واپس چلیں   پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز > میرے پاکستان سے > پاک۔نیٹ پراجیکٹس > قران پراجیکٹ (http://quran.pak.net)



قران پراجیکٹ (http://quran.pak.net) قران پراجیکٹ http://quran.pak.net/


کنز الایمان ۔ ترجمہ قرآن۔ احمد رضا بریلوی

اس موضوع کے 47 جوابات دیےگئے ہیں اور اسے 1858 مرتبہ دیکھا گیا ہے
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 16-02-08, 06:37 AM  
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 28
مراسلات: 11,250
کمائي: 23,271,276
ميرا موڈ:
شکریہ: 5,007
2,462 مراسلہ میں 5,556 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default کنز الایمان ۔ ترجمہ قرآن۔ احمد رضا بریلوی

سورة الفاتحہ ۔۱
اللہ کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحمت والا
سورہ فاتحہ مکی ہے اور اس میں سات آیتیں ہیں

(۱) سب خوبیاں اللہ کو جو مالک سارے جہان والوں کا ،
(۲) بہت مہربان رحمت والا،
(۳) روز جزا کا مالک،
(۴) ہم تجھی کو پوجیں اور تجھی سے مدد چاہیں،
(۵) ہم کو سیدھا راستہ چلا،
(۶) راستہ ان کا جن پر تو نے احسان کیا،
(۷) نہ ان کا جن پر غضب ہوا اور نہ بہکے ہوؤں کا ،
__________________
میری وجہ سے جس جس کو بھی تکلیف پہنچی ہے میں ان سب سے معافی چاہتا ہوں ۔ خاص طور پر آپ سے جو اس دستخط کو پڑھ رہے ہیں
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
مندرجہ ذیل 8 صارفین نے خرم شہزاد خرم کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
hasnan_1983 (25-12-09), Student (11-12-09), S_S_G_Commando (02-12-09), فرحان دانش (26-11-09), گلز (21-11-09), محمودالحق (27-11-09), محمدمبشرعلی (19-03-10), شاہد جمیل حفیظ (25-11-09)
پرانا 16-02-08, 07:14 AM   #31
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 28
مراسلات: 11,250
کمائي: 23,271,276
ميرا موڈ:
شکریہ: 5,007
2,462 مراسلہ میں 5,556 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: کنز الایمان ۔ ترجمہ قرآن۔ احمد رضا بریلوی

(۲۷) کہا میں چاہتا ہوں کہ اپنی دونوں بیٹیوں میں سے ایک تمہیں بیاہ دوں (ف۷۰) اس مہر پر کہ تم آٹھ برس میری ملازمت کرو (ف۷۱) پھر اگر پورے دس برس کرلو تو تمہاری طرف سے ہے (ف۷۲) اور میں تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا (ف۷۳) قریب ہے انشاء اللہ تم مجھے نیکوں میں پاؤ گے (ف۷۴)
(۲۸) موسیٰ نے کہا یہ میرے اور آپ کے درمیان اقرار ہوچکا، میں ان دونوں میں جو میعاد پوری کردوں (ف۷۵) تو مجھ پر کوئی مطالبہ نہیں، اور ہمارے اس کہے پر اللہ کا ذمہ ہے (ف۷۶)
(۲۹) پھر جب موسیٰ نے اپنی میعاد پوری کردی (ف۷۷) اور اپنی بی بی کو لے کر چلا (ف۷۸) طُور کی طرف سے ایک آگ دیکھی (ف۷۹) اپنی گھر والی سے کہا تم ٹھہرو مجھے طُور کی طرف سے ایک آگ نظر پڑی ہے شاید میں وہاں سے کچھ خبر لاؤ ں (ف۸۰) یا تمہارے لیے کوئی آ گ کی چنگاری لاؤں کہ تم تاپو،
(۳۰) پھر جب آگ کے پاس حاضر ہوا ندا کی گئی میدان کے دہنے کنارے سے (ف۸۱) برکت والے مقام میں پیڑ سے (ف۸۲) کہ اے موسیٰ! بیشک میں ہی ہوں اللہ رب سارے جہان کا (ف۵۳)
(۳۱) اور یہ کہ ڈال دے اپنا عصا (ف۸۴) پھر جب موسیٰ نے اسے دیکھا لہراتا ہوا گویا سانپ ہے پیٹھ پھیر کر چلا اور مڑ کر نہ دیکھا (ف۸۵) اے موسیٰ سامنے آ اور ڈر نہیں، بیشک تجھے امان ہے (ف۸۶)
(۳۲) اپنا ہاتھ (ف۸۷) گریبان میں ڈال نکلے گا سفید چمکتا بے عیب (ف۸۸) اور اپنا ہاتھ سینے پر رکھ لے خوف دور کرنے کو (ف۸۹) تو یہ دو حُجتیں ہیں تیرے رب کی (ف۹۰) فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف ، بیشک وہ بے حکم لوگ ہیں،
(۳۳) عرض کی اے میرے رب! میں نے ان میں ایک جان مار ڈالی ہے (ف۹۱) تو ڈرتا ہوں کہ مجھے قتل کردیں، (۳۴) اور میرا بھائی ہارون اس کی زبان مجھ سے زیادہ صاف ہے تو اسے میری مدد کے لیے رسول بنا، کہ میری تصدیق کرے مجھے ڈر ہے کہ وہ (ف۹۲) مجھے جھٹلائیں گے،
(۳۵) فرمایا، قریب ہے کہ ہم تیرے بازو کو تیرے بھائی سے قوت دیں گے اور تم دونوں کو غلبہ عطا فرمائیں گے تو وہ تم دونوں کا کچھ نقصان نہ کرسکیں گے، ہماری نشانیوں کے سبب تم دونوں اور جو تمہاری پیروی کریں گے غالب آؤ گے (ف۹۳)
(۳۶) پھر جب موسیٰ ان کے پاس ہماری روشن نشانیاں لایا بولے یہ تو نہیں مگر بناوٹ کا جادو (ف۹۴) اور ہم نے اپنے اگلے باپ داداؤں میں ایسا نہ سنا (ف۹۵)
(۳۷) اور موسیٰ نے فرمایا میرا رب خوب جانتا ہے جو اس کے پاس سے ہدایت لایا (ف۹۶) اور جس کے لیے آخرت کا گھر ہوگا (ف۹۷) بیشک ظالم مراد کو نہیں پہنچتے (ف۹۸)
(۳۸) اور فرعون بولا، اے درباریو! میں تمہارے لیے اپنے سوا کوئی خدا نہیں جانتا تو اے ہامان! میرے لیے گارا پکا کر (ف۹۹) ایک محل بنا (ف۱۰۰) کہ شاید میں موسیٰ کے خدا کو جھانک آؤں (ف۱۰۱) اور بیشک میرے گمان میں تو وہ (ف۱۰۲) جھوٹا ہے (ف۱۰۳)
(۳۹) اور اس نے اور اس کے لشکریوں نے زمین میں بے جا بڑائی چاہی (ف۱۰۴) اور سمجھے کہ انہیں ہماری طرف پھرنا نہیں،
(۴۰) تو ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا (ف۱۰۵) تو دیکھو کیسا انجام ہوا ستمگاروں کا،
(۴۱) اور انہیں ہم نے (ف۱۰۶) دوزخیوں کا پیشوا بنایا کہ آگ کی طرف بلاتے ہیں (ف۱۰۷) اور قیامت کے دن ان کی مدد نہ ہوگی،
(۴۲) اور اس دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگائی (ف۱۰۸) اور قیامت کے دن ان کا برا ہے،
(۴۳) اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی (ف۱۰۹) بعد اس کے کہ اگلی سنگتیں (قومیں) (ف۱۱۰) ہلاک فرمادیں جس میں لوگوں کے دل کی آنکھیں کھولنے والی باتیں اور ہدایت اور رحمت تاکہ وہ نصیحت مانیں،
(۴۴) اور تم (ف۱۱۱) طور کی جانت مغرب میں نہ تھے (ف۱۱۲) جبکہ ہم نے موسیٰ کو رسالت کا حکم بھیجا (ف۱۱۳) اور اس وقت تم حاضر نہ تھے،
(۴۵) مگر ہوا یہ کہ ہم نے سنگتیں پیدا کیں (ف۱۱۴) کہ ان پر زمانہ دراز گزرا (ف۱۱۵) اور نہ تم اہلِ مدین میں مقیم تھے ان پر ہماری آیتیں پڑھتے ہوئے ، ہاں ہم رسول بنانے والے ہوئے (ف۱۱۶)
(۴۶) اور نہ تم طور کے کنارے تھے جب ہم نے ندا فرمائی (ف۱۱۷) ہاں تمہارے رب کی مہر ہے (کہ تمہیں غیب کے علم دیے) (ف۱۱۸) کہ تم ایسی قوم کو ڈر سناؤ جس کے پاس تم سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہ آیا (ف۱۱۹) یہ امید کرتے ہوئے کہ ان کو نصیحت ہو،
(۴۷) اور اگر نہ ہوتا کہ کبھی پہنچتی انہیں کوئی مصیبت (ف۱۲۰) اس کے سبب جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا (ف۱۲۱) تو کہتے، اے ہمارے رب! تو نے کیوں نہ بھیجا ہماری طرف کوئی رسول کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے اور ایمان لاتے (ف۱۲۲)
(۴۸) پھر جب ان کے پاس حق آیا (ف۱۲۳) ہماری طرف سے بولے (ف۱۲۴) انہیں کیوں نہ دیا گیا جو موسیٰ کو دیا گیا (ف۱۲۵) کیا اس کے منکر نہ ہوئے تھے جو پہلے موسیٰ کو دیا گیا (ف۱۲۶) بولے دو جادو ہیں ایک دوسرے کی پشتی (امداد) پر، اور بولے ہم ان دونوں کے منکر ہیں (ف۱۲۷)
(۴۹) تم فرماؤ تو اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت کی ہو (ف۱۲۸) میں اس کی پیروی کروں گا اگر تم سچے ہو (ف۱۲۹)
(۵۰) پھر اگر وہ یہ تمہارا فرمانا قبول نہ کریں (ف۱۳۰) تو جان لو کہ (ف۱۳۱) بس وہ اپنی خواہشو ں ہی کے پیچھے ہیں، اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو اپنی خواہش کی پیروی کرے اللہ کی ہدایت سے جدا، بیشک اللہ ہدایت ہیں فرماتا ظالم لوگوں کو،
(۵۱) اور بیشک ہم نے ان کے لیے بات مسلسل اتاری (ف۱۳۲) کہ وہ دھیان کریں،
(۵۲) جن کو ہم نے اس سے پہلے (ف۱۳۳) کتاب دی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں،
(۵۳) اور جب ان پر یہ آیتیں پڑھی جاتی ہیں کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، بیشک یہی حق ہے ہمارے رب کے پا س سے ہم اس سے پہلے ہی گردن رکھ چکے تھے (ف۱۳۴)
(۵۴) ان کو ان کا اجر دوبالا دیا جائے گا (ف۱۳۵) بدلہ ان کے صبر کا (ف۱۳۶) اور وہ بھلائی سے برائی کو ٹالتے ہیں (ف۱۳۷) اور ہمارے دیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں (ف۱۳۸)
(۵۵) اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں اس سے تغافل کرتے ہیں (ف۱۳۹) اور کہتے ہیں ہمارے لیے ہمارے عمل اور تمہارے لیے تمہارے عمل، بس تم پر سلام (ف۱۴۰) ہم جاہلوں کے غرضی (چاہنے والے) نہیں (ف۱۴۱) (۵۶) بیشک یہ نہیں کہ تم جسے اپنی طرف سے چاہو ہدایت کردو ہاں اللہ ہدایت فرماتا ہے جسے چاہے، اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت والوں کو (ف۱۴۲)
(۵۷) اور کہتے ہیں اگر ہم تمہارے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو لوگ ہمارے ملک سے ہمیں اچک لے جائیں گے (ف۱۴۳) کیا ہم نے انہیں جگہ نہ دی امان والی حرم میں (ف۱۴۴) جس کی طرف ہر چیز کے پھل لائے جاتے ہیں ہمارے پاس کی روزی لیکن ان میں اکثر کو علم نہیں (ف۱۴۵)
(۵۸) اور کتنے شہر ہم نے ہلاک کردیے جو اپنے عیش پر اترا گئے تھے (ف۱۴۶) تو یہ ہیں ان کے مکان (ف۱۴۷) کہ ان کے بعد ان میں سکونت نہ ہوئی مگر کم (ف۱۴۸) اور ہمیں وارث ہیں (ف۱۴۹)
(۵۹) اور تمہارا رب شہروں کو ہلاک نہیں کرتا جب تک ان کے اصل مرجع میں رسول نہ بھیجے (ف۱۵۰) جو ان پر ہماری آیتیں پڑھے (ف۱۵۱) اور ہم شہروں کو ہلاک نہیں کرتے مگر جبکہ ان کے ساکن ستمگار ہوں (ف۱۵۲)
(۶۰) اور جو کچھ چیز تمہیں دی گئی ہے اور دنیوی زندگی کا برتاوا اور اس کا سنگھارہے (ف۱۵۳) اور جواللہ کے پاس ہے (ف۱۵۴) اور وہ بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا (ف۱۵۵) تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۱۵۶)
(۶۱) تو کیا وہ جسے ہم نے اچھا وعدہ دیا (ف۱۵۷) تو وہ اس سے ملے گا اس جیسا ہے جسے ہم نے دنیوی زندگی کا برتاؤ برتنے دیا پھر وہ قیامت کے دن گرفتار کرکے حاضر لایا جائے گا (ف۱۵۸)
(۶۲) اور جس دن انہیں ندا کرے گا (ف۱۵۹) تو فرمائے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک جنہیں تم (ف۱۶۰) گمان کرتے تھے،
(۶۳) کہیں گے وہ جن پر بات ثابت ہوچکی (ف۱۶۱) اے ہمارے رب یہ ہیں وہ جنہیں ہم نے گمراہ کیا، ہم نے انہیں گمراہ کیا جیسے خود گمراہ ہوئے تھے (ف۱۶۲) ہم ان سے بیزار ہوکر تیری طرف رجوع لاتے ہیں وہ ہم کو نہ پوجتے تھے (ف۱۶۳)
(۶۴) اور ان سے فرمایا جائے گا اپنے شریکوں کو پکارو (ف۱۶۴) تو وہ پکاریں گے تو وہ ان کی نہ سنیں گے اور دیکھیں گے عذاب، کیا اچھا ہوتا اگر وہ راہ پاتے (ف۱۶۵)
(۶۵) اور جس دن انہیں ندا کرتے گا تو فرمائے گا (ف۱۶۶) تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا (ف۱۶۷)
(۶۶) تو اس دن ان پر خبریں اندھی ہوجائیں گی (ف۱۶۸) تو وہ کچھ پوجھ گچھ نہ کریں گے (ف۱۶۹)
(۶۷) تو وہ جس نے توبہ کی (ف۱۷۰) اور ایمان لایا (ف۱۷۱) اور اچھا کام کیا قریب ہے کہ وہ راہ یاب ہو،
(۶۸) اور تمہارا رب پیدا کرتا ہے جو چاہے اور پسند فرماتا ہے (ف۱۷۲) ان کا (ف۱۷۳) کچھ اختیار نہیں، پاکی اور برتری ہے اللہ کو ان کے شرک سے،
(۶۹) اور تمہارا رب جانتا ہے جو ان کے سینوں میں چھپا ہے (ف۱۷۴) اور جو ظاہر کرتے ہیں (ف۱۷۵)
(۷۰) اور وہی ہے اللہ کہ کوئی خدا نہیں اس کے سوا اسی کی تعریف ہے دنیا (ف۱۷۶) اور آخرت میں اور اسی کا حکم ہے (ف۱۷۷) اور اسی کی طرف پھر جاؤ گے،
(۷۱) تم فرماؤ (ف۱۷۸) بھلا دیکھو تو اگر اللہ ہمیشہ تم پر قیامت تک رات رکھے (ف۱۷۹) تو اللہ کے سوا کون خدا ہے جو تمہیں روشنی لادے (ف۱۸۰) تو کیا تم سنتے نہیں (ف۱۸۱)
(۷۲) تم فرماؤ بھلا دیکھو تو اگر اللہ قیامت تک ہمیشہ دن رکھے (ف۱۸۲) تو اللہ کے سوا کون خدا ہے جو تمہیں رات لادے جس میں آرام کرو (ف۱۸۳) تو کیا تمہیں سوجھتا نہیں (ف۱۸۴)
(۷۳) اور اس نے اپنی مہر سے تمہارے لیے رات اور دن بنائے کہ رات میں آرام کرو اور دن میں اس کا فضل ڈھونڈو (ف۱۸۵) اور اس لیے کہ تم حق مانو (ف۱۸۶)
(۷۴) اور جس دن انہیں ندا کرتے گا تو فرمائے گا، کہاں ہیں؟ میرے وہ شریک جو تم بکتے تھے،
(۷۵) اور ہر گروہ میں سے ایک گواہ نکال کر (ف۱۸۷) فرمائیں گے اپنی دلیل لاؤ (ف۱۸۸) تو جان لیں گے کہ (ف۱۸۹) حق اللہ کا ہے اور ان سے کھوئی جائیں گی جو بناوٹیں کرتے تھے (ف۱۹۰)
(۷۶) بیشک قارون موسیٰ کی قوم سے تھا (ف۱۹۱) پھر اس نے ان پر زیادتی کی اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیے جن کی کنجیاں ایک زور آور جماعت پر بھاری تھیں، جب اس سے اس کی قوم (ف۱۹۲) نے کہا اِترا نہیں (ف۱۹۳) بیشک اللہ اِترانے والوں کو دوست نہیں رکھتا،
(۷۷) اور جو مال تجھے اللہ نے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر طلب کر (ف۱۹۴) اور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھول (ف۱۹۵) اور احسان کر (ف۱۹۶) جیسا اللہ نے تجھ پر احسان کیا اور (ف۱۹۷) زمیں میں فساد نہ چاه بے شک اللہ فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا ،
(۷۸) بو لا یہ (ف۱۹۸) تو مجھے ایک علم سے ملا ہے جو میرے پاس ہے (ف۱۹۹) اور کیا اسے یہ نہیں معلوم کہ اللہ نے اس سے پہلے وہ سنگتیں (قومیں) ہلاک فرمادیں جن کی قوتیں اس سے سخت تھیں اور جمع اس سے زیادہ (ف۲۰۰) اور مجرموں سے ان کے گناہوں کی پوچھ نہیں (ف۲۰۱)
(۷۹) تو اپنی قومی پر نکلا اپنی آرائش میں (ف۲۰۲) بولے وہ جو دنیا کی زندگی چاہتے ہیں کسی طرح ہم کو بھی ایسا ملتا جیسا قارون کو ملا بیشک اس کا بڑا نصیب ہے ،
(۸۰) اور بولے وہ جنہیں علم دیا گیا (ف۲۰۳) خرابی ہو تمہاری، اللہ کا ثواب بہتر ہے اس کے لیے جو ایمان لائے اور اچھے کام کرے (ف۲۰۴) اور یہ انہیں کو ملتا ہے جو صبر والے ہیں (ف۲۰۵)
(۸۱) تو ہم نے اسے (ف۲۰۶) اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسایا تو اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی کہ اللہ سے بچانے میں اس کی مدد کرتی (ف۲۰۷) اور نہ وہ بدلہ لے سکا (ف۲۰۸)
(۸۲) اور کل جس نے اس کے مرتبہ کی آرزو کی تھی صبح (ف۲۰۹) کہنے لگے عجب بات ہے اللہ رزق وسیع کرتا ہے اپنے بندوں میں جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے (ف۲۱۰) اگر اللہ ہم پر احسان فرماتا تو ہمیں بھی دھنسادیتا، اے عجب، کافروں کا بھلا نہیں،
(۸۳) یہ آخرت کا گھر (ف۲۱۱) ہم ان کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد، اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی (ف۲۱۲) ہے،
(۸۴) جو نیکی لائے اس کے لیے اس سے بہتر ہے (ف۲۱۳) اور جو بدی لائے بدکام والوں کو بدلہ نہ ملے گا مگر جتنا کیا تھا،
(۸۵) بیشک جس نے تم پر قرآن فرض کیا (ف۲۱۴) وہ تمہیں پھیر لے جائے گا جہاں پھرنا چاہتے ہو (ف۲۱۵) تم فرماؤ، میرا رب خوب جانتا ہے اسے جو ہدایت لایا اور جو کھلی گمراہی میں ہے (ف۲۱۶)
(۸۶) اور تم امید نہ رکھتے تھے کہ کتاب تم پر بھیجی جائے گی (ف۲۱۷) ہاں تمہارے رب نے رحمت فرمائی تو تم ہرگز کافروں کی پشتی (مدد) نہ کرنا (ف۲۱۸)
(۸۷) اور ہرگز وہ تمہیں اللہ کی آیتوں سے نہ روکیں بعد اس کے کہ وہ تمہاری طرف اتاری گئیں (ف۲۱۹) اور اپنے رب کی طرف بلاؤ (ف۲۲۰) اور ہرگز شرک والوں میں سے نہ ہونا (ف۲۲۱)
(۸۸) اور اللہ کے ساتھ دوسرے خدا کو نہ پوج اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہر چیز فانی ہے، سوا اس کی ذات کے، اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف پھر جاؤ گے،

سورة عنکبو ت ۔۲۹
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ف۱)
(۱) الم
(۲) کیا لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ اتنی بات پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ کہیں ہم ایمان لائے ، اور ان کی آزمائش نہ ہوگی (ف۲)
(۳) اور بیشک ہم نے ان سے اگلوں کو جانچا (ف۳) تو ضرور اللہ سچوں کو دیکھے گا اور ضرور جھوٹوں کو دیکھے گا (ف۴) (۴) یا یہ سمجھے ہوئے ہیں وہ جو برے کام کرتے ہیں (ف۵) کہ ہم سے کہیں نکل جائیں گے (ف۶) کیا ہی برا حکم لگاتے ہیں،
(۵) جسے اللہ سے ملنے کی امید ہو (ف۷) تو بیشک اللہ کی میعاد ضرور آنے والی ہے (ف۸) اور وہی سنتا جانتا ہے (ف۹)
(۶) اور جو اللہ کی راہ میں کوشش کرے (ف۱۰) تو اپنے ہی بھلے کو کوشش کرتا ہے (ف۱۱) بیشک اللہ بے پرواہ ہے سارے جہان سے (ف۱۲)
(۷) اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ہم ضرور ان کی برائیاں اتار دیں گے (ف۱۳) اور ضرور انہیں اس کام پر بدلہ دیں گے جو ان کے سب کاموں میں اچھا تھا (ف۱۴)
(۸) اور ہم نے آدمی کو تاکید کی اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کی (ف۱۵) اور اگر تو وہ تجھ سے کوشش کریں کہ تو میرا شریک ٹھہرائے جس کا تجھے علم نہیں تو تُو ان کا کہا نہ مان (ف۱۶) میری ہی طرف تمہارا پھرنا ہے تو میں بتادوں گا تمہیں جو تم کرتے تھے (ف۱۷)
(۹) اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ضرور ہم انہیں نیکوں میں شامل کریں گے (ف۱۸)
(۱۰) اور بعض آدمی کہتے ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے پھر جب اللہ کی راہ میں انہیں کوئی تکلیف دی جاتی ہے (ف۱۹) تو لوگوں کے فتنہ کو اللہ کے عذاب کے برابر سمجھتے ہیں (ف۲۰) اور اگر تمہارے رب کے پاس سے مدد آئے (ف۲۱) تو ضرور کہیں گے ہم تو تمہارے ہی ساتھ تھے (ف۲۲) کیا اللہ خوب نہیں جانتا جو کچھ جہاں بھر کے دلوں میں ہے (ف۲۳)
(۱۱) اور ضرور اللہ ظاہر کردے گا ایمان والوں کو (ف۲۴) اور ضرور ظاہر کردے گا منافقوں کو (ف۲۵)
(۱۲) اور کافر مسلمانوں سے بولے ہماری راہ پر چلو اور ہم تمہارے گناہ اٹھالیں گے (ف۲۶) حالانکہ وہ ان کے گناہوں میں سے کچھ نہ اٹھائیں گے، بیشک وہ جھوٹے ہیں،
(۱۳) اور بیشک ضرور اپنے (ف۲۷) بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ (ف۲۸) اور ضرور قیامت کے دن پوچھے جائیں گے جو کچھ بہتان اٹھاتے تھے (ف۲۹)
(۱۴) اور بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس سال کم ہزار برس رہا (ف۳۰) تو انہیں طوفان نے ا ٓ لیا اور وہ ظالم تھے (ف۳۱)
(۱۵) تو ہم نے اسے (ف۳۲) اور کشتی والوں کو (ف۳۳) بچالیا اور اس کشتی کو سارے جہاں کے لیے نشانی کیا (ف۳۴)
(۱۶) اور ابراہیم کو (ف۳۵) جب اس نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ کو پوجو اور اس سے ڈرو، اس میں تمہارا بھلا ہے اگر تم جانتے،
(۱۷) تم تو اللہ کے سوا بتوں کو پوجتے ہو اور نرا جھوٹ گڑ ھتے ہو (ف۳۶) بے شک وه جنھیں تم اللہ کے سوا پو جتے ہو تمہاری روزی کے کچھ مالک نہیں تو اللہ کے پاس رزق ڈھونڈو (ف۳۷) اور اس کی بندگی کرو اور اس کا احسان مانو، تمہیں اسی کی طرف پھرنا ہے (ف۲۸)
(۱۸) اور اگر تم جھٹلاؤ (ف۳۹) تو تم سے پہلے کتنے ہی گروہ جھٹلا چکے ہیں (ف۴۰) اور رسول کے ذمہ نہیں مگر صاف پہنچا دینا،
(۱۹) اور کیا انہوں نے نہ دیکھا اللہ کیونکر خلق کی ابتداء فرماتا ہے (ف۴۱) پھر اسے دوبارہ بنائے گا (ف۴۲) بیشک یہ اللہ کو آسان ہے (ف۴۳)
(۲۰) تم فرماؤ زمین میں سفر کرکے دیکھو (ف۴۴) اللہ کیونکر پہلے بناتا ہے (ف۴۵) پھر اللہ دوسری اٹھان اٹھاتا ہے (ف۴۶) بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
(۲۱) عذاب دیتا ہے جسے چاہے (ف۴۷) اور رحم فرماتا ہے جس پر چاہے (ف۴۸) اور تمہیں اسی کی طرف پھرنا ہے،
(۲۲) اور نہ تم زمین میں (ف۴۹) قابو سے نکل سکو اور نہ آسمان میں(ف۵۰) اور تمہارے لیے اللہ کے سوا نہ کوئی کام بنانے والا اور نہ مددگار،
(۲۳) اور وہ جنہوں نے میری آیتوں اور میرے ملنے کو نہ مانا (ف۵۱) وہ ہیں جنہیں میری رحمت کی آس نہیں اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے (ف۵۲)
(۲۴) تو اس کی قوم کو کچھ جواب بن نہ آیا مگر یہ بولے انہیں قتل کردو یا جلادو (ف۵۳) تو اللہ نے اسے (ف۵۴) آگ سے بچالیا (ف۵۵) بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے (ف۵۶)
(۲۵) اور ابراہیم نے (ف۵۷) فرمایا تم نے تو اللہ کے سوا یہ بت بنالیے ہیں جن سے تمہاری دوستی یہی دنیا کی زندگی تک ہے (ف۵۸) پھر قیامت کے دن تم میں ایک دوسرے کے ساتھ کفر کرے گا اور ایک دوسرے پر لعنت ڈالے گا (ف۵۹) اور تم سب کا ٹھکانا جہنم ہے (ف۶۰) اور تمہارا کوئی مددگار نہیں (ف۶۱)
(۲۶) تو لوط اس پر ایمان لایا (ف۶۲) اور ابراہیم نے کہا میں (ف۶۳) اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں (ف۶۴) بیشک وہی عزت و حکمت والا ہے،
(۲۷) اور ہم نے اسے (ف۶۵) اسحاق اور یعقوب عطا فرمائے اور ہم نے اس کی اولاد میں نبوت (ف۶۶) اور کتاب رکھی (ف۶۷) اور ہم نے دنیا میں اس کا ثواب اسے عطا فرمایا (ف۶۸) اور بیشک آخرت میں وہ ہمارے قرب خاص کے سزاواروں میں ہے (ف۶۹)
(۲۸) اور لوط کو نجات دی جب اس نے اپنی قوم سے فرمایا تم بیشک بے حیائی کا کام کرتے ہو، کہ تم سے پہلے دنیا بھر میں کسی نے نہ کیا (ف۷۰)
(۲۹) کیا تم مردوں سے بدفعلی کرتے ہو اور راہ مارتے ہو (ف۷۱) اور اپنی مجلس میں بری بات کرتے ہو (ف۷۲) تو اس کی قوم کا کچھ جواب نہ ہوا مگر یہ کہ بولے ہم پر اللہ کا عذاب لاؤ اگر تم سچے ہو (ف۷۳)
(۳۰) عرض کی، اے میرے رب! میری مدد کر (ف۷۴) ان فسادی لوگوں پر (ف۷۵)
(۳۱) اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس مژدہ لے کر آئے (ف۷۶) بولے ہم ضرور اس شہر والوں کو ہلاک کریں گے (ف۷۷) بیشک اس کے بسنے والے ستمگاروں ہیں،
(۳۲) کہا (ف۷۸) اس میں تو لوط ہے (ف۷۹) فرشتے بولے ہمیں خوب معلوم ہے جو کوئی اس میں ہے، ضرور ہم اسے (ف۸۰) اور اس کے گھر والوں کو نجات دیں گے مگر اس کی عورت کو ، وہ رہ جانے والوں میں ہے (ف۸۱)
(۳۳) اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس (ف۸۲) آئے ان کا آنا اسے ناگوار ہوا اور ان کے سبب دل تنگ ہوا (ف۸۳) اور انہوں نے کہا نہ ڈریے (ف۸۴) اور نہ غم کیجئے (ف۸۵) بیشک ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو نجات دیں گے مگر آپ کی عورت وہ رہ جانے والوں میں ہے،
(۳۴) بیشک ہم اس شہر والوں پر آسمان سے عذاب اتارنے والے ہیں بدلہ ان کی نافرمانیوں کا،
(۳۵) اور بیشک ہم نے اس سے روشن نشانی باقی رکھی عقل والوں کے لیے (ف۸۶)
(۳۶) مدین کی طرف ان کے ہم قوم شعیب کو بھیجا تو اس نے فرمایا، اے میری قوم! اللہ کی بندگی کرو اور پچھلے دن کی امید رکھو (ف۸۷) اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو،
(۳۷) تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں زلزلے نے آلیا تو صبح اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے (ف۸۸)
(۳۸) اور عاد اور ثمود کو ہلاک فرمایا اور تمہیں (ف۸۹) ان کی بستیاں معلوم ہوچکی ہیں (ف۹۰) اور شیطان نے ان کے کوتک (ف۹۱) ان کی نگاہ میں بھلے کر دکھائے اور انہیں راہ سے روکا اور انہیں سوجھتا تھا (ف۹۲)
(۳۹) اور قارون اور فرعون اور ہامان کو (ف۹۳) اور بیشک ان کے پاس موسیٰ روشن نشانیاں لے کر آیا تو انہوں نے زمین میں تکبر کیا اور وہ ہم سے نکل کر جانے والے نہ تھے (ف۹۴)
(۴۰) تو ان میں ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ پر پکڑا تو ان میں کسی پر ہم نے پتھراؤ بھیجا (ف۹۵) اور ان میں کسی کو چنگھاڑ نے آلیا (ف۹۶ ) اور ان میں کسی کو زمین میں دھنسادیا (ف۹۷) اور ان میں کسی کو ڈبو دیا (ف۹۸) اور اللہ کی شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرے (ف۹۹) ہاں وہ خود ہی (ف۱۰۰) اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے،
(۴۱) ان کی مثال جنہوں نے اللہ کے سوا اور مالک بنالیے ہیں (ف۱۰۱) مکڑی کی طرح ہے، اس نے جالے کا گھر بنایا (ف۱۰۲) اور بیشک سب گھروں میں کمزور گھر مکڑی کا گھر (ف۱۰۳) کیا اچھا ہوتا اگر جانتے (ف۱۰۴)
(۴۲) اللہ جانتا ہے جس چیز کی اس کے سوا پوجا کرتے ہیں (ف۱۰۵) اور وہی عزت و حکمت والا ہے (ف۱۰۶) (۴۳) اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں، اور انہیں نہیں سمجھتے مگر علم والے (ف۱۰۷)
(۴۴) اللہ نے آسمان اور زمین حق بنائے، بیشک اس میں نشانی ہے (ف۱۰۸) مسلمانوں کے لیے،
(۴۵) اے محبوب! پڑھو جو کتاب تمہاری طرف وحی کی گئی (ف۱۰۹) اور نماز قائم فرماؤ، بیشک نماز منع کرتی ہے بے حیائی اور بری بات سے (ف۱۱۰) اور بیشک اللہ کا ذکر سب سے بڑا (ف۱۱۱) اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو،
(۴۶) اور اے مسلمانو! کتابیوں سے نہ جھگڑو مگر بہتر طریقہ پر (ف۱۱۲) مگر وہ جنہوں نے ان میں سے ظلم کیا (ف۱۱۳) اور کہو (ف۱۱۴) ہم ایمان لائے اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو تمہاری طرف اترا اور ہمارا تمہارا ایک معبود ہے اور ہم اس کے حضور گردن رکھتے ہیں (ف۱۱۵)
(۴۷) اور اے محبوب! یونہی تمہاری طرف کتاب اتاری (ف۱۱۶) تو وہ جنہیں ہم نے کتا ب عطا فرمائی (ف۱۱۷) اس پر ایمان لاتے ہیں، اور کچھ ان میں سے ہیں (ف۱۱۸) جو اس پر ایمان لاتے ہیں، اور ہماری آیتوں سے منکر نہیں ہوتے مگر (ف۱۱۹)
(۴۸) اور اس (ف۱۲۰) سے پہلے تم کوئی کتاب نہ پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتے تھے یوں ہوتا (ف۱۲۱) تو باطل ضرور شک لاتے (ف۱۲۲)
(۴۹) بلکہ وہ روشن آیتیں ہیں ان کے سینوں میں جن کو علم دیا گیا (۱۲۳) اور ہماری آیتوں کا انکار نہیں کرتے مگر ظالم (ف۱۲۴)
(۵۰) اور بولے (ف۱۲۵) کیوں نہ اتریں کچھ نشانیاں ان پر ان کے رب کی طرف سے (ف۱۲۶) تم فرماؤ نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں (ف۱۲۷) اور میں تو یہی صاف ڈر سنانے والا ہوں (ف۱۲۸)
(۵۱) اور کیا یہ انہیں بس نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب اتاری جو ان پر پڑھی جاتی ہے (ف۱۲۹) بیشک اس میں رحمت اور نصیحت ہے ایمان والوں کے لیے،
(۵۲) تم فرماؤ اللہ بس ہے میرے اور تمہارے درمیان گواہ (ف۱۳۰) جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور وہ جو باطل پر یقین لائے اور اللہ کے منکر ہوئے وہی گھاٹے میں ہیں،
(۵۳) اور تم سے عذاب کی جلدی کرتے ہیں (ف۱۳۱) اور اگر ایک ٹھہرائی مدت نہ ہوتی (ف۱۳۲) تو ضرور ان پر عذاب آجاتا (ف۱۳۳) اور ضرور ان پر اچانک آئے گا جب وہ بے خبر ہوں گے،
(۵۴) تم سے عذاب کی جلدی مچاتے ہیں، اور بیشک جہنم گھیرے ہوئے ہے کافروں کو (ف۱۳۴)
(۵۵) جس دن انہیں ڈھانپے گا عذاب ان کے اوپر اور ان کے پاؤں کے نیچے سے اور فرمائے گا چکھو اپنے کیے کا مزہ (ف۱۳۵)
(۵۶) اے میرے بندو! جو ایمان لائے بیشک میری زمین وسیع ہے تو میری ہی بندگی کرو (ف۱۳۶)
(۵۷) ہر جان کو موت کا مز ہ چکھنا ہے (ف۱۳۷) پھر ہماری ہی طرف پھروگے (ف۱۳۸)
(۵۸) اور بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ضرور ہم انہیں جنت کے بالا خانوں پر جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ہمیشہ ان میں رہیں گے، کیا ہی اچھا اجر کام والوں کا (ف۱۳۹)
(۵۹) وہ جنہوں نے صبر کیا (ف۱۴۰) اور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں (ف۱۴۱)
(۶۰) اور زمین پر کتنے ہی چلنے والے ہیں کہ اپنی روزی ساتھ نہیں رکھتے (ف۱۴۲) اللہ روزی دیتا ہے انہیں اور تمہیں (ف۱۴۳) اور وہی سنتا جانتا ہے (ف۱۴۴)
(۶۱) اور اگر تم ان سے پوچھو (ف۱۴۵) کس نے بنائے آسمان اور زمین اور کام میں لگائے سورج اور چاند تو ضرور کہیں گے اللہ نے، تو کہاں اوندھے جاتے ہیں (ف۱۴۶)
(۶۲) اللہ کشادہ کرتا ہے رزق اپنے بندوں میں جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے جس کے لیے چاہے، بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے،
(۶۳) اور جو تم ان سے پوچھو کس نے اتارا آسمان سے پانی تو اس کے سبب زمین زندہ کردی مَرے پیچھے ضرور کہیں گے اللہ نے (ف۱۴۷) تم فرماؤ سب خوبیاں اللہ کو، بلکہ ان میں اکثر بے عقل ہیں (ف۱۴۸)
(۶۴) اور یہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کود (ف۱۴۹) اور بیشک آخرت کا گھر ضرور وہی سچی زندگی ہے (ف۱۵۰) کیا اچھا تھا اگر جانتے (ف۱۵۱)
(۶۵) پھر جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں (ف۱۵۲) اللہ کو پکارتے ہیں ایک اسی عقیدہ لاکر (ف۱۵۳) پھر جب وہ انہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے (ف۱۵۴) جبھی شرک کرنے لگتے ہیں (ف۱۵۵)
(۶۶) کہ ناشکری کریں ہماری دی ہوئی نعمت کی (ف۱۵۶) اور برتیں۔ (ف۱۵۷) تو اب جانا چاہتے ہیں، (ف۱۵۸)
(۶۷) اور کیا انہوں نے (ف۱۵۹) یہ نہ دیکھا کہ ہم نے (ف۱۶۰) حرمت والی زمین پناہ بنائی (ف۱۶۱) اور ان کے آس پاس والے لوگ اچک لیے جاتے ہیں (ف۱۶۲) تو کیا باطل پر یقین لاتے ہیں (ف۱۶۳) اور اللہ کی دی ہوئی نعمت سے (ف۱۶۴) ناشکری کرتے ہیں،
(۶۸) اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۱۶۵) یا حق کو جھٹلائے (ف۱۶۶) جب وہ اس کے پاس آئے، کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانا نہیں (ف۱۶۷)
(۶۹) اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے (ف۱۶۸) اور بیشک اللہ نیکوں کے ساتھ ہے (ف۱۶۹)

سورة روم ۔۳۰
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)
(۱) الم
(۲) رومی مغلوب ہوئے، (ف۲)
(۳) پاس کی زمین میں (ف۳) اور اپنی مغلوبی کے عنقریب غالب ہوں گے (ف۴)
(۴) چند برس میں (ف۵) حکم اللہ ہی کا ہے آگے اور پیچھے (ف۶) اور اس دن ایمان والے خوش ہوں گے،
(۵) اللہ کی مدد سے (ف۷) مدد کرتا ہے جس کی چاہے، اور وہی عزت والا مہربان،
(۶) اللہ کا وعدہ (ف۸) اللہ اپنا وعدہ خلاف نہیں کرتا لیکن بہت لوگ نہیں جانتے (ف۹)
(۷) جانتے ہیں آنکھوں کے سامنے کی دنیوی زندگی (ف۱۰) اور وہ آخرت سے پورے بے خبر ہیں،
(۸) کیا انہوں نے اپنے جی میں نہ سوچا کہ، اللہ نے پیدا نہ کیے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے مگر حق (ف۱۱)اور ایک مقرر میعاد سے (ف۱۲) اور بیشک بہت سے لوگ اپنے رب سے ملنے کا انکار رکھتے ہیں (ف۱۳) (۹) اور کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے کہ ان سے اگلوں کا انجام کیسا ہوا (ف۱۴) وہ ان سے زیادہ زور آور تھے اور زمین جوتی اور آباد کی ان (ف۱۵) کی آبادی سے زیادہ اور ان کے رسول ان کے پاس روشن نشانیاں لائے (ف۱۶) تو اللہ کی شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرتا (ف۱۷) ہاں وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے (ف۱۸)
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 16-02-08, 07:15 AM   #32
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 28
مراسلات: 11,250
کمائي: 23,271,276
ميرا موڈ:
شکریہ: 5,007
2,462 مراسلہ میں 5,556 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: کنز الایمان ۔ ترجمہ قرآن۔ احمد رضا بریلوی

(۱۰) پھر جنہوں نے حد بھر کی برائی کی ان کا انجام یہ ہوا کہ اللہ کی آیتیں جھٹلانے لگے اور ان کے ساتھ تمسخر کرتے، (۱۱) اللہ پہلے بناتا ہے پھر دوبارہ بنائے گا (ف۱۹) پھر اس کی طرف پھروگے (ف۲۰)
(۱۲) اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرموں کی آس ٹوٹ جائے گی (ف۲۱)
(۱۳) اور ان کے شریک (ف۲۲) ان کے سفارشی نہ ہوں گے اور وہ اپنے شریکوں سے منکر ہوجائیں گے،
(۱۴) اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن الگ ہوجائیں گے (ف۲۳)
(۱۵) تو وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے باغ کی کیاری میں ان کی خاطرداری ہوگی (ف۲۴)
(۱۶) اور جو کافر ہوئے اور ہماری آیتیں اور آخرت کا ملنا جھٹلایا (ف۲۵) وہ عذاب میں لادھرے (ڈال دیے ) جائیں گے (ف۲۶)
(۱۷) تو اللہ کی پاکی بولو (ف۲۷) جب شام کرو (ف۲۸) اور جب صبح ہو (ف۲۹)
(۱۸) اور اسی کی تعریف ہے آسمانوں اور زمین میں (ف۳۰) اور کچھ دن رہے (ف۳۱) اور جب تمہیں دوپہر ہو (ف۳۲)
(۱۹) وہ زندہ کو نکالتا ہے مردے سے (ف۳۳) اور مردے کو نکالتا ہے زندہ سے (ف۳۴) اور زمین کو جٕلا تا ہے اس کے مرے پیچھے (ف۳۵) اور یوں ہی تم نکالے جاؤ گے (ف۳۶)
(۲۰) اور اس کی نشانیوں سے ہے یہ کہ تمہیں پیدا کیا مٹی سے (ف۳۷) پھر جبھی تو انسان ہو دنیا میں پھیلے ہوئے، (۲۱) اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے کہ ان سے آرام پاؤ اور تمہارے آپس میں محبت اور رحمت رکھی (ف۳۸) بیشک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کے لیے،
(۲۲) اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف (ف۳۹) بیشک اس میں نشانیاں ہیتں جاننے والوں کے لیے،
(۲۳) اور اس کی نشانیوں میں ہے رات اور دن میں تمہارا سونا (ف۴۰) اور اس کا فضل تلاش کرنا (ف۴۱) بیشک اس میں نشانیاں ہیں سننے والوں کے لیے (ف۴۲)
(۲۴) اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تمہیں بجلی دکھاتا ہے ڈراتی (ف۴۳) اور امید دلاتی (ف۴۴) اور آسمان سے پانی اتارتا ہے ، تو اس سے زمین کو زندہ کرتا ہے اس کے مرے پیچھے، بیشک اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کے لیے (ف۴۵)
(۲۵) اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ اس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں (ف۴۶) پھر جب تمہیں زمین سے ایک ندا فرمائے گا (ف۴۷) جبھی تم نکل پڑو گے (ف۴۸)
(۲۶) اور اسی کے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں، سب اس کے زیر حکم ہیں،
(۲۷) اور وہی ہے کہ اول بنا تا ہے پھر اسے دوبارہ بنائے گا (ف۴۹) اور یہ تمہاری سمجھ میں اس پر زیا دہ آسان ہونا چاہیے (ف۵۰) اور اسی کے لیے ہے سب سے برتر شان آسمانوں اور زمین میں (ف۵۱) اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
(۲۸) تمہارے لیے (ف۵۲) ایک کہاوت بیان فرماتا ہے خود تمہارے اپنے حال سے (ف۵۳) کیا تمہارے لیے تمہارے ہاتھ کے غلاموں میں سے کچھ شریک ہیں (ف۵۴) اس میں جو ہم نے تمہیں روزی دی (ف۵۵) تو تم سب اس میں برابر ہو (ف۵۶) تم ان سے ڈرو (ف۵۷) جیسے آپس میں ایک دوسرے سے ڈرتے ہو (ف۵۸) ہم ایسی مفصل نشانیاں بیان فرماتے ہیں عقل والوں کے لیے،
(۲۹) بلکہ ظالم (ف۵۹) اپنی خواہشوں کے پیچھے ہولیے بے جانے (ف۶۰) تو اسے کون ہدایت کرے جسے خدا نے گمراہ کیا (ف۶۱) اور ان کا کوئی مددگار نہیں (ف۶۲)
(۳۰) تو اپنا منہ سیدھا کرو اللہ کی اطاعت کے لیے ایک اکیلے اسی کے ہوکر (ف۶۳) اللہ کی ڈالی ہوئی بنا جس پر لوگوں کو پیدا کیا (ف۶۴) اللہ کی بنائی چیز نہ بدلنا (ف۶۵) یہی سیدھا دین ہے، مگر بہت لوگ نہیں جانتے (ف۶۶)
(۳۱) اس کی طرف رجوع لاتے ہوئے (ف۶۷) اور اس سے ڈرو اور نماز قائم رکھو اور مشرکوں سے نہ ہو،
(۳۲) ان میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا (ف۶۸) اور ہوگئے گروہ گروہ، ہر گروہ جو اس کے پاس ہے اسی پر خوش ہے (ف۶۹)
(۳۳) اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے (ف۷۰) تو اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی طرف رجوع لاتے ہوئے پھر جب وہ انہیں اپنے پاس سے رحمت کا مزہ دیتا ہے (ف۷۱) جبھی ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے،
(۳۴) کہ ہمارے دیے کی ناشکری کریں، تو برت لو (ف۷۲) اب قریب جاننا چاہتے ہو (ف۷۳)
(۳۵) یا ہم نے ان پر کوئی سند اتاری (ف۷۴) کہ ہو انہیں ہمارے شریک بتارہی ہے (ف۷۵)
(۳۶) اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ دیتے ہیں (ف۷۶) اس پر خوش ہوجاتے ہیں (ف۷۷) اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچے (ف۷۸) بدلہ اس کا جو ان کے ہاتھوں نے بھیجا (ف۷۹) جبھی وہ ناامید ہوجاتے ہیں (ف۸۰)
(۳۷) اور کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ اللہ رزق وسیع فرماتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے جس کے لیے چاہے بیشک اس میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے،
(۳۸) تو رشتہ دار کو اس کا حق دو (ف۸۱) اور مسکین اور مسافر کو (ف۸۲) یہ بہتر ہے ان کے لیے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں (ف۸۳) اور انہیں کا کام بنا،
(۳۹) اور تم جو چیز زیادہ لینے کو دو کہ دینے والے کے مال بڑھیں تو وہ اللہ کے یہاں نہ بڑھے گی (ف۸۴) اور جو تم خیرات دو اللہ کی رضا چاہتے ہوئے (ف۸۵) تو انہیں کے دُونے ہیں (ف۸۶)
(۴۰) اللہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہیں روزی دی پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں جِلائے گا (ف۸۷) کیا تمہارے شریکوں میں (ف۸۸) بھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ کرے (ف۸۹) پاکی اور برتری ہے اسے ان کے شرک سے،
(۴۱) چمکی خرابی خشکی اور تری میں (ف۹۰) ان برائیوں سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں تاکہ انہیں ان کے بعض کوتکوں (برے کاموں) کا مزہ چکھائے کہیں وہ باز آئیں (ف۹۱)
(۴۲) تم فرماؤ زمین میں چل کر دیکھو کیا انجام ہوا اگلوں کا، ان میں بہت مشرک تھے (ف۹۲)
(۴۳) تو اپنا منہ سیدھا کر عبادت کے لیے (ف۹۳) قبل اس کے کہ وہ دن آئے جسے اللہ کی طرف ٹلنا نہیں (ف۹۴) اس دن الگ پھٹ جائیں گے (ف۹۵)
(۴۴) جو کفر کرے اس کے کفر کا وبال اسی پر اور جو اچھا کام کریں وہ اپنے ہی لیے تیاری کررہے ہیں (ف۹۶)
(۴۵) تاکہ صلہ دے (ف۹۷) انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اپنے فضل سے، بیشک وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا،
(۴۶) اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ ہوائیں بھیجتا ہے مژدہ سناتی (ف۹۸) اور اس لیے کہ تمہیں اپنی رحمت کا ذائقہ دے اور اس لیے کہ کشتی (ف۹۹) اس کے حکم سے چلے اور اس لیے کہ اس کا فضل تلاش کرو (ف۱۰۰) اور اس لیے کہ تم حق مانو (ف۱۰۱)
(۴۷) اور بیشک ہم نے تم سے پہلے کتنے رسول ان کی قوم کی طرف بھیجے تو وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لائے (ف۱۰۲) پھر ہم نے مجرموں سے بدلہ لیا (ف۱۰۳) اور ہمارے ذمہٴ کرم پر ہے مسلمانوں کی مدد فرمانا (ف۱۰۴)
(۴۸) اللہ ہے کہ بھیجتا ہے ہوائیں کہ ابھارتی ہیں بادل پھر اسے پھیلادیتا ہے آسمان میں جیسا چاہے (ف۱۰۵) اور اسے پارہ پارہ کرتا ہے (ف۱۰۶) تو تُو دیکھے کہ اس کے یبچ میں مینھ نکل رہا ہے پھر جب اسے پہنچاتا ہے (ف۱۰۷) اپنے بندوں میں جس کی طرف چاہے جبھی وہ خوشیاں مناتے ہیں،
(۴۹) اگرچہ اس کے اتارنے سے پہلے آس توڑے ہوئے تھے،
(۵۰) تو اللہ کی رحمت کے اثر دیکھو (ف۱۰۸) کیونکر زمین کو جِلاتا ہے اس کے مَرے پیچھے (ف۱۰۹) بیشک مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے،
(۵۱) اور اگر ہم کوئی ہوا بھیجیں (ف۱۱۰) جس سے وہ کھیتی کو زرد دیکھیں (ف۱۱۱) تو ضرور اس کے بعد ناشکری کرنے لگے (ف۱۱۲)
(۵۲) اس لیے کہ تم مُردوں کو نہیں سناتے (ف۱۱۳) اور نہ بہروں کو پکارنا سناؤ جب وہ پیٹھ دے کر پھیریں (ف۱۱۴)
(۵۳) اور نہ تم اندھوں کو (ف۱۱۵) ان کی گمراہی سے راہ پر لاؤ، تو تم اسی کو سناتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے تو وہ گردن رکھے ہوئے ہیں،
(۵۴) اللہ ہے جس نے تمہیں ابتداء میں کمزور بنایا (ف۱۱۶) پھر تمہیں ناتوانی سے طاقت بخشی (ف۱۱۷) پھر قوت کے بعد (ف۱۱۸) کمزوری اور بڑھاپا دیا، بناتا ہے جو چاہے (ف۱۱۹) اور وہی علم و قدرت والا ہے،
(۵۵) اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرم قسم کھائیں گے کہ نہ رہے تھے مگر ایک گھڑی (ف۱۲۰) وہ ایسے ہی اوندھے جاتے تھے (ف۱۲۱)
(۵۶) اور بولے وہ جن کو علم اور ایمان مِلا (ف۱۲۲) بیشک تم رہے اللہ کے لکھے ہوئے میں (ف۱۲۳) اٹھنے کے دن تک تو یہ ہے وہ دن اٹھنے کا (ف۱۲۴) لیکن تم نہ جانتے تھے (ف۱۲۵)
(۵۷) تو اس دن ظالموں کو نفع نہ دے گی ان کی معذرت اور نہ ان سے کوئی راضی کرنا مانگے (ف۱۲۶)
(۵۸) اور بیشک ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال بیان فرمائی (ف۱۲۷) اور اگر تم ان کے پاس کوئی نشانی لاؤ تو ضرور کافر کہیں گے تم تو نہیں مگر باطل پر،
(۵۹) یوں ہی مہر کردیتا ہے اللہ جاہلوں کے دلوں پر (ف۱۲۸)
(۶۰) تو صبرکرو (ف۱۲۹) بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے (ف۱۳۰) اور تمہیں سبک نہ کردیں وہ جو یقین نہیں رکھتے (ف۱۳۱)

سورة لقمان ۔۳۱
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) الم
(۲) یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں،
(۳) ہدایت اور رحمت ہیں نیکوں کے لیے،
(۴) وہ جو نماز قائم رکھیں اور زکوٰة دیں اور آخرت پر یقین لائیں،
(۵) وہی اپنے رب کی ہدایت پر ہیں اور انہیں کا کام بنا،
(۶) اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں (ف۲) کہ اللہ کی راہ سے بہکادیں بے سمجھے (ف۳) اور اسے ہنسی بنالیں، ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے،
(۷) اور جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں تو تکبر کرتا ہوا پھرے (ف۴) جیسے انہیں سنا ہی نہیں جیسے اس کے کانوں میں ٹینٹ (روئی کا پھایا) ہے (ف۵) تو اسے دردناک عذاب کا مژدہ دو،
(۸) بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے چین کے باغ ہیں،
( ۹) ہمیشہ ان میں رہیں گے، اللہ کا وعدہ ہے سچا، اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
(۱۰) اس نے آسمان بنائے بے ایسے ستونوں کے جو تمہیں نظر آئیں (ف۶) اور زمین میں ڈالے لنگر (ف۷) کہ تمہیں لے کر نہ کانپے اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلائے، اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا (ف۸) تو زمین میں ہر نفیس جوڑا اگایا (ف۹)
(۱۱) یہ تو اللہ کا بنایا ہوا ہے (ف۱۰) مجھے وہ دکھاؤ (ف۱۱) جو اس کے سوا اوروں نے بنایا (ف۱۲) بلکہ ظالم کھلی گمراہی میں ہیں،
(۱۲) اور بیشک ہم نے لقمان کو حکمت عطا فرمائی (ف۱۳) کہ اللہ کا شکر کر (ف۱۴) اور جو شکر کرے وہ اپنے بھلے کو شکر کرتا ہے (ف۱۵) اور جو ناشکری کرے تو بیشک اللہ بے پرواہ ہے سب خوبیاں سراہا،
(۱۳) اور یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا اور وہ نصیحت کرتا تھا (ف۱۶) اے میرے بیٹے اللہ کا کسی کو شریک نہ کرنا، بیشک شرک بڑا ظلم ہے (ف۱۷)
(۱۴) اور ہم نے آدمی کو اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید فرمائی (ف۱۸) اس کی ماں نے اسے پیٹ میں رکھا کمزوری پر کمزوری جھیلتی ہوئی (ف۱۹) اور اس کا دودھ چھوٹنا دو برس میں ہے یہ کہ حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا (ف۲۰) آخر مجھی تک آنا ہے،
(۱۵) اور اگر وہ دونوں تجھ سے کوشش کریں کہ میرا شریک ٹھہرائے ایسی چیز کو جس کا تجھے علم نہیں (ف۲۱) تو ان کا کہنا نہ مان (ف۲۲) اور دنیا میں اچھی طرح ان کا ساتھ دے (ف۲۳) اور اس کی راہ چل جو میری طرف رجوع لایا (ف۲۴) پھر میری ہی طرف تمہیں پھر آنا ہے تو میں بتادوں گا جو تم کرتے تھے (ف۲۵)
(۱۶) اے میرے بیٹے برائی اگر رائی کے دانہ برابر ہو پھر وہ پتھر کی چٹان میں یا آسمان میں یا زمین میں کہیں ہو (ف۲۶) اللہ اسے لے آئے گا (ف۲۷) بیشک اللہ ہر باریکی کا جاننے والا خبردار ہے (ف۲۸)
(۱۷) اے میرے بیٹے! نماز برپا رکھ اور اچھی بات کا حکم دے اور بری بات سے منع کر اور جو افتاد تجھ پر پڑے (ف۲۹) اس پر صبر کر، بیشک یہ ہمت کے کام ہیں (ف۳۰)
(۱۸) اور کسی سے بات کرنے میں (ف۳۱) اپنا رخسارہ کج نہ کر (ف۳۲) اور زمین میں اِتراتا نہ چل، بیشک اللہ کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا فخر کرتا،
(۱۹) اور میانہ چال چل (ف۳۳) اور اپنی آواز کچھ پست کر (ف۳۴) بیشک سب آوازوں میں بری آواز، آواز گدھے کی (ف۳۵)
(۲۰) کیا تم نے نہ دیکھا کہ اللہ نے تمہارے لیے کام میں لگائے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہیں (ف۳۶) اور تمہیں بھرپور دیں اپنی نعمتیں ظاہر اور چھپی (ف۳۷) اور بعضے آدمی اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں یوں کہ نہ علم نہ عقل نہ کوئی روشن کتاب (ف۳۸)
(۲۱) اور جب ان سے کہا جائے اس کی پیروی کرو جو اللہ نے اتارا تو کہتے ہیں بلکہ ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کوپایا (ف۳۹) کیا اگرچہ شیطان ان کو عذاب دوزخ کی طرف بلاتا ہو (ف۴۰)
(۲۲) تو جو اپنا منہ اللہ کی طرف جھکادے (ف۴۱) اور ہو نیکوکار تو بیشک اس نے مضبوط گرہ تھامی ، اور اللہ ہی کی طرف ہے سب کاموں کی انتہا،
(۲۳) اور جو کفر کرے تو تم (ف۴۲) اس کے کفر سے غم نہ کھاؤ، انھیں ہماری ہماری ہی طرف پھرنا ہے ہم انہیں بتادیں گے جو کرتے تھے (ف۴۳) بیشک اللہ والوں کی بات جانتا ہے،
(۲۴) ہم انہیں کچھ برتنے دیں گے (ف۴۴) پھر انہیں بے بس کرکے سخت عذاب کی طرف لے جائیں گے (ف۴۵)
(۲۵) اور اگر تم ان سے پوچھو کس نے بنائے آسمان اور زمین تو ضرور کہیں گے اللہ نے، تم فرماؤ سب خوبیاں اللہ کو (ف۴۶) بلکہ ان میں اکثر جانتے نہیں،
(۲۶) اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (ف۴۷) بیشک اللہ ہی بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا،
(۲۷) اور اگر زمین میں جتنے پیڑ ہیں سب قلمیں ہوجائیں اور سمندر اس کی سیاہی ہو اس کے پیچھے سات سمندر اور (ف۴۸) تو اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں گی (ف۴۹) بیشک اللہ عزت و حکمت والا ہے،
(۲۸) تم سب کا پیدا کرنا اور قیامت میں اٹھانا ایسا ہی ہے جیسا ایک جان کا (ف۵۰) بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے
(۲۹) اے سننے والے کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ رات لاتا ہے دن کے حصے میں اور دن کرتا ہے رات کے حصے میں (ف۵۱) اور اس نے سورج اور چاند کام میں لگائے (ف۵۲) ہر ایک ایک مقرر میعاد تک چلتا ہے (ف۵۳) اور یہ کہ اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے،
(۳۰) یہ اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے (ف۵۴) اور اس کے سوا جن کو پوجتے ہیں سب باطل ہیں (ف۵۵) اور اس لیے کہ اللہ ہی بلند بڑائی والا ہے،
(۳۱) کیا تو نے نہ دیکھا کہ کشتی دریا میں چلتی ہے، اللہ کے فضل سے (ف۵۶) تاکہ تمہیں وہ اپنی (ف۵۷) کچھ نشانیاں دکھائے بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر بڑے صبر کرنے والے شکرگزار کو (ف۵۸)
(۳۲) اور جب ان پر (ف۵۹) آپڑتی ہے کوئی موج پہاڑوں کی طرح تو اللہ کو پکارتے ہیں نرے اسی پر عقیدہ رکھتے ہوئے (ف۶۰) پھر جب انہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو ان میں کوئی اعتدال پر رہتا ہے (ف۶۱) اور ہماری آیتوں کا انکار نہ کرے گا مگر ہر بڑا بے وفا ناشکرا،
(۳۳) اے لوگو! (ف۶۲) اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس میں کوئی باپ بچہ کے کام نہ آئے گا، اور نہ کوئی کامی (کاروباری) بچہ اپنے باپ کو کچھ نفع دے (ف۶۳) بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے (ف۶۴) تو ہرگز تمہیں دھوکا نہ دے دنیا کی زندگی (ف۶۵) اور ہرگز تمہیں اللہ کے علم پر دھوکہ نہ دے وہ بڑا فریبی (ف۶۶)
(۳۴) بیشک اللہ کے پاس ہے قیامت کا علم (ف۶۷) اور اتارتا ہے مینھ اور جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے، اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کل کیا کمائے گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں مرے گی، بیشک اللہ جاننے والا بتانے والا ہے (ف۶۸)

