷲ کے دستور میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے، اور نہ ہی اﷲ کے دستور میں ہرگز کوئی پھرنا پائیں گےo

44. کیا یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے نہیں ہیں کہ دیکھ لیتے کہ اُن لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو اِن سے پہلے تھے حالانکہ وہ اِن سے کہیں زیادہ زورآور تھے، اور اﷲ ایسا نہیں ہے کہ آسمانوں میں کوئی بھی چیز اسے عاجز کر سکے اور نہ ہی زمین میں (ایسی کوئی چیز ہے)، بیشک وہ بہت علم والا بڑی قدرت والا ہےo

45. اور اگر اﷲ لوگوں کو اُن اعمالِ (بد) کے بدلے جو انہوں نے کما رکھے ہیں (عذاب کی) گرفت میں لینے لگے تو وہ اس زمین کی پشت پر کسی چلنے والے کو نہ چھوڑے لیکن وہ انہیں مقررہ مدّت تک مہلت دے رہا ہے۔ پھر جب ان کا مقررہ وقت آجائے گا تو بیشک اﷲ اپنے بندوں کو خوب دیکھنے والا ہےo


سُورة يٰس

1. یا، سین (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)o

2. حکمت سے معمور قرآن کی قَسمo

3. بیشک آپ ضرور رسولوں میں سے ہیںo

4. سیدھی راہ پر (قائم ہیں)o

5. (یہ) بڑی عزت والے، بڑے رحم والے (رب) کا نازل کردہ ہےo

6. تاکہ آپ اس قوم کو ڈر سنائیں جن کے باپ دادا کو (بھی) نہیں ڈرایا گیا سو وہ غافل ہیںo

7. درحقیقت اُن کے اکثر لوگوں پر ہمارا فرمان (سچ) ثابت ہو چکا ہے سو وہ ایمان نہیں لائیں گےo

8. بیشک ہم نے اُن کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں تو وہ اُن کی ٹھوڑیوں تک ہیں، پس وہ سر اوپر اٹھائے ہوئے ہیںo

9. اور ہم نے اُن کے آگے سے (بھی) ایک دیوار اور اُن کے پیچھے سے (بھی) ایک دیوار بنا دی ہے، پھر ہم نے اُن (کی آنکھوں) پر پردہ ڈال دیا ہے سو وہ کچھ نہیں دیکھتےo

10. اور اُن پر برابر ہے خواہ آپ انہیں ڈرائیں یا انہیں نہ ڈرائیں وہ ایمان نہ لائیں گےo

11. آپ تو صرف اسی شخص کو ڈر سناتے ہیں جو نصیحت کی پیروی کرتا ہے اور خدائے رحمان سے بن دیکھے ڈرتا ہے، سو آپ اسے بخشش اور بڑی عزت والے اجر کی خوشخبری سنا دیںo

12. بیشک ہم ہی تو مُردوں کو زندہ کرتے ہیں اور ہم وہ سب کچھ لکھ رہے ہیں جو (اَعمال) وہ آگے بھیج چکے ہیں، اور اُن کے اثرات (جو پیچھے رہ گئے ہیں)، اور ہر چیز کو ہم نے روشن کتاب (لوحِ محفوظ) میں احاطہ کر رکھا ہےo

13. اور آپ اُن کے لئے ایک بستی (انطاکیہ) کے باشندوں کی مثال (حکایۃً) بیان کریں، جب اُن کے پاس کچھ پیغمبر آئےo

14. جبکہ ہم نے اُن کی طرف (پہلے) دو (پیغمبر) بھیجے تو انہوں نے ان دونوں کو جھٹلا دیا پھر ہم نے (ان کو) تیسرے (پیغمبر) کے ذریعے قوت دی، پھر اُن تینوں نے کہا: بیشک ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیںo

15. (بستی والوں نے) کہا: تم تو محض ہماری طرح بشر ہو اور خدائے رحمان نے کچھ بھی نازل نہیں کیا، تم فقط جھوٹ بول رہے ہوo

16. (پیغمبروں نے) کہا: ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم یقیناً تمہاری طرف بھیجے گئے ہیںo

17. اور واضح طور پر پیغام پہنچا دینے کے سوا ہم پر کچھ لازم نہیں ہےo

18. (بستی والوں نے) کہا: ہمیں تم سے نحوست پہنچی ہے اگر تم واقعی باز نہ آئے تو ہم تمہیں یقیناً سنگ سار کر دیں گے اور ہماری طرف سے تمہیں ضرور دردناک عذاب پہنچے گاo

19. (پیغمبروں نے) کہا: تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے، کیا یہ نحوست ہے کہ تمہیں نصیحت کی گئی، بلکہ تم لوگ حد سے گزر جانے والے ہوo

20. اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا، اس نے کہا: اے میری قوم! تم پیغمبروں کی پیروی کروo

21. ایسے لوگوں کی پیروی کرو جو تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتے اور وہ ہدایت یافتہ ہیںo
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-02-11, 03:37 PM   #26
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,228
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default پارہ نمبر23

پاره وَمَا لِيَ

22. اور مجھے کیا ہے کہ میں اس ذات کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا فرمایا ہے اور تم (سب) اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گےo

23. کیا میں اس (اللہ) کو چھوڑ کر ایسے معبود بنا لوں کہ اگر خدائے رحمان مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو نہ مجھے اُن کی سفارش کچھ نفع پہنچا سکے اور نہ وہ مجھے چھڑا ہی سکیںo

24. بے شک تب تو میں کھلی گمراہی میں ہوں گاo

25. بے شک میں تمہارے رب پر ایمان لے آیا ہوں، سو تم مجھے (غور سے) سنوo

26. (اسے کافروں نے شہید کر دیا تو اسے) کہا گیا: (آ) بہشت میں داخل ہوجا، اس نے کہا: اے کاش! میری قوم کو معلوم ہو جاتاo

27. کہ میرے رب نے میری مغفرت فرما دی ہے اور مجھے عزت و قربت والوں میں شامل فرما دیا ہےo

28. اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے (فرشتوں کا) کوئی لشکر نہیں اتارا اور نہ ہی ہم (ان کی ہلاکت کے لئے فرشتوں کو) اتارنے والے تھےo

29. (ان کا عذاب) ایک سخت چنگھاڑ کے سوا اور کچھ نہ تھا، بس وہ اُسی دم (مر کر کوئلے کی طرح) بُجھ گئےo

30. ہائے (اُن) بندوں پر افسوس! اُن کے پاس کوئی رسول نہ آتا تھا مگر یہ کہ وہ اس کا مذاق اڑاتے تھےo

31. کیا اِنہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اِن سے پہلے کتنی ہی قومیں ہلاک کر ڈالیں، کہ اب وہ لوگ ان کی طرف پلٹ کر نہیں آئیں گےo

32. مگر یہ کہ وہ سب کے سب ہمارے حضور حاضر کیے جائیں گےo

33. اور اُن کے لئے ایک نشانی مُردہ زمین ہے، جِسے ہم نے زندہ کیا اور ہم نے اس سے (اناج کے) دانے نکالے، پھر وہ اس میں سے کھاتے ہیںo

34. اور ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغات بنائے اور اس میں ہم نے کچھ چشمے بھی جاری کردیئےo

35. تاکہ وہ اس کے پھل کھائیں اور اسے اُن کے ہاتھوں نے نہیں بنایا، پھر (بھی) کیا وہ شکر نہیں کرتےo

36. پاک ہے وہ ذات جس نے سب چیزوں کے جوڑے پیدا کئے، ان سے (بھی) جنہیں زمین اگاتی ہے اور خود اُن کی جانوں سے بھی اور (مزید) ان چیزوں سے بھی جنہیں وہ نہیں جانتےo

37. اور ایک نشانی اُن کے لئے رات (بھی) ہے، ہم اس میں سے (کیسے) دن کو کھینچ لیتے ہیں سو وہ اس وقت اندھیرے میں پڑے رہ جاتے ہیںo

38. اور سورج ہمیشہ اپنی مقررہ منزل کے لئے (بغیر رکے) چلتا رہتا، ہے یہ بڑے غالب بہت علم والے (رب) کی تقدیر ہےo

39. اور ہم نے چاند کی (حرکت و گردش کی) بھی منزلیں مقرر کر رکھی ہیں یہاں تک کہ (اس کا اہلِ زمین کو دکھائی دینا گھٹتے گھٹتے) کھجور کی پرانی ٹہنی کی طرح ہوجاتا ہےo

40. نہ سورج کی یہ مجال کہ وہ (اپنا مدار چھوڑ کر) چاند کو جا پکڑے اور نہ رات ہی دن سے پہلے نمودار ہوسکتی ہے، اور سب (ستارے اور سیارے) اپنے (اپنے) مدار میں حرکت پذیر ہیںo

41. اور ایک نشانی اُن کے لئے یہ (بھی) ہے کہ ہم نے ان کے آباء و اجداد کو (جو ذُریّت آدم تھے) بھری کشتیِ (نوح) میں سوار کر (کے بچا) لیا تھاo

42. اور ہم نے اُن کے لئے اس (کشتی) کے مانند ان (بہت سی اور سواریوں) کو بنایا جن پر یہ لوگ سوار ہوتے ہیںo

43. اور اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کر دیں تو نہ ان کے لئے کوئی فریاد رَس ہوگا اور نہ وہ بچائے جاسکیں گےo

44. سوائے ہماری رحمت کے اور (یہ) ایک مقررہ مدّت تک کا فائدہ ہےo

45. اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ تم اس (عذاب) سے ڈرو جو تمہارے سامنے ہے اور جو تمہارے پیچھے ہے تاکہ تم پر رحم کیا جائےo

46. اور اُن کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی (بھی) نشانی اُن کے پاس نہیں آتی مگر وہ اس سے رُوگردانی کرتے ہیںo

47. اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ تم اس میں سے (راہِ خدا میں) خرچ کرو جو تمہیں اللہ نے عطا کیا ہے تو کافر لوگ ایمان والوں سے کہتے ہیں: کیا ہم اس (غریب) شخص کو کھلائیں جسے اگر اللہ چاہتا تو (خود ہی) کھلا دیتا۔ تم تو کھلی گمراہی میں ہی (مبتلا) ہوگئے ہوo

48. اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدۂ (قیامت) کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہوo

49. وہ لوگ صرِف ایک سخت چنگھاڑ کے ہی منتظر ہیں جو انہیں (اچانک) پکڑے گی اور وہ آپس میں جھگڑ رہے ہوں گےo

50. پھر وہ نہ تو وصیّت کرنے کے ہی قابل رہیں گے اور نہ اپنے گھر والوں کی طرف واپس پلٹ سکیں گےo

51. اور (جس وقت دوبارہ) صُور پھونکا جائے گا تو وہ فوراً قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف دوڑ پڑیں گےo

52. (روزِ محشر کی ہولناکیاں دیکھ کر) کہیں گے: ہائے ہماری کم بختی! ہمیں کس نے ہماری خواب گاہوں سے اٹھا دیا، (یہ زندہ ہونا) وہی تو ہے جس کا خدائے رحمان نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں نے سچ فرمایا تھاo

53. یہ محض ایک بہت سخت چنگھاڑ ہوگی تو وہ سب کے سب یکایک ہمارے حضور لا کر حاضر کر دیئے جائیں گےo

54. پھر آج کے دن کسی جان پر کچھ ظلم نہ کیا جائے گا اور نہ تمہیں کوئی بدلہ دیا جائے گا سوائے اُن کاموں کے جو تم کیا کرتے تھےo

55. بے شک اہلِ جنت آج (اپنے) دل پسند مشاغل (مثلاً زیارتوں، ضیافتوں، سماع اور دیگر نعمتوں) میں لطف اندوز ہو رہے ہوں گےo

56. وہ اور ان کی بیویاں گھنے سایوں میں تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گےo

57. اُن کے لئے اس میں (ہر قسم کا) میوہ ہوگا اور ان کے لئے ہر وہ چیز (میسر) ہوگی جو وہ طلب کریں گےo

58. (تم پر) سلام ہو، (یہ) ربِّ رحیم کی طرف سے فرمایا جائے گاo

59. اور اے مجرمو! تم آج (نیکو کاروں سے) الگ ہوجاؤo

60. اے بنی آدم! کیا میں نے تم سے اس بات کا عہد نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی پرستش نہ کرنا، بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہےo

61. اور یہ کہ میری عبادت کرتے رہنا، یہی سیدھا راستہ ہےo

62. اور بے شک اس نے تم میں سے بہت سی خلقت کو گمراہ کر ڈالا، پھر کیا تم عقل نہیں رکھتے تھےo

63. یہ وہی دوزخ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہےo

64. آج اس دوزخ میں داخل ہو جاؤ اس وجہ سے کہ تم کفر کرتے رہے تھےo

65. آج ہم اُن کے مونہوں پر مُہر لگا دیں گے اور اُن کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور اُن کے پاؤں اُن اعمال کی گواہی دیں گے جو وہ کمایا کرتے تھےo

66. اور اگر ہم چاہتے تو اُن کی آنکھوں کے نشان تک مِٹا دیتے پھر وہ راستے پر دوڑتے تو کہاں دیکھ سکتےo

67. اور اگر ہم چاہتے تو اُن کی رہائش گاہوں پر ہی ہم ان کی صورتیں بگاڑ دیتے پھر نہ وہ آگے جانے کی قدرت رکھتے اور نہ ہی واپس لوٹ سکتےo

68. اور ہم جسے طویل عمر دیتے ہیں اسے قوت و طبیعت میں واپس (بچپن یا کمزوری کی طرف) پلٹا دیتے ہیں، پھر کیا وہ عقل نہیں رکھتےo

69. اور ہم نے اُن کو (یعنی نبیِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو) شعر کہنا نہیں سکھایا اور نہ ہی یہ اُن کے شایانِ شان ہے۔ یہ (کتاب) تو فقط نصیحت اور روشن قرآن ہےo

70. تاکہ وہ اس شخص کو ڈر سنائیں جو زندہ ہو اور کافروں پر فرمانِ حجت ثابت ہو جائےo

71. کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اپنے دستِ قدرت سے بنائی ہوئی (مخلوق) میں سے اُن کے لئے چوپائے پیدا کیے تو وہ ان کے مالک ہیںo

72. اور ہم نے اُن (چوپایوں) کو ان کے تابع کر دیا سو ان میں سے کچھ تو اُن کی سواریاں ہیں اور ان میں سے بعض کو وہ کھاتے ہیںo

73. اور ان میں ان کے لئے اور بھی فوائد ہیں اور مشروب ہیں، تو پھر وہ شکر ادا کیوں نہیں کرتےo

74. اور انہوں نے اللہ کے سوا بتوں کو معبود بنا لیا ہے اس امید پر کہ ان کی مدد کی جائے گیo

75. وہ بت اُن کی مدد کی قدرت نہیں رکھتے اور یہ (کفار و مشرکین) اُن (بتوں) کے لشکر ہوں گے جو (اکٹھے دوزخ میں) حاضر کر دیئے جائیں گےo

76. پس اُن کی باتیں آپ کو رنجیدہ خاطر نہ کریں، بیشک ہم جانتے ہیں جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیںo

77. کیا انسان نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے ایک تولیدی قطرہ سے پیدا کیا، پھر بھی وہ کھلے طور پر سخت جھگڑالو بن گیاo

78. اور (خود) ہمارے لئے مثالیں بیان کرنے لگا اور اپنی پیدائش (کی حقیقت) کو بھول گیا۔ کہنے لگا: ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا جبکہ وہ بوسیدہ ہوچکی ہوں گیo

79. فرما دیجئے: انہیں وہی زندہ فرمائے گا جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا تھا، اور وہ ہر مخلوق کو خوب جاننے والا ہےo

80. جس نے تمہارے لئے سرسبز درخت سے آگ پیدا کی پھر اب تم اسی سے آگ سلگاتے ہوo

81. اور کیا وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا ہے اس بات پر قادر نہیں کہ ان جیسی تخلیق (دوبارہ) کردے، کیوں نہیں، اور وہ بڑا پیدا کرنے والا خوب جاننے والا ہےo

82. اس کا امرِ (تخلیق) فقط یہ ہے کہ جب وہ کسی شے کو (پیدا فرمانا) چاہتا ہے تو اسے فرماتا ہے: ہو جا، پس وہ فوراً (موجود یا ظاہر) ہو جاتی ہے (اور ہوتی چلی جاتی ہے)o

83. پس وہ ذات پاک ہے جس کے دستِ (قدرت) میں ہر چیز کی بادشاہت ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گےo


سُورة الصَّافَّات

1. قسم ہے قطار در قطار صف بستہ جماعتوں کیo

2. پھر بادلوں کو کھینچ کر لے جانے والی یا برائیوں پر سختی سے جھڑکنے والی جماعتوں کیo

3. پھر ذکرِ الٰہی (یا قرآن مجید) کی تلاوت کرنے والی جماعتوں کیo

4. بے شک تمہارا معبود ایک ہی ہےo

5. (جو) آسمانوں اور زمین کا اور جو (مخلوق) اِن دونوں کے درمیان ہے اس کا رب ہے، اور طلوعِ آفتاب کے تمام مقامات کا رب ہےo

6. بے شک ہم نے آسمانِ دنیا (یعنی پہلے کرّۂ سماوی) کو ستاروں اور سیاروں کی زینت سے آراستہ کر دیاo

7. اور (انہیں) ہر سرکش شیطان سے محفوظ بنایاo

8. وہ (شیاطین) عالمِ بالا کی طرف کان نہیں لگا سکتے اور اُن پر ہر طرف سے (انگارے) پھینکے جاتے ہیںo

9. اُن کو بھگانے کے لئے اور اُن کے لئے دائمی عذاب ہےo

10. مگر جو (شیطان) ایک بار جھپٹ کر (فرشتوں کی کوئی بات) اُچک لے تو چمکتا ہوا انگارہ اُس کے پیچھے لگ جاتا ہےo

11. اِن سے پوچھئے کہ کیا یہ لوگ تخلیق کئے جانے میں زیادہ سخت (اور مشکل) ہیں یا وہ چیزیں جنہیں ہم نے (آسمانی کائنات میں) تخلیق فرمایا ہے، بیشک ہم نے اِن لوگوں کو چپکنے والے گارے سے پیدا کیا ہےo

12. بلکہ آپ تعجب فرماتے ہیں اور وہ مذاق اڑاتے ہیںo

13. اور جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو نصیحت قبول نہیں کرتےo

14. اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو تمسخر کرتے ہیںo

15. اور کہتے ہیں کہ یہ تو صرف کھلا جادو ہےo

16. کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہم مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو ہم یقینی طور پر (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھائے جائیں گےo

17. اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی (اٹھائے جائیں گے)o

18. فرما دیجئے: ہاں اور (بلکہ) تم ذلیل و رسوا (بھی) ہو گےo

19. پس وہ تو محض ایک (زور دار آواز کی) سخت جھڑک ہوگی سو سب اچانک (اٹھ کر) دیکھنے لگ جائیں گےo

20. اور کہیں گے: ہائے ہماری شامت! یہ تو جزا کا دن ہےo

21. (کہا جائے گا: ہاں) یہ وہی فیصلہ کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھےo

22. اُن (سب) لوگوں کو جمع کرو جنہوں نے ظلم کیا اور ان کے ساتھیوں اور پیروکاروں کو (بھی) اور اُن (معبودانِ باطلہ) کو (بھی) جنہیں وہ پوجا کرتے تھےo

23. اللہ کو چھوڑ کر، پھر ان سب کو دوزخ کی راہ پر لے چلوo

24. اور انہیں (صراط کے پاس) روکو، اُن سے پوچھ گچھ ہوگیo

25. (اُن سے کہا جائے گا تمہیں کیا ہوا تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتےo

26. (وہ مدد کیا کریں گے) بلکہ آج تو وہ خود گردنیں جھکائے کھڑے ہوں گےo

27. اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوکر باہم سوال کریں گےo

28. وہ کہیں گے: بے شک تم ہی تو ہمارے پاس دائیں طرف سے (یعنی اپنے حق پر ہونے کی قَسمیں کھاتے ہوئے) آیا کرتے تھےo

29. (انہیں گمراہ کرنے والے پیشوا) کہیں گے: بلکہ تم خود ہی ایمان لانے والے نہ تھےo

30. اور ہمارا تم پر کچھ زور (اور دباؤ) نہ تھا بلکہ تم خود سرکش لوگ o

3تھے1. پس ہم پر ہمارے رب کا فرمان ثابت ہوگیا۔ (اب) ہم ذائقۂ (عذاب) چکھنے والے ہیںo

32. سو ہم نے تمہیں گمراہ کر دیا بے شک ہم خود گمراہ تھےo

33. پس اس دن عذاب میں وہ (سب) باہم شریک ہوں گےo

34. بے شک ہم مُجرموں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیںo

35. یقیناً وہ ایسے لوگ تھے کہ جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں تو وہ تکبّر کرتے تھےo

36. اور کہتے تھے: کیا ہم ایک دیوانے شاعر کی خاطر اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے ہیںo

37. (وہ نہ مجنوں ہے نہ شاعر) بلکہ وہ (دینِ) حق لے کر آئے ہیں اور انہوں نے (اللہ کے) پیغمبروں کی تصدیق کی ہےo

38. بے شک تم دردناک عذاب کا مزہ چکھنے والے ہوo

39. اور تمہیں (کوئی) بدلہ نہیں دیا جائے گا مگر صرف اسی کا جو تم کیا کرتے تھےo

40. (ہاں) مگر اللہ کے وہ (برگزیدہ و منتخب) بندے جنہیں (نفس اور نفسانیت سے) رہائی مل چکی ہےo

41. یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے (صبح و شام) رزقِ خاص مقرّر ہےo

42. (ہر قسم کے) میوے ہوں گے، اور ان کی تعظیم و تکریم ہوگیo

43. نعمتوں اور راحتوں کے باغات میں (مقیم ہوں گے)o

44. تختوں پر مسند لگائے آمنے سامنے (جلوہ افروز ہوں گے)o

45. اُن پر چھلکتی ہوئی شرابِ (طہور) کے جام کا دور چل رہا ہوگاo

46. جو نہایت سفید ہوگی، پینے والوں کے لئے سراسر لذّت ہوگیo

47. نہ اس میں کوئی ضرر یا سَر کا چکرانا ہوگا اور نہ وہ اس (کے پینے) سے بہک سکیں گےo

48. اور ان کے پہلو میں نگاہیں نیچی رکھنے والی، بڑی خوبصورت آنکھوں والی (حوریں بیٹھی) ہوں گیo

49. (وہ سفید و دلکش رنگت میں ایسے لگیں گی) گویا گرد و غبار سے محفوظ انڈے (رکھے) ہوںo

50. پھر وہ (جنّتی) آپس میں متوجہ ہو کر ایک دوسرے سے (حال و احوال) دریافت کریں گےo

51. ان میں سے ایک کہنے والا (دوسرے سے) کہے گا کہ میرا ایک ملنے والا تھا (جو آخرت کا منکِر تھا)o

52. وہ (مجھے) کہتا تھا: کیا تم بھی (ان باتوں کا) یقین اور تصدیق کرنے والوں میں سے ہوo

53. کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہم مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو کیا ہمیں (اس حال میں) بدلہ دیا جائے گاo

54. پھر وہ (جنّتی) کہے گا: کیا تم (اُسے) جھانک کر دیکھو گے (کہ وہ کس حال میں ہے)o

55. پھر وہ جھانکے گا تو اسے دوزخ کے (بالکل) وسط میں پائے گاo

56. (اس سے) کہے گا: خدا کی قسم! تو اس کے قریب تھا کہ مجھے بھی ہلاک کر ڈالےo

57. اور اگر میرے رب کا احسان نہ ہوتا تو میں (بھی تمہارے ساتھ عذاب میں) حاضر کئے جانے والوں میں شامل ہو جاتاo

58. سو (جنّتی خوشی سے پوچھیں گے کیا اب ہم مریں گے تو نہیںo

59. اپنی پہلی موت کے سوا (جس سے گزر کر ہم یہاں آچکے) اور نہ ہم پر کبھی عذاب کیا جائے گاo

60. بیشک یہی تو عظیم کامیابی ہےo

61. ایسی (کامیابی) کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیےo

62. بھلا یہ (خُلد کی) مہمانی بہتر ہے یا زقّوم کا درختo

63. بیشک ہم نے اس (درخت) کو ظالموں کے لئے عذاب بنایا ہےo

64. بیشک یہ ایک درخت ہے جو دوزخ کے سب سے نچلے حصہ سے نکلتا ہےo

65. اس کے خوشے ایسے ہیں گویا (بدنما) شیطانوں کے سَر ہوںo

66. پس وہ (دوزخی) اسی میں سے کھانے والے ہیں اور اسی سے پیٹ بھرنے والے ہیںo

67. پھر یقیناً اُن کے لئے اس (کھانے) پر (پیپ کا) ملا ہوا نہایت گرم پانی ہوگا (جو انتڑیوں کو کاٹ دے گا)o

68. (کھانے کے بعد) پھر یقیناً ان کا دوزخ ہی کی طرف (دوبارہ) پلٹنا o

6ہوگا9. بے شک انہوں نے اپنے باپ دادا کوگمراہ پایاo

70. سو وہ انہی کے نقشِ قدم پر دوڑائے جا رہے ہیںo

71. اور درحقیقت اُن سے قبل پہلے لوگوں میں (بھی) اکثر گمراہ ہوگئے تھےo

72. اور یقیناً ہم نے ان میں بھی ڈر سنانے والے بھیجےo

73. سو آپ دیکھئے کہ ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ڈرائے گئے تھےo

74. سوائے اﷲ کے چنیدہ و برگزیدہ بندوں کےo

75. اور بیشک ہمیں نوح (علیہ السلام) نے پکارا تو ہم کتنے اچھے فریاد رَس ہیںo

76. اور ہم نے اُنہیں اور اُن کے گھر والوں کو سخت تکلیف سے بچا لیاo

77. اور ہم نے فقط اُن ہی کی نسل کو باقی رہنے والا بنایاo

78. اور پیچھے آنے والوں (یعنی انبیاء و اُمم) میں ہم نے ان کا ذکرِ خیر باقی رکھاo

79. سلام ہو نوح پر سب جہانوں میںo

80. بیشک ہم نیکو کاروں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیںo

81. بے شک وہ ہمارے (کامل) ایمان والے بندوں میں سے تھےo

82. پھر ہم نے دوسروں کو غرق کردیاo

83. بے شک اُن کے گروہ میں سے ابراہیم (علیہ السلام) (بھی) تھےo

84. جب وہ اپنے رب کی بارگاہ میں قلبِ سلیم کے ساتھ حاضر ہوئےo

85. جبکہ انہوں نے اپنے باپ (جو حقیقت میں چچا تھا، آپ بوجہ پرورش اسے باپ کہتے تھے) اور اپنی قوم سے کہا: تم کن چیزوں کی پرستش کرتے ہوo

86. کیا تم بہتان باندھ کر اﷲ کے سوا (جھوٹے) معبودوں کا ارادہ کرتے ہوo

87. بھلا تمام جہانوں کے رب کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہےo

88. پھر (ابراہیم علیہ السلام نے اُنہیں وہم میں ڈالنے کے لئے) ایک نظر ستاروں کی طرف کیo

89. اور کہا: میری طبیعت مُضمحِل ہے (تمہارے ساتھ میلے پر نہیں جاسکتا)o

90. سو وہ اُن سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئےo

91. پھر (ابراہیم علیہ السلام) ان کے معبودوں (یعنی بتوں) کے پاس خاموشی سے گئے اور اُن سے کہا: کیا تم کھاتے نہیں ہوo

92. تمہیں کیا ہے کہ تم بولتے نہیں ہوo

93. پھر (ابراہیم علیہ السلام) پوری قوّت کے ساتھ انہیں مارنے (اور توڑنے) لگےo

94. پھر لوگ (میلے سے واپسی پر) دوڑتے ہوئے ان کی طرف آئےo

95. ابراہیم (علیہ السلام) نے (اُن سے) کہا: کیا تم اِن (ہی بے جان پتھروں) کو پوجتے ہو جنہیں خود تراشتے ہوo

96. حالانکہ اﷲ نے تمہیں اور تمہارے (سارے) کاموں کو خَلق فرمایا ہےo

97. وہ کہنے لگے: ان کے (جلانے کے) لئے ایک عمارت بناؤ پھر ان کو (اس کے اندر) سخت بھڑکتی آگ میں ڈال دوo

98. غرض انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ایک چال چلنا چاہی سو ہم نے اُن ہی کو نیچا دکھا دیا (نتیجۃً آگ گلزار بن گئی)o

99. پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا: میں (ہجرت کر کے) اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں وہ مجھے ضرور راستہ دکھائے گا (وہ ملکِ شام کی طرف ہجرت فرما گئے)o

100. (پھر اَرضِ مقدّس میں پہنچ کر دعا کی اے میرے رب! صالحین میں سے مجھے ایک (فرزند) عطا فرماo

101. پس ہم نے انہیں بڑے بُرد بار بیٹے (اسماعیل علیہ السلام) کی بشارت دیo

102. پھر جب وہ (اسماعیل علیہ السلام) ان کے ساتھ دوڑ کر چل سکنے (کی عمر) کو پہنچ گیا تو (ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا: اے میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں سو غور کرو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ (اسماعیل علیہ السلام نے) کہا: ابّاجان! وہ کام (فوراً) کر ڈالیے جس کا آپ کو حکم دیا جا رہا ہے۔ اگر اﷲ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گےo

103. پھر جب دونوں (رضائے الٰہی کے سامنے) جھک گئے (یعنی دونوں نے مولا کے حکم کو تسلیم کرلیا) اور ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے پیشانی کے بل لِٹا دیا (اگلا منظر بیان نہیں فرمایا)o

104. اور ہم نے اسے ندا دی کہ اے ابراہیم!o

105. واقعی تم نے اپنا خواب (کیاخوب) سچا کر دکھایا۔ بے شک ہم محسنوں کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں (سو تمہیں مقامِ خلّت سے نواز دیا گیا ہے)o

106. بے شک یہ بہت بڑی کھلی آزمائش تھیo

107. اور ہم نے ایک بہت بڑی قربانی کے ساتھ اِس کا فدیہ کر دیاo

108. اور ہم نے پیچھے آنے والوں میں اس کا ذکرِ خیر برقرار رکھاo

109. سلام ہو ابراہیم پرo

110. ہم اسی طرح محسنوں کو صلہ دیا کرتے ہیںo

111. بے شک وہ ہمارے (کامل) ایمان والے بندوں میں سے تھےo

112. اور ہم نے (اِسما عیل علیہ السلام کے بعد) انہیں اِسحاق (علیہ السلام) کی بشارت دی (وہ بھی) صالحین میں سے نبی تھےo

113. اور ہم نے اُن پر اور اسحاق (علیہ السلام) پر برکتیں نازل فرمائیں، اور ان دونوں کی نسل میں نیکو کار بھی ہیں اور اپنی جان پر کھلے ظلم شِعار بھیo

114. اور بے شک ہم نے موسٰی اور ہارون (علیھما السلام) پر بھی احسان o

1کئے15. اور ہم نے خود ان دونوں کو اور دونوں کی قوم کو سخت تکلیف سے نجات بخشیo

116. اور ہم نے اُن کی مدد فرمائی تو وہی غالب ہوگئےo

117. اور ہم نے ان دونوں کو واضح اور بیّن کتاب (تورات) عطا فرمائیo

118. اور ہم نے ان دونوں کو سیدھی راہ پر چلایاo

119. اور ہم نے ان دونوں کے حق میں (بھی) پیچھے آنے والوں میں ذکرِ خیر باقی رکھاo

120. سلام ہو موسٰی اور ہارون پرo

121. بے شک ہم نیکو کاروں کو اسی طرح صِلہ دیا کرتے ہیںo

122. بے شک وہ دونوں ہمارے (کامل) ایمان والے بندوں میں سے تھےo

123. اور یقیناً الیاس (علیہ السلام بھی) رسولوں میں سے تھےo

124. جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: کیا تم (اﷲ سے) نہیں ڈرتے ہوo

125. کیا تم بَعل (نامی بُت) کو پوجتے ہو اور سب سے بہتر خالق کو چھوڑ دیتے ہوo

126. (یعنی) اﷲ جو تمہارا (بھی) رب ہے اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا (بھی) رب ہےo

127. تو ان لوگوں نے (یعنی قومِ بعلبک نے) الیاس (علیہ السلام) کو جھٹلایا پس وہ (بھی عذابِ جہنم میں) حاضر کردیے جائیں گےo

128. سوائے اﷲ کے چُنے ہوئے بندوں کےo

129. اور ہم نے ان کا ذکرِ خیر (بھی) پیچھے آنے والوں میں برقرار رکھاo

130. سلام ہو الیاس پرo

131. بے شک ہم نیکو کاروں کو اسی طرح صِلہ دیا کرتے ہیںo

132. بے شک وہ ہمارے (کامل) ایمان والے بندوں میں سے تھےo

133. اور بے شک لوط (علیہ السلام بھی) رسولوں میں سے تھےo

134. جب ہم نے اُن کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات بخشیo

135. سوائے اس بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھیo

136. پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر ڈالاo

137. اور بے شک تم لوگ اُن (کی اُجڑی بستیوں) پر (مَکّہ سے ملکِ شام کی طرف جاتے ہوئے) صبح کے وقت بھی گزرتے ہوo

138. اور رات کو بھی، کیا پھر بھی تم عقل نہیں رکھتےo

139. اور یونس (علیہ السلام بھی) واقعی رسولوں میں سے تھےo

140. جب وہ بھری ہوئی کشتی کی طرف دوڑےo

141. پھر (کشتی بھنور میں پھنس گئی تو) انہوں نے قرعہ ڈالا تو وہ (قرعہ میں) مغلوب ہوگئے (یعنی ان کا نام نکل آیا اور کشتی والوں نے انہیں دریا میں پھینک دیا)o

142. پھر مچھلی نے ان کو نگل لیا اور وہ (اپنے آپ پر) نادم رہنے والے o

1تھے43. پھر اگر وہ (اﷲ کی) تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتےo

144. تو اس (مچھلی) کے پیٹ میں اُس دن تک رہتے جب لوگ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گےo

145. پھر ہم نے انہیں (ساحلِ دریا پر) کھلے میدان میں ڈال دیا حالانکہ وہ بیمار تھےo

146. اور ہم نے ان پر (کدّو کا) بیل دار درخت اُگا دیاo

147. اور ہم نے انہیں (اَرضِ موصل میں قومِ نینوٰی کے) ایک لاکھ یا اس سے زیادہ افراد کی طرف بھیجا تھاo

148. سو (آثارِ عذاب کو دیکھ کر) وہ لوگ ایمان لائے تو ہم نے انہیں ایک وقت تک فائدہ پہنچایاo

149. پس آپ اِن (کفّارِ مکّہ) سے پوچھئے کیا آپ کے رب کے لئے بیٹیاں ہیں اور ان کے لئے بیٹے ہیںo

150. کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنا کر پیدا کیا تو وہ اس وقت (موقع پر) حاضر تھےo

151. سن لو! وہ لوگ یقیناً اپنی بہتان تراشی سے (یہ) بات کرتے ہیںo

152. کہ اﷲ نے اولاد جنی، اور بیشک یہ لوگ جھوٹے ہیںo

153. کیا اس نے بیٹوں کے مقابلہ میں بیٹیوں کو پسند فرمایا ہے (کفّارِ مکّہ کی ذہنیت کی زبان میں انہی کے عقیدے کا ردّ کیا جا رہا ہے)o

154. تمہیں کیا ہوا ہے؟ تم کیسا انصاف کرتے ہوo

155. کیا تم غور نہیں کرتےo

156. کیا تمہارے پاس (اپنے فکر و نظریہ پر) کوئی واضح دلیل ہےo

157. تم اپنی کتاب پیش کرو اگر تم سچے ہوo

158. اور انہوں نے (تو) اﷲ اور جِنّات کے درمیان (بھی) نسبی رشتہ مقرر کر رکھا ہے، حالانکہ جنّات کو معلوم ہے کہ وہ (بھی اﷲ کے حضور) یقیناً پیش کیے جائیں گےo

159. اﷲ ان باتوں سے پاک ہے جو یہ بیان کرتے ہیںo

160. مگر اﷲ کے چُنیدہ و برگزیدہ بندے (اِن باتوں سے مستثنٰی ہیں)o

161. پس تم اور جن (بتوں) کی تم پرستش کرتے ہوo

162. تم سب اﷲ کے خلاف کسی کو گمراہ نہیں کرسکتےo

163. سوائے اس شخص کے جو دوزخ میں جا گرنے والا ہےo

164. اور (فرشتے کہتے ہیں ہم میں سے بھی ہر ایک کا مقام مقرر ہےo

165. اور یقیناً ہم تو خود صف بستہ رہنے والے ہیںo

166. اور یقیناً ہم تو خود (اﷲ کی) تسبیح کرنے والے ہیںo

167. اور یہ لوگ یقیناً کہا کرتے تھےo

168. کہ اگر ہمارے پاس (بھی) پہلے لوگوں کی کوئی (کتابِ) نصیحت ہوتیo

169. تو ہم (بھی) ضرور اﷲ کے برگزیدہ بندے ہوتےo

170. پھر (اب) وہ اس (قرآن) کے منکِر ہوگئے سو وہ عنقریب (اپنا انجام) جان لیں گےo

171. اور بے شک ہمارا فرمان ہمارے بھیجے ہوئے بندوں (یعنی رسولوں) کے حق میں پہلے صادر ہوچکا ہےo