سورة سجده ۔۳۲
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)
(۱) الم
(۲) کتاب کا اتارنا (ف۲) بیشک پروردگار عالم کی طرف سے ہے،
(۳) کیا کہتے ہیں (ف۳) ان کی بنائی ہوئی ہے (ف۴) بلکہ وہی حق ہے تمہارے رب کی طرف سے کہ تم ڈراؤ ایسے لوگوں کو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہ آیا (ف۵) اس امید پر کہ وہ راہ پائیں،
(۴) اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے چھ دن میں بنائے پھر عرش پر استوا فرمایا (ف۶) اس سے چھوٹ کر (لا تعلق ہوکر) تمہارا کوئی حمایتی اور نہ سفارشی (ف۷) تو کیا تم دھیان نہیں کرتے،
(۵) کام کی تدبیر فرماتا ہے آسمان سے زمین تک (ف۸) پھر اسی کی طرف رجوع کرے گا (ف۹) اس دن کہ جس کی مقدار ہزار برس ہے تمہاری گنتی میں (ف۱۰)
(۶) یہ (ف۱۱) ہے ہر نہاں اور عیاں کا جاننے والا عزت و رحمت والا،
(۷) وہ جس نے جو چیز بتائی خوب بنائی (ف۲۱) اور پیدائش انسان کی ابتدا مٹی سے فرمائی (ف۱۳)
(۸) پھر اس کی نسل رکھی ایک بے قدر پانی کے خلاصہ سے (ف۱۴)
(۹) پھر اسے ٹھیک کیا اور اس میں اپنی طرف کی روح پھونکی (ف۱۵) اور تمہیں کان اور آنکھیں اور دل عطا فرمائے (ف۱۶) کیا ہی تھوڑا حق مانتے ہو،
(۱۰) اور بولے (ف۱۷) کیا جب ہم مٹی میں مل جائیں گے (ف۱۸) کیا پھر نئے بنیں گے، بلکہ وہ اپنے رب کے حضور حاضری سے منکر ہیں (ف۱۹)
(۱۱) تم فرماؤ تمہیں وفات دیتا ہے موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر ہے (ف۲۰) پھر اپنے رب کی طرف واپس جاؤ گے (ف۲۱)
(۱۲) اور کہیں تم دیکھو جب مجرم (ف۲۲) اپنے رب کے پاس سر نیچے ڈالے ہوں گے (ف۲۳) اے ہمارے رب اب ہم نے دیکھا (ف۲۴) اور سنا (ف۲۵) ہمیں پھر بھیج کہ نیک کام کریں ہم کو یقین آگیا (ف۲۶)
(۱۳) اور اگر ہم چاہتے ہر جان کو اس کی ہدایت فرماتے (ف۲۷) مگر میری بات قرار پاچکی کہ ضرور جہنم کو بھردوں گا ان جِنوں اور آدمیوں سب سے (ف۲۸)
(۱۴) اب چکھو بدلہ اس کا کہ تم اپنے اس دن کی حاضری بھولے تھے (ف۲۹) ہم نے تمہیں چھوڑ دیا (ف۳۰) اب ہمیشہ کا عذاب چکھو اپنے کیے کا بدلہ،
(۱۵) ہماری آیتوں پر وہی ایمان لاتے ہیں کہ جب وہ انہیں یاد دلائی جاتی ہیں سجدہ میں گر جاتے ہیں (ف۳۱) اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے ، السجدة۔۹
(۱۶) ان کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خوابگاہوں ہسے (ف۳۲) اور اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اور امید کرتے (ف۳۳) اور ہمارے دیے ہوئے سے کچھ خیرات کرتے ہیں،
(۱۷) تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لیے چھپا رکھی ہے (ف۳۴) صلہ ان کے کاموں کا (ف۳۵) (۱۸) تو کیا جو ایمان والا ہے وہ اس جیسا ہوجائے گا جو بے حکم ہے (ف۳۶) یہ برابر نہیں،
(۱۹) جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے بسنے کے باغ ہیں، ان کے کاموں کے صلہ میں مہمانداری (ف۳۷)
(۲۰) رہے وہ جو بے حکم ہیں (ف۳۸) ان کا ٹھکانا آ گ ہے، جب کبھی اس میں سے نکلنا چاہیں گے پھر اسی میں پھیر دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا چکھو اس آگ کا عذاب جسے تم جھٹلاتے تھے،
(۲۱) اور ضرور ہم انہیں چکھائیں گے کچھ نزدیک کا عذاب (ف۱۳۹) اس بڑے عذاب سے پہلے (ف۴۰) جسے دیکھنے والا امید کرے کہ ابھی باز آئیں گے،
(۲۲) اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جسے اس کے رب کی آیتوں سے نصیحت کی گئی پھر اس نے ان سے منہ پھیر لیا (ف۴۱) بیشک ہم مجرموں سے بدلہ لینے والے ہیں،
(۲۳) اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب (ف۴۲) عطا فرمائی تو تم اس کے ملنے میں شک نہ کرو (ف۴۳) اور ہم نے اسے (ف۴۴) بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کیا،
(۲۴) اور ہم نے ان میں سے (ف۴۵) کچھ امام بنائے کہ ہمارے حکم سے بناتے (۴۶) جبکہ انہوں نے صبر کیا (ف۴۷) اور وہ ہماری آیتوں پر یقین لاتے تھے،
(۲۵) بیشک تمہارا رب ان میں فیصلہ کردے گا (ف۴۸) قیامت کے دن جس بات میں اختلاف کرتے تھے (ف۴۹)
(۲۶) اور کیا انہیں (ف۵۰) اس پر ہدایت نہ ہوئی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں (قومیں) (ف۵۱) ہلاک کردیں کہ آج یہ ان کے گھروں میں چل پھر رہے ہیں (ف۵۲) بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں تو کیا سنتے نہیں (ف۵۳)
(۲۷) اور کیا نہیں دیکھتے کہ ہم پانی بھیجتے ہیں خشک زمین کی طرف (ف۵۴) پھر اس سے کھیتی نکالتے ہیں کہ اس میں سے ان کے چوپائے اور وہ خود کھاتے ہیں (ف۵۵) تو کیا انہیں سوجھتانہیں (ف۵۶)
(۲۸) اور کہتے ہیں یہ فیصلہ کب ہوگا اگر تم سچے ہو (ف۵۷) تم فرماؤ فیصلہ کے دن (ف۵۸) کافروں کو ان کا ایمان لانا نفع نہ دے گا اور نہ انہیں مہلت ملے (ف۵۹)
(۲۹) تو ان سے منہ پھیرلو اور انتظار کرو (ف۶۰) بیشک انہیں بھی انتظار کرنا ہے (ف۶۱)

سورة احزاب ۔۳۳
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) (ف۲) اللہ کا یوں ہی خوف رکھنا اور کافروں اور منافقوں کی نہ سننا (ف۳) بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے،
(۲) اور اس کی پیروی رکھنا جو تمہارے رب کی طرف سے تمہیں وحی ہوتی ہے، اے لوگو! اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،
(۳) اور اے محبوب! تم اللہ پر بھروسہ رکھو، اور اللہ بس ہے کام بنانے والا،
(۴) اللہ نے کسی آدمی کے اندر دو دل نہ رکھے (ف۴) اور تمہاری ان عورتوں کو جنہیں تم کے برابر کہہ دو تمہاری ماں نہ بنایا (ف۵) اور نہ تمہارے لے پالکوں کو تمہارا بیٹا بنایا (ف۶) یہ تمہارے اپنے منہ کا کہنا ہے (ف۷) اور اللہ حق فرماتا ہے اور وہی راہ دکھاتا ہے (ف۸)
(۵) انہیں ان کے باپ ہی کا کہہ کر پکارو (ف۹) یہ اللہ کے نزدیک زیادہ ٹھیک ہے پھر اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں (ف۱۰) تو دین میں تمہارے بھائی ہیں اور بشریت میں تمہارے چچا زاد (ف۱۱) اور تم پر اس میں کچھ گناہ نہیں جو نا دانستہ تم سے صادر ہوا (ف۱۲) ہاں وہ گناہ ہے جو دل کے قصد سے کرو (ف۱۳) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
(۶) یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے (ف۱۴) اور اس کی بیبیاں ان کی مائیں ہیں (ف۱۵) اور رشتہ والے اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے سے زیادہ قریب ہیں (ف۱۶) بہ نسبت اور مسلمانوں اور مہاجروں کے (ف۱۷) مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں پر احسان کرو (ف۱۸) یہ کتاب میں لکھا ہے (ف۱۹)
(۷) اور اے محبوب! یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے عہد لیا (ف۲۰) اور تم سے (ف۲۱) اور نوح اور ابراہیم اور موسی ٰ اور عیسیٰ بن مریم سے اور ہم نے ان سے گاڑھا عہد لیا،
(۸) تاکہ سچوں سے (ف۲۲) ان کے سچ کا سوال کرے (ف۲۳) اور اس نے کافروں کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے،
(۹) اے ایمان والو! اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو (ف۲۴) جب تم پر کچھ لشکر آئے (ف۲۵) تو ہم نے ان پر آندھی اور وہ لشکر بھیجے جو تمہیں نظر نہ آئے (ف۲۶) اور اللہ تمہارے کام دیکھتا ہے (ف۲۷)
(۱۰) جب کافر تم پر آئے تمہارے اوپر سے اور تمہارے نیچے سے (ف۲۸) اور جبکہ ٹھٹک کر رہ گئیں نگاہیں (ف۲۹) اور دل گلوں کے پاس آگئے (ف۳۰) اور تم اللہ پر طرح طرح کے گمان کرنے لگے امید و یاس کے (ف۳۱) (۱۱) وہ جگہ تھی کہ مسلمانوں کی جانچ ہوئی (ف۳۲) اور خوب سختی سے جھنجھوڑے گئے ،
(۱۲) اور جب کہنے لگے منافق اور جن کے دلوں میں روگ تھا (ف۳۳) ہمیں اللہ و رسول نے وعدہ نہ دیا تھا مگر فریب کا (ف۳۴)
(۱۳) اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا (ف۳۵) اے مدینہ والو! (ف۳۶) یہاں تمہارے ٹھہرنے کی جگہ نہیں (ف۳۷) تم گھروں کو واپس چلو اور ان میں سے ایک گروہ (ف۳۸) نبی سے اذن مانگتا تھا یہ کہہ کر ہمارے گھر بے حفاظت ہیں، اور وہ بے حفاظت نہ تھے، وہ تو نہ چاہتے تھے مگر بھاگنا،
(۱۴) اور اگر ان پر فوجیں مدینہ کے اطراف سے آئیں پھر ان سے کفر چاہتیں تو ضرور ان کا مانگا دے بیٹھتے (ف۳۹) اور اس میں دیر نہ کرتے مگر تھوڑی
(۱۵) اور بیشک اس سے پہلے وہ اللہ سے عہد کرچکے تھے کہ پیٹھ نہ پھیریں گے، اور اللہ کا وعدہ پوچھا جائے گا (ف۴۰) (۱۶) تم فرماؤ ہرگز تمہیں بھاگنا نفع نہ دے گا اگر موت یا قتل سے بھاگو (ف۴۱) اور جب بھی دنیا نہ برتنے دیے جاؤ گے مگر تھوڑی (ف۴۲)
(۱۷) تم فرماؤ وہ کون ہے جو اللہ کا حکم تم پر سے ٹال دے اگر وہ تمہارا برا چاہے (ف۴۳) یا تم پر مہر (رحم) فرمانا چاہے (ف۴۴) اور وہ اللہ کے سوا کوئی حامی نہ پائیں گے نہ مددگار،
(۱۸) بیشک اللہ جانتا ہے تمہارے ان کو جو اوروں کو جہاد سے روکتے ہیں اور اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں ہماری طرف چلے آؤ (ف۴۵) اور لڑائی میں نہیں آتے مگر تھوڑے (ف۴۶)
(۱۹) تمہاری مدد میں گئی کرتے (کمی کرتے) ہیں پھر جب ڈر کا وقت آئے تم انہیں دیکھو گے تمہاری طرف یوں نظر کرتے ہیں کہ ان کی آنکھیں گھوم رہی ہیں جیسے کسی پر موت چھائی ہو پھر جب ڈر کا وقت نکل جائے (ف۴۷) تمہیں طعنے دینے لگیں تیز زبانوں سے مال غنیمت کے لالچ میں (ف۴۸) یہ لوگ ایمان لائے ہی نہیں (ف۴۹) تو اللہ نے ان کے عمل اکارت کردیے (ف۵۰) اور یہ اللہ کو آسان ہے،
(۲۰) وہ سمجھ رہے ہیں کہ کافروں کے لشکر ابھی نہ گئے (ف۵۱) اور اگر لشکر دوبارہ آئیں تو ان کی (ف۵۲) خواہش ہوگی کہ کسی طرح گا نؤں میں نکل کر (ف۵۳) تمہاری خبریں پوچھتے (ف۵۴) اور اگر وہ تم میں رہتے جب بھی نہ لڑتے مگر تھوڑے (ف۵۵)
(۲۱) بیشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے (ف۵۶) اس کے لیے کہ اللہ اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت یاد کرے (ف۵۷)
(۲۲) اور جب مسلمانوں نے کافروں کے لشکر دیکھے بولے یہ ہے وہ جو ہمیں وعدہ دیا تھا اللہ اور اس کے رسول نے (ف۵۸) اور سچ فرمایا اللہ اور اس کے رسول نے (ف۵۹) اور اس سے انہیں نہ بڑھا مگر ایمان اور اللہ کی رضا پر راضی ہونا،
(۲۳) مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچا کردیا جو عہد اللہ سے کیا تھا (ف۶۰) تو ان میں کوئی اپنی منت پوری کرچکا (ف۶۱) اور کوئی راہ دیکھ رہا ہے (ف۶۲) اور وہ ذرا نہ بدلے (ف۶۳)
(۲۴) تاکہ اللہ سچوں کو ان کے سچ کا صلہ دے اور منافقوں کو عذاب کرے اگر چاہے ، یا انہیں توبہ دے، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
(۲۵) اور اللہ نے کافروں کو (ف۶۴) ان کے دلوں کی جلن کے ساتھ پلٹایا کہ کچھ بھلا نہ پایا (ف۶۵) اور اللہ نے مسلمانوں کو لڑائی کی کفایت فرمادی (ف۶۶) اور اللہ زبردست عزت والا ہے،
(۲۶) اور جن اہلِ کتاب نے ان کی مدد کی تھی (ف۶۷) انہیں ان کے قلعوں سے اتارا (ف۶۸) اور ان کے دلوں میں رُعب ڈالا ان میں ایک گروہ کو تم قتل کرتے ہو (ف۶۹) اور ایک گروہ کو قید (ف۷۰)
(۲۷) اور ہم نے تمہارے ہاتھ لگائے ان کی زمین اور ان کی زمین اور ان کے مکان اور ان کے مال (ف۷۱) اور وہ زمین جس پر تم نے ابھی قدم نہیں رکھا ہے (ف۷۲) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے،
(۲۸) اے غیب بتانے والے (نبی)! اپنی بیبیوں سے فرمادے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش چاہتی ہو (ف۷۳) تو آؤ میں تمہیں مال دُوں (ف۷۴) اور اچھی طرح چھوڑ دُوں (ف۷۵)
(۲۹) اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کا گھر چاہتی ہو تو بیشک اللہ نے تمہاری نیکی والیوں کے لیے بڑا اجر تیار کر رکھا ہے،
(۳۰) اے نبی کی بیبیو! جو تم میں صریح حیا کے خلاف کوئی جرأت کرے (ف۷۶) اس پر اوروں سے دُونا عذاب ہوگا (ف۷۷) اور یہ اللہ کو آسان ہے،
(۳۱) اور (ف۷۸) جو تم میں فرمانبردار رہے اللہ اور رسول کی اور اچھا کام کرے ہم اسے اوروں سے دُونا ثواب دیں گے (ف۷۹) اور ہم نے اس کے لیے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے (ف۸۰)
(۳۲) اے نبی کی بیبیو! تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو (ف۸۱) اگر اللہ سے ڈرو تو بات میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا روگی کچھ لالچ کرے (ف۸۲) ہاں اچھی بات کہو (ف۸۳)
(۳۳) اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی (ف۸۴) اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو ا لله تو یہی چاہتا ہے، اے نبی کے گھر والو! کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے (ف۸۵)
(۳۴) اور یاد کرو جو تمہارے گھروں میں پڑھی جاتی ہیں اللہ کی آیتیں اور حکمت (ف۸۶) بیشک اللہ ہر باریکی جانتا خبردار ہے،
(۳۵) بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں (ف۸۷) اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرمانبردار اور فرمانبرداریں اور سچے اور سچیاں (ف۸۸) اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اورروزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اس نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے،
(۳۶) اور نہ کسی مسلمان مرد نہ مسلمان عورت کو پہنچتا ہے کہ جب اللہ و رسول کچھ حکم فرمادیں تو انہیں اپنے معاملہ کا کچھ اختیار رہے (ف۸۹) اور جو حکم نہ مانے اللہ اور اس کے رسول کا وہ بیشک صر یح گمراہی بہکا،
(۳۷) اور اے محبوب! یاد کرو جب تم فرماتے تھے اس سے جسے اللہ نے اسے نعمت دی (ف۹۰) اور تم نے اسے نعمت دی (ف۹۱) کہ اپنی بی بی اپنے پاس رہنے دے (ف۹۲) اور اللہ سے ڈر (ف۹۳) اور تم اپنے دل میں رکھتے تھے وہ جسے اللہ کو ظاہر کرنا منظور تھا (ف۹۴) اور تمہیں لوگوں کے طعنہ کا اندیشہ تھا (ف۹۵) اور اللہ زیادہ سزاوار ہے کہ اس کا خوف رکھو (ف۹۶) پھر جب زید کی غرض اس سے نکل گئی (ف۹۷) تو ہم نے وہ تمہارے نکاح میں دے دی (ف۹۸) کہ مسلمانوں پر کچھ حرج نہ رہے ان کے لے پالکوں (منہ بولے بیٹوں) کی بیبیوں میں جب ان سے ان کا کام ختم ہوجائے (ف۹۹) اور اللہ کا حکم ہوکر رہنا،
(۳۸) نبی پر کوئی حرج نہیں اس بات میں جو اللہ نے اس کے لیے مقرر فرمائی (ف۱۰۰) اللہ کا دستور چلا آرہا ہے اس میں جو پہلے گزر چکے (ف۱۰۱) اور اللہ کا کام مقرر تقدیر ہے
(۳۹) وہ جو اللہ کے پیام پہنچاتے اور اس سے ڈرتے اور اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ کرے، اور اللہ بس ہے حساب لینے والا (ف۱۰۲)
(۴۰) محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں (ف۱۰۳) ہاں اللہ کے رسول ہیں (ف۱۰۴) اور سب نبیوں کے پچھلے (ف۱۰۵) اور اللہ سب کچھ جانتا ہے،
(۴۱) اے ایمان والو اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو،
(۴۲) اور صبح و شام اس کی پاکی بولو (ف۱۰۶)
(۴۳) وہی ہے کہ درود بھیجتا ہے تم پر وہ اور اس کے فرشتے (ف۱۰۷) کہ تمہیں اندھیریوں سے اجالے کی طرف نکالے (ف۱۰۸) اور وہ مسلمانوں پر مہربان ہے،
(۴۴) ان کے لیے ملتے وقت کی دعا سلام ہے (ف۱۰۹) اور ان کے لیے عزت کا ثواب تیار کر رکھا ہے،
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 16-02-08, 07:15 AM   #33
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 28
مراسلات: 11,250
کمائي: 23,271,276
ميرا موڈ:
شکریہ: 5,007
2,462 مراسلہ میں 5,556 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: کنز الایمان ۔ ترجمہ قرآن۔ احمد رضا بریلوی

(۴۵) ( اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر ناظر (ف۱۱۰) اور خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا (ف۱۱۱)
(۴۶) اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا (ف۱۱۲) او ر چمکادینے دینے والا ا ٓ فتاب (ف۱۱۳)
(۴۷) اور ایمان والوں کو خوشخبری دو کہ ان کے لیے اللہ کا بڑا فضل ہے،
(۴۸) اور کافروں اور منافقوں کی خوشی نہ کرو اور ان کی ایذا پر درگزر فرماؤ (ف۱۱۴) اور اللہ پر بھروسہ رکھو، اور اللہ بس ہے کارساز،
(۴۹) اے ایمان والو! جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کرو پھر انہیں بے ہاتھ لگائے چھوڑ دو تو تمہارے لیے کچھ عدت نہیں جسے گنو (ف۱۱۵) تو انہیں کچھ فائدہ دو (ف۱۱۶) اور اچھی طرح سے چھوڑ دو (ف۱۱۷)
(۵۰) اے غیب بتانے والے (نبی)! ہم نے تمہارے لیے حلال فرمائیں تمہاری وہ بیبیاں جن کو تم مہر دو (ف۱۱۸) اور تمہارے ہاتھ کا مال کنیزیں جو اللہ نے تمہیں غنیمت میں دیں (ف۱۱۹) اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور پھپیوں کی بیٹیاں اور ماموں کی بیٹیاں اور خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی (ف۱۲۰) اور ایمان والی عورت اگر وہ اپنی جان نبی کی نذر کرے اگر نبی اسے نکاح میں لانا چاہے (ف۱۲۱) یہ خاص تمہارے لیے ہہے امت کے لیے نہیں (ف۱۲۲) ہمیں معلوم ہے جو ہم نے مسلمانوں پر مقرر کیا ہے ان کی بیبیوں اور ان کے ہاتھ کی مال کنیزوں میں (ف۱۲۳) یہ خصوصیت تمہاری (ف۱۲۴) اس لیے کہ تم پر کوئی تنگی نہ ہو، اور اللہ بخشنے والا مہربان،
(۵۱) پیچھے ہٹاؤ ان میں سے جسے چاہو اور اپنے پاس جگہ دو جسے چاہو (ف۱۲۵) اور جسے تم نے کنارے کردیا تھا اسے تمہارا جی چاہے تو اس میں بھی تم پر کچھ گناہ نہیں (ف۱۲۶) یہ امر اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور غم نہ کریں اور تم انہیں جو کچھ عطا فرماؤ اس پر وہ سب کی سب راضی رہیں (ف۱۲۷) اور اللہ جانتا ہے جو تم سب کے دلوں میں ہے، اور اللہ علم و حلم والا ہے،
(۵۲) ان کے بعد (۱۲۸) اور عورتیں تمہیں حلال نہیں (ف۱۲۹) اور نہ یہ کہ ان کے عوض اور بیبیاں بدلو (ف۱۳۰) اگرچہ تمہیں ان کا حسن بھائے مگر کنیز تمہارے ہاتھ کا مالک (ف۱۳۱) اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے،
(۵۳) اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں (ف۱۳۲) نہ حاضر ہو جب تک اذن نہ پاؤ (ف۱۳۳) مثلاً کھانے کے لیے بلائے جاؤ نہ یوں کہ خود اس کے پکنے کی راہ تکو (ف۱۳۴) ہاں جب بلائے جاؤ تو حاضر ہو اور جب کھا چکو تو متفرق ہوجاؤ نہ یہ کہ بیٹھے باتوں میں دل بہلاؤ (ف۱۳۵) بیشک اس میں نبی کو ایذا ہوتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے (ف۱۳۶) اور اللہ حق فرمانے میں نہیں شرماتا، اور جب تم ان سے (ف۱۳۷) برتنے کی کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر مانگو ، اس میں زیادہ ستھرائی ہے تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کی (ف۱۳۸) اور تمہیں نہیں پہنچتا کہ رسول اللہ کو ایذا دو (ف۱۳۹) اور نہ یہ کہ ان کے بعد کبھی ان کی بیبیوں سے نکاح کرو (ف۱۴۰) بیشک یہ اللہ کے نزدیک بڑی سخت بات ہے (ف۱۴۱)
(۵۴) اگر تم کوئی بات ظاہر کرو یا چھپاؤ تو بیشک سب کچھ جانتا ہے،
(۵۵) ان پر مضائقہ نہیں (ف۱۴۲) ان کے باپ اور بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور اپنے دین کی عورتوں (ف۱۴۴) اور اپنی کنیزوں میں (ف۱۴۵) اور اللہ سے ڈرتی ہو، بیشک اللہ ہر چیز اللہ کے سامنے ہے، (۵۶) بیشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر، اے ایمان والو! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو (ف۱۴۶)
(۵۷) بیشک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں (ف۱۴۷) اور اللہ نے ان کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے (ف۱۴۸)
(۵۸) اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا (ف۱۴۹)
(۵۹) اے نبی! اپنی بیبیوں اور صاحبزادیو ں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں (ف۱۵۰) یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو (ف۱۵۱) تو ستائی نہ جائیں (ف۱۵۲) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
(۶۰) اگر باز نہ آئے منافق (ف۱۵۳) اور جن کے دلوں میں روگ ہے (ف۱۵۴) اور مدینہ میں جھوٹ اڑانے والے (ف۱۵۵) تو ضرور ہم تمہیں ان پر شہ دیں گے (ف۱۵۶) پھر وہ مدینہ میں تمہارے پاس نہ رہیں گے مگر تھوڑے دن (ف۱۵۷)
(۶۱) پھٹکارے ہوئے، جہاں کہیں ملیں پکڑے جائیں اور گن گن کر قتل کیے جائیں،
(۶۲) اللہ کا دستور چلا آتا ہے ان لوگوں میں جو پہلے گزر گئے (ف۱۵۸) اور تم اللہ کا دستور ہرگز بدلتا نہ پاؤ گے،
(۶۳) لوگ تم سے قیامت کا پوچھتے ہیں (ف۱۵۹) تم فرماؤ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، اور تم کیا جانو شاید قیامت پاس ہی ہو (ف۱۶۰)
(۶۴) بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت فرمائی اور ان کے لیے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے،
(۶۵) اس میں ہمیشہ رہیں گے اس میں نہ کوئی حمایتی پائیں گے نہ مددگار (ف۱۶۱)
(۶۶) جس دن ان کے منہ الٹ الٹ کر آگ میں تلے جائیں گے کہتے ہوں گے ہائے کسی طرح ہم نے اللہ کا حکم مانا ہوتا اور رسول کا حکم مانا (ف۱۶۲)
(۶۷) اور کہیں گے اے ہمارے رب! ہم اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کے کہنے پر چلے (ف۱۶۳) تو انہوں نے ہمیں راہ سے بہکادیا،
(۶۸) اے ہمارے رب! انہیں آگ کا دُونا عذاب دے (ف۱۶۴) اور ان پر بڑی لعنت کر،
(۶۹) اے ایمان والو! ان جیسے نہ ہونا جنہوں نے موسیٰ کو ستایا (ف۱۶۶) تو اللہ نے اسے بَری فرمادیا اس بات سے جو انہوں نے کہی (ف۱۶۷) اور موسیٰ اللہ کے یہاں آبرو والا ہے (ف۱۶۸)
(۷۰) اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو (ف۱۶۹)
(۷۱) تمہارے اعمال تمہارے لیے سنواردے گا (ف۱۷۰) اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے اس نے بڑی کامیابی پائی،
(۷۲) بیشک ہم نے امانت پیش فرمائی (ف۱۷۱) آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے (ف۱۷۲) اور آدمی نے اٹھالی، بیشک وہ اپنی جان کو مشقت میں ڈالنے والا بڑا نادان ہے،
(۷۳) تاکہ اللہ عذاب منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو (ف۱۷۳) اور اللہ توبہ قبول فرمائے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کی، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،

سورة سبا ۔ ۳۴
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) سب خوبیاں اللہ کو کہ اسی کا مال ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں (ف۲) اور آخرت میں اسی کی تعریف ہے (ف۳) اور وہی ہے حکمت والا خبردار،
(۲) جانتا ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے (ف۴) اور جو زمین سے نکلتا ہے (ف۵) اور جو آسمان سے اترتا ہے (ف۶) اور جو اس میں چڑھتا ہے (ف۷) اور وہی ہے مہربان بخشنے والا،
(۳) اور کافر بولے ہم پر قیامت نہ آئے گی (ف۸) تم فرماؤ کیوں نہیں میرے رب کی قسم بیشک ضرور آئے گی غیب جاننے والا (ف۹) اس سے غیب نہیں ذرہ بھر کوئی چیز آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ اس سے چھوٹی اور نہ بڑی مگر ایک صاف بتانے والی کتاب میں ہے (ف۱۰)
(۴) تاکہ صلہ دے انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے یہ ہیں جن کے لیے بخشش ہے اور عزت کی روزی (ف۱۱) (۵) اور جنہوں نے ہماری آیتوں میں ہرانے کی کوشش کی (ف۱۲) ان کے لیے سخت عذاب دردناک میں سے عذاب ہے،
(۶) اور جنہیں علم والا (ف۱۳) وہ جانتے ہیں کہ جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا (ف۱۴) وہی حق ہے اور عزت والے سب خوبیوں سراہے کی راہ بتاتا ہے،
(۷) اور کافر بولے (ف۱۵) کیا ہم تمہیں ایسا مرد بتادیں (ف۱۶) جو تمہیں خبر دے کہ جب تم پرزہ ہوکر بالکل ریزہ ہوکر بالکل ریزہ ریزہ ہوجاؤ تو پھر تمہیں نیا بَننا ہے،
(۸) کیا اللہ پر اس نے جھوٹ باندھا یا اسے سودا ہے (ف۱۷) بلکہ وہ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے (ف۱۸) عذاب اور دور کی گمراہی میں ہیں،
(۹) تو کیا انہوں نے نہ دیکھا جو ان کے آگے اور پیچھے ہے آسمان اور زمین (ف۱۹) ہم چاہیں تو انہیں (ف۲۰) زمین میں دھنسادیں یا ان پر آسمان کا ٹکڑا گرادیں، بیشک اس (ف۲۱) میں نشانی ہے ہر رجوع لانے والے بندے کے لیے (ف۲۲)
(۱۰) اور بیشک ہم نے داؤد کو اپنا بڑا فضل دیا (ف۲۳) اے پہاڑو! اس کے ساتھ اللہ کی رجوع کرو اور اے پرندو! (ف۲۴) اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کیا (ف۲۵)
(۱۱) کہ وسیع زِر ہیں بنا اور بنانے میں اندازے کا لحاظ رکھ (ف۲۶) اور تم سب نیکی کرو، بیشک تمہارے کام دیکھ رہا ہوں،
(۱۲) اور سلیمان کے بس میں ہوا کردی اس کی صبح کی منزل ایک مہینہ کی راہ اور شام کی منزل ایک مہینے کی راہ (ف۲۷) اور ہم نے اس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہایا (ف۲۸) اور جنوں میں سے وہ جو اس کے آگے کا م کرتے اس کے رب کے حکم سے (ف۲۹) ادر جو ان میں ہما رے حکم سے پھرے (ف ۳۰) ہم اسے بھڑ کتی آ گ کا عذاب چکھائیں گے،
(۱۳) اس کے لیے بناتے جو وہ چاہتا اونچے اونچے محل (ف۳۱) اور تصویریں (ف۳۲) اور بڑے حوضوں کے برابر لگن (ف۳۳) اور لنگردار دیگیں (ف۳۴) اے داؤد والو! شکر کرو (ف۳۵) اور میرے بندوں میں کم ہیں شکر والے،
(۱۴) پھر جب ہم نے اس پر موت کا حکم بھیجا (ف۳۶) جنوں کو اس کی موت نہ بتائی مگر زمین کی دیمک نے کہ اس کا عصا کھاتی تھی، پھر جب سلیمان زمین پر آیا جِنوں کی حقیقت کھل گئی (ف۳۷) اگر غیب جانتے ہوتے (ف۳۸) تو اس خواری کے عذاب میں نہ ہوتے (ف۳۹)
(۱۵) بیشک سبا (ف۴۰) کے لیے ان کی آبادی میں (ف۴۱) نشانی تھی (ف۴۲) دو باغ دہنے اور بائیں (ف۴۳) اپنے رب کا رزق کھاؤ (ف۴۴) اور اس کا شکر ادا کرو (ف۴۵) پاکیزہ شہر اور (ف۴۶) بخشنے والا رب (ف۴۷)
(۱۶) تو انہوں نے منہ پھیرا (ف۴۸) تو ہم نے ان پر زور کا اہلا (سیلاب) بھیجا (ف۴۹) اور ان کے باغوں کے عوض دو باغ انہیں بدل دیے جن میں بکٹا (بدمزہ) میوہ (ف۵۰) اور جھاؤ اور کچھ تھوڑی سی بیریاں (ف۵۱)
(۱۷) ہم نے انہیں یہ بدلہ دیا ان کی ناشکری (ف۵۲) کی سزا، اور ہم کسے سزا دیتے ہیں اسی کو جو نا شکرا ہے،
(۱۸) اور ہم نے کیے تھے ان میں (ف۵۳) اور ان شہروں میں ہم نے برکت رکھی (ف۵۴) سر راہ کتنے شہر (ف۵۵) اور انہیں منزل کے اندازے پر رکھا (ف۵۶) ان میں چلو راتوں اور دنوں امن و امان سے (ف۵۷)
(۱۹) تو بولے اے ہمارے رب! ہمیں سفر میں دوری ڈال (ف۵۸) اور انہوں نے خود اپنا ہی نقصان کیا تو ہم نے انہیں کہانیاں کردیا (ف۵۹) اور انہیں پوری پریشانی سے پراگندہ کردیا (ف۶۰) بیشک اس میں ضروری نشانیاں ہیں ہر بڑے صبر والے ہر بڑے شکر والے کے لیے (ف۶۱)
(۲۰) اور بیشک ابلیس نے انہیں اپنا گمان سچ کر دکھایا (ف۶۲) تو وہ اس کے پیچھے ہولیے مگر ایک گروہ کہ مسلمان تھا (ف۶۳)
(۲۱) اور شیطان کا ان پر (ف۶۴) کچھ قابو نہ تھا مگر اس لیے کہ ہم دکھادیں کہ کون آخرت پر ایمان لاتا اور کون اس سے شک میں ہے، اور تمہارا رب ہر چیز پر نگہبان ہے،
(۲۲) تم فرماؤ (ف۶۵) پکارو انہیں جنہیں اللہ کے سوا (ف۶۶) سمجھے بیٹھے ہو (ف۶۷) وہ ذرہ بھر کے مالک نہیں آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ ان کا ان دونوں میں کچھ حصہ اور نہ اللہ کا ان میں سے کوئی مددگار،
(۲۳) اور اس کے پاس شفاعت کام نہیں دیتی مگر جس کے لیے وہ اذن فرمائے، یہاں تک کہ جب اذن دے کر ان کے دلوں کی گھبراہٹ دور فرمادی جاتی ہے، ایک دوسرے سے (ف۶۸) کہتے ہیں تمہارے ربنے کیا ہی بات فرمائی، وہ کہتے ہیں جو فرمایا حق فرمایا (ف۶۹) اور وہی ہے بلند بڑائی والا،
(۲۴) تم فرماؤ کون جو تمہیں روزی دیتا ہے آسمانوں اور زمین سے (ف۷۰) تم خود ہی فرماؤ اللہ (ف۷۱) اور بیشک ہم یا تم (ف۷۲) یا تو ضرور ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میں (ف۷۳)
(۲۵) تم فرماؤ ہم نے تمہارے گمان میں اگر کوئی جرم کیا تو اس کی تم سے پوچھ نہیں، نہ تمہارے کوتکوں کا ہم سے سوال (ف۷۴)
(۲۶) تم فرماؤ ہمارا رب ہم سب کو جمع کرے گا (ف۷۵) پھر ہم میں سچا فیصلہ فرمادے گا (ف۷۶) اور وہی ہے بڑا نیاؤ چکانے(درست فیصلہ کرنے) والا سب کچھ جانتا،
(۲۷) تم فرماؤ مجھے دکھاؤ تو وہ شریک جو تم نے اس سے ملائے ہیں (ف۷۷) ہشت، بلکہ وہی ہے اللہ عزت والا حکمت والا،
(۲۸) اور اے محبوب! ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر ایسی رسالت سے جو تمام آدمیوں کو گھیرنے والی ہے (ف۷۸) خوشخبری دیتا (ف۷۹) اور ڈر سناتا (ف۸۰) لیکن بہت لوگ نہیں جانتے (ف۸۱)
(۲۹) اور کہتے ہیں یہ وعدہ کب آئے گا (ف۸۲) اگر تم سچے ہو،
(۳۰) تم فرماؤ تمہارے لیے ایک ایسے دن کا وعدہ جس سے تم نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکو اور نہ آگے بڑھ سکو (ف۸۳)
(۳۱) اور کافر بولے ہم ہرگز نہ ایمان لائیں گے اس قرآن پر اور نہ ان کتابوں پر جو اس سے آگے تھیں (ف۸۴) اور کسی طرح تو دیکھے جب ظالم اپنے رب کے پاس کھڑے کیے جائیں گے، ان میں ایک دوسرے پر بات ڈالے گا وہ جو دبے تھے (ف۸۵) ان سے کہیں گے جو اونچے کھینچتے (بڑے بنے ہوئے) تھے (ف۸۶) اگر تم نہ ہوتے (ف۸۷) تو ہم ضرور ایمان لے آتے،
(۳۲) وہ جو اونچے کھینچتے تھے ان سے کہیں گے جو دبے ہوئے تھے کیا ہم نے تمہیں روک دیا ہدایت سے بعد اس کے کہ تمہارے پاس آئی بلکہ تم خود مجرم تھے،
(۳۳) اور کہیں گے وہ جو دبے ہوئے تھے ان سے جو اونچے کھینچتے تھے بلکہ رات دن کا داؤں (فریب) تھا (ف۸۸) جبکہ تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ اللہ کا انکار کریں اور اس کے برابر والے ٹھہرائیں، اور دل ہی دل میں پچھتانے لگے (ف۸۹) جب عذاب دیکھا (ف۹۰) اور ہم نے طوق ڈالے ان کی گردنوں میں جو منکر تھے (ف۹۱) وہ کیا بدلہ پائیں گے مگر وہی جو کچھ کرتے تھے (ف۹۲)
(۳۴) اور ہم نے جب کبھی کسی شہر میں کوئی ڈر سنانے والا بھیجا وہاں کے آسودوں (امیروں) نے یہی کہا کہ تم جو لے کر بھیجے گئے ہم اس کے منکر ہیں (ف۹۳)
(۳۵) اور بولے ہم مال اور اولاد میں بڑھ کر ہیں اور ہم پر عذاب ہونا نہیں (ف۹۴)
(۳۶) تم فرماؤ بیشک میرا رب رزق وسیع کرتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے (ف۹۵) لیکن بہت لوگ نہیں جانتے،
(۳۷) اور تمہارے مال اور تمہاری اولاد اس قابل نہیں کہ تمہیں ہمارے قریب تک پہنچائیں مگر وہ جو ایمان لائے اور نیکی کی (ف۹۶) ان کے لیے دُونا دُوں (کئی گنا) صلہ (ف۹۷) ان کے عمل کا بدلہ اور وہ بالاخانوں میں امن و امان سے ہیں (ف۹۸)
(۳۸) اور ہو جو ہماری آیتوں میں ہرانے کی کوشش کرتے ہیں (ف۹۹) وہ عذاب میں لادھرے جائیں گے (ف۱۰۰)
(۳۹) تم فرماؤ بیشک میرا رب رزق وسیع فرماتا ہے اپنے بندوں میں جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے جس کے لیے چاہے (ف۱۰۱) اور جو چیز تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو وہ اس کے بدلے اور دے گا (ف۱۰۲) اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا (ف۱۰۳)
(۴۰) اور جس دن ان سب کو اٹھائے گا (ف۱۰۴) پھر فرشتوں سے فرمائے گا کیا یہ تمہیں پوجتے تھے (ف۱۰۵) (۴۱) وہ عرض کریں گے پاکی ہے تجھ کو تو ہمارا دوست ہے نہ وہ (ف۱۰۶) بلکہ وہ جِنوں کو پوجتے تھے (ف۱۰۷) ان میں اکثر انہیں پر یقین لائے تھے (ف۱۰۸)
(۴۲) تو آج تم میں ایک دوسرے کو بھلے برے کا کچھ اختیار نہ رکھے گا (ف۱۰۹) او رہم فرمائیں گے ظالموں سے اس آگ کا عذاب چکھو جسے تم جھٹلاتے تھے (ف۱۱۰)
(۴۳) اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں (ف۱۱۱) پڑھی جائیں تو کہتے ہیں (ف۱۱۲) یہ تو نہیں مگر ایک مرد کہ تمہیں روکنا چاہتے ہیں تمہارے باپ دادا کے معبودو ں سے (ف۱۱۳) اور کہتے ہیں (ف۱۱۴) یہ تو نہیں مگر بہتان جوڑا ہوا، اور کافروں نے حق کو کہا (ف۱۱۵) جب ان کے پاس آیا یہ تو نہیں مگر کھلا جادو،
(۴۴) اور ہم نے انہیں کچھ کتابیں نہ دیں جنہیں پڑھتے ہوں نہ تم سے پہلے ان کے پاس کوئی ڈر سنانے والا آیا (ف۱۱۶)
(۴۵) اور ان سے اگلوں نے (ف۱۱۷) جھٹلایا اور یہ اس کے دسویں کو بھی نہ پہنچے جو ہم نے انہیں دیا تھا (ف۱۱۸) پھر انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تو کیسا ہوا میرا انکا کرنا (ف۱۱۹)
(۴۶) تم فرماؤ میں تمہیں ایک نصیحت کرتا ہوں (ف۱۲۰) کہ اللہ کے لیے کھڑے رہو (ف۱۲۱) دو دو (ف۱۲۲) اور اکیلے اکیلے (ف۱۲۳) پھر سوچو (ف۱۲۴) کہ تمہارے ان صاحب میں جنون کی کوئی بات نہیں، وہ تو نہیں مگر نہیں مگر تمہیں ڈر سنانے والے (ف۱۲۵) ایک سخت عذاب کے آگے (ف۱۲۶)
(۴۷) تم فرماؤ میں نے تم سے اس پر کچھ اجر مانگا ہو تو وہ تمہیں کو (ف۱۲۷) میرا اجر تو اللہ ہی پر ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے،
(۴۸) تم فرماؤ بیشک میرا رب حق پر القا فرماتا ہے (ف۱۲۸) بہت جاننے والا سب نبیوں کا،
(۴۹) تم فرماؤ حق آیا (ف ۱۲۹) اور باطل نہ پہل کرے اور نہ پھر کر آئے (ف۱۳۰)
(۵۰) تم فرماؤ اگر میں بہکا تو اپنے ہی برے کو بہکا (ف۱۳۱) اور اگر میں نے راہ پائی تو اس کے سبب جو میرا رب میری طرف وحی فرماتا ہے (ف۱۳۲) بیشک وہ سننے والا نزدیک ہے (ف۱۳۳)
(۵۱) اور کسی طرح تو دیکھے (ف۱۳۴) جب وہ گھبراہٹ میں ڈالے جائیں گے پھر بچ کر نہ نکل سکیں گے (ف۱۳۵) اور ایک قریب جگہ سے پکڑ لیے جائیں گے (ف۱۳۶)
(۵۲) اور کہیں گے ہم اس پر ایمان لائے (ف۱۳۷) اور اب وہ اسے کیونکر پائیں اتنی دور جگہ سے (ف۱۳۸)
(۵۳) کہ پہلے (ف۱۳۹) تو اس سے کفر کرچکے تھے، اور بے دیکھے پھینک مارتے ہیں (ف۱۴۰) دور مکان سے (ف۱۴۱)
(۵۴) اور روک کردی گئی ان میں اور اس میں جسے چاہتے ہیں (ف۱۴۲) جیسے ان کے پہلے گروہوں سے کیا گیا تھا (ف۱۴۳) بیشک وہ دھوکا ڈالنے والے شک میں تھے (ف۱۴۴)

سورة فا طر ۔۳۵
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ف۱)

(۱) سب خوبیاں اللہ کو جو آسمانوں اور زمین کا بنانے والا فرشتوں کو رسول کرنے والا (ف۲) جن کے دو دو تین تین چار چار پر ہیں، بڑھاتا ہے آفرینش (پیدائش) میں جو چاہے (ف۳) بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے،
(۲) اللہ جو رحمت لوگوں کے لیے کھولے (ف۴) اس کا کوئی روکنے والا نہیں، اور جو کچھ روک لے تو اس کی روک کے بعد اس کا کوئی چھوڑنے والا نہیں، اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
(۳) اے لوگو! اپنے اوپر اللہ کا احسان یاد کرو (ف۵) کیا اللہ کے سوا اور بھی کوئی خالق ہے کہ آسمان اور زمین سے (ف۶) تمہیں روزی دے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو تم کہاں اوندھے جاتے ہو (ف۷)
(۴) اور اگر یہ تمہیں جھٹلائیں (ف۸) تو بیشک تم سے پہلے کتنے ہی رسول جھٹلائے گئے (ف۹) اور سب کام اللہ ہی کی طرف سے پھرتے ہیں (ف۱۰)
(۵) اے لوگو! بیشک اللہ کا وعدہ سچ ہے (ف۱۱) تو ہرگز تمہیں دھوکا نہ دے دنیا کی زندگی، (ف۱۲) اور ہرگز تمہیں اللہ کے حکم پر فریب نہ دے وہ بڑا فریبی (ف۱۳)
(۶) بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے تو تم بھی اسے دشمن سمجھو (ف۱۴) وہ تو اپنے گروہ کو (ف۱۵) اسی لیے بلاتا ہے کہ دوزخیوں میں ہوں (ف۱۶)
(۷) کافروں کے لیے (ف۱۷) سخت عذاب ہے، اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے (ف۱۸) ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے،
(۸) تو کیا وہ جس کی نگاہ میں اس کا برا کام آراستہ کیا گیا کہ اس نے اسے بھلا سمجھا ہدایت والے کی طرح ہوجائے گا (ف۱۹) اس لیے اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور راہ دیتا ہے جسے چاہے، تو تمہاری جان ان پر حسرتوں میں نہ جائے (ف۲۰) اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں،
(۹) اور اللہ ہے جس نے بھیجیں ہوائیں کہ بادل ابھارتی ہیں، پھر ہم اسے کسی مردہ شہر کی طرف رواں کرتے ہیں (ف۲۱) تو اس کے سبب ہم زمین کو زندہ فرماتے ہیں اس کے مرے پیچھے (ف۲۲) یونہی حشر میں اٹھنا ہے (ف۲۳)
(۱۰) جسے عزت کی چاہ ہو تو عزت تو سب اللہ کے ہاتھ ہے (ف۲۴) اسی کی طرف چڑھتا ہے پاکیزہ کلام (ف۲۵) اور جو نیک کام سے وہ اسے بلند کرتا ہے (ف۲۶) اور وہ جو برے داؤں (فریب) کرتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے (ف۲۷) اور انہیں کا مکر برباد ہوگا (ف۲۸
(۱۱) اور اللہ نے تمہیں بنایا (ف۲۹) مٹی سے پھر (ف۳۰) پانی کی بوند سے پھر تمہیں کیا جوڑے جوڑے (ف۳۱) اور کسی مادہ کو پیٹ نہیں رہتا اور نہ وہ جتنی ہے مگر اس کے علم سے، اور جس بڑی عمر والے کو عمر دی جائے یا جس کسی کی عمر کم رکھی جائے یہ سب ایک کتاب میں ہے (ف۳۲) بیشک یہ اللہ کو آسان ہے (ف۳۳)
(۱۲) اور دونوں سمندر ایک سے نہیں (ف۳۴) یہ میٹھا ہے خوب میٹھا پانی خوشگوار اور یہ کھاری ہے تلخ اور ہر ایک میں سے تم کھاتے ہو تازہ گوشت (ف۳۵) اور نکالتے ہو پہننے کا ایک گہنا (زیور) (ف۳۶) اور تو کشتیوں کو اس میں دیکھے کہ پانی چیرتی ہیں (ف۳۷) تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو (ف۳۸) اور کسی طرح حق مانو (ف۳۹)
(۱۳) رات لاتا ہے دن کے حصہ میں (ف۴۰) اور دن لاتا ہے رات کے حصہ میں (ف۴۱) اور اس نے کام میں لگائے سورج اور چاند ہر ایک ایک مقرر میعاد تک چلتا ہے (ف۴۲) یہ ہے اللہ تمہارا رب اسی کی بادشاہی ہے، اور اس کے سوا جنہیں تم پوجتے ہو (ف۴۳) دانہ خُرما کے چھلکے تک کے مالک نہیں،
(۱۴) تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار نہ سنیں، (ف۴۴) اور بالفرض سن بھی لیں تو تمہاری حاجت روانہ کرسکیں (ف۴۵) اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک سے منکر ہوں گے (ف۴۶) اور تجھے کوئی نہ بتائے گا اس بتانے والے کی طرح (ف۴۷)
(۱۵) اے لوگو! تم سب اللہ کے محتاج (ف۴۸) اور اللہ ہی بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا،
(۱۶) وہ چاہے تو تمہیں لے جائے (ف۴۹) اور نئی مخلوق لے آئے (ف۵۰)
(۱۷) اور یہ اللہ پر کچھ دشوار نہیں،
(۱۸) اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی (ف۵۱) اور اگر کوئی بوجھ والی اپنا بوجھ بٹانے کو کسی کو بلائے تو اس کے بوجھ میں سے کوئی کچھ نہ اٹھائے گا اگرچہ قریب رشتہ دار ہو (ف۵۲) اے محبوب! تمہارا ڈر سناتا انہیں کو کام دیتا ہے جو بے دیکھے اپنے رب! سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں، اور جو ستھرا ہوا (ف۵۳) تو اپنے ہی بھلے کو ستھرا ہوا (ف۵۴) اور اللہ ہی کی طرف پھرنا ہے،
(۱۹) اور برابر نہیں اندھا اور انکھیارا (ف۵۵)
(۲۰) اور نہ اندھیریاں (ف۵۶) اور اجالا (ف۵۷)
(۲۱) اور نہ سایہ (ف۵۸) اور نہ تیز دھوپ (ف۵۹)
(۲۲) اور برابر نہیں زندے اور مردے (ف۶۰) بیشک اللہ سنا تا ہے جسے چاہے (ف۶۱) اور تم نہیں سنانے والے انہیں جو قبروں میں پڑے ہیں (ف۶۲)
(۲۳) تم تو یہی ڈر سنانے والے ہو (ف۶۳)
(۲۴) اے محبوب! بیشک ہم نے تمہیں حق کے ساتھ بھیجا خوشخبری دیتا (ف۶۴) اور ڈر سنا تا (ف۶۵) اور جو کوئی گروہ تھا سب میں ایک ڈر سنانے والا گزر چکا (ف۶۶)
(۲۵) اور اگر یہ (ف۶۷) تمہیں جھٹلائیں تو ان سے اگلے بھی جھٹلاچکے ہیں (ف۶۸) ان کے پاس ان کے رسول آئے روشن دلیلیں (ف۶۹) اور صحیفے اور چمکتی کتاب (ف۷۰) لے کر،
(۲۶) پھر میں نے کافروں کو پکڑا (ف۷۱) تو کیسا ہوا میرا انکار (ف۷۲)
(۲۷) کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا (ف۷۳) تو ہم نے اس سے پھل نکالے رنگ برنگ (ف۷۴) اور پہاڑوں میں راستے ہیں سفید اور سرخ رنگ رنگ کے او رکچھ کالے بھوچنگ (سیاہ کالے)
(۲۸) اور آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں کے رنگ یونہی طرح طرح کے ہیں (ف۷۵) اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں (ف۷۶) بیشک اللہ بخشنے والا عزت والا ہے،
(۲۹) بیشک وہ جو اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں اور نماز قائم رکھتے اور ہمارے دیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں پوشیدہ اور ظاہر وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں (ف۷۷) جس میں ہرگز ٹوُٹا (نقصان) نہیں،
(۳۰) تاکہ ان کے ثواب انہیں بھرپور دے اور اپنے فضل سے اور زیادہ عطا کرے، بیشک وہ بخشنے والا قدر فرمانے والا ہے،
(۳۱) اور ہو کتاب جو ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی (ف۷۸) وہی حق ہے اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتی ہوئی، بیشک اللہ اپنے بندوں سے خبردار دیکھنے والا ہے (ف۷۹)
(۳۲) پھر ہم نے کتاب کا وارث کیا اپنے چُنے ہوئے بندوں کو (ف۸۰) تو ان میں کوئی اپنی جان پر ظلم کرتا ہے اور ان میں کوئی میانہ چال پر ہے، اور ان میں کوئی وہ ہے جو اللہ کے حکم سے بھلائیوں میں سبقت لے گیا (ف۸۱) یہی بڑا فضل ہے،
(۳۳) بسنے کے باغوں میں داخل ہوں گے وہ (ف۸۲) ان میں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور وہاں ان کی پوشاک ریشمی ہے،
(۳۴) اور کہیں گے سب خوبیاں اللہ کو جس نے ہمارا غم دور کیا (ف۸۳) بیشک ہمارا رب بخشنے والا قدر فرمانے والا ہے (ف۸۴)
(۳۵) وہ جس نے ہمیں آرام کی جگہ اتارا اپنے فضل سے، ہمیں اس میں نہ کوئی تکلیف پہنچے نہ ہمیں اس میں کوئی تکان لاحق ہو،
(۳۶) اور جنہوں نے کفر کیا ان کے لیے جہنم کی آگ ہے نہ ان کی قضا آئے کہ مرجائیں (ف۸۵) اور نہ ان پر اس کا (ف۸۶) عذاب کچھ ہلکا کیاجائے، ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں ہر بڑے ناشکرے کو،
(۳۷) اور وہ اس میں چلاتے ہوں گے (ف۸۷) اے ہمارے رب! ہمیں نکال (ف۸۸) کہ ہم اچھا کام کریں اس کے خلاف جو پہلے کرتے تھے (ف۸۹) اور کیا ہم نے تمہیں وہ عمر نہ دی تھی جس میں سمجھ لیتا جسے سمجھنا ہوتا اور ڈر سنانے والا (ف۹۰) تمہارے پاس تشریف لایا تھا (ف۹۱) تو اب چکھو (ف۹۲) کہ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں، (۳۸) بیشک اللہ جاننے والا ہے آسمانوں اور زمین کی ہر چھپی بات کا، بیشک وہ دلوں کی بات جانتا ہے،
(۳۹) وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں اگلوں کا جانشین کیا (ف۹۳) تو جو کفر کرے (ف۹۴) اس کا کفر اسی پر پڑے (ف۹۵) اور کافروں کو ان کا کفر ان کے رب کے یہاں نہیں بڑھائے گا مگر بیزاری (ف۹۶) اور کافروں کو ان کا کفر نہ بڑھائے گا مگر نقصان (ف۹۷)
(۴۰) تم فرماؤ بھلا بتلاؤ تو اپنے وہ شریک (ف۹۸) جنہیں اللہ کے سوا پوجتے ہو مجھے دکھاؤ انہوں نے زمین میں سے کونسا حصہ بنایا یا آسمانوں میں کچھ ان کا ساجھا ہے (ف۹۹) یا ہم نے انہیں کوئی کتاب دی ہے کہ وہ اس کی روشن دلیلوں پر ہیں (ف۱۰۰) بلکہ ظالم آپس میں ایک دوسرے کو وعدہ نہیں دیتے مگر فریب کا (ف۱۰۱)
(۴۱) بیشک اللہ روکے ہوئے ہے آسمانوں اور زمین کو کہ جنبش نہ کریں (ف۱۰۲) اور اگر وہ ہٹ جائیں تو انہیں کون روکے اللہ کے سوا، بیشک وہ علم بخشنے والا ہے،
(۴۲) اور انہوں نے اللہ کی قسم کھائی اپنی قسموں میں حد کی کوشش سے کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈر سنانے والا آیا تو وہ ضرور کسی نہ کسی گروہ سے زیادہ راہ پر ہوں گے (ف۱۰۳) پھر جب ان کے پاس ڈر سنانے والا تشریف لایا (ف۱۰۴) تو اس نے انہیں نہ بڑھا مگر نفرت کرنا (ف۱۰۵)
(۴۳) اپنی جان کو زمین میں اونچا کھینچنا اور برا داؤں (ف۱۰۶) اور برا داؤں (فریب) اپنے چلنے والے ہی پر پڑتا ہے (ف۱۰۷) تو کا ہے کے انتظار میں ہیں مگر اسی کے جو اگلوں کا دستور ہوا (ف۱۰۸) تو تم ہرگز اللہ کے دستور کو بدلتا نہ پاؤ گے اور ہرگز اللہ کے قانون کو ٹلتا نہ پاؤ گے،
(۴۴) اور کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے ان سے اگلوں کا کیسا انجام ہوا (ف۱۰۹) اور وہ ان سے زور میں سخت تھے (ف۱۱۰) اور اللہ وہ نہیں جس کے قابو سے نکل سکے کوئی شئے آسمانوں اور نہ زمین میں، بیشک وہ علم و قدرت والا ہے،
(۴۵) اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے کیے پر پکڑتا (ف۱۱۱) تو زمین کی پیٹھ پر کوئی چلنے والا نہ چھوڑتا لیکن ایک مقرر میعاد (ف۱۱۲) تک انہیں ڈھیل دیتا ہے پھر جب ان کا وعدہ آئے گا تو بیشک اللہ کے سب بندے اس کی نگاہ میں ہیں (ف۱۱۳)
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 16-02-08, 07:17 AM   #34
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 28
مراسلات: 11,250
کمائي: 23,271,276
ميرا موڈ:
شکریہ: 5,007
2,462 مراسلہ میں 5,556 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: کنز الایمان ۔ ترجمہ قرآن۔ احمد رضا بریلوی