172. کہ بے شک وہی مدد یافتہ لوگ ہیںo

173. اور بے شک ہمارا لشکر ہی غالب ہونے والا ہےo

174. پس ایک وقت تک آپ ان سے توجّہ ہٹا لیجئےo

175. اور انہیں (برابر) دیکھتے رہئیے سو وہ عنقریب (اپنا انجام) دیکھ لیں گےo

176. اور کیا یہ ہمارے عذاب میں جلدی کے خواہش مند ہیںo

177. پھر جب وہ (عذاب) ان کے سامنے اترے گا تو اِن کی صبح کیا ہی بُری ہوگی جنہیں ڈرایا گیا تھاo

178. پس آپ اُن سے تھوڑی مدّت تک توجّہ ہٹا ئے رکھئےo

179. اور انہیں (برابر) دیکھتے رہئیے، سو وہ عنقریب (اپنا انجام) دیکھ لیں گےo

180. آپ کا رب، جو عزت کا مالک ہے اُن (باتوں) سے پاک ہے جو وہ بیان کرتے ہیںo

181. اور (تمام) رسولوں پر سلام ہوo

182. اور سب تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہےo


سُورة ص

1. ص (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)، ذکر والے قرآن کی قسمo

2. بلکہ کافر لوگ (ناحق) حمیّت و تکبّر میں اور (ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی) مخالفت و عداوت میں (مبتلا) ہیںo

3. ہم نے کتنی ہی امّتوں کو اُن سے پہلے ہلاک کر دیا تو وہ (عذاب کو دیکھ کر) پکارنے لگے حالانکہ اب خلاصی (اور رہائی) کا وقت نہیں رہا تھاo

4. اور انہوں نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس اُن ہی میں سے ایک ڈر سنانے والا آگیا ہے۔ اور کفّار کہنے لگے: یہ جادوگر ہے، بہت جھوٹا ہےo

5. کیا اس نے سب معبودوں کو ایک ہی معبود بنا رکھا ہے؟ بے شک یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہےo

6. اور اُن کے سردار (ابوطالب کے گھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس سے اٹھ کر) چل کھڑے ہوئے (باقی لوگوں سے) یہ کہتے ہوئے کہ تم بھی چل پڑو، اور اپنے معبودوں (کی پرستش) پر ثابت قدم رہو، یہ ضرور ایسی بات ہے جس میں کوئی غرض (اور مراد) ہےo

7. ہم نے اس (عقیدۂ توحید) کو آخری ملّتِ (نصرانی یا مذہبِ قریش) میں بھی نہیں سنا، یہ صرف خود ساختہ جھوٹ ہےo

8. کیا ہم سب میں سے اسی پر یہ ذکر (یعنی قرآن) اتارا گیا ہے؟ بلکہ وہ میرے ذکر کی نسبت شک میں (گرفتار) ہیں، بلکہ انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھاo

9. کیا ان کے پاس آپ کے رب کی رحمت کے خزانے ہیں جو غالب ہے بہت عطا فرمانے والا ہےo

10. یا اُن کے پاس آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ اِن دونوں کے درمیان ہے اس کی بادشاہت ہے؟ (اگر ہے) تو انہیں چاہئے کہ رسّیاں باندھ کر (آسمان پر) چڑھ جائیںo

11. (کفّار کے) لشکروں میں سے یہ ایک حقیر سا لشکر ہے جو اسی جگہ شکست خوردہ ہونے والا ہےo

12. اِن سے پہلے قومِ نوح نے اور عاد نے اور بڑی مضبوط حکومت والے (یا میخوں سے اذیّت دینے والے) فرعون نے (بھی) جھٹلایا تھاo

13. اور ثمود نے اور قومِ لوط نے اور اَیکہ (بَن) کے رہنے والوں نے (یعنی قومِ شعیب نے) بھی (جھٹلایا تھا)، یہی وہ بڑے لشکر تھےo

14. (اِن میں سے) ہر ایک گروہ نے رسولوں کو جھٹلایا تو (اُن پر) میرا عذاب واجب ہو گیاo

15. اور یہ سب لوگ ایک نہایت سخت آواز (چنگھاڑ) کا انتظار کر رہے ہیں جس میں کچھ بھی توقّف نہ ہوگاo

16. اور وہ کہتے ہیں: اے ہمارے رب! روزِ حساب سے پہلے ہی ہمارا حصّہ ہمیں جلد دے دےo

17. (اے حبیبِ مکرّم!) جو کچھ وہ کہتے ہیں آپ اس پر صبر جاری رکھیئے اور ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کا ذکر کریں جو بڑی قوت والے تھے، بے شک وہ (ہماری طرف) بہت رجوع کرنے والے تھےo

18. بے شک ہم نے پہاڑوں کو اُن کے زیرِ فرمان کر دیا تھا، جو (اُن کے ساتھ مل کر) شام کو اور صبح کو تسبیح کیا کرتے تھےo

19. اور پرندوں کو بھی جو (اُن کے پاس) جمع رہتے تھے، ہر ایک ان کی طرف (اطاعت کے لئے) رجوع کرنے والا تھاo

20. اور ہم نے اُن کے ملک و سلطنت کو مضبوط کر دیا تھا اور ہم نے انہیں حکمت و دانائی اور فیصلہ کن اندازِ خطاب عطا کیا تھاo

21. اور کیا آپ کے پاس جھگڑنے والوں کی خبر پہنچی؟ جب وہ دیوار پھاند کر (داؤد علیہ السلام کی) عبادت گاہ میں داخل ہو گئےo

22. جب وہ داؤد (علیہ السلام) کے پاس اندر آگئے تو وہ اُن سے گھبرائے، انہوں نے کہا: گھبرائیے نہیں، ہم (ایک) مقدّمہ میں دو فریق ہیں، ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے۔ آپ ہمارے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیں اور حد سے تجاوز نہ کریں اور ہمیں سیدھی راہ کی طرف رہبری کر دیںo

23. بے شک یہ میرا بھائی ہے، اِس کی ننانوے دُنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دُنبی ہے، پھر کہتا ہے یہ (بھی) میرے حوالہ کر دو اور گفتگو میں (بھی) مجھے دبا لیتا ہےo

24. داؤد (علیہ السلام) نے کہا: تمہاری دُنبی کو اپنی دُنبیوں سے ملانے کا سوال کر کے اس نے تم سے زیادتی کی ہے اور بیشک اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے، اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ اور داؤد (علیہ السلام) نے خیال کیا کہ ہم نے (اس مقدّمہ کے ذریعہ) اُن کی آزمائش کی ہے، سو انہوں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی اور سجدہ میں گر پڑے اور توبہ کیo

25. تو ہم نے اُن کو معاف فرما دیا، اور بے شک اُن کے لئے ہماری بارگاہ میں قربِ خاص ہے اور (آخرت میں) اَعلیٰ مقام ہےo

26. اے داؤد! بے شک ہم نے آپ کو زمین میں (اپنا) نائب بنایا سو تم لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلے (یا حکومت) کیا کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرنا ورنہ (یہ پیروی) تمہیں راہِ خدا سے بھٹکا دے گی، بے شک جو لوگ اﷲ کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں اُن کے لئے سخت عذاب ہے اس وجہ سے کہ وہ یومِ حساب کو بھول گئےo

27. اور ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کائنات دونوں کے درمیان ہے اسے بے مقصد و بے مصلحت نہیں بنایا۔ یہ (بے مقصد یعنی اتفاقیہ تخلیق) کافر لوگوں کا خیال و نظریہ ہے۔ سو کافر لوگوں کے لئے آتشِ دوزخ کی ہلاکت ہےo

28. کیا ہم اُن لوگوں کو جو ایمان لائے اور اعمالِ صالحہ بجا لائے اُن لوگوں جیسا کر دیں گے جو زمین میں فساد بپا کرنے والے ہیں یا ہم پرہیزگاروں کو بدکرداروں جیسا بنا دیں گےo

29. یہ کتاب برکت والی ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل فرمایا ہے تاکہ دانش مند لوگ اس کی آیتوں میں غور و فکر کریں اور نصیحت حاصل کریںo

30. اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو (فرزند) سلیمان (علیہ السلام) بخشا، وہ کیا خوب بندہ تھا، بے شک وہ بڑی کثرت سے توبہ کرنے والا ہےo

31. جب اُن کے سامنے شام کے وقت نہایت سُبک رفتار عمدہ گھوڑے پیش کئے گئےo

32. تو انہوں نے (اِنابۃً) کہا: میں مال (یعنی گھوڑوں) کی محبت کو اپنے رب کے ذکر سے بھی (زیادہ) پسند کر بیٹھا ہوں یہاں تک کہ (سورج رات کے) پردے میں چھپ گیاo

33. انہوں نے کہا: اُن (گھوڑوں) کو میرے پاس واپس لاؤ، تو انہوں نے (تلوار سے) اُن کی پنڈلیاں اور گردنیں کاٹ ڈالیں (یوں اپنی محبت کو اﷲ کے تقرّب کے لئے ذبح کر دیا)o

34. اور بے شک ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کی (بھی) آزمائش کی اور ہم نے اُن کے تخت پر ایک (عجیب الخلقت) جسم ڈال دیا پھر انہوں نے دوبارہ (سلطنت) پا لیo

35. عرض کیا: اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے، اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو میسّر نہ ہو، بیشک تو ہی بڑا عطا فرمانے والا ہےo

36. پھر ہم نے اُن کے لئے ہوا کو تابع کر دیا، وہ اُن کے حکم سے نرم نرم چلتی تھی جہاں کہیں (بھی) وہ پہنچنا چاہتےo

37. اور کل جنّات (و شیاطین بھی ان کے تابع کر دیئے) اور ہر معمار اور غوطہ زَن (بھی)o

38. اور دوسرے (جنّات) بھی جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھےo

39. (ارشاد ہوا یہ ہماری عطا ہے (خواہ دوسروں پر) احسان کرو یا (اپنے تک) روکے رکھو (دونوں حالتوں میں) کوئی حساب نہیںo

40. اور بے شک اُن کے لئے ہماری بارگاہ میں خصوصی قربت اور آخرت میں عمدہ مقام ہےo

41. اور ہمارے بندے ایّوب (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے بڑی اذیّت اور تکلیف پہنچائی ہےo

42. (ارشاد ہوا تم اپنا پاؤں زمین پر مارو، یہ (پانی کا) ٹھنڈا چشمہ ہے نہانے کے لئے اور پینے کے لئےo

43. اور ہم نے اُن کو اُن کے اہل و عیال اور اُن کے ساتھ اُن کے برابر (مزید اہل و عیال) عطا کر دیئے، ہماری طرف سے خصوصی رحمت کے طور پر، اور دانش مندوں کے لئے نصیحت کے طور پرo

44. (اے ایوب!) تم اپنے ہاتھ میں (سَو) تنکوں کی جھاڑو پکڑ لو اور (اپنی قسم پوری کرنے کے لئے) اس سے (ایک بار اپنی زوجہ کو) مارو اور قسم نہ توڑو، بے شک ہم نے اسے ثابت قدم پایا، (ایّوب علیہ السلام) کیا خوب بندہ تھا، بے شک وہ (ہماری طرف) بہت رجوع کرنے والا تھاo

45. اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب (علیھم السلام) کا ذکر کیجئے جو بڑی قوّت والے اور نظر والے تھےo

46. بے شک ہم نے اُن کو آخرت کے گھر کی یاد کی خاص (خصلت) کی وجہ سے چن لیا تھاo

47. اور بے شک وہ ہمارے حضور بڑے منتخب و برگزیدہ (اور) پسندیدہ بندوں میں سے تھےo

48. اور آپ اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل (علیھم السلام) کا (بھی) ذکر کیجئے، اور وہ سارے کے سارے چنے ہوئے لوگوں میں سے تھےo

49. یہ (وہ) ذکر ہے (جس کا بیان اس سورت کی پہلی آیت میں ہے)، اور بے شک پرہیزگاروں کے لئے عمدہ ٹھکانا ہےo

50. (جو) دائمی اِقامت کے لئے باغاتِ عدن ہیں جن کے دروازے اُن کے لئے کھلے ہوں گےo

51. وہ اس میں (مَسندوں پر) تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے اس میں (وقفے وقفے سے) بہت سے عمدہ پھل اور میوے اور (لذیذ) شربت طلب کرتے رہیں گےo

52. اور اُن کے پاس نیچی نگاہوں والی (باحیا) ہم عمر (حوریں) ہوں گیo

53. یہ وہ نعمتیں ہیں جن کا روزِ حساب کے لئے تم سے وعدہ کیا جاتا ہےo

54. بیشک یہ ہماری بخشش ہے اسے کبھی بھی ختم نہیں ہوناo

55. یہ (تو مومنوں کے لئے ہے)، اور بے شک سرکشوں کے لئے بہت ہی برا ٹھکانا ہےo

56. (وہ) دوزخ ہے، اس میں وہ داخل ہوں گے، سو بہت ہی بُرا بچھونا ہےo

57. یہ (عذاب ہے) پس انہیں یہ چکھنا چاہئے کھولتا ہوا پانی ہے اور پیپ ہےo

58. اور اسی شکل میں اور بھی طرح طرح کا (عذاب) ہےo

59. (دوزخ کے داروغے یا پہلے سے موجود جہنمی کہیں گے یہ ایک (اور) فوج ہے جو تمہارے ساتھ (جہنم میں) گھستی چلی آرہی ہے، انہیں کوئی خوش آمدید نہیں، بیشک وہ (بھی) دوزخ میں داخل ہونے والے ہیںo

60. وہ (آنے والے) کہیں گے: بلکہ تم ہی ہو کہ تمہیں کوئی فراخی نصیب نہ ہو، تم ہی نے یہ (کفر اور عذاب) ہمارے سامنے پیش کیا، سو (یہ) بری قرارگاہ ہےo

61. وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! جس نے یہ (کفر یا عذاب) ہمارے لئے پیش کیا تھا تو اسے دوزخ میں دوگنا عذاب بڑھا دےo

62. اور وہ کہیں گے: ہمیں کیا ہوگیا ہے ہم (اُن) اشخاص کو (یہاں) نہیں دیکھتے جنہیں ہم برے لوگوں میں شمار کرتے تھےo

63. کیا ہم ان کا (ناحق) مذاق اڑاتے تھے یا ہماری آنکھیں انہیں (پہچاننے) سے چوک گئی تھیں (یہ عمّار، خباب، صُہیب، بلال اور سلمان رضی اللہ عنھما جیسے فقراء اور درویش تھے)o

64. بے شک یہ اہلِ جہنم کا آپس میں جھگڑنا یقیناً حق ہےo

65. فرما دیجئے: میں تو صرف ڈر سنانے والا ہوں، اور اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا سب پر غالب ہےo

66. آسمانوں اور زمین کا اور جو کائنات اِن دونوں کے درمیان ہے (سب) کا رب ہے بڑی عزت والا، بڑا بخشنے والا ہےo

67. فرما دیجئے: وہ (قیامت) بہت بڑی خبر ہےo

68. تم اس سے منہ پھیرے ہوئے ہوo

69. مجھے تو (اَزخود) عالمِ بالا کی جماعتِ (ملائکہ) کی کوئی خبر نہ تھی جب وہ (تخلیقِ آدم کے بارے میں) بحث و تمحیص کر رہے تھےo

70. مجھے تو (اﷲ کی طرف سے) وحی کی جاتی ہے مگر یہ کہ میں صاف صاف ڈر سنانے والا ہوںo

71. (وہ وقت یاد کیجئے) جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں (گیلی) مٹی سے ایک پیکرِ بشریت پیدا فرمانے والا ہوںo

72. پھر جب میں اس (کے ظاہر) کو درست کر لوں اور اس (کے باطن) میں اپنی (نورانی) روح پھونک دوں تو تم اس (کی تعظیم) کے لئے سجدہ کرتے ہوئے گر پڑناo

73. پس سب کے سب فرشتوں نے اکٹھے سجدہ کیاo

74. سوائے ابلیس کے، اس نے (شانِ نبوّت کے سامنے) تکبّر کیا اور کافروں میں سے ہوگیاo

75. (اﷲ نے) ارشاد فرمایا: اے ابلیس! تجھے کس نے اس (ہستی) کو سجدہ کرنے سے روکا ہے جسے میں نے خود اپنے دستِ (کرم) سے بنایا ہے، کیا تو نے (اس سے) تکبّر کیا یا تو (بزعمِ خویش) بلند رتبہ (بنا ہوا) تھاo

76. اس نے (نبی کے ساتھ اپنا موازنہ کرتے ہوئے) کہا کہ میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے بنایا ہے اور تو نے اِسے مٹی سے بنایا ہےo

77. ارشاد ہوا: سو تو (اِس گستاخئ نبوّت کے جرم میں) یہاں سے نکل جا، بے شک تو مردود ہےo

78. اور بے شک تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت رہے گیo

79. اس نے کہا: اے پروردگار! پھر مجھے اس دن تک (زندہ رہنے کی) مہلت دے جس دن لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گےo

80. ارشاد ہوا: (جا) بے شک تو مہلت والوں میں سے ہےo

81. اس وقت کے دن تک جو مقرّر (اور معلوم) ہےo

82. اس نے کہا: سو تیری عزّت کی قسم! میں ان سب لوگوں کو ضرور گمراہ کرتا رہوں گاo

83. سوائے تیرے اُن بندوں کے جو چُنیدہ و برگزیدہ ہیںo

84. ارشاد ہوا: پس حق (یہ) ہے اور میں حق ہی کہتا ہوںo

85. کہ میں تجھ سے اور جو لوگ تیری (گستاخانہ سوچ کی) پیروی کریں گے اُن سب سے دوزخ کو بھر دوں گاo

86. فرما دیجئے: میں تم سے اِس (حق کی تبلیغ) پر کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوںo

87. یہ (قرآن) تو سارے جہان والوں کے لئے نصیحت ہی ہےo

88. اور تمہیں تھوڑے ہی وقت کے بعد خود اِس کا حال معلوم ہو جائے گاo


سُورة الزُّمَر

1. اس کتاب کا اتارا جانا اﷲ کی طرف سے ہے جو بڑی عزت والا، بڑی حکمت والا ہےo

2. بے شک ہم نے آپ کی طرف (یہ) کتاب حق کے ساتھ نازل کی ہے تو آپ اﷲ کی عبادت اس کے لئے طاعت و بندگی کو خالص رکھتے ہوئے کیا کریںo

3. (لوگوں سے کہہ دیں سُن لو! طاعت و بندگی خالصۃً اﷲ ہی کے لئے ہے، اور جن (کفّار) نے اﷲ کے سوا (بتوں کو) دوست بنا رکھا ہے، وہ (اپنی بُت پرستی کے جھوٹے جواز کے لئے یہ کہتے ہیں کہ) ہم اُن کی پرستش صرف اس لئے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اﷲ کا مقرّب بنا دیں، بے شک اﷲ اُن کے درمیان اس چیز کا فیصلہ فرما دے گا جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں، یقیناً اﷲ اس شخص کو ہدایت نہیں فرماتا جو جھوٹا ہے، بڑا ناشکر گزار ہےo

4. اگر اﷲ ارادہ فرماتا کہ (اپنے لئے) اولاد بنائے تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا منتخب فرما لیتا، وہ پاک ہے، وہی اﷲ ہے جو یکتا ہے سب پر غالب ہےo

5. اُس نے آسمانوں اور زمین کو صحیح تدبیر کے ساتھ پیدا فرمایا۔ وہ رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو (ایک نظام میں) مسخّر کر رکھا ہے، ہر ایک (ستارہ اور سیّارہ) مقرّر وقت کی حد تک (اپنے مدار میں) چلتا ہے، خبردار! وہی (پورے نظام پر) غالب، بڑا بخشنے والا ہےo

6. اس نے تم سب کو ایک حیاتیاتی خلیہ سے پیدا فرمایا پھر اس سے اسی جیسا جوڑ بنایا پھر اس نے تمہارے لئے آٹھ جاندار جانور مہیا کئے، وہ تمہاری ماؤں کے رحموں میں ایک تخلیقی مرحلہ سے اگلے تخلیقی مرحلہ میں ترتیب کے ساتھ تمہاری تشکیل کرتا ہے (اس عمل کو) تین قِسم کے تاریک پردوں میں (مکمل فرماتا ہے)، یہی تمہارا پروردگار ہے جو سب قدرت و سلطنت کا مالک ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر (تخلیق کے یہ مخفی حقائق جان لینے کے بعد بھی) تم کہاں بہکے پھرتے ہوo

7. اگر تم کفر کرو تو بے شک اللہ تم سے بے نیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کے لئے کفر (و ناشکری) پسند نہیں کرتا، اور اگر تم شکرگزاری کرو (تو) اسے تمہارے لئے پسند فرماتا ہے، اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، پھر تمہیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے پھر وہ تمہیں اُن کاموں سے خبردار کر دے گا جو تم کرتے رہے تھے، بے شک وہ سینوں کی (پوشیدہ) باتوں کو (بھی) خوب جاننے والا ہےo

8. اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو اسی کی طرف رجوع کرتے ہوئے پکارتا ہے پھر جب (اللہ) اُسے اپنی جانب سے کوئی نعمت بخش دیتا ہے تو وہ اُس (تکلیف) کو بھول جاتا ہے جس کے لئے وہ پہلے دعا کیا کرتا تھا اور (پھر) اللہ کے لئے (بتوں کو) شریک ٹھہرانے لگتا ہے تاکہ (دوسرے لوگوں کو بھی) اس کی راہ سے بھٹکا دے، فرما دیجئے: (اے کافر!) تو اپنے کُفر کے ساتھ تھوڑا سا (ظاہری) فائدہ اٹھا لے، تو بے شک دوزخیوں میں سے ہےo

9. بھلا (یہ مشرک بہتر ہے یا) وہ (مومن) جو رات کی گھڑیوں میں سجود اور قیام کی حالت میں عبادت کرنے والا ہے، آخرت سے ڈرتا رہتا ہے اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہے، فرما دیجئے: کیا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو لوگ علم نہیں رکھتے (سب) برابر ہوسکتے ہیں؟ بس نصیحت تو عقل مند لوگ ہی قبول کرتے ہیںo

10. (محبوب! میری طرف سے) فرما دیجئے: اے میرے بندو! جو ایمان لائے ہو اپنے رب کا تقوٰی اختیار کرو۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے جو اس دنیا میں صاحبانِ احسان ہوئے، بہترین صلہ ہے، اور اللہ کی سرزمین کشادہ ہے، بلاشبہ صبر کرنے والوں کو اُن کا اجر بے حساب انداز سے پورا کیا جائے گاo

11. فرما دیجئے: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت، اپنی طاعت و بندگی کو اس کے لئے خالص رکھتے ہوئے سر انجام دوںo

12. اور مجھے یہ (بھی) حکم دیا گیا تھا کہ میں (اُس کی مخلوقات میں) سب سے پہلا مسلمان بنوںo

13. فرما دیجئے: اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں زبردست دن کے عذاب سے ڈرتا ہوںo

14. فرما دیجئے: میں صرف اللہ کی عبادت کرتا ہوں، اپنے دین کو اسی کے لئے خالص رکھتے ہوئےo

15. سو تم اللہ کے سوا جس کی چاہو پوجا کرو، فرما دیجئے: بے شک نقصان اٹھانے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنی جانوں کو اور اپنے گھر والوں کو خسارہ میں ڈالا۔ یاد رکھو یہی کھلا نقصان ہےo

16. ان کے لئے اُن کے اوپر (بھی) آگ کے بادل (سائبان بنے) ہوں گے اور ان کے نیچے بھی آگ کے فرش ہوں گے، یہ وہ (عذاب) ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، اے میرے بندو! بس مجھ سے ڈرتے رہوo

17. اور جو لوگ بتوں کی پرستش کرنے سے بچے رہے اور اللہ کی طرف جھکے رہے، ان کے لئے خوشخبری ہے، پس آپ میرے بندوں کو بشارت دے دیجئےo

18. جو لوگ بات کو غور سے سنتے ہیں، پھر اس کے بہتر پہلو کی اتباع کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت فرمائی ہے اور یہی لوگ عقل مند ہیںo

19. بھلا جس شخص پر عذاب کا حکم ثابت ہو چکا، تو کیا آپ اس شخص کو بچا سکتے ہیں جو (دائمی) دوزخی ہو چکا ہوo

20. لیکن جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لئے (جنت میں) بلند محلات ہوں گے جن کے اوپر (بھی) بالاخانے بنائے گئے ہوں گے، اُن کے نیچے سے نہریں رواں ہوں گی۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے، اللہ وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتاo

21. (اے انسان!) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر زمین میں اس کے چشمے رواں کیے، پھر اس کے ذریعے کھیتی پیدا کرتا ہے جس کے رنگ جداگانہ ہوتے ہیں، پھر وہ (تیار ہوکر) خشک ہو جاتی ہے، پھر (پکنے کے بعد) تو اسے زرد دیکھتا ہے، پھر وہ اسے چورا چورا کر دیتا ہے، بے شک اس میں عقل والوں کے لئے نصیحت ہےo

22. بھلا اللہ نے جس شخص کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیا ہو تو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر (فائز) ہوجاتا ہے، (اس کے برعکس) پس اُن لوگوں کے لئے ہلاکت ہے جن کے دل اللہ کے ذکر (کے فیض) سے (محروم ہو کر) سخت ہوگئے، یہی لوگ کھلی گمراہی میں ہیںo

23. اللہ ہی نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے، جو ایک کتاب ہے جس کی باتیں (نظم اور معانی میں) ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں (جس کی آیتیں) بار بار دہرائی گئی ہیں، جس سے اُن لوگوں کے جسموں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر اُن کی جلدیں اور دل نرم ہو جاتے ہیں (اور رِقّت کے ساتھ) اللہ کے ذکر کی طرف (محو ہو جاتے ہیں)۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے وہ جسے چاہتا ہے اس کے ذریعے رہنمائی فرماتا ہے۔ اور اللہ جسے گمراہ کر دیتا (یعنی گمراہ چھوڑ دیتا) ہے تو اُس کے لئے کوئی ہادی نہیں ہوتاo

24. بھلا وہ شخص جو قیامت کے دن (آگ کے) برے عذاب کو اپنے چہرے سے روک رہا ہوگا (کیونکہ اس کے دونوں ہاتھ بندھے ہونگے، اس کا کیا حال ہوگا؟) اور ایسے ظالموں سے کہا جائے گا: اُن بداعمالیوں کا مزہ چکھو جو تم انجام دیا کرتے تھےo

25. ایسے لوگوں نے جو اِن سے پہلے تھے (رسولوں کو) جھٹلایا تھا سو اُن پر ایسی جگہ سے عذاب آپہنچا کہ انہیں کچھ شعور ہی نہ تھاo

26. پس اللہ نے انہیں دنیا کی زندگی میں (ہی) ذِلّت و رسوائی کا مزہ چکھا دیا اور یقیناً آخرت کا عذاب کہیں بڑا ہے، کاش وہ جانتے ہوتےo

27. اور درحقیقت ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کر دی ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کر سکیںo

28. قرآن عربی زبان میں ہے (جو سب زبانوں سے زیادہ صاف اور بلیغ ہے) جس میں ذرا بھی کجی نہیں ہے تاکہ وہ تقوٰی اختیار کریںo

29. اللہ نے ایک مثال بیان فرمائی ہے ایسے (غلام) شخص کی جس کی ملکیت میں کئی ایسے لوگ شریک ہوں جو بداخلاق بھی ہوں اور باہم جھگڑالو بھی۔ اور (دوسری طرف) ایک ایسا شخص ہو جو صرف ایک ہی فرد کا غلام ہو، کیا یہ دونوں (اپنے) حالات کے لحاظ سے یکساں ہوسکتے ہیں؟ (ہرگز نہیں) ساری تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر لوگ (حقیقتِ توحید کو) نہیں جانتےo

30. (اے حبیبِ مکرّم!) بے شک آپ کو (تو) موت (صرف ذائقہ چکھنے کے لئے) آنی ہے٭ اور وہ یقیناً (دائمی ہلاکت کے لئے) مردہ ہو جائیں گے (پھر دونوں موتوں کا فرق دیکھنے والا ہوگا)o
٭جس طرح آیت : 29 میں دی گئی مثال کے مطابق دو افراد کے اَحوال قطعاً برابر نہیں ہوں گے اسی طرح ارشاد فرمایا گیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات اور دوسروں کی موت بھی ہرگز برابر یا مماثل نہیں ہوں گی۔ دونوں کی ماہیت اور حالت میں عظیم فرق ہوگا۔ یہ مثال اسی مقصد کے لئے بیان کی گئی تھی کہ شانِ نبوّت کے باب میں ہمسری اور برابری کا گمان کلیتہً ردّ ہو جائے۔ جیسے ایک مالک کا غلام صحیح اور سالم رہا اور بہت سے بدخو مالکوں کا غلام تباہ حال ہوا اسی طرح اے حبیبِ مکرّم! آپ تو ایک ہی مالک کے برگزیدہ بندے اور محبوب و مقرب رسول ہیں سو وہ آپ کو ہر حال میں سلامت رکھے گا اور یہ کفار بہت سے بتوں اور شریکوں کی غلامی میں ہیں سو وہ انہیں بھی اپنی طرح دائمی ہلاکت کا شکار کر دیں گے۔
31. پھر بلاشبہ تم لوگ قیامت کے دن اپنے رب کے حضور باہم جھگڑا کروگے۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-02-11, 03:38 PM   #27
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,228
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default پارہ نمبر 24

پاره فَمَنْ أَظْلَمُ

32. سو اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور سچ کو جھٹلائے جبکہ وہ اس کے پاس آچکا ہو، کیا کافروں کا ٹھکانا دوزخ میں نہیں ہےo

33. اور جو شخص سچ لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی وہی لوگ ہی تو متقی ہیںo

34. اُن کے لئے وہ (سب نعمتیں) ان کے رب کے پاس (موجود) ہیں جن کی وہ خواہش کریں گے، یہی محسنوں کی جزا ہےo

35. تاکہ اللہ اُن کی خطاؤں کو جو انہوں نے کیں اُن سے دور کر دے اور انہیں ان کا ثواب اُن نیکیوں کے بدلہ میں عطا فرمائے جو وہ کیا کرتے تھےo

36. کیا اللہ اپنے بندۂ (مقرّب نبیِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کافی نہیں ہے؟ اور یہ (کفّار) آپ کو اللہ کے سوا اُن بتوں سے (جن کی یہ پوجا کرتے ہیں) ڈراتے ہیں، اور جسے اللہ (اس کے قبولِ حق سے اِنکار کے باعث) گمراہ ٹھہرا دے تو اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیںo

37. اور جسے اللہ ہدایت سے نواز دے تو اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں۔ کیا اللہ بڑا غالب، انتقام لینے والا نہیں ہےo

38. اور اگر آپ اُن سے دریافت فرمائیں کہ آسمانوں اور زمین کو کِس نے پیدا کیا تو وہ ضرور کہیں گے: اللہ نے، آپ فرما دیجئے: بھلا یہ بتاؤ کہ جن بتوں کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو کیا وہ (بُت) اس کی (بھیجی ہوئی) تکلیف کو دُور کرسکتے ہیں یا وہ مجھے رحمت سے نوازنا چاہے تو کیا وہ (بُت) اس کی (بھیجی ہوئی) رحمت کو روک سکتے ہیں، فرما دیجئے: مجھے اللہ کافی ہے، اسی پر توکل کرنے والے بھروسہ کرتے ہیںo

39. فرما دیجئے: اے (میری) قوم! تم اپنی جگہ عمل کئے جاؤ میں (اپنی جگہ) عمل کر رہا ہوں، پھر عنقریب تم (انجام کو) جان لو گےo

40. (کہ) کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر دے گا اور اس پر ہمیشہ قائم رہنے والا عذاب اترے گاo

41. بیشک ہم نے آپ پر لوگوں (کی رہنمائی) کے لئے حق کے ساتھ کتاب اتاری، سو جس نے ہدایت پائی تو اپنے ہی فائدے کے لئے اور جو گمراہ ہوا تو اپنے ہی نقصان کے لئے گمراہ ہوا اور آپ اُن کے ذمّہ دار نہیں ہیںo

42. اللہ جانوں کو اُن کی موت کے وقت قبض کر لیتا ہے اور اُن (جانوں) کو جنہیں موت نہیں آئی ہے اُن کی نیند کی حالت میں، پھر اُن کو روک لیتا ہے جن پر موت کا حکم صادر ہو چکا ہو اور دوسری (جانوں) کو مقرّرہ وقت تک چھوڑے رکھتا ہے۔ بے شک اس میں اُن لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیںo

43. کیا انہوں نے اللہ کے اِذن کے خلاف (بتوں کو) سفارشی بنا رکھا ہے؟ فرما دیجئے: اگرچہ وہ کسی چیز کے مالک بھی نہ ہوں اور ذی عقل بھی نہ ہوںo

44. فرما دیجئے: سب شفاعت (کا اِذن) اللہ ہی کے اختیار میں ہے (جو اس نے اپنے مقرّبین کے لئے مخصوص کر رکھا ہے)، آسمانوں اور زمین کی سلطنت بھی اسی کی ہے، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گےo

45. اور جب تنہا اللہ ہی کا ذکر کیا جاتا ہے تو اُن لوگوں کے دل گھٹن اور کراہت کا شکار ہو جاتے ہیں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے، اور جب اللہ کے سوا اُن بتوں کا ذکر کیا جاتا ہے (جنہیں وہ پوجتے ہیں) تو وہ اچانک خوش ہو جاتے ہیںo

46. آپ عرض کیجئے: اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود میں لانے والے! غیب اور ظاہر کا علم رکھنے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اُن (امور) کا فیصلہ فرمائے گا جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھےo

47. اور اگر ظالموں کو وہ سب کا سب (مال و متاع) میسر ہو جائے جو روئے زمین میں ہے اور اُس کے ساتھ اس کے برابر (اور بھی مل جائے) تو وہ اسے قیامت کے دن بُرے عذاب (سے نجات پانے) کے بدلے میں دے ڈالیں گے، اور اللہ کی طرف سے اُن کے لئے وہ (عذاب) ظاہر ہوگا جس کا وہ گمان بھی نہیں کرتے تھےo

48. اور اُن کے لئے وہ (سب) برائیاں ظاہر ہو جائیں گی جو انہوں نے کما رکھی ہیں اور انہیں وہ (عذاب) گھیر لے گا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے o

4تھے9. پھر جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت بخش دیتے ہیں تو کہنے لگتا ہے کہ یہ نعمت تو مجھے (میرے) علم و تدبیر (کی بنا) پر ملی ہے، بلکہ یہ آزمائش ہے مگر ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتےo

50. فی الواقع یہ (باتیں) وہ لوگ بھی کیا کرتے تھے جو اُن سے پہلے تھے، سو جو کچھ وہ کماتے رہے اُن کے کسی کام نہ آسکاo

51. تو انہیں وہ برائیاں آپہنچیں جو انہوں نے کما رکھی تھیں، اور اُن لوگوں میں سے جو ظلم کر رہے ہیں انہیں (بھی) عنقریب وہ برائیاں آپہنچیں گی جو انہوں نے کما رکھی ہیں، اور وہ (اللہ کو) عاجز نہیں کرسکتےo

52. اور کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق کشادہ فرما دیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے، بے شک اس میں ایمان رکھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیںo

53. آپ فرما دیجئے: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر لی ہے! تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بے شک اللہ سارے گناہ معاف فرما دیتا ہے، وہ یقینا بڑا بخشنے والا، بہت رحم فرمانے والا ہےo

54. اور تم اپنے رب کی طرف توبہ و انابت اختیار کرو اور اس کے اطاعت گزار بن جاؤ قبل اِس کے کہ تم پر عذاب آجائے پھر تمہاری کوئی مدد نہیں کی جائے گیo

55. اور اس بہترین (کتاب) کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری جانب اتاری گئی ہے قبل اِس کے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہوo

56. (ایسا نہ ہو) کہ کوئی شخص کہنے لگے: ہائے افسوس! اس کمی اور کوتاہی پر جو میں نے اللہ کے حقِ (طاعت) میں کی اور میں یقیناً مذاق اڑانے والوں میں سے تھاo

57. یا کہنے لگے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں ضرور پرہیزگاروں میں سے ہوتاo

58. یا عذاب دیکھتے وقت کہنے لگے کہ اگر ایک بار میرا دنیا میں لوٹنا ہو جائے تو میں نیکوکاروں میں سے ہو جاؤںo

59. (رب فرمائے گا ہاں، بے شک میری آیتیں تیرے پاس آئی تھیں، سو تُو نے انہیں جھٹلا دیا، اور توُ نے تکبّر کیا اور تُو کافروں میں سے ہوگیاo

60. اور آپ قیامت کے دن اُن لوگوں کو جنہوں نے اللہ پر جھوٹ بولا ہے دیکھیں گے کہ اُن کے چہرے سیاہ ہوں گے، کیا تکّبر کرنے والوں کا ٹھکانا دوزخ میں نہیں ہےo

61. اور اللہ ایسے لوگوں کو جنہوں نے پرہیزگاری اختیار کی ہے اُن کی کامیابی کے ساتھ نجات دے گا نہ انہیں کوئی برائی پہنچے گی اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گےo

62. اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہےo

63. اسی کے پاس آسمانوں اور زمین کی کُنجیاں ہیں، اور جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر کیا وہی لوگ ہی خسارہ اٹھانے والے ہیںo

64. فرما دیجئے: اے جاہلو! کیا تم مجھے غیر اللہ کی پرستش کرنے کا کہتے ہوo

65. اور فی الحقیقت آپ کی طرف (یہ) وحی کی گئی ہے اور اُن (پیغمبروں) کی طرف (بھی) جو آپ سے پہلے (مبعوث ہوئے) تھے کہ (اے انسان!) اگر تُو نے شرک کیا تو یقیناً تیرا عمل برباد ہو جائے گا اور تُو ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگاo

66. بلکہ تُو اللہ کی عبادت کر اور شکر گزاروں میں سے ہو جاo

67. اور انہوں نے اللہ کی قدر و تعظیم نہیں کی جیسے اُس کی قدر و تعظیم کا حق تھا اور ساری کی ساری زمین قیامت کے دن اُس کی مُٹھی میں ہوگی اور سارے آسمانی کرّے اُس کے دائیں ہاتھ (یعنی قبضۂ قدرت) میں لپٹے ہوئے ہوں گے، وہ پاک ہے اور ہر اس چیز سے بلند و برتر ہے جسے یہ لوگ شریک ٹھہراتے ہیںo

68. اور صُور پھونکا جائے گا تو سب لوگ جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں بے ہوش ہو جائیں گے سوائے اُس کے جسے اللہ چاہے گا، پھر اس میں دوسرا صُور پھونکا جائے گا، سو وہ سب اچانک دیکھتے ہوئے کھڑے ہو جائیں گےo

69. اور زمینِ (محشر) اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی اور (ہر ایک کے اعمال کی) کتاب رکھ دی جائے گی اور انبیاء کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور اُن پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گاo

70. اور ہر شخص کو اُس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور وہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیںo

71. اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ دوزخ کی طرف گروہ درگروہ ہانکے جائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ اُس (جہنم) کے پاس پہنچیں گے تو اُس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور اس کے داروغے اُن سے کہیں گے: کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے تھے جو تم پر تمہارے رب کی آیات پڑھ کر سناتے تھے اور تمہیں اِس دن کی پیشی سے ڈراتے تھے؟ وہ (دوزخی) کہیں گے: ہاں (آئے تھے)، لیکن کافروں پر فرمانِ عذاب ثابت ہو چکا ہوگاo

72. اُن سے کہا جائے گا: دوزخ کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ، (تم) اس میں ہمیشہ رہنے والے ہو، سو غرور کرنے والوں کا ٹھکانا کتنا برا ہےo

73. اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے انہیں (بھی) جنّت کی طرف گروہ در گروہ لے جایا جائے گا، یہاں تک کہ جب وہ اس (جنّت) کے پاس پہنچیں گے اور اُس کے دروازے (پہلے ہی) کھولے جا چکے ہوں گے تو اُن سے وہاں کے نگران (خوش آمدید کرتے ہوئے) کہیں گے: تم پر سلام ہو، تم خوش و خرّم رہو سو ہمیشہ رہنے کے لئے اس میں داخل ہو جاؤo

74. اور وہ (جنتی) کہیں گے: تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور ہمیں سرزمینِ جنت کا وارث بنا دیا کہ ہم (اِس) جنّت میں جہاں چاہیں قیام کریں، سو نیک عمل کرنے والوں کا کیسا اچھا اجر ہےo

75. اور (اے حبیب!) آپ فرشتوں کو عرش کے ارد گرد حلقہ باندھے ہوئے دیکھیں گے جو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہوں گے، اور (سب) لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ کُل حمد اللہ ہی کے لائق ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہےo


سُورة غَافِر / الْمُؤْمِن

1. حا، میم (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)o

2. اِس کتاب کا اتارا جانا اللہ کی طرف سے ہے جو غالب ہے، خوب جاننے والا ہےo

3. گناہ بخشنے والا (ہے) اور توبہ قبول فرمانے والا (ہے)، سخت عذاب دینے والا (ہے)، بڑا صاحبِ کرم ہے۔ اُس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی طرف (سب کو) لوٹنا ہےo

4. اللہ کی آیتوں میں کوئی جھگڑا نہیں کرتا سوائے اُن لوگوں کے جنہوں نے کفر کیا، سو اُن کا شہروں میں (آزادی سے) گھومنا پھرنا تمہیں مغالطہ میں نہ ڈال دےo

5. اِن سے پہلے قومِ نوح نے اور اُن کے بعد (اور) بہت سی امتّوں نے (اپنے رسولوں کو) جھٹلایا اور ہر امّت نے اپنے رسول کے بارے میں ارادہ کیا کہ اسے پکڑ (کر قتل کر دیں یا قید کر) لیں اور بے بنیاد باتوں کے ذریعے جھگڑا کیا تاکہ اس (جھگڑے) کے ذریعے حق (کا اثر) زائل کر دیں سو میں نے انہیں (عذاب میں) پکڑ لیا، پس (میرا) عذاب کیسا تھاo

6. اور اسی طرح آپ کے رب کا فرمان اُن لوگوں پر پورا ہو کر رہا جنہوں نے کفر کیا تھا بے شک وہ لوگ دوزخ والے ہیںo

7. جو (فرشتے) عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اُس کے اِرد گِرد ہیں وہ (سب) اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اہلِ ایمان کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں (یہ عرض کرتے ہیں کہ) اے ہمارے رب! تو (اپنی) رحمت اور علم سے ہر شے کا احاطہ فرمائے ہوئے ہے، پس اُن لوگوں کو بخش دے جنہوں نے توبہ کی اور تیرے راستہ کی پیروی کی اور انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لےo

8. اے ہمارے رب! اور انہیں (ہمیشہ رہنے کے لئے) جنّاتِ عدن میں داخل فرما، جن کا تُو نے اُن سے وعدہ فرما رکھا ہے اور اُن کے آباء و اجداد سے اور اُن کی بیویوں سے اور اُن کی اولاد و ذرّیت سے جو نیک ہوں (انہیں بھی اُن کے ساتھ داخل فرما)، بے شک تو ہی غالب، بڑی حکمت والا ہےo

9. اور اُن کو برائیوں (کی سزا) سے بچا لے، اور جسے تو نے اُس دن برائیوں (کی سزا) سے بچا لیا سو بے شک تو نے اُس پر رحم فرمایا، اور یہی تو عظیم کامیابی ہےo

10. بے شک جنہوں نے کفر کیا انہیں پکار کر کہا جائے گا: (آج) تم سے اللہ کی بیزاری، تمہاری جانوں سے تمہاری اپنی بیزاری سے زیادہ بڑھی ہوئی ہے، جبکہ تم ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے مگر تم انکار کرتے تھےo

11. وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! تو نے ہمیں دو بار موت دی اور تو نے ہمیں دو بار (ہی) زندگی بخشی، سو (اب) ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں، پس کیا (عذاب سے بچ) نکلنے کی طرف کوئی راستہ ہےo

12. (ان سے کہا جائے گا: نہیں) یہ (دائمی عذاب) اس وجہ سے ہے کہ جب اللہ کو تنہا پکارا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے اور اگر اس کے ساتھ (کسی کو) شریک ٹھہرایا جاتا تو تم مان جاتے تھے، پس (اب) اللہ ہی کا حکم ہے جو (سب سے) بلند و بالا ہےo

13. وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تمہارے لئے آسمان سے رزق اتارتا ہے، اور نصیحت صرف وہی قبول کرتا ہے جو رجوع (الی اﷲ) میں رہتا ہےo

14. پس تم اللہ کی عبادت اس کے لئے طاعت و بندگی کو خالص رکھتے ہوئے کیا کرو، اگرچہ کافروں کو ناگوار ہی ہوo

15. درجات بلند کرنے والا، مالکِ عرش، اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے روح (یعنی وحی) اپنے حکم سے القاء فرماتا ہے تاکہ وہ (لوگوں کو) اکٹھا ہونے والے دن سے ڈرائےo

16. جس دن وہ سب (قبروں سے) نکل پڑیں گے اور ان (کے اعمال) سے کچھ بھی اللہ پر پوشیدہ نہ رہے گا، (ارشاد ہوگا آج کس کی بادشاہی ہے؟ (پھر ارشاد ہوگا اللہ ہی کی جو یکتا ہے سب پر غالب ہےo

17. آج کے دن ہر جان کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے گا، آج کوئی نا انصافی نہ ہوگی، بے شک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہےo

18. اور آپ ان کو قریب آنے والی آفت کے دن سے ڈرائیں جب ضبطِ غم سے کلیجے منہ کو آئیں گے۔ ظالموں کے لئے نہ کوئی مہربان دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارشی جس کی بات مانی جائےo

19. وہ خیانت کرنے والی نگاہوں کو جانتا ہے اور (ان باتوں کو بھی) جو سینے (اپنے اندر) چھپائے رکھتے ہیںo

20. اور اللہ حق کے ساتھ فیصلہ فرماتا ہے، اور جن (بتوں) کو یہ لوگ اللہ کے سوا پوجتے ہیں وہ کچھ بھی فیصلہ نہیں کر سکتے، بے شک اللہ ہی سننے والا، دیکھنے والا ہےo

21. اور کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھ لیتے ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، وہ لوگ قوّت میں (بھی) اِن سے بہت زیادہ تھے اور اُن آثار و نشانات میں (بھی) جو زمین میں (چھوڑ گئے) تھے۔ پھر اللہ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے انہیں پکڑ لیا، اور ان کے لئے اللہ (کے عذاب) سے بچانے والا کوئی نہ تھاo

22. یہ اس وجہ سے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیاں لے کر آئے تھے پھر انہوں نے کفر کیا تو اللہ نے انہیں (عذاب میں) پکڑ لیا، بے شک وہ بڑی قوت والا، سخت عذاب دینے والا ہےo

23. اور بے شک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں اور واضح دلیل کے ساتھ بھیجاo

24. فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف، تو وہ کہنے لگے کہ یہ جادوگر ہے، بڑا جھوٹا ہےo

25. پھر جب وہ ہماری بارگاہ سے پیغامِ حق لے کر ان کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: ان لوگوں کے لڑکوں کو قتل کر دو جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دو، اور کافروں کی پر فریب چالیں صرف ہلاکت ہی تھیںo

26. اور فرعون بولا: مجھے چھوڑ دو میں موسٰی کو قتل کر دوں اور اسے چاہیے کہ اپنے رب کو بلا لے۔ مجھے خوف ہے کہ وہ تمہارا دین بدل دے گا یا ملک (مصر) میں فساد پھیلا دے گاo

27. اور موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: میں اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لے چکا ہوں، ہر متکبر شخص سے جو یومِ حساب پر ایمان نہیں رکھتاo

28. اور ملّتِ فرعون میں سے ایک مردِ مومن نے کہا جو اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا: کیا تم ایک شخص کو قتل کرتے ہو (صرف) اس لئے کہ وہ کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے، اور وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح نشانیاں لے کر آیا ہے، اور اگر (بالفرض) وہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا بوجھ اسی پر ہوگا اور اگر وہ سچا ہے تو جس قدر عذاب کا وہ تم سے وعدہ کر رہا ہے تمہیں پہنچ کر رہے گا، بے شک اﷲ اسے ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزرنے والا سراسر جھوٹا ہوo

29. اے میری قوم! آج کے دن تمہاری حکومت ہے (تم ہی) سرزمینِ (مصر) میں اقتدار پر ہو، پھر کون ہمیں اللہ کے عذاب سے بچا سکتا ہے اگر وہ (عذاب) ہمارے پاس آجائے۔ فرعون نے کہا: میں تمہیں فقط وہی بات سمجھاتا ہوں جسے میں خود (صحیح) سمجھتا ہوں اور میں تمہیں بھلائی کی راہ کے سوا (اور کوئی راستہ) نہیں دکھاتاo

30. اور اس شخص نے کہا جو ایمان لا چکا تھا: اے میری قوم! میں تم پر (بھی اگلی) قوموں کے روزِ بد کی طرح (عذاب) کا خوف رکھتا ہوںo

31. قومِ نوح اور عاد اور ثمود اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے (ان) کے دستورِ سزا کی طرح، اور اللہ بندوں پر ہرگز زیادتی نہیں چاہتاo

32. اور اے قوم! میں تم پر چیخ و پکار کے دن (یعنی قیامت) سے خوف زدہ ہوںo

33. جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگو گے اور تمہیں اللہ (کے عذاب) سے بچانے والا کوئی نہیں ہو گا اور جسے اللہ گمراہ ٹھہرا دے تو اس کے لئے کوئی ہادی و رہنما نہیں ہوتاo

34. اور (اے اہلِ مصر!) بے شک تمہارے پاس اس سے پہلے یوسف (علیہ السلام) واضح نشانیوں کے ساتھ آچکے اور تم ہمیشہ ان (نشانیوں) کے بارے میں شک میں (پڑے) رہے جو وہ تمہارے پاس لائے تھے، یہاں تک کہ جب وہ وفات پا گئے تو تم کہنے لگے کہ اب اللہ ان کے بعد ہرگز کسی رسول کو نہیں بھیجے گا۔ اسی طرح اللہ اس شخص کو گمراہ ٹھہرا دیتا ہے جو حد سے گزرنے والا شک کرنے والا ہوo

35. جو لوگ اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں بغیر کسی دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو، (یہ جھگڑا کرنا) اللہ کے نزدیک اور ایمان والوں کے نزدیک سخت بیزاری (کی بات) ہے، اسی طرح اللہ ہر ایک مغرور (اور) سر کش کے دل پر مُہر لگا دیتا ہےo

36. اور فرعون نے کہا: اے ہامان! تو میرے لئے ایک اونچا محل بنا دے تاکہ میں (اس پر چڑھ کر) راستوں پر جا پہنچوںo

37. (یعنی) آسمانوں کے راستوں پر، پھر میں موسٰی کے خدا کو جھانک کر دیکھ سکوں اور میں تو اسے جھوٹا ہی سمجھتا ہوں، اور اس طرح فرعون کے لئے اس کی بد عملی خوش نما کر دی گئی اور وہ (اللہ کی) راہ سے روک دیا گیا، اور فرعون کی پُرفریب تدبیر محض ہلاکت ہی میں تھیo

38. اور اس شخص نے کہا جو ایمان لا چکا تھا: اے میری قوم! تم میری پیروی کرو میں تمہیں خیر و ہدایت کی راہ پر لگا دوں گاo

39. اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی بس (چند روزہ) فائدہ اٹھانے کے سوا کچھ نہیں اور بے شک آخرت ہی ہمیشہ رہنے کا گھر ہےo

40. جس نے برائی کی تو اسے بدلہ نہیں دیا جائے گا مگر صرف اسی قدر، اور جس نے نیکی کی، خواہ مرد ہو یا عورت اور مومن بھی ہو تو وہی لوگ جنّت میں داخل ہوں گے انہیں وہاں بے حساب رِزق دیا جائے گاo

41. اور اے میری قوم! مجھے کیا ہوا ہے کہ میں تمہیں نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی طرف بلاتے ہوo

42. تم مجھے (یہ) دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہراؤں جس کا مجھے کچھ علم بھی نہیں اور میں تمہیں خدائے غالب کی طرف بلاتا ہوں جو بڑا بخشنے والا ہےo

43. سچ تو یہ ہے کہ تم مجھے جس چیز کی طرف بلا رہے ہو وہ نہ تو دنیا میں پکارے جانے کے قابل ہے اور نہ (ہی) آخرت میں اور بے شک ہمارا واپس لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے اور یقیناً حد سے گزرنے والے ہی دوزخی ہیںo

44. سو تم عنقریب (وہ باتیں) یاد کرو گے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں، اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، بے شک اللہ بندوں کو دیکھنے والا ہےo

45. پھر اللہ نے اُسے اُن لوگوں کی برائیوں سے بچا لیا جن کی وہ تدبیر کر رہے تھے اور آلِ فرعون کو بُرے عذاب نے گھیر لیاo

46. آتشِ دوزخ کے سامنے یہ لوگ صبح و شام پیش کئے جاتے ہیں اور جس دن قیامت بپا ہوگی (تو حکم ہوگا آلِ فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کر دوo

47. اور جب وہ لوگ دوزخ میں باہم جھگڑیں گے تو کمزور لوگ ان سے کہیں گے جو (دنیا میں) بڑائی ظاہر کرتے تھے کہ ہم تو تمہارے پیروکار تھے سو کیا تم آتشِ دوزخ کا کچھ حصّہ (ہی) ہم سے دور کر سکتے ہوo

48. تکبر کرنے والے کہیں گے: ہم سب ہی اسی (دوزخ) میں پڑے ہیں بے شک اللہ نے بندوں کے درمیان حتمی فیصلہ فرما دیا ہےo

49. اور آگ میں پڑے ہوئے لوگ دوزخ کے داروغوں سے کہیں گے: اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ کسی دن تو ہم سے عذاب ہلکا کر دےo

50. وہ کہیں گے: کیا تمہارے پاس تمہارے پیغمبر واضح نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے، وہ کہیں گے: کیوں نہیں، (پھر داروغے) کہیں گے: تم خود ہی دعا کرو اور کافروں کی دعا (ہمیشہ) رائیگاں ہی ہوگیo

51. بے شک ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان لانے والوں کی دنیوی زندگی میں (بھی) مدد کرتے ہیں اور اس دن (بھی کریں گے) جب گواہ کھڑے ہوں گےo

52. جس دن ظالموں کو اُن کی معذرت فائدہ نہیں دے گی اور اُن کے لئے پھٹکار ہوگی اور اُن کے لئے (جہنّم کا) بُرا گھر ہوگاo

53. اور بے شک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو (کتاب) ہدایت عطا کی اور ہم نے (اُن کے بعد) بنی اسرائیل کو (اُس) کتاب کا وارث بنایاo

54. جو ہدایت ہے اور عقل والوں کے لئے نصیحت ہےo

55. پس آپ صبر کیجئے، بے شک اللہ کا وعدہ حق ہے اور اپنی اُمت کے گناہوں کی بخشش طلب کیجئے٭ اور صبح و شام اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیا کیجئےo
٭ لِذَنبِكَ میں ”امت“ مضاف ہے جو کہ محذوف ہے، لہٰذا اس بناء پر یہاں وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ سے مراد امت کے گناہ ہیں۔ امام نسفی، امام قرطبی اور علامہ شوکانی نے یہی معنی بیان کیا ہے۔ حوالہ جات ملاحظہ کریں: 1۔ (وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ) أی لِذَنبِ أُمتِکَ یعنی اپنی امت کے گناہ۔ (نسفی، مدارک التنزیل و حقائق التاویل، 4: 359)۔ 2۔ (وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ) قیل: لِذَنبِ أُمتِکَ حذف المضاف و أقیم المضاف الیہ مقامہ۔ ”وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس سے مراد امت کے گناہ ہیں۔ یہاں مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ کو اس کا قائم مقام کر دیا گیا۔“ (قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، 15: 324)۔ 3۔ وَ قیل: لِذَنبِکَ لِذَنبِ أُمتِکَ فِی حَقِّکَ ”یہ بھی کہا گیا ہے کہ لِذَنبِکَ یعنی آپ اپنے حق میں امت سے سرزَد ہونے والی خطاؤں کی۔“ (ابن حیان اندلسی، البحر المحیط، 7: 471)۔ 4۔ (وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ) قیل: المراد ذنب أمتک فھو علی حذف المضاف ” کہا گیا ہے کہ اس سے مراد امت کے گناہ ہیں اور یہ معنی مضاف کے محذوف ہونے کی بناء پر ہے۔“ ( علامہ شوکانی، فتح القدیر، 4: 497)
56. بے شک جو لوگ اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں بغیر کسی دلیل کے جو اُن کے پاس آئی ہو، ان کے سینوں میں سوائے غرور کے اور کچھ نہیں ہے وہ اُس (حقیقی برتری) تک پہنچنے والے ہی نہیں۔ پس آپ (ان کے شر سے) اللہ کی پناہ مانگتے رہئے، بے شک وہی خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہےo

57. یقیناً آسمانوں اور زمین کی پیدائش انسانوں کی پیدائش سے کہیں بڑھ کر ہے لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتےo

58. اور اندھا اور بینا برابر نہیں ہو سکتے سو (اسی طرح) جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے (وہ) اور بدکار بھی (برابر) نہیں ہیں۔ تم بہت ہی کم نصیحت قبول کرتے ہوo

59. بے شک قیامت ضرور آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن اکثر لوگ یقین نہیں رکھتےo

60. اور تمہارے رب نے فرمایا ہے: تم لوگ مجھ سے دعا کیا کرو میں ضرور قبول کروں گا، بے شک جو لوگ میری بندگی سے سرکشی کرتے ہیں وہ عنقریب دوزخ میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گےo

61. اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام پاؤ اور دن کو دیکھنے کے لئے روشن بنایا۔ بے شک اللہ لوگوں پر فضل فرمانے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتےo

62. یہی اللہ تمہارا رب ہے جو ہر چیز کا خالق ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر تم کہاں بھٹکتے پھرتے ہوo

63. اسی طرح وہ لوگ بہکے پھرتے تھے جو اللہ کی آیتوں کا انکار کیا کرتے تھےo

64. اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو قرار گاہ بنایا اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہیں شکل و صورت بخشی پھر تمہاری صورتوں کو اچھا کیا اور تمہیں پاکیزہ چیزوں سے روزی بخشی، یہی اللہ تمہارا رب ہے۔ پس اللہ بڑی برکت والا ہے جو سب جہانوں کا رب ہےo

65. وہی زندہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پس تم اس کی عبادت اُس کے لئے طاعت و بندگی کو خالص رکھتے ہوئے کیا کرو، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہےo

66. فرما دیجئے: مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں اُن کی پرستش کروں جن بتوں کی تم اللہ کو چھوڑ کر پرستش کرتے ہو جبکہ میرے پاس میرے رب کی جانب سے واضح نشانیاں آچکی ہیں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمام جہانوں کے پروردگار کی فرمانبرداری کروں o

67. وہی ہے جس نے تمہاری (کیمیائی حیات کی ابتدائی) پیدائش مٹی سے کی پھر (حیاتیاتی ابتداء) ایک نطفہ (یعنی ایک خلیہ) سے، پھر رحم مادر میں معلّق وجود سے، پھر (بالآخر) وہی تمہیں بچہ بنا کر نکالتا ہے پھر (تمہیں نشو و نما دیتا ہے) تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچ جاؤ۔ پھر (تمہیں عمر کی مہلت دیتا ہے) تاکہ تم بوڑھے ہو جاؤ اور تم میں سے کوئی (بڑھاپے سے) پہلے ہی وفات پا جاتا ہے اور (یہ سب کچھ اس لئے کیاجاتا ہے) تاکہ تم (اپنی اپنی) مقررّہ میعاد تک پہنچ جاؤ اور اِس لئے (بھی) کہ تم سمجھ سکوo

68. وہی ہے جو زندگی دیتا ہے اور موت دیتا ہے پھر جب وہ کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو صرف اسے فرما دیتا ہے: "ہو جا" پس وہ ہو جاتا ہےo

69. کیا آپ نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں، وہ کہاں بھٹکے جا رہے ہیںo

70. جن لوگوں نے کتاب کو (بھی) جھٹلا دیا اور ان (نشانیوں) کو (بھی) جن کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو بھیجا تھا، تو وہ عنقریب (اپنا انجام) جان لیں گےo

71. جب اُن کی گردنوں میں طوق اور زنجیریں ہوں گی، وہ گھسیٹے جا رہے ہوں گےo

72. کھولتے ہوئے پانی میں، پھر آگ میں (ایندھن کے طور پر) جھونک دیئے جائیں گےo

73. پھر اُن سے کہا جائے گا: کہاں ہیں وہ (بُت) جنہیں تم شریک ٹھہراتے تھےo

74. اللہ کے سوا، وہ کہیں گے: وہ ہم سے گم ہو گئے بلکہ ہم تو پہلے کسی بھی چیز کی پرستش نہیں کرتے تھے، اسی طرح اللہ کافروں کو گمراہ ٹھہراتا ہےo

75. یہ (سزا) اس کا بدلہ ہے کہ تم زمین میں ناحق خوشیاں منایا کرتے تھے اور اُس کا بدلہ ہے کہ تم اِترایا کرتے تھےo

76. دوزخ کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ تم اس میں ہمیشہ رہنے والے ہو، سو غرور کرنے والوں کا ٹھکانا کتنا بُرا ہےo

77. پس آپ صبر کیجئے بے شک اﷲ کا وعدہ سچّا ہے، پھر اگر ہم آپ کو اس (عذاب) کا کچھ حصّہ دکھا دیں جس کا ہم اُن سے وعدہ کر رہے ہیں یا ہم آپ کو (اس سے قبل) وفات دے دیں تو (دونوں صورتوں میں) وہ ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گےo

78. اور بے شک ہم نے آپ سے پہلے بہت سے رسولوں کو بھیجا، ان میں سے بعض کا حال ہم نے آپ پر بیان فرما دیا اور ان میں سے بعض کا حال ہم نے (ابھی تک) آپ پر بیان نہیں فرمایا، اور کسی بھی رسول کے لئے یہ (ممکن) نہ تھا کہ وہ کوئی نشانی بھی اﷲ کے اِذن کے بغیر لے آئے، پھر جب اﷲ کا حکم آپہنچا (اور) حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا گیا تو اس وقت اہلِ باطل خسارے میں رہےo

79. اﷲ ہی ہے جس نے تمہارے لئے چوپائے بنائے تاکہ تم اُن میں سے بعض پر سواری کرو اور اِن میں سے بعض کو تم کھاتے ہوo

80. اور تمہارے لئے ان میں اور بھی فوائد ہیں اور تاکہ تم ان پر سوار ہو کر (مزید) اُس ضرورت (کی جگہ) تک پہنچ سکو جو تمہارے سینوں میں (متعین) ہے اور (یہ کہ) تم اُن پر اور کشتیوں پر سوار کئے جاتے ہوo

81. اور وہ تمہیں اپنی (بہت سے) نشانیاں دکھاتا ہے، سو تم اﷲ کی کن کن نشانیوں کا انکار کرو گےo

82. سو کیا انہوں نے زمین میں سیر و سیاحت نہیں کی کہ وہ دیکھتے کہ اُن لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو اُن سے پہلے گزر گئے، وہ اِن لوگوں سے (تعداد میں بھی) بہت زیادہ تھے اور طاقت میں (بھی) سخت تر تھے اور نشانات کے لحاظ سے (بھی) جو (وہ) زمین میں چھوڑ گئے ہیں (کہیں بڑھ کر تھے) مگر جو کچھ وہ کمایا کرتے تھے اُن کے کسی کام نہ آیاo

83. پھر جب اُن کے پیغمبر اُن کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے تو اُن کے پاس جو (دنیاوی) علم و فن تھا وہ اس پر اِتراتے رہے اور (اسی حال میں) انہیں اُس (عذاب) نے آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھےo

84. پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو کہنے لگے: ہم اﷲ پر ایمان لائے جو یکتا ہے اور ہم نے اُن (سب) کا انکار کر دیا جنہیں ہم اس کا شریک ٹھہرایا کرتے تھےo

85. پھر اُن کا ایمان لانا اُن کے کچھ کام نہ آیا جبکہ انہوں نے ہمارے عذاب کو دیکھ لیا تھا، اﷲ کا (یہی) دستور ہے جو اُس کے بندوں میں گزرتا چلا آرہا ہے اور اس مقام پر کافروں نے (ہمیشہ) سخت نقصان اٹھایاo


سُورة فُصِّلَت / حٰم السَّجْدَة

1. حا، میم (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)o

2. نہایت مہربان بہت رحم فرمانے والے (رب) کی جانب سے اتارا جانا ہےo

3. (اِس) کتاب کا جس کی آیات واضح طور پر بیان کر دی گئی ہیں علم و دانش رکھنے والی قوم کے لئے عربی (زبان میں) قرآن (ہے)o

4. خوشخبری سنانے والا ہے اور ڈر سنانے والا ہے، پھر ان میں سے اکثر لوگوں نے رُوگردانی کی سو وہ (اِسے) سنتے ہی نہیں ہیںo

5. اور کہتے ہیں کہ ہمارے دل اُس چیز سے غلافوں میں ہیں جس کی طرف آپ ہمیں بلاتے ہیں اور ہمارے کانوں میں (بہرے پن کا) بوجھ ہے اور ہمارے اور آپ کے درمیان پردہ ہے سو آپ (اپنا) عمل کرتے رہئے ہم اپنا عمل کرنے والے ہیںo

6. (اِن کے پردے ہٹانے اور سننے پر آمادہ کرنے کے لئے) فرما دیجئے: (اے کافرو!) بس میں ظاہراً آدمی ہونے میں تو تم ہی جیسا ہوں (پھر مجھ سے اور میری دعوت سے اس قدر کیوں گریزاں ہو) میری طرف یہ وحی بھیجی گئی ہے کہ تمہارا معبود فقط معبودِ یکتا ہے، پس تم اسی کی طرف سیدھے متوجہ رہو اور اس سے مغفرت چاہو، اور مشرکوں کے لئے ہلاکت ہےo

7. جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے اور وہی تو آخرت کے بھی منکر ہیںo

8. بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اُن کے لئے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگاo

9. فرما دیجئے: کیا تم اس (اﷲ) کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دِن (یعنی دو مدّتوں) میں پیدا فرمایا اور تم اُس کے لئے ہمسر ٹھہراتے ہو، وہی سارے جہانوں کا پروردگار ہےo

10. اور اُس کے اندر (سے) بھاری پہاڑ (نکال کر) اس کے اوپر رکھ دیئے اور اس کے اندر (معدنیات، آبی ذخائر، قدرتی وسائل اور دیگر قوتوں کی) برکت رکھی، اور اس میں (جملہ مخلوق کے لئے) غذائیں (اور سامانِ معیشت) مقرر فرمائے (یہ سب کچھ اس نے) چار دنوں (یعنی چار ارتقائی زمانوں) میں مکمل کیا، (یہ سارا رِزق اصلًا) تمام طلب گاروں (اور حاجت مندوں) کے لئے برابر ہےo

11. پھر وہ سماوی کائنات کی طرف متوجہ ہوا تو وہ (سب) دھواں تھا، سو اس نے اُسے (یعنی آسمانی کرّوں سے) اور زمین سے فرمایا: خواہ باہم کشش و رغبت سے یا گریزی و ناگواری سے (ہمارے نظام کے تابع) آجاؤ، دونوں نے کہا: ہم خوشی سے حاضر ہیںo

12. پھر دو دِنوں (یعنی دو مرحلوں) میں سات آسمان بنا دیئے اور ہر سماوی کائنات میں اس کا نظام ودیعت کر دیا اور آسمانِ دنیا کو ہم نے چراغوں (یعنی ستاروں اور سیّاروں) سے آراستہ کر دیا اور محفوظ بھی (تاکہ ایک کا نظام دوسرے میں مداخلت نہ کر سکے)، یہ زبر دست غلبہ (و قوت) والے، بڑے علم والے (رب) کا مقرر کردہ نظام ہےo

13. پھر اگر وہ رُوگردانی کریں تو آپ فرما دیں: میں تمہیں اُس خوفناک عذاب سے ڈراتا ہوں جو عاد اور ثمود کی ہلاکت کے مانند ہوگاo

14. جب اُن کے پاس اُن کے آگے اور اُن کے پیچھے (یا اُن سے پہلے اور ان کے بعد) پیغمبر آئے (اور کہا) کہ اﷲ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، تو وہ کہنے لگے: اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتوں کو اتار دیتا سو جو کچھ تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کے منکر ہیںo

15. پس جو قومِ عاد تھی سو انہوں نے زمین میں ناحق تکبر (و سرکشی) کی اور کہنے لگے: ہم سے بڑھ کر طاقتور کون ہے؟ اور کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اﷲ جس نے انہیں پیدا فرمایا ہے وہ اُن سے کہیں بڑھ کر طاقتور ہے، اور وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہےo

16. سو ہم نے اُن پر منحوس دنوں میں خوفناک تیز و تُند آندھی بھیجی تاکہ ہم انہیں دنیوی زندگی میں ذِلت کے عذاب کا مزہ چکھائیں، اور آخرت کا عذاب تو سب سے زیادہ ذِلت انگیز ہوگا اور اُن کی کوئی مدد نہ کی جائے گیo

17. اور جو قومِ ثمود تھی، سو ہم نے انہیں راہِ ہدایت دکھائی تو انہوں نے ہدایت کے مقابلہ میں اندھا رہنا ہی پسند کیا تو انہیں ذِلّت کے عذاب کی کڑک نے پکڑ لیا اُن اعمال کے بدلے جو وہ کمایا کرتے تھےo

18. او ہم نے اُن لوگوں کو نجات بخشی جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے رہےo

19. اور جس دن اﷲ کے دشمنوں کو دوزخ کی طرف جمع کر کے لایا جائے گا پھر انہیں روک روک کر (اور ہانک کر) چلایا جائے گاo

20. یہاں تک کہ جب وہ دوزخ تک پہنچ جائیں گے تو اُن کے کان اور اُن کی آنکھیں اور اُن (کے جسموں) کی کھالیں اُن کے خلاف گواہی دیں گی اُن اعمال پر جو وہ کرتے رہے تھےo

21. پھر وہ لوگ اپنی کھالوں سے کہیں گے: تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی، وہ کہیں گی: ہمیں اُس اﷲ نے گویائی عطا کی جو ہر چیز کو قوتِ گویائی دیتا ہے اور اسی نے تمہیں پہلی بار پیدا فرمایا ہے اور تم اسی کی طرف پلٹائے جاؤ گےo

22. تم تو (گناہ کرتے وقت) اس (خوف) سے بھی پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمہارے کان تمہارے خلاف گواہی دے دیں گے اور نہ (یہ کہ) تمہاری آنکھیں اور نہ (یہ کہ) تمہاری کھالیں (ہی گواہی دے دیں گی) لیکن تم گمان کرتے تھے کہ اﷲ تمہارے بہت سے کاموں کو جو تم کرتے ہو جانتا ہی نہیں ہےo

23. اور تمہارا یہی گمان جو تم نے اپنے رب کے بارے میں قائم کیا، تمہیں ہلاک کر گیا سو تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گئےo

24. اب اگر وہ صبر کریں تب بھی ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور اگر وہ (توبہ کے ذریعے اﷲ کی) رضا حاصل کرنا چاہیں تو بھی وہ رضا پانے والوں میں نہیں ہوں گےo

25. اور ہم نے اُن کے لئے ساتھ رہنے والے (شیاطین) مقرر کر دیئے، سو انہوں نے اُن کے لئے وہ (تمام برے اعمال) خوش نما کر دکھائے جو اُن کے آگے تھے اور اُن کے پیچھے تھے اور اُن پر (وہی) فرمانِ عذاب ثابت ہوگیا جو اُن امتوں کے بارے میں صادر ہوچکا تھا جو جنّات اور انسانوں میں سے اُن سے پہلے گزر چکی تھیں۔ بے شک وہ نقصان اٹھانے والے تھےo

26. اور کافر لوگ کہتے ہیں: تم اِس قرآن کو مت سنا کرو اور اِس (کی قرات کے اوقات) میں شور و غل مچایا کرو تاکہ تم (اِن کے قرآن پڑھنے پر) غالب رہوo

27. پس ہم کافروں کو سخت عذاب کا مزہ ضرور چکھائیں گے اور ہم انہیں اُن برے اعمال کا بدلہ ضرور دیں گے جو وہ کرتے رہے تھےo

28. یہ دوزخ اﷲ کے دشمنوں کی جزا ہے، اُن کے لئے اِس میں ہمیشہ رہنے کا گھر ہے، یہ اُس کا بدلہ ہے جو وہ ہماری آیتوں کا انکار کیا کرتے تھےo

29. اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے کہیں گے: اے ہمارے رب! ہمیں جنّات اور انسانوں میں سے وہ دونوں دِکھا دے جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا ہے ہم انہیں اپنے قدموں کے نیچے (روند) ڈالیں تاکہ وہ سب سے زیادہ ذِلّت والوں میں ہو جائیںo