سورة یسٰں ۔۳۶
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)
(۱) یسٰں
(۲) حکمت والے قرآن کی قسم،
(۳) بیشک تم (ف۲)
(۴) سیدھی راہ پر بھیجے گئے ہو (ف۳)
(۵) عزت والے مہربان کا اتارا ہوا،
(۶) تاکہ تم اس قوم کو ڈر سناؤ جس کے باپ دادا نہ ڈرائے گئے (ف۴) تو وہ بے خبر ہیں،
(۷) بیشک ان میں اکثر پر بات ثابت ہوچکی ہے (ف۵) تو وہ ایمان نہ لائیں گے (ف۶)
(۸) ہم نے ان کی گردنو ں میں طوق کردیے ہیں کہ وہ ٹھوڑیوں تک ہیں تو یہ اوپر کو منہ اٹھائے رہ گئے (ف۷)
(۹) اور ہم نے ان کے آگے دیوار بنادی اور ان کے پیچھے ایک دیوار اور انہیں اوپر سے ڈھانک دیا تو انہیں کچھ نہیں سوجھتا (ف۸)
(۱۰) اور انہیں ایک سا ہے تم انہیں ڈراؤٕ یا نہ ڈراؤ وہ ایمان لانے کے نہیں،
(۱۱) تم تو اسی کو ڈر سناتے ہو (ف۹) جو نصیحت پر چلے اور رحمن سے بے دیکھے ڈرے، تو اسے بخشش اور عزت کے ثواب کی بشارت دو (ف۱۰)
(۱۲) بیشک ہم مُردوں کو جِلائیں گے اور ہم لکھ رہے ہیں جو انہوں نے آگے بھیجا (ف۱۱) اور جو نشانیاں پیچھے چھوڑ گئے (ف۱۲) اور ہر چیز ہم نے گن رکھی ہے ایک بتانے والی کتاب میں (ف۱۳)
(۱۳) اور ان سے نشانیاں بیان کرو اس شہر والوں کی (ف۱۴) جب ان کے پاس فرستادے (رسول) آئے، (ف۱۵)
(۱۴) جب ہم نے ان کی طرف دو بھیجے (ف۱۶) پھر انہوں نے ان کو جھٹلایا تو ہم نے تیسرے سے زور دیا (ف۱۷) اب ان سب نے کہا (ف۱۸) کہ بیشک ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں،
(۱۵) بولے تم تو نہیں مگر ہم جیسے آدمی اور رحمن نے کچھ نہیں اتارا تم نرے جھوٹے ہو،
(۱۶) وہ بولے ہمارا رب جانتا ہے کہ بیشک ضرور ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں،
(۱۷) اور ہمارے ذمہ نہیں مگر صاف پہنچا دینا (ف۱۹)
(۱۸) بولے ہم تمہیں منحوس سمجھتے ہیں (ف۲۰) بیشک اگر تم باز نہ آئے (ف۲۱) تو ضرور ہم تمہیں سنگسار کریں گے بیشک ہمارے ہاتھوں تم پر دکھ کی مار پڑے گی،
(۱۹) انہوں نے فرمایا تمہاری نحوست تو تمہارے ساتھ ہے (ف۲۲) کیا اس پر بدکتے ہو کہ تم سمجھائے گئے (ف۲۳) بلکہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو (ف۲۴)
(۲۰) اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک مرد دوڑتا آیا (ف۲۵) بولا، اے میری قوم! بھیجے ہوؤں کی پیروی کرو،
(۲۱) ایسوں کی پیروی کرو جو تم سے کچھ نیگ (اجر) نہیں مانگتے اور وہ راہ پر ہیں،
(۲۲) (ف۲۶) اور مجھے کیا ہے کہ اس کی بندگی نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور اسی کی طرف تمہیں پلٹنا ہے، (ف۲۷)
(۲۳) کیا اللہ کے سوا اور خدا ٹھہراؤں (ف۲۸) کہ اگر رحمٰن میرا کچھ برا چاہے تو ان کی سفارش میرے کچھ کام نہ آئے اور نہ وہ مجھے بچاسکیں،
(۲۴) بیشک جب تو میں کھلی گمراہی میں ہو (ف۲۹)
(۲۵) مقرر میں تمہارے رب پر ایمان لایا تو میری سنو (ف۳۰)
(۲۶) اس سے فرمایا گیا کہ جنت میں داخل ہو (ف۳۱) کہا کسی طرح میری قوم جانتی،
(۲۷) جیسی میرے رب نے میری مغفرت کی اور مجھے عزت والوں میں کیا (ف۳۲)
(۲۸) اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہ اتارا (ف۳۳) اور نہ ہمیں وہاں کوئی لشکر اتارنا تھا، (۲۹) وہ تو بس ایک ہی چیخ تھی جبھی وہ بجھ کر رہ گئے (ف۳۴)،
(۳۰) اور کہا گیا کہ ہائے افسوس ان بندوں پر (ف۳۵) جب ان کے پاس کوئی رسول آتا ہے تو اس سے ٹھٹھا ہی کرتے ہیں،
(۳۱) کیا انہوں نے نہ دیکھا (ف۳۶) ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں ہلاک فرمائیں کہ وہ اب ان کی طرف پلٹنے والے نہیں (ف۳۷)
(۳۲) اور جتنے بھی ہیں سب کے سب ہمارے حضور حاضر لائے جائیں گے (ف۳۸)
(۳۳) اور ان کے لیے ایک نشانی مردہ زمین ہے (ف۳۹) ہم نے اسے زندہ کیا (ف۴۰) اور پھر اس سے اناج نکالا تو اس میں سے کھاتے ہیں،
(۳۴) اور ہم نے اس میں (ف۴۱) باغ بنائے کھجوروں اور انگو روں کے اور ہم نے اس میں کچھ چشمے بہائے کہ،
(۳۵) اس کے پھلوں میں سے کھائیں اور یہ ان کے ہاتھ کے بنائے نہیں تو کیا حق نہ مانیں گے (ف۴۲)
(۳۶) پاکی ہے اسے جس نے سب جوڑے بنائے (ف۴۳) ان چیزوں سے جنہیں زمین اگاتی ہے (ف۴۴) اور خود ان سے (ف۴۵) اور ان چیزوں سے جن کی انہیں خبر نہیں (ف۴۶)
(۳۷) اور ان کے لیے ایک نشانی (ف۴۷) رات ہے ہم اس پر سے دن کھینچ لیتے ہیں (ف۴۸) جبھی وہ اندھیروں میں ہیں،
(۳۸) اور سورج چلتا ہے اپنے ایک ٹھہراؤ کے لیے (ف۴۹) یہ حکم ہے زبردست علم والے کا (ف۵۰)
(۳۹) اور چاند کے لیے ہم نے منزلیں مقرر کیں (ف۵۱) یہاں تک کہ پھر ہوگیا جیسے کھجور کی پرانی ڈال (ٹہنی) (ف۵۲)
(۴۰) سورج کو نہیں پہنچتا کہ چاند کو پکڑے (ف۵۳) اور نہ رات دن پر سبقت لے جائے (ف۵۴) اور ہر ایک ، ایک گھیرے میں پیر رہا ہے،
(۴۱) اور ان کے لیے نشانی یہ ہے کہ انہیں ان بزرگوں کی پیٹھ میں ہم نے بھری کشتی میں سوار کیا (ف۵۵)
(۴۲) اور ان کے لیے ویسی ہی کشتیاں بنادیں جن پر سوار ہوتے ہیں،
(۴۳) اور ہم چاہیں تو انہیں ڈبودیں (ف۵۶) تو نہ کوئی ان کی فریاد کو پہنچنے والا ہو اور نہ وہ بچائے جائیں،
(۴۴) مگر ہماری طرف کی رحمت اور ایک وقت تک برتنے دینا (ف۵۷)
(۴۵) اور جب ان سے فرمایا جاتا ہے ڈرو تم اس سے جو تمہارے سامنے ہے (ف۵۸) اور جو تمہارے پیچھے آنے والا ہے (ف۵۹) اس امید پر کہ تم پر مہر ہو تو منہ پھیر لیتے ہیں،
(۴۶) اور جب کبھی ان کے رب کی نشانیوں سے کوئی نشانی ان کے پاس آتی ہے تو اس سے منہ پھیرلیتے ہیں، (ف۶۰)
(۴۷) اور جب ان سے فرمایا جائے اللہ کے دیے میں سے کچھ اس کی راہ میں خرچ کرو تو کافر مسلمانوں کے لیے کہتے ہیں کہ کیا ہم اسے کھلائیں جسے اللہ چاہتا تو کھلادیتا (ف۶۱) تم تو نہیں مگر کھلی گمراہی میں،
(۴۸) اور کہتے ہیں کب آئے گا یہ وعدہ (ف۶۲) اگر تم سچے ہو (ف۶۳)
(۴۹) راہ نہیں دیکھتے مگر ایک چیخ کی (ف۶۴) کہ انہیں آلے گی جب وہ دنیا کے جھگڑے میں پھنسے ہوں گے، (ف۶۵)
(۵۰) تو نہ وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے گھر پلٹ کرجائیں (ف۶۶)
(۵۱) اور پھونکا جائے گا صور (ف۶۷) جبھی وہ قبروں سے (ف۶۸) اپنے رب کی طرف دوڑتے چلیں گے،
(۵۲) کہیں گے ہائے ہماری خرابی کس نے ہمیں سوتے سے جگادیا (ف۶۹) یہ ہے وہ جس کا رحمٰن نے وعدہ دیا تھا اور رسولوں نے حق فرمایا (ف۷۰)
(۵۳) وہ تو نہ ہوگی مگر ایک چنگھاڑ (ف۷۱) جبھی وہ سب کے سب ہمارے حضور حاضر ہوجائیں گے (ف۷۲)
(۵۴) تو آج کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہوگا اور تمہیں بدلا نہ ملے گا اپنے کیے کا،
(۵۵) بیشک جنت والے آج دل کے بہلاووں میں چین کرتے ہیں (ف۷۳)
(۵۶) وہ اور ان کی بیبیاں سایوں میں ہیں، تختوں پر تکیہ لگائے،
(۵۷) ان کے لیے اس میں میوہ ہے اور ان کے لیے ہے اس میں جو مانگیں،
(۵۸) ان پر سلام ہوگا، مہربان رب کا فرمایا ہوا (ف۷۴)
(۵۹) اور آج الگ پھٹ جاؤ، اے مجرمو! (ف۷۵)
(۶۰) اے اولاد آدم کیا میں نے تم سے عہد نہ لیا تھا (ف۷۶) کہ شیطان کو نہ پوجنا (ف۷۷) بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے،
(۶۱) اور میری بندگی کرنا (ف۷۸) یہ سیدھی راہ ہے،
(۶۲) اور بیشک اس نے تم میں سے بہت سی خلقت کو بہکادیا، تو کیا تمہیں عقل نہ تھی (ف۷۹)
(۶۳) یہ ہے وہ جہنم جس کا تم سے وعدہ تھا،
(۶۴) آج اسی میں جاؤ بدلہ اپنے کفر کا،
(۶۵) آج ہم ان کے مونھوں پر مہر کردیں گے (ف۸۰) اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان پاؤں ان کے کئے کی گواہی دیں گے (ف۸۱)
(۶۶) اور اگر ہم چاہتے تو ان کی آنکھیں مٹادیتے (ف۸۲) پھر لپک کر رستہ کی طرف جاتے تو انہیں کچھ نہ سوجھتا (ف۸۳)
(۶۷) اور اگر ہم چاہتے تو ان کے گھر بیٹھے ان کی صورتیں بدل دیتے (ف۸۴) نہ آگے بڑھ سکتے نہ پیچھے لوٹتے (ف۸۵)
(۶۸) اور جسے ہم بڑی عمر کا کریں اسے پیدائش میں الٹا پھیریں (ف۸۶) تو کیا سمجھے نہیں (ف۸۷)
(۶۹) اور ہم نے ان کو شعر کہنا نہ سکھایا (ف۸۸) اور نہ وہ ان کی شان کے لائق ہے، وہ تو نہیں مگر نصیحت اور روشن قرآن (ف۸۹)
(۷۰) کہ اسے ڈرائے جو زندہ ہو (ف۹۰) اور کافروں پر بات ثابت ہوجائے (ف۹۱)
(۷۱) اور کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ ہم نے اپنے ہاتھ کے بنائے ہوئے چوپائے ان کے لیے پیدا کیے تو یہ ان کے مالک ہیں،
(۷۲) اور انہیں ان کے لیے نرم کردیا (ف۹۲) تو کسی پر سوار ہوتے ہیں اور کسی کو کھاتے ہیں،
(۷۳) اور ان کے لیے ان میں کئی طرح کے نفع (ف۹۳) اور پینے کی چیزیں ہیں (ف۹۴) تو کیا شکر نہ کریں گے (ف۹۵)
(۷۴) اور انہوں نے اللہ کے سوا اور خدا ٹھہرالیے (ف۹۶) کہ شاید ان کی مدد ہو (ف۹۷)
(۷۵) وہ ان کی مدد نہیں کرسکتے (ف۹۸) اور وہ ان کے لشکر سب گرفتار حاضر آئیں گے (ف۹۹)
(۷۶) تو تم ان کی بات کا غم نہ کرو (ف۱۰۰) بیشک ہم جانتے ہیں جو وہ چھپاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں (ف۱۰۱)
(۷۷) اور کیا آدمی نے نہ دیکھا کہ ہم نے اسے پانی کی بوند سے بنایا جبھی وہ صریح جھگڑالو ہے (ف۱۰۲)
(۷۸) اور ہمارے لیے کہاوت کہتا ہے (ف۱۰۳) اور اپنی پیدائش بھول گیا (ف۱۰۴) بولا ایسا کون ہے کہ ہڈیوں کو زندہ کرے جب وہ بالکل گل گئیں،
(۷۹) تم فرماؤ وہ زندہ کرے گا جس نے پہلی بار انہیں بنایا، اور اسے ہر پیدائش کا علم ہے (ف۱۰۵)
(۸۰) جس نے تمہارے لیے ہرے پیڑ میں ا ٓ گ پیدا کی جبھی تم اس سے سلگاتے ہو (ف۱۰۶)
(۸۱) اور کیا وہ جس نے آسمان اور زمین بنائے ان جیسے اور نہیں بناسکتا (ف۱۰۷) کیوں نہیں (ف۱۰۸) اور وہی بڑا پیدا کرنے والا سب کچھ جانتا،
(۸۲) اس کا کام تو یہی ہے کہ جب کسی چیز کو چاہے (ف۱۰۹) تو اس سے فرمائے ہو جا وہ فوراً ہوجاتی ہے، (ف۱۱۰)
(۸۳) تو پاکی ہے، اسے جس کے ہاتھ ہر چیز کا قبضہ ہے، اور اسی کی طرف پھیرے جاؤ گے (ف۱۱۱)

سورة صفت ۔۳۷
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ف۱)

(۱) قسم ان کی کہ باقاعدہ صف باندھیں (ف۲)
(۲) پھر ان کی کہ جھڑک کر چلائیں (ف۳)
(۳) پھر ان جماعتوں کی، کہ قرآن پڑھیں،
(۴) بیشک تمہارا معبود ضرور ایک ہے،
(۵) مالک آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور مالک مشرقوں کا (ف۴)
(۶) اور بیشک ہم نے نیچے کے آسمان کو (ف۵) تاروں کے سنگھار سے آراستہ کیا ،
(۷) اور نگاہ رکھنے کو ہر شیطان سرکش سے (ف۶)
(۸) عالم بالا کی طرف کان نہیں لگاسکتے (ف۷) اور ان پر ہر طرف سے مار پھینک ہوتی ہے (ف۸)
(۹) انہیں بھگانے کو اور ان کے لیے (ف۹) ہمیشہ کا عذاب،
(۱۰) مگر جو ایک آدھ بار اُچک لے چلا (ف۱۰) تو روشن انگار اس کے پیچھے لگا ، (ف۱۱)
(۱۱) تو ان سے پوچھو (ف۱۲) کیا ان کی پیدائش زیادہ مضبوط ہے یا ہماری اور مخلوق آسمانوں اور فرشتوں وغیرہ کی (ف۱۳) بیشک ہم نے ان کو چپکتی مٹی سے بنایا (ف۱۴)
(۱۲) بلکہ تمہیں اچنبھا آیا (ف۱۵) اور وہ ہنسی کرتے ہیں (ف۱۶)
(۱۳) اور سمجھائے نہیں سمجھتے،
(۱۴) اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں (ف۱۷) ٹھٹھا کرتے ہیں،
(۱۵) اور کہتے ہیں یہ تو نہیں مگر کھلا جادو،
(۱۶) کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے کیا ہم ضرور اٹھائے جائیں گے،
(۱۷) اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی (ف۱۸)
(۱۸) تم فرماؤ ہاں یوں کہ ذلیل ہو کے،
(۱۹) تو وہ (ف۱۹) تو ایک ہی جھڑک ہے (ف۲۰) جبھی وہ (ف۲۱) دیکھنے لگیں گے،
(۲۰) اور کہیں گے ہائے ہماری خرابی ان سے کہا جائے گا یہ انصاف کا دن ہے (ف۲۲)
(۲۱) یہ ہے وہ فیصلے کا دن جسے تم جھٹلاتے تھے (ف۲۳)
(۲۲) ہانکو ظالموں اور ان کے جوڑوں کو (ف۲۴) اور جو کچھ وہ پوجتے تھے ،
(۲۳) اللہ کے سوا، ان سب کو ہانکو راہِ دوزخ کی طرف،
(۲۴) اور انہیں ٹھہراؤ (ف۲۵) ان سے پوچھنا ہے (ف۲۶)
(۲۵) تمہیں کیا ہوا ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے (ف۲۷)
(۲۶) بلکہ وہ آج گردن ڈالے ہیں (ف۲۸)
(۲۷) اور ان میں ایک نے دوسرے کی طرف منہ کیا آپس میں پوچھتے ہوئے،
(۲۸) بولے (ف۲۹) تم ہمارے دہنی طرف سے بہکانے آتے تھے (ف۳۰)
(۲۹) جواب دیں گے تم خود ہی ایمان نہ رکھتے تھے (ف۳۱)
(۳۰) اور ہمارا تم پر کچھ قابو نہ تھا (ف۳۲) بلکہ تم سرکش لوگ تھے،
(۳۱) تو ثابت ہوگئی ہم پر ہمارے رب کی بات (ف۳۳) ہمیں ضرور چکھنا ہے (ف۳۴)
(۳۲) تو ہم نے تمہیں گمراہ کیا کہ ہم خود گمراہ تھے،
(۳۳) تو اس دن (ف۳۵) وہ سب کے سب عذاب میں شریک ہیں (ف۳۶)
(۳۴) مجرموں کے ساتھ ہم ایسا ہی کرتے ہیں،
(۳۵) بیشک جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں تو اونچی کھینچتے (تکبر کرتے) تھے (ف۳۷) (۳۶) اور کہتے تھے کیا ہم اپنے خداؤں کو چھوڑدیں ایک دیوانہ شاعر کے کہنے سے (ف۳۸)
(۳۷) بلکہ وہ تو حق لائے ہیں اور انہوں نے رسولوں کی تصدیق فرمائی (ف۳۹)
(۳۸) بیشک تمہیں ضرور دکھ کی مار چکھنی ہے،
(۳۹) تو تمہیں بدلہ نہ ملے گا مگر اپنے کیے کا (ف۴۰)
(۴۰) مگر جو اللہ کے چُنے ہوئے بندے ہیں (ف۴۱)
(۴۱) ان کے لیے وہ روزی ہے جو ہمارے علم میں ہیں،
(۴۲) میوے (ف۴۲) اور ان کی عزت ہوگی،
(۴۳) چین کے باغوں میں،
(۴۴) تختوں پر ہوں گے آمنے سامنے (ف۴۳)
(۴۵) ان پر دورہ ہوگا نگاہ کے سامنے بہتی شراب کے جام کا (ف۴۴)
(۴۶) سفید رنگ (ف۴۵) پینے والوں کے لیے لذت (ف۴۶)
(۴۷) نہ اس میں خمار ہے (ف۴۷) اور نہ اس سے ان کا سَر پِھرے (ف۴۸)
(۴۸) اور ان کے پاس ہیں جو شوہروں کے سوا دوسری طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں گی (ف۴۹)
(۴۹) بڑی آنکھوں والیاں گویا وہ انڈے ہیں پوشیدہ رکھے ہوئے (ف۵۰)
(۵۰) تو ان میں (ف۵۱) ایک نے دوسرے کی طرف منہ کیا پوچھتے ہوئے (ف۵۲)
(۵۱) ان میں سے کہنے والا بولا میرا ایک ہمنشین تھا (ف۵۳)
(۵۲) مجھ سے کہا کرتا کیا تم اسے سچ مانتے ہو (ف۵۴)
(۵۳) کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہمیں جزا سزا دی جائے گی (ف۵۵)
(۵۴) کہا کیا تم جھانک کر دیکھو گے (ف۵۶)
(۵۵) پھر جھانکا تو اسے بیچ بھڑکتی آگ میں دیکھا (ف۵۷)
(۵۶) کہا خدا کی قسم قریب تھا کہ تو مجھے ہلاک کردے (ف۵۸)
(۵۷) اور میرا رب فضل نہ کرے (ف۵۹) تو ضرور میں بھی پکڑ کر حاضر کیا جاتا (ف۶۰)
(۵۸) تو کیا ہمیں مرنا نہیں،
(۵۹) مگر ہماری پہلی موت (ف۶۱) اور ہم پر عذاب نہ ہوگا (ف۶۳)
(۶۰) بیشک یہی بڑی کامیابی ہے،
(۶۱) ایسی ہی بات کے لیے کامیوں کو کام کرنا چاہیے،
(۶۲) تو یہ مہمانی بھلی (ف۶۳) یا تھوہڑ کا پیڑ (ف۶۴)
(۶۳) بیشک ہم نے اسے ظالموں کی جانچ کیا ہے (ف۶۵)
(۶۴) بیشک وہ ایک پیڑ ہے کہ جہنم کی جڑ میں نکلتا ہے (ف۶۶)
(۶۵) اس کا شگوفہ جیسے دیووں کے سر (ف۶۷)
(۶۶) پھر بیشک وہ اس میں سے کھائیں گے (ف۶۸) پھر اس سے پیٹ بھریں گے،
(۶۷) پھر بیشک ان کے لیے اس پر کھولتے پانی کی ملونی (ملاوٹ) ہے (ف۶۹)
(۶۸) پھر ان کی بازگشت ضرور بھڑکتی آگ کی طرف ہے (ف۷۰)
(۶۹) بیشک انہوں نے اپنے باپ دادا گمراہ پائے،
(۷۰) تو وہ انہیں کے نشان قدم پر دوڑے جاتے ہیں (ف۷۱)
(۷۱) اور بیشک ان سے پہلے بہت سے اگلے گمراہ ہوئے (ف۷۲)
(۷۲) اور بیشک ہم نے ان میں ڈر سنانے والے بھیجے (ف۷۳)
(۷۳) تو دیکھو ڈرائے گیوں کا کیسا انجام ہوا (ف۷۴)
(۷۴) مگر اللہ کے چُنے ہوئے بندے (ف۷۵)
(۷۵) اور بیشک ہمیں نوح نے پکارا (ف۷۶) تو ہم کیا ہی اچھے قبول فرمانے والے (ف۷۷)
(۷۶) اور ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو بڑی تکلیف سے نجات دی،
(۷۷) اور ہم نے اسی کی اولاد باقی رکھی (ف۷۸)
(۷۸) اور ہم نے پچھلوں میں اس کی تعریف باقی رکھی (ف۷۹)
(۷۹) نوح پر سلام ہو جہاں والوں میں (ف۸۰)
(۸۰) بیشک ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،
(۸۱) بیشک وہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل الایمان بندوں میں ہے،
(۸۲) پھر ہم نے دوسروں کو ڈبو دیا (ف۸۱)
(۸۳) اور بیشک اسی کے گروہ سے ابراہیم ہے (ف۸۲)
(۸۴) جبکہ اپنے رب کے پاس حاضر ہوا غیر سے سلامت دل لے کر (ف۸۳)
(۸۵) جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا (ف۸۴) تم کیا پوجتے ہو،
(۸۶) کیا بہتان سے اللہ کے سوا اور خدا چاہتے ہو،
(۸۷) تو تمہارا کیا گمان سے رب العالمین پر (ف۸۵)
(۸۸) پھر اس نے ایک نگاہ ستاروں کو دیکھا (ف۸۶)
(۸۹) پھر کہا میں بیمار ہونے والا ہوں (ف۸۷)
(۹۰) تو وہ اس پر پیٹھ دے کر پھر گئے (ف۸۸)
(۹۱) پھر ان کے خداؤں کی طرف چھپ کر چلا تو کہا کیا تم نہیں کھاتے (ف۸۹)
(۹۲) تمہیں کیا ہوا کہ نہیں بولتے (ف۹۰)
(۹۳) تو لوگوں کی نظر بچا کر انہیں دہنے ہاتھ سے مارنے لگا (ف۹۱)
(۹۴) تو کافر اس کی طرف جلدی کرتے آئے (ف۹۲)
(۹۵) فرمایا کیا اپنے ہاتھ کے تراشوں کو پوجتے ہو،
(۹۶) اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے اعمال کو (ف۹۳)
(۹۷) بولے اس کے لیے ایک عمارت چنو (ف۹۴) پھر اسے بھڑکتی آگ میں ڈال دو،
(۹۸) تو انہوں نے اس پر داؤں چلنا (فریب کرنا) چاہا ہم نے انہیں نیچا دکھایا (ف۹۵)
(۹۹) اور کہا میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں (ف۹۶) اب وہ مجھے راہ دے گا (ف۹۷)
(۱۰۰) الٰہی مجھے لائق اولاد دے،
(۱۰۱) تو ہم نے اسے خوشخبری سنائی ایک عقل مند لڑکے کی،
(۱۰۲) پھر جب وہ اس کے ساتھ کام کے قابل ہوگیا کہا اے میرے بیٹے میں نے خواب دیکھا میں تجھے ذبح کرتا ہوں (ف۹۸) اب تو دیکھ تیری کیا رائے ہے (ف۹۹) کہا اے میرے باپ کی جیئے جس بات کا آپ کو حکم ہوتا ہے، خدا نے چاہتا تو قریب ہے کہ آپ مجھے صابر پائیں گے،
(۱۰۳) تو جب ان دونوں نے ہمارے حکم پر گردن رکھی اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹایا اس وقت کا حال نہ پوچھ (ف۱۰۰)
(۱۰۴) اور ہم نے اسے ندائی فرمائی کہ اے ابراہیم،
(۱۰۵) بیشک تو نے خواب سچ کردکھایا (ف۱۰۱) ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،
(۱۰۶) بیشک یہ روشن جانچ تھی،
(۱۰۷) اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے کر اسے بچالیا (ف۱۰۲)
(۱۰۸) اور ہم نے پچھلوں میں اس کی تعریف باقی رکھی،
(۱۰۹) سلام ہو ابراہیم پر (ف۱۰۳)
(۱۱۰) ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،
(۱۱۱) بیشک وہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل الایمان بندوں میں ہیں،
(۱۱۲) اور ہم نے اسے خوشخبری دی اسحاق کی کہ غیب کی خبریں بتانے والا نبی ہمارے قربِ خاص کے سزاواروں میں (ف۱۰۴)
(۱۱۳) اور ہم نے برکت اتاری اس پر اور اسحاق پر (ف۱۰۵) اور ان کی اولاد میں کوئی اچھا کام کرنے والا (ف۱۰۶) اور کوئی اپنی جان پر صریح ظلم کرنے والا (ف۱۰۷)
(۱۱۴) اور بیشک ہم نے موسیٰ اور ہارون پر احسان فرمایا (ف۱۰۸)
(۱۱۵) اور انہیں اور ان کی قوم (ف۱۰۹) کو بڑی سختی سے نجات بخشی (ف۱۱۰)
(۱۱۶) اور ان کی ہم نے مدد فرمائی (ف۱۱۱) تو وہی غالب ہوئے (ف۱۱۲)
(۱۱۷) اور ہم نے ان دونوں کو روشن کتاب عطا فرمائی (ف۱۱۳)
(۱۱۸) اور ان کو سیدھی راہ دکھائی،
(۱۱۹) اور پچھلوں میں ان کی تعریف باقی رکھی،
(۱۲۰) سلام ہو موسیٰ اور ہارون پر،
(۱۲۱) بیشک ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،
(۱۲۲) بیشک وہ دونوں ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل الایمان بندوں میں ہیں،
(۱۲۳) اور بیشک الیاس پیغمبروں سے ہے (ف۱۱۴)
(۱۲۴) جب اس نے اپنی قوم سے فرمایا کیا تم ڈرتے نہیں (ف۱۱۵)
(۱۲۵) کیا بعل کو پوجتے ہو (ف۱۱۶) اور چھوڑتے ہو سب سے اچھا پیدا کرنے والے اللہ کو،
(۱۲۶) جو رب ہے تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادا کا (ف۱۱۷)
(۱۲۷) پھر انہو ں نے اسے جھٹلایا تو وہ ضرور پکڑے آئیں گے (ف۱۱۸)
(۱۲۸) مگر اللہکے چُنے ہوئے بندے (ف۱۱۹)
(۱۲۹) اور ہم نے پچھلوں میں اس کی ثنا باقی رکھی،
(۱۳۰) سلام ہو الیاس پر،
(۱۳۱) بیشک ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،
(۱۳۲) بیشک وہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل الایمان بندوں میں ہے،
(۱۳۳) اور بیشک لوط پیغمبروں میں ہے،
(۱۳۴) جبکہ ہم نے اسے اور اس کے سب گھر والوں کو نجات بخشی،
(۱۳۵) مگر ایک بڑھیا کہ رہ جانے والوں میں ہوئی (ف۱۲۰)
(۱۳۶) پھر دوسروں کو ہم نے ہلاک فرمادیا (ف۱۲۱)
(۱۳۷) او ربیشک تم (ف۱۲۲) ان پر گزرتے ہو صبح کو،
(۱۳۸) اور رات میں (ف۱۲۳) تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۱۲۴)
(۱۳۹) اور بیشک یونس پیغمبروں سے ہے،
(۱۴۰) جبکہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا (ف۱۲۵)
(۱۴۱) تو قرعہ ڈالا تو ڈھکیلے ہوؤں میں ہوا،
(۱۴۲) پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا (ف۱۲۶)
(۱۴۳) تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا (ف۱۲۷)
(۱۴۴) ضرور اس کے پیٹ میں رہتا جس دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے (ف۱۲۸)
(۱۴۵) پھر ہم نے اسے (ف۱۲۹) میدان میں ڈال دیا اور وہ بیمار تھا (ف۱۳۰)
(۱۴۶) اور ہم نے اس پر (ف۱۳۱) کدو کا پیڑ اگایا (ف۱۳۲)
(۱۴۷) اور ہم نے اسے (ف۱۳۳) لاکھ آدمیوں کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ،
(۱۴۸) تو وہ ایمان لے آئے (ف۱۳۴) تو ہم نے انہیں ایک وقت تک برتنے دیا (ف۱۳۵)
(۱۴۹) تو ان سے پوچھو کیا تمہارے رب کے لیے بیٹیاں ہیں (ف۱۳۶) اور ان کے بیٹے (ف۱۳۷)
(۱۵۰) یا ہم نے ملائکہ کو عورتیں پیدا کیا اور وہ حاضر تھے (ف۱۳۸)
(۱۵۱) سنتے ہو بیشک وہ اپنے بہتان سے کہتے ہیں،
(۱۵۲) کہ اللہ کی اولاد ہے اور بیشک وہ ضرور جھوٹے ہیں،
(۱۵۳) کیا اس نے بیٹیاں پسند کیں بیٹے چھوڑ کر،
(۱۵۴) تمہیں کیا ہے، کیسا حکم لگاتے ہو (ف۱۳۹)
(۱۵۵) تو کیا دھیان نہیں کرتے (ف۱۴۰)
(۱۵۶) یا تمہارے لیے کوئی کھلی سند ہے،
(۱۵۷) تو اپنی کتاب لاؤ (ف۱۴۱) اگر تم سچے ہو،
(۱۵۸) اور اس میں اور جنوں میں رشتہ ٹھہرایا (ف۱۴۲) اور بیشک جنوں کو معلوم ہے کہ وہ (ف۱۴۳) ضرور حاضر لائے جائیں گے (ف۱۴۴)
(۱۵۹) پاکی ہے اللہ کو ان باتوں سے کہ یہ بتاتے ہیں،
(۱۶۰) مگر اللہ کے چُنے ہوئے بندے (ف۱۴۵)
(۱۶۱) تو تم اور جو کچھ تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۱۴۶)
(۱۶۲) تم اس کے خلاف کسی کو بہکانے والے نہیں (ف۱۴۷)
(۱۶۳) مگر اسے جو بھڑکتی آگ میں جانے والا ہے (ف۱۴۸)
(۱۶۴) اور فرشتے کہتے ہیں ہم میں ہر ایک کا ایک مقام معلوم ہے (ف۱۴۹)
(۱۶۵) اور بیشک ہم پر پھیلائے حکم کے منتظر ہیں،
(۱۶۶) اور بیشک ہم اس کی تسبیح کرنے والے ہیں،
(۱۶۷) اور بیشک وہ کہتے تھے (ف۱۵۰)
(۱۶۸) اگر ہمارے پاس اگلوں کی کوئی نصیحت ہوتی (ف۱۵۱)
(۱۶۹) تو ضرور ہم اللہ کے چُنے ہوئے بندے ہوتے (ف۱۵۲)
(۱۷۰) تو اس کے منکر ہوئے تو عنقریب جان لیں گے (ف۱۵۳)
(۱۷۱) اور بیشک ہمارا کلام گزر چکا ہے ہمارے بھیجے ہوئے بندوں کے لیے،
(۱۷۲) کہ بیشک انہیں کی مدد ہوگی،
(۱۷۳) اور بیشک ہمارا ہی لشکر (ف۱۵۴) غالب آئے گا،
(۱۷۴) تو ایک وقت تم ان سے منہ پھیر لو (ف۱۵۵)
(۱۷۵) اور انہیں دیکھتے رہو کہ عنقریب وہ دیکھیں گے (ف۱۵۶)
(۱۷۶) تو کیا ہمارے عذاب کی جلدی کرتے ہیں،
(۱۷۷) پھر جب اترے گا ان کے آنگن میں تو ڈرائے گیوں کی کیا ہی بری صبح ہوگی،
(۱۷۸) اور ایک وقت تک ان سے منہ پھیرلو،
(۱۷۹) اور انتظار کرو کہ وہ عنقریب دیکھیں گے،
(۱۸۰) پاکی ہے تمہارے رب کو عزت والے رب کو ان کی باتوں سے (ف۱۵۷)
(۱۸۱) اور سلام ہے پیغمبروں پر (ف۱۵۸)
(۱۸۲) اور سب خوبیاں اللہ کو سارے جہاں کا رب ہے،

سورة ص ٓ ۳۸
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) اس نامور قرآن کی قسم (ف۲)
(۲) بلکہ کافر تکبر اور خلاف میں ہیں (ف۳)
(۳) ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں کھپائیں (ف۴) تو اب وہ پکاریں (ف۵) اور چھوٹنے کا وقت نہ تھا (ف۶)
(۴) اور انہیں اس کا اچنبھا ہوا کہ ان کے پاس انہیں میں کا ایک ڈر سنانے والا تشریف لایا (ف۷) اور کافر بولے یہ جادوگر ہے بڑا جھوٹا،
(۵) کیا اس نے بہت خداؤں کا ایک خدا کردیا (ف۸) بیشک یہ عجیب بات ہے،
(۶) اور ان میں کے سردار چلے (ف۹) کہ اس کے پاس سے چل دو اور اپنے خداؤں پر صابر رہو بیشک اس میں اس کا کوئی مطلب ہے،
(۷) یہ تو ہم نے سب سے پہلے دینِ نصرانیت میں بھی نہ سنی (ف۱۰) یہ تو نری نئی گڑھت ہے،
(۸) کیا ان پر قرآن اتارا گیا ہم سب میں سے (ف۱۱) بلکہ وہ شک میں ہیں میری کتاب سے (ف۱۲) بلکہ ابھی میری مار نہیں چکھی ہے (ف۱۳)
(۹) کیا وہ تمہارے رب کی رحمت کے خزانچی ہیں (ف۱۴) وہ عزت والا بہت عطا فرمانے والا ہے (ف۱۵)
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 16-02-08, 07:18 AM   #35
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 28
مراسلات: 11,250
کمائي: 23,271,276
ميرا موڈ:
شکریہ: 5,007
2,462 مراسلہ میں 5,556 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: کنز الایمان ۔ ترجمہ قرآن۔ احمد رضا بریلوی

(۱۰) کیا ان کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، تو رسیاں لٹکا کر چڑھ نہ جائیں (ف۱۶)
(۱۱) یہ ایک ذلیل لشکر ہے انہیں لشکروں میں سے جو وہیں بھگادیا جائے گا (ف۱۷)
(۱۲) ان سے پہلے جھٹلا چکے ہیں نوح کی قوم اور عاد اور چومیخا کرنے والے فرعون (ف۱۸)
(۱۳) اور ثمود اور لوط کی قوم اور بن والے (ف۱۹) یہ ہیں وہ گروہ (ف۲۰)
(۱۴) ان میں کوئی ایسا نہیں جس نے رسولوں کو نہ جھٹلایا ہو تو میرا عذاب لازم ہوا (ف۲۱)
(۱۵) اور یہ راہ نہیں دیکھتے مگر ایک چیخ کی (ف۲۲) جسے کوئی پھیر نہیں سکتا،
(۱۶) اور بولے اے ہمارے رب ہمارا حصہ ہمیں جلد دے دے حساب کے دن سے پہلے (ف۲۳)
(۱۷) تم ان کی باتوں پر صبر کرو اور ہمارے بندے داؤد نعمتوں والے کو یاد کرو (ف۲۴) بیشک وہ بڑا رجوع کرنے والا ہے (ف۲۵)
(۱۸) بیشک ہم نے اس کے ساتھ پہاڑ مسخر فرمادیے کہ تسبیح کرتے (ف۲۶) شام کو اور سورج چمکتے (ف۲۷)
(۱۹) اور پرندے جمع کیے ہوئے (ف۲۸) سب اس کے فرمانبردار تھے (ف۲۹)
(۲۰) اور ہم نے اس کی سلطنت کو مضبوط کیا (ف۳۰) اور اسے حکمت (ف۳۱) اور قولِ فیصل دیا (ف۳۲)
(۲۱) اور کیا تمہیں (ف۳۳) اس دعوے والوں کی بھی خبر آئی جب وہ دیوار کود کر داؤد کی مسجد میں آئے (ف۳۴) (۲۲) جب وہ داؤد پر داخل ہوئے تو وہ ان سے گھبرا گیا انہوں نے عرض کی ڈریے نہیں ہم دو فریق ہیں کہ ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے (ف۳۵) تو ہم میں سچا فیصلہ فرمادیجئے اور خلافِ حق نہ کیجئے (ف۳۶) اور ہمیں سیدھی راہ بتایے،
(۲۳) بیشک یہ میرا بھائی ہے (ف۳۷) اس کے پاس ننانوے دُنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک دُنبی ، اب یہ کہتا ہے وہ بھی مجھے حوالے کردے اور بات میں مجھ پر زور ڈالتا ہے،
(۲۴) داؤد نے فرمایا بیشک یہ تجھ پر زیادتی کرتا ہے کہ تیری دُنبی اپنی دُنبیوں میں ملانے کو مانگتا ہے، اور بیشک اکثر ساجھے والے ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور وہ بہت تھوڑے ہیں (ف۳۸) اب داؤد سمجھا کہ ہم نے یہ اس کی جانچ کی تھی (ف۳۹) تو اپنے رب سے معافی مانگی اور سجدے میں گر پڑا (ف۴۰) اور رجوع لایا ، ( السجدة ۱۰)
(۲۵) تو ہم نے اسے یہ معاف فرمایا، اور بیشک اس کے لیے ہماری بارگاہ میں ضرور قرب اور اچھا ٹھکانا ہے،
(۲۶) اے داؤد بیشک ہم نے تجھے زمین میں نائب کیا (ف۴۱) تو لوگوں میں سچا حکم کر اور خواہش کے پیچھے نہ جانا کہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکادے گی، بیشک وہ جو اللہ کی راہ سے بہکتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اس پر کہ وہ حساب کے دن کو بھول بیٹھے (ف۴۲)
(۲۷) اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے بیکار نہ بنائے ، یہ کافروں کا گمان ہے (ف۴۳) تو کافروں کی خرابی ہے آگ سے،
(۲۸) کیا ہم انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان جیسا کردیں جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، یا ہم پرہیزگاروں کو شریر بے حکموں کے برابر ٹھہرادیں (ف۴۴)
(۲۹) یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری (ف۴۵) برکت والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقلمند نصیحت مانیں،
(۳۰) اور ہم نے داؤد کو (ف۴۶) سلیمان عطا فرمایا، کیا اچھا بندہ بیشک وہ بہت رجوع لانے والا (ف۴۷)
(۳۱) جبکہ اس پر پیش کیے گئے تیسرے پہر کو (ف۴۸) کہ روکئے تو تین پاؤں پر کھڑے ہوں چوتھے سم کا کنارہ زمین پر لگائے ہوئے اور چلائے تو ہوا ہوجائیں (ف۴۹)
(۳۲) تو سلیمان نے کہا مجھے ان گھوڑوں کی محبت پسند آئی ہے اپنے رب کی یاد کے لیے (ف۵۰) پھر انہیں چلانے کا حکم دیا یہاں تک کہ نگاہ سے پردے میں چھپ گئے (ف۵۱)
(۳۳) پھر حکم دیا کہ انہیں میرے پاس واپس لاؤ تو ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگا (ف۵۲)
(۳۴) اور بیشک ہم نے سلیمان کو جانچا (ف۵۳) اور اس کے تخت پر ایک بے جان بدن ڈال دیا (ف۵۴) پھر رجوع لایا (ف۵۵)
(۳۵) عرض کی اے میرے رب مجھے بخش دے اور مجھے ایسی سلطنت عطا کر کہ میرے بعد کسی کو لائق نہ ہو (ف۵۶) بیشک تو ہی بڑی دین والا،
(۳۶) تو ہم نے ہوا اس کے بس میں کردی کہ اس کے حکم سے نرم نرم چلتی (ف۵۷) جہاں وہ چاہتا،
(۳۷) اور دیو بس میں کردیے ہر معمار (ف۵۸) اور غوطہ خور (ف۵۹)
(۳۸) اور دوسرے اور بیڑیوں میں جکڑے ہوئے (ف۶۰)
(۳۹) یہ ہماری عطا ہے اب تو چاہے تو احسان کر (ف۶۱) یا روک رکھ (ف۶۲) تجھ پر کچھ حساب نہیں،
(۴۰) اور بیشک اس کے لیے ہماری بارگاہ میں ضرور قرب اور اچھا ٹھکانا ہے،
(۴۱) اور یاد کرو ہمارے بندہ ایوب کو جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے تکلیف اور ایذا لگادی، (ف۶۳)
(۴۲) ہم نے فرمایا زمین پر اپنا پاؤں مار (ف۶۴) یہ ہے ٹھنڈا چشمہ نہانے اور پینے کو (ف۶۵)
(۴۳) اور ہم نے اسے اس کے گھر والے اور ان کے برابر اور عطا فرمادیے اپنی رحمت کرنے (ف۶۶) اور عقلمندوں کی نصیحت کو،
(۴۴) اور فرمایا کہ اپنے ہاتھ میں ایک جھاڑو لے کر اس سے مار دے (ف۶۷) اور قسم نہ توڑ بے ہم نے اسے صابر پایا کیا اچھا بندہ (ف۶۸) بیشک وہ بہت رجوع لانے والا ہے،
(۴۵) اور یاد کرو ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب قدرت اور علم والوں کو (ف۶۹)
(۴۶) بیشک ہم نے انہیں ایک کھری بات سے امتیاز بخشا کہ وہ اس گھر کی یاد ہے (ف۷۰)
(۴۷) اور بیشک وہ ہمارے نزدیک چُنے ہوئے پسندیدہ ہیں،
(۴۸) اور یاد کرو اسماعیل اور یسع اور ذو الکفل کو (ف۷۱) اورسب اچھے ہیں،
(۴۹) یہ نصیحت ہے اور بیشک (ف۷۲) پرہیزگاروں کا ٹھکانا،
(۵۰) بھلا بسنے کے باغ ان کے لیے سب دروازے کھلے ہوئے،
(۵۱) ان میں تکیہ لگائے (ف۷۳) ان میں بہت سے میوے اور شراب مانگتے ہیں،
(۵۲) اور ان کے پاس وہ بیبیاں ہیں کہ اپنے شوہر کے سوا اور کی طرف آنکھ نہیں اٹھاتیں، ایک عمر کی (ف۷۴)
(۵۳) یہ ہے وہ جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے حساب کے دن ،
(۵۴) بیشک یہ ہمارا رزق ہے کہ کبھی ختم نہ ہوگا (ف۷۵)
(۵۵) ان کو تو یہ ہے (ف۷۶) اور بیشک سرکشوں کا برا ٹھکانا،
(۵۶) جہنم کہ اس میں جائیں گے تو کیا ہی برا بچھونا (ف۷۷)
(۵۷) ان کو یہ ہے تو اسے چکھیں کھولتا پانی اور پیپ (ف۷۸)
(۵۸) اور اسی شکل کے اور جوڑے (ف۷۹)
(۵۹) ان سے کہا جائے گا یہ ایک اور فوج تمہارے ساتھ دھنسی پڑتی ہے جو تمہاری تھی (ف۸۰) وہ کہیں گے ان کو کھلی جگہ نہ ملیو آگ میں تو ان کو جانا ہی ہے،
(۶۰) وہاں بھی تنگ جگہ میں رہیں تابع بولے بلکہ تمہیں کھلی جگہ نہ ملیو، یہ مصیبت تم ہمارے آگے لائے (ف۸۱) تو کیا ہی برا ٹھکانا (ف۸۲)
(۶۱) وہ بولے اے ہمارے رب جو یہ مصیبت ہمارے آگے لایا اسے آگ میں دُونا عذاب بڑھا،
(۶۲) اور (ف۸۳) بولے ہمیں کیا ہوا ہم ان مردوں کو نہیں دیکھتے جنہیں برا سمجھتے تھے (ف۸۴)
(۶۳) کیا ہم نے انہیں ہنسی بنالیا (ف۸۵) یا آنکھیں ان کی طرف سے پھر گئیں (ف۸۶)
(۶۴) بیشک یہ ضرور حق ہے دوزخیوں کا باہم جھگڑ،
(۶۵) تم فرماؤ (ف۸۷) میں ڈر سنانے والا ہی ہوں (ف۸۸) اور معبود کوئی نہیں مگر ایک اللہ سب پر غالب،
(۶۶) مالک آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے صاحب عزت بڑا بخشنے والا،
(۶۷) تم فرماؤ وہ (ف۸۹) بڑی خبر ہے،
(۶۸) تم اس سے غفلت میں ہو (ف۹۰)
(۶۹) مجھے عالم بالا کی کیا خبر تھی جب وہ جھگڑتے تھے (ف۹۱)
(۷۰) مجھے تو یہی وحی ہوتی ہے کہ میں نہیں مگر روشن ڈر سنانے والا (ف۹۲)
(۷۱) جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں مٹی سے انسان بناؤں گا (ف۹۳)
(۷۲) پھر جب میں اسے ٹھیک بنالوں (ف۹۴) اور اس میں اپنی طرف کی روح پھونکوں (ف۹۵) تو تم اس کے لیے سجدے میں گرنا،
(۷۳) تو سب فرشتو ں نے سجدہ کیا ایک ایک نے کہ کوئی باقی نہ رہا،
(۷۴) مگر ابلیس نے (ف۹۶) اس نے غرور کیا اور وہ تھا ہی کافروں میں (ف۹۷)
(۷۵) فرمایا اے ابلیس تجھے کس چیز نے روکا کہ تو اس کے لیے سجدہ کرے جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تجھے غرور آگیا یا تو تھا ہی مغروروں میں (ف۹۸)
(۷۶) بولا میں اس سے بہتر ہوں (ف۹۹) تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے پیدا کیا،
(۷۷) فرمایا تو جنت سے نکل جا کہ تو راندھا (لعنت کیا) گیا (ف۱۰۰)
(۷۸) اور بیشک تجھ پر میری لعنت ہے قیامت تک (ف۱۰۱)
(۷۹) بولا اے میرے رب ایسا ہے تو مجھے مہلت دے اس دن تک کہ اٹھائے جائیں (ف۱۰۲)
(۸۰) فرمایا تو تُو مہلت والوں میں ہے،
(۸۱) اس جانے ہوئے وقت کے دن تک (ف۱۰۳)
(۸۲) بولا تیری عزت کی قسم ضرور میں ان سب کو گمراہ کردوں گا،
(۸۳) مگر جو ان میں تیرے چنے ہوئے بندے ہیں،
(۸۴) فرمایا تو سچ یہ ہے اور میں سچ ہی فرماتا ہوں،
(۸۵) بیشک میں ضرور جہنم بھردوں گا تجھ سے (ف۱۰۴) اور ان میں سے (ف۱۰۵) جتنے تیری پیروی کریں گے سب سے،
(۸۶) تم فرماؤ میں اس قرآن پر تم سے کچھ اجر نہیں مانگتا اور میں بناوٹ والوں سے نہیں،
(۸۷) وہ تو نہیں مگر نصیحت سارے جہان کے لیے،
(۸۸) اور ضرور ایک وقت کے بعد تم اس کی خبر جانو گے (ف۱۰۶)

سورة ز ّمر ۳۹
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) کتاب (ف۲) اتارنا ہے اللہ عزت و حکمت والے کی طرف سے،
(۲) بیشک ہم نے تمہاری طرف (ف۳) یہ کتاب حق کے ساتھ اتاری تو اللہ کو کو پوجو نرے اس کے بندے ہوکر، (۳) ہاں خالص اللہ ہی کی بندگی ہے (ف۴) اور وہ جنہوں نے اس کے سوا اور والی بنالیے (ف۵) کہتے ہیں ہم تو انہیں (ف۶) صرف اتنی بات کے لیے پوجتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے پاس نزدیک کردیں، اللہ ان پر فیصلہ کردے گا اس بات کا جس میں اختلاف کررہے ہیں (ف۷) بیشک اللہ راہ نہیں دیتا اسے جو جھوٹا بڑا ناشکرا ہو (ف۸)
(۴) اللہ اپنے لیے بچہ بناتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا (ف۹) پاکی ہے اسے (ف۱۰) وہی ہے ایک اللہ (ف۱۱) سب پر غالب،
(۵) اس نے آسمان اور زمین حق بنائے رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے (ف۱۲) اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگایا ہر ایک، ایک ٹھہرائی میعاد کے لیے چلتا ہے (ف۱۳) سنتا ہے وہی صاحب عزت بخشنے والا ہے،
(۶) اس نے تمہیں ایک جان سے بنایا (ف۱۴) پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا کیا (ف۱۵) اور تمہارے لیے چوپایوں میں سے (ف۱۶) آٹھ جوڑے تھے (ف۱۷) تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ میں بناتا ہے ایک طرح کے بعد اور طرح (ف۱۸) تین اندھیریوں میں (ف۱۹) یہ ہے اللہ تمہارا رب اسی کی بادشاہی ہے، اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، پھر کہیں پھیرے جاتے ہو (ف۲۰)
(۷) اگر تم ناشکری کرو تو بیشک اللہ بے نیاز ہے تم سے (ف۲۱) اور اپنے بندوں کی ناشکری اسے پسند نہیں، اور اگر شکر کرو تو اسے تمہارے لیے پسند فرماتا ہے (ف۲۲) اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی (ف۲۳) پھر تمہیں اپنے رب ہی کی طرف پھرنا ہے (ف۲۴) تو وہ تمہیں بتادے گا جو تم کرتے تھے (ف۲۵) بیشک وہ دلوں کی بات جانتا ہے،
(۸) اور جب آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے (ف۲۶) اپنے رب کو پکارتا ہے اسی طرف جھکا ہوا (ف۲۷) پھر جب اللہ نے اسے اپنے پاس سے کوئی نعمت دی تو بھول جاتا ہے جس لیے پہلے پکارا تھا (ف۲۸) اور اللہ کے برابر والے ٹھہرانے لگتا ہے (ف۲۹) تاکہ اس کی راہ سے بہکادے تم فرماؤ (ف۳۰) تھوڑے دن اپنے کفر کے ساتھ برت لے (ف۳۱) بیشک تو دوزخیوں میں ہے،
(۹) کیا وہ جسے فرمانبرداری میں رات کی گھڑیاں گزریں سجود میں اور قیام میں (ف۳۲) آخرت سے ڈرتا اور اپنے رب کی رحمت کی آس لگائے (ف۳۳) کیا وہ نافرمانوں جیسا ہو جائے گا تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان، نصیحت تو وہی مانتے ہیں جو عقل والے ہیں،
(۱۰) تم فرماؤ اے میرے بندو! جو ایمان لائے اپنے سے ڈرو، جنہوں نے بھلائی کی (ف۳۴) ان کے لیے اس دنیا میں بھلائی ہے (ف۳۵) اور اللہ کی زمین وسیع ہے (ف۳۶) صابروں ہی کو ان کا ثواب بھرپور دیا جائے گا بے گنتی (ف۳۷)
(۱۱) تم فرماؤ (ف۳۸) مجھے حکم ہے کہ اللہ کو پوجوں نرا اس کا بندہ ہوکر،
(۱۲) اور مجھے حکم ہے کہ میں سب سے پہلے گردن رکھوں (ف۳۹)
(۱۳) تم فرماؤ بالفرض اگر مجھ سے نافرمانی ہوجائے تو مجھے اپنے رب سے ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے (ف۴۰)
(۱۴) تم فرماؤ میں اللہ ہی کو پوجتا ہوں نرا اس کا بندہ ہوکر،
(۱۵) تو تم اس کے سوا جسے چاہو پوجو(ف۴۱) تم فرماؤ پوری ہار انہیں جو اپنی جان اور اپنے گھر والے قیامت کے دن ہار بیٹھے (ف۴۲) ہاں ہاں یہی کھلی ہار ہے،
(۱۶) ان کے اوپر آگ کے پہاڑ ہیں اور ان کے نیچے پہاڑ (ف۴۳) اس سے اللہ ڈراتا ہے اپنے بندوں (ف۴۴) اے میرے بندو! تم مجھ سے ڈرو (ف۴۵)
(۱۷) اور وہ جو بتوں کی پوجا سے بچے اور اللہ کی طرف رجوع ہوئے انہیں کے لیے خوشخبری ہے تو خوشی سناؤ میرے ان بندوں کو،
(۱۸) جو کان لگا کر بات سنیں پھر اس کے بہتر پر چلیں (ف۴۶) یہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت فرمائی اور یہ ہیں جن کو عقل ہیں (ف۴۷)
(۱۹) تو کیا وہ جس پر عذاب کی بات ثابت ہوچکی نجات والوں کے برابر ہوجائے گا تو کیا تم ہدایت دے کر آگ کے مستحق کو بچالو گے (ف۴۸)
(۲۰) لیکن جو اپنے رب سے ڈرے (ف۴۹) ان کے لیے بالا خانے ہیں ان پر بالا خانے بنے (ف۵۰) ان کے نیچے نہریں بہیں، اللہ کا وعدہ، اللہ وعدہ خلاف نہیں کرتا،
(۲۱) کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھر اس سے زمین میں چشمے بنائے پھر اس سے کھیتی نکالتا ہے کئی رنگت کی (ف۵۱) پھر سوکھ جاتی ہے تو تُو دیکھے کہ وہ (ف۵۲) پیلی پڑ گئی پھر اسے ریزہ ریزہ کردیتا ہے، بیشک اس میں دھیان کی بات ہے عقل مندوں کو (ف۵۳)
(۲۲) تو کیا وہ جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا (ف۵۴) تو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے (ف۵۵) اس جیسا ہوجائے گا جو سنگدل ہے تو خرابی ہے ان کی جن کے دل یادِ خدا کی طرف سے سخت ہوگئے ہیں (ف۵۶) وہ کھلی گمراہی میں ہیں،
(۲۳) اللہ نے اتاری سب سے اچھی کتاب (ف۵۷) کہ اول سے آخر تک ایک سی ہے (ف۵۸) دوہرے بیان والی (ف۵۹) اس سے بال کھڑے ہوتے ہیں ان کے بدن پر جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر ان کی کھالیں اور دل نرم پڑتے ہیں یادِ خدا کی طرف رغبت میں (ف۶۰) یہ اللہ کی ہدایت ہے راہ دکھائے اس سے جسے چاہے، اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں،
(۲۴) تو کیا وہ جو قیامت کے دن برے عذاب کی ڈھال نہ پائے گا اپنے چہرے کے سوا (ف۶۱) نجات والے کی طرح ہوجائے گا (ف۶۲) اور ظالموں سے فرمایا جائے گا اپنا کمایا چکھو (ف۶۳)
(۲۵) ان سے اگلوں نے جھٹلایا (ف۶۴) تو انہیں عذاب آیا جہاں سے انہیں خبر نہ تھی (ف۶۵)
(۲۶) اور اللہ نے انہیں دنیا کی زندگی میں رسوائی کا مز ہ چکھایا (ف۶۶) اور بیشک آخرت کا عذاب سب سے بڑا، کیا اچھا تھا اگر وہ جانتے (ف۶۷)
(۲۷) اور بیشک ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی کہاوت بیان فرمائی کہ کسی طرح انہیں دھیان ہو (ف۶۸)
(۲۸) عربی زبان کا قرآن (ف۶۹) جس میں اصلاً کجی نہیں (ف۷۰) کہ کہیں وہ ڈریں (ف۷۱)
(۲۹) اللہ ایک مثال بیان فرماتا ہے (ف۷۲) ایک غلام میں کئی بدخو آقا شریک اور ایک نرے ایک مولیٰ کا، کیا ان دونوں کا حال ایک سا ہے (ف۷۳) سب خوبیاں اللہ کو (ف۷۴) بلکہ ان کے اکثر نہیں جانتے (ف۷۵)
(۳۰) بیشک تمہیں انتقال فرمانا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے (ف۷۶)
(۳۱) پھر تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے (ف۷۷)
(۲۳) تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۷۸) اور حق کو جھٹلائے (ف۷۹) جب اس کے پاس آئے، کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانہ نہیں،
(۳۳) اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے (ف۸۰) اور وہ جنہوں نے ان کی تصدیق کی (ف۸۱)
(۳۴) یہی ڈر والے ہیں، ان کے لےیے ہے ، جو وہ چاہیں اپنے رب کے پاس، نیکوں کا یہی صلہ ہے،
(۳۵) تاکہ اللہ ان سے اتار دے برے سے برا کام جو انہوں نے کیا اور انہیں ان کے ثواب کا صلہ دے اچھے سے اچھے کام پر (ف۸۲) جو وہ کرتے تھے،
(۳۶) کیا اللہ اپنے بندے کو کافی نہیں (ف۸۳) اور تمہیں ڈراتے ہیں اس کے سوا اوروں سے (ف۸۴) اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کی کوئی ہدایت کرنے والا نہیں،
(۳۷) اور جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی بہکانے والا نہیں، کیا اللہ عزت والا بدلہ لینے والا نہیں (ف۸۵)
(۳۸) اور اگر تم ان سے پوچھو آسمان اور زمین کس نے بنائے تو ضرور کہیں گے اللہ نے (ف۸۶) تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۸۷) اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے (ف۸۸) تو کیا وہ اس کی بھیجی تکلیف ٹال دیں گے یا وہ مجھ پر مہر (رحم) فرمانا چاہے تو کیا وہ اس کی مہر کو روک رکھیں گے (ف۸۹) تم فرماؤ اللہ مجھے بس ہے (ف۹۰) بھروسے والے اس پر بھروسہ کریں،
(۳۹) تم فرماؤ، اے میری قوم! اپنی جگہ کام کیے جاؤ (ف۹۱) میں اپنا کام کرتا ہوں (ف۹۲) تو آگے جان جاؤ گے، (۴۰) کس پر آتا ہے وہ عذاب کہ اسے رسوا کرے گا (ف۹۳) اور کس پر اترتا ہے عذاب کہ رہ پڑے گا (ف۹۴)
(۴۱) بیشک ہم نے تم پر یہ کتاب لوگوں کی ہدایت کو حق کے ساتھ اتاری (ف۹۵) تو جس نے راہ پائی تو اپنے بھلے کو (ف۹۶) اور جو بہکا وہ اپنے ہی برے کو بہکا (ف۹۷) اور تم کچھ ان کے ذمہ دار نہیں (ف۹۸)
(۴۲) اللہ جانوں کو وفات دیتا ہے ان کی موت کے وقت اور جو نہ مریں انہیں ان کے سوتے میں پھر جس پر موت کا حکم فرمادیا اسے روک رکھتا ہے (ف۹۹) اور دوسری (ف۱۰۰) ایک میعاد مقرر تک چھوڑ دیتا ہے (ف۱۰۱) بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں سوچنے والوں کے لیے (ف۱۰۲)
(۴۳) کیا انہوں نے اللہ کے مقابل کچھ سفارشی بنا رکھے ہیں (ف۱۰۳) تم فرماؤ کیا اگرچہ وہ کسی چیز کے مالک نہ ہوں (ف۱۰۴) اور نہ عقل رکھیں،
(۴۴) تم فرماؤ شفاعت تو سب اللہ کے ہاتھ میں ہے (ف۱۰۵) اسی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی، پھر تمہیں اسی کی طرف پلٹنا ہے (ف۱۰۶)
(۴۵) اور جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے دل سمٹ جاتے ہیں ان کے جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے (ف۱۰۷) اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر ہوتا ہے (ف۱۰۸) جبھی وہ خوشیاں مناتے ہیں،
(۴۶) تم عرض کرو اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے نہاں اور عیاں کے جاننے والے تو اپنے بندوں میں فیصلہ فرمائے گا جس میں وہ اختلاف رکھتے تھے (ف۱۰۹)
(۴۷) اور اگر ظالموں کے لیے ہوتا جو کچھ زمین میں ہے سب اور اس کے ساتھ اس جیسا (ف۱۱۰) تو یہ سب چھڑائی (چھڑانے) میں دیتے روز ِ قیامت کے بڑے عذاب سے (ف۱۱۱) اور انہیں اللہ کی طرف سے وہ بات ظاہر ہوئی جو ان کے خیال میں نہ تھی (ف۱۱۲)
(۴۸) اور ان پر اپنی کمائی ہوئی برائیاں کھل گئیں (ف۱۱۳) اور ان پر آپڑا وہ جس کی ہنسی بناتے تھے (ف۱۱۴) (۴۹) پھر جب آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں بلاتا ہے پھر جب اسے ہم اپنے پاس سے کوئی نعمت عطا فرمائیں کہتا ہے یہ تو مجھے ایک علم کی بدولت ملی ہے (ف۱۱۵) بلکہ وہ تو آزمائش ہے (ف۱۱۶) مگر ان میں بہتوں کو علم نہیں (ف۱۱۷)
(۵۰) ان سے اگلے بھی ایسے ہی کہہ چکے (ف۱۱۸) تو ان کا کمایا ان کے کچھ کام نہ آیا،
(۵۱) تو ان پر پڑ گئیں ان کی کمائیوں کی برائیاں (ف۱۱۹) اور وہ جو ان میں ظالم عنقریب ان پر پڑیں گی ان کی کمائیوں کی برائیاں اور وہ قابو سے نہیں نکل سکتے (ف۱۲۰)
(۵۲) کیا انہیں معلوم نہیں کہ اللہ روزی کشادہ کرتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگ فرماتا ہے، بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے،
(۵۳) تم فرماؤ اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی (ف۱۲۱) اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، بیشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے (ف۱۲۲) بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے،
(۵۴) اور اپنے رب کی طرف رجوع لاؤ (ف۱۲۳) اور اس کے حضور گردن رکھو (ف۱۲۴) قبل اس کے کہ تم پر عذاب آئے پھر تمہاری مدد نہ ہو،
(۵۵) اور اس کی پیروی کرو جو اچھی سے اچھی تمہارے رب سے تمہاری طرف اتاری گئی (ف۱۲۵) قبل اس کے کہ عذاب تم پر اچانک آجائے اور تمہیں خبر نہ ہو (ف۱۲۶)
(۵۶) کہ کہیں کوئی جان یہ نہ کہے کہ ہائے افسوس! ان تقصیروں پر جو میں نے اللہ کے بارے میں کیں (ف۱۲۷) اور بیشک میں ہنسی بنایا کرتا تھا (ف۱۲۸)
(۵۷) یا کہے اگر اللہ مجھے راہ دکھاتا تو میں ڈر والوں میں ہوتا،
(۵۸) یا کہے جب عذاب دیکھے کسی طرح مجھے واپسی ملے (ف۱۲۹) کہ میں نیکیاں کروں (ف۱۳۰)
(۵۹) ہاں کیوں نہیں بیشک تیرے پاس میری آیتیں آئیں تو تُو نے انہیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو کافر تھا (ف۱۳۱)
(۶۰) اور قیامت کے دن تم دیکھو گے انہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا (ف۱۳۲) کہ ان کے منہ کالے ہیں کیا مغرور ٹھکانا جہنم میں نہیں (ف۱۳۳)
(۶۱) اور اللہ بچائے گا پرہیزگاروں کو ان کی نجات کی جگہ (ف۱۳۴) نہ انہیں عذاب چھوئے اور نہ انہیں غم ہو،
(۶۲) اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے، اور وہ ہرچیز کا مختار ہے،
(۶۳) اسی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کی کنجیاں (ف۱۳۵) اور جنہوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا وہی نقصان میں ہیں،
(۶۴) تم فرماؤ (ف۱۳۶) تو کیا اللہ کے سوا دوسرے کے پوجنے کو مجھ سے کہتے ہو، اے جاہلو! (ف۱۳۷)
(۶۵) اور بیشک وحی کی گئی تمہاری طرف اور تم سے اگلوں کی طرف کہ اسے سننے والے اگر تو نے اللہ کا شریک کیا تو ضرور تیرا سب کیا دھرا اَکارت جائے گا اور ضرور تو ہار میں رہے گا،
(۶۶) بلکہ اللہ ہی کی بندگی کر اور شکر والوں سے ہو (ف۱۳۸)
(۶۷) اور انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کا حق تھا (ف۱۳۹) اور وہ قیامت کے دن سب زمینوں کو سمیٹ دے گا اور اس کی قدرت سے سب آسمان لپیٹ دیے جائیں گے (ف۱۴۰) اور ان کے شرک سے پاک اور برتر ہے، (۶۸) اور صُور پھونکا جائے گا تو بے ہوش ہوجائیں گے (ف۱۴۱) جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں مگر جسے اللہ چاہے (ف۱۴۲) پھر وہ دوبارہ پھونکا جائے گا (ف۱۴۳) جبھی وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہوجائیں گے (ف۱۴۴)
(۶۹) اور زمین جگمگا اٹھے گی (ف۱۴۵) اپنے رب کے نور سے (ف۱۴۶) اور رکھی جائے گی کتاب (ف۱۴۷) اور لائے جائیں گے انبیاء اور یہ نبی اور اس کی امت کے ان پر گواہ ہونگے (ف۱۴۸) اور لوگوں میں سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ ہوگا،
(۷۰) اور ہر جان کو اس کا کیا بھرپور دیا جائے گا اور اسے خوب معلوم جو وہ کرتے تھے (ف۱۴۹)
(۷۱) اور کافر جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے (ف۱۵۰) گروہ گروہ (ف۱۵۱) یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے اس کے دروازے کھولے جائیں گے (ف۱۵۲) اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے وہ رسول نہ آئے تھے جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن سے ملنے سے ڈراتے تھے، کہیں گے کیوں نہیں (ف۱۵۳) مگر عذاب کا قول کافروں پر ٹھیک اترا (ف۱۵۴)
(۷۲) فرمایا جائے گا جاؤ جہنم کے دروازوں میں اس میں ہمیشہ رہنے، تو کیا ہی برا ٹھکانا متکبروں کا،
(۷۳) اور جو اپنے رب سے ڈرتے تھے ان کی سواریاں (ف۱۵۵) گروہ گروہ جنت کی طرف چلائی جائیں گی، یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھلے ہوئے ہوں گے (ف۱۵۶) اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے سلام تم پر تم خوب رہے تو جنت میں جاؤ ہمیشہ رہنے،
(۷۴) اور وہ کہیں گے سب خوبیاں اللہ کو جس نے اپنا وعدہ ہم سے سچا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث کیا کہ ہم جنت میں رہیں جہاں چاہیں، تو کیا ہی اچھا ثواب کامیوں (اچھے کام کرنیوالوں) کا (ف۱۵۷)
(۷۵) اور تم فرشتوں کو دیکھو گے عرش کے آس پاس حلقہ کیے اپنے رب کی تعریف کے ساتھ ا س کی پاکی بولتے اور لوگوں میں سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا (ف۱۵۸) اور کہا جائے گا کہ سب خوبیاں اللہ کو جو سارے جہاں کا رب (ف۱۵۹)

سورة موٴ من ۔ ۴۰
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ف۱)
(۱) حٰمٓ
(۲) یہ کتاب اتارنا ہے اللہ کی طرف سے جو عزت والا، علم والا،
(۳) گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا (ف۲) سخت عذاب کرنے والا (ف۳) بڑے انعام والا (ف۴) اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی طرف پھرنا ہے (ف۵)
(۴) اللہ کی آیتوں میں جھگڑا نہیں کرتے مگر کافر (ف۶) تو اے سننے والے تجھے دھوکا نہ دے ان کا شہروں میں اہل گہلے (اِتراتے) پھرنا (ف۷)
(۵) ان سے پہلے نوح کی قوم اور ان کے بعد کے گروہوں (ف۸) نے جھٹلایا، اور ہر امت نے یہ قصد کیا کہ اپنے رسول کو پکڑ لیں (ف۹) اور باطل کے ساتھ جھگڑے کہ اس سے حق کو ٹال دیں (ف۱۰) تو میں نے انہیں پکڑا، پھر کیسا ہوا میرا عذاب (ف۱۱)
(۶) اور یونہی تمہارے رب کی بات کافروں پر ثابت ہوچکی ہے کہ وہ دوزخی ہیں،
(۷) وہ جو عرش اٹھاتے ہیں (ف۱۲) اور جو اس کے گرد ہیں (ف۱۳) اپنے کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بولتے (ف۱۴) اور اس پر ایمان لاتے (ف۱۵) اور مسلمانوں کی مغفرت مانگتے ہیں (ف۱۶) اے رب ہمارے تیرے رحمت و علم میں ہر چیز کی سمائی ہے (ف۱۷) تو انہیں بخش دے جنہوں نے توبہ کی اور تیری راہ پر چلے (ف۱۸) اور انہیں دوزخ کے عذاب سے بچالے،
(۸) اے ہمارے رب! اور انہیں بسنے کے باغوں میں داخل کر جن کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے اور ان کو جو نیک ہوں ان کے باپ دادا اور بیبیوں اور اولاد میں (ف۱۹) بیشک تو ہی عزت و حکمت والا ہے،
(۹) اور انہیں گناہوں کی شامت سے بچالے، اور جسے تو اس دن گناہوں کی شامت سے بچائے تو بیشک تو نے اس پر رحم فرمایا، اور یہی بڑی کامیابی ہے،
(۱۰) بیشک جنہوں نے کفر کیا ان کو ندا کی جائے گی (ف۲۰) کہ ضرور تم سے اللہ کی بیزاری اس سے بہت زیادہ ہے جیسے تم آج اپنی جان سے بیزار ہو جب کہ تم (ف۲۱) ایمان کی طرف بلائے جاتے تو تم کفر کرتے،
(۱۱) کہیں گے اے ہمارے رب تو نے ہمیں دوبارہ مردہ کیا اور دوبارہ زندہ کیا (ف۲۲) اب ہم اپنے گناہوں پر مُقِر ہوئے تو آگ سے نکلنے کی بھی کوئی راہ ہے (ف۲۳)
(۱۲) یہ اس پر ہوا کہ جب ایک اللہ پکارا جاتا تو تم کفر کرتے (ف۲۴) اور ان کا شریک ٹھہرایا جاتا تو تم مان لیتے (ف۲۵) تو حکم اللہ کے لیے ہے جو سب سے بلند بڑا،
(۱۳) وہی ہے کہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے (ف۲۶) اور تمہارے لیے آسمان سے روزی اتارتا ہے (ف۲۷) اور نصیحت نہیں مانتا (ف۲۸) مگر جو رجوع لائے (ف۲۹)
(۱۴) تو اللہ کی بندگی کرو نرے اس کے بندے ہوکر (ف۳۰) پڑے برا مانیں کافر،
(۱۵) بلند درجے دینے والا (ف۳۱) عرش کامالک ایمان کی جان وحی ڈالتا ہے اپنے حکم سے اپنے بندوں میں جس پر چاہے (ف۳۲) کہ وہ ملنے کے دن سے ڈرائے (ف۳۳)
(۱۶) جس دن وہ بالکل ظاہر ہوجائیں گے (ف۳۴) اللہ پر ان کا کچھ حال چھپا نہ ہوگا (ف۳۵) آج کسی کی بادشاہی ہے (ف۳۶) ایک اللہ سب پر غا لب کی ،(ف۳۷)
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 16-02-08, 07:18 AM   #36
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 28
مراسلات: 11,250
کمائي: 23,271,276
ميرا موڈ:
شکریہ: 5,007
2,462 مراسلہ میں 5,556 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: کنز الایمان ۔ ترجمہ قرآن۔ احمد رضا بریلوی

(۱۷) آج ہر جان اپنے کےٴ کا بدلہ پاےٴ گی (ف ۳۸) آج کسی پر زیادتی نہیں، بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے، (۱۸) اور انہیں ڈراؤ اس نزدیک آنے والی آفت کے دن سے (ف۳۹) جب دل گلوں کے پاس آجائیں گے (ف۴۰) غم میں بھرے، اور ظالموں کا نہ کوئی دوست نہ کوئی سفارشی جس کا کہا مانا جائے (ف۴۱)
(۱۹) اللہ جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ (ف۴۲) اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے (ف۴۳)
(۲۰) اور اللہ سچا فیصلہ فرماتا ہے، اور اس کے سوا جن کو (ف۴۴) پوجتے ہیں وہ کچھ فیصلہ نہیں کرتے (ف۴۵) بیشک اللہ ہی سنتا اور دیکھتا ہے (ف۴۶)
(۲۱) تو کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے کیسا انجام ہوا ان سے اگلوں کا (ف۴۷) ان کی قوت اور زمین میں جو نشانیاں چھوڑ گئے (ف۴۸) ان سے زائد تو اللہ نے انہیں ان کے گناہوں پر پکڑا، اور اللہ سے ان کا کوئی بچانے والا نہ ہوا (ف۴۹)
(۲۲) یہ اس لیے کہ ان کے پاس ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر آئے (ف۵۰) پھر وہ کفر کرتے تو اللہ نے انہیں پکڑا، بیشک اللہ زبردست عذاب والا ہے،
(۲۳) اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں اور روشن سند کے ساتھ بھیجا،
(۲۴) فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف تو وہ بولے جادوگر ہے بڑا جھوٹا (ف۵۱)
(۲۵) پھر جب وہ ان پر ہمارے پاس سے حق لایا (ف۵۲) بولے جو اس پر ایمان لائے ان کے بیٹے قتل کرو اور عورتیں زندہ رکھو (ف۵۳) اور کافروں کا داؤ نہیں مگر بھٹکتا پھرتا (ف۵۴)
(۲۶) اور فرعون بولا (ف۵۵) مجھے چھوڑو میں موسیٰ کو قتل کروں (ف۵۶) اور وہ اپنے رب کو پکارے (ف۵۷) میں ڈرتا ہوں کہیں وہ تمہارا دین بدل دے (ف۵۸) یا زمین میں فساد چمکائے (ف۵۹)
(۲۷) اور موسیٰ نے (ف۶۰) کہا میں تمہارے اور اپنے رب کی پناہ لیتا ہوں ہر متکبر سے کہ حساب کے دن پر یقین نہیں لاتا (ف۶۱)
(۲۸) اور بولا فرعون والوں میں سے ایک مرد مسلمان کہ اپنے ایمان کو چھپاتا تھا کیا ایک مرد کو اس پر مارے ڈالتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور بیشک وہ روشن نشانیاں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے لائے (ف۶۲) اور اگر بالفرض وہ غلط کہتے ہیں تو ان کی غلط گوئی کا وبال ان پر، اور اگر وہ سچے ہیں تو تمہیں پہنچ جائے گا کچھ وہ جس کا تمہیں وعدہ دیتے ہیں (ف۶۳) بیشک اللہ راہ نہیں دیتا اسے جو حد سے بڑھنے والا بڑا جھوٹا ہو (ف۶۴)
(۲۹) اے میری قوم! آج بادشاہی تمہاری ہے اس زمین میں غلبہ رکھتے ہو (ف۶۵) تو اللہ کے عذاب سے ہمیں کون بچالے گا اگر ہم پر آئے فرعون بولا میں تو تمہیں وہی سمجھاتا ہوں جو میری سوجھ ہے (ف۶۶) اور میں تمہیں وہی بتاتا ہوں جو بھلائی کی راہ ہے،
(۳۰) اور وہ ایمان والا بولا اے میری قوم! مجھے تم پر (ف۶۷) اگلے گروہوں کے دن کا سا خوف ہے (ف۶۸)
(۳۱) جیسا دستور گزرا نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور ان کے بعد اوروں کا (ف۶۹) اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں چاہتا (ف۷۰)
(۳۲) اور اے میری قوم میں تم پر اس دن سے ڈراتا ہوں جس دن پکار مچے گی (ف۷۱)
(۳۳) جس دن پیٹھ دے کر بھاگو گے (ف۷۲) اللہ سے (ف۷۳) تمہیں کوئی بچانے والا نہیں، اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کا کوئی راہ دکھانے والا نہیں،
(۳۴) اور بیشک اس سے پہلے (ف۷۴) تمہارے پاس یوسف روشن نشانیاں لے کر آئے تو تم ان کے لائے ہوئے سے شک ہی میں رہے، یہاں تک کہ جب انہوں نے انتقال فرمایا تم بولے ہرگز اب اللہ کوئی رسول نہ بھیجے گا (ف۷۵) اللہ یونہی گمراہ کرتا ہے اسے جو حد سے بڑھنے والا شک لانے والا ہے (ف۷۶)
(۳۵) وہ جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں (ف۷۷) بغیر کسی سند کے، کہ انہیں ملی ہو، کس قدر سخت بیزاری کی بات ہے اللہ کے نزدیک اور ایمان لانے والوں کے نزدیک، اللہ یوں ہی مہر کردیتا ہے متکبر سرکش کے سارے دل پر (ف۷۸)
(۳۶) اور فرعون بولا (ف۷۹) اے ہامان! میرے لیے اونچا محل بنا شاید میں پہنچ جاؤں راستوں تک،
(۳۷) کا ہے کے راستے آسمان کے تو موسیٰ کے خدا کو جھانک کر دیکھوں اور بیشک میرے گمان میں تو وہ جھوٹا ہے (ف۸۰) اور یونہی فرعون کی نگاہ میں اس کا برا کام (ف۸۱) بھلا کر دکھا گیا (ف۸۲) اور وہ راستے میں روکا گیا، اور فرعون کا داؤ (ف۸۳) ہلاک ہونے ہی کو تھا،
(۳۸) اور وہ ایمان والا بولا، اے میری قوم! میرے پیچھے چلو میں تمہیں بھلائی کی راہ بتاؤں،
(۳۹) اے میری قوم! یہ دنیا کا جینا تو کچھ برتنا ہی ہے (ف۸۴) اور بیشک وه پچھلا ہمیشہ رہنے کا گھر ہے ، (ف۸۵)
(۴۰) جو برُا کام کرے تو اسے بدلہ نہ ملے گا مگر اتنا ہی اور جو اچھا کام کرے مرد خواه عورت اور جو مسلمان
تو وہ جنت میں داخل کیے جائیں گے وہاں بے گنتی رزق پائیں گے (ف۸۷)
(۴۱) اور اے میری قوم مجھے کیا ہوا میں تمہیں بلاتا ہوں نجات کی طرف (ف۸۸) اور تم مجھے بلاتے ہو دوزخ کی طرف (ف۸۹)
(۴۲) مجھے اس طرف بلاتے ہو کہ اللہ کا انکا کروں اور ایسے کو اس کا شریک کروں جو میرے علم میں نہیں، اور میں تمہیں اس عزت والے بہت بخشنے والے کی طرف بلاتا ہوں،
(۴۳) آپ ہی ثابت ہوا کہ جس کی طرف مجھے بلاتے ہو (ف۹۰) اسے بلانا کہیں کام کا نہیں دنیا میں نہ آخرت میں (ف۹۱) اور یہ ہمارا پھرنا اللہ کی طرف ہے (ف۹۲) اور یہ کہ حد سے گزرنے والے (ف۹۳) ہی دوزخی ہیں،
(۴۴) تو جلد وہ وقت آتا ہے کہ جو میں تم سے کہہ رہا ہوں، اسے یاد کرو گے (ف۹۴) اور میں اپنے کام اللہ کو سونپتا ہوں، بیشک اللہ بندوں کو دیکھتا ہے (ف۹۵)
(۴۵) تو اللہ نے اسے بچالیا ان کے مکر کی برائیوں سے (ف۹۶) اور فرعون والوں کو برے عذاب نے آ گھیرا، (ف۹۷)
(۴۶) آ گ جس پر صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں (ف۹۸) اور جس دن قیامت قائم ہوگی، حکم ہوگا فرعون والوں کو سخت تر عذاب میں داخل کرو،
(۴۷) اور (ف۹۹) جب وہ آگ میں باہم جھگڑیں گے تو کمزور ان سے کہیں گے جو بڑے بنتے تھے ہم تمہارے تابع تھے (ف۱۰۰) تو کیا تم ہم سے آگ کا کوئی حصہ گھٹا لوگے،
(۴۸) وہ تکبر والے بولے (ف۱۰۱) ہم سب آگ میں ہیں (ف۱۰۲) بیشک اللہ بندوں میں فیصلہ فرماچکا (ف۱۰۳)
(۴۹) اور جو آگ میں ہیں اس کے داروغوں سے بولے اپنے رب سے دعا کرو ہم پر عذاب کا ایک دن ہلکا کردے، (ف۱۰۴)
(۵۰) انہوں نے کہا کیا تمہارے پاس تمہارے رسول نشانیاں نہ لاتے تھے (ف۱۰۵) بولے کیوں نہیں (ف۱۰۶) بولے تو تمہیں دعا کرو (ف۱۰۷) اور کافروں کی دعا نہیں، مگر بھٹکتے پھرنے کو،
(۵۱) بیشک ضرور ہم اپنے رسولوں کی مدد کریں گے اور ایمان والوں کی (ف۱۰۸) دنیا کی زندگی میں اور جس دن گواہ کھڑے ہوں گے (ف۱۰۹)
(۵۲) جس دن ظالموں کو ان کے بہانے کچھ کام نہ دیں گے (ف۱۱۰) اور ان کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے بُرا گھر (ف۱۱۱)
(۵۳) اور بیشک ہم نے موسیٰ کو رہنمائی عطا فرمائی (ف۱۱۲) اور بنی اسرائیل کو کتاب کا وارث کیا (ف۱۱۳) (۵۴) عقلمندوں کی ہدایت اور نصیحت کو تو اے محبوب،
(۵۵) تم صبر کرو (ف۱۱۴) بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے (ف۱۱۵) اور اپنوں کے گناہوں کی معافی چاہو (ف۱۱۶) اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے صبح اور شام اس کی پاکی بولو (ف۱۱۷)
(۵۶) وہ جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں بغیر کسی سند کے جو انہیں ملی ہو (ف۱۱۸) ان کے دلوں میں نہیں مگر ایک بڑائی کی ہوس (ف۱۱۹) جسے نہ پہنچیں گے (ف۱۲۰) تو تم اللہ کی پناہ مانگو (ف۱۲۱) بیشک وہی سنتا دیکھتا ہے،
(۵۷) بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش آدمیوں کی پیدائش سے بہت بڑی (ف۱۲۲) لیکن بہت لوگ نہیں جانتے (ف۱۲۳)
(۵۸) اور اندھا اور انکھیارا برابر نہیں (ف۱۲۴) اور نہ وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور بدکار (ف۱۲۵) کتنا کم دھیان کرتے ہو،
(۵۹) بیشک قیامت ضرور آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں لیکن بہت لوگ ایمان نہیں لاتے (ف۱۲۶)
(۶۰) اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا (ف۱۲۷) بیشک وہ جو میری عبادت سے اونچے کھینچتے (تکبر کرتے) ہیں عنقریب جہنم میں جائیں گے ذلیل ہوکر،
(۶۱) اللہ ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اس میں آرام پاؤ اور دن بنایا آنکھیں کھولتا (ف۱۲۸) بیشک اللہ لوگوں پر فضل والا ہے لیکن بہت آدمی شکر نہیں کرتے،
(۶۲) وہ ہے اللہ تمہارا رب ہر چیز کا بنانے والا اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں تو کہاں اوندھے جاتے ہو (ف۱۲۹) (۶۳) یونہی اوندھے ہوتے ہیں (ف۱۳۰) وہ جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں (ف۱۳۱)
(۶۴) اللہ ہے جس نے تمہارے لیے زمین ٹھہراؤ بنائی (ف۱۳۲) اور آسمان چھت (ف۱۳۳) اور تمہاری تصویر کی تو تمہاری صورتیں اچھی بنائیں (ف۱۳۴) اور تمہیں ستھری چیزیں (ف۱۳۵) روزی دیں یہ ہے اللہ تمہارا رب، تو بڑی برکت والا ہے اللہ رب سارے جہان کا،
(۶۵) وہی زندہ ہے (ف۱۳۶) اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں تو اسے پوجو نرے اسی کے بندے ہوکر، سب خوبیاں اللہ کو جو سارے جہاں کا رب،
(۶۶) تم فرماؤ میں منع کیا گیا ہوں کہ انہیں پوجوں جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۱۳۷) جبکہ میرے پاس روشن دلیلیں (ف۱۳۸) میرے رب کی طرف سے آئیں اور مجھے حکم ہوا ہے کہ رب العالمین کے حضور گردن رکھوں، (۶۷) وہی ہے جس نے تمہیں (ف۱۳۹) مٹی سے بنایا پھر (ف۱۴۰) پانی کی بوند سے (ف۱۴۱) پھر خون کی پھٹک سے پھرتمہیں نکالتا ہے بچہ پھرتمہیں باقی رکھتا ہے کہ اپنی جوانی کو پہنچو (ف۱۴۲) پھر اس لیے کہ بوڑھے ہو اور تم میں کوئی پہلے ہی اٹھالیا جاتا ہے (ف۱۴۳) اور اس لیے کہ تم ایک مقرر وعدہ تک پہنچو (ف۱۴۴) اور اس لیے کہ سمجھو (ف۱۴۵)
(۶۸) وہی ہے کہ جِلاتا ہے اور مارتا ہے پھر جب کوئی حکم فرماتا ہے تو اس سے یہی کہتا ہے کہ ہو جا جبھی وہ ہوجاتا ہے (ف۱۴۶)
(۶۹) کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑے ہیں (ف۱۴۷) کہاں پھیرے جاتے ہیں (ف۱۴۸)
(۷۰) وہ جنہوں نے جھٹلائی کتاب (ف۱۴۹) اور جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجا ،(ف۱۵۰) وہ عنقریب جان جائیں گے (ف۱۵۱)
(۷۱) جب ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور زنجیریں (ف۱۵۲) گھسیٹے جائیں گے،
(۷۲) کھولتے پانی میں، پھر آگ میں دہکائے جائیں گے (ف۱۵۳)
(۷۳) پھر ان سے فرمایا جائے گا کہاں گئے وہ جو تم شریک بناتے تھے (ف۱۵۴)
(۷۴) اللہ کے مقابل، کہیں گے وہ تو ہم سے گم گئے (ف۱۵۵) بلکہ ہم پہلے کچھ پوجتے ہی نہ تھے (ف۱۵۶) اللہ یونہی گمراہ کرتا ہے کافروں کو،
(۷۵) یہ (ف۱۵۷) اس کا بدلہ ہے جو تم زمین میں باطل پر خوش ہوتے تھے (ف۱۵۸) اور اس کا بدلہ ہے جو تم اتراتے تھے ،
(۷۶) جاؤ جہنم کے دروازوں میں اس میں ہمیشہ رہنے، تو کیا ہی برا ٹھکانا مغروروں کا (ف۱۵۹)
(۷۷) تو تم صبر کرو بیشک اللہ کا وعدہ (ف۱۶۰) سچا ہے، تو اگر ہم تمہیں دکھادیں (ف۱۶۱) کچھ وہ چیز جس کا انہیں وعدہ دیا جاتا ہے (ف۱۶۲) یا تمہیں پہلے ہی وفات دیں بہرحال انہیں ہماری ہی طرف پھرنا (ف۱۶۳)
(۷۸) اور بیشک ہم نے تم سے پہلے کتنے رسول بھیجے کہ جن میں کسی کا احوال تم سے بیان فرمایا (ف۱۶۴) اور کسی کا احوال نہ بیان فرمایا (ف۱۶۵) اور کسی رسول کو نہیں پہنچتا کہ کوئی نشانی لے آئے بے حکم خدا کے، پھر جب اللہ کا حکم آئے گا (ف۱۶۶) سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا (ف۱۶۷) اور باطل والوں کا وہاں خسارہ،
(۷۹) اللہ ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے بنائے کہ کسی پر سوار ہو اور کسی کا گوشت کھاؤ،
(۸۰) اور تمہارے لیے ان میں کتنے ہی فائدے ہیں (ف۱۶۸) اور اس لیے کہ تم ان کی پیٹھ پر اپنے دل کی مرادوں کو پہنچو (ف۱۶۹) اور ان پر (ف۱۷۰) اور کشتیوں پر (ف۱۷۱) سوار ہوتے ہو،
(۸۱) اور وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے (ف۱۷۲) تو اللہ کی کونسی نشانی کا انکار کرو گے (ف۱۷۳)
(۸۲) کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے ان سے اگلوں کا کیسا انجام ہوا، وہ ان سے بہت تھے (ف۱۷۴) اور ان کی قوت (ف۱۷۵) اور زمین میں نشانیاں ان سے زیادہ (ف۱۷۶) تو ان کے کیا کام آیا جو انہوں نے کمایا، (ف۱۷۷)
(۸۳) تو جب ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لائے، تو وہ اسی پر خوش رہے جو ان کے پاس دنیا کا علم تھا (ف۱۷۸) اور انہیں پر الٹ پڑا جس کی ہنسی بناتے تھے (ف۱۷۹)
(۸۴) پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا بولے ہم ایک اللہ پر ایمان لائے اور جو اس کے شریک کرتے تھے ان کے منکر ہوئے (ف۱۸۰)
(۸۵) تو ان کے ایمان نے انہیں کام نہ دیا جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا، اللہ کا دستور جو اس کے بندوں میں گزر چکا (ف۱۸۱) اور وہاں کافر گھاٹے میں رہے (ف۱۸۲)

سورة حٰمٓ ا لسجدة ۔۴۱
اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)
(۱) حٰمٓ
(۲) یہ اتارا ہے بڑے رحم والے مہربان کا،
(۳) ایک کتاب ہے جس کی آیتیں مفصل فرمائی گئیں (ف۲) عربی قرآن عقل والوں کے لیے،
(۴) خوشخبری دیتا (ف۳) اور ڈر سناتا (ف۴) تو ان میں اکثر نے منہ پھیرا تو وہ سنتے ہی نہیں (ف۵)
(۵) اور بولے (ف۶) ہمارے دل غلاف میں ہیں اس بات سے جس کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو (ف۷) اور ہمارے کانوں میں ٹینٹ (روئی) ہے (ف۸) اور ہمارے اور تمہارے درمیان روک ہے (ف۹) تو تم اپنا کام کرو ہم اپنا کام کرتے ہیں (ف۱۰)
(۶) تم فرماؤ (ف۱۱) آدمی ہونے میں تو میں تمہیں جیسا ہوں (ف۱۲) مجھے وحی ہوتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، تو اس کے حضور سیدھے رہو (ف۱۳) اور اس سے معافی مانگو (ف۱۴) اور خرابی ہے شرک والوں کو،
(۷) وہ جو زکوٰة نہیں دیتے (ف۱۵) اور وہ آخرت کے منکر ہیں (ف۱۶)
(۸) بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے بے انتہا ثواب ہے (ف۱۷)
(۹) تم فرماؤ کیا تم لوگ اس کا انکار رکھتے ہو جس نے دو دن میں زمین بنائی (ف۱۸) اور اس کے ہمسر ٹھہراتے رہو (ف۱۹) وہ ہے سارے جہان کا رب (ف۲۰)
(۱۰) اور اس میں (ف۲۱) اس کے اوپر سے لنگر ڈالے (ف۲۲) (بھاری بوجھ رکھے) اور اس میں برکت رکھی (ف۲۳) اور اس میں اس کے بسنے والوں کی روزیاں مقرر کیں یہ سب ملاکر چار دن میں (ف۲۴) ٹھیک جواب پوچھنے والوں کو،
(۱۱) پھر آسمان کی طرف قصد فرمایا اور وہ دھواں تھا (ف۲۵) تو اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں حاضر ہو خوشی سے چاہے ناخوشی سے، دونوں نے عرض کی کہ ہم رغبت کے ساتھ حاضر ہوئے ،
(۱۲) تو انہیں پورے سات آسمان کردیا دو دن میں (ف۲۶) اور ہر آسمان میں اسی کے کام کے احکام بھیجے (ف۲۷) اور ہم نے نیچے کے آسمان کو (ف۲۸) چراغوں سے آراستہ کیا (ف۲۹) اور نگہبانی کے لیے (ف۳۰) یہ اس عزت والے علم والے کا ٹھہرایا ہوا ہے،
(۱۳) پھر اگر وہ منہ پھیریں (ف۳۱) تو تم فرماؤ کہ میں تمہیں ڈراتا ہوں ایک کڑ ک سے جیسی کڑ ک عاد اور ثمود پر آئی تھی (ف۳۲)
(۱۴) جب رسول ان کے آگے پیچھے پھرتے تھے (ف۳۳) کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو ، بولے (ف۳۴) ہمارا رب چاہتا تو فرشتے اتارتا (ف۳۵) تو جو کچھ تم لے کر بھیجے گئے ہم اسے نہیں مانتے (ف۳۶)
(۱۵) تو وہ جو عاد تھے انہیں نے زمین میں ناحق تکبر کیا (ف۳۷) اور بولے ہم سے زیادہ کس کا زور، اور کیا انہوں نے نہ جانا کہ اللہ جس نے انہیں بنایا ان سے زیادہ قوی ہے، اور ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے،
(۱۶) تو ہم نے ان پر ایک آندھی بھیجی سخت گرج کی (ف۳۸) ان کی شامت کے دنوں میں کہ ہم انہیں رسوائی کا عذاب چکھائیں دنیا کی زندگی میں اور بیشک آخرت کے عذاب میں سب سے بڑی رسوائی ہے اور ان کی مدد نہ ہوگی،
(۱۷) اور رہے ثمود انہیں ہم نے راہ دکھائی (ف۳۹) تو انہوں نے سوجھنے پر اندھے ہونے کو پسند کیا (ف۴۰) تو انہیں ذلت کے عذاب کی کڑ ک نے آ لیا (ف۴۱) سزا ان کے کیے کی (ف۴۲)
(۱۸) اور ہم نے (ف۴۳) انہیں بچالیا جو ایمان لائے (ف۴۴) اور ڈرتے تھے (ف۴۵)
(۱۹) اور جس دن اللہ کے دشمن (ف۴۶) آگ کی طرف ہانکے جائیں گے تو ان کے اگلوں کو روکیں گے،
(۲۰) یہاں تک کہ پچھلے آ ملیں (ف۴۷) یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے سب ان پر ان کے کیے کی گواہی دیں گے (ف۴۸)
(۲۱) اور وه اپنی کھالوں سے کہیں گے تم نے ہم پر کیوں گواہی دی، وہ کہیں گی ہمیں اللہ نے بلوایا جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی اور اس نے تمہیں پہلی بار بنایا اور اسی کی طرف تمہیں پھرنا ہے،
(۲۲) اور تم (ف۴۹) اس سے کہاں چھپ کر جاتے کہ تم پر گواہی دیں تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں (ف۵۰) لیکن تم تو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اللہ تمہارے بہت سے کام نہیں جانتا (ف۵۱)
(۲۳) اور یہ ہے تمہارا وہ گمان جو تم نے اپنے رب کے ساتھ کیا اور اس نے تمہیں ہلاک کردیا (ف۵۲) تو اب رہ گئے ہارے ہوؤں میں،
(۲۴) پھر اگر وہ صبر کریں (ف۵۳) تو آگ ان کا ٹھکانا ہے (ف۵۴) اور اگر وہ منانا چاہیں تو کوئی ان کا منانا نہ مانے، (ف۵۵)
(۲۵) اور ہم نے ان پر کچھ ساتھی تعینات کیے (ف۵۶) انہوں نے انہیں بھلا کردیا جو ان کے آگے ہے (ف۵۷) اور جو ان کے پیچھے (ف۵۸) اور ان پر بات پوری ہوئی (ف۵۹) ان گروہوں کے ساتھ جو ان سے پہلے گزر چکے جن اور آدمیوں کے، بیشک وہ زیاں کار تھے،
(۲۶) اور کافر بولے (ف۶۰) یہ قرآن نہ سنو اور اس میں بیہودہ غل کرو (ف۶۱) شاید یونہی تم غالب آؤ (ف۶۲) (۲۷) تو بیشک ضرور ہم کافروں کو سخت عذاب چکھائیں گے اور بیشک ہم ان کے بُرے سے بُرے کام کا انہیں بدلہ دیں گے (ف۶۳)
(۲۸) یہ ہے اللہ کے دشمنوں کا بدلہ آ گ، اس میں انہیں ہمیشہ رہنا ہے، سزا اس کی کہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے،
(۲۹) اور کافر بولے (ف۶۴) اے ہمارے رب ہمیں دکھا وہ دونوں جن اور آدمی جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا (ف۶۵) کہ ہم انہیں اپنے پاؤں تلے ڈالیں (ف۶۶) کہ وہ ہر نیچے سے نیچے رہیں (ف۶۷)
(۳۰) بیشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے (ف۶۸) ان پر فرشتے اترتے ہیں (ف۶۹) کہ نہ ڈرو (ف۷۰) اور نہ غم کرو (ف۷۱) اور خوش ہو اس جنت پر جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا (ف۷۲)
(۳۱) ہم تمہارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں (ف۷۳) اور آخرت میں (ف۷۴) اور تمہارے لیے ہے اس میں (ف۷۵) جو تمہارا جی چاہے اور تمہارے لیے اس میں جو مانگو،
(۳۲) مہمانی بخشنے والے مہربان کی طرف سے،
(۳۳) اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے (ف۷۶) اور نیکی کرے (ف۷۷) اور کہے میں مسلمان ہوں (ف۷۸)
(۳۴) اور نیکی اور بدی برابر نہ ہوجائیں گی، اے سننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال (ف۷۹) جبھی وہ کہ تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کہ گہرا دوست (ف۸۰)
(۳۵) اور یہ دولت (ف۸۱) نہیں ملتی مگر صابروں کو، اور اسے نہیں پاتا مگر بڑے نصیب والا،
(۳۶) اور اگر تجھے شیطان کا کوئی کونچا (تکلیف) پہنچے (ف۸۲) تو اللہ کی پناہ مانگ (ف۸۳) بیشک وہی سنتا جانتا ہے،
(۳۷) اور اس کی نشانیوں میں سے ہیں رات اور دن اور سورج اور چاند (ف۸۴) سجدہ نہ کرو سورج کو اور نہ چاند کو (ف۸۵) اور اللہ کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا (ف۸۶) اگر تم اس کے بندے ہو،
(۳۸) تو اگر یہ تکبر کریں (ف۸۷) تو وہ جو تمہارے رب کے پاس ہیں (ف۸۸) رات دن اس کی پاکی بولتے ہیں اور اکتاتے نہیں،( السجدة ۔۱۱)
(۳۹) اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تو زمین کو دیکھے بے قدر پڑی (ف۸۹) پھر جب ہم نے اس پر پانی اتارا (ف۹۰) تر و تازہ ہوئی اور بڑھ چلی، بیشک جس نے اسے جِلایا ضرور مردے جِلائے گا، بیشک وہ سب کچھ کرسکتا ہے، (۴۰) بیشک وہ جو ہماری آیتوں میں ٹیڑھے چلتے ہیں (ف۹۱) ہم سے چھپے نہیں (ف۹۲) تو کیا جو آ گ میں ڈالا جائے گا (ف۹۳) وہ بھلا، یا جو قیامت میں امان سے آئے گا (ف۹۴) جو جی میں آئے کرو بیشک وہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،
(۴۱) بیشک جو ذکر سے منکر ہوئے (ف۹۵) جب وہ ان کے پاس آیا ان کی خرابی کا کچھ حال نہ پوچھ، اور بیشک وہ عزت والی کتاب ہے (ف۹۶)
(۴۲) باطل کو اس کی طرف راہ نہیں نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے (ف۹۷) اتارا ہوا ہے حکمت والے سب خوبیوں سراہے کا،
(۴۳) تم سے نہ فرمایا جائے (ف۹۸) مگر وہی جو تم سے اگلے رسولوں کو فرمایا، کہ بیشک تمہارا رب بخشش والا (ف۹۹) اور دردناک عذاب والا ہے (ف۱۰۰)
(۴۴) اور اگر ہم اسے عجمی زبان کا قرآن کرتے (ف۱۰۱) تو ضرور کہتے کہ اس کی آیتیں کیوں نہ کھولی گئیں (ف۱۰۲) کیا کتاب عجمی اور نبی عربی (ف۱۰۳) تم فرماؤ وہ (ف۱۰۴) ایمان والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے (ف۱۰۵) اور وہ جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں ٹینٹ (روئی) ہے (ف۱۰۶) اور وہ ان پر اندھا پن ہے (ف۱۰۷) گویا وہ دور جگہ سے پکارے جاتے ہیں (ف۱۰۸)
(۴۵) اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی (ف۱۰۹) تو اس میں اختلاف کیا گیا (ف۱۱۰) اور اگر ایک بات تمہارے رب کی طرف سے گزر نہ چکی ہوتی (ف۱۱۱) تو جبھی ان کا فیصلہ ہوجاتا (ف۱۱۲) اور بیشک وہ (ف۱۱۳) ضرور اس کی طرف سے ایک دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں،
(۴۶) جو نیکی کرے وہ اپنے بھلے کو اور جو برائی کرے اپنے بُرے کو، اور تمہارا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا،
(۴۷) قیامت کے علم کا اسی پر حوالہ ہے (ف۱۱۴) اور کوئی پھل اپنے غلاف سے نہیں نکلتا اور نہ کسی مادہ کو پیٹ رہے اور نہ جنے مگر اس کے علم سے (ف۱۱۵) اور جس دن انہیں ندا فرمائے گا (ف۱۱۶) کہاں ہیں میرے شریک (ف۱۱۷) کہیں گے ہم تجھ سے کہہ چکے ہیں کہ ہم میں کوئی گواہ نہیں (ف۱۱۸)
(۴۸) اور گم گیا ان سے جسے پہلے پوجتے تھے (ف۱۱۹) اور سمجھ لیے کہ انہیں کہیں (ف۱۲۰) بھاگنے کی جگہ نہیں، (۴۹) آدمی بھلائی مانگنے سے نہیں اُکتاتا (ف۱۲۱) اور کوئی برائی پہنچے (ف۱۲۲) تو ناامید آس ٹوٹا (ف۱۲۳)
(۵۰) اور اگر ہم اسے کچھ اپنی رحمت کا مزہ دیں (ف۱۲۴) اس تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی تھی تو کہے گا یہ تو میری ہے (ف۱۲۵) اور میرے گمان میں قیامت قائم نہ ہوگی اور اگر (ف۱۲۶) میں رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو ضرور میرے لیے اس کے پاس بھی خوبی ہی ہے (ف۱۲۷) تو ضرور ہم بتادیں گے کافروں کو جو انہوں نے کیا (ف۱۲۸) اور ضرور انہیں گاڑھا عذاب چکھائیں گے (ف۱۲۹)
(۵۱) اورجب ہم آدمی پر احسان کرتے ہیں تو منہ پھیر لیتا ہے (ف۱۳۰) اور اپنی طرف دور ہٹ جاتا ہے (ف۱۳۱) اور جب اسے تکلیف پہنچتی ہے (ف۱۳۲) تو چوڑی دعا والا ہے (ف۱۳۳)
(۵۲) تم فرماؤ (ف۱۳۴) بھلا بتاؤ اگر یہ قرآن اللہکے پاس سے ہے (ف۱۳۵) پھر تم اس کے منکر ہوئے تو اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو دور کی ضد میں ہے (ف۱۳۶)
(۵۳) ابھی ہم انہیں دکھائیں گے اپنی آیتیں دنیا بھر میں (ف۱۳۷) اور خود ان کے آپے میں (ف۱۳۸) یہاں تک کہ ان پر کھل جائے کہ بیشک وہ حق ہے (ف۱۳۹) کیا تمہارے رب کا ہر چیز پر گواہ ہونا کافی نہیں،
(۵۴) سنو انہیں ضرور اپنے رب سے ملنے میں شک ہے (ف۱۴۰) سنو ! وہ ہر چیز کو محیط ہے (ف۱۴۱)
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 16-02-08, 07:19 AM   #37
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 28
مراسلات: 11,250
کمائي: 23,271,276
ميرا موڈ:
شکریہ: 5,007
2,462 مراسلہ میں 5,556 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: کنز الایمان ۔ ترجمہ قرآن۔ احمد رضا بریلوی

سورة شو ریٰ ۔۴۲
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)
(۱) حٰمٓ
(۲) عٓسٓقٓ
(۳) یونہی وحی فرماتا ہے تمہاری طرف (۲) اور تم سے اگلوں کی طرف (ف۳) اللہ عزت و حکمت والا،
(۴) اسی کا ہے جو کچھ آسمان میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور وہی بلندی و عظمت والا ہے،
(۵) قریب ہوتا ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے شق ہوجائیں (ف۴) اور فرشتے اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بولتے اور زمین والوں کے لیے معافی مانگتے ہیں (ف۵) سن لو بیشک اللہ ہی بخشنے والا مہربان ہے،
(۶) اور جنہوں نے اللہ کے سوا اور والی بنارکھے ہیں (ف۶) وہ اللہ کی نگاہ میں ہیں (ف۷) اور تم ان کے ذمہ دار نہیں، (ف۸)
(۷) اور یونہی ہم نے تمہاری طرف عربی قرآن وحی بھیجا کہ تم ڈراؤ سب شہروں کی اصل مکہ والوں کو اور جتنے اس کے گرد ہیں (ف۹) اور تم ڈراؤ اکٹھے ہونے کے دن سے جس میں کچھ شک نہیں (ف۱۰) ایک گروہ جنت میں ہے اور ایک گروہ دوزخ میں،
(۸) اور اللہ چاہتا تو ان سب کو ایک دین پر کردیتا لیکن اللہ اپنی رحمت میں لیتا ہے جسے چاہے (ف۱۱) اور ظالموں کا نہ کوئی دوست نہ مددگار (ف۱۲)
(۹) کیا اللہ کے سوا اور والی ٹھہرالیے ہیں (ف۱۳) تو اللہ ہی والی ہے اور وہ مُردے جِلائے گا، اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے (ف۱۴)
(۱۰) تم جس بات میں (ف۱۵) اختلاف کرو تو اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہے (ف۱۶) یہ ہے اللہ میرا رب میں نے اس پر بھروسہ کیا، اور میں اس کی طرف رجوع لاتا ہوں (ف۱۷)
(۱۱) آسمانوں اور زمین کا بنانے والا، تمہارے لیے تمہیں میں سے (ف۱۸) جوڑے بنائے اور نر و مادہ چوپائے، اس سے (ف۱۹) تمہاری نسل پھیلاتا ہے، اس جیسا کوئی نہیں، اور وہی سنتا دیکھتا ہے،
(۱۲) اسی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کی کنجیاں (ف۲۰) روزی وسیع کرتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگ فرماتا ہے (ف۲۱) بیشک وہ سب کچھ جانتا ہے،
(۱۳) تمہارے لیے دین کی وہ راہ ڈالی جس کا حکم اس نے نوح کو دیا (ف۲۲) اور جو ہم نے تمہاری طرف وحی کی (ف۲۳) اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا (ف۲۴) کہ دین ٹھیک رکھو (ف۲۵) اور اس میں پھوٹ نہ ڈالو (ف۲۶) مشرکوں پر بہت ہی گراں ہے وہ (ف۲۷) جس کی طرف تم انہیں بلاتے ہو، اور اللہ اپنے قریب کے لیے چن لیتا ہے جسے چاہے (ف۲۸) اور اپنی طرف راہ دیتا ہے اسے جو رجوع لائے (ف۲۹)
(۱۴) اور انہوں نے پھوٹ نہ ڈالی مگر بعد اس کے کہ انہیں علم آچکا تھا (ف۳۰) آپس کے حسد سے (ف۳۱) اور اگر تمہارے رب کی ایک بات گزر نہ چکی ہوتی (ف۳۲) ایک مقرر میعاد تک (ف۳۳) تو کب کا ان میں فیصلہ کردیا ہوتا (ف۳۴) اور بیشک وہ جو ان کے بعد کتاب کے وارث ہوئے (ف۳۵) وہ اس سے ایک دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں (ف۳۶)
(۱۵) تو اسی لیے بلاؤ (ف۳۷) اور ثابت قدم رہو (ف۳۸) جیسا تمہیں حکم ہوا ہے اور ان کی خواہشوں پر نہ چلو اور کہو کہ میں ایمان لایا اس پر جو کوئی کتاب اللہ نے اتاری (ف۳۹) اور مجھے حکم ہے کہ میں تم میں انصاف کروں (ف۴۰) اللہ ہمارا اور تمہارا سب کا رب ہے (ف۴۱) ہمارے لیے ہمارا عمل اور تمہارے لیے تمہارا کیا (ف۴۲) کوئی حجت نہیں ہم میں اور تم میں (ف۴۳) اللہ ہم سب کو جمع کرے گا (ف۴۴) اور اسی کی طرف پھرنا ہے،
(۱۶) اور وہ جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں بعد اس کے کہ مسلمان اس کی دعوت قبول کرچکے ہیں (ف۴۵) ان کی دلیل محض بے ثبات ہے ان کے رب کے پاس اور ان پر غضب ہے (ف۴۶) اور ان کے لیے سخت عذاب ہے (ف۴۷)
(۱۷) اللہ ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب اتاری (ف۴۸) اور انصاف کی ترازو (ف۴۹) اور تم کیا جانو شاید قیامت قریب ہی ہو (ف۵۰)
(۱۸) اس کی جلدی مچارہے ہیں وہ جو اس پر ایمان نہیں رکھتے (ف۵۱) اور جنہیں اس پر ایمان ہے وہ اس سے ڈر رہے ہیں اورجانتے ہیں کہ بیشک وہ حق ہے، سنتے ہو بیشک جو قیامت میں شک کرتے ہیں ضرور دُور کی گمراہی میں ہیں،
(۱۹) اللہ اپنے بندوں پر لطف فرماتا ہے (ف۵۲) جسے چاہے روزی دیتا ہے (ف۵۳) اور وہی قوت و عزت والا ہے، (۲۰) جو آخرت کی کھیتی چاہے (ف۵۴) ہم اس کے لیے اس کی کھیتی بڑھائیں (ف۵۵) اور جو دنیا کی کھیتی چاہے (ف۵۶) ہم اسے اس میں سے کچھ دیں گے (ف۵۷) اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں (ف۵۸)
(۲۱) یا ان کے لیے کچھ شریک ہیں (ف۵۹) جنہوں نے ان کے لیے (ف۶۰) وہ دین نکال دیا ہے (ف۶۱) کہ اللہ نے اس کی اجازت نہ دی (ف۶۲) اور اگر ایک فیصلہ کا وعدہ نہ ہوتا (ف۶۳) تو یہیں ان میں فیصلہ کردیا جاتا (ف۶۴) اور بیشک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے (ف۶۵)
(۲۲) تم ظالموں کو دیکھو گے کہ اپنی کمائیوں سے سہمے ہوئے ہوں گے (ف۶۶) اور وہ ان پر پڑ کر رہیں گی (ف۶۷) اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہ جنت کی پھلواریوں میں ہیں، ان کے لیے ان کے رب کے پاس ہے جو چاہیں، یہی بڑا فضل ہے،
(۲۳) یہ ہے وہ جس کی خوشخبری دیتا ہے اللہ اپنے بندوں کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے، تم فرماؤ میں اس (ف۶۸) پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا (ف۶۹) مگر قرابت کی محبت (ف۷۰) اور جو نیک کام کرے (ف۷۱) ہم اس کے لیے اس میں اور خوبی بڑھائیں، بیشک اللہ بخشنے والا قدر فرمانے والا ہے،
(۲۴) یا (ف۷۲) یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھ لیا (ف۷۳) اور اللہ چاہے تو تمہارے اوپر اپنی رحمت و حفاظت کی مہر فرمادے (ف۷۴) اور مٹا تا ہے باطل کو (ف۷۵) اور حق کو ثابت فرماتا ہے اپنی باتوں سے (ف۷۶) بیشک وہ دلوں کی باتیں جانتا ہے،
(۲۵) اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے (ف۷۷) اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو،
(۲۶) اور دعا قبول فرماتا ہے ان کی جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور انہیں اپنے فضل سے اور انعام دیتا ہے، (ف۷۸) اور کافروں کے لیے سخت عذاب ہے،
(۲۷) اور اگر اللہ اپنے سب بندوں کا رزق وسیع کردیتا تو ضرور زمین میں فساد پھیلاتے (ف۷۹) لیکن وہ اندازہ سے اتارتا ہے جتنا چاہے، بیشک وہ بندوں سے خبردار ہے (ف۸۰) انہیں دیکھتا ہے،
(۲۸) اور وہی ہے کہ مینہ اتارتا ہے ان کے نا امید ہونے پر اور اپنی رحمت پھیلاتا ہے (ف۸۱) اور وہی کام بنانے والا ہے سب خوبیوں سراہا،
(۲۹) اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور جو چلنے والے ان میں پھیلائے، اور وہ ان کے اکٹھا کرنے پر (ف۸۲) جب چاہے قادر ہے،
(۳۰) اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا (ف۸۳) اور بہت کچھ تو معاف فرمادیتا ہے،
(۳۱) اور تم زمین میں قابو سے نہیں نکل سکتے (ف۸۴) اور نہ اللہ کے مقابل تمہارا کوئی دوست نہ مددگار (ف۸۵)
(۳۲) اور اس کی نشانیوں سے ہیں (ف۸۶) دریا میں چلنے والیاں جیسے پہاڑیاں،
(۳۳) وہ چاہے تو ہوا تھما دے (ف۸۷) اس کی پیٹھ پر (ف۸۸) ٹھہری رہ جائیں (ف۸۶) بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں ہر بڑے صابر شاکر کو (ف۹۰)
(۳۴) یا انہیں تباہ کردے (ف۹۱) لوگوں کے گناہوں کے سبب (ف۹۲) اور بہت معاف فرمادے (ف۹۳) (۳۵) اور جان جائیں وہ جو ہماری آیتوں میں جھگڑتے ہیں، کہ انہیں (ف۹۴) کہیں بھا گنے کی جگہ نہیں ،
(۳۶) تمہیں جو کچھ ملا ہے (ف۹۵) وہ جیتی دنیا میں برتنےکا ہے اور وہ جو اللہ کے پاس ہے (ف۹۷) بہتر ہے اور زیادہ باقی رہنے والا ان کے لیے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں (ف۹۸)
(۳۷) اور وہ جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں اور جب غصہ آئے معاف کردیتے ہیں،
(۳۸) اور وہ جنہوں نے اپنے رب کا حکم مانا (ف۹۹) اور نماز قائم رکھی (ف۱۰۰) اور ان کا کام ان کے آپس کے مشورے سے ہے (ف۱۰۱) اور ہمارے دیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں،
(۳۹) اور وہ کہ جب انہیں بغاوت پہنچے بدلہ لیتے ہیں (ف۱۰۲)
(۴۰) اور برائی کا بدلہ اسی کی برابر برائی ہے (ف۱۰۳) تو جس نے معاف کیا اور کام سنوارا تو اس کا اجر اللہ پر ہے، بیشک وہ دوست نہیں رکھتا ظالموں کو (ف۱۰۴)
(۴۱) اور بے شک جس نے اپنی مظلو می پر بدلہ لیا ان پر کچھ مواخذہ کی راه نہیں،
(۴۲) مواخذہ تو انہیں پر ہے جو (ف۱۰۵) لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی پھیلاتے ہیں (ف۱۰۶) ان کے لیے دردناک عذاب ہے،
(۴۳) اور بیشک جس نے صبر کیا (ف۱۰۷) اور بخش دیا تو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں،
(۴۴) اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کا کوئی رفیق نہیں اللہ کے مقابل (ف۱۰۸) اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب عذاب دیکھیں گے (ف۱۰۹) کہیں گے کیا واپس جانے کا کوئی راستہ ہے (ف۱۱۰)
(۴۵) اور تم انہیں دیکھو گے کہ آگ پر پیش کیے جاتے ہیں ذلت سے دبے لچے چھپی نگاہوں دیکھتے ہیں (ف۱۱۱) اور ایمان والے کہیں گے بیشک ہار (نقصان) میں وہ ہیں جو اپنی جانیں اور اپنے گھر والے ہار بیٹھے قیامت کے دن (ف۱۱۲) سنتے ہو بیشک ظالم (ف۱۱۳) ہمیشہ کے عذاب میں ہیں،
(۴۶) اور ان کے کوئی دوست نہ ہوئے کہ اللہ کے مقابل ان کی مدد کرتے (ف۱۱۴) اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کے لیے کہیں راستہ نہیں (ف۱۱۵)
(۴۷) اپنے رب کا حکم مانو (ف۱۱۶) اس دن کے آنے سے پہلے جو اللہ کی طرف سے ٹلنے والا نہیں (ف۱۱۷) اس دن تمہیں کوئی پناہ نہ ہوگی اور نہ تمہیں انکار کرتے بنے (ف۱۱۸)
(۴۸) تو اگر وہ منہ پھیریں (ف۱۱۹) تو ہم نے تمہیں ان پر نگہبان بناکر نہیں بھیجا (ف۱۲۰) تم پر تو نہیں مگر پہنچادینا (ف۱۲۱) اور جب ہم آدمی کو اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ دیتے ہیں (ف۱۲۲) اور اس پر خوش ہوجاتا ہے اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچے (ف۱۲۳) بدلہ اس کا جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا (ف۱۲۴) تو انسان بڑا ناشکرا ہے (ف۱۲۵)
(۴۹) اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت (ف۱۲۶) پیدا کرتا ہے جو چاہے جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے (ف۱۲۷) اور جسے چاہے بیٹے دے (ف۱۲۸)
(۵۰) یا دونوں ملا دے بیٹے اور بیٹیاں اور جسے چاہے بانجھ کردے (ف۱۲۹) بیشک وہ علم و قدرت والا ہے،
(۵۱) اور کسی آدمی کو نہیں پہنچتا کہ اللہ اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے طور پر (ف۱۳۰) یا یوں کہ وہ بشر پر وہ عظمت کے ادھر ہو (ف۱۳۱) یا کوئی فرشتہ بھیجے کہ وہ اس کے حکم سے وحی کرے جو وہ چاہے (ف۱۳۲) بیشک وہ بلندی و حکمت والا ہے،
(۵۲) اور یونہی ہم نے تمہیں وحی بھیجی (ف۱۳۳) ایک جان فزا چیز (ف۱۳۴) اپنے حکم سے، اس سے پہلے نہ تم کتاب جانتے تھے نہ احکام شرع کی تفصیل ہاں ہم نے اسے (ف۱۳۵) نور کیا جس سے ہم راہ دکھاتے ہیں اپنے بندوں سے جسے چاہتے ہیں، اور بیشک تم ضرور سیدھی راہ بتاتے ہو (ف۱۳۶)
(۵۳) اللہ کی راہ (ف۱۳۷) کہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں، سنتے ہو سب کام اللہ ہی کی طرف پھیرتے ہیں،