30. بے شک جن لوگوں نے کہا: ہمارا رب اﷲ ہے، پھر وہ (اِس پر مضبوطی سے) قائم ہوگئے، تو اُن پر فرشتے اترتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ تم خوف نہ کرو اور نہ غم کرو اور تم جنت کی خوشیاں مناؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھاo

31. ہم دنیا کی زندگی میں (بھی) تمہارے دوست اور مددگار ہیں اور آخرت میں (بھی)، اور تمہارے لئے وہاں ہر وہ نعمت ہے جسے تمہارا جی چاہے اور تمہارے لئے وہاں وہ تمام چیزیں (حاضر) ہیں جو تم طلب کروo

32. (یہ) بڑے بخشنے والے، بہت رحم فرمانے والے (رب) کی طرف سے مہمانی ہےo

33. اور اس شخص سے زیادہ خوش گفتار کون ہو سکتا ہے جو اﷲ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے: بے شک میں (اﷲ عزّ و جل اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) فرمانبرداروں میں سے ہوںo

34. اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتے، اور برائی کو بہتر (طریقے) سے دور کیا کرو سو نتیجتاً وہ شخص کہ تمہارے اور جس کے درمیان دشمنی تھی گویا وہ گرم جوش دوست ہو جائے گاo

35. اور یہ (خوبی) صرف اُنہی لوگوں کو عطا کی جاتی ہے جو صبر کرتے ہیں، اور یہ (توفیق) صرف اسی کو حاصل ہوتی ہے جو بڑے نصیب والا ہوتا ہےo

36. اور (اے بندۂ مومن!) اگر شیطان کی وسوسہ اندازی سے تمہیں کوئی وسوسہ آجائے تو اﷲ کی پناہ مانگ لیا کر، بے شک وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہےo

37. اور رات اور دن اور سورج اور چاند اُس کی نشانیوں میں سے ہیں، نہ سورج کو سجدہ کیا کرو اور نہ ہی چاند کو، اور سجدہ صرف اﷲ کے لئے کیا کرو جس نے اِن (سب) کو پیدا فرمایا ہے اگر تم اسی کی بندگی کرتے ہوo

38. پھر اگر وہ تکبّر کریں (تو آپ اُن کی پرواہ نہ کریں) پس جو فرشتے آپ کے رب کے حضور میں ہیں وہ رات دن اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور وہ تھکتے (اور اکتاتے) ہی نہیں ہیںo

39. اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ آپ (پہلے) زمین کو خشک (اور بے قدر) دیکھتے ہیں پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ سرسبز و شاداب ہو جاتی ہے اور نمو پانے لگتی ہے، بے شک وہ ذات جس نے اس (مردہ زمین) کو زندہ کیا ہے یقیناً وہی (روزِ قیامت) مُردوں کو زندہ فرمانے والا ہے۔ بے شک وہ ہر چیز پر خوب قادر ہےo

40. بے شک جو لوگ ہماری آیتوں (کے معنی) میں صحیح راہ سے انحراف کرتے ہیں وہ ہم پر پوشیدہ نہیں ہیں، بھلا جو شخص آتشِ دوزخ میں جھونک دیا جائے (وہ) بہتر ہے یا وہ شخص جو قیامت کے دن (عذاب سے) محفوظ و مامون ہو کر آئے، تم جو چاہو کرو، بے شک جو کام تم کرتے ہو وہ خوب دیکھنے والا ہےo

41. بے شک جنہوں نے قرآن کے ساتھ کفر کیا جبکہ وہ اُن کے پاس آچکا تھا (تویہ اُن کی بد نصیبی ہے)، اور بے شک وہ (قرآن) بڑی باعزت کتاب ہےo

42. باطل اِس (قرآن) کے پاس نہ اس کے سامنے سے آسکتا ہے اور نہ ہی اس کے پیچھے سے، (یہ) بڑی حکمت والے، بڑی حمد والے (رب) کی طرف سے اتارا ہوا ہےo

43. (اے حبیب!) جو آپ سے کہی جاتی ہیں (یہ) وہی باتیں ہیں جو آپ سے پہلے رسولوں سے کہی جا چکی ہیں، بے شک آپ کا رب ضرور معافی والا (بھی) ہے اور درد ناک سزا دینے والا (بھی) ہےo

44. اور اگر ہم اس (کتاب) کو عجمی زبان کا قرآن بنا دیتے تو یقیناً یہ کہتے کہ اِس کی آیتیں واضح طور پر بیان کیوں نہیں کی گئیں، کیا کتاب عجمی ہے اور رسول عربی ہے (اِس لئے اے محبوبِ مکرّم! ہم نے قرآن بھی آپ ہی کی زبان میں اتار دیا ہے۔) فرما دیجئے: وہ (قرآن) ایمان والوں کے لئے ہدایت (بھی) ہے اور شفا (بھی) ہے اور جو لوگ ایمان نہیں رکھتے اُن کے کانوں میں بہرے پن کا بوجھ ہے وہ اُن کے حق میں نابینا پن (بھی) ہے (گویا) وہ لوگ کسی دور کی جگہ سے پکارے جاتے ہیںo

45. اور بے شک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی تو اس میں (بھی) اختلاف کیا گیا، اور اگر آپ کے رب کی طرف سے فرمان پہلے صادر نہ ہو چکا ہوتا تو اُن کے درمیان فیصلہ کر دیا جاتا اور بے شک وہ اس (قرآن) کے بارے میں (بھی) دھوکہ دینے والے شک میں (مبتلاء) ہیںo

46. جس نے نیک عمل کیا تو اُس نے اپنی ہی ذات کے (نفع کے) لئے (کیا) اور جِس نے گناہ کیا سو (اُس کا وبال بھی) اسی کی جان پر ہے، اور آپ کا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہےo
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
محمدمبشرعلی (09-02-11), احمد بلال (10-02-11), رضی (09-02-11)
پرانا 09-02-11, 03:41 PM   #28
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,228
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default پارہ نمبر 25

پاره إِلَيْهِ يُرَدُّ

47. اسی (اللہ) کی طرف ہی وقتِ قیامت کے علم کا حوالہ دیا جاتا ہے، اور نہ پھل اپنے غلافوں سے نکلتے ہیں اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ وہ بچہ جنتی ہے مگر (یہ سب کچھ) اُس کے علم میں ہوتا ہے۔ اور جس دن وہ انہیں ندا فرمائے گا کہ میرے شریک کہاں ہیں، (تو) وہ (مشرک) کہیں گے: ہم آپ سے عرض کئے دیتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی بھی (کسی کے آپ کے ساتھ شریک ہونے پر) گواہ نہیں ہےo

48. وہ سب (بت) اُن سے غائب ہو جائیں گے جن کی وہ پہلے پوجا کیا کرتے تھے وہ سمجھ لیں گے کہ اُن کے لئے بھاگنے کی کوئی راہ نہیں رہیo

49. انسان بھلائی مانگنے سے نہیں تھکتا اور اگر اسے برائی پہنچ جاتی ہے تو بہت ہی مایوس، آس و امید توڑ بیٹھنے والا ہو جاتا ہےo

50. اور اگر ہم اسے اپنی جانب سے رحمت (کا مزہ) چکھا دیں اُس تکلیف کے بعد جو اُسے پہنچ چکی تھی تو وہ ضرور کہنے لگتا ہے کہ یہ تو میرا حق تھا اور میں نہیں سمجھتا کہ قیامت برپا ہونے والی ہے اور اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی جاؤں تو بھی اس کے حضور میرے لئے یقیناً بھلائی ہوگی سو ہم ضرور کفر کرنے والوں کو اُن کاموں سے آگاہ کر دیں گے جو انہوں نے انجام دیئے اور ہم انہیں ضرور سخت ترین عذاب (کا مزہ) چکھا دیں گےo

51. اور جب ہم انسان پر انعام فرماتے ہیں تو وہ منہ پھیر لیتا ہے اور اپنا پہلو بچا کر ہم سے دور ہو جاتا ہے اور جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو لمبی چوڑی دعا کرنے والا ہو جاتا ہےo

52. فرما دیجئے: بھلا تم بتاؤ اگر یہ (قرآن) اللہ ہی کی طرف سے (اُترا) ہو پھر تم اِس کا انکار کرتے رہو تو اُس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوگا جو پرلے درجہ کی مخالفت میں (پڑا) ہوo

53. ہم عنقریب انہیں اپنی نشانیاں اَطرافِ عالم میں اور خود اُن کی ذاتوں میں دِکھا دیں گے یہاں تک کہ اُن پر ظاہر ہو جائے گا کہ وہی حق ہے۔ کیا آپ کا رب (آپ کی حقانیت کی تصدیق کے لئے) کافی نہیں ہے کہ وہی ہر چیز پر گواہ (بھی) ہےo

54. جان لو کہ وہ لوگ اپنے رب کے حضور پیشی کی نسبت شک میں ہیں، خبردار! وہی (اپنے علم و قدرت سے) ہر چیز کا احاطہ فرمانے والا ہےo


سُورة الشُّوْرٰی

1. حا، میم (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)o

2. عین، سین، قاف (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)o

3. اسی طرح آپ کی طرف اور اُن (رسولوں) کی طرف جو آپ سے پہلے ہوئے ہیں اللہ وحی بھیجتا رہا ہے جو غالب ہے بڑی حکمت والا ہےo

4. جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے، اور وہ بلند مرتبت، بڑا باعظمت ہےo

5. قریب ہے آسمانی کرّے اپنے اوپر کی جانب سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور اُن لوگوں کے لئے جو زمین میں ہیں بخشش طلب کرتے رہتے ہیں۔ یاد رکھو! اللہ ہی بڑا بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہےo

6. اور جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو دوست و کارساز بنا رکھا ہے اللہ اُن (کے حالات) پر خوب نگہبان ہے اور آپ ان (کافروں) کے ذمّہ دار نہیں ہیںo

7. اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف عربی زبان میں قرآن کی وحی کی تاکہ آپ مکّہ والوں کو اور اُن لوگوں کو جو اِس کے اِردگرد رہتے ہیں ڈر سنا سکیں، اور آپ جمع ہونے کے اُس دن کا خوف دلائیں جس میں کوئی شک نہیں ہے۔ (اُس دن) ایک گروہ جنت میں ہوگا اور دوسرا گروہ دوزخ میں ہوگاo

8. اور اگر اللہ چاہتا تو اُن سب کو ایک ہی امّت بنا دیتا لیکن وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل فرماتا ہے، اور ظالموں کے لئے نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگارo

9. کیا انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو اولیاء بنا لیا ہے، پس اللہ ہی ولی ہے (اسی کے دوست ہی اولیاء ہیں)، اور وہی مُردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہی ہر چیز پر بڑا قادر ہےo

10. اور تم جس اَمر میں اختلاف کرتے ہو تو اُس کا فیصلہ اللہ ہی کی طرف (سے) ہوگا، یہی اللہ میرا رب ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوںo

11. آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود میں لانے والا ہے، اسی نے تمہارے لئے تمہاری جنسوں سے جوڑے بنائے اور چوپایوں کے بھی جوڑے بنائے اور تمہیں اسی (جوڑوں کی تدبیر) سے پھیلاتا ہے، اُس کے مانند کوئی چیز نہیں ہے اور وہی سننے والا دیکھنے والا ہےo

12. وہی آسمانوں اور زمین کی کُنجیوں کا مالک ہے (یعنی جس کے لئے وہ چاہے خزانے کھول دیتا ہے) وہ جس کے لئے چاہتا ہے رِزق و عطا کشادہ فرما دیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔ بیشک وہ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہےo

13. اُس نے تمہارے لئے دین کا وہی راستہ مقرّر فرمایا جس کا حکم اُس نے نُوح (علیہ السلام) کو دیا تھا اور جس کی وحی ہم نے آپ کی طرف بھیجی اور جس کا حکم ہم نے ابراھیم اور موسٰی و عیسٰی (علیھم السلام) کو دیا تھا (وہ یہی ہے) کہ تم (اِسی) دین پر قائم رہو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو، مشرکوں پر بہت ہی گراں ہے وہ (توحید کی بات) جس کی طرف آپ انہیں بلا رہے ہیں۔ اللہ جسے (خود) چاہتا ہے اپنے حضور میں (قربِ خاص کے لئے) منتخب فرما لیتا ہے، اور اپنی طرف (آنے کی) راہ دکھا دیتا ہے (ہر) اس شخص کو جو (اللہ کی طرف) قلبی رجوع کرتا ہےo

14. اور انہوں نے فرقہ بندی نہیں کی تھی مگر اِس کے بعد جبکہ اُن کے پاس علم آچکا تھا محض آپس کی ضِد (اور ہٹ دھرمی) کی وجہ سے، اور اگر آپ کے رب کی جانب سے مقررہ مدّت تک (کی مہلت) کا فرمان پہلے صادر نہ ہوا ہوتا تو اُن کے درمیان فیصلہ کیا جا چکا ہوتا، اور بیشک جو لوگ اُن کے بعد کتاب کے وارث بنائے گئے تھے وہ خود اُس کی نسبت فریب دینے والے شک میں (مبتلا) ہیںo

15. پس آپ اسی (دین) کے لئے دعوت دیتے رہیں اور جیسے آپ کو حکم دیا گیا ہے (اسی پر) قائم رہئے اور اُن کی خواہشات پر کان نہ دھریئے، اور (یہ) فرما دیجئے: جو کتاب بھی اللہ نے اتاری ہے میں اُس پر ایمان رکھتا ہوں، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل و انصاف کروں۔ اللہ ہمارا (بھی) رب ہے اور تمہارا (بھی) رب ہے، ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال، ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی بحث و تکرار نہیں، اللہ ہم سب کو جمع فرمائے گا اور اسی کی طرف (سب کا) پلٹنا ہےo

16. اور جو لوگ اللہ (کے دین کے بارے) میں جھگڑتے ہیں بعد اِس کے کہ اسے قبول کر لیا گیا اُن کی بحث و تکرار اُن کے رب کے نزدیک باطل ہے اور اُن پر (اللہ کا) غضب ہے اور اُن کے لئے سخت عذاب ہےo

17. اللہ وہی ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور (عدل و انصاف کا) ترازو (بھی اتارا)، اور آپ کو کس نے خبردار کیا، شاید قیامت قریب ہی ہوo

18. اِس (قیامت) میں وہ لوگ جلدی مچاتے ہیں جو اِس پر ایمان (ہی) نہیں رکھتے اور جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ اِس کا آنا حق ہے، جان لو! جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں وہ پرلے درجہ کی گمراہی میں ہیںo

19. اللہ اپنے بندوں پر بڑا لطف و کرم فرمانے والا ہے، جسے چاہتا ہے رِزق و عطا سے نوازتا ہے اور وہ بڑی قوت والا بڑی عزّت والا ہےo

20. جو شخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ہم اُس کے لئے اُس کی کھیتی میں مزید اضافہ فرما دیتے ہیں اور جو شخص دنیا کی کھیتی کا طالب ہوتا ہے (تو) ہم اُس کو اس میں سے کچھ عطا کر دیتے ہیں، پھر اُس کے لئے آخرت میں کچھ حصہ نہیں رہتاo

21. کیا اُن کے لئے کچھ (ایسے) شریک ہیں جنہوں نے اُن کے لئے دین کا ایسا راستہ مقرر کر دیا ہو جس کا اللہ نے حکم نہیں دیا تھا، اور اگر فیصلہ کا فرمان (صادر) نہ ہوا ہوتا تو اُن کے درمیان قصہ چکا دیا جاتا، اور بیشک ظالموں کے لئے دردناک عذاب ہےo

22. آپ ظالموں کو اُن (اعمال) سے ڈرنے والا دیکھیں گے جو انہوں نے کما رکھے ہیں اور وہ (عذاب) اُن پر واقع ہو کر رہے گا، اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے وہ بہشت کے چَمنوں میں ہوں گے، اُن کے لئے اُن کے رب کے پاس وہ (تمام نعمتیں) ہوں گی جن کی وہ خواہش کریں گے، یہی تو بہت بڑا فضل ہےo

23. یہ وہ (انعام) ہے جس کی خوشخبری اللہ ایسے بندوں کو سناتا ہے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے، فرما دیجئے: میں اِس (تبلیغِ رسالت) پر تم سے کوئی اُجرت نہیں مانگتا مگر (اپنی اور اللہ کی) قرابت و قربت سے محبت (چاہتا ہوں) اور جو شخص نیکی کمائے گا ہم اس کے لئے اس میں اُخروی ثواب اور بڑھا دیں گے۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے والا قدر دان ہےo

24. کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ پر جھوٹا بہتان تراشا ہے، سو اگر اللہ چاہے توآپ کے قلبِ اطہر پر (صبر و استقامت کی) مُہر ثبت فرما دے (تاکہ آپ کو اِن کی بیہودہ گوئی کا رنج نہ پہنچے)، اور اﷲ باطل کو مٹا دیتا ہے اور اپنے کلمات سے حق کو ثابت رکھتا ہے۔ بیشک وہ سینوں کی باتوں کو خوب جاننے والا ہےo

25. اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور لغزشوں سے درگزر فرماتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو (اسے) جانتا ہےo

26. اور اُن لوگوں کی دعا قبول فرماتا ہے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے اور اپنے فضل سے انہیں (اُن کی دعا سے بھی) زیادہ دیتا ہے، اور جو کافر ہیں اُن کے لئے سخت عذاب ہےo

27. اور اگر اللہ اپنے تمام بندوں کے لئے روزی کشادہ فرما دے تو وہ ضرور زمین میں سرکشی کرنے لگیں لیکن وہ (ضروریات کے) اندازے کے ساتھ جتنی چاہتا ہے اتارتا ہے، بیشک وہ اپنے بندوں (کی ضرورتوں) سے خبردار ہے خوب دیکھنے والا ہےo

28. اور وہ ہی ہے جو بارش برساتا ہے اُن کے مایوس ہو جانے کے بعد اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے، اور وہ کار ساز بڑی تعریفوں کے لائق ہےo

29. اور اُس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش ہے اور اُن چلنے والے (جانداروں) کا (پیدا کرنا) بھی جو اُس نے اِن میں پھیلا دیئے ہیں، اور وہ اِن (سب) کے جمع کرنے پر بھی جب چاہے گا بڑا قادر ہےo

30. اور جو مصیبت بھی تم کو پہنچتی ہے تو اُس (بد اعمالی) کے سبب سے ہی (پہنچتی ہے) جو تمہارے ہاتھوں نے کمائی ہوتی ہے حالانکہ بہت سی(کوتاہیوں) سے تو وہ درگزر بھی فرما دیتا ہےo

31. اور تم (اپنی تدبیروں سے) اللہ کو (پوری) زمین میں عاجِز نہیں کر سکتے اور اللہ کو چھوڑ کر (بتوں میں سے) نہ کوئی تمہارا حامی ہوگا اور نہ مددگارo

32. اور اُس کی نشانیوں میں سے پہاڑوں کی طرح اونچے بحری جہاز بھی ہیںo

33. اگر وہ چاہے ہوا کو بالکل ساکِن کر دے تو کشتیاں سطحِ سمندر پر رُکی رہ جائیں، بیشک اس میں ہر صبر شعار و شکر گزار کے لئے نشانیاں ہیںo

34. یا اُن (جہازوں اور کشتیوں) کو اُن کے اعمالِ (بد) کے باعث جو انہوں نے کما رکھے ہیں غرق کر دے، مگر وہ بہت (سی خطاؤں) کو معاف فرما دیتا ہےo

35. اور ہماری آیتوں میں جھگڑا کرنے والے جان لیں کہ اُن کے لئے بھاگ نکلنے کی کوئی راہ نہیں ہےo

36. سو تمہیں جو کچھ بھی (مال و متاع) دیا گیا ہے وہ دنیوی زندگی کا (چند روزہ) فائدہ ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور پائیدار ہے، (یہ) اُن لوگوں کے لئے ہے جو ایمان لاتے اور اپنے رب پر توکّل کرتے ہیںo

37. اور جو لوگ کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں اور جب انہیں غصّہ آتا ہے تو معاف کر دیتے ہیںo

38. اور جو لوگ اپنے رب کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور اُن کا فیصلہ باہمی مشورہ سے ہوتا ہے اور اس مال میں سے جو ہم نے انہیں عطا کیا ہے خرچ کرتے ہیںo

39. اور وہ لوگ کہ جب انہیں (کسی ظالم و جابر) سے ظلم پہنچتا ہے تو (اس سے) بدلہ لیتے ہیںo

40. اور برائی کا بدلہ اسی برائی کی مِثل ہوتا ہے، پھر جِس نے معاف کر دیا اور (معافی کے ذریعہ) اصلاح کی تو اُس کا اجر اللہ کے ذمّہ ہے۔ بیشک وہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتاo

41. اور یقیناً جو شخص اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد بدلہ لے تو ایسے لوگوں پر (ملامت و گرفت) کی کوئی راہ نہیں ہےo

42. بس (ملامت و گرفت کی) راہ صرف اُن کے خلاف ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی و فساد پھیلاتے ہیں، ایسے ہی لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہےo

43. اور یقیناً جو شخص صبر کرے اور معاف کر دے تو بیشک یہ بلند ہمت کاموں میں سے ہےo

44. اور جسے اللہ گمراہ ٹھہرا دے تو اُس کے لئے اُس کے بعد کوئی کارساز نہیں ہوتا، اور آپ ظالموں کو دیکھیں گے کہ جب وہ عذابِ (آخرت) دیکھ لیں گے (تو) کہیں گے: کیا (دنیا میں) پلٹ جانے کی کوئی سبیل ہےo

45. اور آپ انہیں دیکھیں گے کہ وہ دوزخ پر ذلّت اور خوف کے ساتھ سر جھکائے ہوئے پیش کئے جائیں گے (اسے چوری چوری) چھپی نگاہوں سے دیکھتے ہوں گے، اور ایمان والے کہیں گے: بیشک نقصان اٹھانے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو اور اپنے اہل و عیال کو قیامت کے دن خسارے میں ڈال دیا، یاد رکھو! بیشک ظالم لوگ دائمی عذاب میں (مبتلا) رہیں گےo

46. اور اُن (کافروں) کے لئے کوئی حمایتی نہیں ہوں گے جو اللہ کے مقابل اُن کی مدد کر سکیں، اور جسے اللہ گمراہ ٹھہرا دیتا ہے تو اس کے لئے (ہدایت کی) کوئی راہ نہیں رہتیo

47. تم لوگ اپنے رب کا حکم قبول کر لو قبل اِس کے کہ وہ دن آجائے جو اللہ کی طرف سے ٹلنے والا نہیں ہے، نہ تمہارے لئے اُس دن کوئی جائے پناہ ہوگی اور نہ تمہارے لئے کوئی جائے انکارo

48. پھر (بھی) اگر وہ رُوگردانی کریں تو ہم نے آپ کو اُن پر (تباہی سے بچانے کا) ذمّہ دار بنا کر نہیں بھیجا۔ آپ پر تو صرف (پیغامِ حق) پہنچا دینے کی ذمّہ داری ہے، اور بیشک جب ہم انسان کو اپنی بارگاہ سے رحمت (کا ذائقہ) چکھاتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہو جاتا ہے اور اگر انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے اُن کے اپنے ہاتھوں سے آگے بھیجے ہوئے اعمالِ (بد) کے باعث، تو بیشک انسان بڑا ناشکر گزار (ثابت ہوتا) ہےo

49. اللہ ہی کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے، وہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے لڑکے بخشتا ہےo

50. یا انہیں بیٹے اور بیٹیاں (دونوں) جمع فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ ہی بنا دیتا ہے، بیشک وہ خوب جاننے والا بڑی قدرت والا ہےo

51. اور ہر بشر کی (یہ) مجال نہیں کہ اللہ اس سے (براہِ راست) کلام کرے مگر یہ کہ وحی کے ذریعے (کسی کو شانِ نبوت سے سرفراز فرما دے) یا پردے کے پیچھے سے (بات کرے جیسے موسٰی علیہ السلام سے طورِ سینا پر کی) یا کسی فرشتے کو فرستادہ بنا کر بھیجے اور وہ اُس کے اِذن سے جو اللہ چاہے وحی کرے (الغرض عالمِ بشریت کے لئے خطابِ اِلٰہی کا واسطہ اور وسیلہ صرف نبی اور رسول ہی ہوگا)، بیشک وہ بلند مرتبہ بڑی حکمت والا ہےo

52. سو اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے روحِ (قلوب و ارواح) کی وحی فرمائی (جو قرآن ہے)، اور آپ (وحی سے قبل اپنی ذاتی درایت و فکر سے) نہ یہ جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور نہ ایمان (کے شرعی احکام کی تفصیلات کو ہی جانتے تھے جو بعد میں نازل اور مقرر ہوئیں)(1) مگر ہم نے اسے نور بنا دیا۔ ہم اِس (نور) کے ذریعہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت سے نوازتے ہیں، اور بیشک آپ ہی صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت عطا فرماتے ہیں(2)o

1:- آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شانِ اُمّیت کی طرف اشارہ ہے تاکہ کفّار آپ کی زبان سے قرآن کی آیات اور ایمان کی تفصیلات سن کر یہ بدگمانی نہ پھیلائیں کہ یہ سب کچھ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ذاتی علم اور تفکر سے گھڑ لیا ہے کچھ نازل نہیں ہوا، سو یہ اَز خود نہ جاننا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عظیم معجزہ بنا دیا گیا۔ 2:- اے حبیب! آپ کا ہدایت دینا اور ہمارا ہدایت دینا دونوں کی حقیقت ایک ہی ہے اور صرف انہی کو ہدایت نصیب ہوتی ہے جو اس حقیقت کی معرفت اور اس سے وابستگی رکھتے ہیں۔
53. (یہ صراطِ مستقیم) اسی اللہ ہی کا راستہ ہے جو آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا مالک ہے۔ جان لو! کہ سارے کام اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیںo


سُورة الزُّخْرُف

1. حا، میم (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)o

2. قسم ہے روشن کتاب کیo

3. بیشک ہم نے اسے عربی (زبان) کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم لوگ سمجھ سکوo

4. بیشک وہ ہمارے پاس سب کتابوں کی اصل (لوحِ محفوظ) میں ثَبت ہے یقیناً (یہ سب کتابوں پر) بلند مرتبہ بڑی حکمت والا ہےo

5. اور کیا ہم اس نصیحت کو تم سے اِس بنا پر روک دیں کہ تم حد سے گزر جانے والی قوم ہوo

6. اور پہلے لوگوں میں ہم نے کتنے ہی پیغمبر بھیجے تھےo

7. اور کوئی نبی اُن کے پاس نہیں آتا تھا مگر وہ اُس کا مذاق اڑایا کرتے تھےo

8. اور ہم نے اِن (کفّارِ مکہ) سے زیادہ زور آور لوگوں کو ہلاک کر دیا اور اگلے لوگوں کا حال (کئی جگہ پہلے) گزر چکاo

9. اور اگر آپ اُن سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کِس نے پیدا کیا تو وہ یقیناً کہیں گے کہ انہیں غالب، علم والے (رب) نے پیدا کیا ہےo

10. جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا اور اس میں تمہارے لئے راستے بنائے تاکہ تم منزلِ مقصود تک پہنچ سکوo

11. اور جس نے آسمان سے اندازۂ (ضرورت) کے مطابق پانی اتارا، پھر ہم نے اس سے مُردہ شہر کو زندہ کر دیا، اسی طرح تم (بھی مرنے کے بعد زمین سے) نکالے جاؤ گےo

12. اور جس نے تمام اقسام و اصناف کی مخلوق پیدا کی اور تمہارے لئے کشتیاں اور بحری جہاز بنائے اور چوپائے بنائے جن پر تم (بحر و بر میں) سوار ہوتے ہوo

13. تاکہ تم ان کی پشتوں (یا نشستوں) پر درست ہو کر بیٹھ سکو، پھر تم اپنے رب کی نعمت کو یاد کرو، جب تم سکون سے اس (سواری کی نشست) پر بیٹھ جاؤ تو کہو: پاک ہے وہ ذات جس نے اِس کو ہمارے تابع کر دیا حالانکہ ہم اِسے قابو میں نہیں لا سکتے تھےo

14. اور بیشک ہم اپنے رب کی طرف ضرور لوٹ کر جانے والے ہیںo

15. اور اُن (مشرکوں) نے اس کے بندوں میں سے (بعض کو اس کی اولاد قرار دے کر) اس کے جزو بنا دیئے، بیشک انسان صریحاً بڑا ناشکر گزار ہےo

16. (اے کافرو! اپنے پیمانۂ فکر کے مطابق یہی جواب دو کہ) کیا اس نے اپنی مخلوقات میں سے (خود اپنے لئے تو) بیٹیاں بنا رکھی ہیں اور تمہیں بیٹوں کے ساتھ مختص کر رکھا ہےo

17. حالانکہ جب ان میں سے کسی کو اُس (کے گھر میں بیٹی کی پیدائش) کی خبر دی جاتی ہے جسے انہوں نے (خدائے) رحمان کی شبیہ بنا رکھا ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور غم و غصّہ سے بھر جاتا ہےo

18. اور کیا (اللہ اپنے امور میں شراکت و معاونت کے لئے اسے اولاد بنائے گا) جو زیور و زینت میں پرورش پائے اور (نرمیٔ طبع اور شرم و حیاء کے باعث) جھگڑے میں واضح (رائے کا اظہار کرنے والی بھی) نہ ہوo

19. اور انہوں نے فرشتوں کو جو کہ (خدائے) رحمان کے بندے ہیں عورتیں قرار دیا ہے، کیا وہ اُن کی پیدائش پر حاضر تھے؟ (نہیں، تو) اب اُن کی گواہی لکھ لی جائے گی اور (روزِ قیامت) اُن سے باز پُرس ہوگیo

20. اور وہ کہتے ہیں کہ اگر رحمان چاہتا تو ہم اِن (بتوں) کی پرستش نہ کرتے، انہیں اِس کا (بھی) کچھ علم نہیں ہے وہ محض اَٹکل سے جھوٹی باتیں کرتے ہیںo

21. کیا ہم نے انہیں اس سے پہلے کوئی کتاب دے رکھی ہے کہ جسے وہ سند کے طور پر تھامے ہوئے ہیںo

22. (نہیں) بلکہ وہ کہتے ہیں: بیشک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک ملّت (و مذہب) پر پایا اور یقیناً ہم انہی کے نقوشِ قدم پر (چلتے ہوئے) ہدایت یافتہ ہیںo

23. اور اسی طرح ہم نے کسی بستی میں آپ سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے وڈیروں اور خوشحال لوگوں نے کہا: بیشک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ و مذہب پر پایا اور ہم یقیناً انہی کے نقوشِ قدم کی اقتداء کرنے والے ہیںo

24. (پیغمبر نے) کہا: اگرچہ میں تمہارے پاس اُس (طریقہ) سے بہتر ہدایت کا (دین اور) طریقہ لے آؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا تھا، تو انہوں نے کہا: جو کچھ (بھی) تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اُس کے منکر ہیںo

25. سو ہم نے اُن سے بدلہ لے لیا پس آپ دیکھئے کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہواo

26. اور جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے (حقیقی چچا مگر پرورش کی نسبت سے) باپ اور اپنی قوم سے فرمایا: بیشک میں اُن سب چیزوں سے بیزار ہوں جنہیں تم پوجتے ہوo

27. بجز اس ذات کے جس نے مجھے پیدا کیا، سو وہی مجھے عنقریب راستہ دکھائے گاo

28. اور ابراہیم (علیہ السلام) نے اس (کلمۂ توحید) کو اپنی نسل و ذریّت میں باقی رہنے والا کلمہ بنا دیا تاکہ وہ (اللہ کی طرف) رجوع کرتے رہیںo

29. بلکہ میں نے انہیں اور اِن کے آباء و اجداد کو (اسی ابراہیم علیہ السلام کے تصدّق اور واسطہ سے اِس دنیا میں) فائدہ پہنچایا ہے یہاں تک کہ اِن کے پاس حق (یعنی قرآن) اور واضح و روشن بیان والا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آیاo

30. اور جب اُن کے پاس حق آپہنچا تو کہنے لگے: یہ جادو ہے اور ہم اس کے منکر ہیںo

31. اور کہنے لگے: یہ قرآن (مکّہ اور طائف کی) دو بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی (یعنی کسی وڈیرے، سردار اور مال دار) پر کیوں نہیں اتارا گیاo

32. کیا آپ کے رب کی رحمتِ (نبوّت) کو یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں؟ ہم اِن کے درمیان دنیوی زندگی میں ان کے (اسبابِ) معیشت کو تقسیم کرتے ہیں اور ہم ہی ان میں سے بعض کو بعض پر (وسائل و دولت میں) درجات کی فوقیت دیتے ہیں، (کیا ہم یہ اس لئے کرتے ہیں) کہ ان میں سے بعض (جو امیر ہیں) بعض (غریبوں) کا مذاق اڑائیں (یہ غربت کا تمسخر ہے کہ تم اس وجہ سے کسی کو رحمتِ نبوت کا حق دار ہی نہ سمجھو)، اور آپ کے رب کی رحمت اس (دولت) سے بہتر ہے جسے وہ جمع کرتے (اور گھمنڈ کرتے) ہیںo

33. اور اگر یہ نہ ہوتا کہ سب لوگ (کفر پر جمع ہو کر) ایک ہی ملّت بن جائیں گے تو ہم (خدائے) رحمان کے ساتھ کفر کرنے والے تمام لوگوں کے گھروں کی چھتیں (بھی) چاندی کی کر دیتے اور سیڑھیاں (بھی) جن پر وہ چڑھتے ہیںo

34. اور (اسی طرح) اُن کے گھروں کے دروازے (بھی چاندی کے کر دیتے) اور تخت (بھی) جن پر وہ مسند لگاتے ہیںo

35. اور (چاندی کے اوپر) سونے اور جواہرات کی آرائش بھی (کر دیتے)، اور یہ سب کچھ دنیوی زندگی کی عارضی اور حقیر متاع ہے، اور آخرت (کا حُسن و زیبائش) آپ کے رب کے پاس ہے (جو) صرف پرہیزگاروں کے لئے ہےo

36. اور جو شخص (خدائے) رحمان کی یاد سے صرف نظر کر لے تو ہم اُس کے لئے ایک شیطان مسلّط کر دیتے ہیں جو ہر وقت اس کے ساتھ جڑا رہتا ہےo

37. اور وہ (شیاطین) انہیں (ہدایت کے) راستہ سے روکتے ہیں اور وہ یہی گمان کئے رہتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیںo

38. یہاں تک کہ جب وہ ہمارے پاس آئے گا تو (اپنے ساتھی شیطان سے) کہے گا: اے کاش! میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا پس (تو) بہت ہی برا ساتھی تھاo

39. اور آج کے دن تمہیں (یہ آرزو کرنا) سود مند نہیں ہوگا جبکہ تم (عمر بھر) ظلم کرتے رہے، (آج) تم سب عذاب میں شریک ہوo

40. پھر کیا آپ بہروں کو سنائیں گے یا اندھوں کو اور اُن لوگوں کو جو کھلی گمراہی میں ہیں راہِ ہدایت دکھائیں گےo

41. پس اگر ہم آپ کو (دنیا سے) لے جائیں تو تب بھی ہم اِن سے بدلہ لینے والے ہیںo

42. یا ہم آپ کو وہ (عذاب ہی) دکھا دیں جس کا ہم نے اُن سے وعدہ کیا ہے، سو بے شک ہم اُن پر کامل قدرت رکھنے والے ہیںo

43. پس آپ اس (قرآن) کو مضبوطی سے تھامے رکھیئے جو آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے، بیشک آپ سیدھی راہ پر (قائم) ہیںo

44. اور یقیناً یہ (قرآن) آپ کے لئے اور آپ کی امت کے لئے عظیم شرف ہے، اور (لوگو!) عنقریب تم سے پوچھا جائے گا (کہ تم نے قرآن کے ساتھ کتنا تعلق استوار کیا)o

45. اور جو رسول ہم نے آپ سے پہلے بھیجے آپ اُن سے پوچھئے کہ کیا ہم نے (خدائے) رحمان کے سوا کوئی اور معبود بنائے تھے کہ اُن کی پرستش کی جائےo

46. اور یقیناً ہم نے موسٰی(علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا تو انہوں نے کہا: بیشک میں سب جہانوں کے پروردگار کا رسول ہوںo

47. پھر جب وہ ہماری نشانیاں لے کر اُن کے پاس آئے تو وہ اسی وقت ان (نشانیوں) پر ہنسنے لگےo

48. اور ہم انہیں کوئی نشانی نہیں دکھاتے تھے مگر (یہ کہ) وہ اپنے سے پہلی مشابہ نشانی سے کہیں بڑھ کر ہوتی تھی اور (بالآخر) ہم نے انہیں (کئی بار) عذاب میں پکڑا تاکہ وہ باز آجائیںo