سورة ز خر ف ۔۴۳
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ف۱)
(۱) حٰمٓ
(۲) روشن کتاب کی قسم (ف۲)
(۳) ہم نے اسے عربی قرآن اتارا کہ تم سمجھو (ف۳)
(۴) اور بیشک وہ اصل کتاب میں (ف۴) ہمارے پاس ضرور بلندی و حکمت والا ہے،
(۵) تو کیا ہم تم سے ذکر کا پہلو پھیردیں اس پر کہ تم لوگ حد سے بڑھنے والے ہو (ف۵)
(۶) اور ہم نے کتنے ہی غیب بتانے والے (نبی) اگلوں میں بھیجے،
(۷) اور ان کے پاس جو غیب بتانے والا (نبی) آیا اس کی ہنسی ہی بنایا کیے (ف۶)
(۸) تو ہم نے وہ ہلاک کردیے جو ان سے بھی پکڑ میں سخت تھے (ف۷) اور اگلوں کا حال گزر چکا ہے،
(۹) اور اگر تم ان سے پوچھو (ف۸) کہ آسمان اور زمین کس نے بنائے تو ضرور کہیں گے انہیں بنایا اس عزت والے علم والے نے (ف۹)
(۱۰) جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا کیا اورتمہارے لیے اس میں راستے کیے کہ تم راہ پاؤ (ف۱۰)
(۱۱) اور وہ جس نے آسمان سے پانی اتارا ایک اندازے سے (ف۱۱) تو ہم نے اس سے ایک مردہ شہر زندہ فرمادیا، یونہی تم نکالے جاؤ گے (ف۱۲)
(۱۲) اور جس نے سب جوڑے بنائے (ف۱۳) اور تمہارے لیے کشتیوں اور چوپایوں سے سواریاں بنائیں،
(۱۳) کہ تم ان کی پیٹھوں پر ٹھیک بیٹھو (ف۱۴) پھر اپنے رب کی نعمت یاد کرو جب اس پر ٹھیک بیٹھ لو اور یوں کہو پاکی ہے اسے جس نے اس سواری کو ہمارے بس میں کردیا اور یہ ہمارے بوتے (قابو) کی نہ تھی،
(۱۴) اور بیشک ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے (ف۱۵)
(۱۵) اور اس کے لیے اس کے بندوں میں سے ٹکڑا ٹھہرایا (ف۱۶) بیشک آدمی (ف۱۷) کھلا ناشکرا ہے (ف۱۸) (۱۶) کیا اس نے اپنے لیے اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں لیں اور تمہیں بیٹوں کے ساتھ خاص کیا (ف۱۹)
(۱۷) اور جب ان میں کسی کو خوشخبری دی جائے اس چیز کی (ف۲۰) جس کا وصف رحمن کے لیے بتاچکا ہے (ف۲۱) تو دن بھر اس کا منہ کالا رہے اور غم کھایا کرے (ف۲۲)
(۱۸) اور کیا (ف۲۳) وہ جو گہنے (زیور) میں پروان چڑھے (ف۲۴) اور بحث میں صاف بات نہ کرے (ف۲۵)
(۱۹) اور انہوں نے فرشتوں کو، کہ رحمٰن کے بندے ہیں عورتیں ٹھہرایا (ف۲۶) کیا ان کے بناتے وقت یہ حاضر تھے (ف۲۷) اب لکھ لی جائے گی ان کی گواہی (ف۲۸) اور ان سے جواب طلب ہوگا (ف۲۹)
(۲۰) اور بولے اگر رحمٰن چاہتا ہم انہیں نہ پوجتے (ف۳۰) انہیں اس کی حقیقت کچھ معلوم نہیں (ف۳۱) یونہی اٹکلیں دوڑاتے ہیں (ف۳۲)
(۲۱) یا اس سے قبل ہم نے انہیں کوئی کتاب دی ہے جسے وہ تھامے ہوئے ہیں (ف۳۳)
(۲۲) بلکہ بولے ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کی لکیر پر چل رہے ہیں (ف۳۴)
(۲۳) اور ایسے ہی ہم نے تم سے پہلے جب کسی شہر میں ڈر سنانے والا بھیجا وہاں کے آسُودوں (امیروں) نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کی لکیر کے پیچھے ہیں (ف۳۵)
(۲۴) نبی نے فرمایا اور کیا جب بھی کہ میں تمہارے پاس وہ (ف۳۶) لاؤں جو سیدھی راہ ہو اس سے (ف۳۷) جس پر تمہارے باپ دادا تھے بولے جو کچھ تم لے کر بھیجے گئے ہم اسے نہیں مانتے (ف۳۸)
(۲۵) تو ہم نے ان سے بدلہ لیا (ف۳۹) تو دیکھو جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا،
(۲۶) اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا میں بیزار ہوں تمہارے معبودو ں سے،
(۲۷) سوا اس کے جس نے مجھے پیدا کیا کہ ضرور وہ بہت جلد مجھے راہ دے گا،
(۲۸) اور اسے (ف۴۰) اپنی نسل میں باقی کلام رکھا (ف۴۱) کہ کہیں وہ باز آئیں (ف۴۲)
(۲۹) بلکہ میں نے انہیں (ف۴۳) اور ان کے باپ دادا کو دنیا کے فائدے دیے (ف۴۴) یہاں تک کہ ان کے پاس حق (ف۴۵) اور صاف بتانے والا رسول تشریف لایا (ف۴۶)
(۳۰) اور جب ان کے پاس حق آیا بولے یہ جادو ہے اور ہم اس کے منکر ہیں،
(۳۱) اور بولے کیوں نہ اتارا گیا یہ قرآن ان دو شہروں (ف۴۷) کے کسی بڑے آدمی پر (ف۴۸)
(۳۲) کیا تمہارے رب کی رحمت وہ بانٹتے ہیں (ف۴۹) ہم نے ان میں ان کی زیست کا سامان دنیا کی زندگی میں بانٹا (ف۵۰) اور ان میں ایک دوسرے پر درجوں بلندی دی (ف۵۱) کہ ان میں ایک دوسرے کی ہنسی بنائے (ف۵۲) اور تمہارے رب کی رحمت (ف۵۳) ان کی جمع جتھا سے بہتر (ف۵۴)
(۳۳) اور اگر یہ نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک دین پر ہوجائیں (ف۵۵) تو ہم ضرور رحمٰن کے منکروں کے لیے چاندی کی چھتیں اور سیڑھیاں بناتے جن پر چڑھتے،
(۳۴) اور ان کے گھروں کے لیے چاندی کے دروازے اور چاندی کے تخت جن پر تکیہ لگاتے،
(۳۵) اور طرح طرح کی آرائش (ف۵۶) اور یہ جو کچھ ہے جیتی دنیا ہی کا اسباب ہے، اور آخرت تمہارے رب کے پاس پرہیزگاروں کے لیے ہے (ف۵۷)
(۳۶) اور جسے رند تو آئے (شب کوری ہو) رحمن کے ذکر سے (ف۵۸) ہم اس پر ایک شیطان تعینات کریں کہ وہ اس کا ساتھی رہے،
(۳۷) اور بیشک وہ شیاطین ان کو (ف۵۹) راہ سے روکتے ہیں اور (ف۶۰) سمجھتے یہ ہیں کہ وہ راہ پر ہیں،
(۳۸) یہاں تک کہ جب (ف۶۱) کافر ہمارے پاس آئے گا اپنے شیطان سے کہے گا ہائے کسی طرح مجھ میں تجھ میں پورب پچھم کا فاصلہ ہوتا تو کیا ہی برا ساتھی ہے،
(۳۹) اور ہرگز تمہارا اس (ف۶۲) سے بھلا نہ ہوگا آج جبکہ (ف۶۳) تم نے ظلم کیا کہ تم سب عذاب میں شریک ہو،
(۴۰) تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے (ف۶۴) یا اندھوں کو راہ دکھاؤ گے (ف۶۵) اور انہیں جو کھلی گمراہی میں ہیں (ف۶۶)
(۴۱) تو اگر ہم تمہیں لے جائیں (ف۶۷) تو ان سے ہم ضرور بدلہ لیں گے (ف۶۸)
(۴۲) یا تمہیں دکھادیں (ف۶۹) جس کا انہیں ہم نے وعدہ دیا ہے تو ہم ان پر بڑی قدرت والے ہیں،
(۴۳) تو مضبوط تھامے رہو اسے جو تمہاری طرف وحی کی گئی (ف۷۰) بیشک تم سیدھی راہ پر ہو،
(۴۴) اور بیشک وہ (ف۷۱) شرف ہے تمہارے لیے (ف۷۲) اور تمہاری قوم کے لیے (ف۱۷۳) اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا (ف۷۴)
(۴۵) اور ان سے پوچھو جو ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے کیا ہم نے رحمان کے سوا کچھ اور خدا ٹھہرائے جن کو پوجا ہو (ف۷۵)
(۴۶) اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشایوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا تو اس نے فرمایا بیشک میں اس کا رسول ہوں جو سارے جہاں کا مالک ہے،
(۴۷) پھر جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لایا (ف۷۶) جبھی وہ ان پر ہنسنے لگے (ف۷۷)
(۴۸) اور ہم انہیں جو نشانی دکھاتے وہ پہلے سے بڑی ہوتی (ف۷۸) اور ہم نے انہیں مصیبت میں گرفتار کیا کہ وہ بام آئیں (ف۷۹)
(۴۹) اور بولے (ف۸۰) کہ اے جادوگر (ف۸۱) ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر کہ اس عہد کے سبب جو اس کا تیرے پاس ہے (ف۸۲) بیشک ہم ہدایت پر آئیں گے (ف۸۳)
(۵۰) پھر جب ہم نے ان سے وہ مصیبت ٹال دی جبھی وہ عہد توڑ گئے (ف۸۴)
(۵۱) اور فرعون اپنی قوم میں (ف۸۵) پکارا کہ اے میری قوم! کیا میرے لیے مصر کی سلطنت نہیں اور یہ نہریں کہ میرے نیچے بہتی ہیں (ف۸۶) تو کیا تم دیکھتے نہیں (ف۸۷)
(۵۲) یا میں بہتر ہوں (ف۸۸) اس سے کہ ذلیل ہے (ف۸۹) اور بات صاف کرتا معلوم نہیں ہوتا (ف۹۰)
(۵۳) تو اس پر کیوں نہ ڈالے گئے سونے کے کنگن (ف۹۱) یا اس کے ساتھ فرشتے آتے کہ اس کے پاس رہتے (ف۹۲)
(۵۴) پھر اس نے اپنی قوم کو کم عقل کرلیا (ف۹۳) تو وہ اس کے کہنے پر چلے (ف۹۴) بیشک وہ بے حکم لوگ تھے، (۵۵) پھر جب انہوں نے وہ کیا جس پر ہمارا غضب ان پر آیا ہم نے ان سے بدلہ لیا تو ہم نے ان سب کو ڈبودیا، (۵۶) انہیں ہم نے کردیا اگلی داستان اور کہاوت پچھلوں کے لیے (ف۹۵)
(۵۷) اور جب ابنِ مریم کی مثال بیان کی جائے، جبھی تمہاری قوم اس سے ہنسنے لگتے ہیں (ف۹۶)
(۵۸) اور کہتے ہیں کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ (ف۹۷) انہوں نے تم سے یہ نہ کہی مگر ناحق جھگڑے کو (ف۹۸) بلکہ وہ ہیں جھگڑالو لوگ (ف۹۹)
(۵۹) وہ تو نہیں مگر ایک بندہ جس پر ہم نے احسان فرمایا (ف۱۰۰) اور اسے ہم نے بنی اسرائیل کے لیے عجیب نمونہ بنایا (ف۱۰۱)
(۶۰) اور اگر ہم چاہتے تو (ف۱۰۲) زمین میں تمہارے بدلے فرشتے بساتے (ف۱۰۳)
(۶۱) اور بیشک عیسی ٰ قیامت کی خبر ہے (ف۱۰۴) تو ہرگز قیامت میں شک نہ کرنا اور میرے پیرو ہونا (ف۱۰۵) یہ سیدھی راہ ہے،
(۶۲) اور ہرگز شیطان تمہیں نہ روک دے (ف۱۰۶) بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے،
(۶۳) اور جب عیسیٰ روشن نشانیاں (ف۱۰۷) لایا اس نے فرمایا میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا (ف۱۰۸) اور اس لیے میں تم سے بیان کردوں بعض وہ باتیں جن میں تم اختلاف رکھتے ہو (ف۱۰۹) تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو، (۶۴) بیشک اللہ میرا رب اور تمہارا رب تو اسے پوجو، یہ سیدھی راہ ہے (ف۱۱۰)
(۶۵) پھر وہ گروہ آپس میں مختلف ہوگئے (ف۱۱۱) تو ظالموں کی خرابی ہے (ف۱۱۲) ایک درد ناک دن کے عذاب سے (ف۱۱۳)
(۶۶) کاہے کے انتظار میں ہیں مگر قیامت کے کہ ان پر اچانک آجائے اور انہیں خبر نہ ہو،
(۶۷) گہرے دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر پرہیزگار (ف۱۱۴)
(۶۸) ان سے فرمایا جائے گا اے میرے بندو آج نہ تم پر خوف نہ تم کو غم ہو،
(۶۹) وہ جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور مسلمان تھے،
(۷۰) داخل ہو جنت میں تم اور تمہاری بیبیاں اور تمہاری خاطریں ہوتیں (ف۱۱۵)
(۷۱) ان پر دورہ ہوگا سونے کے پیالوں اور جاموں کا اور اس میں جو جی چاہے اور جس سے آنکھ کو لذت پہنچے (ف۱۱۶) اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے،
(۷۲) اور یہ ہے وہ جنت جس کے تم وارث کیے گئے اپنے اعمال سے،
(۷۳) تمہارے لیے اس میں بہت میوے ہیں کہ ان میں سے کھاؤ (ف۱۱۷)
(۷۴) بیشک مجرم (ف۱۱۸) جہنم کے عذاب میں ہمیشہ رہنے والے ہیں،
(۷۵) وہ کبھی ان پر سے ہلکا نہ پڑے گا اور وہ اس میں بے آ س رہیں گے (ف۱۱۹)
(۷۶) اور ہم نے ان پر کچھ ظلم نہ کیا، ہاں وہ خود ہی ظالم تھے (ف۱۲۰)
(۷۷) اور وہ پکاریں گے (ف۱۲۱) اے مالک تیرا رب ہمیں تمام کرچکے (ف۱۲۲) وہ فرمائے گا (ف۱۲۳) تمہیں تو ٹھہرنا (ف۱۲۴)
(۷۸) بیشک ہم تمہارے پاس حق لائے (ف۱۲۵) مگر تم میں اکثر کو حق ناگوار ہے،
(۷۹) کیا انہوں نے (ف۱۲۶) اپنے خیال میں کوئی کام پکا کرلیا ہے (ف۱۲۷)
(۸۰) تو ہم اپنا کام پکا کرنے والے ہیں (ف۱۲۸) کیا اس گھمنڈ میں ہیں کہ ہم ان کی آہستہ بات اور ان کی مشورت نہیں سنتے، ہاں کیوں نہیں (ف۱۲۹) اور ہمارے فرشتے ان کے پاس لکھ رہے ہیں،
(۸۱) تم فرماؤ بفرض محال رحمٰن کے کوئی بچہ ہوتا، تو سب سے پہلے میں پوجتا (ف۱۳۰)
(۸۲) پاکی ہے آسمانوں اور زمین کے رب کو، عرش کے رب کو ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں (ف۱۳۱)
(۸۳) تو تم انہیں چھوڑو کہ بیہودہ باتیں کریں اور کھیلیں (ف۱۳۲) یہاں تک کہ اپنے اس دن کو پائیں جس کا ان سے وعدہ ہے (ف۱۳۳)
(۸۴) اور وہی آسمان والوں کا خدا اور زمین والوں کا خدا (ف۱۳۴) اور وہی حکمت و علم والا ہے،
(۸۵) اور بڑی برکت والا ہے وہ کہ اسی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کے پاس ہے قیامت کا علم، اور تمہیں اس کی طرف پھرنا،
(۸۶) اور جن کو یہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے ، ہاں شفاعت کا اختیار انہیں ہے جو حق کی گواہی دیں (ف۱۳۵) اور علم رکھیں (ف۱۳۶)
(۸۷) اور اگر تم ان سے پوچھو (ف۱۳۷) انہیں کس نے پیدا کیا تو ضرور کہیں گے اللہ نے (ف۱۳۸) تو کہاں اوندھے جاتے ہیں (ف۱۳۹)
(۸۸) مجھے رسول (ف۱۴۰) کے اس کہنے کی قسم (ف۱۴۱) کہ اے میرے رب! یہ لوگ ایمان نہیں لاتے ،
(۸۹) تو ان سے درگزر کرو (ف۱۴۲) اور فرماؤ بس سلام ہے (ف۱۴۳) کہ آگے جان جائیں گے (ف۱۴۴)

سورة دخان ۔۴۴
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)
(۱) حٰمٓ
(۲) قسم اس روشن کتاب کی (ف۲)
(۳) بیشک ہم نے اسے برکت والی رات میں اتارا (ف۳) بیشک ہم ڈر سنانے والے ہیں (ف۴)
(۴) اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام (ف۵)
(۵) ہمارے پاس کے حکم سے، بیشک ہم بھیجنے والے ہیں (ف۶)
(۶) تمہارے رب کی طرف سے رحمت، بیشک وہی سنتا جانتا ہے،
(۷) وہ جو رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، اگر تمہیں یقین ہو (ف۷)
(۸) اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں وہ جِلائے اور مارے، تمہارا رب اور تمہارے اگلے باپ دادا کا رب،
(۹) بلکہ وہ شک میں پڑے کھیل رہے ہیں (ف۸)
(۱۰) تو تم اس دن کے منتظر رہو جب آسمان ایک ظاہر دھواں لائے گا،
(۱۱) کہ لوگوں کو ڈھانپ لے گا (ف۹) یہ ہے دردناک عذاب،
(۱۲) اس دن کہیں گے، اے ہمارے رب! ہم پر سے عذاب کھول دے ہم ایمان لاتے ہیں (ف۱۰)
(۱۳) کہاں سے ہو انہیں نصیحت ماننا (ف۱۱) حالانکہ ان کے پاس صاف بیان فرمانے والا رسول تشریف لاچکا (ف۱۲)
(۱۴) اس سے روگرداں ہوئے اور بولے سکھایا ہوا دیوانہ ہے (ف۱۳)
(۱۵) ہم کچھ دنوں کو عذاب کھولے دیتے ہیں تم پھر وہی کرو گے (ف۱۴)
(۱۶) جس دن ہم سب سے بڑی پکڑ پکڑیں گے (ف۱۵) بیشک ہم بدلہ لینے والے ہیں،
(۱۷) اور بیشک ہم نے ان سے پہلے فرعون کی قوم کو جانچا اور ان کے پاس ایک معزز رسول تشریف لایا (ف۱۶)
(۱۸) کہ اللہ کے بندوں کو مجھے سپرد کردو (ف۱۷) بیشک میں تمہارے لیے امانت والا رسول ہوں،
(۱۹) اور اللہ کے مقابل سرکشی نہ کرو، میں تمہارے پاس ایک روشن سند لاتا ہوں (ف۱۸)
(۲۰) اور میں پناہ لیتا ہوں اپنے رب اور تمہارے رب کی اس سے کہ تم مجھے سنگسار کرو (ف۱۹)
(۲۱) اور اگر میرا یقین نہ لاؤ تو مجھ سے کنارے ہوجاؤ (ف۲۰)
(۲۲) تو اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم لوگ ہیں،
(۲۳) ہم نے حکم فرمایا کہ میرے بندوں (ف۲۱) کو راتوں رات لے نکل ضرور تمہارا پیچھا کیا جائے گا (ف۲۲) (۲۴) اور دریا کو یونہی جگہ جگہ سے چھوڑ دے (ف۲۳) بیشک وہ لشکر ڈبو دیا جائے گا (ف۲۴)
(۲۵) کتنے چھوڑ گئے باغ اور چشمے ،
(۲۶) او رکھیت اور عمدہ مکانات (ف۲۵)
(۲۷) اور نعمتیں جن میں فارغ البال تھے (ف۲۶)
(۲۸) ہم نے یونہی کیا اور ان کا وارث دوسری قوم کو کردیا (ف۲۷)
(۲۹) تو ان پر آسمان اور زمین نہ روئے (ف۲۸) اور انہیں مہلت نہ دی گئی (ف۲۹)
(۳۰) اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات بخشی (ف۳۰)
(۳۱) فرعون سے، بیشک وہ متکبر حد سے بڑھنے والوں سے،
(۳۲) اور بیشک ہم نے انہیں (ف۳۱) دانستہ چن لیا اس زمانے والوں سے ،
(۳۳) ہم نے انہیں وہ نشانیاں عطا فرمائیں جن میں صریح انعام تھا (ف۳۲)
(۳۴) بیشک یہ (ف۳۳) کہتے ہیں،
(۳۵) وہ تو نہیں مگر ہمارا ایک دفعہ کا مرنا (ف۳۴) اور ہم اٹھائے نہ جائیں گے (ف۳۵)
(۳۶) تو ہمارے باپ دادا کو لے آؤ اگر تم سچے ہو (ف۳۶)
(۳۷) کیا وہ بہتر ہیں (ف۳۷) یا تبع کی قوم (ف۳۸) اور جو ان سے پہلے تھے (ف۳۹) ہم نے انہیں ہلاک کردیا (ف۴۰) بیشک وہ مجرم لوگ تھے (ف۴۱)
(۳۸) اور ہم نے نہ بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل کے طور پر (ف۴۲)
(۳۹) ہم نے انہیں نہ بنایا مگر حق کے ساتھ (ف۴۳) لیکن ان میں اکثر جانتے نہیں (ف۴۴)
(۴۰) بیشک فیصلہ کا دن (ف۴۵) ان سب کی میعاد ہے،
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 16-02-08, 07:20 AM   #38
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 28
مراسلات: 11,250
کمائي: 23,271,276
ميرا موڈ:
شکریہ: 5,007
2,462 مراسلہ میں 5,556 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: کنز الایمان ۔ ترجمہ قرآن۔ احمد رضا بریلوی

(۴۱) جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا (ف۴۶) اور نہ ان کی مدد ہوگی (ف۴۷)
(۴۲) مگر جس پر اللہ رحم کرے (ف۴۸) بیشک وہی عزت والا مہربان ہے،
(۴۳) بیشک تھوہڑ کا پیڑ (ف۴۹)
(۴۴) گنہگاروں کی خوراک ہے (ف۵۰)
(۴۵) گلے ہوئے تانبے کی طرح پیٹوں میں جوش مارتا ہے ،
(۴۶) جیسا کھولتا پانی جوش مارے (ف۵۱)
(۴۷) اسے پکڑو (ف۵۲) ٹھیک بھڑکتی آگ کی طرف بزور گھسیٹتے لے جاؤ،
(۴۸) پھر اس کے سر کے اوپر کھولتے پانی کا عذاب ڈالو (ف۵۳)
(۴۹) چکھ، (ف۵۴) ہاں ہاں تو ہی بڑا عزت والا کرم والا ہے (ف۵۵)
(۵۰) بیشک یہ ہے وہ (ف۵۶) جس میں تم شبہہ کرتے تھے (ف۵۷)
(۵۱) بیشک ڈر والے امان کی جگہ میں ہیں (ف۵۸)
(۵۲) باغوں اور چشموں میں،
(۵۳) پہنیں گے کریب اور قنادیز (ف۵۹) آمنے سامنے (ف۶۰)
(۵۴) یونہی ہے، اور ہم نے انہیں بیاہ دیا نہایت سیاہ اور روشن بڑی آنکھوں والیوں سے،
(۵۵) اس میں ہر قسم کا میوہ مانگیں گے (ف۶۱) امن و امان سے (ف۶۲)
(۵۶) اس میں پہلی موت کے سوا (ف۶۳) پھر موت نہ چکھیں گے اور اللہ نے انہیں آگ کے عذاب سے بچالیا، (ف۶۴)
(۵۷) تمہارے رب کے فضل سے، یہی بڑی کامیابی ہے،
(۵۸) تو ہم نے اس قرآن کو تمہاری زبان میں (ف۶۵) آسان کیا کہ وہ سمجھیں (ف۶۶)
(۹۵) تو تم انتظار کرو (ف۶۷) وہ بھی کسی انتظار میں ہیں (ف۶۸)

سورة جاثیہ ۔۴۵
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) حٰمٓ
(۲) کتاب کا اتارنا ہے اللہ عزت و حکمت والے کی طرف سے،
(۳) بیشک آسمانوں اور زمین میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے (ف۲)
(۴) اور تمہاری پیدائش میں (ف۳) اور جو جو جانور وہ پھیلاتا ہے ان میں نشانیاں ہیں یقین والوں کے لیے،
(۵) اور رات اور دن کی تبدیلیوں میں (ف۴) اور اس میں کہ اللہ نے آسمان سے روزی کا سبب مینہ اتارا تو اس سے زمین کو اس کے مَرے پیچھے زندہ کیا اور ہواؤں کی گردش میں (ف۵) نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے،
(۶) یہ اللہ کی آیتیں ہیں کہ ہم تم پر حق کے ساتھ پڑھتے ہیں، پھر اللہ اور اس کی آیتوں کو چھوڑ کر کونسی بات پر ایمان لائیں گے،
(۷) خرابی ہے ہر بڑے بہتان ہائے گنہگار کے لیے (ف۶)
(۸) اللہ کی آیتوں کو سنتا ہے کہ اس پر پڑھی جاتی ہیں پھر ہٹ پر جمتا ہے (ف۷) غرور کرتا (ف۸) گویا انہیں سنا ہی نہیں تو اسے خوشخبری سناؤ درد ناک عذاب کی،
(۹) اور جب ہماری آیتوں میں سے کسی پر اطلاع پائے اس کی ہنسی بناتا ہے ان کے لیے خواری کا عذاب،
(۱۰) ان کے پیچھے جہنم ہے (ف۹) اور انہیں کچھ کام نہ دے گا ان کا کمایا ہوا (ف۱۰) اور نہ وہ جو اللہ کے سوا حمایتی ٹھہرا رکھے تھے (ف۱۱) اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے،
(۱۱) یہ (ف۱۲) راہ دکھانا ہے اور جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں کو نہ مانا ان کے لیے دردناک عذاب میں سے سخت تر عذاب ہے،
(۱۲) اللہ ہے جس نے تمہارے بس میں دریا کردیا کہ اس میں اس کے حکم سے کشتیاں چلیں اور اس لیے کہ اس کا فضل تلاش کرو (ف۱۳) اور اس لیے کہ حق مانو (ف۱۴)
(۱۳) اور تمہارے لیے کام میں لگائے جو کچھ آسمان میں ہیں (ف۱۵) اور جو کچھ زمین میں (ف۱۶) اپنے حکم سے بے شک اس میں نشا نیاں ہیں سوچنے والوں کے لئے ،
(۱۴) ایمان وا لوں سے فرماؤ درگزریں ان سے جو اللہ کے دنوں کی امید نہیں رکھتے (ف۱۷) تاکہ اللہ ایک قوم کو اس کی کمائی کا بدلہ دے (ف۱۸)
(۱۵) جو بھلا کام کرے تو اپنے لیے اور برا کرے تو اپنے برے کو (ف۱۹) پھر اپنے رب کی طرف پھیرے جاؤ گے (ف۲۰)
(۱۶) اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (ف۲۱) اور حکومت اور نبوت عطا فرمائی (ف۲۲) اور ہم نے انہیں ستھری روزیاں دیں (ف۲۳) اور انہیں ان کے زمانے والوں پر فضیلت بخشی،
(۱۷) اور ہم نے انہیں اس کام کی (ف۲۴) روشن دلیلیں دیں تو انہوں نے اختلاف نہ کیا (ف۲۵) مگر بعد اس کے کہ علم ان کے پاس آچکا (ف۲۶) آپس کے حسد سے (ف۲۷) بیشک تمہارا رب قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں اختلاف کرتے یں،
(۱۸) پھر ہم نے اس کام کے (ف۲۸) عمدہ راستہ پر تمہیں کیا (ف۲۹) تو اسی راہ پر چلو اور نادانوں کی خواہشوں کا ساتھ نہ دو (ف۳۰)
(۱۹) بیشک وہ اللہ کے مقابل تمہیں کچھ کام نہ دیں گے، اور بیشک ظالم ایک دوسرے کے دوست ہیں (ف۳۱) اور ڈر والوں کا دوست اللہ (ف۳۲)
(۲۰) یہ لوگوں کی آنکھیں کھولنا ہے (ف۳۳) اور ایمان والوں کے لیے ہدایت و رحمت،
(۲۱) کیا جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا (ف۳۴) یہ سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں ان جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ ان کی ان کی زندگی اور موت برابر ہوجائے (ف۳۵) کیا ہی برا حکم لگاتے ہیں،
(۲۲) اور اللہ نے آسمان اور (ف۳۶) زمین کو حق کے ساتھ بنایا (ف۳۷) اور اس لیے کہ ہر جان اپنے کیے کا بدلہ پائے (ف۳۸) اور ان پر ظلم نہ ہوگا،
(۲۳) بھلا دیکھو تو وہ جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا ٹھہرالیا (ف۳۹) اور اللہ نے اسے با وصف علم کے گمراہ کیا (ف۴۰) اور اس کے کان اور دل پر مہر لگادی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈالا (ف۴۱) تو اللہ کے بعد اسے کون راہ دکھائے، تو کیا تم دھیان نہیں کرتے،
(۲۴) اور بولے (ف۴۲) وہ تو نہیں مگر یہی ہماری دنیا کی زندگی (ف۴۳) مرتے ہیں اور جیتے ہیں (ف۴۴) اور ہمیں ہلاک نہیں کرتا مگر زمانہ (ف۴۵) اور انہیں اس کا علم نہیں (ف۴۶) وہ تو نرے گمان دوڑاتے ہیں (ف۴۷)
(۲۵) اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جائیں (ف۴۸) تو بس ان کی حجت یہی ہوتی ہے کہ کہتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا کو لے آؤ (ف۴۹) اگر تم سچے ہو (ف۵۰)
(۲۶) تم فرماؤ اللہ تمہیں جِلاتا ہے (ف۵۱) پھر تم کو مارے گا (ف۵۲) پھر تم سب کو اکٹھا کریگا (ف۵۳) قیامت کے دن جس میں کوئی شک نہیں لیکن بہت آدمی نہیں جانتے (ف۵۴)
(۲۷) اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت، اور جس دن قیامت قائم ہوگی باطل والوں کی اس دن ہار ہے (ف۵۵)
(۲۸) اور تم ہر گرو ه (ف۵۶) کو دیکھو گے زانو کے بل گرے ہوئے ہر گروہ اپنے نامہٴ اعمال کی طرف بلایا جائے گا (ف۵۷) آج تمہیں تمہارے کیے کا بدلہ دیا جائے گا،
(۲۹) ہمارا یہ نوشتہ تم پر حق بولتا ہے، ہم لکھتے رہے تھے (ف۵۸) جو تم نے کیا،
(۳۰) تو وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کا رب انہیں اپنی رحمت میں لے گا (ف۵۹) یہی کھلی کامیابی ہے، (۳۱) اور جو کافر ہوئے ان سے فرمایا جائے گا، کیا نہ تھا کہ میری آیتیں تم پر پڑھی جاتی تھیں تو تم تکبر کرتے تھے (ف۶۰) اور تم مجرم لوگ تھے،
(۳۲) اور جب کہا جاتا بیشک اللہ کا وعدہ (ف۶۱) سچا ہے اور قیامت میں شک نہیں (ف۶۲) تم کہتے ہم نہیں جانتے قیامت کیا چیز ہے ہمیں تو یونہی کچھ گمان سا ہوتا ہے اور ہمیں (ف۶۳) یقین نہیں،
(۳۳) اور ان پر کھل گئیں (ف۶۴) ان کے کاموں کی برائیاں (ف۶۵) اور انہیں گھیرلیا اس عذاب نے جس کی ہنسی بناتے تھے،
(۳۴) اور فرمایا جائے گا آج ہم تمہیں چھوڑدیں گے (ف۶۶) جیسے تم اپنے اس دن کے ملنے کو بھولے ہوئے تھے (ف۶۷) اور تمہارا ٹھکانا آ گ ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں (ف۶۸)
(۳۵) یہ اس لیے کہ تم نے اللہ کی آیتوں کا ٹھٹھا (مذاق) بنایا اور دنیا کی زندگی نے تمہیں فریب دیا (ف۶۹) تو آج نہ وہ آگ سے نکالے جائیں اور نہ ان سے کوئی منانا چاہے (ف۷۰)
(۳۶) تو اللہ ہی کے لیے سب خوبیاں ہیں آسمانوں کا رب اور زمین کا رب اور سارے جہاں کا رب،
(۳۷) اور اسی کے لیے بڑائی ہے آسمانوں اور زمین میں، اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
سورة احقاف ۔ ۴۶

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)
(۱) حٰمٓ
(۲) یہ کتاب (ف۲) اتارنا ہے اللہ عزت و حکمت والے کی طرف سے،
(۳) ہم نے نہ بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے مگر حق کے ساتھ (ف۳) اور ایک مقرر میعاد پر (ف۴) اور کافر اس چیز سے کہ ڈرائے گئے (ف۵) منہ پھیرے ہیں (ف۶)
(۴) تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۷) مجھے دکھاؤ انہوں نے زمین کا کون سا ذرہ بنایا یا آسمان میں ان کا کوئی حصہ ہے، میرے پاس لاؤ اس سے پہلی کوئی کتاب (ف۸) یا کچھ بچا کھچا علم (ف۹) اگر تم سچے ہو (ف۱۰)
(۵) اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو اللہ کے سوا ایسوں کو پوجے (ف۱۱) جو قیامت تک اس کی نہ سنیں اور انہیں ان کی پوجا کی خبر تک نہیں (ف۱۲)
(۶) اور جب لوگوں کا حشر ہوگا وہ ان کے دشمن ہوں گے (ف۱۳) اور ان سے منکر ہوجائیں گے (ف۱۴)
(۷) اور جب ان پر (ف۱۵) پڑھی جائیں ہماری روشن آیتیں تو کافر اپنے پاس آئے ہوئے حق کو (ف۱۶) کہتے ہیں یہ کھلا جادو ہے (ف۱۷)
(۸) کیا کہتے ہیں انہوں نے اسے جی سے بنایا (ف۱۸) تم فرماؤ اگر میں نے اسے جی سے بنالیا ہوگا تو تم اللہ کے سامنے میرا کچھ اختیار نہیں رکھتے (ف۱۹) وہ خوب جانتا ہے جن باتوں میں تم مشغول ہو (ف۲۰) اور وہ کافی ہے میرے اور تمہارے درمیان گواہ، اور وہی بخشنے والا مہربان ہے (ف۲۱)
(۹) تم فرماؤ میں کوئی انوکھا رسول نہیں (ف۲۲) اور میں نہیں جانتا میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا (ف۲۳) میں تو اسی کا تابع ہوں جو مجھے وحی ہوتی ہے (ف۲۴) اور میں نہیں مگر صاف ڈر سنانے والا،
(۱۰) تم فرماؤ بھلا دیکھو تو اگر وہ قرآن اللہ کے پاس سے ہو اور تم نے اس کا انکار کیا اور بنی اسرائیل کا ایک گواہ (ف۲۵) اس پر گواہی دے چکا (ف۲۶) تو وہ ایمان لایا اور تم نے تکبر کیا (ف۲۷) بیشک اللہ راہ نہیں دیتا ظالموں کو،
(۱۱) اور کافروں نے مسلمانوں کو کہا اگر اس میں (ف۲۸) کچھ بھلائی ہو تو یہ (ف۲۹) ہم سے آگے اس تک نہ پہنچ جاتے (ف۳۰) اور جب انہیں اس کی ہدایت نہ ہوئی تو اب (ف۳۱) کہیں گے کہ یہ پرانا بہتان ہے،
(۱۲) اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب (ف۳۲) سے پیشوا اور مہربانی، اور یہ کتاب ہے تصدیق فرماتی (ف۳۳) عربی زبان میں کہ ظالموں کو ڈر سنائے ، اور نیکوں کو بشارت،
(۱۳) بیشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے (ف۳۴) نہ ان پر خوف (ف۳۵) نہ ان کو غم (ف۳۶)
(۱۴) وہ جنت والے ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے ان کے اعمال کا انعام،
(۱۵) اور ہم نے آدمی کو حکم کیا اپنے ماں باپ سے بھلائی کرے، ا س کی ماں نے اسے پیٹ میں رکھا تکلیف سے اور جنا اس کو تکلیف سے، اور اسے اٹھائے پھرنا اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینے میں ہے (ف۳۷) یہاں تک کہ جب اپنے زور کو پہنچا (ف۳۸) اور چالیس برس کا ہوا (ف۳۹) عرض کی اے میرے رب! میرے دل میں ڈال کہ میں تیری نعمت کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کی (ف۴۰) اور میں وہ کام کروں جو تجھے پسند آئے (ف۴۱) اور میرے لیے میری اولاد میں صلاح (نیکی) رکھ (ف۴۲) میں تیری طرف رجوع لایا (ف۴۳) اور میں مسلمان ہوں (ف۴۴)
(۱۶) یہ ہیں وہ جن کی نیکیاں ہم قبول فرمائیں گے (ف۴۵) اور ان کی تقصیروں سے درگزر فرمائیں گے جنت والوں میں، سچا وعدہ جو انہیں دیا جاتا تھا (ف۴۶)
(۱۷) اور وہ جس نے اپنے ماں باپ سے کہا (ف۴۷) اُف تم سے دل پک گیا (بیزار ہے) کیا مجھے یہ وعدہ دیتے ہو کہ پھر زندہ کیا جاؤں گا حالانکہ مجھ پر سے پہلے سنگتیں گزر چکیں (ف۴۸) اور وہ دونوں (ف۴۹) اللہ سے فریاد کرتے ہیں تیری خرابی ہو ایمان لا، بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے (ف۵۰) تو کہتا ہے یہ تو نہیں مگر اگلوں کی کہانیاں
(۱۸) یہ وہ ہیں جن پر بات ثابت ہوچکی (ف۵۱) ان گروہوں میں جو ان سے پلے گزرے جن اور آدمی، بیشک وہ زیاں کار تھے،
(۱۹) اور ہر ایک کے لیے (ف۵۲) اپنے اپنے عمل کے درجے ہیں (ف۵۳) اور تاکہ اللہ ان کے کام انہیں پورے بھردے (ف۵۴)
(۲۰) اور ان پر ظلم نہ ہوگا، اور جس دن کافر آگ پر پیش کیے جائیں گے، ان سے فرمایا جائے گا تم اپنے حصہ کی پاک چیزیں اپنی دنیا ہی کی زندگی میں فنا کرچکے اور انہیں برت چکے (ف۵۵) تو آج تمہیں ذلت کا عذاب بدلہ دیا جائے گا سزا اس کی کہ تم زمین میں ناحق تکبر کرتے تھے اور سزا اس کی کہ حکم عدولی کرتے تھے (ف۵۶)
(۲۱) اور یاد کرو عاد کے ہم قوم (ف۵۷) کو جب اس نے ان کو سرزمینِ احقاف میں ڈرایا (ف۵۸) اور بیشک اس سے پہلے ڈر سنانے والے گزر چکے اور اس کے بعد آئے کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پُوجو، بیشک مجھے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے،
(۲۲) بولے کیا تم اس لیے آئے کہ ہمیں ہمارے معبودوں سے پھیر دو، تو ہم پر لاؤ (ف۵۹) جس کا ہمیں وعدہ دیتے ہو اگر تم سچے ہو، (ف۶۰)
(۲۳) اس نے فرمایا (ف۶۱) اس کی خبر تو اللہ ہی کے پاس ہے (ف۶۲) میں تو تمہیں اپنے رب کے پیام پہنچاتا ہوں ہاں میری دانست میں تم نرے جاہل لوگ ہو (ف۶۳)
(۲۴) پھر جب انہوں نے عذاب کو دیکھا بادل کی طرح آسمان کے کنارے میں پھیلا ہوا ان کی وادیوں کی طرف آتا (ف۶۴) بولے یہ بادل ہے کہ ہم پر برسے گا (ف۶۵) بلکہ یہ تو وہ ہے جس کی تم جلدی مچاتے تھے، ایک آندھی ہے جس میں دردناک عذاب،
(۲۵) ہر چیز کو تباہ کر ڈالتی ہے اپنے رب کے حکم سے (ف۶۶) تو صبح رہ گئے کہ نظر نہ آتے تھے مگر ان کے سُونے مکان، ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں مجرموں کو،
(۲۶) اور بیشک ہم نے انہیں وہ مقدور دیے تھے جو تم کو نہ دیے (ف۶۷) اور ان کے لیے کان اور آنکھ اور دل بنائے (ف۶۸) تو ان کے کام کان اور آنکھیں اور دل کچھ کام نہ آئے جبکہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور انہیں گھیرلیا اس عذاب نے جس کی ہنسی بناتے تھے،
(۲۷) اور بیشک ہم نے ہلاک کردیں (ف۶۹) تمہارے آس پاس کی بستیاں (ف۷۰) اور طرح طرح کی نشانیاں لائے کہ وہ باز آئیں (ف۷۱)
(۲۸) تو کیوں نہ مدد کی ان کی (ف۷۲) جن کو انہوں نے اللہ کے سوا قرب حاصل کرنے کو خدا ٹھہرا رکھا تھا (ف۷۳) بلکہ وہ ان سے گم گئے (ف۷۴) اور یہ ان کا بہتان و افتراء ہے (ف۷۵)
(۲۹) اور جبکہ ہم نے تمہاری طرف کتنے جن پھیرے (ف۷۶) کان لگا کر قرآن سنتے، پھر جب وہاں حاضر ہوئے آپس میں بولے خاموش رہو (ف۷۷) پھر جب پڑھنا ہوچکا اپنی قوم کی طرف ڈر سناتے پلٹے (ف۷۸)
(۳۰) بولے اے ہماری قوم ہم نے ایک کتاب سنی (ف۷۹) کہ موسیٰ کے بعد اتاری گئی (ف۸۰) اگلی کتابوں کی تصدیق فرمائی حق اور سیدھی راہ دکھائی،
(۳۱) اے ہماری قوم! اللہ کے منادی (ف۸۱) کی بات مانو اور اس پر ایمان لاؤ کہ وہ تمہارے کچھ گناہ بخش دے (ف۸۲) اور تمہیں دردناک عذاب سے بچالے،
(۳۲) اور جو اللہ کے منادی کی بات نہ مانے وہ زمین میں قابو سے نکل کر جانے والا نہیں (ف۸۳) اور اللہ کے سامنے اس کا کوئی مددگار نہیں (ف۸۴) وہ (ف۸۵) کھلی گمراہی میں ہیں،
(۳۳) کیا انہوں نے (ف۸۶) نہ جانا کہ وہ اللہ جس نے آسمان اور زمین بنائے اور ان کے بنانے میں نہ تھکا قادر ہے کہ مردے جِلائے، کیوں نہیں بیشک وہ سب کچھ کرسکتا ہے،
(۳۴) اور جس دن کافر آگ پر پیش کیے جائیں گے، ان سے فرمایا جائے گا کیا یہ حق نہیں کہیں گے کیوں نہیں ہمارے رب کی قسم، فرمایا جائے گا تو عذاب چکھو بدلہ اپنے کفر کا (ف۸۷)
(۳۵) تو تم صبر کرو جیسا ہمت والے رسولوں نے صبر کیا (ف۸۸) اور ان کے لیے جلدی نہ کرو (ف۸۹) گویا وہ جس دن دیکھیں گے (ف۹۰) جو انہیں وعدہ دیا جاتا ہے (ف۹۱) دنیا میں نہ ٹھہرے تھے مگر دن کی ایک گھڑی بھر یہ پہنچانا ہے (ف۹۲) تو کون ہلاک کیے جائیں گے مگر بے حکم لوگ (ف۹۳)


۰۔پاره حم ۔۲۶
سورة محمد ۔۴۷

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا (ف۲) اللہ نے ان کے عمل برباد کیے (ف۳)
(۲) اور ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور اس پر ایمان لائے جو محمد پر اتارا گیا (ف۴) اور وہی ان کے رب کے پاس سے حق ہے اللہ نے ان کی برائیاں اتار دیں اور ان کی حالتیں سنوار دیں (ف۵)
(۳) یہ اس لیے کہ کافر باطل کے پیرو ہوئے اور ایمان والوں نے حق کی پیروی کی جو ان کے رب کی طرف سے ہے (ف۶) اللہ لوگوں سے ان کے احوال یونہی بیان فرماتا ہے (ف۷)
(۴) تو جب کافروں سے تمہارا سامناہو(ف۸) تو گردنیں مارنا ہے (ف۹) یہاں تک کہ جب انہیں خوب قتل کرلو (ف۱۰) تو مضبوط باندھو، پھر اس کے بعد چاہے احسان کرکے چھوڑ دو چاہے فدیہ لے لو (ف۱۱) یہاں تک کہ لڑائی
اپنابوجھ رکھ دے (ف۱۲) بات یہ ہے اوراللہ چاہتا تو آپ ہی اُن سے بدلہ لیتا (ف۱۳) مگر اس لئے (ف۱۴)تم میں ایک کو دوسرے سے جانچے (ف۱۵) اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے اللہ ہرگز ان کے عمل ضائع نہ فرمائے گا (ف۱۶)
(۵) جلد انہیں راہ دے گا (ف۱۷) اور ان کا کام بنادے گا ،
(۶) اور انہیں جنت میں لے جائے گا انہیں اس کی پہچان کرادی ہے (ف۱۸)
(۷) اے ایمان والو اگر تم دین خدا کی مدد کرو گے اللہ تمہاری مدد کرے گا (ف۱۹) اور تمہارے قدم جمادے گا (ف۲۰)
(۸) اور جنہوں نے کفر کیا تو ان پر تباہی پڑے اور اللہ ان کے اعمال برباد کرے،
(۹) یہ اس لیے کہ انہیں ناگوار ہوا جو اللہ نے اتارا (ف۲۱) تو اللہ نے ان کا کیا دھرا اِکارت کیا،
(۱۰) تو کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے ان سے اگلوں کا (ف۲۲) کیسا انجام ہوا، اللہ نے ان پر تباہی ڈالی (ف۲۳) اور ان کافروں کے لیے بھی ویسی کتنی ہی ہیں (ف۲۴)
(۱۱) یہ (ف۲۵) اس لیے کہ مسلمانوں کا مولیٰ اللہ ہے اور کافروں کا کوئی مولیٰ نہیں،
(۱۲) بیشک اللہ داخل فرمائے گا انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے باغوں میں جن کے نیچے نہریں رواں، اور کافر برتتے ہیں اور کھاتے ہیں (ف۲۶) جیسے چوپائے کھائیں (ف۲۷) اور آگ میں ان کا ٹھکانا ہے،
(۱۳) اور کتنے ہی شہر کہ اس شہر سے (ف۲۸) قوت میں زیادہ تھے جس نے تمہیں تمہارے شہر سے باہر کیا، ہم نے انہیں ہلاک فرمایا تو ان کا کوئی مددگار نہیں (ف۲۹)
(۱۴) تو کیا جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہو (ف۳۰) اُس (ف۳۱) جیسا ہوگا جس کے برے عمل اسے بھلے دکھائے گئے اور وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلے (ف۳۲)
(۱۵) احوال اس جنت کا جس کا وعدہ پرہیزگاروں سے ہے، اس میں ایسی پانی کی نہریں ہیں جو کبھی نہ بگڑے (ف۳۳) اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہ بدلا (ف۳۴) اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جس کے پینے میں لذت ہے (ف۳۵) اور ایسی شہد کی نہریں ہیں جو صاف کیا گیا (ف۳۶) اور ان کے لیے اس میں ہر قسم کے پھل ہیں، اور اپنے رب کی مغفرت (ف۳۷) کیا ایسے چین والے ان کی برابر ہوجائیں گے جنہیں ہمیشہ آگ میں رہنا اور انہیں کھولتا پانی پلایا جائے گا کہ آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردے،
(۱۶) اور ان (ف۳۸) میں سے بعض تمہارے ارشاد سنتے ہیں (ف۳۹) یہاں تک کہ جب تمہارے پاس سے نکل کر جائیں (ف۴۰) علم والوں سے کہتے ہیں (ف۴۱) ابھی انہوں نے کیا فرمایا (ف۴۲) یہ ہیں وہ جن کے دلوں پر اللہ نے مہر کردی (ف۴۳) اور اپنی خواہشوں کے تابع ہوئے (ف۴۲)
(۱۷) اور جنہوں نے راہ پائی (ف۴۵) اللہ نے ان کی ہدایت (ف۴۶) اور زیادہ فرمائی اور ان کی پرہیزگاری انہیں عطا فرمائی (ف۴۷)
(۱۸) تو کاہے کے انتظار میں ہیں (ف۴۸) مگر قیامت کے کہ ان پر اچانک آجائے، کہ اس کی علامتیں تو آہی چکی ہیں (ف۴۹) پھر جب آجائے گی تو کہاں وہ اور کہاں ان کا سمجھنا،
(۱۹) تو جان لو کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں اور اے محبوب! اپنے خاصوں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو (ف۵۰) اور اللہ جانتا ہے دن کو تمہارا پھرنا (ف۵۱) اور رات کو تمہارا آرام لینا (ف۵۲) (۲۰) اور مسلمان کہتے ہیں کوئی سورت کیوں نہ اتاری گئی (ف۵۳) پھر جب کوئی پختہ سورت اتاری گئی (ف۵۴) اور اس میں جہاد کا حکم فرمایا گیا تو تم دیکھو گے انہیں جن کے دلوں میں بیماری ہے (ف۵۵) کہ تمہاری طرف (ف۵۶) اس کا دیکھنا دیکھتے ہیں جس پر مُرونی چھائی ہو، تو ان کے حق میں بہتر یہ تھا کہ فرمانبرداری کرتے (ف۵۷) (۲۱) اور اچھی بات کہتے پھر جب حکم ناطق ہوچکا (ف۵۸) تو اگر اللہ سے سچے رہتے (ف۵۹) تو ان کا بھلا تھا،
(۲۲) تو کیا تمہارے یہ لچھن نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ (ف۶۰) اور اپنے رشتے کاٹ دو،
(۲۳) یہ ہیں وہ (ف۶۱) لوگ جن پر اللہ نے لعنت کی اور انہیں حق سے بہرا کردیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں
(ف۶۲)
(۲۴) تو کیا وہ قرآن کو سوچتے نہیں (ف۶۳) یا بعضے دلوں پر ان کے قفل لگے ہیں (ف۶۴)
(۲۵) بیشک وہ جو اپنے پیچھے پلٹ گئے (ف۶۵) بعد اس کے کہ ہدایت ان پر کھل چکی تھی (ف۶۶) شیطان نے انہیں فریب دیا (ف۶۷) اور انہیں دنیا میں مدتوں رہنے کی امید دلائی (ف۶۸)
(۲۶) یہ اس لیے کہ انہوں نے (ف۶۹) کہا ان لوگوں سے (ف۷۰) جنہیں اللہ کا اتارا ہوا (ف۷۱) ناگوار ہے ایک کام میں ہم تمہاری مانیں گے (ف۷۲) اور اللہ ان کی چھپی ہوئی جانتا ہے،
(۲۷) تو کیسا ہوگا جب فرشتے ان کی روح قبض کریں گے ان کے منہ اور ان کی پیٹھیں مارتے ہوئے (ف۷۳)
(۲۸) یہ اس لیے کہ وہ ایسی بات کے تابع ہوئے جس میں اللہ کی ناراضی ہے (ف۷۴) اور اس کی خوشی (ف۷۵) انہیں گوارا نہ ہوئی تو اس نے ان کے اعمال اَکارت کردیے،
(۲۹) کیا جن کے دلوں میں بیماری ہے (ف۷۶) اس گھمنڈ میں ہیں کہ اللہ ان کے چھپے بَیر ظاہر نہ فرمائے گا (ف۷۷)
(۳۰) اور اگر ہم چاہیں تو تمہیں ان کو دکھادیں کہ تم ان کی صورت سے پہچان لو (ف۷۸) اور ضرور تم انہیں بات کے اسلوب میں پہچان لو گے (ف۷۹) اور اللہ تمہارے عمل جانتا ہے (ف۸۰)
(۳۱) اور ضرور ہم تمہیں جانچیں گے (ف۸۱) یہاں تک کہ دیکھ لیں (ف۸۲) تمہارے جہاد کرنے والوں اور صابروں کو اور تمہاری خبریں آزمالیں (ف۸۳)
(۳۲) بیشک وہ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے (ف۸۴) روکا اور رسول کی مخالفت کی بعد اس کے کہ ہدایت ان پر ظاہر ہوچکی تھی وہ ہرگز اللہ کو کچھ نقصان نہ پہچائیں گے، اور بہت جلد اللہ ان کا کیا دھرا اَکارت کردے گا (ف۸۵)
(۳۳) اے ایمان والو اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو (ف۸۶) اور اپنے عمل باطل نہ کرو (ف۸۷)
(۳۴) بیشک جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا پھر کافر ہی مرگئے تو اللہ ہر گز انہیں نہ بخشے گا (ف۸۸)
(۳۵) تو تم سستی نہ کرو (ف۸۹) اور آپ صلح کی طرف نہ بلاؤ (ف۹۰) اور تم ہی غالب آؤ گے، اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ ہرگز تمہارے اعمال میں تمہیں نقصان نہ دے گا (ف۹۱)
(۳۶) دنیا کی زندگی تو یہی کھیل کود ہے (ف۹۲) اور اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو وہ تم کو تمہارے ثواب عطا فرمائے گا اور کچھ تم سے تمہارے مال نہ مانگے گا (ف۹۳)
(۳۷) اگر انہیں (ف۹۴) تم سے طلب کرے اور زیادہ طلب کرے تم بخل کرو گے اور وہ بخل تمہارے دلوں کے میل ظاہر کردے گا،
(۳۸) ہاں ہاں یہ جو تم ہو بلائے جاتے ہو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو (ف۹۵) تو تم میں کوئی بخل کرتا ہے اور جو بخل کرے (ف۹۶) وہ اپنی ہی جان پر بخل کرتا ہے اور اللہ بے نیاز ہے (ف۹۷) اور تم سب محتاج (ف۹۸) اور اگر تم منہ پھیرو (ف۹۸) تو وہ تمہارے سوا اور لوگ بدل لے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے (ف۱۰۰)

۰۔پارہ حم ۔۲۶
سورة فتح ۔۴۸

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) بیشک ہم نے تمہارے لیے روشن فتح دی (ف۲)
(۲) تاکہ اللہ تمہارے سبب سے گناہ بخشے تمہارے اگلوں کے اور تمہارے پچھلوں کے (ف۳) اور اپنی نعمتیں تم پر تمام کردے (ف۴) اور تمہیں سیدھی راہ دکھادے (ف۵)
(۳) اور اللہ تمہاری زبردست مدد فرمائے (ف۶)
(۴) وہی ہے جس نے ایمان والوں کے دلوں میں اطمینان اتارا تاکہ انہیں یقین پر یقین بڑھے (ف۷) اور اللہ ہی کی ملک ہیں تمام لشکر آسمانوں اور زمین کے (ف۸) اور اللہ علم و حکمت والا ہے (ف۹)
(۵) تاکہ ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو باغوں میں لے جائے جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں اور انکی برائیاں ان سے اتار دے، اور یہ اللہ کے یہاں بڑی کامیابی ہے،
(۶) اور عذاب دے منافق مَردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مَردوں اور مشرک عورتوں کو جو اللہ پر گمان رکھتے ہیں (ف۱۰) انہیں پر ہے بری گردش (ف۱۱) اور اللہ نے اُن پر غضب فرمایا اور انہیں لعنت کی اور ان کے لیے جہنم تیار فرمایا، اور وہ کیا ہی برا انجام ہے،
(۷) اور اللہ ہی کی ملک ہیں آسمانوں اور زمین کے سب لشکر، اور اللہ عزت و حکمت والا ہے،
(۸) بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر (ف۱۲) اور خوشی اور ڈر سناتا(ف۱۳)
(۹) تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بولو (ف۱۴ )
(۱۰) وہ جو تمہاری بیعت کرتے ہیں (ف۱۵) وہ تو اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں (ف۱۶) ان کے ہاتھوں پر (ف۱۷) اللہ کا ہاتھ ہے، تو جس نے عہد توڑا اس نے اپنے بڑے عہد کو توڑا (ف۱۸) اور جس نے پورا کیا وہ عہد جو اس نے اللہ سے کیا تھا تو بہت جلد اللہ اسے بڑا ثواب دے گا (ف۱۹)
(۱۱) اب تم سے کہیں گے جو گنوار (اعرابی) پیچھے رہ گئے تھے (ف۲۰) کہ ہمیں ہمارے مال اور ہمارے گھر والوں نے مشغول رکھا (ف۲۱) اب حضور ہماری مغفرت چاہیں (ف۲۲) اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں (ف۲۳) تم فرماؤ تو اللہ کے سامنے کسے تمہارا کچھ اختیار ہے اگر وہ تمہارا برا چاہے یا تمہاری بھلائی کا ارادہ فرمائے، بلکہ اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،
(۱۲) بلکہ تم تو یہ سمجھے ہوئے تھے کہ رسول اور مسلمان ہرگز گھروں کو واپس نہ آئیں گے (ف۲۴) اور اسی کو اپنے دلوں میں بھلا سمجھیں ہوئے تھے اور تم نے برا گمان کیا (ف۲۵) اور تم ہلاک ہونے والے لوگ تھے (ف۲۶)
(۱۳) اور جو ایمان نہ لائے اللہ اور اس کے رسول پر (ف۲۷) تو بیشک ہم نے کافروں کے لیے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے،
(۱۴) اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت، جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب کرے (ف۲۸) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
(۱۵) اب کہیں گے پیچھے بیٹھ رہنے والے (ف۲۹) جب تم غنیمتیں لینے چلو (ف۳۰) تو ہمیں بھی اپنے پیچھے آنے دو (ف۳۱) وہ چاہتے ہیں اللہ کا کلام بدل دیں (ف۳۲) تم فرماؤ ہرگز ہمارے ساتھ نہ آؤ اللہ نے پہلے سے یونہی فرمادیا (ف۳۳) تو اب کہیں گے بلکہ تم ہم سے جلتے ہو (ف۳۴) بلکہ وہ بات نہ سمجھتے تھے (ف۳۵) مگر تھوڑی (ف۳۶)
(۱۶) ان پیچھے رہ گئے ہوئے گنواروں سے فرماؤ (ف۳۷) عنقریب تم ایک سخت لڑائی والی قوم کی طرف بلائے جاؤ گے (ف۳۸) کہ ان سے لڑو یا وہ مسلمان ہوجائیں، پھر اگر تم فرمان مانو گے اللہ تمہیں اچھا ثواب دے گا،اور اگر پھر گے جیسے پہلے پھر گئے تو تمھیں درد ناک عذاب دے گا،
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 16-02-08, 07:21 AM   #39
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 28
مراسلات: 11,250
کمائي: 23,271,276
ميرا موڈ:
شکریہ: 5,007
2,462 مراسلہ میں 5,556 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: کنز الایمان ۔ ترجمہ قرآن۔ احمد رضا بریلوی

(۱۷) اندھے پر تنگی نہیں (ف۴۱) اور نہ لنگڑے پر مضائقہ اور نہ بیمار پر مواخذہ (ف۴۲) اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے اللہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں اور جو پھر جائے گا (ف۴۳) اسے دردناک عذاب فرمائے گا،
(۱۸) بیشک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے (ف۴۴) تو اللہ نے جانا جو ان کے دلوں میں ہے (ف۴۵) تو ان پر اطمینان اتارا اور انہیں جلد آنے والی فتح کا انعام دیا (ف۴۶)
(۱۹) اور بہت سی غنیمتیں (ف۴۷) جن کو لیں، اور اللہ عزت و حکمت والا ہے،
(۲۰) اور اللہ نے تم سے وعدہ کیا ہے بہت سی غنیمتوں کا کہ تم لو گے (ف۴۸) تو تمہیں یہ جلد عطا فرمادی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیے (ف۴۹) اور اس لیے کہ ایمان والوں کے لیے نشانی ہو (ف۵۰) اور تمہیں سیدھی راہ دکھائے (ف۵۱)
(۲۱) اور ایک اور (ف۵۲) جو تمہارے بل (بس) کی نہ تھی (ف۵۳) وہ اللہ کے قبضہ میں ہے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے،
(۲۲) اور اگر کافر تم سے لڑیں (ف۵۴) تو ضرور تمہارے مقابلہ سے پیٹھ پھیردیں گے (ف۵۵) پھر کوئی حمایتی نہ پائیں گے نہ مددگار،
(۲۳) اللہ کا دستور ہے کہ پہلے سے چلا آتا ہے (ف۵۶) اور ہرگز تم اللہ کا دستور بدلتا نہ پاؤ گے،
(۲۴) اور وہی ہے جس نے ان کے ہاتھ (ف۵۷) تم سے روک دیے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیے وادی مکہ میں (ف۵۸) بعد اس کے کہ تمہیں ان پر قابو دے دیا تھا، اور اللہ تمہارے کام دیکھتا ہے،
(۲۵) وہ (ف۵۹) وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجدِ حرام سے (ف۶۰) روکا اور قربانی کے جانور رُکے پڑے اپنی جگہ پہنچنے سے (ف۶۱) اور اگر یہ نہ ہوتا کچھ مسلمان مرد اور کچھ مسلمان عورتیں (ف۶۲) جن کی تمہیں خبر نہیں (ف۶۳) کہیں تم انہیں روند ڈالو (ف۶۴) تو تمہیں ان کی طرف سے انجانی میں کوئی مکروہ پہنچے تو ہم تمہیں ان کی قتال کی اجازت دیتے ان کا یہ بچاؤ اس لیے ہے کہ اللہ اپنی رحمت میں داخل کرے جسے چاہے، اگر وہ جدا ہوجاتے (ف۶۵) تو ہم ضرور ان میں کے کافروں کو دردناک عذاب دیتے (ف۶۶)
(۲۶) جبکہ کافروں نے اپنے دلوں میں اَڑ رکھی وہی زمانہٴ جاہلیت کی اَڑ (ضد) (ف۶۷) تو اللہ نے اپنا اطمینان اپنے رسول اور ایمان والوں پر اتارا (ف۶۸) اور پرہیزگاری کا کلمہ ان پر لازم فرمایا (ف۶۹) اور وہ اس کے زیادہ سزاوار اور اس کے اہل تھے (ف۷۰) اور اللہ سب کچھ جانتا ہے (ف۷۱)
(۲۷) بیشک اللہ نے سچ کردیا اپنے رسول کا سچا خواب (ف۷۲) بیشک تم ضرور مسجد حرام میں داخل ہوگے اگر اللہ چاہے امن و امان سے اپنے سروں کے (ف۷۳) بال منڈاتے یا (ف۷۴) ترشواتے بے خوف، تو اس نے جانا جو تمہیں معلوم نیں (ف۷۵) تو اس سے پہلے (ف۷۶) ایک نزدیک آنے والی فتح رکھی (ف۷۷)
(۲۸) وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے (ف۷۸) اور اللہ کافی ہے گواہ (ف۷۹)
(۲۹) محمد اللہ کے رسول ہیں، اور ان کے ساتھ والے (ف۸۰) کافروں پر سخت ہیں (ف۸۱) اور آپس میں نرم دل (ف۸۲) تو انہیں دیکھے گا رکوع کرتے سجدے میں گرتے (ف۸۳) اللہ کا فضل و رضا چاہتے ، ان کی علامت ان کے چہروں میں ہے سجدوں کے نشان سے (ف۸۴) یہ ان کی صفت توریت میں ہے، اور ان کی صفت انجیل میں (ف۸۵) جیسے ایک کھیتی اس نے اپنا پٹھا نکالا پھر اسے طاقت دی پھر دبیز ہوئی پھر اپنی ساق پر سیدھی کھڑی ہوئی کسانوں کو بھلی لگتی ہے (ف۸۶) تاکہ ان سے کافروں کے دل جلیں، اللہ نے وعدہ کیا ان سے جو ان میں ایمان اور اچھے کاموں والے ہیں (ف۸۷) بخشش اور بڑے ثواب کا،