49. اور وہ کہنے لگے: اے جادوگر! تو اپنے رب سے ہمارے لئے اُس عہد کے مطابق دعا کر جو اُس نے تجھ سے کر رکھا ہے (تو) بیشک ہم ہدایت یافتہ ہو جائیں گےo

50. پھر جب ہم نے (دعائے موسٰی سے) وہ عذاب اُن سے ہٹا دیا تو وہ فوراً عہد شکنی کرنے لگےo

51. اور فرعون نے اپنی قوم میں (فخر سے) پکارا (اور) کہا: اے میری قوم! کیا ملکِ مصر میرے قبضہ میں نہیں ہے اور یہ نہریں جو میرے (محلّات کے) نیچے سے بہہ رہی ہیں (کیا میری نہیں ہیں؟) سو کیا تم دیکھتے نہیں ہوo

52. کیا (یہ حقیقت نہیں کہ) میں اِس شخص سے بہتر ہوں جو حقیر و بے وقعت ہے اور صاف طریقے سے گفتگو بھی نہیں کر سکتاo

53. پھر (اگر یہ سچا رسول ہے تو) اِس پر (پہننے کے لئے) سونے کے کنگن کیوں نہیں اتارے جاتے یا اِس کے ساتھ فرشتے جمع ہو کر (پے در پے) کیوں نہیں آجاتےo

54. پس اُس نے (اِن باتوں سے) اپنی قوم کو بے وقوف بنا لیا، سو اُن لوگوں نے اُس کا کہنا مان لیا، بیشک وہ لوگ ہی نافرمان قوم تھےo

55. پھر جب انہوں نے (موسٰی علیہ السلام کی شان میں گستاخی کر کے) ہمیں شدید غضبناک کر دیا (تو) ہم نے اُن سے بدلہ لے لیا اور ہم نے اُن سب کو غرق کر دیاo

56. سو ہم نے انہیں گیا گزرا کر دیا اور پیچھے آنے والوں کے لئے نمونۂ عبرت بنا دیاo

57. اور جب (عیسٰی) ابنِ مریم (علیہما السلام) کی مثال بیان کی جائے تو اس وقت آپ کی قوم (کے لوگ) اس سے (خوشی کے مارے) ہنستے ہیںo

58. اور کہتے ہیں: آیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ (عیسٰی علیہ السلام)، وہ آپ سے یہ بات محض جھگڑنے کے لئے کرتے ہیں، بلکہ وہ لوگ بڑے جھگڑالو ہیںo

59. وہ (عیسٰی علیہ السلام) محض ایک (برگزیدہ) بندہ تھے جن پر ہم نے انعام فرمایا اور ہم نے انہیں بنی اسرائیل کے لئے (اپنی قدرت کا) نمونہ بنایا تھاo

60. اور اگر ہم چاہتے تو ہم تمہارے بدلے زمین میں فرشتے پیدا کر دیتے جو تمہارے جانشین ہوتےo

61. اور بیشک وہ (عیسٰی علیہ السلام جب آسمان سے نزول کریں گے تو قربِ) قیامت کی علامت ہوں گے، پس تم ہرگز اس میں شک نہ کرنا اور میری پیروی کرتے رہنا، یہ سیدھا راستہ ہےo

62. اور شیطان تمہیں ہرگز (اس راہ سے) روکنے نہ پائے، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہےo

63. اور جب عیسٰی (علیہ السلام) واضح نشانیاں لے کر آئے تو انہوں نے کہا: یقیناً میں تمہارے پاس حکمت و دانائی لے کر آیا ہوں اور (اس لئے آیا ہوں) کہ بعض باتیں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو تمہارے لئے خوب واضح کر دوں، سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کروo

64. بیشک اللہ ہی میرا (بھی) رب ہے اور تمہارا (بھی) رب ہے، پس اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہےo

65. پس اُن کے درمیان (آپس میں ہی) مختلف فرقے ہو گئے، سو جن لوگوں نے ظلم کیا اُن کے لئے دردناک دن کے عذاب کی خرابی ہےo

66. یہ لوگ کیا انتظار کر رہے ہیں (بس یہی) کہ قیامت اُن پر اچانک آجائے اور انہیں خبر بھی نہ ہوo

67. سارے دوست و احباب اُس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے سوائے پرہیزگاروں کے (انہی کی دوستی اور ولایت کام آئے گی)o

68. (اُن سے فرمایا جائے گا): اے میرے (مقرّب) بندو! آج کے دن تم پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ ہی تم غم زدہ ہو گےo

69. (یہ) وہ لوگ ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور ہمیشہ (ہمارے) تابعِ فرمان رہےo

70. تم اور تمہارے ساتھ جڑے رہنے والے ساتھی٭ (سب) جنت میں داخل ہو جاؤ (جنت کی نعمتوں، راحتوں اور لذّتوں کے ساتھ) تمہاری تکریم کی جائے گیo
٭ مفسرین کرام نے آیتِ کریمہ میں اَزوَاجُکُم کا معنی بیویوں کے علاوہ ”قریبی ساتھی“ بھی کیا ہے جیسے امام قرطبی نے تفسیر الجامع لاحکام القرآن، 14: 11 میں، امام ابن کثیر نے تفسیر القرآن العظیم، 4: 134 میں، اور امام شوکانی نے تفسیر فتح القدیر، 4: 563 میں بیان کیا ہے۔ اس بناء پر ازواج کا معنی بیویوں کی بجائے ”ساتھ جڑے رہنے والے ساتھی“ کیا ہے۔
71. ان پر سونے کی پلیٹوں اور گلاسوں کا دور چلایا جائے گا اور وہاں وہ سب چیزیں (موجود) ہوں گی جن کو دل چاہیں گے اور (جن سے) آنکھیں راحت پائیں گی اور تم وہاں ہمیشہ رہو گےo

72. اور (اے پرہیزگارو!) یہ وہ جنت ہے جس کے تم مالک بنا دیئے گئے ہو، اُن (اعمال) کے صلہ میں جو تم انجام دیتے تھےo

73. تمہارے لئے اس میں بکثرت پھل اور میوے ہیں تم ان میں سے کھاتے رہو گےo

74. بیشک مجرم لوگ دوزخ کے عذاب میں ہمیشہ رہنے والے ہیںo

75. جو اُن سے ہلکا نہیں کیا جائے گا اور وہ اس میں ناامید ہو کر پڑے رہیں گےo

76. اور ہم نے اُن پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ خود ہی ظلم کرنے والے تھےo

77. اور وہ (داروغۂ جہنّم کو) پکاریں گے: اے مالک! آپ کا رب ہمیں موت دے دے (تو اچھا ہے)۔ وہ کہے گا کہ (تم اب اسی حال میں ہی) ہمیشہ رہنے والے ہوo

78. بیشک ہم تمہارے پاس حق لائے لیکن تم میں سے اکثر لوگ حق کو ناپسند کرتے تھےo

79. کیا انہوں نے (یعنی کفّارِ مکہ نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف کوئی تدبیر) پختہ کر لی ہے تو ہم (بھی) پختہ فیصلہ کرنے والے ہیںo

80. کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم ان کی پوشیدہ باتیں اور اُن کی سرگوشیاں نہیں سنتے؟ کیوں نہیں (ضرور سنتے ہیں)! اور ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے بھی اُن کے پاس لکھ رہے ہوتے ہیںo

81. فرما دیجئے کہ اگر (بفرضِ محال) رحمان کے (ہاں) کوئی لڑکا ہوتا (یا اولاد ہوتی) تو میں سب سے پہلے (اس کی) عبادت کرنے والا ہوتاo

82. آسمانوں اور زمین کا پروردگار، عرش کا مالک پاک ہے اُن باتوں سے جو یہ بیان کرتے ہیںo

83. سو آپ انہیں چھوڑ دیجئے، بے کار بحثوں میں پڑے رہیں اور لغو کھیل کھیلتے رہیں حتٰی کہ اپنے اس دن کو پا لیں گے جس کا اُن سے وعدہ کیا جا رہا ہےo

84. اور وہی ذات آسمان میں معبود ہے اور زمین میں (بھی) معبود ہے، اور وہ بڑی حکمت والا بڑے علم والا ہےo

85. اور وہ ذات بڑی بابرکت ہے جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے اور (اُن کی بھی) جو کچھ اِن کے درمیان ہے، اور (وقتِ) قیامت کا علم (بھی) اس کے پاس ہے، اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گےo

86. اور جن کی یہ (کافر لوگ) اللہ کے سوا پرستش کرتے ہیں وہ (تو) شفاعت کا (کوئی) اختیار نہیں رکھتے مگر (ان کے برعکس شفاعت کا اختیار ان کو حاصل ہے) جنہوں نے حق کی گواہی دی اور وہ اسے (یقین کے ساتھ) جانتے بھی تھےo

87. اور اگر آپ اِن سے دریافت فرمائیں کہ انہیں کس نے پیدا کیا ہے تو ضرور کہیں گے: اللہ نے، پھر وہ کہاں بھٹکتے پھرتے ہیںo

88. اور اُس (حبیبِ مکرّم) کے (یوں) کہنے کی قسم کہ یا ربّ! بیشک یہ ایسے لوگ ہیں جو ایمان (ہی) نہیں لاتےo

89. سو (میرے محبوب!) آپ اُن سے چہرہ پھیر لیجئے اور (یوں) کہہ دیجئے: (بس ہمارا) سلام، پھر وہ جلد ہی (اپنا حشر) معلوم کر لیں گےo


سُورة الدُّخَان

1. حا، میم (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)o

2. اس روشن کتاب کی قسمo

3. بیشک ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں اتارا ہے بیشک ہم ڈر سنانے والے ہیںo

4. اس (رات) میں ہر حکمت والے کام کا (جدا جدا) فیصلہ کر دیا جاتا ہےo

5. ہماری بارگاہ کے حکم سے، بیشک ہم ہی بھیجنے والے ہیںo

6. (یہ) آپ کے رب کی جانب سے رحمت ہے، بیشک وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہےo

7. آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ اِن کے درمیان ہے (اُس کا) پروردگار ہے، بشرطیکہ تم یقین رکھنے والے ہوo

8. اُس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی زندگی دیتا اور موت دیتا ہے (وہ) تمہارا (بھی) رب ہے اور تمہارے اگلے آباء و اجداد کا (بھی) رب ہےo

9. بلکہ وہ شک میں پڑے کھیل رہے ہیںo

10. سو آپ اُس دن کا انتظار کریں جب آسمان واضح دھواں ظاہر کر دے گاo

11. جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا (یعنی ہر طرف محیط ہو جائے گا)، یہ دردناک عذاب ہےo

12. (اس وقت کہیں گے اے ہمارے رب! تو ہم سے (اس) عذاب کو دور کر دے، بیشک ہم ایمان لاتے ہیںo

13. اب اُن کا نصیحت ماننا کہاں (مفید) ہو سکتا ہے حالانکہ ان کے پاس واضح بیان فرمانے والے رسول آچکےo

14. پھر انہوں نے اس سے منہ پھیر لیا اور (گستاخی کرتے ہوئے) کہنے لگے: (وہ) سکھایا ہوا دیوانہ ہےo

15. بیشک ہم تھوڑا سا عذاب دور کئے دیتے ہیں تم یقیناً (وہی کفر) دہرانے لگو گےo

16. جس دن ہم بڑی سخت گرفت کریں گے تو (اس دن) ہم یقیناً انتقام لے ہی لیں گےo

17. اور در حقیقت ہم نے اِن سے پہلے قومِ فرعون کی (بھی) آزمائش کی تھی اور اُن کے پاس بزرگی والے رسول (موسٰی علیہ السلام) آئے تھےo

18. (انہوں نے کہا تھا) کہ تم بندگانِ خدا (یعنی بنی اسرائیل) کو میرے حوالے کر دو، بیشک میں تمہاری قیادت و رہبری کے لئے امانت دار رسول ہوںo

19. اور یہ کہ اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو، میں تمہارے پاس روشن دلیل لے کر آیا ہوںo

20. اور بیشک میں نے اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لے لی ہے اس سے کہ تم مجھے سنگ سار کروo

21. اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے کنارہ کش ہو جاؤo

22. پھر انہوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ بیشک یہ لوگ مجرم قوم ہیںo

23. (ارشاد ہوا پھر تم میرے بندوں کو راتوں رات لے کر چلے جاؤ بیشک تمہارا تعاقب کیا جائے گاo

24. اور (خود گزر جانے کے بعد) دریا کو ساکن اور کھلا چھوڑ دینا، بیشک وہ ایسا لشکر ہے جسے ڈبو دیا جائے گاo

25. وہ کتنے ہی باغات اور چشمے چھوڑ گئےo

26. اور زراعتیں اور عالی شان عمارتیںo

27. اور نعمتیں (اور راحتیں) جن میں وہ عیش کیا کرتے تھےo

28. اسی طرح ہوا، اور ہم نے اِن سب کا دوسرے لوگوں کو وارث بنا دیاo

29. پھر نہ (تو) اُن پر آسمان اور زمین روئے اور نہ ہی انہیں مہلت دی o

3گئی0. اور واقعتہً ہم نے بنی اسرائیل کو ذِلّت انگیز عذاب سے نجات بخشیo

31. فرعون سے، بیشک وہ بڑا سرکش، حد سے گزرنے والوں میں سے تھاo

32. اور بیشک ہم نے ان (بنی اسرائیل) کو علم کی بنا پر ساری دنیا (کی معاصر تہذیبوں) پر چُن لیا تھاo

33. اور ہم نے انہیں وہ نشانیاں عطا فرمائیں جن میں ظاہری نعمت (اور صریح آزمائش) تھیo

34. بیشک وہ لوگ کہتے ہیںo

35. کہ ہماری پہلی موت کے سوا (بعد میں) کچھ نہیں ہے اور ہم (دوبارہ) نہیں اٹھائے جائیں گےo

36. سو تم ہمارے باپ دادا کو (زندہ کر کے) لے آؤ، اگر تم سچے ہوo

37. بھلا یہ لوگ بہتر ہیں یا (بادشاہِ یمن اسعد ابوکریب) تُبّع (الحمیری) کی قوم اور وہ لوگ جو اِن سے پہلے تھے، ہم نے اُن (سب) کو ہلاک کر ڈالا تھا، بیشک وہ لوگ مجرم تھےo

38. اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ اِن کے درمیان ہے اسے محض کھیلتے ہوئے نہیں بنایاo

39. ہم نے دونوں کو حق کے (مقصد و حکمت کے) ساتھ پیدا کیا ہے لیکن اُن کے اکثر لوگ نہیں جانتےo

40. بیشک فیصلہ کا دن، اُن سب کے لئے مقررّہ وقت ہےo

41. جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ہی اُن کی مدد کی جائے گیo

42. سوائے اُن کے جن پر اللہ نے رحمت فرمائی ہے (وہ ایک دوسرے کی شفاعت کریں گے)، بیشک وہ بڑا غالب بہت رحم فرمانے والا ہےo

43. بیشک کانٹے دار پھل کا درختo

44. بڑے نافرمانوں کا کھانا ہوگاo

45. پگھلے ہوئے تانبے کی طرح وہ پیٹوں میں کَھولے گاo

46. کھولتے ہوئے پانی کے جوش کی مانندo

47. (حکم ہوگا اس کو پکڑ لو اور دوزخ کے وسط تک اسے زور سے گھسیٹتے ہوئے لے جاؤo

48. پھر اِس کے سَر پر کھولتے ہوئے پانی کا عذاب ڈالوo

49. مَزہ چکھ لے، ہاں تُو ہی (اپنے گمان اور دعوٰی میں) بڑا معزّز و مکرّم ہےo

50. بیشک یہ وہی (دوزخ) ہے جس میں تم شک کیا کرتے تھےo

51. بیشک پرہیزگار لوگ اَمن والے مقام میں ہوں گےo

52. باغات اور چشموں میںo

53. باریک اور دبیز ریشم کا لباس پہنے ہوں گے، آمنے سامنے بیٹھے ہوں o

5گے4. اسی طرح (ہی) ہوگا، اور ہم انہیں گوری رنگت والی کشادہ چشم حوروں سے بیاہ دیں گےo

55. وہاں (بیٹھے) اطمینان سے ہر طرح کے پھل اور میوے طلب کرتے ہوں گےo

56. اس (جنت) میں موت کا مَزہ نہیں چکھیں گے سوائے (اس) پہلی موت کے (جو گزر چکی ہوگی) اور اللہ انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے گاo

57. یہ آپ کے رب کا فضل ہے (یعنی آپ کا رب آپ کے وسیلے سے ہی عطا کرے گا)، یہی بہت بڑی کامیابی ہےo

58. بس ہم نے آپ ہی کی زبان میں اس (قرآن) کو آسان کر دیا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریںo

59. سو آپ (بھی) انتظار فرمائیں، یقیناً وہ (بھی) انتظار کر رہے ہیں (آپ اُن کا حشر و انتقام دیکھیں گے اور وہ آپ کی شان اور آپ کے تصدّق سے مومنوں پر میرا انعام دیکھیں گے)o


سُورة الْجَاثِيَة

1. حا، میم (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)o

2. (اِس) کتاب کا اتارا جانا اللہ کی جانب سے ہے جو بڑی عزّت والا بڑی حکمت والا ہےo

3. بیشک آسمانوں اور زمین میں یقیناً مومنوں کے لئے نشانیاں ہیںo

4. اور تمہاری (اپنی) پیدائش میں اور اُن جانوروں میں جنہیں وہ پھیلاتا ہے، یقین رکھنے والے لوگوں کے لئے نشانیاں ہیںo

5. اور رات دن کے آگے پیچھے آنے جانے میں اور (بصورتِ بارش) اُس رِزق میں جسے اللہ آسمان سے اتارتا ہے، پھر اس سے زمین کو اُس کی مُردنی کے بعد زندہ کر دیتا ہے اور (اسی طرح) ہواؤں کے رُخ پھیرنے میں، اُن لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو عقل و شعور رکھتے ہیںo

6. یہ اللہ کی آیتیں ہیں جنہیں ہم آپ پر پوری سچائی کے ساتھ تلاوت فرماتے ہیں، پھر اللہ اور اُس کی آیتوں کے بعد یہ لوگ کس بات پر ایمان لائیں گےo

7. ہر بہتان تراشنے والے کذّاب (اور) بڑے سیاہ کار کے لئے ہلاکت ہےo

8. جو اللہ کی (اُن) آیتوں کو سنتا ہے جو اُس پر پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں پھر (اپنے کفر پر) اصرار کرتا ہے تکبّر کرتے ہوئے، گویا اُس نے انہیں سنا ہی نہیں، تو آپ اسے دردناک عذاب کی بشارت دے دیںo

9. اور جب اسے ہماری (قرآنی) آیات میں سے کسی چیز کا (بھی) علم ہو جاتا ہے تو اسے مذاق بنا لیتا ہے، ایسے ہی لوگوں کے لئے ذلّت انگیز عذاب ہےo

10. اُن کے (اس عرصۂ حیات کے) بعد دوزخ ہے اور جو (مالِ دنیا) انہوں نے کما رکھا ہے اُن کے کچھ کام نہیں آئے گا اور نہ وہ بت (ہی کام آئیں گے) جنہیں اللہ کے سوا انہوں نے کارساز بنا رکھا ہے، اور اُن کے لئے بہت سخت عذاب ہےo

11. یہ (قرآن) ہدایت ہے، اور جن لوگوں نے اپنے رب کی آیات کے ساتھ کفر کیا اُن کے لئے سخت ترین دردناک عذاب ہےo

12. اللہ ہی ہے جس نے سمندر کو تمہارے قابو میں کر دیا تاکہ اس کے حکم سے اُس میں جہاز اور کشتیاں چلیں اور تاکہ تم (بحری راستوں سے بھی) اُس کا فضل (یعنی رزق) تلاش کر سکو، اور اس لئے کہ تم شکر گزار ہو جاؤo

13. اور اُس نے تمہارے لئے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب کو اپنی طرف سے (نظام کے تحت) مسخر کر دیا ہے، بیشک اس میں اُن لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیںo

14. آپ ایمان والوں سے فرما دیجئے کہ وہ اُن لوگوں کو نظر انداز کر دیں جو اللہ کے دنوں کی (آمد کی) امید اور خوف نہیں رکھتے تاکہ وہ اُن لوگوں کو اُن (کے اعمال) کا پورا بدلہ دے دے جو وہ کمایا کرتے تھےo

15. جس نے کوئی نیک عمل کیا سو اپنی ہی جان کے (نفع کے) لئے اور جِس نے برائی کی تو (اس کا وبال بھی) اسی پر ہے پھر تم سب اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گےo

16. اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکومت اور نبوت عطا فرمائی، اور انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور ہم نے انہیں (ان کے ہم زمانہ) جہانوں پر (یعنی اس دور کی قوموں اور تہذیبوں پر) فضیلت بخشیo

17. اور ہم نے ان کو دین (اور نبوّت) کے واضح دلائل اور نشانیاں دی ہیں مگر اس کے بعد کہ اُن کے پاس (بعثتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا) علم آچکا انہوں نے (اس سے) اختلاف کیا محض باہمی حسد و عداوت کے باعث، بیشک آپ کا رب اُن کے درمیان قیامت کے دن اس امر کا فیصلہ فرما دے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھےo

18. پھر ہم نے آپ کو دین کے کھلے راستے (شریعت) پر مامور فرما دیا، سو آپ اسی راہ پر چلتے جائیے اور اُن لوگوں کی خواہشوں کو قبول نہ فرمائیے جنہیں (آپ کی اور آپ کے دین کی عظمت و حقّانیت کا) علم ہی نہیں ہےo

19. بیشک یہ لوگ اللہ کی جانب سے (اسلام کی راہ میں پیش آمدہ مشکلات کے وقت میں وعدوں کے باوجود) ہرگز آپ کے کام نہیں آئیں گے، اور بیشک ظالم لوگ (دنیا میں) ایک دوسرے کے ہی دوست اور مددگار ہوا کرتے ہیں، اور اللہ پرہیزگاروں کا دوست اور مددگار ہےo

20. یہ (قرآن) لوگوں کے لئے بصیرت و عبرت کے دلائل ہیں اور یقین رکھنے والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہےo

21. کیا وہ لوگ جنہوں نے برائیاں کما رکھی ہیں یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم انہیں اُن لوگوں کی مانند کر دیں گے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے (کہ) اُن کی زندگی اور ان کی موت برابر ہو جائے۔ جو دعوٰی (یہ کفّار) کر رہے ہیں نہایت برا ہےo

22. اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق (پر مبنی حکمت) کے ساتھ پیدا فرمایا اور اس لئے کہ ہر جان کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے جو اس نے کمائے ہیں اور اُن پر ظلم نہیں کیا جائے گاo

23. کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی نفسانی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے اور اللہ نے اسے علم کے باوجود گمراہ ٹھہرا دیا ہے اور اس کے کان اور اس کے دل پر مُہر لگا دی ہے اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے، پھر اُسے اللہ کے بعد کون ہدایت کر سکتا ہے، سو کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتےo

24. اور وہ کہتے ہیں: ہماری دنیوی زندگی کے سوا (اور) کچھ نہیں ہے ہم (بس) یہیں مرتے اور جیتے ہیں اور ہمیں زمانے کے (حالات و واقعات کے) سوا کوئی ہلاک نہیں کرتا (گویا خدا اور آخرت کا مکمل انکار کرتے ہیں)، اور انہیں اس (حقیقت) کا کچھ بھی علم نہیں ہے، وہ صرف خیال و گمان سے کام لے رہے ہیںo

25. اور جب اُن پر ہماری واضح آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو اس کے سوا اُن کی کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ ہمارے باپ دادا کو (زندہ کر کے) لے آؤ، اگر تم سچے ہوo

26. فرما دیجئے: اللہ ہی تمہیں زندگی دیتا ہے اور پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے پھر تم سب کو قیامت کے دن کی طرف جمع فرمائے گا جس میں کوئی شک نہیں ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتےo

27. اور اللہ ہی کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے اور جِس دن قیامت برپا ہوگی تب (سب) اہلِ باطل سخت خسارے میں پڑ جائیں گےo

28. اور آپ دیکھیں گے (کفّار و منکرین کا) ہر گروہ گھٹنوں کے بل گِرا ہوا بیٹھا ہو گا، ہر فرقے کو اس (کے اعمال) کی کتاب کی طرف بلایا جائے گا، آج تمہیں اُن اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھےo

29. یہ ہمارا نوشتہ ہے جو تمہارے بارے میں سچ سچ بیان کرے گا، بیشک ہم وہ سب کچھ لکھوا (کر محفوظ کر) لیا کرتے تھے جو تم کرتے تھےo

30. پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے تو اُن کا رب انہیں اپنی رحمت میں داخل فرما لے گا، یہی تو واضح کامیابی ہےo

31. اور جن لوگوں نے کُفر کیا (اُن سے کہا جائے گا کیا میری آیتیں تم پر پڑھ پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں، پس تم نے تکبّر کیا اور تم مُجرم لوگ تھےo

32. اور جب کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت (کے آنے) میں کوئی شک نہیں ہے تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہے، ہم اُسے وہم و گمان کے سوا کچھ نہیں سمجھتے اور ہم (اِس پر) یقین کرنے والے نہیں ہیںo

33. اور اُن کے لئے وہ سب برائیاں ظاہر ہو جائیں گی جو وہ انجام دیتے تھے اور وہ (عذاب) انہیں گھیر لے گا جِس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھےo

34. اور (اُن سے) کہا جائے گا: آج ہم تمہیں بھلائے دیتے ہیں جِس طرح تم نے اپنے اِس دن کی پیشی کو بھلا دیا تھا اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے اور تمہارے لئے کوئی بھی مددگار نہ ہوگاo

35. یہ اس وجہ سے (ہے) کہ تم نے اللہ کی آیتوں کو مذاق بنا رکھا تھا اور دنیوی زندگی نے تمہیں دھوکہ میں ڈال دیا تھا، سو آج نہ تو وہ اُس (دوزخ) سے نکالے جائیں گے اور نہ اُن سے توبہ کے ذریعے (اللہ کی) رضاجوئی قبول کی جائے گیo

36. پس اللہ ہی کے لئے ساری تعریفیں ہیں جو آسمانوں کا رب ہے اور زمین کا مالک ہے، سب جہانوں کا پروردگار (بھی) ہےo

37. اور آسمانوں اور زمین میں ساری کبریائی (یعنی بڑائی) اسی کے لئے ہے اور وہی بڑا غالب بڑی حکمت والا ہےo
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
زارا کا شکریہ ادا کیا گیا
عارف اقبال (09-02-11)
پرانا 09-02-11, 03:43 PM   #29
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,228
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default پارہ نمبر 26

پاره حٰم

سُورة الْأَحْقَاف

1. حا، میم (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)o

2. اس کتاب کا نازل کیا جانا اللہ کی جانب سے ہے جو غالب حکمت والا ہےo

3. اور ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور اس (مخلوقات) کو جو ان کے درمیان ہے پیدا نہیں کیا مگر حکمت اور مقررہ مدّت (کے تعیّن) کے ساتھ، اور جنہوں نے کفر کیا ہے انہیں جس چیز سے ڈرایا گیا اسی سے رُوگردانی کرنے والے ہیںo

4. آپ فرما دیں کہ مجھے بتاؤ تو کہ جن (بتوں) کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے زمین میں کیا چیز تخلیق کی ہے یا (یہ دکھا دو کہ) آسمانوں (کی تخلیق) میں ان کی کوئی شراکت ہے۔ تم میرے پاس اس (قرآن) سے پہلے کی کوئی کتاب یا (اگلوں کے) علم کا کوئی بقیہ حصہ (جو منقول چلا آرہا ہو ثبوت کے طور پر) پیش کرو اگر تم سچے ہوo

5. اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کے سوا ایسے (بتوں) کی عبادت کرتا ہے جو قیامت کے دن تک اسے (سوال کا) جواب نہ دے سکیں اور وہ (بت) ان کی دعاء و عبادت سے (ہی) بے خبر ہیںo

6. اور جب لوگ (قیامت کے دن) جمع کئے جائیں گے تو وہ (معبودانِ باطلہ) ان کے دشمن ہوں گے اور (اپنی برات کی خاطر) ان کی عبادت سے ہی منکر ہو جائیں گےo

7. اور جب ان پر ہماری واضح آیتیں پڑھی جاتی ہیں (تو) جو لوگ کفر کر رہے ہیں حق (یعنی قرآن) کے بارے میں، جبکہ وہ ان کے پاس آچکا، کہتے ہیں: یہ کھلا جادو ہےo

8. کیا وہ لوگ (یہ) کہتے ہیں کہ اس (قرآن) کو (پیغمبر نے) گھڑ لیا ہے۔ آپ فرما دیں: اگر اسے میں نے گھڑا ہے تو تم مجھے اللہ (کے عذاب) سے (بچانے کا) کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے، اور وہ ان (باتوں) کو خوب جانتا ہے جو تم اس (قرآن) کے بارے میں طعنہ زنی کے طور پر کر رہے ہو۔ وہی (اللہ) میرے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے، اور وہ بڑا بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہےo

9. آپ فرما دیں کہ میں (انسانوں کی طرف) کوئی پہلا رسول نہیں آیا (کہ مجھ سے قبل رسالت کی کوئی مثال ہی نہ ہو) اور میں اَزخود (یعنی محض اپنی عقل و درایت سے) نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور نہ وہ جو تمہارے ساتھ کیا جائے گا، (میرا علم تو یہ ہے کہ) میں صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف بھیجی جاتی ہے (وہی مجھے ہر شے کا علم عطا کرتی ہے) اور میں تو صرف (اس علم بالوحی کی بنا پر) واضح ڈر سنانے والا ہوںo

10. فرما دیجئے: ذرا بتاؤ تو اگر یہ (قرآن) اللہ کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کر دیا ہو اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ (بھی پہلی آسمانی کتابوں سے) اس جیسی کتاب (کے اترنے کے ذکر) پر گواہی دے پھر وہ (اس پر) ایمان (بھی) لایا ہو اور تم (اس کے باوجود) غرور کرتے رہے (تو تمہارا انجام کیا ہوگا؟)، بیشک اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتاo

11. اور کافروں نے مومنوں سے کہا: اگر یہ (دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے پہلے نہ بڑھتے (ہم خود ہی سب سے پہلے اسے قبول کر لیتے)، اور جب ان (کفار) نے (خود) اس سے ہدایت نہ پائی تو اب کہتے ہیں کہ یہ تو پرانا جھوٹ (اور بہتان) ہےo

12. اور اس سے پہلے موسٰی (علیہ السلام) کی کتاب (تورات) پیشوا اور رحمت تھی، اور یہ کتاب (اس کی) تصدیق کرنے والی ہے، عربی زبان میں ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائے جنہوں نے ظلم کیا ہے اور نیکوکاروں کے لئے خوشخبری ہوo

13. بیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر انہوں نے استقامت اختیار کی تو ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گےo

14. یہی لوگ اہلِ جنت ہیں جو اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ یہ ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھےo

15. اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کاحکم فرمایا۔ اس کی ماں نے اس کو تکلیف سے (پیٹ میں) اٹھائے رکھا اور اسے تکلیف کے ساتھ جنا، اور اس کا (پیٹ میں) اٹھانا اور اس کا دودھ چھڑانا (یعنی زمانۂ حمل و رضاعت) تیس ماہ (پر مشتمل) ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جاتا ہے اور (پھر) چالیس سال (کی پختہ عمر) کو پہنچتا ہے، تو کہتا ہے: اے میرے رب: مجھے توفیق دے کہ میں تیرے اس احسان کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمایا ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک اعمال کروں جن سے تو راضی ہو اور میرے لئے میری اولاد میں نیکی اور خیر رکھ دے۔ بیشک میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں یقیناً فرمانبرداروں میں سے ہوںo

16. یہی وہ لوگ ہیں ہم جن کے نیک اعمال قبول کرتے ہیں اوران کی کوتاہیوں سے درگزر فرماتے ہیں، (یہی) اہلِ جنت ہیں۔ یہ سچا وعدہ ہے جو ان سے کیا جا رہا ہےo

17. اور جس نے اپنے والدین سے کہا: تم سے بیزاری ہے، تم مجھے (یہ) وعدہ دیتے ہو کہ میں (قبر سے دوبارہ زندہ کر کے) نکالا جاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکیں۔ اب وہ دونوں (ماں باپ) اللہ سے فریاد کرنے لگے (اور لڑکے سے کہا تو ہلاک ہوگا۔ (اے لڑکے!) ایمان لے آ، بیشک اللہ کا وعدہ حق ہے۔ تو وہ (جواب میں) کہتا ہے: یہ (باتیں) اگلے لوگوں کے جھوٹے افسانوں کے سوا (کچھ) نہیں ہیںo

18. یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں فرمانِ (عذاب) ثابت ہو چکا ہے بہت سی امتوں میں جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں جنّات کی (بھی) اور انسانوں کی (بھی)، بیشک وہ (سب) نقصان اٹھانے والے تھےo

19. اور سب کے لئے ان (نیک و بد) اعمال کی وجہ سے جو انہوں نے کئے (جنت و دوزخ میں الگ الگ) درجات مقرر ہیں تاکہ (اﷲ) ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گاo

20. اور جس دن کافر لوگ آتشِ دوزخ کے سامنے پیش کئے جائیں گے (تو ان سے کہا جائے گا تم اپنی لذیذ و مرغوب چیزیں اپنی دنیوی زندگی میں ہی حاصل کر چکے اور ان سے (خوب) نفع اندوز بھی ہو چکے۔ پس آج کے دن تمہیں ذلت کے عذاب کی سزا دی جائے گی اس وجہ سے کہ تم زمین میں ناحق تکبر کیا کرتے تھے اور اس وجہ سے (بھی) کہ تم نافرمانی کیا کرتے تھےo

21. اور (اے حبیب!) آپ قومِ عاد کے بھائی (ہود علیہ السلام) کا ذکر کیجئے، جب انہوں نے (عُمان اور مَہرہ کے درمیان یمن کی ایک وادی) اَحقاف میں اپنی قوم کو (اَعمالِ بد کے نتائج سے) ڈرایا حالانکہ اس سے پہلے اور اس کے بعد (بھی کئی) ڈرانے والے (پیغمبر) گزر چکے تھے کہ تم اﷲ کے سوا کسی اور کی پرستش نہ کرنا، مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم پر بڑے (ہولناک) دن کا عذاب (نہ) آجائےo

22. وہ کہنے لگے کہ کیا آپ ہمارے پاس اس لئے آئے ہیں کہ ہمیں ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دیں، پس وہ (عذاب) لے آئیں جس سے ہمیں ڈرا رہے ہیں اگر آپ سچوں میں سے ہیںo

23. انہوں نے کہا کہ (اس عذاب کے وقت کا) علم تو اﷲ ہی کے پاس ہے اور میں تمہیں وہی احکام پہنچا رہا ہوں جو میں دے کر بھیجا گیا ہوں لیکن میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم جاہل لوگ ہوo

24. پھر جب انہوں نے اس (عذاب) کو بادل کی طرح اپنی وادیوں کے سامنے آتا ہوا دیکھا تو کہنے لگے: یہ (تو) بادل ہے جو ہم پر برسنے والا ہے، (ایسا نہیں) وہ (بادل) تو وہ (عذاب) ہے جس کی تم نے جلدی مچا رکھی تھی۔ (یہ) آندھی ہے جس میں دردناک عذاب (آرہا) ہےo

25. (جو) اپنے پروردگار کے حکم سے ہر شے کو تباہ و برباد کر دے گی پس وہ ایسے (تباہ) ہو گئے کہ ان کے (مِسمار) گھروں کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا تھا۔ ہم مجرم لوگوں کو اِس طرح سزا دیا کرتے ہیںo

26. (اے اہلِ مکہّ!) درحقیقت ہم نے ان کو ان امور میں طاقت و قدرت دے رکھی تھی جن میں ہم نے تم کو قدرت نہیں دی اور ہم نے انہیں سماعت اور بصارت اور دل و دماغ (کی بے بہا صلاحیتوں) سے نوازا تھا مگر نہ تو ان کے کان ہی ان کے کچھ کام آسکے اور نہ ان کی آنکھیں اور نہ (ہی) ان کے دل و دماغ جبکہ وہ اﷲ کی نشانیوں کا انکار ہی کرتے رہے اور (بالآخر) اس (عذاب) نے انہیں آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھےo

27. اور (اے اہلِ مکہّ!) بیشک ہم نے کتنی ہی بستیوں کو ہلاک کر ڈالا جو تمہارے اردگرد تھیں اور ہم نے اپنی نشانیاں بار بار ظاہر کیں تاکہ وہ (کفر سے) رجوع کر لیںo

28. پھر ان (بتوں) نے ان کی مدد کیوں نہ کی جن کو انہوں نے تقرّبِ (الٰہی) کے لئے اﷲ کے سوا معبود بنا رکھا تھا، بلکہ وہ (معبودانِ باطلہ) ان سے گم ہو گئے، اور یہ (بتوں کو معبود بنانا) ان کا جھوٹ تھا اور یہی وہ بہتان (تھا) جو وہ باندھا کرتے تھےo