۰۔پاره حم ۔۲۶
سورة الحجٰرات ۔۴۹

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا ہے (ف۱)

(۱) اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو (ف۲) اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سنتا جانتا ہے،
(۲) اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے (ف۳) اور ان کے حضور بات چلا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اَکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو (ف۴)
(۳) بیشک وہ جو اپنی آوازیں پست کرتے ہیں رسول اللہ کے پاس (ف۵) وہ ہیں جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے، ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے،
(۴) بیشک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں (ف۶)
(۵) اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم آپ ان کے پاس تشریف لاتے(ف۷) تو یہ ان کے لیے بہتر تھا، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۸)
(۶) اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو (ف۹) کہ کہیں کسی قوم کو بے جانے ایذا نہ دے بیٹھو پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہ جاؤ،
(۷) اور جان لو کہ تم میں اللہ کے رسول ہیں (ف۱۰) بہت معاملوں میں اگر یہ تمہاری خوشی کریں (ف۱۱) تو تم ضرور مشقت میں پڑو لیکن اللہ نے تمہیں ایمان پیارا کردیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ کردیا اور کفر اور حکم عدولی اور نافرمانی تمہیں ناگوار کر دی، ایسے ہی لوگ راہ پر ہیں (ف۱۲)
(۸) اللہ کا فضل اور احسان، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
(۹) اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو ان میں صلح کراؤ (ف۱۳) پھر اگر ایک دوسرے پر زیادتی کرے (ف۱۴) تو اس زیادتی والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے، پھر اگر پلٹ آئے تو انصاف کے ساتھ ان میں اصلاح کردو اور عدل کرو، بیشک عدل والے اللہ کو پیارے ہیں،
(۱۰) مسلمان مسلمان بھائی ہیں (ف۱۵) تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرو (ف۱۶) اور اللہ سے ڈرو کہ تم پر رحمت ہو (ف۱۷)
(۱۱) اے ایمان والو نہ مَرد مَردوں سے ہنسیں (ف۱۸) عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں (ف۱۹) اور نہ عورتیں عورتوں سے، دور نہیں کہ وہ ان ہنسے والیوں سے بہتر ہوں(ف۲۰) اور آپس میں طعنہ نہ کرو (ف۲۱) اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو (ف۲۲) کیا ہی برا نام ہے مسلمان ہوکر فاسق کہلانا (ف۲۳) اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں،
(۱۲) اے ایمان والو بہت گمانوں سے بچو (۲۴) بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے (ف۲۵) اور عیب نہ ڈھونڈھو (ف۲۶) اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو (ف۲۷) کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں گوارا نہ ہوگا (ف۲۸) اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے،
(۱۳) اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد (ف۲۹) اورایک عورت (ف۳۰) سے پیدا کیا (ف۳۱) اور تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو (ف۳۲) بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگارہے (ف۳۳) بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے،
(۱۴) گنوار بولے ہم ایمان لائے (ف۳۴) تم فرماؤ تم ایمان تو نہ لائے (ف۳۵) ہاں یوں کہوں کہ ہم مطیع ہوئے (ف۳۶) اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں کہاں داخل ہوا (ف۳۷) اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو گے (ف۳۸) تو تمہارے کسی عمل کا تمہیں نقصان نہ دے گا (ف۳۹) بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
(۱۵) ایمان والے تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک نہ کیا (ف۴۰) اور اپنی جان اور مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا وہی سچے ہیں (ف۴۱)
(۱۶) تم فرماؤ کیا تم اللہ کو اپنا دین بتاتے ہو، اور اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے (ف۴۲) اور اللہ سب کچھ جانتا ہے (ف۴۳)
(۱۷) اے محبوب وہ تم پر احسان جتاتے ہیں کہ مسلمان ہوگئے، تم فرماؤ اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ رکھو بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں اسلام کی ہدایت کی اگر تم سچے ہو (ف۴۴)
(۱۸) بیشک اللہ جانتا ہے آسمانوں اور زمین کے سب غیب، اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے (ف۴۵)

۰۔پاره حم ۔۲۶
سورة ق ۔۵۰

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ف۱)

(۱) عزت والے قرآن کی قسم (ف۲)
(۲) بلکہ انھیں اس کا اچنبھا ہوا کہ ان کے پاس انہی میں کا ایک ڈر سنانے والا تشریف لایا (ف۳) تو کافر بولے یہ تو عجیب بات ہے،
(۳) کیا جب ہم مرجائیں اور مٹی ہوجائیں گے پھر جیئں گے یہ پلٹنا دور ہے (ف۴)
(۴) ہم جانتے ہیں جو کچھ زمین ان میں سے گھٹاتی ہے (ف۵) اور ہمارے پاس ایک یاد رکھنے والی کتاب ہے (ف۶) (۵) بلکہ انہوں نے حق کو جھٹلایا (ف۷) جب وہ ان کے پاس آیا تو وہ ایک مضطرب بے ثبات بات میں ہیں (ف۸) (۶) تو کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہ دیکھا (ف۹) ہم نے اسے کیسے بنایا (ف۱۰) اور سنوارا (ف۱۱) اور اس میں کہیں رخنہ نہیں (ف۱۲)
(۷) اور زمین کو ہم نے پھیلایا (ف۱۳) اور اس میں لنگر ڈالے (بھاری وزن رکھے) (ف۹۱۴ اور اس میں ہر بارونق جوڑا اُگایا ،
(۸) سوجھ اور سمجھ (ف۱۵) ہر رجوع والے بندے کے لیے (ف۱۶)
(۹) اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی اتارا (ف۱۷) تو اس سے باغ اُگائے اور اناج کہ کاٹا جاتا ہے (ف۱۸)
(۱۰) اور کھجور کے لمبے درخت جن کا پکا گابھا،
(۱۱) بندووں کی روزی کے لیے اور ہم نے اس (ف۱۹) سے مردہ شہر جِلایا (ف۲۰) یونہی قبروں سے تمہارا نکلنا ہے (ف۲۱)
(۱۲) ان سے پہلے جھٹلایا (ف۲۲) نوح کی قوم اور رس والوں (ف۲۳) اور ثمود
(۱۳) اور عاد اور فرعون اور لوط کے ہم قوموں
(۱۴) اور بَن والوں اور تبع کی قوم نے (ف۲۴) ان میں ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا تو میرے عذاب کا وعدہ ثابت ہوگیا (ف۲۵)
(۱۵) تو کیا ہم پہلی بار بناکر تھک گئے (ف۲۶) بلکہ وہ نئے بننے سے (ف۲۷) شبہ میں ہیں،
(۱۶) اور بیشک ہم نے آدمی کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں جو وسوسہ اس کا نفس ڈالتا ہے (ف۲۸) اور ہم دل کی رگ سے بھی اس سے زیادہ نزدیک ہیں (ف۲۹)
(۱۷) اور جب اس سے لیتے ہیں دو لینے والے (ف۳۰) ایک داہنے بیٹھا اور ایک بائیں (ف۳۱)
(۱۸) کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو (ف۳۲)
(۱۹) اور آئی موت کی سختی (ف۳۳) حق کے ساتھ (ف۳۴) یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا،
(۲۰) اور صُور پھونکا گیا (ف۳۵) یہ ہے وعدہٴ عذاب کا دن (ف۳۶)
(۲۱) اور ہر جان یوں حاضر ہوئی کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا (ف۳۷) اور ایک گواہ (ف۳۸)
(۲۲) بیشک تو اس سے غفلت میں تھا (ف۳۹) تو ہم نے تجھ پر سے پردہ اٹھایا (ف۴۰) تو آج تیری نگاہ تیز ہے (ف۴۱)
(۲۳) اور اس کا ہمنشین فرشتہ (ف۴۲) بولا یہ ہے (ف۴۳) جو میرے پاس حاضر ہے،
(۲۴) حکم ہوگا تم دونوں جہنم میں ڈال دو ہر بڑے ناشکرے ہٹ دھرم کو،
(۲۵) جو بھلائی سے بہت روکنے والا حد سے بڑھنے والا شک کرنے والا (ف۴۴)
(۲۶) جس نے اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ٹھہرایا تم دونوں اسے سخت عذاب میں ڈالو،
(۲۷) اس کے ساتھی شیطان نے کہا (ف۴۵) ہمارے رب میں نے اسے سرکش نہ کیا (ف۴۶) ہاں یہ آپ ہی دور کی گمراہی میں تھا (ف۴۷)
(۲۸) فرمائے گا میرے پاس نہ جھگڑو (ف۴۸) میں تمہیں پہلے ہی عذاب کا ڈر سنا چکا تھا (ف۴۹)
(۲۹) میرے یہاں بات بدلتی نہیں اور نہ میں بندوں پر ظلم کروں،
(۳۰) جس دن ہم جہنم سے فرمائیں گے کیا تو بھر گئی (ف۵۰) وہ عرض کرے گی کچھ اور زیادہ ہے (ف۵۱)
(۳۱) اور پاس لائی جائے گی جنت پرہیزگاروں کے کہ ان سے دور نہ ہوگی (ف۵۲)
(۳۲) یہ ہے وہ جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (ف۵۳) ہر رجوع لانے والے نگہداشت والے کے لیے (ف۵۴)
(۳۳) جو رحمن سے بے دیکھے ڈرتا ہے اور رجوع کرتا ہوا دل لایا (ف۵۵)
(۳۴) ان سے فرمایا جائے گا جنت میں جاؤ سلامتی کے ساتھ (ف۵۶) یہ ہمیشگی کا دن ہے (ف۵۷)
(۳۵) ان کے لیے ہے اس میں جو چاہیں اور ہمارے پاس اس سے بھی زیادہ ہے (ف۵۸)
(۳۶) اور ان سے پہلے (ف۵۹) ہم نے کتنی سنگتیں (قومیں) ہلاک فرمادیں کہ گرفت میں ان سے سخت تھیں (ف۶۰) تو شہروں میں کاوشیں کیں (ف۶۱) ہے کہیں بھاگنے کی جگہ (ف۶۲)
(۳۷) بیشک اس میں نصیحت ہے اس کے لیے جو دِل رکھتا ہو (ف۶۳) یا کان لگائے (ف۶۴) اور متوجہ ہو،
(۳۸) اور بیشک ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنایا، اور تکان ہمارے پاس نہ آئی (ف۶۵)
(۳۹) تو ان کی باتوں پر صبر کرو اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو سورج چمکنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے (ف۶۶)
(۴۰) اور کچھ رات گئے اس کی تسبیح کرو (ف۶۷) اور نمازوں کے بعد (ف۶۸)
(۴۱) اور کان لگا کر سنو جس دن پکارنے والا پکارے گا (ف۶۹) ایک پاس جگہ سے (ف۷۰)
(۴۲) جس دن چنگھاڑ سنیں گے (ف۷۱) حق کے ساتھ، یہ دن ہے قبروں سے باہر آنے کا،
(۴۳) بیشک ہم جِلائیں اور ہم ماریں اور ہماری طرف پھرنا ہے (ف۷۲)
(۴۴) جس دن زمین ان سے پھٹے گی تو جلدی کرتے ہوئے نکلیں گے (ف۷۳) یہ حشر ہے ہم کو آسان،
(۴۵) ہم خوب جان رہے ہیں جو وہ کہہ رہے ہیں (ف۷۴) اور کچھ تم ان پر جبر کرنے والے نہیں (ف۷۵) تو قرآن سے نصیحت کرو اسے جو میری دھمکی سے ڈرے،
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 16-02-08, 07:22 AM   #40
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 28
مراسلات: 11,250
کمائي: 23,271,276
ميرا موڈ:
شکریہ: 5,007
2,462 مراسلہ میں 5,556 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: کنز الایمان ۔ ترجمہ قرآن۔ احمد رضا بریلوی

پاره حم ۔۲۶
سورة الذٰریٰت ۔۵۱

اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱)قسم ان کی جو بکھیر کر اڑانے والیاں (ف۲)
(۲) پھر بوجھ اٹھانے والیاں (ف۳)
(۳) پھر نرم چلنے والیاں (ف۴)
(۴) پھر حکم سے بانٹنے والیاں (ف۵)
(۵) بیشک جس بات کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے (ف۶) ضروری سچ ہے،
(۶) اور بیشک انصاف ضرور ہونا (ف۷)
(۷) آرائش والے آسمان کی قسم (ف۸)
(۸) تم مختلف بات میں ہو (ف۹)
(۹) اس قرآن سے وہی اوندھا کیا جاتا ہے جس کی قسمت ہی میں اوندھایا جانا ہو (ف۱۰)
(۱۰) مارے جایں دل سے تراشنے والے
(۱۱) جو نشے میں بھولے ہوئے ہیں (ف۱۱)
(۱۲) پوچھتے ہیں (ف۱۲) انصاف کا دن کب ہوگا (ف۱۳)
(۱۳) اس دن ہوگا جس دن وہ آگ پر تپائے جائیں گے (ف۱۴)
(۱۴) اور فرمایا جائے گا چکھو اپنا تپنا، یہ ہے وہ جس کی تمہیں جلدی تھی (ف۱۵)
(۱۵) بیشک پرہیزگار باغوں اور چشموں میں ہیں (ف۱۶)
(۱۶) اپنے رب کی عطائیں لیتے ہوئے، بیشک وہ اس سے پہلے (ف۱۷) نیکو کار تھے،
(۱۷) وہ رات میں کم سویا کرتے (ف۱۸)
(۱۸) اور پچھلی رات استغفار کرتے (ف۱۹)
(۱۹) اور ان کے مالوں میں حق تھا منگتا اور بے نصیب کا (ف۲۰)
(۲۰) اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین والوں کو (ف۲۱)
(۲۱) اور خود تم میں (ف۲۲) تو کیا تمہیں سوجھتا نہیں،
(۲۲) اور آسمان میں تمہارا رزق ہے (ف۲۳) اور جو تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے (ف۲۴)
(۲۳) تو آسمان اور زمین کے رب کی قسم بیشک یہ قرآن حق ہے ویسی ہی زبان میں جو تم بولتے ہو،
(۲۴) اے محبوب! کیا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر آئی (ف۲۵)
(۲۵) جب وہ اس کے پاس آکر بولے سلام کہا، سلام ناشناسا لوگ ہیں (ف۲۶)
(۲۶) پھر اپنے گھر گیا تو ایک فربہ بچھڑا لے آیا (ف۲۷)
(۲۷ ) پھر اسے ان کے پاس رکھا (ف۲۸) کہا کیا تم کھاتے نہیں،
(۲۸) تو اپنے جی میں ان سے ڈرنے لگا (ف۲۹) وہ بولے ڈریے نہیں (ف۳۰) اور اسے ایک علم والے لڑکے کی بشارت دی،
(۲۹) اس پر اس کی بی بی (ف۳۱) چلاتی آئی پھر اپنا ماتھا ٹھونکا اور بولی کیا بڑھیا بانجھ (ف۳۲)
(۳۰) انہوں نے کہا تمہارے رب نے یونہی فرمادیا، اور وہی حکیم دانا ہے،
(۳۱) ابراہیم نے فرمایا تو اے فرشتو! تم کس کام سے آئے (ف۳۳)
(۳۲) بولے ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں (ف۳۴)
(۳۳) کہ ان پر گارے کے بنائے ہوئے پتھر چھوڑیں،
(۳۴) جو تمہارے رب کے پاس حد سے بڑھنے والوں کے لیے نشان کیے رکھے ہیں (ف۳۵)
(۳۵) تو ہم نے اس شہر میں جو ایمان والے تھے نکال لیے،
(۳۶) تو ہم نے وہاں ایک ہی گھر مسلمان پایا (ف۳۶)
(۳۷) اور ہم نے اس میں (ف۳۷) نشانی باقی رکھی ان کے لیے جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں (ف۳۸)
(۳۸) اور موسیٰ میں (ف۳۹) جب ہم نے اسے روشن سند لے کر فرعون کے پاس بھیجا (ف۴۰)
(۳۹) تو اپنے لشکر سمیت پھر گیا (ف۴۱) اورت بولا جادوگر ہے یا دیوانہ،
(۴۰) تو ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں ڈال دیا اس حال میں کہ وہ اپنے آپ کو ملامت کررہا تھا (ف۴۲)
(۴۱) اور عاد میں (ف۴۳) جب ہم نے ان پر خشک آندھی بھیجی (ف۴۴)
(۴۲) جس چیز پر گزرتی اسے گلی ہوئی چیز کی طرح چھوڑتی (ف۴۵)
(۴۳) اور ثمود میں (ف۴۶) جب ان سے فرمایا گیا ایک وقت تک برت لو (ف۴۷)
(۴۴) تو انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی (ف۴۸) تو ان کی آنکھوں کے سامنے انہیں کڑک نے آلیا (ف۴۹)
(۴۵) تو وہ نہ کھڑے ہوسکے (ف۵۰) اور نہ وہ بدلہ لے سکتے تھے،
(۴۶) اور ان سے پہلے قوم نوح کو ہلاک فرمایا، بیشک وہ فاسق لوگ تھے،
(۴۷) اور آسمان کو ہم نے ہاتھوں سے بنایا (ف۵۱) اور بیشک ہم وسعت دینے والے ہیں (ف۵۲)
(۴۸) اور زمین کو ہم نے فرش کیا تو ہم کیا ہی اچھے بچھالے والے،
(۴۹) اور ہم نے ہر چیز کے دو جوڑ بنائے (ف۵۳) کہ تم دھیان کرو (ف۵۴)
(۵۰) تو اللہ کی طرف بھاگو (ف۵۵) بیشک میں اس کی طرف سے تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں،
(۵۱) اور اللہ کے ساتھ اور معبود نہ ٹھہراؤ، بیشک میں اس کی طرف سے تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں،
(۵۲) یونہی (ف۵۶) جب ان سے اگلوں کے پاس کوئی رسول تشریف لایا تو یہی بولے کہ جادوگر ہے یا دیوانہ،
(۵۳) کیا آپس میں ایک دوسرے کو یہ بات کہہ مرے ہیں بلکہ وہ سرکش لوگ ہیں (ف۵۷)
(۵۴) تو اے محبوب! تم ان سے منہ پھیر لو تو تم پر کچھ الزام نہیں (ف۵۸)
(۵۵) اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے،
(۵۶) اور میں نے جن اور آدمی اتنے ہی لیے بنائے کہ میری بندگی کریں (ف۵۹)
(۵۷) میں ان سے کچھ رزق نہیں مانگتا (ف۶۰) اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا دیں (ف۶۱)
(۵۸) بیشک اللہ ہی بڑا رزق دینے والا قوت والا قدرت والا ہے (ف۶۲)
(۵۹) تو بیشک ان ظالموں کے لیے (ف۶۳) عذاب کی ایک باری ہے (ف۶۴) جیسے ان کے ساتھ والوں کے لیے ایک باری تھی (ف۶۵) تو مجھ سے جلدی نہ کریں (ف۶۶)
(۶۰) تو کافروں کی خرابی ہے ان کے اس دن سے جس کا وعدہ دیے جاتے ہیں (ف۶۷)

سورة الطور ۔ ۵۲

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) طور کی قسم (ف۲)
(۲) اور اس نوشتہ کی (ف۳)
(۳) جو کھلے دفتر میں لکھا ہے
(۴) اور بیت معمور (ف۴)
(۵) اور بلند چھت (ف۵)
(۶) اور سلگائے ہوئے سمندر کی (ف۶)
(۷) بیشک تیرے رب کا عذاب ضرور ہونا ہے (ف۷)
(۸) اسے کوئی ٹالنے والا نہیں
(۹) جس دن آسمان ہلنا سا ہلنا ہلیں گے (ف۸)
(۱۰) اور پہاڑ چلنا سا چلنا چلیں گے (ف۹)
(۱۱) تو اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے (ف۱۰)
(۱۲) وہ جو مشغلہ میں (ف۱۱) کھیل رہے ہیں،
(۱۳) جس دن جہنم کی طرف دھکا دے کر دھکیلے جائیں گے (ف۱۲)
(۱۴) یہ ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے تھے (ف۱۳)
(۱۵) تو کیا یہ جادو ہے یا تمہیں سوجھتا نہیں (ف۱۴)
(۱۶) اس میں جاؤ اب چاہے صبر کرو یا نہ کرو، سب تم پر ایک سا ہے (ف۱۵) تمہیں اسی کا بدلہ جو تم کرتے تھے (ف۱۶)
(۱۷) بیشک پرہیزگار باغوں اور چین میں ہیں
(۱۸) اپنے رب کے دین پر شاد شاد (ف۱۷) اور انہیں ان کے رب نے آگ کے عذاب سے بچالیا (ف۱۸)
(۱۹) کھاؤ اور پیو خوشگواری سے صِلہ اپنے اعمال کا (ف۱۹)
(۲۰) تختوں پر تکیہ لگائے جو قطار لگا کر بچھے ہیں اور ہم نے انہیں بیاہ دیا بڑی آنکھوں والی حوروں سے،
(۲۱) اور جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی ہم نے ان کی اولاد ان سے ملادی (ف۲۰) اور ان کے عمل میں انہیں کچھ کمی نہ دی (ف۲۱) سب آدمی اپنے کیے میں گرفتار ہیں (ف۲۲)
(۲۲) اور ہم نے ان کی مدد فرمائی میوے اور گوشت سے جو چاہیں (ف۲۳)
(۲۳) ایک دوسرے سے لیتے ہیں وہ جام جس میں نہ بیہودگی اور گنہگاری (ف۲۴)
(۲۴) اور ان کے خدمت گار لڑکے ان کے گرد پھریں گے (ف۲۵) گویا وہ موتی ہیں چھپا کر رکھے گئے (ف۲۶)
(۲۵) اور ان میں ایک نے دوسرے کی طرف منہ کیا پوچھتے ہوئے (ف۲۷)
(۲۶) بولے بیشک ہم اس سے پہلے اپنے گھروں میں سہمے ہوئے تھے (ف۲۸)
(۲۷) تو اللہ نے ہم پر احسان کیا (ف۲۹) اور ہمیں لُو کے عذاب سے بچالیا (ف۳۰)
(۲۸) بیشک ہم نے اپنی پہلی زندگی میں (ف۳۱) اس کی عبادت کی تھی ، بیشک وہی احسان فرمانے والا مہربان ہے،
(۲۹) تو اے محبوب! تم نصیحت فرماؤ (ف۳۲) کہ تم اپنے رب کے فضل سے نہ کاہن ہو نہ مجنون،
(۳۰) یا کہتے ہیں (ف۳۳) یہ شاعر ہیں ہمیں ان پر حوادثِ زمانہ کا انتظارہے (ف۳۴)
(۳۱) تم فرماؤ انتظار کیے جاؤ (ف۳۵) میں بھی تمہارے انتظار میں ہوں (ف۳۶)
(۳۲) کیا ان کی عقلیں انہیں یہی بتاتی ہیں (ف۳۷) یا وہ سرکش لوگ ہیں (ف۳۸)
(۳۳) یا کہتے ہیں انہوں نے (ف۳۹) یہ قرآن بنالیا، بلکہ وہ ایمان نہیں رکھتے (ف۴۰)
(۳۴) تو اس جیسی ایک بات تو لے آئیں (ف۴۱) اگر سچے ہیں،
(۳۵) کیا وہ کسی اصل سے نہ بنائے گئے (ف۴۲) یا وہی بنانے والے ہیں (ف۴۳)
(۳۶) یا آسمان اور زمین انہوں نے پیدا کیے (ف۴۴) بلکہ انہیں یقین نہیں (ف۴۵)
(۳۷) یا ان کے پاس تمہارے رب کے خزانے ہیں (ف۴۶) یا وہ کڑوڑے (حاکمِ اعلیٰ) ہیں (ف۴۷)
(۳۸) یا ان کے پاس کوئی زینہ ہے (ف۴۸) جس میں چڑھ کر سن لیتے ہیں (ف۴۹) تو ان کا سننے والا کوئی روشن سند لائے،
(۳۹) کیا اس کو بیٹیاں اور تم کو بیٹے (ف۵۰)
(۴۰) یا تم ان سے (ف۵۱) کچھ اجرت مانگتے ہہو تو وہ چٹی کے بوجھ میں دبے ہیں (ف۵۲)
(۴۱) یا ان کے پاس غیب ہیں جس سے وہ حکم لگاتے ہیں (ف۵۳)
(۴۲) یا کسی داؤ ں(فریب) کے ارادہ میں ہیں (ف۵۴) تو کافروں پر ہی داؤں (فریب) پڑنا ہے (ف۵۵)
(۴۳) یا اللہ کے سوا ان کا کوئی اور خدا ہے (ف۵۶) اللہ کو پاکی ان کے شرک سے،
(۴۴) اور اگر آسمان سے کوئی ٹکڑا گرتا دیکھیں تو کہیں گے تہ بہ تہ بادل ہے (ف۵۷)
(۴۵) تو تم انہیں چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن سے ملیں جس میں بے ہوش ہوں گے (ف۵۸)
(۴۶) جس دن ان کا داؤ ں(فریب) کچھ کام نہ دے گا اور نہ ان کی مدد ہو (ف۵۹)
(۴۷) اور بیشک ظالموں کے لیے اس سے پہلے ایک عذاب ہے (ف۶۰) مگر ان میں اکثر کو خبر نہیں (ف۶۱)
(۴۸) اور اے محبوب! تم اپنے رب کے حکم پر ٹھہرے رہو (ف۶۲) کہ بیشک تم ہماری نگہداشت میں ہو (ف۶۳) اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو جب تم کھڑے ہو (ف۶۴)
(۴۹) اور کچھ رات میں اس کی پاکی بولو اور تاروں کے پیٹھ دیتے (ف۶۵)


سورة النجم ۔۵۳

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) اس پیارے چمکتے تارے محمد کی قسم! جب یہ معراج سے اترے (ف۲)
(۲) تمہارے صاحب نہ بہکے نہ بے راہ چلے (ف۳)
(۳) اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے،
(۴) وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں کی جاتی ہے (ف۴)
(۵) انہیں (ف۵) سکھایا (ف۶) سخت قوتوں والے طاقتور نے (ف۷)
(۶) پھر اس جلوہ نے قصد فرمایا (ف۸)
(۷) اور وہ آسمان بریں کے سب سے بلند کنارہ پر تھا (ف۹)
(۸) پھر وہ جلوہ نزدیک ہوا (ف۱۰) پھر خوب اتر آیا (ف۱۱)
(۹) تو اس جلوے اور اس محبوب میں دو ہاتھ کا فاصلہ رہا بلکہ اس سے بھی کم (ف۱۲)
(۱۰) اب وحی فرمائی اپنے بندے کو جو وحی فرمائی (ف۱۳)
(۱۱) دل نے جھوٹ نہ کہا جو دیکھا (ف۱۴)
(۱۲) تو کیا تم ان سے ان کے دیکھے ہوئے پر جھگڑ تے ہو (ف۱۵)
(۱۳) اور انہوں نے تو وہ جلوہ دوبار دیکھا (ف۱۶)
(۱۴) سدرة المنتہیٰ کے پاس (ف۱۷)
(۱۵) اس کے پاس جنت الماویٰ ہے،
(۱۶) جب سدرہ پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا (ف۱۸)
(۱۷) آنکھ نہ کسی طرف پھر نہ حد سے بڑھی (ف۱۹)
(۱۸) بیشک اپنے رب کی بہت بڑی نشانیاں دیکھیں (ف۲۰)
(۱۹) تو کیا تم نے دیکھ ا لات اور عزیٰ
(۲۰) اور اس تیسری منات کو (ف۲۱)
(۲۱) کیا تم کو بیٹا اور اس کو بیٹی (ف۲۲)
(۲۲) جب تو یہ سخت بھونڈی تقسیم ہے (ف۲۳)
(۲۳) وہ تو نہیں مگر کچھ نام کہ تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں (ف۲۴) اللہ نے ان کی کوئی سند نہیں اتاری، وہ تو نرے گمان اور نفس کی خواہشوں کے پیچھے ہیں (ف۲۵) حالانکہ بیشک ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت آئی (ف۲۶)
(۲۴) کیا آدمی کو مل جائے گا جو کچھ وہ خیال باندھے (ف۲۷)
(۲۵) تو آخرت اور دنیا سب کا مالک اللہ ہی ہے (ف۲۸)
(۲۶) اور کتنے ہی فرشتے ہیں آسمانوں میں کہ ان کی سفارش کچھ کام نہیں آتی مگر جبکہ اللہ اجازت دے دے جس کے لیے چاہے اور پسند فرمائے (ف۲۹)
(۲۷) بیشک وہ جو آخرت پر ایمان رکھتے نہیں (ف۳۰) ملائکہ کا نام عورتوں کا سا رکھتے ہیں (ف۳۱)
(۲۸) اور انہیں اس کی کچھ خبر نہیں، وہ تو نرے گمان کے پیچھے ہیں، اور بیشک گمان یقین کی جگہ کچھ کام نہیں دیتا (ف۳۲)
(۲۹) تو تم اس سے منہ پھیر لو، جو ہماری یاد سے پھرا (ف۳۳) اور اس نے نہ چاہی مگر دنیا کی زندگی (ف۳۴)
(۳۰) یہاں تک ان کے علم کی پہنچ ہے (ف۳۵) بیشک تمہارا خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے جس نے راہ پائی،
(۳۱) اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں تاکہ برائی کرنے والوں کو ان کے کیے کا بدلہ دے اور نیکی کرنے والوں کو نہایت اچھا صلہ عطا فرمائے،
(۳۲) وہ جو بڑے گناہوں اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں (ف۳۶) مگر اتنا کہ گناہ کے پاس گئے اور رک گئے (ف۳۷) بیشک تمہارے رب کی مغفرت وسیع ہے، وہ تمہیں خوب جانتا ہے (ف۳۸) تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں حمل تھے، تو آپ اپنی جانوں کو ستھرا نہ بتاؤ (ف۳۹) وہ خوب جانتا ہے جو پرہیزگار ہیں (ف۴۰)
(۳۳) تو کیا تم نے دیکھا جو پھر گیا (ف۴۱)
(۳۴) اور کچھ تھوڑا سا دیا اور روک رکھا (ف۴۲)
(۳۵) کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے تو وہ دیکھ رہا ہے (ف۴۳)
(۳۶) کیا اسے اس کی خبر نہ آئی جو صحیفوں میں ہے موسیٰ کے (ف۴۴)
(۳۷) اور ابراہیم کے جو پورے احکام بجالایا (ف۴۵)
(۳۸) کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہیں اٹھاتی (ف۴۶)
(۳۹) اور یہ کہ آدمی نہ پاے گا مگر اپنی کوشش (ف۴۷)
(۴۰) اور یہ کہ اس کی کو شش عنقر یب دیکھی جاے گی (ف۴۸)
(۴۱) پھر اس کا بھرپور بدلا دیا جائے گا
(۴۲) اور یہ کہ بیشک تمہارے رب ہی کی طرف انتہا ہے (ف۴۹)
(۴۳) اور یہ کہ وہی ہے جس نے ہنسایا اور رلایا (ف۵۰)
(۴۴) اور یہ کہ وہی ہے جس نے مارا اور جِلایا (ف۵۱)
(۴۵) اور یہ کہ اسی نے دو جوڑے بنائے نر اور مادہ
(۴۶) نطفہ سے جب ڈالا جائے (ف۵۲)
(۴۷) اور یہ کہ اسی کے ذمہ ہے پچھلا اٹھانا (دوبارہ زندہ کرنا) (ف۵۳)
(۴۸) اور یہ کہ اسی نے غنیٰ دی اور قناعت دی
(۴۹) او ریہ کہ وہی ستارہ شِعریٰ کا رب ہے (ف۵۴)
(۵۰) اور یہ کہ اسی نے پہلی عاد کو ہلاک فرمایا (ف۵۵)
(۵۱) اور ثمود کو (ف۵۶) تو کوئی باقی نہ چھوڑا
(۵۲) اور ان سے پہلے نوح کی قوم کو (ف۵۷) بیشک وہ ان سے بھی ظالم اور سرکش تھے (ف۵۸)
(۵۳) اور اس نے الٹنے والی بستی کو نیچے گرایا (ف۵۹)
(۵۴) تو اس پر چھایا جو کچھ چھایا (ف۶۰)
(۵۵) تو اے سننے والے اپنے رب کی کون سی نعمتوں میں شک کرے گا،
(۵۶) یہ (ف۶۱) ایک ڈر سنانے والے ہیں اگلے ڈرانے والوں کی طرح (ف۶۲)
(۵۷) پاس آئی پاس آنے والی (ف۶۳)
(۵۸) اللہ کے سوا اس کا کوئی کھولنے والا نہیں (ف۶۴)
(۵۹) تو کیا اس بات سے تم تعجب کرتے ہو (ف۶۵)
(۶۰) اور ہنستے ہو اور روتے نہیں (ف۶۶)
(۶۱) اور تم کھیل میں پڑے ہو،
(۶۲) تو اللہ کے لیے سجدہ اور اس کی بندگی کرو (ف۶۷)


سورة القمر ۔۵۴

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

پاس آئی قيامت اور (ف۲) شق ہوگیا چاند (ف۳)
(۲) اور اگر دیکھیں (ف۴) کوئی نشانی تو منہ پھیرتے (ف۵) اور کہتے ہیں یہ تو جادو ہے چلا آتا،
(۳) اور انہوں نے جھٹلایا (ف۶) اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے (ف۷) اور ہر کام قرار پاچکا ہے (ف۸)
(۴) اور بیشک ان کے پاس وہ خبریں آئیں (ف۹) جن میں کافی روک تھی (ف۱۰)
(۵) انتہاء کو پہنچی ہوئی حکمت پھر کیا کام دیں ڈر سنانے والے،
(۶) تو تم ان سے منہ پھیرلو (ف۱۱) جس دن بلانے والا (ف۱۲) ایک سخت بے پہچانی بات کی طرف بلائے گا (ف۱۳)
(۷) نیچی آنکھیں کیے ہوئے قبروں سے نکلیں گے گویا وہ ٹڈی ہیں پھیلی ہوئی (ف۱۴)
(۸) بلانے والے کی طرف لپکتے ہوئے (ف۱۵) کافر کہیں گے یہ دن سخت ہے،
(۹) ان سے (ف۱۶) پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا تو ہمارے بندہ (ف۱۷) کو جھوٹا بتایا اور بولے وہ مجنون ہے اور اسے جھڑکا (ف۱۸)
(۱۰) تو اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں مغلوب ہوں تو میرا بدلہ لے،
(۱۱) تو ہم نے آسمان کے دروازے کھول دیے زور کے بہتے پانی سے (ف۱۹)
(۱۲) اور زمین چشمے کرکے بہا دی (ف۲۰) تو دونوں پانی (ف۲۱) مل گئے اس مقدار پر جو مقدر تھی (ف۲۲)
(۱۳) اور ہم نے نوح کو سوار کیا (ف۲۳) تختوں اور کیلوں والی پر کہ
(۱۴) ہماری نگاہ کے روبرو بہتی (ف۲۴) اس کے صلہ میں (ف۲۵) جس کے ساتھ کفر کیا گیا تھا،
(۱۵) اور ہم نے اس (ف۲۶) نشانی چھوڑا تو ہے کوئی دھیان کرنے والا (ف۲۷)
(۱۶) تو کیسا ہوا میرا عذاب اور میری دھمکیاں،
(۱۷) اور بیشک ہم نے قرآن یاد کرنے کے لیے آسان فرمادیا تو ہے کوئی یاد کرنے والا (ف۲۸)
(۱۸) عاد نے جھٹلایا (ف۲۹) تو کیسا ہوا میرا عذاب اور میرے ڈر دلانے کے فرمان (ف۳۰)
(۱۹) بیشک ہم نے ان پر ایک سخت آندھی بھیجی (ف۳۱) ایسے دن میں جس کی نحوست ان پر ہمیشہ کے لیے رہی (ف۳۲)
(۲۰) لوگوں کو یوں دے مارتی تھی کہ گویا اکھڑی ہوئی کھجوروں کے ڈنڈ (سوکھے تنے) ہیں
(۲۱) تو کیا کیسا ہوا میرا عذاب اور ڈر کے فرمان،
(۲۲) اور بیشک ہم نے آسان کیا قرآن یاد کرنے کے لیے تو ہے کوئی یاد کرنے والا،
(۲۳) ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا (ف۳۳)
(۲۴) تو بولے کیا ہم اپنے میں کے ایک آدمی کی تابعداری کریں (ف۳۴) جب تو ہم ضرور گمراہ اور دیوانے ہیں (ف۳۵)
(۲۵) کیا ہم سب میں سے اس پر (ف۳۶) بلکہ یہ سخت جھوٹا اترونا (شیخی باز) ہے (ف۳۸)
(۲۶) بہت جلد کل جان جائیں گے (ف۳۹) کون تھا بڑا جھوٹا اترونا (شیخی باز)
(۲۷) ہم ناقہ بھیجنے والے ہیں انکی جانچ کو (ف۴۰) تو اے صا لح! تو راہ دیکھ (ف۴۱) اور صبر کر (ف۴۲)
(۲۸) اور انہیں خبر دے دے کہ پانی ان میں حصوں سے ہے (ف۴۳) ہر حصہ پر وہ حاضر ہو جس کی باری ہے (ف۴۴)
(۲۹) تو انہوں نے اپنے ساتھی کو (ف۴۵) پکارا تو اس نے (ف۴۶) لے کر اس کی کونچیں کاٹ دیں (ف۴۷) (۳۰) پھر کیسا ہوا میرا عذاب اور ڈر کے فرمان (ف۴۸)
(۳۱) بیشک ہم نے ان پر ایک چنگھاڑ بھیجی (ف۴۹) جبھی وہ ہوگئے جیسے گھیرا بنانے والے کی بچی ہوئی گھاس سوکھی روندی ہوئی (ف۵۰)
(۳۲) اور بیشک ہم نے آسان کیا قرآن یاد کرنے کے لیے تو ہے کوئی یاد کرنے والا،
(۳۳) لوط کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا،
(۳۴) بیشک ہم نے ان پر (ف۵۱) پتھراؤ بھیجا (ف۵۲) سوائے لو ط کے گھر والوں کے (ف۵۳) ہم نے انہیں پچھلے پہر (ف۵۴) بچالیا،
(۳۵) اپنے پاس کی نعمت فرماکر، ہم یونہی صلہ دیتے ہیں اسے جو شکر کرے (ف۵۵)
(۳۶) اور بیشک اس نے (ف۵۶) انہیں ہماری گرفت سے (ف۵۷) ڈرایا تو انہوں نے ڈر کے فرمانوں میں شک کیا (ف۵۸)
(۳۷) انہوں نے اسے اس کے مہمانوں سے پھسلانا چاہا (ف۵۹) تو ہم نے ان کی آنکھیں میٹ دی (چوپٹ کردیں) (ف۶۰) فرمایا چکھو میرا عذاب اور ڈر کے فرمان (ف۶۱)
(۳۸) اور بیشک صبح تڑکے ان پر ٹھہرنے والا عذاب آیا (ف۶۲)
(۳۹) تو چکھو میرا عذاب اور ڈر کے فرمان،
(۴۰) اور بیشک ہم نے آسان کیا قرآن یاد کرنے کے لیے تو ہے کوئی یاد کرنے والا،
(۴۱) اور بیشک فرعون والوں کے پاس رسول آئے (ف۶۳)
(۴۲) انہوں نے ہماری سب نشانیاں جھٹلائیں (ف۶۴) تو ہم نے ان پر (ف۶۵) گرفت کی جو ایک عزت والے اور عظیم قدرت والے کی شان تھی،
(۴۳) کیا (ف۲۲) تمہارے کافر ان سے بہتر ہیں (ف۶۷) یا کتابوں میں تمہاری چھٹی لکھی ہوئی ہے (ف۶۸)
(۴۴) یا یہ کہتے ہیں (ف۶۹) کہ ہم سب مل کر بدلہ لے لیں گے (ف۷۰)
(۴۵) اب بھگائی جاتی ہے یہ جماعت (ف۷۱) اور پیٹھیں پھیردیں گے (ف۷۲)
(۴۶) بلکہ ان کا وعدہ قیامت پر ہے (ف۷۳) اور قیامت نہایت کڑوی اور سخت کڑوی (ف۷۴)
(۴۷) بیشک مجرم گمراہ اور دیوانے ہیں (ف۷۵)
(۴۸) جس دن آگ میں اپنے مونہوں پر گھسیٹے جائیں گے اور فرمایا جائے گا، چکھو دوزخ کی آنچ،
(۴۹) بیشک ہم نے ہر چیز ایک اندازہ سے پیدا فرمائی (ف۷۶)
(۵۰) اور ہمارا کام تو ایک بات کی بات ہے جیسے پلک مارنا (ف۷۷)
(۵۱) اور بیشک ہم نے تمہاری وضع کے (ف۷۸) ہلاک کردیے تو ہے کوئی دھیان کرنے والا (ف۷۹)
(۵۲) اور انہوں نے جو کچھ کیا سب کتابوں میں ہے (ف۸۰)
(۵۳) اور ہر چھوٹی بڑی چیز لکھی ہوئی ہے (ف۸۱)
(۵۴) بیشک پرہیزگار باغوں اور نہر میں ہیں،
(۵۵) سچ کی مجلس میں عظیم قدرت والے بادشاہ کے حضور (ف۸۲)

سورة الر ّ حمٰن ۔۵۵

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) رحمٰن
(۲) نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا (ف۲)
(۳) انسانیت کی جان محمد کو پیدا کیا،
(۴) ما کان وما یکون کا بیان انہیں سکھایا (ف۳)
(۵) سورج اور چاند حساب سے ہیں (ف۴)
(۶) اور سبزے اور پیڑ سجدہ کرتے ہیں (ف۵)
(۷) اور آسمان کو اللہ نے بلند کیا (ف۶) اور ترازو رکھی (ف۷)
(۸) کہ ترازو میں بے اعتدالی نہ کرو (ف۸)
(۹) اور انصاف کے ساتھ تول قائم کرو اور وزن نہ گھٹاؤ،
(۱۰) اور زمین رکھی مخلوق کے لیے (ف۹)
(۱۱) اس میں میوے اور غلاف والی کھجوریں (ف۱۰)
(۱۲) اور بھُس کے ساتھ اناج (ف۱۱) اور خوشبو کے پھول،
(۱۳) تو اے جن و انس! تم دونوں اپنے رب کی کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے (ف۱۲)
(۱۴) اس نے آدمی کو بنا یا بجتی مٹی سے جیسے ٹھیکری (ف۱۳)
(۱۵) اور جن کو پیدا فرمایا آگ کے لُوکے (لپیٹ) سے (ف۱۴)
(۱۶) تو تم دونوں اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
(۱۷) دونوں پورب کا رب اور دونوں پچھم کا رب (ف۱۵)
(۱۸) تو تم دونوں اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
(۱۹) اس نے دو سمندر بہائے (ف۱۶) کہ دیکھنے میں معلوم ہوں ملے ہوئے (ف۱۷)
(۲۰) اور ہے ان میں روک (ف۱۸) کہ ایک دوسرے پر بڑھ نہیں سکتا (ف۱۹)
(۲۱) تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
(۲۲) ان میں سے موتی اور مونگا نکلتا ہے،
(۲۳) تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
(۲۴) اور اسی کی ہیں وہ چلنے والیاں کہ دریا میں اٹھی ہوئی ہیں جیسے پہاڑ (ف۲۰)
(۲۵) تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
(۲۶) زمین پر جتنے ہیں سب کو فنا ہے (ف۲۱)
(۲۷) اور باقی ہے تمہارے رب کی ذات عظمت اور بزرگی والا (ف۲۲)
(۲۸) تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
(۲۹) اسی کے منگتا ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں (ف۲۳) اسے ہر دن ایک کام ہے (ف۲۴)
(۳۰) تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
(۳۱) جلد سب کام نبٹا کر ہم تمہارے حساب کا قصد فرماتے ہیں اے دونوں بھاری گروہ (ف۲۵)
(۳۲) تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
(۳۳) اے جن و انسان کے گروہ اگر تم سے ہوسکے کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ، جہاں نکل کر جاؤ گے اسی کی سلطنت ہے (ف۲۶)
(۳۴) تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
(۳۵) تم پر (ف۲۷) چھوڑی جائے گی بے دھویں کی آگ کی لپٹ اور بے لپٹ کا کالا دھواں (ف۲۸) تو پھر بدلا نہ لے سکو گے (ف۲۹)
(۳۶) تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
(۳۷) پھر جب آسمان پھٹ ائے گا تو گلاب کے پھول کا سا ہوجائے گا (ف۳۰) جیسے سرخ نری (بکرے کی رنگی ہوئی کھال)
(۳۸) تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 16-02-08, 07:22 AM   #41
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 28
مراسلات: 11,250
کمائي: 23,271,276
ميرا موڈ:
شکریہ: 5,007
2,462 مراسلہ میں 5,556 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: کنز الایمان ۔ ترجمہ قرآن۔ احمد رضا بریلوی

(۳۹) تو اس دن (ف۳۱) گنہگار کے گناہ کی پوچھ نہ ہوگی کسی آدمی اور جِن سے (ف۳۲)
(۴۰) تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
(۴۱) مجرم اپنے چہرے سے پہچانے جائیں گے (ف۳۳) تو ماتھا اور پاؤں پکڑ کر جہنم میں ڈالے جائیں گے (ف۳۴)
(۴۲) تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے (ف۳۵)
(۴۳) یہ ہے وہ جہنم جسے مجرم جھٹلاتے ہیں،
(۴۴) پھیرے کریں گے اس میں اور انتہا کے جلتے کھولتے پانی میں (ف۳۶)
(۴۵) تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
(۴۶) اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے (ف۳۷) اس کے لیے دو جنتیں ہیں (ف۳۸)
(۴۷) تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
(۴۸) بہت سی ڈالوں والیاں (ف۳۹)
(۴۹) تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
(۵۰) ان میں دو چشمے بہتے ہیں (ف۴۰)
(۵۱) تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
(۵۲) ان میں ہر میوہ دو دو قسم کا،
(۵۳) تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
(۵۴) اور ایسے بچھونوں پر تکیہ لگائے جن کا اَستر قناویز کا (ف۴۱) اور دونوں کے میوے اتنے جھکے ہوئے کہ نیچے سے چن لو (ف۴۲)
(۵۵) تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
(۵۶) ان بچھونوں پر وہ عورتیں ہیں کہ شوہر کے سوا کسی کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتیں (ف۴۳) ان سے پہلے انہیں نہ چھوا کسی آدمی اور نہ جِن نے،
(۵۷) تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
(۵۸) گویا وہ لعل اور یاقوت اور مونگا ہیں (ف۴۴)
(۵۹) تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
(۶۰) نیکی کا بدلہ کیا ہے مگر نیکی (ف۴۵)
(۶۱) تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
(۶۲) اور ان کے سوا دو جنتیں اور ہیں (ف۴۶)
(۶۳) تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
(۶۴) نہایت سبزی سے سیاہی کی جھلک دے رہی ہیں،
(۶۵) تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
(۶۶) ان میں دو چشمے ہیں چھلکتے ہوئے،
(۶۷) تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
(۶۸) ان میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں،
(۶۹) تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
(۷۰) ان میں عورتیں ہیں عادت کی نیک صورت کی اچھی
(۷۱) تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
(۷۲) حوریں ہیں خیموں میں پردہ نشین (ف۴۷)
(۷۳) تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
(۷۴) ان سے پہلے انہیں ہاتھ نہ لگایا کسی آدمی اور نہ کسی جِن نے،
(۷۵) تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے (ف۴۸)
(۷۶) تکیہ لگائے ہوئے سبز بچھونوں اور منقش خوبصورت چاندنیوں پر،
(۷۷) تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
(۷۸) بڑی برکت والا ہے تمہارے رب کا نام جو عظمت اور بزرگی والا،

سورة الواقعة ۔۵۶

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) جب ہولے گی وہ ہونے والی (ف۲)
(۲) اس وقت اس کے ہونے میں کسی کو انکار کی گنجائش نہ ہوگی،
(۳) کسی کو پست کرنے والی (ف۳) کسی کو بلندی دینے والی (ف۴)
(۴) جب زمین کانپے گی تھرتھرا کر (ف۵)
(۵) اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے چُورا ہوکر
(۶) تو ہوجائیں گے جیسے روزن کی دھوپ میں غبار کے باریک ذرے پھیلے ہوئے
(۷) اور تین قسم کے ہوجاؤ گے،
(۸) تو دہنی طرف والے (ف۶) کیسے دہنی طرف والے (ف۷)
(۹) اور بائیں طرف والے (ف۸) کیسے بائیں طرف والے (ف۹)
(۱۰) اور جو سبقت لے گئے (ف۱۰) وہ تو سبقت ہی لے گئے (ف۱۱)
(۱۱) وہی مقربِ بارگاہ ہیں،
(۱۲) چین کے باغوں میں،
(۱۳) اگلوں میں سے ایک گروہ
(۱۴) اور پچھلوں میں سے تھوڑے (ف۱۲)
(۱۵) جڑاؤ تختوں پر ہوں گے (ف۱۳)
(۱۶) ان پر تکیہ لگائے ہوئے آمنے سامنے (ف۱۴)
(۱۷) ان کے گرد لیے پھریں گے (ف۱۵) ہمیشہ رہنے والے لڑکے (ف۱۶)
(۱۸) کوزے اور آفتابے اور جام اور آنکھوں کے سامنے بہتی شراب
(۱۹) کہ اس سے نہ انہیں درد سر ہو اور نہ ہوش میں فرق آئے (ف۱۷)
(۲۰) اور میوے جو پسند کریں
(۲۱) اور پرندوں کا گوشت جو چاہیں (ف۱۸)
(۲۲) اور بڑی آنکھ والیاں حوریں (ف۱۹)
(۲۳) جیسے چھپے رکھے ہوئے موتی (ف۲۰)
(۲۴) صلہ ان کے اعمال کا (ف۲۱)
(۲۵) اس میں نہ سنیں گے نہ کوئی بیکار با ت نہ گنہگاری (ف۲۲)
(۲۶) ہاں یہ کہنا ہوگا سلام سلام (ف۲۳)
(۲۷) اور دہنی طرف والے کیسے دہنی طرف والے (ف۲۴)
(۲۸) بے کانٹوں کی بیریوں میں
(۲۹) اور کیلے کے گچھوں میں (ف۲۵)
(۳۰) اور ہمیشہ کے سائے میں
(۳۱) اور ہمیشہ جاری پانی میں
(۳۲) اور بہت سے میووں میں
(۳۳) جو نہ ختم ہوں (ف۲۶) اور نہ روکے جائیں (ف۲۷)
(۳۴) اور بلند بچھونوں میں (ف۲۸)
(۳۵) بیشک ہم نے ان عورتوں کو اچھی اٹھان اٹھایا،
(۳۶) تو انہیں بنایا کنواریاں اپنے شوہر پر پیاریاں،
(۳۷) انہیں پیار دلائیاں ایک عمر والیاں (ف۲۹)
(۳۸) دہنی طرف والوں کے لیے،
(۳۹) اگلوں میں سے ایک گروہ،
(۴۰) اور پچھلوں میں سے ایک گروہ (ف۳۰)
(۴۱) اور بائیں طرف والے (ف۳۱) کیسے بائیں طرف والے (ف۳۲)
(۴۲) جلتی ہوا اور کھولتے پانی میں،
(۴۳) اور جلتے دھوئیں کی چھاؤں میں (ف۳۳)
(۴۴) جو نہ ٹھنڈی نہ عزت کی،
(۴۵) بیشک وہ اس سے پہلے (ف۳۴) نعمتوں میں تھے
(۴۶) اور اس بڑے گناہ کی (ف۳۵) ہٹ (ضد) رکھتے تھے،
(۴۷) اور کہتے تھے کیا جب ہم مرجائیں اور ہڈیاں ہوجائیں تو کیا ضرور ہم اٹھائے جائیں گے،
(۴۸) اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی،
(۴۹) تم فرماؤ بیشک سب اگلے اور پچھلے
(۵۰) ضرور اکٹھے کیے جائیں گے، ایک جانے ہوئے دن کی میعاد پر (ف۳۶)
(۵۱) پھر بیشک تم اے گمراہو (ف۳۷) جھٹلانے والو
(۵۲) ضرور تھوہر کے پیڑ میں سے کھاؤ گے،
(۵۳) پھر اس سے پیٹ بھرو گے،
(۵۴) پھر اس پر کھولتا پانی پیو گے،
(۵۵) پھر ایسا پیو گے جیسے سخت پیاسے اونٹ پئیں (ف۳۸)
(۵۶) یہ ان کی مہمانی ہے انصاف کے دن،
(۵۷) ہم نے تمہیں پیدا کیا (ف۳۹) تو تم کیوں نہیں سچ مانتے (ف۴۰)
(۵۸) تو بھلا دیکھو تو وہ منی جو گراتے ہو (ف۴۱)
(۵۹) کیا تم اس کا آدمی بناتے ہو یا ہم بنانے والے ہیں (ف۴۲)
(۶۰) ہم نے تم میں مرنا ٹھہرایا (ف۴۳) اور ہم اس سے ہارے نہیں،
(۶۱) کہ تم جیسے اور بدل دیں اور تمہاری صورتیں وہ کردیں جس کی تمہیں حبر نہیں (ف۴۴)
(۶۲) اور بیشک تم جان چکے ہو پہلی اٹھان (ف۴۵) پھر کیوں نہیں سوچتے (ف۴۶)
(۶۳) تو بھلا بتاؤ تو جو بوتے ہو،
(۶۴) کیا تم اس کی کھیتی بناتے ہو یا ہم بنانے والے ہیں (ف۴۷)
(۶۵) ہم چاہیں تو (ف۴۸) اسے روندن (پامال) کردیں (ف۴۹) پھر تم باتیں بناتے رہ جاؤ (ف۵۰)
(۶۶) کہ ہم پر چٹی پڑی (ف۵۱)
(۶۷) بلکہ ہم بے نصیب رہے،
(۶۸) تو بھلا بتاؤ تو وہ پانی جو پیتے ہو،
(۶۹) کیا تم نے اسے بادل سے اتارا یا ہم ہیں اتارنے والے (ف۵۲)
(۷۰) ہم چاہیں تو اسے کھاری کردیں (ف۵۳) پھر کیوں نہیں شکر کرتے (ف۵۴)
(۷۱) تو بھلا بتاؤں تو وہ آگ جو تم روشن کرتے ہو (ف۵۵)
(۷۲) کیا تم نے اس کا پیڑ پیدا کیا (ف۵۶) یا ہم ہیں پیدا کرنے والے،
(۷۳) ہم نے اسے (ف۵۷) جہنم کا یادگار بنایا (ف۵۸) اور جنگل میں مسافروں کا فائدہ (ف۵۹)
(۷۴) تو اے محبوب تم پاکی بولو اپنے عظمت والے رب کے نام کی،
(۷۵) تو مجھے قسم ہے ان جگہوں کی جہاں تارے ڈوبتے ہیں (ف۶۰)
(۷۶) اور تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے،
(۷۷) بیشک یہ عزت والا قرآن ہے (ف۶۱)
(۷۸) محفوظ نوشتہ میں (ف۶۲)
(۷۹) اسے نہ چھوئیں مگر باوضو (ف۶۳)
(۸۰) اتارا ہوا ہے سارے جہان کے رب کا،
(۸۱) تو کیا اس بات میں تم سستی کرتے ہو (ف۶۴)
(۸۲) اور اپنا حصہ یہ رکھتے ہو کہ جھٹلاتے ہو (ف۶۵)
(۸۳) پھر کیوں نہ ہو جب جان گلے تک پہنچے
(۸۴) اور تم (ف۶۶) اس وقت دیکھ رہے ہو
(۸۵) اور ہم (ف۶۷) اس کے زیادہ پاس ہیں تم سے مگر تمہیں نگاہ نیں (ف۶۸)
(۸۶) تو کیوں نہ ہوا اگر تمہیں بدلہ ملنا نہیں (ف۶۹)
(۸۷) کہ اسے لوٹا لاتے اگر تم سچے ہو (ف۷۰)
(۸۸) پھر وہ مرنے والا اگر مقربوں سے ہے (ف۷۱)
(۸۹) تو راحت ہے اور پھول (ف۷۲) اور چین کے باغ (ف۷۳)
(۹۰) اور اگر (ف۷۴) دہنی طرف والوں سے ہو
(۹۱) تو اے محبوب تم پر سلام دہنی طرف والوں سے (ف۷۵)
(۹۲) اور اگر (ف۷۶) جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہو (ف۷۷)
(۹۳) تو اس کی مہمانی کھولتا پانی،
(۹۴) اور بھڑکتی آگ میں دھنسانا (ف۷۸)
(۹۵) یہ بیشک اعلیٰ درجہ کی یقینی بات ہے،
(۹۶) تو اے محبوب تم اپنے عظمت والے رب کے نام کی پاکی بولو (ف۷۹)

سورة الحد ید ۔۵۷

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے (ف۲) اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
(۲) اسی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت، جِلاتا ہے (ف۳) اور مارتا (ف۴) اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے،
(۳) وہی اول (ف۵) وہی آخر (ف۶) وہی ظاہر (ف۷) وہی باطن (ف۸) اور وہی سب کچھ جانتا ہے،
(۴) وہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں پیدا کیے (ف۹) پھر عرش پر استوا فرمایا جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے، جانتا ہے جو زمین کے اندر جا تا ہے (ف۱۰) اور جو اس سے باہر نکلتا ہے (ف۱۱) اور جو آسمان سے اترتا ہے (ف۱۲) اور جو اس میں چڑھتا ہے (ف۱۳) اور وہ تمہارے ساتھ ہے (ف۱۴) تم کہیں ہو، اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے (ف۱۵)
(۵) اسی کی ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت، اور اللہ ہی کی طرف، سب کاموں کی رجوع،
(۶) رات کو دن کے حصے میں لاتا ہے (ف۱۶) اور دن کو رات کے حصے میں لاتا ہے (ف۱۷) اور وہ دلوں کی بات جانتا ہے (ف۱۸)
(۷) اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی راہ میں کچھ وہ خرچ کرو جس میں تمہیں اَوروں کا جانشین کیا (ف۱۹) تو جو تم میں ایمان لائے اور اس کی راہ میں خرچ کیا ان کے لیے بڑا ثواب ہے،
(۸) اور تمہیں کیا ہے کہ اللہ پر ایمان نہ لاؤ، حالانکہ یہ رسول تمہیں بلارہے ہیں کہ اپنے ر ب پر ایمان لاؤ (ف۲۰) اور بیشک وہ (ف۲۱) تم سے پہلے سے عہد لے چکا ہے (ف۲۲) اگر تمہیں یقین ہو،
(۹) وہی ہے کہ اپنے بندہ پر (ف۲۳) روشن آیتیں اتارتا ہے تاکہ تمہیں اندھیریوں سے (ف۲۴) اجالے کی طرف لے جائے (ف۲۵) اور بیشک ا لله تم پر ضرور مہربان رحم والا،
(۱۰) اور تمہیں کیا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو حالانکہ آسمانوں اور زمین میں سب کا وارث اللہ ہی ہے (ف۲۶) تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتحِ مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیا (ف۲۷) وہ مرتبہ میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا، اور ان سب سے (ف۲۸) اللہ جنت کا وعدہ فرماچکا (ف۲۹) اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،
(۱۱) کون ہے جو اللہ کو قرض دے اچھا قرض (ف۳۰) تو وہ اس کے لیے دونے کرے اور اللہ کو عزت کا ثواب دے،
(۱۲) جس دن تم ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو (ف۳۱) دیکھو گے کہ ان کا نور ہے (ف۳۲) ان کے آگے اور ان کے دہنے دوڑتا ہے (ف۳۳) ان سے فرمایا جارہا ہے کہ آج تمہاری سب سے زیادہ خوشی کی بات وہ جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں تم ان میں ہمیشہ رہو، یہی بڑی کامیابی ہے،
(۱۳) جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں مسلمانوں سے کہیں گے کہ ہمیں یک نگاہ دیکھو کہ ہم تمہارے نور سے کچھ حصہ لیں، کہا جائے گا اپنے پیچھے لوٹو (ُ۳۴) وہاں نور ڈھونڈو وہ لوٹیں گے، جبھی ان کے (ف۳۵) درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی (ف۳۶) جس میں ایک دروازہ ہے (ف۳۷) اس کے اندر کی طرف رحمت (ف۳۸) اور اس کے باہر کی طرف عذاب،
(۱۴) منافق (ف۳۹) مسلمانوں کو پکاریں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے (ف۴۰) وہ کہیں گے کیوں نہیں مگر تم نے تو اپنی جانیں فتنہ میں ڈالیں (ف۴۱) اور مسلمانوں کی برائی تکتے اور شک رکھتے (ف۴۲) اور جھوٹی طمع نے تمھیں فریب دیا (ف۴۳) یہاں تک کہ اللہ کا حکم آگیا (ف۴۴) اور تمہیں اللہ کے حکم پر اس بڑے فریبی نے مغرور رکھا (ف۴۵)
(۱۵) تو آج نہ تم سے کوئی فدیہ لیا جائے (ف۴۶) اور نہ کھلے کافروں سے، تمہارا ٹھکانا آگ ہے، وہ تمہاری رفیق ہے، اور کیا ہی برا انجام،
(۱۶) کیا ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد اور اس حق کے لیے جو اترا (ف۴۷) اور ان جیسے نہ ہوں جن کو پہلے کتاب دی گئی (ف۴۸) پھر ان پر مدت دراز ہوئی (ف۴۹) تو ان کے دل سخت ہوگئے (ف۵۰) اور ان میں بہت فاسق ہیں (ف۵۱)
(۱۷) جان لو کہ اللہ زمین کو زندہ کرتا ہے اس کے مرے پیچھے (ف۵۲) بیشک ہم نے تمہارے لیے نشانیاں بیان فرمادیں کہ تمہیں سمجھ ہو،
(۱۸) بیشک صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور وہ جنہوں نے اللہ کو اچھا قرض دیا (ف۵۳) ان کے دونے ہیں اور ان کے لیے عزت کا ثواب ہے (ف۵۴)
(۱۹) اور وہ جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائیں وہی ہیں کامل سچے، اور اَوروں پر (ف۵۵) گواہ اپنے رب کے یہاں، ان کے لیے ان کا ثواب (ف۵۶) اور ان کا نور ہے (ف۵۷) اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ دوزخی ہیں،
(۲۰) جان لو کہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کود (ف۵۸) اور آرائش اور تمہارا آپس میں بڑائی مارنا اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا (ف۵۹) اس مینھ کی طرح جس کا اُگایاسبزہ کسانوں کو بھایا پھر سوکھا (ف۶۰) کہ تو اسے زرد دیکھے پھر روندن (پامال کیا ہوا) ہوگیا (ف۶۱) اور آخرت میں سخت عذاب ہے (ف۶۲) اور اللہ کی طرف سے بخشش اور اس کی رضا (ف۶۳) اور دنیا کا جینا تو نہیں مگر دھوکے کا مال (ف۶۴)
(۲۱) بڑھ کر چلو اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف (ف۶۵) جس کی چوڑائی جیسے آسمان اور زمین کا پھیلاؤ (ف۶۶) تیار ہوئی ہے ان کے لیے جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے، یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے، اور اللہ بڑا فضل والا ہے،
(۲۲) نہیں پہنچتی کوئی مصیبت زمین میں (ف۶۷) اور نہ تمہاری جانوں میں (ف۶۸) مگر وہ ایک کتاب میں ہے (ف۶۹) قبل اس کے کہ ہم اسے پیدا کریں (ف۷۰) بیشک یہ (ف۷۱) اللہ کو آسان ہے،
(۲۳) اس لیے کہ غم نہ کھاؤ اس (ف۷۲) پر جو ہاتھ سے جائے اور خوش نہ ہو (ف۷۳) اس پر جو تم کو دیا (ف۷۴) اور اللہ کو نہیں کوئی اترونا (شیخی بگھارنے والا) بڑائی مارنے والا،
(۲۴) وہ جو آپ بخل کریں (ف۷۵) اور اوروں سے بخل کو کہیں (ف۷۶) اور جو منہ پھیرے (ف۷۷) تو بیشک اللہ ہی بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا،
(۲۵) بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب (ف۷۸) اور عدل کی ترازو اتاری (ف۷۹) کہ لوگ انصاف پر قائم ہوں (ف۸۰) اور ہم نے لوہا اتارا (ف۸۱) اس میں سخت آنچ (نقصان) (ف۸۲) اور لوگوں کے فائدے (ف۸۳) اور اس لیے کہ اللہ دیکھے اس کو جو بے دیکھے اس کی (ف۸۴) اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے، بیشک اللہ قورت والا غالب ہے (ف۸۵)
(۲۶) اور بیشک ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی (ف۸۶) تو ان میں (ف۸۷) کوئی راہ پر آیا اور ان میں بہتیرے فاسق ہیں،
(۲۷) پھر ہم نے ان کے پیچھے (ف۸۸) اسی راہ پر اپنے اور رسول بھیجے اور ان کے پیچھے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا اور اسے انجیل عطا فرمائی اور اس کے پیروں کے دل میں نرمی اور رحمت رکھی (ف۸۹) اور راہب بننا (ف۹۰) تو یہ بات انہوں نے دین میں اپنی طرف سے نکالی ہم نے ان پر مقرر نہ کی تھی ہاں یہ بدعت انہوں نے ا لله کی رضا چاہنے کو پیدا کی پھر اسے نہ نباہا جیسا اس کے نباہنے کا حق تھا (ف۹۱) تو ان کے ایمان والوں کو (ف۹۲) ہم نے ان کا ثواب عطا کیا، اور ان میں سے بہتیرے (ف۹۳) فاسق ہیں،
(۲۸) اے ایمان والو! (ف۹۴) اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول (ف۹۵) پر ایمان لاؤ وہ اپنی رحمت کے دو حصے تمہیں عطا فرمائے گا (ف۹۶) اور تمہارے لیے نور کردے گا (ف۹۷) جس میں چلو اور تمہیں بخش دے گا، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
(۲۹) یہ اس لیے کہ کتاب والے کافر جان جائیں کہ اللہ کے فضل پر ان کا کچھ قابو نہیں (ف۹۸) اور یہ کہ فضل اللہ کے ہاتھ ہے دیتا ہے جسے چاہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے،
سورة المجا دلة ۔۵۸

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) بیشک اللہ نے سنی اس کی بات جو تم سے اپنے شوہر کے معاملہ میں بحث کرتی ہے (ف۲) اور اللہ سے شکایت کرتی ہے، اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے، بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے،
(۲) وہ جو تم میں اپنی بیبیوں کو اپنی ماں کی جگہ کہہ بیٹھتے ہیں (ف۳) وہ ان کی مائیں نہیں (ف۴) ان کی مائیں تو وہی ہیں جن سے وہ پیدا ہیں (ف۵) اور وہ بیشک بری اور نری جھوٹ بات کہتے ہیں (ف۶) اور بیشک اللہ ضرور معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے،
(۳) اور وہ جو اپنی بیبیوں کو اپنی ماں کی جگہ کہیں (ف۷) پھر وہی کرنا چاہیں جس پر اتنی بری بات کہہ چکے (ف۸) تو ان پر لازم ہے (ف۹) ایک بردہ آزاد کرنا (ف۱۰) قبل اس کے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں (ف۱۱) یہ ہے جو نصیحت تمہیں کی جاتی ہے، اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے،
(۴) پھر جسے بردہ نہ ملے تو (ف۱۲) لگاتار دو مہینے کے روزے (ف۱۳) قبل اس کے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں (ف۱۴) پھر جس سے روزے بھی نہ ہوسکیں (ف۱۵) تو ساٹھ مسکینوں کا پیٹ بھرنا (ف۱۶) یہ اس لیے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو (ف۱۷) اور یہ اللہ کی حدیں ہیں (ف۱۸) اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے،
(۵) بیشک وہ جو مخالفت کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی ذلیل کیے گئے جیسے ان سے اگلوں کو ذلت دی گئی (ف۱۹) اور بیشک ہم نے روشن آیتیں اتاریں (ف۲۰) اور کافروں کے لیے خواری کا عذاب ہے،
(۶) جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا (ف۲۱) پھر انہیں ان کے کو تک جتادے گا (ف۲۲) اللہ نے انہیں گن رکھا ہے اور وہ بھول گئے (ف۲۳) اور ہر چیز اللہ کے سامنے ہے ،
(۷) اے سننے والے کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں (ف۲۴) جہاں کہیں تین شخصوں کی سرگوشی ہو (ف۲۵) تو چوتھا وہ موجود ہے (ف۲۶) اور پانچ کی (ف۲۷) تو چھٹا وہ (ف۲۸) اور نہ اس سے کم (ف۲۹) اور نہ اس سے زیادہ کی مگر یہ کہ وہ ان کے ساتھ ہے (ف۳۰) جہاں کہیں ہوں پھر انہیں قیامت کے دن بتادے گا جو کچھ انہوں نے کیا، بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے،
(۸) کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جنہیں بری مشورت سے منع فرمایا گیا تھا پھر وہی کرتے ہیں (ف۳۱) جس کی ممانعت ہوئی تھی اور آپس میں گناہ اور حد سے بڑھنے (ف۳۲) اور رسول کی نافرمانی کے مشورے کرتے ہیں (ف۳۳) اور جب تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں تو ان لفظوں سے تمہیں مجرا کرتے ہیں جو لفظ اللہ نے تمہارے اعزاز میں نہ کہے (ف۳۴) اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں ہمیں اللہ عذاب کیوں نہیں کرتا ہمارے اس کہنے پر (ف۳۵) انہیں جہنم بس ہے، اس میں دھنسیں گے، تو کیا ہی برا انجام،
(۹) اے ایمان والو تم جب آپس میں مشورت کرو تو گناہ اور حد سے بڑھنے اور رسول کی نافرمانی کی مشورت نہ کرو (ف۳۶) اور نیکی اورپرہیزگاری کی مشورت کرو، اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف اٹھائے جاؤ گے،
(۱۰) وہ مشورت تو شیطان ہی کی طرف سے ہے (ف۳۷) اس لیے کہ ایمان والوں کو رنج دے اور وہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا بے حکم خدا کے، اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے (ف۳۸)
(۱۱) اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا (ف۳۹) اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو (ف۴۰) تو اٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا (ف۴۱) درجے بلند فرمائے گا، اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،
(۱۲) اے ایمان والو جب تم رسول سے کوئی بات آہستہ عرض کرنا چاہو تو اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقہ دے لو (ف۴۲) یہ تمہارے لیے بہت بہتر اور بہت ستھرا ہے، پھر اگر تمہیں مقدور نہ ہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
(۱۳) کیا تم اس سے ڈرے کہ تم اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقے دو (ف۴۳) پھر جب تم نے یہ نہ کیا، اور اللہ نے اپنی مہر سے تم پر رجوع فرمائی (ف۴۴) تو نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار رہو، اور اللہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے،
(۱۴) کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جو ایسوں کے دوست ہوئے جن پر اللہ کا غضب ہے (ف۴۵) وہ نہ تم میں سے نہ ان میں سے (ف۴۶) وہ دانستہ جھوٹی قسم کھاتے ہیں (ف۴۷)
(۱۵) اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے، بیشک وہ بہت ہی برے کام کرتے ہیں،
(۱۶) انہوں نے اپنی قسموں کو (ف۴۸) ڈھال بنالیا ہے (ف۴۹) تو اللہ کی راہ سے روکا (ف۵۰) تو ان کے لیے خواری کا عذاب ہے (ف۵۱)
(۱۷) ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے سامنے انہیں کچھ کام نہ دیں گے (ف۵۲) وہ دوزخی ہیں، انہیں اس میں ہمیشہ رہنا،
(۱۸) جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو اس کے حضور بھی ایسے ہی قسمیں کھائیں گے جیسی تمہارے سامنے کھارہے ہیں (ف۵۳) اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کچھ کیا (ف۵۴) سنتے ہو بیشک وہی جھوٹے ہیں (ف۵۵) (۱۹) ان پر شیطان غالب آگیا تو انہیں اللہ کی یاد بھلا دی، وہ شیطان کے گروہ ہیں، سنتا ہے بیشک شیطان ہی کا گروہ ہار میں ہے (ف۵۶)
(۲۰) بیشک وہ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ سب سے زیادہ ذلیلوں میں ہیں،
(۲۱) اللہ لکھ چکا (ف۵۷) کہ ضرور میں غالب آؤں گا اور میرے رسول (ف۵۸) بیشک اللہ قوت والا عزت والا ہے،
(۲۲) تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی (ف۵۹) اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں (ف۶۰) یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرمادیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی (ف۶۱) اور انہیں باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیں ان میں ہمیشہ رہیں، اللہ ان سے راضی (ف۶۲) اور وہ اللہ سے راضی (ف۶۳) یہ اللہ کی جماعت ہے، سنتا ہے اللہ ہی کی جماعت کامیاب ہے،

سورة الحشر ۔۵۹

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں، اور وہ وہی عزت و حکمت والا ہے (ف۲)
(۲) وہی ہے جس نے ان کافر کتابیوں کو (ف۳) ان کے گھروں سے نکالا (ف۴) ان کے پہلے حشر کے لیے (ف۵) تمہیں گمان نہ تھا کہ وہ نکلیں گے (ف۶) اور وہ سمجھتے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچالیں گے تو اللہ کا حکم ان کے پاس آیا جہاں سے ان کا گمان بھی نہ تھا (ف۷) اور اس نے ان کے دلوں میں رُعب ڈالا (ف۸) کہ اپنے گھر ویران کرتے ہیں اپنے ہاتھوں (ف۹) اور مسلمانوں کے ہاتھوں (ف۱۰) تو عبرت لو اے نگاہ والو،
(۳) اور اگر نہ ہوتا کہ اللہ نے ان پر گھر سے اجڑنا لکھ دیا تھا تو دنیا ہی میں ان پر عذاب فرماتا (ف۱۱) اور ان کے لیے (ف۱۲) آخرت میں آگ کا عذاب ہے،
(۴) یہ اس لیے کہ وہ اللہ سے اور اس کے رسول سے پھٹے (جدا) رہے (ف۱۳) اور جو اللہ اور اس کے رسول سے پھٹا رہے تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے،
(۵) جو درخت تم نے کاٹے یا ان کی جڑوں پر قائم چھوڑ دیے یہ سب اللہ کی اجازت سے تھا (ف۱۴) اور اس لیے کہ فاسقوں کو رسوا کرے (ف۱۵)
(۶) اور جو غنیمت دلائی اللہ نے اپنے رسول کو ان سے (ف۱۶) تو تم نے ان پر نہ اپنے گھوڑے دوڑائے تھے اور نہ اونٹ (ف۱۷) ہاں اللہ اپنے رسولوں کے قابو میں دے دیتا ہے جسے چاہے (ف۱۸) اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
(۷) جو غنیمت دلائی اللہ نے اپنے رسول کو شہر والوں سے (ف۱۹) وہ اللہ اور رسول کی ہے اور رشتہ داروں (ف۲۰) اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے کہ تمہارے اغنیا کا مال نہ جائے (ف۹۲۱ اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو (ف۲۲) اور جس سے منع فرمائیں باز رہو، اور اللہ سے ڈرو (ف۲۳) بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے (ف۲۴)
(۸) ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے (ف۲۵) اللہ کا فضل (ف۲۶) اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ و رسول کی مدد کرتے (ف۲۷) وہی سچے ہیں (ف۲۸)
(۹) اور جنہوں نے پہلے سے (ف۲۹) اس شہر (ف۳۰) اور ایمان میں گھر بنالیا (ف۳۱) دوست رکھتے ہیں انہیں جو ان کی طرف ہجرت کرکے گئے (ف۳۲) اور اپنے دلوں میں کوئی حاجت نہیں پاتے (ف۳۳) اس چیز کو جو دیے گئے (ف۳۴) اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں (ف۳۵) اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو (ف۳۶) اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچایا گیا (ف۳۷) تو وہی کامیاب ہیں،
(۱۰) اور وہ جو ان کے بعد آئے (ف۳۸) عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دل میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ رکھ (ف۳۹) اے ہمارے رب بیشک تو ہی نہایت مہربان رحم والا ہے،
(۱۱) کیا تم نے منافقوں کو نہ دیکھا (ف۴۰) کہ اپنے بھائیوں کافر کتابیوں (ف۴۱) سے کہتے ہیں کہ اگر تم نکالے گئے (ف۴۲) تو ضرور ہم تمہارے ساتھ جائیں گے اور ہرگز تمہارے بارے میں کسی کی نہ مانیں گے (ف۴۳) اور اگر تم سے لڑائی ہوئی تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے، اور اللہ گواہ ہے کہ وہ جھوٹے ہیں (ف۴۴)
(۱۲) اگر وہ نکالے گئے (ف۴۵) تو یہ ان کے ساتھ نہ نکلیں گے، اور ان سے لڑائی ہوئی تو یہ ان کی مدد نہ کریں گے (ف۴۶) اگر ان کی مدد کی بھی تو ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے، پھر (ف۴۷) مدد نہ پائیں گے،
(۱۳) بیشک (ف۴۸) ان کے دلوں میں اللہ سے زیادہ تمہارا ڈر ہے (ف۴۹) یہ اس لیے کہ وہ ناسمجھ لوگ ہیں (ف۵۰)
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 16-02-08, 07:23 AM   #42
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 28
مراسلات: 11,250
کمائي: 23,271,276
ميرا موڈ:
شکریہ: 5,007
2,462 مراسلہ میں 5,556 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: کنز الایمان ۔ ترجمہ قرآن۔ احمد رضا بریلوی

(۱۴) یہ سب مل کر بھی تم سے نہ لڑیں گے مگر قلعہ بند شہروں میں یا دُھسّوں (شہر پناہ) کے پیچھے، آپس میں ان کی آنچ (جنگ) سخت ہے (ف۵۱) تم انہیں ایک جتھا سمجھو گے اور ان کے دل الگ الگ ہیں، یہ اس لیے کہ وہ بے عقل لوگ ہیں (ف۵۲)
(۱۵) ان کی سی کہاوت جو ابھی قریب زمانہ میں ان سے پہلے تھے (ف۵۳) انہوں نے اپنے کام کا وبال چکھا (ف۵۴) اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے (ف۵۵)
(۱۶) شیطان کی کہاوت جب اس نے آدمی سے کہا کفر کر پھر جب اس نے کفر کرلیا بولا میں تجھ سے الگ ہوں میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہان کا رب (ف۵۶)
(۱۷) تو ان دونوں کا (ف۵۷) انجام یہ ہوا کہ وہ دونوں آگ میں ہیں ہمیشہ اس میں رہے، اور ظالموں کو یہی سزا ہے، (۱۸) اے ایمان والو اللہ سے ڈرو (ف۵۸) اور ہر جان دیکھے کہ کل کے لیے آگے کیا بھیجا (ف۵۹) اور اللہ سے ڈرو (ف۶۰) بیشک اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،
(۱۹) اور ان جیسے نہ ہو جو اللہ کو بھول بیٹھے (ف۶۱) تو اللہ نے انہیں بلا میں ڈالا کہ اپنی جانیں یاد نہ رہیں (ف۶۲) وہی فاسق ہیں،
(۲۰) دوزخ والے (ف۶۳) اور جنت والے (ف۶۴) برابر نہیں جنت والے ہی مراد کو پہنچے،
(۲۱) اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارتے (ف۶۵) تو ضرور تو اسے دیکھتا جھکا ہوا پاش پاش ہوتا اللہ کے خوف سے (ف۶۶) اور یہ مثالیں لوگوں کے لیے ہم بیان فرماتے ہیں کہ وہ سوچیں،
(۲۲) وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، ہر نہاں و عیاں کا جاننے والا (ف۶۷) وہی ہے بڑا مہربان رحمت والا،
(۲۳) وہی ہے اللہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں بادشاہ (ف۶۸) نہایت پاک (ف۶۹) سلامتی دینے والا (ف۷۰) امان بخشنے والا (ف۷۱) حفاظت فرمانے والا عزت والا عظمت والا تکبر والا (ف۷۲) اللہ کو پاکی ہے ان کے شرک سے، (۲۴) وہی ہے اللہ بنانے والا پیدا کرنے والا (ف۷۳) ہر ایک کو صورت دینے والا (ف۷۴) اسی کے ہیں سب اچھے نام (ف۷۵) اس کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہی عزت و حکمت والا ہے،

سورة الممتحنة ۔۶۰

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) اے ایمان والو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ (ف۲) تم انہیں خبریں پہنچاتے ہو دوستی سے حالانکہ وہ منکر ہیں اس حق کے جو تمہارے پاس آیا (ف۳) گھر سے جدا کرتے ہیں (ف۴) رسول کو اور تمہیں اس پر کہ تم اپنے رب پر ایمان لائے، اگر تم نکلے ہو میری راہ میں جہاد کرنے اور میری رضا چاہنے کو تو ان سے دوستی نہ کرو تم انہیں خفیہ پیامِ محبت بھیجتے ہو، اور میں خوب جانتا ہوں جو تم چھپاؤ اور جو ظاہر کرو، اور تم میں جو ایسا کرے بیشک وہ سیدھی راہ سے بہکا،
(۲) اگر تمہیں پائیں (ف۵) تو تمہارے دشمن ہوں گے اور تمہاری طرف اپنے ہاتھ (ف۶) اور اپنی زبانیں (ف۷) برائی کے ساتھ دراز کریں گے اور ان کی تمنا ہے کہ کسی طرح تم کافر ہوجاؤ (ف۸)
(۳) ہرگز کام نہ آئیں گے تمہیں تمہارے رشتے اور نہ تمہاری اولاد (ف۹) قیامت کے دن، تمہیں ان سے الگ کردے گا (ف۱۰) اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،
(۴) بیشک تمہارے لیے اچھی پیروی تھی (ف۱۱) ابراہیم اور اس کے ساتھ والوں میں (ف۱۲) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا (ف۱۳) بیشک ہم بیزار ہیں تم سے اور ان سے جنہیں اللہ کے سوا پوجتے ہو، ہم تمہارے منکر ہوئے (ف۱۴) اور ہم میں اور تم میں دشمنی اور عداوت ظاہر ہوگئی ہمیشہ کے لیے جب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ مگر ابراہیم کا اپنے باپ سے کہنا کہ میں ضرور تیری مغفرت چاہوں گا (ف۱۵) اور میں اللہ کے سامنے تیر ے کسی نفع کا مالک نہیں (ف۱۶) اے ہمارے رب ہم نے تجھی پر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف رجوع لائے اور تیری ہی طرف پھرنا ہے (ف۱۷)
(۵) اے ہمارے رب ہمیں کافروں کی آزمائش میں نہ ڈال (ف۱۸) اور ہمیں بخش دے، اے ہمارے رب بیشک تو ہی عزت و حکمت والا ہے،
(۶) بیشک تمہارے لیے (ف۱۹) ان میں اچھی پیروی تھی (ف۲۰) اسے جو اللہ اور پچھلے دن کا امیدوار ہو (ف۲۱) اور جو منہ پھیرے (ف۲۲) تو بیشک اللہ ہی بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا،
(۷) قریب ہے کہ اللہ تم میں اور ان میں جو ان میں سے (ف۲۳) تمہارے دشمن ہیں دوستی کردے (ف۲۴) اور اللہ قادر ہے (ف۲۵) اور بخشنے والا مہربان ہے،
(۸) اللہ تمہیں ان سے (ف۲۶) منع نہیں کرتا جو تم سے دین میں نہ لڑے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہ نکالا کہ ان کے ساتھ احسان کرو اور ان سے انصاف کا برتاؤ برتو، بیشک انصاف والے اللہ کو محبوب ہیں،
(۹) اللہ تمہیں انہی سے منع کرتا ہے جو تم سے دین میں لڑے یا تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا یا تمہارے نکالنے پر مدد کی کہ ان سے دوستی کرو (ف۲۷) اور جو ان سے دوستی کرے تو وہی ستمگار ہیں،
(۱۰) اے ایمان والو جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں کفرستان سے اپنے گھر چھوڑ کر آئیں تو ان کا امتحان کرو (ف۲۸) اللہ ان کے ایمان کا حال بہتر جانتا ہے، پھر اگر تمہیں ایمان والیاں معلوم ہوں تو انہیں کافروں کو واپس نہ دو، نہ یہ (ف۲۹) انہیں حلال (ف۳۰) نہ وہ انہیں حلال (ف۳۱) اور ان کے کافر شوہروں کو دے دو جو ان کا خرچ ہوا (ف۳۲) اور تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان سے نکاح کرلو (ف۳۳) جب ان کے مہر انہیں دو (ف۳۴) اور کافرنیوں کے نکاح پر جمے نہ رہو (ف۳۵) اور مانگ لو جو تمہارا خرچ ہوا (ف۳۶) اور کافر مانگ لیں جو انہوں نے خرچ کیا (ف۳۷) یہ اللہ کا حکم ہے، وہ تم میں فیصلہ فرماتا ہے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
(۱۱) اور اگر مسلمانوں کے ہاتھ سے کچھ عورتیں کافروں کی طرف نکل جائیں (ف۳۸) پھر تم کافروں کو سزا دو (ف۳۹) تو جن کی عورتیں جاتی رہی تھیں (ف۴۰) غنیمت میں سے انہیں اتنا دیدو جو ان کا خرچ ہوا تھا (ف۴۱) اور اللہ سے ڈرو جس پر تمہیں ایمان ہے،
(۱۲) اے نبی جب تمہارے حضور مسلمان عورتیں حاضر ہوں اس پر بیعت کرنے کو کہ اللہ کا کچھ شریک نہ ٹھہرائیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی (ف۴۲) اور نہ وہ بہتان لائیں گی جسے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان یعنی موضع ولادت میں اٹھائیں (ف۴۳) اور کسی نیک بات میں تمہاری نافرانی نہ کریں گی (ف۴۴) تو ان سے بیعت لو اور اللہ سے ان کی مغفرت چاہو (ف۴۵) بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۱۳) اے ایمان والو ان لوگوں سے دوستی نہ کرو جن پر اللہ کا غضب ہے (ف۴۶) وہ آخرت سے آس توڑ بیٹھے ہیں (ف۴۷) جیسے کافر آس توڑ بیٹھے قبر والوں سے (ف۴۸)

سورة الصّفّ ۔ ۶۱

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
(۲) اے ایمان والو کیوں کہتے ہو وہ جو نہیں کرتے (ف۲)
(۳) کیسی سخت ناپسند ہے اللہ کو وہ بات کہ وہ کہو جو نہ کرو،
(۴) بیشک اللہ دوست رکھتا ہے انہیں جو اس کی راہ میں لڑتے ہیں پرا (صف) باندھ کر گویا وہ عمارت ہیں رانگا پلائی (سیسہ پلائی دیوار) (ف۳)
(۵) اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا، اے میری قوم مجھے کیوں ستاتے ہو (ف۴) حالانکہ تم جانتے ہو (ف۵) کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں (ف۶) پھر جب وہ (ف۷) ٹیڑھے ہوئے اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کردیے (ف۸) اور اللہ فاسق لوگوں کو راہ نہیں دیتا (ف۹)
(۶) اور یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اپنے سے پہلی کتاب توریت کی تصدیق کرتا ہوا (ف۱۰) اور ان رسول کی بشارت سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے (ف۱۱) پھر جب احمد ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر تشریف لائے بولے یہ کھلا جادو،
(۷) اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۱۲) حالانکہ اسے اسلام کی طرف بلایا جاتا ہو (ف۱۳) اور ظالم لوگوں کو اللہ راہ نہیں دیتا،
(۸) چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور (ف۱۴) اپنے مونھوں سے بجھادیں (ف۱۵) اور اللہ کو اپنا نور پورا کرنا پڑے برا مانیں کافر،
(۹) وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے (ف۱۶) پڑے برا مانیں مشرک،
(۱۰) اے ایمان والو (ف۱۷) کیا میں بتادوں وہ تجارت جو تمہیں دردناک عذاب سے بچالے (ف۱۸)
(۱۱) ایمان رکھو اللہ اور اس کے رسول پر اور اللہ کی راہ میں اپنے مال و جان سے جہاد کرو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے (ف۱۹) اگر تم جانو (ف۲۰)
(۱۲) وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں اور پاکیزہ محلوں میں جو بسنے کے باغوں میں ہیں، یہی بڑی کامیابی ہے،
(۱۳) اور ایک نعمت تمہیں اور دے گا (ف۲۱) جو تمہیں پیاری ہے اللہ کی مدد اور جلد آنے والی فتح (ف۲۲) اور اے محبوب مسلمانوں کو خوشی سنادو (ف۲۳)
(۱۴) اے ایمان والو دین خدا کے مددگار ہو جیسے (ف۲۴) عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا تھا کون ہے جو اللہ کی طرف ہو کر میری مدد کریں حواری بولے (ف۲۵) ہم دینِ خدا کے مددگار ہیں تو بنی اسرائیل سے ایک گروہ ایمان لایا (ف۲۶) اور ایک گروہ نے کفر کیا (ف۲۷) تو ہم نے ایمان والوں کو ان کے دشمنوں پر مدد دی تو غالب ہوگئے (ف۲۸)

سورة الجمعة ۔ ۶۲

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے (ف۲) بادشاہ کمال پاکی والا عزت والا حکمت والا،
(۲) وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا (ف۳) کہ ان پر اس کی آیتیں پڑھتے ہیں (ف۴) اور انہیں پاک کرتے ہیں (ف۵) اور انہیں کتاب و حکمت کا علم عطا فرماتے ہیں (ف۶) اور بیشک وہ اس سے پہلے (ف۷) ضرور کھلی گمراہی میں تھے (ف۸)
(۳) اور ان میں سے (ف۹) اوروں کو (ف۱۰) پاک کرتے اور علم عطا فرماتے ہیں، جو ان اگلوں سے نہ ملے (ف۱۱) اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
(۴) یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے (ف۱۲)
(۵) ان کی مثال جن پر توریت رکھی گئی تھی (ف۱۳) پھر انہوں نے اس کی حکم برداری نہ کی (ف۱۴) گدھے کی مثال ہے جو پیٹھ پر کتابیں اٹھائے (ف۱۵) کیا ہی بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیتیں جھٹلائیں، اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دیتا،
(۶) تم فرماؤ اے یہودیو! اگر تمہیں یہ گمان ہے کہ تم اللہ کے دوست ہو اور لوگ نہیں (ف۱۶) تو مرنے کی آرزو کرو (ف۱۷) اگر تم سچے ہو (ف۱۸)
(۷) اور وہ کبھی اس کی آرزو نہ کریں گے ان کوتکوں کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں (ف۱۹) اور اللہ ظالموں کو جانتا ہے،
(۸) تم فرماؤ وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو وہ تو ضرور تمہیں ملنی ہے (ف۲۰) پھر اس کی طرف پھیرے جاؤ گے جو چھپا اور ظاہر سب کچھ جانتا ہے پھر وہ تمہیں بتادے گا جو تم نے کیا تھا،
(۹) اے ایمان والو جب نماز کی اذان ہو جمعہ کے دن (ف۲۱) تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو (ف۲۲) اور خرید و فروخت چھوڑ دو (ف۲۳) یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو،
(۱۰) پھر جب نماز ہوچکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو (ف۲۴) اور اللہ کو بہت یاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ، اور جب انہوں نے کوئی تجارت یا کھیل دیکھا اس کی طرف چل دیے (ف۲۵) اور تمہیں خطبے میں کھڑا چھوڑ گئے (ف۲۶) تم فرماؤ وہ جو اللہ کے پاس ہے (ف۲۷) کھیل سے اور تجارت سے بہتر ہے، اور اللہ کا رزق سب سے اچھا،

سورة المنٰفقو ن ۔ ۶۳

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) جب منافق تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں (ف۲) کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضور بیشک یقیناً اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ تم اس کے رسول ہو، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق ضرور جھوٹے ہیں (ف۳)
(۲) اور انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال ٹھہرالیا (ف۴) تو اللہ کی راہ سے روکا (ف۵) بیشک وہ بہت ہی برے کام کرتے ہیں (ف۶)
(۳) یہ اس لیے کہ وہ زبان سے ایمان لائے پھر دل سے کافر ہوئے تو ان کے دلوں پر مہر کردی گئی تو اب وہ کچھ نہیں سمجھتے،
(۴) اور جب تو انہیں دیکھے (ف۷) ان کے جسم تجھے بھلے معلوم ہوں، اور اگر بات کریں تو تُو ان کی بات غور سے سنے (ف۸) گویا وہ کڑیاں ہیں دیوار سے ٹکائی ہوئی (ف۹) ہر بلند آواز اپنے ہی اوپر لے جاتے ہیں (ف۱۰) وہ دشمن ہیں (ف۱۱) تو ان سے بچتے رہو (ف۱۲) اللہ انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں (ف۱۳)
(۵) اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ (ف۱۴) رسول اللہ تمہارے لیے معافی چاہیں تو اپنے سر گھماتے ہیں اور تم انہیں دیکھو کہ غور کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے ہیں (ف۱۵)
(۶) ان پر ایک سا ہے تم ان کی معافی چاہو یا نہ چاہو، اللہ انہیں ہر گز نہ بخشے گا (ف۱۶) بیشک اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا،
(۷) وہی ہیں جو کہتے ہیں کہ ان پر خرچ نہ کرو جو رسول اللہ کے پاس ہیں یہاں تک کہ پریشان ہوجائیں، اور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کے خزانے (ف۱۷) مگر منافقوں کو سمجھ نہیں،
(۸) کہتے ہیں ہم مدینہ پھر کر گئے (ف۱۸) تو ضرور جو بڑی عزت والا ہے وہ اس میں سے نکال دے گا اسے جو نہایت ذلت والا ہے (ف۱۹) اور عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں ہی کے لیے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں (ف۲۰)
(۹) اے ایمان والو تمہارے مال نہ تمہاری اولاد کوئی چیز تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کرے (ف۲۱) اور جو ایسا کرے (ف۲۲) تو وہی لوگ نقصان میں ہیں (ف۲۳)
(۱۰) اور ہمارے دیے میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرو (ف۲۴) قبل اس کے کہ تم میں کسی کو موت آئے پھر کہنے لگے، اے میرے رب تو نے مجھے تھوڑی مدت تک کیوں مہلت نہ دی کہ میں صدقہ دیتا اور نیکوں میں ہوتا،
(۱۱) اور ہرگز اللہ کسی جان کو مہلت نہ دے گا جب اس کا وعدہ آجائے (ف۲۵) اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،

سورة التغا بن ۔ ۶۴

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں، اسی کا ملک ہے اور اسی کی تعریف (ف۲) اور وہ ہر چیز پر قادر ہے،
(۲) وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا تو تم میں کوئی کافر اور تم میں کوئی مسلمان (ف۳) اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،
(۳) اس نے آسمان اور زمین حق کے ساتھ بنائے اور تمہاری تصویر کی تو تمہاری اچھی صورت بنائی (ف۴) اور اسی کی طرف پھرنا ہے (ف۵)
(۴) جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جانتا ہے جو تم چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو، اور اللہ دلوں کی بات جانتا ہے،
(۵) کیا تمہیں (ف۶) ان کی خبر نہ آئی جنہوں نے تم سے پہلے کفر کیا (ف۷) اور اپنے کام کا وبال چکھا (ف۸) اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے (ف۹)
(۶) یہ اس لیے کہ ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لاتے (ف۱۰) تو بولے، کیا آدمی ہمیں راہ بتائیں گے (ف۱۱) تو کافر ہوئے (ف۱۲) اور پھر گئے (ف۱۳) اور اللہ نے بے نیازی کو کام فرمایا، اور اللہ بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا،
(۷) کافروں نے بکا کہ وہ ہرگز نہ اٹھائے جائیں گے، تم فرماؤ کیوں نہیں میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر تمہارے کوتک تمہیں جتا دیے جائیں گے، اور یہ اللہ کو آسان ہے،
(۸) تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول اور اس نور پر (ف۱۴) جو ہم نے اتارا، اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے،
(۹) جس دن تمہیں اکٹھا کرے گا سب جمع ہونے کے دن (ف۱۵) وہ دن ہے ہار والوں کی ہار کھلنے کا (ف۱۶) اور جو اللہ پر ایمان لائے اور اچھا کام کرے اللہ اس کی برائیاں اتاردے گا اور اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیں کہ وہ ہمیشہ ان میں رہیں، یہی بڑی کامیابی ہے،
(۱۰) اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ آگ والے ہیں ہمیشہ اس میں رہیں، اور کیا ہی برا انجام،
(۱۱) کوئی مصیبت نہیں پہنچتی (ف۱۷) مگر اللہ کے حکم سے، اور جو اللہ پر ایمان لائے (ف۱۸) اللہ اس کے دل کو ہدایت فرمادے گا (ف۱۹) اور اللہ سب کچھ جانتا ہے،
(۱۲) اور اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو، پھر اگر تم منہ پھیرو (ف۲۰) تو جان لو کہ ہمارے رسول پر صرف صریح پہنچا دینا ہے (ف۲۱)
(۱۳) اللہ ہے جس کے سوا کسی کی بندگی نہیں اور اللہ ہی پر ایمان والے بھروسہ کریں،
(۱۴) اے ایمان والو تمہاری کچھ بی بیا ں اور بچے تمہارے دشمن ہیں (ف۲۲) تو ان سے احتیاط رکھو (ف۲۳) اور اگر معاف کرو اور درگزرو اور بخش دو تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
(۱۵) تمہارے مال اور تمہارے بچے جانچ ہی ہیں (ف۲۴) اور اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے (ف۲۵)
(۱۶) تو اللہ سے ڈرو جہاں تک ہوسکے (ف۲۶) اور فرمان سنو اور حکم مانو (ف۲۷) اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اپنے بھلے کو، اور جو اپنی جان کے لالچ سے بچایا گیا (ف۲۸) تو وہی فلاح پانے والے ہیں،
(۱۷) اگر تم اللہ کو اچھا قرض دو گے (ف۲۹) وہ تمہارے لیے اس کے دونے کردے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ قدر فرمانے والے حلم والا ہے
(۱۸) ہر نہاں اور عیاں کا جاننے والا عزت والا حکمت والا،

سورة الطلا ق ۔۶۵

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) اے نبی (ف۲) جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے وقت پر انہیں طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو (ف۳) اور اپنے رب اللہ سے ڈرو، عدت میں انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ آپ نکلیں (ف۴) مگر یہ کہ کوئی صریح بے حیائی کی بات لائیں (ف۵) اور یہ اللہ کی حدیں ہیں، اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھا بیشک اس نے اپنی جان پر ظلم کیا، تمہیں نہیں معلوم شاید اللہ اس کے بعد کوئی نیا حکم بھیجے (ف۶)
(۲) تو جب وہ اپنی میعاد تک پہنچنے کو ہوں (ف۷) تو انہیں بھلائی کے ساتھ روک لو یا بھلائی کے ساتھ جدا کرو (ف۸) اور اپنے میں دو ثقہ کو گواہ کرلو اور اللہ کے لیے گواہی قائم کرو (ف۹) اس سے نصیحت فرمائی جاتی ہے اسے جو اللہ اور پچھلے دن پر ایمان رکھتا ہو (ف۱۰) اور جو اللہ سے ڈرے (ف۱۱) اللہ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا (ف۱۲)
(۳) اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو، اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے (ف۱۳) بیشک اللہ اپنا کام پورا کرنے والا ہے، بیشک اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ رکھا ہے،
(۴) اور تمہاری عورتوں میں جنہیں حیض کی امید نہ رہی (ف۱۴) اگر تمہیں کچھ شک ہو (ف۱۵) تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور ان کی جنہیں ابھی حیض نہ آیا (ف۱۶) اور حمل والیوں کی میعاد یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جَن لیں (ف۱۷) اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے کام میں آسانی فرمادے گا،
(۵) یہ (ف۱۸) اللہ کا حکم ہے کہ اس نے تمہاری طرف اتارا، اور جو اللہ سے ڈرے (ف۱۹) اللہ اس کی برائیاں اتار دے گا اور اسے بڑا ثواب دے گا،
(۶) عورتوں کو وہاں رکھو جہاں خود رہتے ہو اپنی طاقت بھر (ف۲۰) اور انہیں ضرر نہ دو کہ ان پر تنگی کرو (ف۲۱) اور اگر (ف۲۲) حمل والیاں ہوں تو انہیں نان و نفقہ دو یہاں تک کہ ان کے بچہ پیدا ہو (ف۲۳) پھر اگر وہ تمہارے لیے بچہ کو دودھ پلائیں تو انہیں اس کی اجرت دو (ف۲۴) اور آپس میں معقول طور پر مشورہ کرو (ف۲۵) پھر اگر باہم مضائقہ کرو (دشوار سمجھو) (ف۲۶) تو قریب ہے کہ اسے اور دودھ پلانے والی مل جائے گی،
(۷) مقدور والا (ف۲۷) اپنے مقدور کے قابل نفقہ دے، اور جس پر اس کا رزق تنگ کیا گیا وہ اس میں سے نفقہ دے جو اسے اللہ نے دیا، اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں رکھتا مگر اسی قابل جتنا اسے دیا ہے، قریب ہے اللہ دشواری کے بعد آسانی فرمادے گا (ف۲۸)
(۸) اور کتنے ہی شہر تھے جنہوں نے اپنے رب کے حکم اور اس کے رسولوں سے سرکشی کی تو ہم نے ان سے سخت حسا ب لیا (ف۲۹) اور انہیں بری مار دی (ف۳۰)
(۹) تو انہوں نے اپنے کیے کا وبال چکھا اور ان کے کام انجام گھاٹا ہوا،
(۱۰) اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے تو اللہ سے ڈرو اے عقل والو! وہ جو ایمان لائے ہو، بیشک اللہ نے تمہارے لیے عزت اتاری ہے،
(۱۱ ) وہ رسول (ف۳۱) کہ تم پر اللہ کی روشن آیتیں پڑھتا ہے تاکہ انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے (ف۳۲) اندھیریوں سے (ف۳۳) اجالے کی طرف لے جائے، اور جو اللہ پر ایمان لائے اور اچھا کام کرے وہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیں جن میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں، بیشک اللہ نے اس کے لیے اچھی روزی رکھی (ف۳۴)
(۱۲) اللہ ہے جس نے سات آسمان بنائے (ف۳۵) اور انہی کی برابر زمینیں (ف۳۶) حکم ان کے درمیان اترتا ہے (ف۳۷) تاکہ تم جان لو کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے، اللہ کا علم ہر چیز کو محیط ہے،

سورة التحر یم ۔ ۶۶

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) اے غیب بتا نے والے ( نبی ) تم اپنے اوپر کیوں حرام کئے لیتے ہو وه چیز جو اللہ نے تمھارے لئے حلال کی (ف۲) اپنی بیبیوں کی مرضی چاہتے ہو اور اللہ بخشنے والا ٴ مہربان ہے،
(۲) بیشک اللہ نے تمہارے لیے تمہاری قسموں کا اتار مقرر فرمادیا (ف۳) اور اللہ تمہارا مولیٰ ہے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
(۳) اور جب نبی نے اپنی ایک بی بی (ف۴) سے ایک راز کی بات فرمائی (ف۵) پھر جب وہ (ف۶) اس کا ذکر کر بیٹھی اور اللہ نے اسے نبی پر ظاہر کردیا تو نبی نے اسے کچھ جتایا اور کچھ سے چشم پوشی فرمائی (ف۷) پھر جب نبی نے اسے اس کی خبر دی بولی (ف۸) حضور کو کس نے بتایا، فرمایا مجھے علم والے خبردار نے بتایا (ف۹)
(۴) نبی کی دونوں بیبیو! اگر اللہ کی طرف تم رجوع کرو تو (ف۱۰) ضرور تمہارے دل راہ سے کچھ ہٹ گئے ہیں (ف۱۱) اور اگر ان پر زور باندھو (ف۱۲) تو بیشک اللہ ان کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے، اور اس کے بعد فرشتے مدد پر ہیں،
(۵) ان کا رب قریب ہے اگر وہ تمہیں طلاق دے دیں کہ انہیں تم سے بہتر بیبیاں بدل دے اطاعت والیاں ایمان والیاں ادب والیاں (ف۱۳) توبہ والیاں بندگی والیاں (ف۱۴) روزہ داریں بیاہیاں اور کنواریاں (ف۱۵)
(۶) اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ (ف۱۶) جس کے ایندھن آدمی (ف۱۷) اور پتھر ہیں (ف۱۸) اس پر سخت کرّے (طاقتور) فرشتے مقرر ہیں (ف۱۹) جو اللہ کا حکم نہیں ٹالتے اور جو انہیں حکم ہو وہی کرتے ہیں (ف۲۰)
(۷) اے کافرو! آج بہانے نہ بناؤ (ف۲۱) تمہیں وہی بدلہ ملے گا جو تم کرتے تھے،
(۸) اے ایمان والو! اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جو آگے کو نصیحت ہوجائے (ف۲۲) قریب ہے تمہارا رب (ف۲۳) تمہاری برائیاں تم سے اتار دے اور تمہیں باغوں میں لے جائے جن کے نیچے نہریں بہیں جس دن اللہ رسوا نہ کرے گا نبی اور ان کے ساتھ کے ایمان والوں کو (ف۲۴) ان کا نور دوڑتا ہوگا ان کے آگے اور ان کے دہنے (ف۲۵) عرض کریں گے، اے ہمارے رب! ہمارے لیے ہمارا نور پورا کردے (ف۲۶) اور ہمیں بخش دے، بیشک تجھے ہر چیز پر قدرت ہے،
(۹) اے غیب بتانے والے! (نبی) (ف۲۷) کافروں پر اور منافقوں پر (ف۲۸) جہاد کرو اور ان پر سختی فرماؤ، اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اور کیا ہی برا انجام،
(۱۰) اللہ کافروں کی مثال دیتا ہے (ف۲۹) نوح کی عورت اور لوط کی عورت، وہ ہمارے بندوں میں دو سزا وارِ (لائق) قرب بندوں کے نکاح میں تمہیں پھر انہوں نے ان سے دغا کی (ف۳۰) تو وہ اللہ کے سامنے انہیں کچھ کام نہ آئے اور فرما دیا گیا (ف۳۱) کے تم دونوں عورتیں جہنم میں جاؤ جانے والوں کے ساتھ (ف۳۲)
(۱۱) اور اللہ مسلمانو ں کی مثال بیان فر ماتا ہے (ف۳۳) فرعون کی بی بی (ف۳۴) جب اس نے عرض کی، اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں گھر بنا (ف۳۵) اور مجھے فرعون اور اس کے کام سے نجات دے (ف۳۶) اور مجھے ظالم لوگوں سے نجات بخش (ف۳۷)
(۱۲) اور عمران کی بیٹی مریم جس نے اپنی پارسائی کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی طرف کی روح پھونکی اور اس نے اپنے رب کی باتوں (ف۳۸) اور اس کی کتابوں (ف۳۹) کی تصدیق کی اور فرمانبرداروں میں ہوئی،
سورة الملک ۔۶۷

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) بڑی برکت والا ہے وہ جس کے قبضہ میں سارا ملک (ف۲) اور وہ ہر چیز پر قادر ہے،
(۲) وہ جس نے موت اور زندگی پیدا کی کہ تمہاری جانچ ہو (ف۳) تم میں کس کا کام زیادہ اچھا ہے (ف۴) اور وہی عزت والا بخشش والا ہے،
(۳) جس نے سات آسمان بنائے ایک کے اوپر دوسرا، تو رحمٰن کے بنانے میں کیا فرق دیکھتا ہے (ف۵) تو نگاہ اٹھا کر دیکھ (ف۶) تجھے کوئی رخنہ نظر آتا ہے،
(۴) پھر دوبارہ نگاہ اٹھا (ف۷) نظر تیری طرف ناکام پلٹ آئے گی تھکی ماندی (ف۸)
(۵) اور بیشک ہم نے نیچے کے آسمان کو (ف۹) چراغوں سے آراستہ کیا (ف۱۰) اور انہیں شیطانوں کے لیے مار کیا (ف۱۱) اور ان کے لیے (ف۱۲) بھڑکتی آگ کا عذاب تیار فرمایا (ف۱۳)
(۶) اور جنہوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا (ف۱۴) ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے، اور کیا ہی برا انجام،
(۷) جب اس میں ڈالے جائیں گے اس کا رینکنا (چنگھاڑنا) سنیں گے کہ جوش مارتی ہے
(۸) معلوم ہوتا ہے کہ شدت غضب میں پھٹ جائے گی، جب کبھی کوئی گروہ اس میں ڈالا جائے گا اس کے داروغہ (ف۱۵) ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈر سنانے والا نہ آیا تھا (ف۱۶)
(۹) کہیں گے کیوں نہیں بیشک ہمارے پاس ڈر سنانے والے تشریف لائے (ف۱۷) پھر ہم نے جھٹلایا اور کہا اللہ نے کچھ نہیں اُتارا، تم تو نہیں مگر بڑی گمراہی میں،
(۱۰) اور کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے (ف۱۸) تو دوزخ والوں میں نہ ہوتے،
(۱۱) اب اپنے گناہ کا اقرار کیا (ف۱۹) تو پھٹکار ہو دوزخیوں کو،
(۱۲) بیشک جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں (ف۲۰) ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے (ف۲۱)
(۱۳) اور تم اپنی بات آہستہ کہو یا آواز سے، وہ تو دلوں کی جانتا ہے (ف۲۲)
(۱۴) کیا وہ نہ جانے جس نے پیدا کیا؟ (ف۲۳) اور وہی ہے ہر باریکی جانتا خبردار،
(۱۵) وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین رام (تابع) کر دی تو اس کے رستوں میں چلو اور اللہ کی روزی میں سے کھاؤ (ف۲۴) اور اسی کی طرف اٹھنا ہے (ف۲۵)
(۱۶) کیا تم اس سےنڈر ہوگئے جس کی سلطنت آسمان میں ہے کہ تمہیں زمین میں دھنسادے (ف۲۶) جبھی وہ کانپتی رہے (ف۲۷)
(۱۷) یا تم نڈر ہوگئے اس سے جس کی سلطنت آسمان میں ہے کہ تم پر پتھراؤ بھیجے (ف۲۸) تو اب جانو گے (ف۲۹) کیسا تھا میرا ڈرانا،
(۱۸) اور بیشک ان سے اگلوں نے جھٹلایا (ف۳۰) تو کیسا ہوا میرا انکار (ف۳۱)
(۱۹) اور کیا انہوں نے اپنے اوپر پرندے نہ دیکھے پر پھیلاتے (ف۳۲) اور سمیٹتے انہیں کوئی نہیں روکتا (ف۳۳) سوا رحمٰن کے (ف۳۴) بیشک وہ سب کچھ دیکھتا ہے،
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 16-02-08, 07:24 AM   #43
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 28
مراسلات: 11,250
کمائي: 23,271,276
ميرا موڈ:
شکریہ: 5,007
2,462 مراسلہ میں 5,556 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: کنز الایمان ۔ ترجمہ قرآن۔ احمد رضا بریلوی

(۲۰) یا وہ کونسا تمہارا لشکر ہے کہ رحمٰن کے مقابل تمہاری مدد کرے (ف۳۵) کافر نہیں مگر دھوکے میں (ف۳۶) (۲۱) یا کونسا ایسا ہے جو تمہیں روزی دے اگر وہ اپنی روزی روک لے (ف۳۷) بلکہ وہ سرکش اور نفرت میں ڈھیٹ بنے ہوئے ہیں (ف۳۸)
(۲۲) تو کیا وہ جو اپنے منہ کے بل اوندھا چلے (ف۳۹) زیادہ راہ پر ہے یا وہ جو سیدھا چلے (ف۴۰) سیدھی راہ پر (ف۴۱)
(۲۳) تم فرماؤ (ف۴۲) وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے لیے کان اور آنکھ اور دل بنائے (ف۴۳) کتنا کم حق مانتے ہو (ف۴۴)
(۲۴) تم فرماؤ وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا اور اسی کی طرف اٹھائے جاؤ گے (ف۴۵)
(۲۵) اور کہتے ہیں (ف۴۶) یہ وعدہ (ف۴۷) کب آئے گا اگر تم سچے ہو،
(۲۶) تم فرماؤ یہ علم تو اللہ کے پاس ہے، اور میں تو یہی صاف ڈر سنانے والا ہوں (ف۴۸)
(۲۷) پھر جب اسے (ف۴۹) پاس دیکھیں گے کافروں کے منہ بگڑ جائیں گے (ف۵۰) اور ان سے فرمادیا جائے گا (ف۵۱) یہ ہے جو تم مانگتے تھے (ف۵۲)
(۲۸) تم فرماؤ (ف۵۳) بھلا دیکھو تو اگر اللہ مجھے اور میرے ساتھ والوں کو (ف۵۴) بلاک کردے یا ہم پر رحم فرمائے (ف۵۵) تو وہ کونسا ہے جو کافروں کو دکھ کے عذاب سے بچالے گا (ف۵۶)
(۲۹) تم فرماؤ وہی رحمٰن ہے (ف۵۷) ہم اس پر ایمان لائے اور اسی پر بھروسہ کیا، تو اب جان جاؤ گے (ف۵۸) کون کھلی گمراہی میں ہے،
(۳۰) تم فرماؤ بھلا دیکھو تو اگر صبح کو تمہارا پانی زمین میں دھنس جائے (ف۵۹) تو وہ کون ہے جو تمہیں پانی لادے نگاہ کے سامنے بہتا (ف۶۰)

سورة قلم ۔ ۶۸

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا ہے (ف۱)

(۱) قلم (ف۲) اور ان کے لکھے کی قسم (ف۳)
(۲) تم اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں (ف۴)
(۳) اور ضرور تمہارے لیے بے انتہا ثواب ہے (ف۵)
(۴) اور بیشک تمہاری خُو بُو (خُلق) بڑی شان کی ہے (ف۶)
(۵) تو اب کوئی دم جاتا ہے کہ تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے (ف۷)
(۶) کہ تم میں کون مجنون تھا،
(۷) بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکے، اور وہ خوب جانتا ہے جو راہ پر ہے،
(۸) تو جھٹلانے والوں کی بات نہ سننا،
(۹) وہ تو اس آرزو میں ہیں کہ کسی طرح تم نرمی کرو (ف۸) تو وہ بھی نرم پڑجائیں،
(۱۰) اور ہر ایسے کی بات نہ سننا جو بڑا قسمیں کھانے والا (ف۹) ذلیل
(۱۱) بہت طعنے دینے والا بہت اِدھر کی اُدھر لگاتا پھرنے والا (ف۱۰)
(۱۲) بھلائی سے بڑا روکنے والا (ف۱۱) حد سے بڑھنے والا گنہگار (ف۱۲)
(۱۳) درشت خُو (ف۱۳) اس سب پر طرہ یہ کہ اس کی اصل میں خطا (ف۱۴)
(۱۴) اس پر کہ کچھ مال اور بیٹے رکھتا ہے،
(۱۵) جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں (ف۱۵) کہتا ہے کہ اگلوں کی کہانیاں ہیں (ف۱۶)
(۱۶) قریب ہے کہ ہم اس کی سور کی سی تھوتھنی پر داغ دیں گے (ف۱۷)
(۱۷) بیشک ہم نے انہیں جانچا (ف۱۸) جیسا اس باغ والوں کو جانچا تھا (ف۱۹) جب انہوں نے قسم کھائی کہ ضرور صبح ہوتے اس کھیت کو کاٹ لیں گے (ف۲۰)
(۱۸) اور انشاء اللہ نہ کہا (ف۲۱)
(۱۹) تو اس پر (ف۲۲) تیرے رب کی طرف سے ایک پھیری کرنے والا پھیرا کر گیا (ف۲۳) اور وہ سوتے تھے، (۲۰) تو صبح رہ گیا (ف۲۴) جیسے پھل ٹوٹا ہوا (ف۲۵)
(۲۱) پھر انہوں نے صبح ہوتے ایک دوسرے کو پکارا،
(۲۲) کہ تڑکے اپنی کھیتی چلو اگر تمہیں کاٹنی ہے،
(۲۳) تو چلے اور آپس میں آہستہ آہستہ کہتے جاتے تھے کہ
(۲۴) ہرگز آج کوئی مسکین تمہارے باغ میں آنے نہ پائے،
(۲۵) اور تڑکے چلے اپنے اس ارادہ پر قدرت سمجھتے (ف۲۶)
(۲۶) پھر جب اسے (ف۲۷) بولے بیشک ہم راستہ بہک گئے (ف۲۸)
(۲۷) بلکہ ہم بے نصیب ہوئے (ف۲۹)
(۲۸) ان میں جو سب سے غنیمت تھا بولا کیا میں تم سے نہیں کہتا تھا کہ تسبیح کیوں نہیں کرتے (ف۳۰)
(۲۹) بولے پاکی ہے ہمارے رب کو بیشک ہم ظالم تھے،
(۳۰) اب ایک دوسرے کی طرف ملامت کرتا متوجہ ہوا (ف۳۱)
(۳۱) بولے ہائے خرابی ہماری بیشک ہم سرکش تھے (ف۳۲)
(۳۲) امید ہے ہمیں ہمارا رب اس سے بہتر بدل دے ہم اپنے رب کی طرف رغبت لاتے ہیں (ف۳۳)
(۳۳) مار ایسی ہوتی ہے (ف۳۴) اور بیشک آخرت کی مار سب سے بڑی، کیا اچھا تھا اگر وہ جانتے (ف۳۵)
(۳۴) بیشک ڈر والوں کے لیے ان کے رب کے پاس (ف۳۶) چین کے باغ ہیں (ف۳۷)
(۳۵) کیا ہم مسلمانوں کو مجرموں کا سا کردیں (ف۳۸)
(۳۶) تمہیں کیا ہوا کیسا حکم لگاتے ہو (ف۳۹)
(۳۷) کیا تمہارے لیے کوئی کتاب ہے اس میں پڑھتے ہو،
(۳۸) کہ تمہارے لیے اس میں جو تم پسند کرو،
(۳۹) یا تمہارے لیے ہم پر کچھ قسمیں ہیں قیامت تک پہنچتی ہوئی (ف۴۰) کہ تمہیں ملے گا جو کچھ دعویٰ کرتے ہو (ف۴۱)
(۴۰) تم ان سے (ف۴۲) پوچھو ان میں کون سا اس کا ضامن ہے (ف۴۳)
(۴۱) یا ان کے پاس کچھ شریک ہیں (ف۴۴) تو اپنے شریکوں کو لے کر آئیں اگر سچے ہیں (ف۴۵)
(۴۲) جس دن ایک ساق کھولی جائے گی (جس کے معنی اللہ ہی جانتا ہے) (ف۴۶) اور سجدہ کو بلائے جائیں گے (ف۴۷) تو نہ کرسکیں گے (ف۴۸)
(۴۳) نیچی نگاہیں کیے ہوئے (ف۴۹) ان پر خواری چڑھ رہی ہوگی، اور بیشک دنیا میں سجدہ کے لیے بلائے جاتے تھے (ف۵۰) جب تندرست تھے (ف۵۱)
(۴۴) تو جو اس بات کو (ف۵۲) جھٹلاتا ہے اسے مجھ پر چھوڑ دو (ف۵۳) قریب ہے کہ ہم انہیں آہستہ آہستہ لے جائیں گے (ف۵۴) جہاں سے انہیں خبر نہ ہوگی،
(۴۵) اور میں انہیں ڈھیل دوں گا، بیشک میری خفیہ تدبیر بہت پکی ہے (ف۵۵)
(۲۶) یا تم ان سے اجرت مانگتے ہو (ف۵۶) کہ وہ چٹی کے بوجھ میں دبے ہیں (ف۵۷)
(۴۷) یا ان کے پاس غیب ہے (ف۵۸) کہ وہ لکھ رہے ہیں (ف۵۹)
(۴۸) تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر و (ف۶۰) اور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا (ف۶۱) جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھا (ف۶۲)
(۴۹) اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی (ف۶۳) تو ضرور میدان پر پھینک دیا جاتا الزام دیا ہوا (ف۶۴)
(۵۰) تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قربِ خاص کے سزاواروں (حقداروں) میں کرلیا،
(۵۱) اور ضرور کافر تو ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ گویا اپنی بد نظر لگا کر تمہیں گرادیں گے جب قرآن سنتے ہیں (ف۶۵) اور کہتے ہیں (ف۶۶) یہ ضرور عقل سے دور ہیں،
(۵۲) اور وہ (ف۶۷) تو نہیں مگر نصیحت سارے جہاں کے لیے (ف۶۸)