29. اور (اے حبیب!) جب ہم نے جنّات کی ایک جماعت کو آپ کی طرف متوجہ کیا جو قرآن غور سے سنتے تھے۔ پھر جب وہ وہاں (یعنی بارگاہِ نبوت میں) حاضر ہوئے تو انہوں نے (آپس میں) کہا: خاموش رہو، پھر جب (پڑھنا) ختم ہو گیا تو وہ اپنی قوم کی طرف ڈر سنانے والے (یعنی داعی الی الحق) بن کر واپس گئےo

30. انہوں نے کہا: اے ہماری قوم (یعنی اے قومِ جنّات)! بیشک ہم نے ایک (ایسی) کتاب سنی ہے جو موسٰی (علیہ السلام کی تورات) کے بعد اتاری گئی ہے (جو) اپنے سے پہلے (کی کتابوں) کی تصدیق کرنے والی ہے (وہ) سچّے (دین) اور سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتی ہےo

31. اے ہماری قوم! تم اﷲ کی طرف بلانے والے (یعنی محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات قبول کر لو اور ان پر ایمان لے آؤ (تو) اﷲ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں دردناک عذاب سے پناہ دے گاo

32. اور جو شخص اﷲ کی طرف بلانے والے (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات قبول نہیں کرے گا تو وہ زمین میں (بھاگ کر اﷲ کو) عاجز نہیں کر سکے گا اور نہ ہی اس کے لئے اﷲ کے سوا کوئی مددگار ہوں گے۔ یہی لوگ کھلی گمراہی میں ہیںo

33. کیا وہ نہیں جانتے کہ اﷲ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اور وہ ان کے پیدا کرنے سے تھکا نہیں اس بات پر (بھی) قادر ہے کہ وہ مُردوں کو (دوبارہ) زندہ فرما دے۔ کیوں نہیں! بیشک وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہےo

34. اور جس دن وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا آتشِ دوزخ کے سامنے پیش کئے جائیں گے (تو ان سے کہا جائے گا کیا یہ (عذاب) برحق نہیں ہے؟ وہ کہیں گے: کیوں نہیں! ہمارے رب کی قسم (برحق ہے)، ارشاد ہوگا: پھر عذاب کا مزہ چکھو جس کا تم انکار کیا کرتے تھےo

35. (اے حبیب!) پس آپ صبر کئے جائیں جس طرح (دوسرے) عالی ہمّت پیغمبروں نے صبر کیا تھا اور آپ ان (منکروں) کے لئے (طلبِ عذاب میں) جلدی نہ فرمائیں، جس دن وہ اس (عذابِ آخرت) کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو (خیال کریں گے) گویا وہ (دنیا میں) دن کی ایک گھڑی کے سوا ٹھہرے ہی نہیں تھے، (یہ اﷲ کی طرف سے) پیغام کا پہنچایا جانا ہے، نافرمان قوم کے سوا دیگر لوگ ہلاک نہیں کئے جائیں گےo


سُورة مُحَمَّد

1. جن لوگوں نے کفر کیا اور (دوسروں کو) اﷲ کی راہ سے روکا (تو) اﷲ نے ان کے اعمال (اخروی اجر کے لحاظ سے) برباد کر دیئےo

2. اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور اس (کتاب) پر ایمان لائے جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کی گئی ہے اور وہی ان کے رب کی جانب سے حق ہے اﷲ نے ان کے گناہ ان (کے نامۂ اعمال) سے مٹا دیئے اور ان کا حال سنوار دیاo

3. یہ اس لئے کہ جن لوگوں نے کفر کیا وہ باطل کے پیچھے چلے اور جو لوگ ایمان لائے انہوں نے اپنے رب کی طرف سے (اتارے گئے) حق کی پیروی کی، اسی طرح اﷲ لوگوں کے لئے ان کے احوال بیان فرماتا ہےo

4. پھر جب (میدان جنگ میں) تمہارا مقابلہ (متحارب) کافروں سے ہو تو (دورانِ جنگ) ان کی گردنیں اڑا دو، یہاں تک کہ جب تم انہیں (جنگی معرکہ میں) خوب قتل کر چکو تو (بقیہ قیدیوں کو) مضبوطی سے باندھ لو، پھر اس کے بعد یا تو (انہیں) (بلامعاوضہ) احسان کر کے (چھوڑ دو) یا فدیہ (یعنی معاوضہِء رہائی) لے کر (آزاد کر دو) یہاں تک کہ جنگ (کرنے والی مخالف فوج) اپنے ہتھیار رکھ دے (یعنی صلح و امن کا اعلان کر دے)۔ یہی (حکم) ہے، اور اگر اﷲ چاہتا تو ان سے (بغیر جنگ) انتقام لے لیتا مگر (اس نے ایسا نہیں کیا) تاکہ تم میں سے بعض کو بعض کے ذریعے آزمائے، اور جو لوگ اﷲ کی راہ میں قتل کر دیئے گئے تو وہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہ کرے گاo

5. وہ عنقریب انہیں (جنت کی) سیدھی راہ پر ڈال دے گا اور ان کے احوالِ (اُخروی) کو خوب بہتر کر دے گاo

6. اور (بالآخر) انہیں جنت میں داخل فرما دے گا جس کی اس نے (پہلے ہی سے) انہیں خوب پہچان کرا دی ہےo

7. اے ایمان والو! اگر تم اﷲ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے قدموں کو مضبوط رکھے گاo

8. اور جنہوں نے کفر کیا تو ان کے لئے ہلاکت ہے اور (اﷲ نے) ان کے اعمال برباد کر دیئےo

9. یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے اس (کتاب) کو ناپسند کیا جو اﷲ نے نازل فرمائی تو اس نے ان کے اعمال اکارت کر دیئےo

10. کیا انہوں نے زمین میں سفر و سیاحت نہیں کی کہ وہ دیکھ لیتے کہ ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے۔ اﷲ نے ان پر ہلاکت و بربادی ڈال دی۔ اور کافروں کے لئے اسی طرح کی بہت سی ہلاکتیں ہیںo

11. یہ اس وجہ سے ہے کہ اﷲ ان لوگوں کا ولی و مددگار ہے جو ایمان لائے ہیں اور بیشک کافروں کے لئے کوئی ولی و مددگار نہیں ہےo

12. بیشک اﷲ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے بہشتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، اور جن لوگوں نے کفر کیا اور (دنیوی) فائدے اٹھا رہے ہیں اور (اس طرح) کھا رہے ہیں جیسے چوپائے (جانور) کھاتے ہیں سو دوزخ ہی ان کا ٹھکانا ہےo

13. اور (اے حبیب!) کتنی ہی بستیاں تھیں جن کے باشندے (وسائل و اقتدار میں) آپ کے اس شہر (مکّہ کے باشندوں) سے زیادہ طاقتور تھے جس (کے مقتدر وڈیروں) نے آپ کو (بصورتِ ہجرت) نکال دیا ہے، ہم نے انہیں (بھی) ہلاک کر ڈالا پھر ان کا کوئی مددگار نہ ہوا (جو انہیں بچا سکتا)o

14. سو کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر (قائم) ہو ان لوگوں کی مثل ہو سکتا ہے جن کے برے اعمال ان کے لئے آراستہ کر کے دکھائے گئے ہیں اور وہ اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے چل رہے ہوںo

15. جس جنّت کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی صفت یہ ہے کہ اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہوں گی جس میں کبھی (بو یا رنگت کا) تغیّر نہ آئے گا، اور (اس میں ایسے) دودھ کی نہریں ہوں گی جس کا ذائقہ اور مزہ کبھی نہ بدلے گا، اور (ایسے) شرابِ (طہور) کی نہریں ہوں گی جو پینے والوں کے لئے سراسر لذّت ہے، اور خوب صاف کئے ہوئے شہد کی نہریں ہوں گی، اور ان کے لئے اس میں ہر قسم کے پھل ہوں گے اور ان کے رب کی جانب سے (ہر طرح کی) بخشائش ہوگی، (کیا یہ پرہیزگار) ان لوگوں کی طرح ہو سکتا ہے جو ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے ہیں اور جنہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو وہ ان کی آنتوں کو کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دے گاo

16. اور ان میں سے بعض وہ لوگ بھی ہیں جو آپ کی طرف (دل اور دھیان لگائے بغیر) صرف کان لگائے سنتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ آپ کے پاس سے نکل کر (باہر) جاتے ہیں تو ان لوگوں سے پوچھتے ہیں جنہیں علمِ (نافع) عطا کیا گیا ہے کہ ابھی انہوں نے (یعنی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے) کیا فرمایا تھا؟ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اﷲ نے مہر لگا دی ہے اور وہ اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیںo

17. اور جن لوگوں نے ہدایت پا لی ہے، اﷲ ان کی ہدایت کو اور زیادہ فرما دیتا ہے اور انہیں ان کے مقامِ تقوٰی سے سرفراز فرماتا ہےo

18. تو اب یہ (منکر) لوگ صرف قیامت ہی کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ ان پر اچانک آپہنچے؟ سو واقعی اس کی نشانیاں (قریب) آپہنچی ہیں، پھر انہیں ان کی نصیحت کہاں (مفید) ہوگی جب (خود) قیامت (ہی) آپہنچے گےo

19. پس جان لیجئے کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ (اظہارِ عبودیت اور تعلیمِ امت کی خاطر اﷲ سے) معافی مانگتے رہا کریں کہ کہیں آپ سے خلافِ اولیٰ (یعنی آپ کے مرتبہ عالیہ سے کم درجہ کا) فعل صادر نہ ہو جائے٭ اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لئے بھی طلبِ مغفرت (یعنی ان کی شفاعت) فرماتے رہا کریں (یہی ان کا سامانِ بخشش ہے)، اور (اے لوگو!) اﷲ (دنیا میں) تمہارے چلنے پھرنے کے ٹھکانے اور (آخرت میں) تمہارے ٹھہرنے کی منزلیں (سب) جانتا ہےo
٭ (خواہ وہ فعل اپنی جگہ شرعاً جائز اور مستحسن ہی کیوں نہ ہو مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام و مرتبہ اتنا بلند اور ارفع و اعلٰی ہے کہ کئی اعمال صالحہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کے لحاظ سے کمتر ہیں۔)
20. اور ایمان والے کہتے ہیں کہ (حکمِ جہاد سے متعلق) کوئی سورت کیوں نہیں اتاری جاتی؟ پھر جب کوئی واضح سورت نازل کی جاتی ہے اور اس میں (صریحاً) جہاد کا ذکر کیا جاتا ہے تو آپ ایسے لوگوں کو جن کے دلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے ملاحظہ فرماتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف (اس طرح) دیکھتے ہیں جیسے وہ شخص دیکھتا ہے جس پر موت کی غشی طاری ہو رہی ہو۔ سو ان کے لئے خرابی ہےo

21. فرمانبرداری اور اچھی گفتگو (ان کے حق میں بہتر) ہے، پھر جب حکمِ جہاد قطعی (اور پختہ) ہو گیا تو اگر وہ اﷲ سے (اپنی اطاعت اور وفاداری میں) سچے رہتے تو ان کے لئے بہتر ہوتاo

22. پس (اے منافقو!) تم سے توقع یہی ہے کہ اگر تم (قتال سے گریز کر کے بچ نکلو اور) حکومت حاصل کر لو تو تم زمین میں فساد ہی برپا کرو گے اور اپنے (ان) قرابتی رشتوں کو توڑ ڈالو گے (جن کے بارے میں اﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مواصلت اور مُودّت کا حکم دیا ہے)o

23. یہی وہ لوگ ہیں جن پر اﷲ نے لعنت کی ہے اور ان (کے کانوں) کو بہرا کر دیا ہے اور ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا ہےo

24. کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے (لگے ہوئے) ہیںo

25. بیشک جو لوگ پیٹھ پھیر کر پیچھے (کفر کی طرف) لوٹ گئے اس کے بعد کہ ان پر ہدایت واضح ہو چکی تھی شیطان نے انہیں (کفر کی طرف واپس پلٹنا دھوکہ دہی سے) اچھا کر کے دکھایا، اور انہیں (دنیا میں) طویل زندگی کی امید دلائیo

26. یہ اس لئے کہ انہوں نے ان لوگوں سے کہا جو اﷲ کی نازل کردہ کتاب کو ناپسند کرتے تھے کہ ہم بعض امور میں تمہاری پیروی کریں گے، اور اﷲ ان کے خفیہ مشورہ کرنے کو خوب جانتا ہےo

27. پھر (اس وقت ان کا حشر) کیسا ہوگا جب فرشتے ان کی جان (اس حال میں) نکالیں گے کہ ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر ضربیں لگاتے ہوں گےo

28. یہ اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اُس (رَوِش) کی پیروی کی جو اﷲ کو ناراض کرتی ہے اور انہوں نے اس کی رضا کو ناپسند کیا تو اس نے ان کے (جملہ) اعمال اکارت کر دیئےo

29. کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے یہ گمان کرتے ہیں کہ اﷲ ان کے کینوں اور عداوتوں کو ہرگز ظاہر نہ فرمائے گاo

30. اور اگر ہم چاہیں تو آپ کو بلاشبہ وہ (منافق) لوگ (اس طرح) دکھا دیں کہ آپ انہیں ان کے چہروں کی علامت سے ہی پہچان لیں، اور (اسی طرح) یقیناً آپ ان کے اندازِ کلام سے بھی انہیں پہچان لیں گے، اور اﷲ تمہارے سب اعمال کو (خوب) جانتا ہےo

31. اور ہم ضرور تمہاری آزمائش کریں گے یہاں تک کہ تم میں سے (ثابت قدمی کے ساتھ) جہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو (بھی) ظاہر کر دیں اور تمہاری (منافقانہ بزدلی کی مخفی) خبریں (بھی) ظاہر کر دیںo

32. بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اﷲ کی راہ سے روکا اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت (اور ان سے جدائی کی راہ اختیار) کی اس کے بعد کہ ان پر ہدایت (یعنی عظمتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معرفت) واضح ہو چکی تھی وہ اللہ کا ہرگز کچھ نقصان نہیں کر سکیں گے (یعنی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قدر و منزلت کو گھٹا نہیں سکیں گے)،٭ اور اﷲ ان کے (سارے) اعمال کو (مخالفتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باعث) نیست و نابود کر دے گاo
٭ تمام ائمہ تفسیر نے لکھا ہے: (لَن يَضُرُوا اللّہَ شَيْئًا) أی: لن یضرّوا رسولَ اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بمشاقتہ و حذف المضاف لتعظیم شانہ۔ ملاحظہ فرمائیں: الطبری، البیضاوی، روح المعانی، روح البیان، الجمل، البحر المدید وغیرہ۔ اس اسلوبِ کلام کی مثالیں قرآن مجید میں بہت ہیں جن میں سے ایک سورۃ البقرۃ کی آیت 9: یُخٰدِعُونَ اﷲَ وَالّذِینَ آمَنُوا ہے۔ اس مقام پر یخٰدعون اﷲ (وہ اللہ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں) کہہ کر مراد یُخٰدِعُونَ رَسُولَ اﷲِ (وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں) لیا گیا ہے۔
33. اے ایمان والو! تم اﷲ کی اطاعت کیا کرو اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کیا کرو اور اپنے اعمال برباد مت کروo

34. بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اﷲ کی راہ سے روکا پھر اس حال میں مر گئے کہ وہ کافر تھے تو اﷲ انہیں کبھی نہ بخشے گاo

35. (اے مومنو!) پس تم ہمت نہ ہارو اور ان (متحارب کافروں) سے صلح کی درخواست نہ کرو (کہیں تمہاری کمزوری ظاہر نہ ہو)، اور تم ہی غالب رہو گے، اور اﷲ تمہارے ساتھ ہے اور وہ تمہارے اعمال (کا ثواب) ہرگز کم نہ کرے گاo

36. بس دنیا کی زندگی تو محض کھیل اور تماشا ہے، اور اگر تم ایمان لے آؤ اور تقوٰی اختیار کرو تو وہ تمہیں تمہارے (اعمال پر کامل) ثواب عطا فرمائے گا اور تم سے تمہارے مال طلب نہیں کرے گاo

37. اگر وہ تم سے اس مال کو طلب کر لے پھر تمہیں طلب میں تنگی دے تو تمہیں (دل میں) تنگی محسوس ہوگی (اور) تم بخل کرو گے اور (اس طرح) وہ تمہارے (دنیا پرستی کے باعث باطنی) زنگ ظاہر کر دے گاo

38. یاد رکھو! تم وہ لوگ ہو جنہیں اﷲ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے بلایا جاتا ہے تو تم میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو بُخل کرتے ہیں، اور جو کوئی بھی بُخل کرتا ہے وہ محض اپنی جان ہی سے بخل کرتا ہے، اور اﷲ بے نیاز ہے اور تم (سب) محتاج ہو، اور اگر تم (حکمِ الٰہی سے) رُوگردانی کرو گے تو وہ تمہاری جگہ بدل کر دوسری قوم کو لے آئے گا پھر وہ تمہارے جیسے نہ ہوں گےo


سُورة الْفَتْح

1. (اے حبیبِ مکرم!) بیشک ہم نے آپ کے لئے (اسلام کی) روشن فتح (اور غلبہ) کا فیصلہ فرما دیا (اس لئے کہ آپ کی عظیم جدّ و جہد کامیابی کے ساتھ مکمل ہوجائے)o

2. تاکہ آپ کی خاطر اللہ آپ کی امت (کے اُن تمام اَفراد) کی اگلی پچھلی خطائیں معاف فرما دے٭ (جنہوں نے آپ کے حکم پر جہاد کیے اور قربانیاں دیں) اور (یوں اسلام کی فتح اور امت کی بخشش کی صورت میں) آپ پر اپنی نعمت (ظاہراً و باطناً) پوری فرما دے اور آپ (کے واسطے سے آپ کی امت) کو سیدھے راستہ پر ثابت قدم رکھےo
٭ یہاں حذفِ مضاف واقع ہوا ہے۔ مراد ”ما تقدم من ذنب أمتک و ما تاخر“ ہے، کیونکہ آگے اُمت ہی کے لئے نزولِ سکینہ، دخولِ جنت اور بخششِ سیئات کی بشارت کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ مضمون، آیت نمبر 1 تا 5 ملا کر پڑھیں تو معنی خود بخود واضح ہو جائے گا؛ اور مزید تفصیل تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔ جیسا کہ سورۃ المؤمن کی آیت نمبر 55 کے تحت مفسرین کرام نے بیان کیا ہے کہ ”لِذَنبِکَ“ میں ”امت“ مضاف ہے جو کہ محذوف ہے۔ لہٰذا اس بناء پر یہاں وَاستَغفِر لِذَنبِکَ سے مراد امت کے گناہ ہیں۔ امام نسفی، امام قرطبی اور علامہ شوکانی نے یہی معنی بیان کیا ہے۔ حوالہ جات ملاحظہ کریں:- 1: (وَاستَغفِر لِذَنبِکَ) أی لذنب أمتک یعنی اپنی امت کے گناہ۔ (نسفی، مدارک التنزیل و حقائق التاویل، 4: 359)۔ 2: (وَاستَغفِر لِذَنبِکَ) قیل: لذنب أمتک حذف المضاف و أقیم المضاف الیہ مقامہ۔ ”واستغفر لذنبک کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس سے مراد امت کے گناہ ہیں۔ یہاں مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ کو اس کا قائم مقام کر دیا گیا۔“ (قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، 15: 324)۔ 3: وَ قیل لذنبک لذنب أمتک فی حقک ”یہ بھی کہا گیا ہے کہ لذنبک یعنی آپ اپنے حق میں امت سے سرزد ہونے والی خطاؤں کی۔“ (ابن حیان اندلسی، البحر المحیط، 7: 471)۔ 4: (وَاستَغفِر لِذَنبِکَ) قیل: المراد ذنب أمتک فھو علی حذف المضاف ”کہا گیا ہے کہ اس سے مراد امت کے گناہ ہیں اور یہ معنی مضاف کے محذوف ہونے کی بناء پر ہے۔“ (علامہ شوکانی، فتح القدیر، 4: 497)۔
3. اور اﷲ آپ کو نہایت باعزت مدد و نصرت سے نوازےo

4. وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں تسکین نازل فرمائی تاکہ ان کے ایمان پر مزید ایمان کا اضافہ ہو (یعنی علم الیقین، عین الیقین میں بدل جائے)، اور آسمانوں اور زمین کے سارے لشکر اﷲ ہی کے لئے ہیں، اور اﷲ خوب جاننے والا، بڑی حکمت والا ہےo

5. (یہ سب نعمتیں اس لئے جمع کی ہیں) تاکہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بہشتوں میں داخل فرمائے جن کے نیچے نہریں رواں ہیں (وہ) ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ اور (مزید یہ کہ) وہ ان کی لغرشوں کو (بھی) ان سے دور کر دے (جیسے اس نے ان کی خطائیں معاف کی ہیں)۔ اور یہ اﷲ کے نزدیک (مومنوں کی) بہت بڑی کامیابی ہےo

6. اور (اس لئے بھی کہ ان) منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے جو اﷲ کے ساتھ بُری بدگمانیاں رکھتے ہیں، انہی پر بُری گردش (مقرر) ہے، اور ان پر اﷲ نے غضب فرمایا اور ان پر لعنت فرمائی اور ان کے لئے دوزخ تیار کی، اور وہ بہت بُرا ٹھکانا ہےo

7. اور آسمانوں اور زمین کے سب لشکر اﷲ ہی کے لئے ہیں، اور اﷲ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہےo

8. بیشک ہم نے آپ کو (روزِ قیامت گواہی دینے کے لئے اعمال و احوالِ امت کا) مشاہدہ فرمانے والا اور خوشخبری سنانے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہےo

9. تاکہ (اے لوگو!) تم اﷲ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور ان (کے دین) کی مدد کرو اور ان کی بے حد تعظیم و تکریم کرو، اور (ساتھ) اﷲ کی صبح و شام تسبیح کروo

10. (اے حبیب!) بیشک جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اﷲ ہی سے بیعت کرتے ہیں، ان کے ہاتھوں پر (آپ کے ہاتھ کی صورت میں) اﷲ کا ہاتھ ہے۔ پھر جس شخص نے بیعت کو توڑا تو اس کے توڑنے کا وبال اس کی اپنی جان پر ہوگا اور جس نے (اس) بات کو پورا کیا جس (کے پورا کرنے) پر اس نے اﷲ سے عہد کیا تھا تو وہ عنقریب اسے بہت بڑا اجر عطا فرمائے گاo

11. عنقریب دیہاتیوں میں سے وہ لوگ جو (حدیبیہ میں شرکت سے) پیچھے رہ گئے تھے آپ سے (معذرۃً یہ) کہیں گے کہ ہمارے اموال اور اہل و عیال نے ہمیں مشغول کر رکھا تھا (اس لئے ہم آپ کی معیت سے محروم رہ گئے) سو آپ ہمارے لئے بخشش طلب کریں۔ یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ (باتیں) کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں۔ آپ فرما دیں کہ کون ہے جو تمہیں اﷲ کے (فیصلے کے) خلاف بچانے کا اختیار رکھتا ہو اگر اس نے تمہارے نقصان کا ارادہ فرما لیا ہو یا تمہارے نفع کا ارادہ فرما لیا ہو، بلکہ اﷲ تمہارے کاموں سے اچھی طرح باخبر ہےo

12. بلکہ تم نے یہ گمان کیا تھا کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اہلِ ایمان (یعنی صحابہ رضی اللہ عنھم) اب کبھی بھی پلٹ کر اپنے گھر والوں کی طرف نہیں آئیں گے اور یہ (گمان) تمہارے دلوں میں (تمہارے نفس کی طرف سے) خُوب آراستہ کر دیا گیا تھا اور تم نے بہت ہی برا گمان کیا، اور تم ہلاک ہونے والی قوم بن گئےo

13. اور جو اﷲ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہ لائے تو ہم نے کافروں کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہےo

14. اور آسمانوں اور زمین کی باشاہت اﷲ ہی کے لئے ہے، وہ جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے عذاب دیتا ہے، اور اﷲ بڑا بخشنے والا بے حد رحم فرمانے والا ہےo

15. جب تم (خیبر کے) اَموالِ غنیمت کو حاصل کرنے کی طرف چلو گے تو (سفرِ حدیبیہ میں) پیچھے رہ جانے والے لوگ کہیں گے: ہمیں بھی اجازت دو کہ ہم تمہارے پیچھے ہو کر چلیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اﷲ کے فرمان کو بدل دیں۔ فرما دیجئے: تم ہرگز ہمارے پیچھے نہیں آسکتے اسی طرح اﷲ نے پہلے سے فرما دیا تھا۔ سو اب وہ کہیں گے: بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو، بات یہ ہے کہ یہ لوگ (حق بات کو) بہت ہی کم سمجھتے ہیںo

16. آپ دیہاتیوں میں سے پیچھے رہ جانے والوں سے فرما دیں کہ تم عنقریب ایک سخت جنگ جو قوم (سے جہاد) کی طرف بلائے جاؤ گے تم ان سے جنگ کرتے رہو گے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے، سو اگر تم حکم مان لوگے تو اﷲ تمہیں بہترین اجر عطا فرمائے گا۔ اور اگر تم رُوگردانی کرو گے جیسے تم نے پہلے رُوگردانی کی تھی تو وہ تمہیں دردناک عذاب میں مبتلا کر دے گاo

17. (جہاد سے رہ جانے میں) نہ اندھے پر کوئی گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی گناہ ہے اور نہ (ہی) بیمار پر کوئی گناہ ہے، اور جو شخص اﷲ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرے گا وہ اسے بہشتوں میں داخل فرما دے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہوں گی، اور جو شخص (اطاعت سے) منہ پھیرے گا وہ اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کردے گاo

18. بیشک اﷲ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ (حدیبیہ میں) درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے، سو جو (جذبۂ صِدق و وفا) ان کے دلوں میں تھا اﷲ نے معلوم کر لیا تو اﷲ نے ان (کے دلوں) پر خاص تسکین نازل فرمائی اور انہیں ایک بہت ہی قریب فتحِ (خیبر) کا انعام عطا کیاo

19. اور بہت سے اموالِ غنیمت (بھی) جو وہ حاصل کر رہے ہیں، اور اﷲ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہےo

20. اور اﷲ نے (کئی فتوحات کے نتیجے میں) تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ فرمایا ہے جو تم آئندہ حاصل کرو گے مگر اس نے یہ (غنیمتِ خیبر) تمہیں جلدی عطا فرما دی اور (اہلِ مکہّ، اہلِ خیبر، قبائل بنی اسد و غطفان الغرض تمام دشمن) لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیئے، اور تاکہ یہ مومنوں کے لئے (آئندہ کی کامیابی و فتح یابی کی) نشانی بن جائے۔ اور تمہیں (اطمینانِ قلب کے ساتھ) سیدھے راستہ پر (ثابت قدم اور)گامزن رکھےo

21. اور دوسری (مکّہ، ہوازن اور حنین سے لے کر فارس اور روم تک کی بڑی فتوحات) جن پر تم قادر نہ تھے بیشک اﷲ نے (تمہارے لئے) ان کا بھی احاطہ فرما لیا ہے، اور اﷲ ہر چیز پر بڑی قدرت رکھنے والا ہےo

22. اور (اے مومنو!) اگر کافر لوگ (حدیبیہ میں) تم سے جنگ کرتے تو وہ ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے، پھر وہ نہ کوئی دوست پاتے اور نہ مددگار (مگر اﷲ کو صرف یہ ایک ہی نہیں بلکہ کئی فتوحات کا دروازہ تمہارے لئے کھولنا مقصود تھا)o

23. (یہ) اﷲ کی سنت ہے جو پہلے سے چلی آرہی ہے، اور آپ اﷲ کے دستور میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں پائیں گےo

24. اور وہی ہے جس نے سرحدِ مکّہ پر (حدیبیہ کے قریب) ان (کافروں) کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان (کے گروہ) پر غلبہ بخش دیا تھا۔ اور اﷲ ان کاموں کو جو تم کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہےo

25. یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجدِ حرام سے روک دیا اور قربانی کے جانوروں کو بھی، جو اپنی جگہ پہنچنے سے رکے پڑے رہے، اور اگر کئی ایسے مومن مرد اور مومن عورتیں (مکہّ میں موجود نہ ہوتیں) جنہیں تم جانتے بھی نہیں ہو کہ تم انہیں پامال کر ڈالو گے اور تمہیں بھی لاعلمی میں ان کی طرف سے کوئی سختی اور تکلیف پہنچ جائے گی (تو ہم تمہیں اِسی موقع پر ہی جنگ کی اجازت دے دیتے۔ مگر فتحِ مکّہ کو مؤخّر اس لئے کیا گیا) تاکہ اﷲ جسے چاہے (صلح کے نتیجے میں) اپنی رحمت میں داخل فرما لے۔ اگر (وہاں کے کافر اور مسلمان) الگ الگ ہو کر ایک دوسرے سے ممتاز ہو جاتے تو ہم ان میں سے کافروں کو دردناک عذاب کی سزا دیتےo

26. جب کافر لوگوں نے اپنے دلوں میں متکبّرانہ ہٹ دھرمی رکھ لی (جو کہ) جاہلیت کی ضِد اور غیرت (تھی) تو اﷲ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنوں پر اپنی خاص تسکین نازل فرمائی اور انہیں کلمہء تقوٰی پر مستحکم فرما دیا اور وہ اسی کے زیادہ مستحق تھے اور اس کے اہل (بھی) تھے، اور اﷲ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہےo

27. بیشک اﷲ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حقیقت کے عین مطابق سچا خواب دکھایا تھا کہ تم لوگ، اگر اﷲ نے چاہا تو ضرور بالضرور مسجدِ حرام میں داخل ہو گے امن و امان کے ساتھ، (کچھ) اپنے سر منڈوائے ہوئے اور (کچھ) بال کتروائے ہوئے (اس حال میں کہ) تم خوفزدہ نہیں ہو گے، پس وہ (صلح حدیبیہ کو اس خواب کی تعبیر کے پیش خیمہ کے طور پر) جانتا تھا جو تم نہیں جانتے تھے سو اس نے اس (فتحِ مکہ) سے بھی پہلے ایک فوری فتح (حدیبیہ سے پلٹتے ہی فتحِ خیبر) عطا کر دی (اور اس سے اگلے سال فتحِ مکہ اور داخلۂ حرم عطا فرما دیا)o

28. وہی ہے جس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت اور دینِ حق عطا فرما کر بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے، اور (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت و حقانیت پر) اﷲ ہی گواہ کافی ہےo

29. محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اﷲ کے رسول ہیں، اور جو لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت اور سنگت میں ہیں (وہ) کافروں پر بہت سخت اور زور آور ہیں آپس میں بہت نرم دل اور شفیق ہیں۔ آپ انہیں کثرت سے رکوع کرتے ہوئے، سجود کرتے ہوئے دیکھتے ہیں وہ (صرف) اﷲ کے فضل اور اس کی رضا کے طلب گار ہیں۔ اُن کی نشانی اُن کے چہروں پر سجدوں کا اثر ہے (جو بصورتِ نور نمایاں ہے)۔ ان کے یہ اوصاف تورات میں (بھی مذکور) ہیں اور ان کے (یہی) اوصاف انجیل میں (بھی مرقوم) ہیں۔ وہ (صحابہ ہمارے محبوبِ مکرّم کی) کھیتی کی طرح ہیں جس نے (سب سے پہلے) اپنی باریک سی کونپل نکالی، پھر اسے طاقتور اور مضبوط کیا، پھر وہ موٹی اور دبیز ہوگئی، پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہوگئی (اور جب سرسبز و شاداب ہو کر لہلہائی تو) کاشتکاروں کو کیا ہی اچھی لگنے لگی (اﷲ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنھم کو اسی طرح ایمان کے تناور درخت بنایا ہے) تاکہ اِن کے ذریعے وہ (محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جلنے والے) کافروں کے دل جلائے، اﷲ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے مغفرت اور اجرِ عظیم کا وعدہ فرمایا ہےo


سُورة الْحُجُرَات

1. اے ایمان والو! (کسی بھی معاملے میں) اﷲ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آگے نہ بڑھا کرو اور اﷲ سے ڈرتے رہو (کہ کہیں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے ادبی نہ ہوجائے)، بیشک اﷲ (سب کچھ) سننے والا خوب جاننے والا ہےo

2. اے ایمان والو! تم اپنی آوازوں کو نبیِ مکرّم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز سے بلند مت کیا کرو اور اُن کے ساتھ اِس طرح بلند آواز سے بات (بھی) نہ کیا کرو جیسے تم ایک دوسرے سے بلند آواز کے ساتھ کرتے ہو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے سارے اعمال ہی (ایمان سمیت) غارت ہو جائیں اور تمہیں (ایمان اور اعمال کے برباد ہوجانے کا) شعور تک بھی نہ ہوo

3. بیشک جو لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں (ادب و نیاز کے باعث) اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اﷲ نے تقوٰی کے لئے چن کر خالص کر لیا ہے۔ ان ہی کے لئے بخشش ہے اور اجرِ عظیم ہےo

4. بیشک جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر (آپ کے بلند مقام و مرتبہ اور آدابِ تعظیم کی) سمجھ نہیں رکھتےo

5. اور اگر وہ لوگ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ خود ہی ان کی طرف باہر تشریف لے آتے تو یہ اُن کے لئے بہتر ہوتا، اور اﷲ بڑا بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہےo

6. اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق (شخص) کوئی خبر لائے تو خوب تحقیق کر لیا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تم کسی قوم کو لاعلمی میں (ناحق) تکلیف پہنچا بیٹھو، پھر تم اپنے کئے پر پچھتاتے رہ جاؤo

7. اور جان لو کہ تم میں رسول اﷲ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موجود ہیں، اگر وہ بہت سے کاموں میں تمہارا کہنا مان لیں تو تم بڑی مشکل میں پڑ جاؤ گے لیکن اللہ نے تمہیں ایمان کی محبت عطا فرمائی اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ فرما دیا اور کفر اور نافرمانی اور گناہ سے تمہیں متنفر کر دیا، ایسے ہی لوگ دین کی راہ پر ثابت اور گامزن ہیںo

8. (یہ) اﷲ کے فضل اور (اس کی) نعمت (یعنی تم میں رسولِ اُمّی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت اور موجودگی) کے باعث ہے، اور اﷲ خوب جاننے والا اور بڑی حکمت والا ہےo

9. اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں جنگ کریں تو اُن کے درمیان صلح کرا دیا کرو، پھر اگر ان میں سے ایک (گروہ) دوسرے پر زیادتی اور سرکشی کرے تو اس (گروہ) سے لڑو جو زیادتی کا مرتکب ہو رہا ہے یہاں تک کہ وہ اﷲ کے حکم کی طرف لوٹ آئے، پھر اگر وہ رجوع کر لے تو دونوں کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف سے کام لو، بیشک اﷲ انصاف کرنے والوں کو بہت پسند فرماتا ہےo

10. بات یہی ہے کہ (سب) اہلِ ایمان (آپس میں) بھائی ہیں۔ سو تم اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرایا کرو، اور اﷲ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائےo

11. اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے ممکن ہے وہ لوگ اُن (تمسخر کرنے والوں) سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں ہی دوسری عورتوں کا (مذاق اڑائیں) ممکن ہے وہی عورتیں اُن (مذاق اڑانے والی عورتوں) سے بہتر ہوں، اور نہ آپس میں طعنہ زنی اور الزام تراشی کیا کرو اور نہ ایک دوسرے کے برے نام رکھا کرو، کسی کے ایمان (لانے) کے بعد اسے فاسق و بدکردار کہنا بہت ہی برا نام ہے، اور جس نے توبہ نہیں کی سو وہی لوگ ظالم ہیںo

12. اے ایمان والو! زیادہ تر گمانوں سے بچا کرو بیشک بعض گمان (ایسے) گناہ ہوتے ہیں (جن پر اُخروی سزا واجب ہوتی ہے) اور (کسی کے غیبوں اور رازوں کی) جستجو نہ کیا کرو اور نہ پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی کیا کرو، کیا تم میں سے کوئی شخص پسند کرے گا کہ وہ اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھائے، سو تم اس سے نفرت کرتے ہو۔ اور (اِن تمام معاملات میں) اﷲ سے ڈرو بیشک اﷲ توبہ کو بہت قبول فرمانے والا بہت رحم فرمانے والا o

1ہے3. اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اﷲ کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہو، بیشک اﷲ خوب جاننے والا خوب خبر رکھنے والا ہےo

14. دیہاتی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں، آپ فرما دیجئے: تم ایمان نہیں لائے، ہاں یہ کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا، اور اگر تم اﷲ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو تو وہ تمہارے اعمال (کے ثواب میں) سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا، بیشک اﷲ بہت بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہےo

15. ایمان والے تو صرف وہ لوگ ہیں جو اﷲ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے، پھر شک میں نہ پڑے اور اﷲ کی راہ میں اپنے اموال اور اپنی جانوں سے جہاد کرتے رہے، یہی وہ لوگ ہیں جو (دعوائے ایمان میں) سچےّ ہیںo

16. فرما دیجئے: کیا تم اﷲ کو اپنی دین داری جتلا رہے ہو، حالانکہ اﷲ اُن (تمام) چیزوں کو جانتا ہے جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، اور اﷲ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہےo

17. یہ لوگ آپ پر احسان جتلاتے ہیں کہ وہ اسلام لے آئے ہیں۔ فرما دیجئے: تم اپنے اسلام کا مجھ پر احسان نہ جتلاؤ بلکہ اﷲ تم پر احسان فرماتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کا راستہ دکھایا ہے، بشرطیکہ تم (ایمان میں) سچے ہوo

18. بیشک اﷲ آسمانوں اور زمین کے سب غیب جانتا ہے، اور اﷲ جو عمل بھی تم کرتے ہو اسے خوب دیکھنے والا ہےo


سُورة ق

1. ق (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)، قسم ہے قرآنِ مجید کیo

2. بلکہ اُن لوگوں نے تعجب کیا کہ اُن کے پاس اُنہی میں سے ایک ڈر سنانے والا آگیا ہے، سو کافر کہتے ہیں: یہ عجیب بات ہےo

3. کیا جب ہم مَر جائیں گے اور ہم مٹّی ہو جائیں گے (تو پھر زندہ ہوں گے)؟ یہ پلٹنا (فہم و ادراک سے) بعید ہےo

4. بیشک ہم جانتے ہیں کہ زمین اُن (کے جسموں) سے (کھا کھا کر) کتنا کم کرتی ہے، اور ہمارے پاس (ایسی) کتاب ہے جس میں سب کچھ محفوظ ہےo

5. بلکہ (عجیب اور فہم و ادراک سے بعید بات تو یہ ہے کہ) انہوں نے حق (یعنی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن) کو جھٹلا دیا جب وہ اُن کے پاس آچکا سو وہ خود (ہی) الجھن اور اضطراب کی بات میں (پڑے) ہیںo

6. سو کیا انہوں نے آسمان کی طرف نگاہ نہیں کی جو ان کے اوپر ہے کہ ہم نے اسے کیسے بنایا ہے اور (کیسے) سجایا ہے اور اس میں کوئی شگاف (تک) نہیں ہےo

7. اور (اِسی طرح) ہم نے زمین کو پھیلایا اور اس میں ہم نے بہت بھاری پہاڑ رکھے اور ہم نے اس میں ہر قسم کے خوش نما پودے اُگائےo

8. (یہ سب) بصیرت اور نصیحت (کاسامان) ہے ہر اس بندے کے لئے جو (اﷲ کی طرف) رجوع کرنے والا ہےo

9. اور ہم نے آسمان سے بابرکت پانی برسایا پھر ہم نے اس سے باغات اگائے اور کھیتوں کا غلّہ (بھی)o

10. اور لمبی لمبی کھجوریں جن کے خوشے تہ بہ تہ ہوتے ہیںo

11. (یہ سب کچھ اپنے) بندوں کی روزی کے لئے (کیا) اور ہم نے اس (پانی) سے مُردہ زمین کو زندہ کیا، اسی طرح (تمہارا) قبروں سے نکلنا ہوگاo

12. اِن (کفّارِ مکہ) سے پہلے قومِ نوح نے، اور (سرزمینِ یمامہ کے اندھے) کنویں والوں نے، اور (مدینہ سے شام کی طرف تبوک کے قریب بستیِ حجر میں آباد صالح علیہ السلام کی قوم) ثمود نےo

13. اور (عُمان اور اَرضِ مَہرہ کے درمیان یمن کی وادئ اَحقاف میں آباد ہود علیہ السلام کی قومِ) عاد نے اور(مصر کے حکمران) فرعون نے اور (اَرضِ فلسطین میں سدوم اور عمورہ کی رہنے والی) قومِ لُوط نےo

14. اور (مَدیَن کے گھنے درختوں والے بَن) اَیکہ کے رہنے والوں نے (یہ قومِ شعیب تھی) اور (بادشاہِ یَمن اسعَد ابوکریب) تُبّع (الحِمیَری) کی قوم نے، (الغرض اِن) سب نے رسولوں کو جھٹلایا، پس (اِن پر) میرا وعدۂ عذاب ثابت ہو کر رہاo

15. سو کیا ہم پہلی بار پیدا کرنے کے باعث تھک گئے ہیں؟ (ایسا نہیں) بلکہ وہ لوگ اَزسرِنَو پیدائش کی نسبت شک میں (پڑے) ہیںo

16. اور بیشک ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم اُن وسوسوں کو (بھی) جانتے ہیں جو اس کا نفس (اس کے دل و دماغ میں) ڈالتا ہے۔ اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیںo

17. جب دو لینے والے (فرشتے اس کے ہر قول و فعل کو تحریر میں) لے لیتے ہیں (جو) دائیں طرف اور بائیں طرف بیٹھے ہوئے ہیںo

18. وہ مُنہ سے کوئی بات نہیں کہنے پاتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان (لکھنے کے لئے) تیار رہتا ہےo

19. اور موت کی بے ہوشی حق کے ساتھ آپہنچی۔ (اے انسان!) یہی وہ چیز ہے جس سے تو بھاگتا تھاo

20. اور صُور پھونکا جائے گا، یہی (عذاب ہی) وعید کا دن ہےo

21. اور ہر جان (ہمارے حضور اس طرح) آئے گی کہ اُس کا ایک ہانکنے والا (فرشتہ) اور (دوسرا اعمال پر) گواہ ہوگاo

22. حقیقت میں تُو اِس (دن) سے غفلت میں پڑا رہا سو ہم نے تیرا پردۂ (غفلت) ہٹا دیا پس آج تیری نگاہ تیز ہےo

23. اور اس کے ساتھ رہنے والا (فرشتہ) کہے گا: یہ ہے جو کچھ میرے پاس تیار ہےo

24. (حکم ہوگا): پس تم دونوں (ایسے) ہر ناشکرگزار سرکش کو دوزخ میں ڈال دوo

25. جو نیکی سے روکنے والا ہے، حد سے بڑھ جانے والا ہے، شک کرنے اور ڈالنے والا ہےo

26. جس نے اﷲ کے ساتھ دوسرا معبود ٹھہرا رکھا تھا سو تم اسے سخت عذاب میں ڈال دوo

27. (اب) اس کا (دوسرا) ساتھی (شیطان) کہے گا: اے ہمارے رب! اِسے میں نے گمراہ نہیں کیا بلکہ یہ (خود ہی) پرلے درجے کی گمراہی میں مبتلا تھاo

28. ارشاد ہوگا: تم لوگ میرے حضور جھگڑا مَت کرو حالانکہ میں تمہاری طرف پہلے ہی (عذاب کی) وعید بھیج چکا ہوںo

29. میری بارگاہ میں فرمان بدلا نہیں جاتا اور نہ ہی میں بندوں پر ظلم کرنے والا ہوںo

30. اس دن ہم دوزخ سے فرمائیں گے: کیا تو بھر گئی ہے؟ اور وہ کہے گی: کیا کچھ اور زیادہ بھی ہےo

31. اور جنت پرہیزگاروں کے لئے قریب کر دی جائے گے، بالکل دُور نہیں ہوگیo

32. (اور اُن سے ارشاد ہوگا): یہ ہے وہ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا (کہ) ہر توبہ کرنے والے (اپنے دین اور ایمان کی) حفاظت کرنے والے کے لئے (ہے)o

33. جو (خدائے) رحمان سے بِن دیکھے ڈرتا رہا اور (اﷲ کی بارگاہ میں) رجوع و اِنابت والا دل لے کر حاضر ہواo

34. اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ، یہ ہمیشگی کا دن ہےo

35. اِس (جنت) میں اُن کے لئے وہ تمام نعمتیں (موجود) ہوں گی جن کی وہ خواہش کریں گے اور ہمارے حضور میں ایک نعمت مزید بھی ہے (یا اور بھی بہت کچھ ہے، سو عاشق مَست ہوجائیں گے)o

36. اور ہم نے اُن (کفار و مشرکینِ مکہّ) سے پہلے کتنی ہی اُمتوں کو ہلاک کر دیا جو طاقت و قوّت میں ان سے کہیں بڑھ کر تھیں، چنانچہ انہوں نے (دنیا کے) شہروں کو چھان مارا تھا کہ کہیں (موت یا عذاب سے) بھاگ جانے کی کوئی جگہ ہوo

37. بیشک اس میں یقیناً انتباہ اور تذکّر ہے اس شخص کے لئے جو صاحبِ دل ہے (یعنی غفلت سے دوری اور قلبی بیداری رکھتا ہے) یا کان لگا کرسُنتا ہے (یعنی توجہ کو یک سُو اور غیر سے منقطع رکھتا ہے) اور وہ (باطنی) مشاہدہ میں ہے (یعنی حسن و جمالِ الوھیّت کی تجلّیات میں گم رہتا ہے)o

38. اور بیشک ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور اُس (کائنات) کو جو دونوں کے درمیان ہے چھ زمانوں میں تخلیق کیا ہے، اور ہمیں کوئی تکان نہیں پہنچیo

39. سو آپ اُن باتوں پر جو وہ کہتے ہیں صبر کیجئے اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجئے طلوعِ آفتاب سے پہلے اور غروبِ آفتاب سے پہلےo

40. اور رات کے بعض اوقات میں بھی اس کی تسبیح کیجئے اور نمازوں کے بعد بھیo

41. اور (اُس دِن کا حال) خوب سن لیجئے جس دن ایک پکارنے والا قریبی جگہ سے پکارے گاo

42. جس دن لوگ سخت چنگھاڑ کی آواز کو بالیقین سنیں گے، یہی قبروں سے نکلنے کا دن ہوگاo

43. بیشک ہم ہی زندہ رکھتے ہیں اور ہم ہی موت دیتے ہیں اور ہماری ہی طرف پلٹ کر آنا ہےo

44. جِس دن زمین اُن پر سے پھٹ جائے گی تو وہ جلدی جلدی نکل پڑیں گے، یہ حشر (پھر سے لوگوں کو جمع کرنا) ہم پر نہایت آسان ہےo

45. ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ وہ کہتے ہیں اور آپ اُن پر جبر کرنے والے نہیں ہیں، پس قرآن کے ذریعے اس شخص کو نصیحت فرمائیے جو میرے وعدۂ عذاب سے ڈرتا ہےo


سُورة الذَّارِيَات

1. اُڑا کر بکھیر دینے والی ہواؤں کی قَسمo

2. اور (پانی کا) بارِ گراں اٹھانے والی بدلیوں کی قَسمo

3. اور خراماں خراماں چلنے والی کشتیوں کی قَسمo

4. اور کام تقسیم کرنے والے فرشتوں کی قَسمo

5. بیشک (آخرت کا) جو وعدہ تم سے کیا جا رہا ہے بالکل سچا ہےo

6. اور بیشک (اعمال کی) جزا و سزا ضرور واقع ہو کر رہے گیo

7. اور (ستاروں اور سیّاروں کی) کہکشاؤں اور گزرگاہوں والے آسمان کی قَسمo

8. بیشک تم مختلف بے جوڑ باتوں میں (پڑے) ہوo

9. اِس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن سے) وہی پھرتا ہے جِسے (علمِ ازلی سے) پھیر دیا گیاo

10. ظنّ و تخمین سے جھوٹ بولنے والے ہلاک ہو گئےo

11. جو جہالت و غفلت میں (آخرت کو)
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-02-11, 03:44 PM   #30
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,228
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default پارہ نمبر 27

پاره قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ

31. (ابراہیم علیہ السلام نے) کہا: اے بھیجے ہوئے فرشتو! (اس بشارت کے علاوہ) تمہارا (آنے کا) بنیادی مقصد کیا ہےo

32. انہوں نے کہا: ہم مجرِم قوم (یعنی قومِ لُوط) کی طرف بھیجے گئے ہیںo

33. تاکہ ہم اُن پر مٹی کے پتھریلے کنکر برسائیںo

34. (وہ پتھر جن پر) حد سے گزر جانے والوں کے لئے آپ کے رب کی طرف سے نشان لگا دیا گیا ہےo

35. پھر ہم نے ہر اُس شخص کو (قومِ لُوط کی بستی سے) باہر نکال دیا جو اس میں اہلِ ایمان میں سے تھاo

36. سو ہم نے اُس بستی میں مسلمانوں کے ایک گھر کے سوا (اور کوئی گھر) نہیں پایا (اس میں حضرت لوط علیہ السلام اور ان کی دو صاحبزادیاں تھیں)o

37. اور ہم نے اُس (بستی) میں اُن لوگوں کے لئے (عبرت کی) ایک نشانی باقی رکھی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیںo

38. اور موسٰی (علیہ السلام کے واقعہ) میں (بھی نشانیاں ہیں) جب ہم نے انہیں فرعون کی طرف واضح دلیل دے کر بھیجاo

39. تو اُس نے اپنے اراکینِ سلطنت سمیت رُوگردانی کی اور کہنے لگا: (یہ) جادوگر یا دیوانہ ہےo

40. پھر ہم نے اُسے اور اُس کے لشکر کو (عذاب کی) گرفت میں لے لیا اور اُن (سب) کو دریا میں غرق کر دیا اور وہ تھا ہی قابلِ ملامت کام کرنے والاo

41. اور (قومِ) عاد (کی ہلاکت) میں بھی (نشانی) ہے جبکہ ہم نے اُن پر بے خیر و برکت ہوا بھیجیo

42. وہ جس چیز پر بھی گزرتی تھی اسے ریزہ ریزہ کئے بغیر نہیں چھوڑتی تھیo

43. اور (قومِ) ثمود (کی ہلاکت) میں بھی (عبرت کی نشانی ہے) جبکہ اُن سے کہا گیا کہ تم ایک معیّنہ وقت تک فائدہ اٹھا لوo

44. تو انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی، پس انہیں ہولناک کڑک نے آن لیا اور وہ دیکھتے ہی رہ گئےo

45. پھر وہ نہ کھڑے رہنے پر قدرت پا سکے اور نہ وہ (ہم سے) بدلہ لے سکنے والے تھےo

46. اور اس سے پہلے نُوح (علیہ السلام) کی قوم کو (بھی ہلاک کیا)، بیشک وہ سخت نافرمان لوگ تھےo

47. اور آسمانی کائنات کو ہم نے بڑی قوت کے ذریعہ سے بنایا اور یقیناً ہم (اس کائنات کو) وسعت اور پھیلاؤ دیتے جا رہے ہیںo

48. اور (سطحِ) زمین کو ہم ہی نے (قابلِ رہائش) فرش بنایا سو ہم کیا خوب سنوارنے اور سیدھا کرنے والے ہیںo

49. اور ہم نے ہر چیز سے دو جوڑے پیدا فرمائے تاکہ تم دھیان کرو اور سمجھوo

50. پس تم اﷲ کی طرف دوڑ چلو، بیشک میں اُس کی طرف سے تمہیں کھلا ڈر سنانے والا ہوںo

51. اور اﷲ کے سوا کوئی دوسرا معبود نہ بناؤ، بیشک میں اس کی جانب سے تمہیں کھلا ڈر سنانے والا ہوںo

52. اسی طرح اُن سے پہلے لوگوں کے پاس بھی کوئی رسول نہیں آیا مگر انہوں نے یہی کہا کہ (یہ) جادوگر ہے یا دیوانہ ہےo

53. کیا وہ لوگ ایک دوسرے کواس بات کی وصیت کرتے رہے؟ بلکہ وہ (سب) سرکش و باغی لوگ تھےo

54. سو آپ اُن سے نظرِ التفات ہٹا لیں پس آپ پر (اُن کے ایمان نہ لانے کی) کوئی ملامت نہیں ہےo

55. اور آپ نصیحت کرتے رہیں کہ بیشک نصیحت مومنوں کو فائدہ دیتی ہےo

56. اور میں نے جنّات اور انسانوں کو صرف اسی لئے پیدا کیا کہ وہ میری بندگی اختیار کریںo

57. نہ میں اُن سے رِزق (یعنی کمائی) طلب کرتا ہوں اور نہ اس کا طلب گار ہوں کہ وہ مجھے (کھانا) کھلائیںo

58. بیشک اﷲ ہی ہر ایک کا روزی رساں ہے، بڑی قوت والا ہے، زبردست مضبوط ہے (اسے کسی کی مدد و تعاون کی حاجت نہیں)o

59. پس ان ظالموں کے لئے (بھی) حصۂ عذاب مقرّر ہے ان کے (پہلے گزرے ہوئے) ساتھیوں کے حصۂ عذاب کی طرح، سو وہ مجھ سے جلدی طلب نہ کریںo

60. سو کافروں کے لئے اُن کے اُس دِن میں بڑی تباہی ہے جس کا اُن سے وعدہ کیا جا رہا ہےo


سُورة الطُّوْر

1. (کوہِ) طُور کی قَسمo

2. اور لکھی ہوئی کتاب کی قَسمo

3. (جو) کھلے صحیفہ میں (ہے)o

4. اور (فرشتوں سے) آباد گھر (یعنی آسمانی کعبہ) کی قَسمo

5. اور اونچی چھت (یعنی بلند آسمان یا عرشِ معلٰی) کی قَسمo

6. اور اُبلتے ہوئے سمندر کی قَسمo

7. بیشک آپ کے رب کا عذاب ضرور واقع ہو کر رہے گاo

8. اسے کوئی دفع کرنے والا نہیںo

9. جس دن آسمان سخت تھر تھراہٹ کے ساتھ لرزے گاo

10. اور پہاڑ (اپنی جگہ چھوڑ کر بادلوں کی طرح) تیزی سے اڑنے اور (ذرّات کی طرح) بکھرنے لگیں گےo

11. سو اُس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی تباہی ہےo

12. جو باطل (بے ہودگی) میں پڑے غفلت کا کھیل کھیل رہے ہیںo

13. جس دن کو وہ دھکیل دھکیل کر آتشِ دوزخ کی طرف لائے جائیں گےo

14. (اُن سے کہا جائے گا یہ ہے وہ جہنّم کی آگ جسے تم جھٹلایا کرتے تھےo

15. سو کیا یہ جادو ہے یا تمہیں دکھائی نہیں دیتاo

16. اس میں داخل ہو جاؤ، پھر تم صبر کرو یا صبر نہ کرو، تم پر برابر ہے، تمہیں صرف انہی کاموں کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے رہے تھےo

17. بیشک متّقی لوگ بہشتوں اور نعمتوں میں ہوں گےo

18. خوش اور لطف اندوز ہوں گے اُن (عطاؤں) سے جن سے اُن کے رب نے انہیں نوازا ہوگا، اور اُن کا رب انہیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھے گاo

19. (اُن سے کہا جائے گا تم اُن (نیک) اعمال کے صلہ میں جو تم کرتے رہے تھے خوب مزے سے کھاؤ اور پیوo

20. وہ صف در صف بچھے ہوئے تختوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے، اور ہم گوری رنگت (اور) دلکش آنکھوں والی حوروں کو اُن کی زوجیت میں دے دیں گےo

21. اور جو لوگ ایمان لائے اور اُن کی اولاد نے ایمان میں اُن کی پیروی کی، ہم اُن کی اولاد کو (بھی) (درجاتِ جنت میں) اُن کے ساتھ ملا دیں گے (خواہ اُن کے اپنے عمل اس درجہ کے نہ بھی ہوں یہ صرف اُن کے صالح آباء کے اکرام میں ہوگا) اور ہم اُن (صالح آباء) کے ثوابِ اعمال سے بھی کوئی کمی نہیں کریں گے، (علاوہ اِس کے) ہر شخص اپنے ہی عمل (کی جزا و سزا) میں گرفتار ہوگاo

22. اور ہم انہیں پھل (میوے) اور گوشت، جو وہ چاہیں گے زیادہ سے زیادہ دیتے رہیں گےo

23. وہاں یہ لوگ جھپٹ جھپٹ کر (شرابِ طہور کے) جام لیں گے، اس (شرابِ جنت) میں نہ کوئی بے ہودہ گوئی ہوگی اور نہ گناہ گاری ہوگیo

24. اور نوجوان (خدمت گزار) اُن کے اِردگرد گھومتے ہوں گے، گویا وہ غلاف میں چھپائے ہوئے موتی ہیںo

25. اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر باہم پرسشِ احوال کریں گےo

26. وہ کہیں گے: بیشک ہم اس سے پہلے اپنے گھروں میں (عذابِ الٰہی سے) ڈرتے رہتے تھےo

27. پس اﷲ نے ہم پر احسان فرما دیا اور ہمیں نارِ جہنّم کے عذاب سے بچا لیاo

28. بیشک ہم پہلے سے ہی اُسی کی عبادت کیا کرتے تھے، بیشک وہ احسان فرمانے والا بڑا رحم فرمانے والا ہےo

29. سو (اے حبیبِ مکرّم!) آپ نصیحت فرماتے رہیں پس آپ اپنے رب کے فضل و کرم سے نہ تو کاہن (یعنی جنّات کے ذریعے خبریں دینے والے) ہیں اور نہ دیوانےo

30. کیا (کفّار) کہتے ہیں: (یہ) شاعر ہیں؟ ہم اِن کے حق میں حوادثِ زمانہ کا انتظار کر رہے ہیںo

31. فرما دیجئے: تم (بھی) منتظر رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ (تمہاری ہلاکت کا) انتظار کرنے والوں میں ہوںo

32. کیا اُن کی عقلیں انہیں یہ (بے عقلی کی باتیں) سُجھاتی ہیں یا وہ سرکش و باغی لوگ ہیںo

33. یا وہ کہتے ہیں کہ اس (رسول) نے اس (قرآن) کو اَزخود گھڑ لیا ہے، (ایسا نہیں) بلکہ وہ (حق کو) مانتے ہی نہیں ہیںo

34. پس انہیں چاہئے کہ اِس (قرآن) جیسا کوئی کلام لے آئیں اگر وہ سچے ہیںo

35. کیا وہ کسی شے کے بغیر ہی پیدا کر دیئے گئے ہیں یا وہ خود ہی خالق ہیںo

36. یا انہوں نے ہی آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، (ایسا نہیں) بلکہ وہ (حق بات پر) یقین ہی نہیں رکھتےo

37. یا اُن کے پاس آپ کے رب کے خزانے ہیں یا وہ اُن پر نگران (اور) داروغے ہیںo

38. یا اُن کے پاس کوئی سیڑھی ہے (جس پر چڑھ کر) وہ اُس (آسمان) میں کان لگا کر باتیں سن لیتے ہیں؟ سو جو اُن میں سے سننے والا ہے اُسے چاہئے کہ روشن دلیل لائےo

39. کیا اس (خدا) کے لئے بیٹیاں ہیں اور تمہارے لئے بیٹے ہیںo

40. کیا آپ اُن سے کوئی اُجرت طلب فرماتے ہیں کہ وہ تاوان کے بوجھ سے دبے جا رہے ہیںo

41. کیا اُن کے پاس غیب (کا علم) ہے کہ وہ لکھ لیتے ہیںo

42. کیا وہ (آپ سے) کوئی چال چلنا چاہتے ہیں، تو جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ خود ہی اپنے دامِ فریب میں پھنسے جا رہے ہیںo

43. کیا اﷲ کے سوا اُن کا کوئی معبود ہے، اﷲ ہر اُس چیز سے پاک ہے جسے وہ (اﷲ کا) شریک ٹھہراتے ہیںo

44. اور اگر وہ آسمان سے کوئی ٹکڑا (اپنے اوپر) گرتا ہوا دیکھ لیں تو (تب بھی یہ) کہیں گے کہ تہ بہ تہ (گہرا) بادل ہےo

45. سو آپ اُن کو (اُن کے حال پر) چھوڑ دیجئے یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن سے آملیں جس میں وہ ہلاک کر دیئے جائیں گےo

46. جس دِن نہ اُن کا مکر و فریب ان کے کچھ کام آئے گا اور نہ ہی اُن کی مدد کی جائے گےo

47. اور بیشک جو لوگ ظلم کر رہے ہیں اُن کے لئے اس عذاب کے علاوہ بھی عذاب ہے، لیکن اُن میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیںo

48. اور (اے حبیبِ مکرّم! اِن کی باتوں سے غم زدہ نہ ہوں) آپ اپنے رب کے حکم کی خاطر صبر جاری رکھئے بیشک آپ (ہر وقت) ہماری آنکھوں کے سامنے (رہتے) ہیں٭ اور آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجئے جب بھی آپ کھڑے ہوںo
٭ اگر ان ظالموں نے نگاہیں پھیر لی ہیں تو کیا ہوا، ہم تو آپ کی طرف سے نگاہیں ہٹاتے ہی نہیں ہیں اور ہم ہر وقت آپ کو ہی تکتے رہتے ہیں۔
49. اور رات کے اوقات میں بھی اس کی تسبیح کیجئے اور (پچھلی رات بھی) جب ستارے چھپتے ہیںo


سُورة النَّجْم

1. قَسم ہے روشن ستارے (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جب وہ (چشمِ زدن میں شبِ معراج اوپر جا کر) نیچے اترےo

2. تمہیں (اپنی) صحبت سے نوازنے والے (یعنی تمہیں اپنے فیضِ صحبت سے صحابی بنانے والے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ (کبھی) راہ بھولے اور نہ (کبھی) راہ سے بھٹکےo

3. اور وہ (اپنی) خواہش سے کلام نہیں کرتےo

4. اُن کا ارشاد سَراسَر وحی ہوتا ہے جو انہیں کی جاتی ہےo

5. ان کو بڑی قوّتوں و الے (رب) نے (براہِ راست) علمِ (کامل) سے نوازاo

6. جو حسنِ مُطلَق ہے، پھر اُس (جلوۂ حُسن) نے (اپنے) ظہور کا ارادہ فرمایاo

7. اور وہ (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شبِ معراج عالمِ مکاں کے) سب سے اونچے کنارے پر تھے (یعنی عالَمِ خلق کی انتہاء پر تھے)o

8. پھر وہ (ربّ العزّت اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیا٭o
٭ یہ معنی امام بخاری نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے الجامع الصحیح میں روایت کیا ہے، مزید حضرت عبد اﷲ بن عباس، امام حسن بصری، امام جعفر الصادق، محمد بن کعب القرظی التابعی، ضحّاک رضی اللہ عنہم اور دیگر کئی ائمہِ تفسیر کا قول بھی یہی ہے۔
9. پھر (جلوۂ حق اور حبیبِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں صرف) دو کمانوں کی مقدار فاصلہ رہ گیا یا (انتہائے قرب میں) اس سے بھی کم (ہو گیا)o

10. پس (اُس خاص مقامِ قُرب و وصال پر) اُس (اﷲ) نے اپنے عبدِ (محبوب) کی طرف وحی فرمائی جو (بھی) وحی فرمائیo

11. (اُن کے) دل نے اُس کے خلاف نہیں جانا جو (اُن کی) آنکھوں نے دیکھاo

12. کیا تم ان سے اِس پر جھگڑتے ہو کہ جو انہوں نے دیکھاo

13. اور بیشک انہوں نے تو اُس (جلوۂ حق) کو دوسری مرتبہ (پھر) دیکھا (اور تم ایک بار دیکھنے پر ہی جھگڑ رہے ہو)٭o
٭ یہ معنی ابن عباس، ابوذر غفاری، عکرمہ التابعی، حسن البصری التابعی، محمد بن کعب القرظی التابعی، ابوالعالیہ الریاحی التابعی، عطا بن ابی رباح التابعی، کعب الاحبار التابعی، امام احمد بن حنبل اور امام ابوالحسن اشعری رضی اللہ عنہم اور دیگر ائمہ کے اَقوال پر ہے۔
14. سِدرۃ المنتہٰی کے قریبo

15. اسی کے پاس جنت الْمَاْوٰى ہےo

16. جب نورِ حق کی تجلیّات سِدرَۃ (المنتہٰی) کو (بھی) ڈھانپ رہی تھیں جو کہ (اس پر) سایہ فگن تھیں٭o
٭ یہ معنی بھی امام حسن بصری رضی اللہ عنہ و دیگر ائمہ کے اقوال پر ہے۔
17. اور اُن کی آنکھ نہ کسی اور طرف مائل ہوئی اور نہ حد سے بڑھی (جس کو تکنا تھا اسی پر جمی رہی)o

18. بیشک انہوں نے (معراج کی شب) اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیںo

19. کیا تم نے لات اور عزٰی (دیویوں) پر غور کیا ہےo

20. اور اُس تیسری ایک اور (دیوی) منات کو بھی (غور سے دیکھا ہے؟ تم نے انہیں اﷲ کی بیٹیاں بنا رکھا ہے؟)o

21. (اے مشرکو!) کیا تمہارے لئے بیٹے ہیں اور اس (اﷲ) کے لئے بیٹیاں ہیںo

22. (اگر تمہارا تصور درست ہے) تب تو یہ تقسیم بڑی ناانصافی ہےo

23. مگر (حقیقت یہ ہے کہ) وہ (بت) محض نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں۔ اﷲ نے ان کی نسبت کوئی دلیل نہیں اتاری، وہ لوگ محض وہم و گمان کی اور نفسانی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں حالانکہ اُن کے پاس اُن کے رب کی طرف سے ہدایت آچکی ہےo

24. کیا انسان کے لئے وہ (سب کچھ) میسّر ہے جس کی وہ تمنا کرتا ہےo

25. پس آخرت اور دنیا کا مالک تو اﷲ ہی ہےo

26. اور آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے ہیں (کہ کفّار و مشرکین اُن کی عبادت کرتے اور ان سے شفاعت کی امید رکھتے ہیں) جِن کی شفاعت کچھ کام نہیں آئے گی مگر اس کے بعد کہ اﷲ جسے چاہتا ہے اور پسند فرماتا ہے اُس کے لئے اِذن (جاری) فرما دیتا ہےo

27. بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کو عورتوں کے نام سے موسوم کر دیتے ہیںo

28. اور انہیں اِس کا کچھ بھی علم نہیں ہے، وہ صرف گمان کے پیچھے چلتے ہیں، اور بیشک گمان یقین کے مقابلے میں کسی کام نہیں آتاo

29. سو آپ اپنی توجّہ اس سے ہٹا لیں جو ہماری یاد سے رُوگردانی کرتا ہے اور سوائے دنیوی زندگی کے اور کوئی مقصد نہیں رکھتاo

30. اُن لوگوں کے علم کی رسائی کی یہی حد ہے، بیشک آپ کا رب اس شخص کو (بھی) خوب جانتا ہے جو اُس کی راہ سے بھٹک گیا ہے اور اس شخص کو (بھی) خوب جانتا ہے جِس نے ہدایت پا لی ہےo

31. اور اﷲ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے تاکہ جن لوگوں نے برائیاں کیں انہیں اُن کے اعمال کا بدلہ دے اور جن لوگوں نے نیکیاں کیں انہیں اچھا اجر عطا فرمائےo

32. جو لوگ چھوٹے گناہوں (اور لغزشوں) کے سوا بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں، بیشک آپ کا رب بخشش کی بڑی گنجائش رکھنے والا ہے، وہ تمہیں خوب جانتا ہے جب اس نے تمہاری زندگی کی ابتداء اور نشو و نما زمین (یعنی مٹی) سے کی تھی اور جبکہ تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں جَنیِن (یعنی حمل) کی صورت میں تھے، پس تم اپنے آپ کو بڑا پاک و صاف مَت جتایا کرو، وہ خوب جانتا ہے کہ (اصل) پرہیزگار کون ہےo

33. کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے (حق سے) منہ پھیر لیاo

34. اور اس نے (راہِ حق میں) تھوڑا سا (مال) دیا اور (پھر ہاتھ) روک لیاo

35. کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ دیکھ رہا ہےo

36. کیا اُسے اُن (باتوں) کی خبر نہیں دی گئی جو موسٰی (علیہ السلام) کے صحیفوں میں (مذکور) تھیںo

37. اور ابراہیم (علیہ السلام) کے (صحیفوں میں تھیں) جنہوں نے (اﷲ کے ہر امر کو) بتمام و کمال پورا کیاo

38. کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے (کے گناہوں) کا بوجھ نہیں اٹھائے گاo

39. اور یہ کہ انسان کو (عدل میں) وہی کچھ ملے گا جس کی اُس نے کوشش کی ہوگی (رہا فضل اس پر کسی کا حق نہیں وہ محض اﷲ کی عطاء و رضا ہے جس پر جتنا چاہے کر دے)o

40. اور یہ کہ اُس کی ہر کوشش عنقریب دکھا دی جائے گی (یعنی ظاہر کر دی جائے گی)o

41. پھر اُسے (اُس کی ہر کوشش کا) پورا پورا بدلہ دیا جائے گاo

42. اور یہ کہ (بالآخر سب کو) آپ کے رب ہی کی طرف پہنچنا ہےo

43. اور یہ کہ وہی (خوشی دے کر) ہنساتا ہے اور (غم دے کر) رُلاتا ہےo

44. اور یہ کہ وہی مارتا ہے اور جِلاتا ہےo

45. اور یہ کہ اُسی نے نَر اور مادہ دو قِسموں کو پیدا کیاo

46. نطفہ (ایک تولیدی قطرہ) سے جبکہ وہ (رحمِ مادہ میں) ٹپکایا جاتا ہےo

47. اور یہ کہ (مرنے کے بعد) دوبارہ زندہ کرنا (بھی) اسی پر ہےo

48. اور یہ کہ وہی (بقدرِ ضرورت دے کر) غنی کر دیتا ہے اور وہی (ضرورت سے زائد دے کر) خزانے بھر دیتا ہےo

49. اور یہ کہ وہی شِعرٰی (ستارے) کا رب ہے (جس کی دورِ جاہلیت میں پوجا کی جاتی تھی)o

50. اور یہ کہ اسی نے پہلی (قومِ) عاد کو ہلاک کیاo

51. اور (قومِ) ثمود کو (بھی)، پھر (ان میں سے کسی کو) باقی نہ چھوڑاo

52. اور اس سے پہلے قومِ نوح کو (بھی ہلاک کیا)، بیشک وہ بڑے ہی ظالم اور بڑے ہی سرکش تھےo

53. اور (قومِ لُوط کی) الٹی ہوئی بستیوں کو (اوپر اٹھا کر) اُسی نے نیچے دے پٹکاo

54. پس اُن کو ڈھانپ لیا جس نے ڈھانپ لیا (یعنی پھر اُن پر پتھروں کی بارش کر دی گئی)o

55. سو (اے انسان!) تو اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں میں شک کرے گاo

56. یہ (رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی) اگلے ڈر سنانے والوں میں سے ایک ڈر سنانے والے ہیںo

57. آنے والی (قیامت کی گھڑی) قریب آپہنچیo

58. اﷲ کے سوا اِسے کوئی ظاہر (اور قائم) کرنے والا نہیں ہےo

59. پس کیا تم اس کلام سے تعجب کرتے ہوo

60. اور تم ہنستے ہو اور روتے نہیں ہوo

61. اور تم (غفلت کی) کھیل میں پڑے ہوo

62. سو اﷲ کے لئے سجدہ کرو اور (اُس کی) عبادت کروo


سُورة الْقَمَر

1. قیامت قریب آپہنچی اور چاند دو ٹکڑے ہوگیاo

2. اور اگر وہ (کفّار) کوئی نشانی (یعنی معجزہ) دیکھتے ہیں تو مُنہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ (یہ تو) ہمیشہ سے چلا آنے والا طاقتور جادو ہےo

3. اور انہوں نے (اب بھی) جھٹلایا اور اپنی خواہشات کے پیچھے چلے اور ہر کام (جس کا وعدہ کیا گیا ہے) مقررّہ وقت پر ہونے والا ہےo

4. اور بیشک اُن کے پاس (پہلی قوموں کی) ایسی خبریں آچکی ہیں جن میں (کفر و نافرمانی پر بڑی) عبرت و سرزنش ہےo

5. (یہ قرآن) کامل دانائی و حکمت ہے کیا پھر بھی ڈر سنانے والے کچھ فائدہ نہیں دیتےo

6. سو آپ اُن سے منہ پھیر لیں، جس دن بلانے والا (فرشتہ) ایک نہایت ناگوار چیز (میدانِ حشر) کی طرف بلائے گاo

7. اپنی آنکھیں جھکائے ہوئے قبروں سے نکل پڑیں گے گویا وہ پھیلی ہوئی ٹڈیاں ہیںo

8. پکارنے والے کی طرف دوڑ کر جا رہے ہوں گے، کفّار کہتے ہوں گے: یہ بڑا سخت دِن ہےo

9. اِن سے پہلے قومِ نوح نے (بھی) جھٹلایا تھا۔ سو انہوں نے ہمارے بندۂ (مُرسَل نُوح علیہ السلام) کی تکذیب کی اور کہا: (یہ) دیوانہ ہے، اور انہیں دھمکیاں دی گئیںo

10. سو انہوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں (اپنی قوم کے مظالم سے) عاجز ہوں پس تو انتقام لےo