سورة الحا قة ۔ ۶۹

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) وہ حق ہونے والی (ف۲)
(۲) کیسی وہ حق ہونے والی (ف۳)
(۳) اور تم نے کیا جانا کیسی وہ حق ہونے والی (ف۴)
(۴) ثمود اور عاد نے اس سخت صدمہ دینے والی کو جھٹلایا،
(۵) تو ثمود تو ہلاک کیے گئے حد سے گزری ہوئی چنگھاڑ سے (ف۵)
(۶) اور رہے عاد وہ ہلاک کیے گئے نہایت سخت گرجتی آندھی سے،
(۷) وہ ان پر قوت سے لگادی سات راتیں اور آٹھ دن (ف۶) لگاتار تو ان لوگوں کو ان میں (ف۷) دیکھو بچھڑے ہوئے (ف۸) گویا وہ کھجور کے ڈھنڈ (سوکھے تنے) ہیں گرے ہوئے،
(۸) تو تم ان میں کسی کو بچا ہوا دیکھتے ہو (ف۹)
(۹) اور فرعون اور اس سے اگلے (ف۱۰) اور الٹنے والی بستیاں (ف۱۱) خطا لائے (ف۱۲)
(۱۰) تو انہوں نے اپنے رب کے رسولوں کا حکم نہ مانا (ف۱۳) تو اس نے انہیں بڑھی چڑھی گرفت سے پکڑا، (۱۱) بیشک جب پانی نے سر اٹھایا تھا (ف۱۴) ہم نے تمہیں (ف۱۵) کشتی میں سوار کیا (ف۱۶)
(۱۲) کہ اسے (ف۱۷) تمہارے لیے یادگار کریں (ف۱۸) اور اسے محفوظ رکھے وہ کان کہ سن کر محفوظ رکھتا ہو (ف۱۹)
(۱۳) پھرجب صور پھونک دیا جائے ایک دم،
(۱۴) اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر دفعتا ً چُورا کردیے جائیں،
(۱۵) وہ دن ہے کہ ہو پڑے گی وہ ہونے والی (ف۲۰)
(۱۶) اور آسمان پھٹ جائے گا تو اس دن اس کا پتلا حال ہوگا (ف۲۱)
(۱۷) اور فرشتے اس کے کناروں پر کھڑے ہوں گے (ف۲۲) اور اس دن تمہارے رب کا عرش اپنے اوپر آٹھ فرشتے اٹھائیں گے (ف۲۳)
(۱۸) اس دن تم سب پیش ہو گے (ف۲۴) کہ تم میں کوئی چھپنے والی جان چھپ نہ سکے گی،
(۱۹) تو وہ جو اپنا نامہٴ اعمال دہنے ہاتھ میں دیا جائے گا (ف۲۵) کہے گا لو میرے نامہٴ اعمال پڑھو،
(۲۰) مجھے یقین تھا کہ میں اپنے حساب کو پہنچوں گا (ف۲۶)
(۲۱) تو وہ من مانتے چین میں ہے،
(۲۲) بلند باغ میں،
(۲۳) جس کے خوشے جھکے ہوئے (ف۲۷)
(۲۴) کھاؤ اور پیو رچتا ہوا صلہ اس کا جو تم نے گزرے دنوں میں آگے بھیجا (ف۲۸)
(۲۵) اور وہ جو اپنا نامہٴ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا (ف۲۹) کہے گا ہائے کسی طرح مجھے اپنا نوشتہ نہ دیا جاتا،
(۲۶) اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے،
(۲۷) ہائے کسی طرح موت ہی قصہ چکا جاتی (ف۳۰)
(۲۸) میرے کچھ کام نہ آیا میرا مال (ف۳۱)
(۲۹) میرا سب زور جاتا رہا (ف۳۲)
(۳۰) اسے پکڑو پھر اسے طوق ڈالو (ف۳۳)
(۳۱) پھر اسے بھڑکتی آگ میں دھنساؤ،
(۳۲) پھر ایسی زنجیر میں جس کا ناپ ستر ہاتھ ہے (ف۳۴) اسے پُرو دو (ف۳۵)
(۳۳) بیشک وہ عظمت والے اللہ پر ایمان نہ لاتا تھا (ف۳۶)
(۳۴) اور مسکین کو کھانے دینے کی رغبت نہ دیتا (ف۳۷)
(۳۵) تو آج یہاں (ف۳۸) اس کا کوئی دوست نہیں (ف۳۹)
(۳۶) اور نہ کچھ کھانے کو مگر دوزخیوں کا پیپ،
(۳۷) اسے نہ کھائیں گے مگر خطاکار (ف۴۰)
(۳۸) تو مجھے قسم ان چیزوں کی جنہیں تم دیکھتے ہو،
(۳۹) اور جنہیں تم نہیں دیکھتے (ف۴۱)
(۴۰) بیشک یہ قرآن ایک کرم والے رسول (ف۴۲) سے باتیں ہیں (ف۴۳)
(۴۱) اور وہ کسی شاعر کی بات نہیں (ف۴۴) کتنا کم یقین رکھتے ہو (ف۴۵)
(۴۲) اور نہ کسی کاہن کی بات (ف۴۶) کتنا کم دھیان کرتے ہو (ف۴۷)
(۴۳) اس نے اتارا ہے جو سارے جہان کا رب ہے،
(۴۴) اور اگر وہ ہم پر ایک بات بھی بنا کر کہتے (ف۴۸)
(۴۵) ضرور ہم ان سے بقوت بدلہ لیتے،
(۴۶) پھر ان کی رگِ دل کاٹ دیتے (ف۴۹)
(۴۷) پھر تم میں کوئی ان کا بچانے والا نہ ہوتا،
(۴۸) اور بیشک یہ قرآن ڈر والوں کو نصیحت ہے،
(۴۹) اور ضرور ہم جانتے ہیں کہ تم کچھ جھٹلانے والے ہیں،
(۵۰) اور بیشک وہ کافروں پر حسرت ہے (ف۵۰)
(۵۱) اور بیشک وہ یقین حق ہے (ف۵۱)
(۵۲) تو اے محبوب تم اپنے عظمت والے رب کی پاکی بولو (ف۵۲)

سورة معارج ۔۷۰
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) ایک مانگنے والا وہ عذاب مانگتا ہے،
(۲) جو کافروں پر ہونے والا ہے، اس کا کوئی ٹالنے والا نہیں (ف۲) ،
(۳) وہ ہوگا اللہ کی طرف سے جو بلندیوں کا مالک ہے (ف۳)
(۴) ملائکہ اور جبریل (ف۴) اس کی بارگاہ کی طرف عروج کرتے ہیں (ف۵) وہ عذاب اس دن ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے (ف۶)
(۵) تو تم اچھی طرح صبر کرو،
(۶) وہ اسے (ف۷) دور سمجھ رہے ہیں (ف۸)
(۷) اور ہم اسے نزدیک دیکھ رہے ہیں (ف۹)
(۸) جس دن آسمان ہوگا جیسی گلی چاندی،
(۹) اور پہاڑ ایسے ہلکے ہوجائیں گے جیسے اون (ف۱۰)
(۱۰) اور کوئی دوست کسی دوست کی بات نہ پوچھے گا (ف۱۱)
(۱۱) ہوں گے انہیں دیکھتے ہوئے (ف۱۲) مجرم (ف۱۳) آرزو کرے گا، کاش! اس دن کے عذاب سے چھٹنے کے بدلے میں دے دے اپنے بیٹے،
(۱۲) اور اپنی جورو اور اپنا بھائی،
(۱۳) اور اپنا کنبہ جس میں اس کی جگہ ہے،
(۱۴) اور جتنے زمین میں ہیں سب پھر یہ بدلہ دنیا اسے بچالے،
(۱۵) ہرگز نہیں (ف۱۴) وہ تو بھڑکتی آگ ہے،
(۱۶) کھال اتار لینے والی بلارہی ہے (ف۱۵)
(۱۷) اس کو جس نے پیٹھ دی اور منہ پھیرا (ف۱۶)
(۱۸) اور جوڑ کر سینت رکھا (محفوظ کرلیا) (ف۱۷)
(۱۹) بیشک آدمی بنایا گیا ہے بڑا بے صبرا حریص،
(۲۰) جب اسے برائی پہنچے (ف۱۸) تو سخت گھبرانے والا ،
(۲۱) اور جب بھلائی پہنچے (ف۱۹) تو روک رکھنے والا (ف۲۰)
(۲۲) مگر نمازی ،
(۲۳) جو اپنی نماز کے پابند ہیں (ف۲۱)
(۲۴) اور وہ جن کے مال میں ایک معلوم حق ہے (ف۲۲)
(۲۵) اس کے لیے جو مانگے اور جو مانگ بھی نہ سکے تو محروم رہے (ف۲۳)
(۲۶) اور ہو جو انصاف کا دن سچ جانتے ہیں (ف۲۴)
(۲۷) اور وہ جو اپنے رب کے عذاب سے ڈر رہے ہیں،
(۲۸) بیشک ان کے رب کا عذاب نڈر ہونے کی چیز نہیں (ف۲۵)
(۲۹) اور ہو جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں،
(۳۰) مگر اپنی بیبیوں یا اپنے ہاتھ کے مال کنیزوں سے کہ ان پر کچھ ملامت نہیں،
(۳۱) تو جو ان دو (ف۲۶) کے سوا اور چاہے وہی حد سے بڑھنے والے ہیں (ف۲۷)
(۳۲) اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرتے ہیں (ف۲۸)
(۳۳) اور وہ جو اپنی گواہیوں پر قائم ہیں (ف۲۹)
(۳۴) اور وہ جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں (ف۳۰)
(۳۵) یہ ہیں جن کا باغوں میں اعزاز ہوگا (ف۳۱)
(۳۶) تو ان کافروں کو کیا ہوا تمہاری طرف تیز نگاہ سے دیکھتے ہیں (ف۳۲)
(۳۷) داہنے اور بائیں گروہ کے گروہ،
(۳۸) کیا ان میں ہر شخص یہ طمع کرتا ہے کہ (ف۳۳) چین کے باغ میں داخل کیا جائے ،
(۳۹) ہرگز نہیں، بیشک ہم نے انہیں اس چیز سے بنایا جسے جانتے ہیں (ف۳۴)
(۴۰) تو مجھے قسم ہے اس کی جو سب پُوربوں سب پچھموں کا مالک ہے (ف۳۵) کہ ضرور ہم قادر ہیں،
(۴۱) کہ ان سے اچھے بدل دیں (ف۳۶) اور ہم سے کوئی نکل کر نہیں جاسکتا (ف۳۷)
(۴۲) تو انہیں چھوڑ دو ان کی بیہودگیوں میں پڑے اور کھیلتے ہوئے یہاں تک کہ اپنے اس (ف۳۸) دن سے ملیں جس کا انہیں وعدہ دیا جاتا ہے،
(۴۳) جس دن قبروں سے نکلیں گے جھپٹتے ہوئے (ف۳۹) گویا وہ نشانیوں کی طرف لپک رہے ہیں (ف۴۰) (۴۴) آنکھیں نیچی کیے ہوئے ان پر ذلت سوار، یہ ہے ان کا وہ دن (ف۴۱) جس کا ان سے وعدہ تھا (ف۴۲)

سورة نوح ۔۷۱
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا کہ ان کو ڈرا اس سے پہلے کہ ان پر دردناک عذاب آئے (ف۲) (۲) اس نے فرمایا اے میری قوم! میں تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں ،
(۳) کہ اللہ کی بندگی کرو (ف۳) اور اس سے ڈرو (ف۴) اور میرا حکم مانو ،
(۴) وہ تمہارے کچھ گناہ بخش دے گا (ف۵) اور ایک مقرر میعاد تک (ف۶) تمہیں مہلت دے گا (ف۷) بیشک اللہ کا وعدہ جب آتا ہے ہٹایا نہیں جاتا کسی طرح تم جانتے (ف۸)
(۵) عرض کی (ف۹) اے میرے رب! میں نے اپنی قوم کو رات دن بلایا (ف۱۰)
(۶) تو میرے بلانے سے انہیں بھاگنا ہی بڑھا (ف۱۱)
(۷) اور میں نے جتنی بار انہیں بلایا (ف۱۲) کہ تو ان کو بخشے انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں (ف۱۳) اور اپنے کپڑے اوڑھ لیے (ف۱۴) اور ہٹ کی (ف۱۵) اور بڑا غرور کیا (ف۱۶)
(۸) پھر میں نے انہیں علانیہ بلایا (ف۱۷)
(۹) پھر میں نے ان سے با علان بھی کہا (ف۱۸) اور آہستہ خفیہ بھی کہا (ف۱۹)
(۱۰) تو میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو (ف۲۰) وہ بڑا معاف فرمانے والا ہے (ف۲۱)
(۱۱) تم پر شراٹے کا (موسلا دھار) مینھ بھیجے گا،
(۱۲) اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا (ف۲۲) اور تمہارے لیے باغ بنادے گا اور تمہارے لیے نہریں بنائے گا (ف۲۳)
(۱۳) تمہیں کیا ہوا اللہ سے عزت حاصل کرنے کی امید نہیں کرتے (ف۲۴)
(۱۴) حالانکہ اس نے تمہیں طرح طرح بنایا (ف۲۵)
(۱۵) کیا تم نہیں دیکھتے اللہ نے کیونکر سات آسمان بنائے ایک پر ایک ،
(۱۶) اور ان میں چاند کو روشن کیا (ف۲۶) اور سورج کو چراغ (ف۲۷)
(۱۷) اور اللہ نے تمہیں سبزے کی طرح زمین سے اُگایا (ف۲۸)
(۱۸) پھر تمہیں اسی میں لے جائے گا (ف۲۹) اور دبارہ نکالے گا (ف۳۰)
(۱۹) اور اللہ نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا ،
(۲۰) کہ اس کے وسیع راستوں میں چلو،
(۲۱) نوح نے عرض کی، اے میرے رب! انہوں نے میری نافرمانی کی (ف۳۱) اور (ف۳۲) ایسے کے پیچھے ہولیے جیسے اس کے مال اور اولاد نے نقصان ہی بڑھایا (ف۳۳)
(۲۲) اور (ف۳۴) بہت بڑا داؤ ں کھیلے (ف۳۵)
(۲۳) اور بولے (ف۳۶) ہرگز نہ چھوڑنا اپنے خداؤں کو (ف۳۷) اور ہرگز نہ چھوڑنا ودّ اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو (ف۳۸)
(۲۴) اور بیشک انہوں نے بہتوں کو بہکایا (ف۳۹) اور تو ظالموں کو (ف۴۰) زیادہ نہ کرنا مگر گمراہی (ف۴۱)
(۲۵) اپنی کیسی خطاؤں پر ڈبوئے گئے (ف۴۲) پھر آگ میں داخل کیے گئے (ف۴۳) تو انہوں نے اللہ کے مقابل اپنا کوئی مددگار نہ پایا (ف۴۴)
(۲۶) اور نوح نے عرض کی، اے میرے رب! زمین پر کافروں میں سے کوئی بسنے والا نہ چھوڑ،
(۲۷) بیشک اگر تو انہیں رہنے دے گا (ف۴۵) تو تیرے بندوں کو گمراہ کردیں گے اور ان کے اولاد ہوگی تو وہ بھی نہ ہوگی مگر بدکار بڑی ناشکر (ف۴۶)
(۲۸) اے میرے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو (ف۴۷) اور اسے جو ایمان کے ساتھ میرے گھر میں ہے اور سب مسلمان مردوں اور سب مسلمان عورتوں کو، اور کافروں کو نہ بڑھا مگر تباہی (ف۴۸)

سورة الجنّ ۔ ۷۳
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) تم فرماؤ (ف۲) مجھے وحی ہوئی کہ کچھ جنوں نے (ف۳) میرا پڑھنا کان لگا کر سنا (ف۴) تو بولے (ف۵) ہم نے ایک عجیب قرآن سنا (ف۶)
(۲) کہ بھلائی کی راہ بتا تا ہے (ف۷) تو ہم اس پر ایمان لائے، اور ہم ہرگز کسی کو اپنے رب کا شریک نہ کریں گے،
(۳) اور یہ کہ ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے نہ اس نے عورت اختیار کی اور نہ بچہ (ف۸)
(۴) اور یہ کہ ہم میں کا بے وقوف اللہ پر بڑھ کر بات کہتا تھا (ف۹)
(۵) اور یہ کہ ہمیں خیال تھا کہ ہرگز آدمی اور جِن اللہ پر جھوٹ نہ باندھیں گے (ف۱۰)
(۶) اور یہ کہ آدمیوں میں کچھ مرد جنوں کے کچھ مردوں کے پناہ لیتے تھے (ف۱۱) تو اس سے اور بھی ان کا تکبر بڑھا ،
(۷) اور یہ کہ انہوں نے (ف۱۲) گمان کیا جیسا تمہیں گمان ہے (ف۱۳) کہ اللہ ہرگز کوئی رسول نہ بھیجے گا ،
(۸) اور یہ کہ ہم نے آسمان کو چھوا (ف۱۴) تو اسے پایا کہ (ف۱۵) سخت پہرے اور آگ کی چنگاریوں سے بھردیا گیا ہے (ف۱۶)
(۹) اور یہ کہ ہم (ف۱۷) پہلے آسمان میں سننے کے لیے کچھ موقعوں پر بیٹھا کرتے تھے، پھر اب (ف۱۸) جو کوئی سنے وہ اپنی تاک میں آگ کا لُوکا (لپٹ) پائے (ف۱۹)
(۱۰) اور یہ کہ ہمیں نہیں معلوم کہ (ف۲۰) زمین والوں سے کوئی برائی کا ارادہ فرمایا گیا ہے یا ان کے نے کوئی بھلائی چاہی ہے،
(۱۱) اور یہ کہ ہم میں (ف۲۱) کچھ نیک ہیں (ف۲۲) اور کچھ دوسری طرح کے ہیں، ہم کئی راہیں پھٹے ہوئے ہیں (ف۲۳)
(۱۲) اور یہ کہ ہم کو یقین ہوا کہ ہر گز زمین اللہ کے قابو سے نہ نکل سکیں گے اور نہ بھاگ کر اس کے قبضہ سے باہر ہوں،
(۱۳) اور یہ کہ ہم نے جب ہدایت سنی (ف۲۴) اس پر ایمان لائے، تو جو اپنے رب پر ایمان لائے اسے نہ کسی کمی کا خوف (ف۲۵) اور نہ زیادگی کا (ف۲۶)
(۱۴) اور یہ کہ ہم میں کچھ مسلمان ہیں اور کچھ ظالم (ف۲۷) تو جو اسلام لائے انہوں نے بھلائی سوچی (ف۲۸)
(۱۵) اور رہے ظالم (ف۲۹) وہ جہنم کے ایندھن ہوئے (ف۳۰)
(۱۶) اور فرماؤ کہ مجھے یہ وحی ہوئی ہے کہ اگر وہ (ف۳۱) راہ پر سیدھے رہتے (ف۳۲) تو ضرور ہم انہیں وافر پانی دیتے (ف۳۳)
(۱۷) کہ اس پر انہیں جانچیں (ف۳۴) اور جو اپنے رب کی یاد سے منہ پھیرے (ف۳۵) وہ اسے چڑھتے عذاب میں ڈالے گا (ف۳۶)
(۱۸) اور یہ کہ مسجدیں (ف۳۷) اللہ ہی کی ہیں تو اللہ کے ساتھ کسی کی بندگی نہ کرو (ف۳۸)
(۱۹) اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ (ف۳۹) اس کی بندگی کرنے کھڑا ہوا (ف۴۰) تو قریب تھا کہ وہ جن اس پر ٹھٹھ کے ٹھٹھ ہوجائیں (ف۴۱)
(۲۰) تم فرماؤ میں تو اپنے رب ہی کی بندگی کرتا ہوں اور کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہراتا،
(۲۱) تم فرماؤ میں تمہارے کسی برے بھلے کا مالک نہیں،
(۲۲) تم فرماؤ ہرگز مجھے اللہ سے کوئی نہ بچائے گا (ف۴۲) اور ہرگز اس کے سوا کوئی پناہ نہ پاؤں گا،
(۲۳) مگر اللہ کے پیام پہنچاتا اور اس کی رسالتیں (ف۴۳) اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم نہ مانے (ف۴۴) تو بیشک ان کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں،
(۲۴) یہاں تک کہ جب دیکھیں گے (ف۴۵) جو وعدہ دیا جاتا ہے تو اب جان جائیں گے کہ کس ک مددگار کمزور اور کس کی گنتی کم (ف۴۶)
(۲۵) تم فرماؤ میں نہیں جانتا آیا نزدیک ہے وہ جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے یا میرا رب اسے کچھ وقفہ دے گا (ف۴۷)
(۲۶) غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر (ف۴۸) کسی کو مسلط نہیں کرتا (ف۴۹)
(۲۷) سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے (ف۵۰) کہ ان کے آگے پیچھے پہرا مقرر کر دیتا ہے (ف۵۱)
(۲۸) تا کہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیام پہنچا دیے اور جو کچھ ان کے پاس سب اس کے علم میں ہے اور اس نے ہر چیز کی گنتی شمار کر رکھی ہے (ف۵۲)

سورة مز مل ۔ ۷۳
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) اے جھرمٹ مارنے والے (ف۲)
(۲) رات میں قیام فرما (ف۳) سوا کچھ رات کے (ف۴)
(۳) آدھی رات یا اس سے کچھ تم کرو،
(۴) یا اس پر کچھ بڑھاؤ (ف۵) اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو (ف۶)
(۵) بیشک عنقریب ہم تم پر ایک بھاری بات ڈالیں گے (ف۷)
(۶) بیشک رات کا اٹھنا (ف۸) وہ زیادہ دباؤ ڈالتا ہے (ف۹) اور بات خوب سیدھی نکلتی ہے (ف۱۰)
(۷) بیشک دن میں تو تم کو بہت سے کام ہیں (ف۱۱)
(۸) اور اپنے رب کا نام یاد کرو (ف۱۲) اور سب سے ٹوٹ کر اسی کے ہو رہو (ف۱۳)
(۹) وہ پورب کا رب اور پچھم کا رب اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو تم اسی کو اپنا کارساز بناؤ (ف۱۴)
(۱۰) اور کافروں کی باتوں پر صبر فرماؤ اور انہیں اچھی طرح چھوڑ دو (ف۱۵)
(۱۱) اور مجھ پر چھوڑو ان جھٹلانے والے مالداروں کو اور انہیں تھوڑی مہلت دو (ف۱۶)
(۱۲) بیشک ہمارے پاس (ف۱۷) بھاری بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی آگ ،
(۱۳) اور گلے میں پھنستا کھانا اور دردناک عذاب (ف۱۸)
(۱۴) جس دن تھرتھرائیں گے زمین اور پہاڑ (ف۱۹) اور پہاڑ ہوجائیں گے ریتے کا ٹیلہ بہتا ہوا،
(۱۵) بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجے (ف۲۰) کہ تم پر حاضر ناظر ہیں (ف۲۱) جیسے ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجے (ف۲۲)
(۱۶) تو فرعون نے اس رسول کا حکم نہ مانا تو ہم نے اسے سخت گرفت سے پکڑا،
(۱۷) پھر کیسے بچو گے (ف۲۳) اگر (ف۲۴) کفر کرو اس دن (ف۲۵) جو بچوں کو بوڑھا کردے گا (ف۲۴) (۱۸) آسمان اس کے صدمے سے پھٹ جائے گا، اللہ کا وعدہ ہوکر رہنا،
(۱۹) بیشک یہ نصیحت ہے، تو جو چاہے اپنے رب کی طرف راہ لے (ف۲۷)
(۲۰) بیشک تمہارا رب جانتا ہے کہ تم قیام کرتے ہو کبھی دو تہائی رات کے قریب، کبھی آدمی رات، کبھی تہائی اور ایک جماعت تمہارے ساتھ والی (ف۲۸) اور اللہ رات اور دن کا اندازہ فرماتا ہے، اسے معلوم ہے کہ اے مسلمانو! تم سے رات کا شمار نہ ہوسکے گا (ف۲۹) تو اس نے اپنی مہر سے تم پر رجوع فرمائی اب قرآن میں سے جتنا تم پر آسان ہو اتنا پڑھو (ف۳۰) اسے معلوم ہے کہ عنقریب کچھ تم میں سے بیمار ہوں گے اور کچھ زمین میں سفر کریں گے اللہ کا فضل تلاش کرنے (ف۳۱) اور کچھ اللہ کی راہ میں لڑتے ہوں گے (ف۳۲) تو جتنا قرآن میسر ہو پڑھو (ف۳۳) اور نماز قائم رکھو (ف۳۴) اور زکوٰة دو اور اللہ کو اچھا قرض دو (ف۳۵) اور اپنے لیے جو بھلائی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے پاس بہتر اور بڑے ثواب کی پاؤ گے، اور اللہ سے بخشش مانگو، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 16-02-08, 07:25 AM   #44
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 28
مراسلات: 11,250
کمائي: 23,271,276
ميرا موڈ:
شکریہ: 5,007
2,462 مراسلہ میں 5,556 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: کنز الایمان ۔ ترجمہ قرآن۔ احمد رضا بریلوی

سورة المدثر ۔۷۴
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) اے بالا پوش اوڑھنے والے! (ف۲)
(۲) کھڑے ہوجاؤ (ف۳) پھر ڈر سناؤ (ف۴)
(۳) اور اپنے رب ہی کی بڑائی بولو (ف۵)
(۴) اور اپنے کپڑے پاک رکھو (ف۶)
(۵) اور بتوں سے دور رہو،
(۶) اور زیادہ لینے کی نیت سے کسی پر احسان نہ کرو (ف۷)
(۷) اور اپنے رب کے لیے صبر کیے رہو (ف۸)
(۸) پھر جب صور پھونکا جائے گا (ف۹)
(۹) تو وہ دن کڑا (سخت) دن ہے،
(۱۰) کافروں پر آسان نہیں (ف۱۰)
(۱۱) اسے مجھ پر چھوڑ جسے میں نے اکیلا پیدا کیا (ف۱۱)
(۱۲) اور اسے وسیع مال دیا (ف۱۲)
(۱۳) اور بیٹے دیے سامنے حاضر رہتے (ف۱۳)
(۱۴) اور میں نے اس کے لیے طرح طرح کی تیاریاں کیں (ف۱۴)
(۱۵) پھر یہ طمع کرتا ہے کہ میں اور زیادہ دوں (ف۱۵)
(۱۶) ہرگز نہیں (ف۱۶) وہ تو میری آیتوں سے عناد رکھتا ہے،
(۱۷) قریب ہے کہ میں اسے آگ کے پہاڑ صعود پر چڑھاؤں،
(۱۸) بیشک وہ سوچا اور دل میں کچھ بات ٹھہرائی
(۱۹) تو اس پر لعنت ہو کیسی ٹھہرائی،
(۲۰) پھر اس پر لعنت ہو کیسی ٹھہرائی،
(۲۱) پھر نظر اٹھا کر دیکھا ،
(۲۲) پھر تیوری چڑھائی اور منہ بگاڑا،
(۲۳) پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا،
(۲۴) پھر بولا یہ تو وہی جادو ہے اگلوں سے سیکھا ،
(۲۵) یہ نہیں مگر آدمی کا کلام (ف۱۷)
(۲۶) کوئی دم جاتا ہے کہ میں اسے دوزخ میں دھنساتا ہوں،
(۲۷) اور تم نے کیا جانا دوزخ کیا ہے،
(۲۸) نہ چھوڑے نہ لگی رکھے (ف۱۸)
(۲۹) آدمی کی کھال اتار لیتی ہے (ف۱۹)
(۳۰) اس پر اُنیس داروغہ ہیں (ف۲۰)
(۳۱) اور ہم نے دوزخ کے داروغہ نہ کیے مگر فرشتے، اور ہم نے ان کی یہ گنتی نہ رکھی مگر کافروں کی جانچ کو (ف۲۱) اس لیے کہ کتاب والوں کو یقین آئے (ف۲۲) اور ایمان والوں کا ایمان بڑھے (ف۲۳) اور کتاب والوں اور مسلمانوں کو کوئی شک نہ رہے اور دل کے روگی (مریض) (ف۲۴) اور کافر کہیں اس اچنبھے کی بات میں اللہ کا کیا مطلب ہے، یونہی اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور ہدایت فرماتا ہے جسے چاہے، اور تمہارے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور وہ (ف۲۵) تو نہیں مگر آدمی کے لیے نصیحت،
(۳۲) ہاں ہاں چاند کی قسم،
(۳۳) اور رات کی جب پیٹھ پھیرے،
(۳۴) اور صبح کی جب اجا لا ڈالے (ف۲۶)
(۳۵) بیشک دوزخ بہت بڑی چیزوں میں کی ایک ہے،
(۳۶) آدمیوں کو ڈراؤ ،
(۳۷) اسے جو تم میں چاہے، کہ آگے آئے (ف۲۷) یا پیچھے رہے (ف۲۸)
(۳۸) ہر جان اپنی کرنی (اعمال) میں گروی ہے،
(۳۹) مگر دہنی طرف والے (ف۲۹)
(۴۰) باغوں میں پوچھتے ہیں،
(۴۱) مجرموں سے ،
(۴۲) تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئی،
(۴۳) وہ بولے ہم (ف۳۰) نماز نہ پڑھتے تھے،
(۴۴) اور مسکین کو کھانا نہ دیتے تھے (ف۳۱)
(۴۵) اور بیہودہ فکر والوں کے ساتھ بیہودہ فکریں کرتے تھے،
(۴۶) اور ہم انصاف کے دن کو (ف۳۲) جھٹلاتے رہے،
(۴۷) یہاں تک کہ ہمیں موت آئی،
(۴۸) تو انہیں سفارشیوں کی سفارش کام نہ دے گی (ف۳۳)
(۴۹) تو انہیں کیا ہوا نصیحت سے منہ پھیرتے ہیں (ف۳۴)
(۵۰) گویا وہ بھڑکے ہوئے گدھے ہوں،
(۵۱) کہ شیر سے بھاگے ہوں (ف۳۵)
(۵۲) بلکہ ان میں کا ہر شخص چاہتا ہے کہ کھلے صحیفے اس کے ہاتھ میں دے دیے جائیں (ف۳۶)
(۵۳) ہرگز نہیں بلکہ ان کو آخرت کا ڈر نہیں (ف۳۷)
(۵۴) ہاں ہاں بیشک وہ (ف۳۸) نصیحت ہے ،
(۵۵) تو جو چاہے اس سے نصیحت لے،
(۵۶) اور وہ کیا نصیحت مانیں مگر جب اللہ چاہے، وہی ہے ڈرنے کے لائق اور اسی کی شان ہے مغفرت فرمانا،

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) روزِ قیامت کی قسم! یاد فرماتا ہوں،
(۲) اور اس جان کی قسم! جو اپنے اوپر ملامت کرے (ف۲)
(۳) کیا آدمی (ف۳) یہ سمجھتا ہے کہ ہم ہرگز اس کی ہڈیاں جمع نہ فرمائیں گے،
(۴) کیوں نہیں ہم قادر ہیں کہ اس کے پور ٹھیک بنادیں (ف۴)
(۵) بلکہ آدمی چاہتا ہے کہ اس کی نگاہ کے سامنے بدی کرے (ف۵)
(۶) پوچھتا ہے قیامت کا دن کب ہوگا،
(۷) پھر جس دن آنکھ چوندھیائے گی (ف۶)
(۸) اور چاند کہے گا (ف۷)
(۹) اور سورج اور چاند ملادیے جائیں گے (ف۸)
(۱۰) اس دن آدمی کہے گا کدھر بھاگ کر جاؤں (ف۹)
(۱۱) ہرگز نہیں کوئی پناہ نہیں،
(۱۲) اس دن تیرے رب ہی کی طرف جاکر ٹھہرنا ہے (ف۱۰)
(۱۳) اس دن آدمی کو اس کا سب اگلا پچھلا جتادیا جائے گا (ف۱۱)
(۱۴) بلکہ آدمی خود ہی اپنے حال پر پوری نگاہ رکھتا ہے ،
(۱۵) اور اگر اس کے پاس جتنے بہانے ہوں سب لا ڈالے،
(۱۶) جب بھی نہ سنا جائے گا تم یاد کرنے کی جلدی میں قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دو (ف۱۲)
(۱۷) بیشک اس کا محفوظ کرنا (ف۱۳) اور پڑھنا (ف۱۴) ہمارے ذمہ ہے ،
(۱۸) تو جب ہم اسے پڑھ چکیں (ف۱۵) اس وقت اس پڑھے ہوئے کی اتباع کرو (ف۱۶)
(۱۹) پھر بیشک اس کی باریکیوں کا تم پر ظاہر فرمانا ہمارے ذمہ ہے ،
(۲۰) کوئی نہیں بلکہ اے کافرو! تم پاؤں تلے کی (دنیاوی فائدے کو) عزیز دوست رکھتے ہو (ف۱۷)
(۲۱) اور آخرت کو چھوڑ بیٹھے ہو،
(۲۲) کچھ منہ اس دن (ف۱۸) تر و تازہ ہوں گے (ف۱۹)
(۲۳) اپنے رب کا دیکھتے (ف۲۰)
(۲۴) اور کچھ منہ اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے (ف۲۱)
(۲۵) سمجھتے ہوں گے کہ ان کے ساتھ وہ کی جائے گی جو کمر کو توڑ دے (ف۲۲)
(۲۶) ہاں ہاں جب جان گلے کو پہنچ جائے گی (ف۲۳)
(۲۷) اور کہیں گے (ف۲۴) کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرے (ف۲۵)
(۲۸) سمجھ لے گا کہ یہ جدائی کی گھڑی ہے (ف۲۷)
(۲۹) اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی (ف۲۸)
(۳۰) اس دن تیرے رب ہی کی طرف ہانکنا ہے (ف۱۹)
(۳۱) اس نے (ف۳۰) نہ تو سچ مانا (ف۳۱) اور نہ نماز پڑھی ،
(۳۲) ہاں جھٹلایا اور منہ پھیرا (ف۳۲)
(۳۳) پھر اپنے گھر کو اکڑتا چلا (ف۳۳)
(۳۴) تیری خرابی ا ٓ لگی اب آ لگی ،
(۳۵) پھر تیری خرابی آ لگی اب آ لگی ، (ف۳۴)
(۳۶) کیا آدمی اس گھمنڈ میں ہے کہ آزاد چھوڑ دیا جائے گا (ف۳۵)
(۳۷) کیا وہ ایک بوند نہ تھا اس منی کا کہ گرائی جائے (ف۳۶)
(۳۸) پھر خون کی پھٹک ہوا تو اس نے پیدا فرمایا (ف۳۷) پھر ٹھیک بنایا (ف۳۸)
(۳۹) تو اس سے (ف۳۹) دو جوڑ بنائے (ف۴۰) مرد اور عورت،
(۴۰) کیا جس نے یہ کچھ کیا وہ مردے نہ جِلا سکے گا،

سورة الدھر ۔۷۶
اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) بیشک آدمی پر (ف۲) ایک وقت وہ گزرا کہ کہیں اس کا نام بھی نہ تھا (ف۳)
(۲) بیشک ہم نے آدمی کو کیا ملی ہوئی منی سے (ف۴) کہ وہ اسے جانچیں (ف۵) تو اسے سنتا دیکھتا کردیا (ف۶)
(۳) بیشک ہم نے اسے راہ بتائی (ف۷) یا حق مانتا (ف۸) یا ناشکری کرتا (ف۹)
(۴) بیشک ہم نے کافروں کے لیے تیار کر رکھی ہیں زنجیریں (ف۱۰) اور طوق (ف۱۱) اور بھڑکتی آگ (ف۱۲) (۵) بیشک نیک پئیں گے اس جام میں سے جس کی ملونی کافور ہے وہ کافور کیا ایک چشمہ ہے (ف۱۳)
(۶) جس میں سے اللہ کے نہایت خاص بندے پئیں گے اپنے محلوں میں اسے جہاں چاہیں بہا کر لے جائیں گے (ف۱۴)
(۷) اپنی منتیں پوری کرتے ہیں (ف۱۵) اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی (ف۱۶) پھیلی ہوئی ہے (ف۱۷)
(۸) اور کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر (ف۱۸) مسکین اور یتیم اور اسیر کو،
(۹) ان سے کہتے ہیں ہم تمہیں خاص اللہ کے لیے کھانا دیتےہیں تم سے کوئی بدلہ یا شکر گزاری نہیں مانگتے،
(۱۰) بیشک ہمیں اپنے رب سے ایک ایسے دن کا ڈر ہے جو بہت ترش نہایت سخت ہے (ف۱۹)
(۱۱) تو انہیں اللہ نے اس دن کے شر سے بچالیا اور انہیں تازگی اور شادمانی دی،
(۱۲) اور ان کے صبر پر انہیں جنت اور ریشمی کپڑے صلہ میں دیے،
(۱۳) جنت میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوں گے، نہ اس میں دھوپ دیکھیں گے نہ ٹھٹر (سخت سردی) (ف۲۰)
(۱۴) اور اس کے (ف۲۱) سائے ان پر جھکے ہوں گے اور اس کے گچھے جھکا کر نیچے کردیے گئے ہوں گے (ف۲۲) (۱۵) اور ان پر چاندی کے برتنوں اور کوزوں کا دور ہوگا جو شیشے کے مثل ہورہے ہوں گے،
(۱۶) کیسے شیشے چاندی کے (ف۲۳) ساقیوں نے انہیں پورے اندازہ پر رکھا ہوگا (ف۲۴)
(۱۷) اور اس میں وہ جام پلائے جائیں گے (ف۲۵) جس کی ملونی ادرک ہوگی (ف۲۶)
(۱۸) وہ ادرک کیا ہے جنت میں ایک چشمہ ہے جسے سلسبیل کہتے ہیں (ف۲۷)
(۱۹) اور ان کے آس پاس خدمت میں پھریں گے ہمیشہ رہنے والے لڑکے (ف۲۸) جب تو انہیں دیکھے تو انہیں سمجھے کہ موتی ہیں بکھیرے ہوئے (ف۲۹)
(۲۰) اور جب تو ادھر نظر اٹھائے ایک چین دیکھے (ف۳۰) اور بڑی سلطنت (ف۳۱)
(۲۱) ان کے بدن پر ہیں کریب کے سبز کپڑے (ف۳۲) اور قنا ویز کے (ف۳۳) اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے گئے (ف۳۴) اور انہیں ان کے رب نے ستھری شراب پلائی (ف۳۵)
(۲۲) ان سے فرمایا جائے گا یہ تمہارا صلہ ہے (ف۳۶) اور تمہاری محنت ٹھکانے لگی (ف۳۷)
(۲۳) بیشک ہم نے تم پر (ف۳۸) قرآن بتدریج اتارا (ف۳۹)
(۲۴) تو اپنے رب کے حکم پر صابر رہو (ف۴۰) اور ان میں کسی گنہگار یا ناشکرے کی بات نہ سنو (ف۴۱)
(۲۵) اور اپنے رب کا نام صبح و شام یاد کرو (ف۴۲)
(۲۶) اور کچھ میں اسے سجدہ کرو (ف۴۳) اور بڑی رات تک اس کی پاکی بولو (ف۴۴)
(۲۷) بیشک یہ لوگ (ف۴۵) پاؤں تلے کی (دنیاوی فائدے کو) عزیز رکھتے ہیں (ف۴۶) اور اپنے پیچھے ایک بھاری دن کو چھوڑ بیٹھے ہیں (ف۴۷)
(۲۸) ہم نے انہیں پیدا کیا اور ان کے جوڑ بند مضبوط کیے اور ہم جب چاہیں (ف۴۸) ان جیسے اور بدل دیں (ف۴۹)
(۲۹) بیشک یہ نصیحت ہے (ف۵۰) تو جو چاہے اپنے رب کی طرف راہ لے (ف۵۱)
(۳۰) اور تم کیا چاہو مگر یہ کہ اللہ چاہے (ف۵۲) بیشک وہ علم و حکمت والا ہے،
(۳۱) اپنی رحمت میں لیتا ہے (ف۵۳) جسے چاہے (ف۵۴) اور ظالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے (ف۵۵)

سورة المرسلٰت ۔۷۷
اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) قسم ان کی جو بھیجی جاتی ہیں لگاتار (ف۲)
(۲) پھر زور سے جھونکا دینے والیاں،
(۳) پھر ابھار کر اٹھانے والیاں (ف۳)
(۴) پھر حق ناحق کو خوب جدا کرنے والیاں،
(۵) پھر ان کی قسم جو ذکر کا لقا کرتی ہیں (ف۴)
(۶) حجت تمام کرنے یا ڈرانے کو،
(۷) بیشک جس بات کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (ف۵) ضرور ہونی ہے (ف۶)
(۸) پھر جب تارے محو کردیے جائیں،
(۹) اور جب آسمان میں رخنے پڑیں،
(۱۰) اور جب پہاڑ غبار کرکے اڑا دیے جا ئیں،
(۱۱) اور جب رسولوں کا وقت آئے (ف۷)
(۱۲) کس دن کے لیے ٹھہرائے گئے تھے،
(۱۳) روز فیصلہ کے لیے،
(۱۴) اور تو کیا جانے وہ روز فیصلہ کیا ہے (ف۸)
(۱۵) جھٹلانے والوں کی اس دن خرابی (ف۹)
(۱۶) کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہ فرمایا (ف۱۰)
(۱۷) پھر پچھلوں کو ان کے پیچھے پہنچائیں گے (ف۱۱)
(۱۸) مجرموں کے ساتھ ہم ایسا ہی کرتے ہیں،
(۱۹) اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی،
(۲۰) کیا ہم نے تمہیں ایک بے قدر پانی سے پیدا نہ فرمایا (ف۱۲)
(۲۱) پھر اسے ایک محفوظ جگہ میں رکھا (ف۱۳)
(۲۲) ایک معلوم اندازہ تک (ف۱۴)
(۲۳) پھر ہم نے اندازہ فرمایا، تو ہم کیا ہی اچھے قادر (ف۱۵)
(۲۴) اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی،
(۲۵) کیا ہم نے زمین کو جمع کرنے والی نہ کیا،
(۲۶) تمہارے زندوں اور مردوں کی (ف۱۶)
(۲۷) اور ہم نے اس میں اونچے اونچے لنگر ڈالے (ف۱۷) اور ہم نے تمہیں خوب میٹھا پانی پلایا (ف۱۸)
(۲۸) اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی (ف۱۹)
(۲۹) چلو اس کی طرف (ف۲۰) جسے جھٹلاتے تھے،
(۳۰) چلو اس دھوئیں کے سائے کی طرف جس کی تین شاخیں (ف۲۱)
(۳۱) نہ سایہ دے (ف۲۲) نہ لپٹ سے بچائے (ف۲۳)
(۳۲) بیشک دوزخ چنگاریاں اڑاتی ہے (ف۲۴)
(۳۳) جیسے اونچے محل گویا وہ زرد رنگ کے اونٹ ہیں،
(۳۴) اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی،
(۳۵) یہ دن ہے کہ وہ بول نہ سکیں گے (ف۲۵)
(۳۶) اور نہ انہیں اجازت ملے کہ عذر کریں (ف۲۶)
(۳۷) اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی،
(۳۸) یہ ہے فیصلہ کا دن، ہم نے تمہیں جمع کیا (ف۲۷) اور سب اگلوں کو (ف۲۸)
(۳۹) اب اگر تمہارا کوئی داؤ ہو تو مجھ پر چل لو (ف۲۹)
(۴۰) اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی،
(۴۱) بیشک ڈر والے (ف۳۰) سایوں اور چشموں میں ہیں،
(۴۲) اور میووں میں جو ان کا جی چاہے (ف۳۱)
(۴۳) کھاؤ اور پیو رچتا ہوا (ف۳۲) اپنے اعمال کا صلہ (ف۳۳)
(۴۴) بیشک نیکوں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں،
(۴۵) اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی (ف۳۴)
(۴۶) کچھ دن کھالو اور برت لو (ف۳۵) ضرور تم مجرم ہو (ف۳۶)
(۴۷) اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی،
(۴۸) اور جب ان سے کہا جائے کہ نماز پڑھو تو نہیں پڑھتے،
(۴۹) اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی،
(۵۰) پھر اس (ف۳۷) کے بعد کون سی بات پر ایمان لائیں گے (ف۳۸)
سورة نبا ۔ ۷۸
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) یہ (ف۲) آپس میں کاہے کی پوچھ گچھ کررہے ہیں (ف۳)
(۲) بڑی خبر کی (ف۴)
(۳) جس میں وہ کئی راہ ہیں (ف۵)
(۴) ہاں ہاں اب جائیں گے،
(۵) پھر ہاں ہاں جان جائیں گے (ف۶)
(۶) کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہ کیا (ف۷)
(۷) اور پہاڑوں کو میخیں (ف۸)
(۸) اور تمہیں جوڑے بنایا (ف۹)
(۹ ) اور تمہاری نیند کو آرام کیا (ف۱۰)
(۱۰) اور رات کو پردہ پوش کیا (ف۱۱)
(۱۱) اور دن کو روزگار کے لیے بنایا (ف۱۲)
(۱۲) اور تمہارے اوپر سات مضبوط چنائیاں چنیں (تعمیر کیں) (ف۱۳)
(۱۳) اور ان میں ایک نہایت چمکتا چراغ رکھا (ف۱۴)
(۱۴) اور پھر بدلیوں سے زور کا پانی اتارا،
(۱۵) کہ اس سے پیدا فرمائیں اناج اور سبزہ ،
(۱۶) اور گھنے باغ (ف۱۵)
(۱۷) بیشک فیصلہ کا دن (ف۱۶) ٹھہرا ہوا وقت ہے،
(۱۸) جس دن صور پھونکا جائے گا (ف۱۷) تو تم چلے آؤ گے (ف۱۸) فوجوں کی فوجیں ،
(۱۹) اور آسمان کھولا جائے گا کہ دروازے ہوجائے گا (ف۱۹)
(۲۰) اور پہاڑ چلائے جائیں گے کہ ہوجائیں گے جیسے چمکتا ریتا دور سے پانی کا دھوکا دیتا،
(۲۱) بیشک جہنم تاک میں ہے،
(۲۲) سرکشوں کا ٹھکانا،
(۲۳) اس میں قرنوں (مدتوں) رہیں گے (ف۲۰)
(۲۴) اس میں کسی طرح کی ٹھنڈک کا مزہ نہ پائیں گے اور نہ کچھ پینے کو،
(۲۵) مگر کھولتا پانی اور دوزخیوں کا جلتا پیپ،
(۲۶) جیسے کو تیسا بدلہ (ف۲۱)
(۲۷) بیشک انہیں حساب کا خوف نہ تھا (ف۲۲)
(۲۸) اور انہوں نے ہماری آیتیں حد بھر جھٹلائیں،
(۲۹) اور ہم نے (ف۲۳) ہر چیز لکھ کر شمار کر رکھی ہے (ف۲۴)
(۳۰) اب چکھو کہ ہم تمہیں نہ بڑھائیں گے مگر عذاب،
(۳۱) بیشک ڈر والوں کو کامیابی کی جگہ ہے (ف۲۵)
(۳۲) باغ ہیں (ف۲۶) اور انگور،
(۳۳) اور اٹھتے جوبن والیاں ایک عمر کی،
(۳۴) اور چھلکتا جام (ف۲۷)
(۳۵) جس میں نہ کوئی بیہودہ بات سنیں نہ جھٹلانا (ف۲۸)
(۳۶) صلہ تمہارے رب کی طرف سے (ف۲۹) نہایت کافی عطا،
(۳۷) وہ جو رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے رحمن کہ اس سے بات کرنے کا اختیار نہ رکھیں گے (ف۳۰)
(۳۸) جس دن جبریل کھڑا ہوگا اور سب فرشتے پرا باندھے (صفیں بنائے) کوئی نہ بول سکے گا (ف۳۱) مگر جسے رحمن نے اذن دیا (ف۳۲) اور اس نے ٹھیک بات کہی (ف۳۳)
(۳۹) وہ سچا دن ہے اب جو چاہے اپنے رب کی طرف راہ بنالے (ف۳۴)
(۴۰) ہم تمہیں (ف۳۵) ایک عذاب سے ڈراتے ہیں کہ نزدیک آگیا (ف۳۶) جس دن آدمی دیکھے گا جو کچھ اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا (ف۳۷) اور کافر کہے گا ہائے میں کسی طرح خاک ہوجاتا (ف۳۸)

سورة نز عت ۔۷۹
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) قسم ان کی (ف۲) کہ سختی سے جان کھینچیں (ف۳)
(۲) اور نرمی سے بند کھولیں ) (ف۴)
(۳) اور آسانی سے پیریں (ف۵)
(۴) پھر آگے بڑھ کر جلد پہنچیں (ف۶)
(۵) پھر کام کی تدبیر کریں (ف۷)
(۶) کہ کافروں پر ضرور عذاب ہوگا جس دن تھر تھرائے گی تھرتھرانے والی (ف۸)
(۷) اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آنے والی (ف۹)
(۸) کتنے دل اس دن دھڑکتے ہوں گے،
(۹) آنکھ اوپر نہ اٹھا سکیں گے (ف۱۰)
(۱۰) کافر (ف۱۱) کہتے ہیں کیا ہم پھر الٹے پاؤں پلٹیں گے (ف۱۲)
(۱۱) کیا ہم جب گلی ہڈیاں ہوجائیں گے (ف۱۳)
(۱۲) بولے یوں تو یہ پلٹنا تو نرا نقصان ہے (ف۱۴)
(۱۳) تو وہ (ف۱۵) نہیں مگر ایک جھڑکی (ف۱۶)
(۱۴) جبھی وہ کھلے میدان میں آپڑے ہوں گے (ف۱۷)
(۱۵) کیا تمہیں موسیٰ کی خبر آئی (ف۱۸)
(۱۶) جب اسے اس کے رب نے پاک جنگل طویٰ میں (ف۱۹) ندا فرمائی،
(۱۷) کہ فرعون کے پاس جا اس نے سر اٹھایا (ف۲۰)
(۱۸) اس سے کہہ کیا تجھے رغبت اس طرف ہے کہ ستھرا ہو (ف۲۱)
(۱۹) اور تجھے تیرے رب کی طرف (ف۲۲) راہ بتاؤں کہ تو ڈرے (ف۲۳)
(۲۰) پھر موسیٰ نے اسے بہت بڑی نشانی دکھائی (ف۲۴)
(۲۱) اس پر اس نے جھٹلایا (ف۲۵) اور نافرمانی کی،
(۲۲) پھر پیٹھ دی (ف۲۶) اپنی کوشش میں لگا (ف۲۷)
(۲۳) تو لوگوں کو جمع کیا (ف۲۸) پھر پکارا،
(۲۴) پھر بولا میں تمہارا سب سے اونچا رب ہوں (ف۲۹)
(۲۵) تو اللہ نے اسے دنیا و آخرت دونوں کے عذاب میں پکڑا (ف۳۰)
(۲۶) بیشک اس میں سیکھ ملتا ہے اسے جو ڈرے (ف۳۱)
(۲۷) کیا تمہاری سمجھ کے مطابق تمہارا بنانا (ف۳۲) مشکل یا آسمان کا اللہ نے اسے بنایا،
(۲۸) اس کی چھت اونچی کی (ف۳۳) پھر اسے ٹھیک کیا (ف۳۴)
(۲۹) اس کی رات اندھیری کی اور اس کی روشنی چمکائی (ف۳۵)
(۳۰) اور اس کے بعد زمین پھیلائی (ف۳۶)
(۳۱) اس میں سے (ف۳۷) اس کا پانی اور چارہ نکا لا (ف۳۸)
(۳۲) اور پہاڑوں کو جمایا (ف۳۹)
(۳۳) تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے فائدہ کو،
(۳۴) پھر جب آئے گی وہ عام مصیبت سب سے بڑی (ف۴۰)
(۳۵) اس دن آدمی یاد کرے گا جو کوشش کی تھی (ف۴۱)
(۳۶) اور جہنم ہر دیکھنے والے پر ظاہر کی جائے گی (ف۴۲)
(۳۷) تو وہ جس نے سرکشی کی (ف۴۳)
(۳۸) اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی (ف۴۴)
(۳۹) تو بیشک جہنم ہی اس کا ٹھکانا ہے ،
(۴۰) اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا (ف۴۵) اور نفس کو خواہش سے روکا (ف۴۶)
(۴۱) تو بیشک جنت ہی ٹھکانا ہے (ف۴۷)
(۴۲) تم سے قیامت کو پوچھتے ہیں کہ وہ کب کے لیے ٹھہری ہوئی ہے،
(۴۳) تمہیں اس کے بیان سے کیا تعلق (ف۴۸)
(۴۴) تمہارے رب ہی تک اس کی انتہا ہے،
(۴۵) تم تو فقط اسے ڈرا نے والے ہو جو اس سے ڈرے،
(۴۶) گویا جس دن وہ اسے دیکھیں گے (ف۴۹) دنیا میں نہ رہے تھے مگر ایک شام یا اس کے دن چڑھے،

سورة عٴبٴسٴ ۔۸۰
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) تیوری چڑھائی اور منہ پھیرا (ف۲)
(۲) اس پر کہ اس کے پاس وہ نابینا حاضر ہوا (ف۳)
(۳) اور تمہیں کیا معلوم شاید وہ ستھرا ہو (ف۴)
(۴) یا نصیحت لے تو اسے نصیحت فائدہ دے،
(۵) وہ جو بے پرواہ بنتا ہے (ف۵)
(۶) تم اس کے تو پیچھے پڑتے ہو (ف۶)
(۷) اور تمہارا کچھ زیاں نہیں اس میں کہ وہ ستھرا نہ ہو (ف۷)
(۸) اور وہ جو تمہارے حضور ملکتا (ناز سے دوڑتا ہوا) آتا (ف۸)
(۹) اور وہ ڈر رہا ہے (ف۹)
(۱۰) تو اسے چھوڑ کر اور طرف مشغول ہوتے ہو،
(۱۱) یوں نہیں (ف۱۰) یہ تو سمجھانا ہے (ف۱۱)
(۱۲) تو جو چاہے اسے یا د کرے (ف۱۲)
(۱۳) ان صحیفوں میں کہ عزت والے ہیں (ف۱۳)
(۱۴) بلندی والے (ف۱۴) پاکی والے (ف۱۵)
(۱۵) ایسوں کے ہاتھ لکھے ہوئے،
(۱۶) جو کرم والے نکوئی والے (ف۱۶)
(۱۷) آدمی مارا جائیو کیا ناشکر ہے (ف۱۷)
(۱۸) اسے کاہے سے بنایا،
(۱۹) پانی کی بوند سے اسے پیدا فرمایا، پھر اسے طرح طرح کے اندازوں پر رکھا (ف۱۸)
(۲۰) پھر اسے راستہ آسان کیا (ف۱۹)
(۲۱) پھر اسے موت دی پھر قبر میں رکھوایا (ف۲۰)
(۲۲) پھر جب چاہا اسے باہر نکالا (ف۲۱)
(۲۳) کوئی نہیں، اس نے اب تک پورا نہ کیا جو اسے حکم ہوا تھا (ف۲۲)
(۲۴) تو آدمی کو چاہیے اپنے کھانوں کو دیکھے (ف۲۳)
(۲۵) کہ ہم نے اچھی طرح پانی ڈالا (ف۲۴)
(۲۶) پھر زمین کو خوب چیرا،
(۲۷) تو اس میں اُگایا اناج،
(۲۸) اور انگور اور چارہ،
(۲۹) اور زیتون اور کھجور،
(۳۰) اور گھنے باغیچے،
(۳۱) اور میوے اور دُوب ( گھاس)
(۳۲) تمہارے فائدے کو اور تمہارے چوپایوں کے،
(۳۳) پھر جب آئے گی وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑ (ف۲۵)
(۳۴) اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی،
(۳۵) اور ماں اور باپ ،
(۳۶) اور جُورو اور بیٹوں سے (ف۲۶)
(۳۷) ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک فکر ہے کہ وہی اسے بس ہے (ف۲۷)
(۳۸) کتنے منہ اس دن روشن ہوں گے (ف۲۸)
(۳۹) ہنستے خوشیاں مناتے (ف۲۹)
(۴۰) اور کتنے مونہوں پر اس دن گرد پڑی ہوگی،
(۴۱) ان پر سیاہی چڑھ رہی ہے (ف۳۰)
(۴۲) یہ وہی ہیں کافر بدکار،
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 16-02-08, 07:26 AM   #45
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 28
مراسلات: 11,250
کمائي: 23,271,276
ميرا موڈ:
شکریہ: 5,007
2,462 مراسلہ میں 5,556 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: کنز الایمان ۔ ترجمہ قرآن۔ احمد رضا بریلوی

سورة تکو یر ۔۸۱
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) جب دھوپ لپیٹی جائے (ف۲)
(۲) اور جب تارے جھڑ پڑیں (ف۳)
(۳) اور جب پہاڑ چلائے جائیں (ف۴)
(۴) اور جب تھلکی (گابھن) اونٹنیاں (ف۵) چھوٹی پھریں (ف۶)
(۵) اور جب وحشی جانور جمع کیے جائیں (ف۷)
(۶) اور جب سمندر سلگائے جائیں (ف۸)
(۷) اور جب جانوں کے جوڑ بنیں (ف۹)
(۸) اور جب زندہ دبائی ہوئی سے پوچھا جائے (ف۱۰)
(۹) کس خطا پر ماری گئی (ف۱۱)
(۱۰) اور جب نامہٴ اعمال کھولے جائیں،
(۱۱) اور جب آسمان جگہ سے کھینچ لیا جائے (ف۱۲)
(۱۲) اور جب جہنم بھڑکایا جائے (ف۱۳)
(۱۳) اور جب جنت پاس لائی جائے (ف۱۴)
(۱۴) ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو حاضر لائی (ف۱۵)
(۱۵) تو قسم ہے ان (ف۱۶) کی جو الٹے پھریں،
(۱۶) سیدھے چلیں تھم رہیں (ف۱۷)
(۱۷) اور رات کی جب پیٹھ دے (ف۱۸)
(۱۸) اور صبح کی جب دم لے (ف۱۹)
(۱۹) بیشک یہ (ف۲۰) عزت والے رسول (ف۲۱) کا پڑھنا ہے ،
(۲۰) جو قوت والا ہے مالک عرش کے حضور عزت والا وہاں اس کا حکم مانا جاتا ہے (ف۲۲)
(۲۱) امانت دار ہے (ف۲۳)
(۲۲) اور تمہارے صاحب (ف۲۴) مجنون نہیں (ف۲۵)
(۲۳) اور بیشک انہوں نے اسے (ف۲۶) روشن کنارہ پر دیکھا (ف۲۷)
(۲۴) اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں،
(۲۵) اور قرآن، مردود شیطان کا پڑھا ہوا نہیں،
(۲۶) پھر کدھر جاتے ہو (ف۲۸)
(۲۷) وہ تو نصیحت ہی ہے سارے جہان کے لیے،
(۲۸) اس کے لیے جو تم میں سیدھا ہونا چاہے (ف۲۹)
(۲۹) اور تم کیا چا ہو مگر یہ کہ چاہے اللہ سارے جہان کا رب،

سورة انفطا ر ۔۸۲
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) جب آسمان پھٹ پڑے،
(۲) اور جب تارے جھڑ پڑیں،
(۳) اور جب سمندر بہادیے جائیں (ف۲)
(۴) اور جب قبریں کریدی جائیں (ف۳)
(۵) ہر جان، جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا (ف۴) اور جو پیچھے (ف۵)
(۶) اے آدمی! تجھے کس چیز نے فریب دیا اپنے کرم والے رب سے (ف۶)
(۷) جس نے تجھے پیدا کیا (ف۷) پھر ٹھیک بنایا (ف۸) پھر ہموار فرمایا (ف۹)
(۸) جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دیا (ف۱۰)
(۹) کوئی نہیں (ف۱۱) بلکہ تم انصاف ہونے کو جھٹلانتے ہو (ف۱۲)
(۱۰) اور بیشک تم پر کچھ نگہبان ہیں (ف۱۳)
(۱۱) معزز لکھنے والے (ف۱۴)
(۱۲