11. پھر ہم نے موسلادھار بارش کے ساتھ آسمان کے دروازے کھول دئیےo

12. اور ہم نے زمین سے چشمے جاری کر دیئے، سو (زمین و آسمان کا) پانی ایک ہی کام کے لئے جمع ہو گیا جو (اُن کی ہلاکت کے لئے) پہلے سے مقرر ہو چکا تھاo

13. اور ہم نے اُن کو (یعنی نوح علیہ السلام کو) تختوں اور میخوں والی (کشتی) پر سوار کر لیاo

14. جو ہماری نگاہوں کے سامنے (ہماری حفاظت میں) چلتی تھی، (یہ سب کچھ) اس (ایک) شخص (نوح علیہ السلام) کا بدلہ لینے کی خاطر تھا جس کا انکار کیا گیا تھاo

15. اور بیشک ہم نے اِس (طوفانِ نوح کے آثار) کو نشانی کے طور پر باقی رکھا تو کیا کوئی سوچنے (اور نصیحت قبول کرنے) والا ہےo

16. سو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا تھاo

17. اور بیشک ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کر دیا ہے تو کیا کوئی نصیحت قبول کرنے والا ہےo

18. (قومِ) عاد نے بھی (پیغمبروں کو) جھٹلایا تھا سو (اُن پر) میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا (عبرت ناک) رہاo

19. بیشک ہم نے اُن پر نہایت سخت آواز والی تیز آندھی (اُن کے حق میں) دائمی نحوست کے دن میں بھیجیo

20. جو لوگوں کو (اس طرح) اکھاڑ پھینکتی تھی گویا وہ اکھڑے ہوئے کھجور کے درختوں کے تنے ہیںo

21. پھر میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا (عبرت ناک) رہاo

22. اور بیشک ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کر دیا ہے سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہےo

23. (قومِ) ثمود نے بھی ڈرسنانے والے پیغمبروں کو جھٹلایاo

24. پس وہ کہنے لگے: کیا ایک بشر جو ہم ہی میں سے ہے، ہم اس کی پیروی کریں، تب تو ہم یقیناً گمراہی اور دیوانگی میں ہوں گےo

25. کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (یعنی وحی) اتاری گئی ہے؟ بلکہ وہ بڑا جھوٹا اور خود پسند (اور متکبّر) ہےo

26. انہیں کل (قیامت کے دن) ہی معلوم ہو جائے گا کہ کون بڑا جھوٹا، خود پسند (اور متکبّر) ہےo

27. بیشک ہم اُن کی آزمائش کے لئے اونٹنی بھیجنے والے ہیں، پس (اے صالح!) اُن (کے انجام) کا انتظار کریں اور صبر جاری رکھیںo

28. انہیں اس بات سے آگاہ کر دیں کہ اُن کے (اور اونٹنی کے) درمیان پانی تقسیم کر دیا گیا ہے، ہر ایک (کو) پانی کا حصّہ اس کی باری پر حاضر کیا جائے گاo

29. پس انہوں نے (قدار نامی) اپنے ایک ساتھی کو بلایا، اس نے (اونٹنی پر تلوار سے) وار کیا اور کونچیں کاٹ دیںo

30. پھر میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا (عبرت ناک) ہواo

31. بیشک ہم نے اُن پر ایک نہایت خوفناک آواز بھیجی سو وہ باڑ لگانے والے کے بچے ہوئے اور روندے گئے بھوسے کی طرح ہوگئےo

32. اور بیشک ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کر دیا ہے تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہےo

33. قومِ لُوط نے بھی ڈرسنانے والوں کو جھٹلایاo

34. بیشک ہم نے اُن پر کنکریاں برسانے والی آندھی بھیجی سوائے اولادِ لُوط (علیہ السلام) کے، ہم نے انہیں پچھلی رات (عذاب سے) بچا لیاo

35. اپنی طرف سے خاص انعام کے ساتھ، اسی طرح ہم اس شخص کو جزا دیا کرتے ہیں جو شکر گزار ہوتا ہےo

36. اور بیشک لُوط (علیہ السلام) نے انہیں ہماری پکڑ سے ڈرایا تھا پھر اُن لوگوں نے اُن کے ڈرانے میں شک کرتے ہوئے جھٹلایاo

37. اور بیشک اُن لوگوں نے لُوط (علیہ السلام) سے اُن کے مہمانوں کو چھین لینے کا ارادہ کیا سو ہم نے اُن کی آنکھوں کی ساخت مٹا کر انہیں بے نور کر دیا۔ پھر (اُن سے کہا میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھوo

38. اور بیشک اُن پر صبح سویرے ہی ہمیشہ قائم رہنے والا عذاب آپہنچاo

39. پھر (اُن سے کہا گیا میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھوo

40. اور بیشک ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کر دیا ہے تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہےo

41. اور بیشک قومِ فرعون کے پاس (بھی) ڈر سنانے والے آئےo

42. انہوں نے ہماری سب نشانیوں کو جھٹلا دیا پھر ہم نے انہیں بڑے غالب بڑی قدرت والے کی پکڑ کی شان کے مطابق پکڑ لیاo

43. (اے قریشِ مکہ!) کیا تمہارے کافر اُن (اگلے) لوگوں سے بہتر ہیں یا تمہارے لئے (آسمانی) کتابوں میں نجات لکھی ہوئی ہےo

44. یا یہ (کفّار) کہتے ہیں کہ ہم (نبیِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر) غالب رہنے والی مضبوط جماعت ہیںo

45. عنقریب یہ جتّھہ (میدانِ بدر میں) شکست کھائے گا اور یہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گےo

46. بلکہ اُن کا (اصل) وعدہ تو قیامت ہے اور قیامت کی گھڑی بہت ہی سخت اور بہت ہی تلخ ہےo

47. بیشک مجرم لوگ گمراہی اور دیوانگی (یا آگ کی لپیٹ) میں ہیںo

48. جس دن وہ لوگ اپنے مُنہ کے بل دوزخ میں گھسیٹے جائیں گے (تو اُن سے کہا جائے گا آگ میں جلنے کا مزہ چکھوo

49. بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک مقرّرہ اندازے کے مطابق بنایا ہےo

50. اور ہمارا حکم تو فقط یک بارگی واقع ہو جاتا ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا ہےo

51. اور بیشک ہم نے تمہارے (بہت سے) گروہوں کو ہلاک کر ڈالا، سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہےo

52. اور جو کچھ (بھی) انہوں نے کیا اعمال ناموں میں (درج) ہےo

53. اور ہر چھوٹا اور بڑا (عمل) لکھ دیا گیا ہےo

54. بیشک پرہیزگار جنتوں اور نہروں میں (لطف اندوز) ہوں گےo

55. پاکیزہ مجالس میں (حقیقی) اقتدار کے مالک بادشاہ کی خاص قربت میں (بیٹھے) ہوں گےo


سُورة الرَّحْمٰن

1. (وہ) رحمان ہی ہےo

2. جس نے (خود رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو) قرآن سکھایا٭o
٭ کفّار و مشرکینِ مکہ کے اِس الزام کے جواب میں یہ آیت اتری کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (معاذ اللہ) کوئی شخص خفیہ قرآن سکھاتا ہے۔ حوالہ جات کے لئے ملاحظہ کریں: تفسیر بغوی، خازن، القشیری، البحر المحیط، الجمل، فتح القدیر، المظہری، اللباب، الصاوی، السراج المنیر، مراغی، اضواء البیان اور مجمع البیان وغیرھم۔
3. اُسی نے (اِس کامل) انسان کو پیدا فرمایاo

4. اسی نے اِسے (یعنی نبیِ برحق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مَا کَانَ وَ مَا یَکُونُ کا) بیان سکھایا٭o
٭ مفسرین کرام نے بیان کا معنی علمِ مَا کَانَ وَ مَا یَکُونُ بھی بیان کیا ہے۔ حوالہ جات کے لئے ملاخطہ کریں: تفسیر بغوی، خازن، جمل، المظہری، اللباب، زاد المسیر، صاوی، السراج المنیر اور مجمع البیان۔
5. سورج اور چاند (اسی کے) مقررّہ حساب سے چل رہے ہیںo

6. اور زمین پر پھیلنے والی بوٹیاں اور سب درخت (اسی کو) سجدہ کر رہے ہیںo

7. اور اسی نے آسمان کو بلند کر رکھا ہے اور (اسی نے عدل کے لئے) ترازو قائم کر رکھی ہےo

8. تاکہ تم تولنے میں بے اعتدالی نہ کروo

9. اور انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک رکھو اور تول کو کم نہ کروo

10. زمین کو اسی نے مخلوق کے لئے بچھا دیاo

11. اس میں میوے ہیں اور خوشوں والی کھجوریں ہیںo

12. اور بھوسہ والا اناج ہے اور خوشبودار (پھل) پھول ہیںo

13. پس (اے گروہِ جنّ و انسان!) تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo

14. اسی نے انسان کو ٹھیکری کی طرح بجتے ہوئے خشک گارے سے بنایاo

15. اور جنّات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیاo

16. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo

17. (وہی) دونوں مشرقوں کا مالک ہے اور (وہی) دونوں مغربوں کا مالک ہےo

18. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo

19. اسی نے دو سمندر رواں کئے جو باہم مل جاتے ہیںo

20. اُن دونوں کے درمیان ایک آڑ ہے وہ (اپنی اپنی) حد سے تجاوز نہیں کرسکتےo

21. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo

22. اُن دونوں (سمندروں) سے موتی (جس کی جھلک سبز ہوتی ہے) اور مَرجان (جِس کی رنگت سرخ ہوتی ہے) نکلتے ہیںo

23. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo

24. اوربلند بادبان والے بڑے بڑے جہاز (بھی) اسی کے (اختیار میں) ہیں جو پہاڑوں کی طرح سمندر میں (کھڑے ہوتے یا چلتے) ہیںo

25. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo

26. ہر کوئی جو بھی زمین پر ہے فنا ہو جانے والا ہےo

27. اور آپ کے رب ہی کی ذات باقی رہے گی جو صاحبِ عظمت و جلال اور صاحبِ انعام و اکرام ہےo

28. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo

29. سب اسی سے مانگتے ہیں جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ وہ ہر آن نئی شان میں ہوتا ہےo

30. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo

31. اے ہر دو گروہانِ (اِنس و جِن!) ہم عنقریب تمہارے حساب کی طرف متوّجہ ہوتے ہیںo

32. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo

33. اے گروہِ جن و اِنس! اگر تم اِس بات پر قدرت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے باہر نکل سکو (اور تسخیرِ کائنات کرو) تو تم نکل جاؤ، تم جس (کرّۂ سماوی کے) مقام پر بھی نکل کر جاؤ گے وہاں بھی اسی کی سلطنت ہوگیo

34. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo

35. تم دونوں پر آگ کے خالص شعلے بھیج دیئے جائیں گے اور (بغیر شعلوں کے) دھواں (بھی بھیجا جائے گا) اور تم دونوں اِن سے بچ نہ سکو گےo

36. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo

37. پھر جب آسمان پھٹ جائیں گے اور جلے ہوئے تیل (یا سرخ چمڑے) کی طرح گلابی ہو جائیں گےo

38. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo

39. سو اُس دن نہ تو کسی انسان سے اُس کے گناہ کی بابت پوچھا جائے گا اور نہ ہی کسی جِن سےo

40. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo

41. مجرِم لوگ اپنے چہروں کی سیاہی سے پہچان لئے جائیں گے پس انہیں پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑ کر کھینچا جائے گاo

42. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo

43. (اُن سے کہا جائے گا یہی ہے وہ دوزخ جسے مجرِم لوگ جھٹلایا کرتے تھےo

44. وہ اُس (دوزخ) میں اور کھولتے گرم پانی میں گھومتے پھریں گےo

45. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo

46. اور جو شخص اپنے رب کے حضور (پیشی کے لئے) کھڑا ہونے سے ڈرتا ہے اُس کے لئے دو جنتیں ہیںo

47. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo

48. جو دونوں (سرسبز و شاداب) گھنی شاخوں والی (جنتیں) ہیںo

49. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo

50. ان دونوں میں دو چشمے بہہ رہے ہیںo

51. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo

52. ان دونوں میں ہر پھل (اور میوے) کی دو دو قِسمیں ہیںo

53. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo

54. اہلِ جنت ایسے بستروں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے جن کے استر نفِیس اور دبیز ریشم (یعنی اَطلس) کے ہوں گے، اور دونوں جنتوں کے پھل (اُن کے) قریب جھک رہے ہوں گےo

55. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo

56. اور اُن میں نیچی نگاہ رکھنے والی (حوریں) ہوں گی جنہیں پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا اور نہ کسی جِن نےo

57. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo

58. گویا وہ (حوریں) یا قوت اور مرجان ہیںo

59. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo

60. نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں ہےo

61. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo

62. اور (اُن کے لئے) اِن دو کے سوا دو اور بہشتیں بھی ہیںo

63. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo

64. وہ دونوں گہری سبز رنگت میں سیاہی مائل لگتی ہیںo

65. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo

66. اُن دونوں میں (بھی) دو چشمے ہیں جو خوب چھلک رہے ہوں گےo

67. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo

68. ان دونوں میں (بھی) پھل اور کھجوریں اور انار ہیںo

69. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo

70. ان میں (بھی) خوب سیرت و خوب صورت (حوریں) ہیںo

71. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo

72. ایسی حوریں جو خیموں میں پردہ نشین ہیںo

73. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo

74. انہیں پہلے نہ کسی انسان ہی نے ہاتھ سے چُھوا ہے اور نہ کسی جِن نےo

75. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo

76. (اہلِ جنت) سبز قالینوں پر اور نادر و نفیس بچھونوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گےo

77. پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گےo

78. آپ کے رب کا نام بڑی برکت والا ہے، جو صاحبِ عظمت و جلال اور صاحبِ اِنعام و اِکرام ہےo


سُورة الْوَاقِعَة

1. جب واقع ہونے والی (قیامت) واقع ہو جائے گیo

2. اُس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں ہےo

3. (وہ قیامت کسی کو) نیچا کر دینے والی (کسی کو) اونچا کر دینے والی (ہے)o

4. جب زمین کپکپا کر شدید لرزنے لگے گیo

5. اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گےo

6. پھر وہ غبار بن کر منتشر ہو جائیں گےo

7. اور تم لوگ تین قِسموں میں بٹ جاؤ گےo

8. سو (ایک) دائیں جانب والے، دائیں جانب والوں کا کیا کہناo

9. اور (دوسرے) بائیں جانب والے، کیا (ہی برے حال میں ہوں گے) بائیں جانب والےo

10. اور (تیسرے) سبقت لے جانے والے (یہ) پیش قدمی کرنے والے ہیںo

11. یہی لوگ (اللہ کے) مقرّب ہوں گےo

12. نعمتوں کے باغات میں (رہیں گے)o

13. (اِن مقرّبین میں) بڑا گروہ اگلے لوگوں میں سے ہوگاo

14. اور پچھلے لوگوں میں سے (ان میں) تھوڑے ہوں گےo

15. (یہ مقرّبین) زر نگار تختوں پر ہوں گےo

16. اُن پر تکیے لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گےo

17. ہمیشہ ایک ہی حال میں رہنے والے نوجوان خدمت گار ان کے اردگرد گھومتے ہوں گےo

18. کوزے، آفتابے اور چشموں سے بہتی ہوئی (شفاف) شرابِ (قربت) کے جام لے کر (حاضرِ خدمت رہیں گے)o

19. انہیں نہ تو اُس (کے پینے) سے دردِ سر کی شکایت ہوگی اور نہ ہی عقل میں فتور (اور بدمستی) آئے گیo

20. اور (جنّتی خدمت گزار) پھل (اور میوے) لے کر (بھی پھر رہے ہوں گے) جنہیں وہ (مقرّبین) پسند کریں گےo

21. اور پرندوں کا گوشت بھی (دستیاب ہوگا) جِس کی وہ (اہلِ قربت) خواہش کریں گےo

22. اور خوبصورت کشادہ آنکھوں والی حوریں بھی (اُن کی رفاقت میں ہوں گی)o

23. جیسے محفوظ چھپائے ہوئے موتی ہوںo

24. (یہ) اُن (نیک) اعمال کی جزا ہوگی جو وہ کرتے رہے تھےo

25. وہ اِس میں نہ کوئی بیہودگی سنیں گے اور نہ کوئی گناہ کی باتo

26. مگر ایک ہی بات (کہ یہ سلام والے ہر طرف سے) سلام ہی سلام سنیں گےo

27. اور دائیں جانب والے، کیا کہنا دائیں جانب والوں کاo

28. وہ بے خار بیریوں میںo

29. اور تہ بہ تہ کیلوں میںo

30. اور لمبے لمبے (پھیلے ہوئے) سایوں میںo

31. اور بہتے چھلکتے پانیوں میںo

32. اور بکثرت پھلوں اور میووں میں (لطف اندوز ہوں گے)o

33. جو نہ (کبھی) ختم ہوں گے اور نہ اُن (کے کھانے) کی ممانعت ہوگیo

34. اور (وہ) اونچے (پرشکوہ) فرشوں پر (قیام پذیر) ہوں گےo

35. بیشک ہم نے اِن (حوروں) کو (حسن و لطافت کی آئینہ دار) خاص خِلقت پر پیدا فرمایا ہےo

36. پھر ہم نے اِن کو کنواریاں بنایا ہےo

37. جو خوب محبت کرنے والی ہم عمر (ازواج) ہیںo

38. یہ (حوریں اور دیگر نعمتیں) دائیں جانب والوں کے لئے ہیںo

39. (ان میں) بڑی جماعت اگلے لوگوں میں سے ہوگیo

40. اور (ان میں) پچھلے لوگوں میں سے (بھی) بڑی ہی جماعت ہوگیo

41. اور بائیں جانب والے، کیا (ہی برے لوگ) ہیں بائیں جانب والےo

42. جو دوزخ کی سخت گرم ہوا اور کھولتے ہوئے پانی میںo

43. اور سیاہ دھویں کے سایے میں ہوں گےo

44. جو نہ (کبھی) ٹھنڈا ہوگا اور نہ فرحت بخش ہوگاo

45. بیشک وہ (اہلِ دوزخ) اس سے پہلے (دنیا میں) خوش حال رہ چکے تھےo

46. اور وہ گناہِ عظیم (یعنی کفر و شرک) پر اصرار کیا کرتے تھےo

47. اور کہا کرتے تھے کہ کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہم خاک (کا ڈھیر) اور (بوسیدہ) ہڈیاں ہو جائیں گے تو کیا ہم (پھر زندہ کر کے) اٹھائے جائیں گےo

48. اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی (زندہ کئے جائیں گے) o

49. آپ فرما دیں: بیشک اگلے اور پچھلےo

50. (سب کے سب) ایک معیّن دِن کے مقررّہ وقت پر جمع کئے جائیں گےo

51. پھر بیشک تم لوگ اے گمراہو! جھٹلانے والوo

52. تم ضرور کانٹے دار (تھوہڑ کے) درخت سے کھانے والے ہوo

53. سو اُس سے اپنے پیٹ بھرنے والے ہوo

54. پھر اُس پر سخت کھولتا پانی پینے والے ہوo

55. پس تم سخت پیاسے اونٹ کے پینے کی طرح پینے والے ہوo

56. یہ قیامت کے دِن اُن کی ضیافت ہوگیo

57. ہم ہی نے تمہیں پیدا کیا تھا پھر تم (دوبارہ پیدا کئے جانے کی) تصدیق کیوں نہیں کرتےo

58. بھلا یہ بتاؤ جو نطفہ (تولیدی قطرہ) تم (رِحم میں) ٹپکاتے ہوo

59. تو کیا اس (سے انسان) کو تم پیدا کرتے ہو یا ہم پیدا فرمانے والے o

6ہیں0. ہم ہی نے تمہارے درمیان موت کو مقرّر فرمایا ہے اور ہم (اِس کے بعد پھر زندہ کرنے سے بھی) عاجز نہیں ہیںo

61. اس بات سے (بھی عاجز نہیں ہیں) کہ تمہارے جیسے اوروں کو بدل (کر بنا) دیں اور تمہیں ایسی صورت میں پیدا کر دیں جسے تم جانتے بھی نہ ہوo

62. اور بیشک تم نے پہلے پیدائش (کی حقیقت) معلوم کر لی پھر تم نصیحت قبول کیوں نہیں کرتےo

63. بھلا یہ بتاؤ جو (بیج) تم کاشت کرتے ہوo

64. تو کیا اُس (سے کھیتی) کو تم اُگاتے ہو یا ہم اُگانے والے ہیںo

65. اگر ہم چاہیں تو اسے ریزہ ریزہ کر دیں پھر تم تعجب اور ندامت ہی کرتے رہ جاؤo

66. (اور کہنے لگو): ہم پر تاوان پڑ گیاo

67. بلکہ ہم بے نصیب ہوگئےo

68. بھلا یہ بتاؤ جو پانی تم پیتے ہوo

69. کیا اسے تم نے بادل سے اتارا ہے یا ہم اتارنے والے ہیںo

70. اگر ہم چاہیں تو اسے کھاری بنا دیں، پھر تم شکر ادا کیوں نہیں کرتےo

71. بھلا یہ بتاؤ جو آگ تم سُلگاتے ہوo

72. کیا اِس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم (اسے) پیدا فرمانے والے ہیںo

73. ہم ہی نے اِس (درخت کی آگ) کو (آتشِ جہنّم کی) یاد دلانے والی (نصیحت و عبرت) اور جنگلوں کے مسافروں کے لئے باعثِ منفعت بنایا ہےo

74. سو اپنے ربِّ عظیم کے نام کی تسبیح کیا کریںo

75. پس میں اُن جگہوں کی قَسم کھاتا ہوں جہاں جہاں قرآن کے مختلف حصے (رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر) اترتے ہیں٭o
٭ یہ ترجمہ حضرت عبد اللہ بن عباس کے بیان کردہ معنی پر کیا گیا ہے، مزید حضرت عکرمہ، حضرت مجاہد، حضرت عبد اللہ بن جبیر، حضرت سدی، حضرت فراء اور حضرت زجاج رضی اللہ عنھم اور دیگر ائمہ تفسیر کا قول بھی یہی ہے؛ اور سیاقِ کلام بھی اسی کا تقاضا کرتا ہے۔ پیچھے سورۃ النجم میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نجم کہا گیا ہے، یہاں قرآن کی سورتوں کو نجوم کہا گیا ہے۔ حوالہ جات کے لئے ملاحظہ کریں: تفسیر بغوی، خازن، طبری، الدر المنثور، الکشاف، تفسیر ابن ابی حاتم، روح المعانی، ابن کثیر، اللباب، البحر المحیط، جمل، زاد المسیر، فتح القدیر، المظہری، البیضاوی، تفسیر ابی سعود اور مجمع البیان۔
76. اور اگر تم سمجھو تو بیشک یہ بہت بڑی قَسم ہےo

77. بیشک یہ بڑی عظمت والا قرآن ہے (جو بڑی عظمت والے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اتر رہا ہے)o

78. (اس سے پہلے یہ) لوحِ محفوظ میں (لکھا ہوا) ہےo

79. اس کو پاک (طہارت والے) لوگوں کے سوا کوئی نہیں چُھوئے گاo

80. تمام جہانوں کے ربّ کی طرف سے اتارا گیا ہےo

81. سو کیا تم اسی کلام کی تحقیر کرتے ہوo

82. اور تم نے اپنا رِزق (اور نصیب) اسی بات کو بنا رکھا ہے کہ تم (اسے) جھٹلاتے رہوo

83. پھر کیوں نہیں (روح کو واپس لوٹا لیتے) جب وہ (پرواز کرنے کے لئے) حلق تک آپہنچتی ہےo

84. اور تم اس وقت دیکھتے ہی رہ جاتے ہوo

85. اور ہم اس (مرنے والے) سے تمہاری نسبت زیادہ قریب ہوتے ہیں لیکن تم (ہمیں) دیکھتے نہیں ہوo

86. پھر کیوں نہیں (ایسا کر سکتے) اگر تم کسی کی مِلک و اختیار میں نہیں ہوo

87. کہ اس (رُوح) کو واپس پھیر لو اگر تم سچّے ہوo

88. پھر اگر وہ (وفات پانے والا) مقرّبین میں سے تھاo

89. تو (اس کے لئے) سرور و فرحت اور روحانی رزق و استراحت اور نعمتوں بھری جنت ہےo

90. اور اگر وہ اصحاب الیمین میں سے تھاo

91. تو (اس سے کہا جائے گا تمہارے لئے دائیں جانب والوں کی طرف سے سلام ہے (یا اے نبی! آپ پر اصحابِ یمین کی جانب سے سلام ہے)o

92. اور اگر وہ (مرنے والا) جھٹلانے والے گمراہوں میں سے تھاo

93. تو (اس کی) سخت کھولتے ہوئے پانی سے ضیافت ہوگیo

94. اور (اس کا انجام) دوزخ میں داخل کر دیا جانا ہےo

95. بیشک یہی قطعی طور پر حق الیقین ہےo

96. سو آپ اپنے ربِّ عظیم کے نام کی تسبیح کیا کریںo


سُورة الْحَدِيْد

1. اللہ ہی کی تسبیح کرتے ہیں جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں، اور وہی بڑی عزت والا بڑی حکمت والا ہےo

2. اسی کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے، وہی جِلاتا اور مارتا ہے، اور وہ ہر چیز پر بڑا قادر ہےo

3. وہی (سب سے) اوّل اور (سب سے) آخر ہے اور (اپنی قدرت کے اعتبار سے) ظاہر اور (اپنی ذات کے اعتبار سے) پوشیدہ ہے، اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہےo

4. وہی ہے جِس نے آسمانوں اور زمین کو چھ اَدوار میں پیدا فرمایا پھر کائنات کی مسندِ اقتدار پر جلوہ افروز ہوا (یعنی پوری کائنات کو اپنے امر کے ساتھ منظم فرمایا)، وہ جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو کچھ اس میں سے خارج ہوتا ہے اور جو کچھ آسمانی کرّوں سے اترتا (یا نکلتا) ہے یا جو کچھ ان میں چڑھتا (یا داخل ہوتا) ہے۔ وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے تم جہاں کہیں بھی ہو، اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو (اسے) خوب دیکھنے والا ہےo

5. آسمانوں اور زمین کی ساری سلطنت اسی کی ہے، اور اسی کی طرف سارے امور لوٹائے جاتے ہیںo

6. وہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے، اور وہ سینوں کی (پوشیدہ) باتوں سے بھی خوب باخبر ہےo

7. اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لاؤ اور اس (مال و دولت) میں سے خرچ کرو جس میں اس نے تمہیں اپنا نائب (و امین) بنایا ہے، پس تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے خرچ کیا اُن کے لئے بہت بڑا اَجر ہےo

8. اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے، حالانکہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں بلا رہے ہیں کہ تم اپنے رب پر ایمان لاؤ اور بیشک (اللہ) تم سے مضبوط عہد لے چکا ہے، اگر تم ایمان لانے والے ہوo

9. وہی ہے جو اپنے (برگزیدہ) بندے پر واضح نشانیاں نازل فرماتا ہے تاکہ تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لے جائے، اور بیشک اللہ تم پر نہایت شفقت فرمانے والا نہایت رحم فرمانے والا ہےo

10. اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ آسمانوں اور زمین کی ساری ملکیت اللہ ہی کی ہے (تم تو فقط اس مالک کے نائب ہو)، تم میں سے جن لوگوں نے فتحِ (مکّہ) سے پہلے (اللہ کی راہ میں اپنا مال) خرچ کیا اور قتال کیا وہ (اور تم) برابر نہیں ہوسکتے، وہ اُن لوگوں سے درجہ میں بہت بلند ہیں جنہوں نے بعد میں مال خرچ کیا ہے اور قتال کیا ہے، مگر اللہ نے حسنِ آخرت (یعنی جنت) کا وعدہ سب سے فرما دیا ہے، اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اُن سے خوب آگاہ ہےo

11. کون شخص ہے جو اللہ کو قرضِ حسنہ کے طور پر قرض دے تو وہ اس کے لئے اُس (قرض) کو کئی گنا بڑھاتا رہے اور اس کے لئے بڑی عظمت والا اجر ہےo

12. (اے حبیب!) جس دن آپ (اپنی امّت کے) مومن مَردوں اور مومن عورتوں کو دیکھیں گے کہ اُن کا نور اُن کے آگے اور اُن کی دائیں جانب تیزی سے چل رہا ہوگا (اور اُن سے کہا جائے گا تمہیں بشارت ہو آج (تمہارے لئے) جنتیں ہیں جن کے نیچے سے نہریں رواں ہیں (تم) ہمیشہ ان میں رہو گے، یہی بہت بڑی کامیابی ہےo

13. جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے کہیں گے: ذرا ہم پر (بھی) نظرِ (التفات) کر دو ہم تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کرلیں۔ ان سے کہا جائے گا: تم اپنے پیچھے پلٹ جاؤ اور (وہاں جاکر) نور تلاش کرو (جہاں تم نور کا انکار کرتے تھے)، تو (اسی وقت) ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا، اس کے اندر کی جانب رحمت ہوگی اور اس کے باہر کی جانب اُس طرف سے عذاب ہوگاo

14. وہ (منافق) اُن (مومنوں) کو پکار کر کہیں گے: کیا ہم (دنیا میں) تمہاری سنگت میں نہ تھے؟ وہ کہیں گے: کیوں نہیں! لیکن تم نے اپنے آپ کو (منافقت کے) فتنہ میں مبتلا کر دیا تھا اور تم (ہمارے لئے برائی اور نقصان کے) منتظر رہتے تھے اور تم (نبوّتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دینِ اسلام میں) شک کرتے تھے اور باطل امیدوں نے تمہیں دھوکے میں ڈال دیا، یہاں تک کہ اللہ کا اَمرِ (موت) آپہنچا اور تمہیں اللہ کے بارے میں دغا باز (شیطان) دھوکہ دیتا رہاo

15. پس آج کے دن (اے منافقو!) تم سے کوئی معاوضہ قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اُن سے جنھوں نے کفر کیا تھا اور تم (سب) کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور یہی (ٹھکانا) تمہارا مولا (یعنی ساتھی) ہے، اور وہ نہایت بری جگہ ہے (کیونکہ تم نے اُن کو مولا ماننے سے انکار کر دیا تھا جہاں سے تمہیں نورِ ایمان اور بخشش کی خیرات ملنی تھے)o

16. کیا ایمان والوں کے لئے (ابھی) وہ وقت نہیں آیا کہ اُن کے دل اللہ کی یاد کے لئے رِقّت کے ساتھ جھک جائیں اور اس حق کے لئے (بھی) جو نازل ہوا ہے اور اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں اس سے پہلے کتاب دی گئی تھی پھر ان پر مدّت دراز گزر گئی تو اُن کے دل سخت ہوگئے، اور ان میں بہت سے لوگ نافرمان ہیںo

17. جان لو کہ اللہ ہی زمین کو اُس کی مُردنی کے بعد زندہ کرتا ہے، اور بیشک ہم نے تمہارے لئے نشانیاں واضح کر دی ہیں تاکہ تم عقل سے کام لوo

18. بیشک صدقہ و خیرات دینے والے مرد اور صدقہ و خیرات دینے والی عورتیں اور جنہوں نے اللہ کو قرضِ حسنہ کے طور پر قرض دیا ان کے لئے (صدقہ و قرضہ کا اجر) کئی گنا بڑھا دیا جائے گا اور اُن کے لئے بڑی عزت والا ثواب ہوگاo

19. اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے وہی لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں، اُن کے لئے اُن کا اجر (بھی) ہے اور ان کا نور (بھی) ہے، اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی لوگ دوزخی ہیںo

20. جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا ہے اور ظاہری آرائش ہے اور آپس میں فخر اور خود ستائی ہے اور ایک دوسرے پر مال و اولاد میں زیادتی کی طلب ہے، اس کی مثال بارش کی سی ہے کہ جس کی پیداوار کسانوں کو بھلی لگتی ہے پھر وہ خشک ہو جاتی ہے پھر تم اسے پک کر زرد ہوتا دیکھتے ہو پھر وہ ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے، اور آخرت میں (نافرمانوں کے لئے) سخت عذاب ہے اور (فرمانبرداروں کے لئے) اللہ کی جانب سے مغفرت اور عظیم خوشنودی ہے، اور دنیا کی زندگی دھوکے کی پونجی کے سوا کچھ نہیں ہےo

21. (اے بندو!) تم اپنے رب کی بخشش کی طرف تیز لپکو اور جنت کی طرف (بھی) جس کی چوڑائی (ہی) آسمان اور زمین کی وسعت جتنی ہے، اُن لوگوں کیلئے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اُس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں، یہ اللہ کا فضل ہے جسے وہ چاہتا ہے اسے عطا فرما دیتا ہے، اور اللہ عظیم فضل والا ہےo

22. کوئی بھی مصیبت نہ تو زمین میں پہنچتی ہے اور نہ تمہاری زندگیوں میں مگر وہ ایک کتاب میں (یعنی لوحِ محفوظ میں جو اللہ کے علمِ قدیم کا مرتبہ ہے) اس سے قبل کہ ہم اسے پیدا کریں (موجود) ہوتی ہے، بیشک یہ (علمِ محیط و کامل) اللہ پر بہت ہی آسان ہےo

23. تاکہ تم اس چیز پر غم نہ کرو جو تمہارے ہاتھ سے جاتی رہی اور اس چیز پر نہ اِتراؤ جو اس نے تمہیں عطا کی، اور اللہ کسی تکبّر کرنے والے، فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتاo

24. جو لوگ (خود بھی) بخل کرتے ہیں اور (دوسرے) لوگوں کو (بھی) بخل کی تلقین کرتے ہیں، اور جو شخص (احکامِ الٰہی سے) رُوگردانی کرتا ہے تو بیشک اللہ (بھی) بے پرواہ ہے بڑا قابلِ حمد و ستائِش ہےo

25. بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح نشانیوں کے ساتھ بھیجا اور ہم نے اُن کے ساتھ کتاب اور میزانِ عدل نازل فرمائی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہو سکیں، اور ہم نے (معدنیات میں سے) لوہا مہیّا کیا اس میں (آلاتِ حرب و دفاع کے لئے) سخت قوّت اور لوگوں کے لئے (صنعت سازی کے کئی دیگر) فوائد ہیں اور (یہ اس لئے کیا) تاکہ اللہ ظاہر کر دے کہ کون اُس کی اور اُس کے رسولوں کی (یعنی دینِ اسلام کی) بِن دیکھے مدد کرتا ہے، بیشک اللہ (خود ہی) بڑی قوت والا بڑے غلبہ والا ہےo

26. اور بیشک ہم نے نوح اور ابراہیم علیہما السلام کو بھیجا اور ہم نے دونوں کی اولاد میں رسالت اور کتاب مقرر فرما دی تو ان میں سے (بعض) ہدایت یافتہ ہیں، اور ان میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیںo

27. پھر ہم نے ان رسولوں کے نقوشِ قدم پر (دوسرے)
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فن, فنی, فروخت, فرض, کلمہ, کلمات, کنعان, کمال, کمر, کتابوں, کرتے, گھڑیاں, گمان, گمراہ, ٹیک, پہچان, پھول, پیاسا, پاک, پسند, پسندیدہ, وفا, ڈاٹ, واقعات, والا, وزیر, وصیت, قید, قدم, قرآن, قصہ, قصد, لوگ, لوگوں, لوٹے, لڑکی, نہایت, نفرت, چین, نیند, چور, نماز, نام, نازل, نظامِ شمسی, نظر, هُوَ, مہربان, مِنَ, مکہ, مکمل, موت, موسیٰ علیہ السلام, مقابلہ, منافق, منافقین, ممکن, مؤمن, ماں, مالک, مانگتے, مجید, محبت, مخلوط, مدد, مسجد, معلوم, معاشرہ, معجزہ, معذرت, معراج, آل, آلودگی, آئینہ, آبادی, آج, آدمی, إِلَّا, اکبر, ایمان, اللہ, الله, انتباہ, انسان, انعام, امیر, اجنبی, اسلام, اسلامی, بہترین, بھائی, بیوی, بڑا, بچپن, بچوں, بندگی, بادشاہت, تیرا, توحید, تلاش, تعلیم, جہانوں, جھوٹ, جیل, جواب, جن, جاہل, جرم, جزا, حکم, حدیث, خَيۡرٌ۬, خون, خدا, دکھا, دیکھو, دوست, داڑھی, دریافت, دعا, روزہ, رمضان, رات, راستہ, رحم, زلزلہ, سیارے, سیدھا, سودا, سائنس, ستارے, شہر, شاعری, شخص, شروع, شعبان, طلاق, عہد, عیسیٰ, عورت, عورتیں, عقل, عقد, علم, علامتیں, عاجزی, عبادت, عذاب, عزت, غار, غضب, غصّہ, صبر, صحیح, صحابہ, صحابی, صدقہ, صدقات و خیرات, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:52 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger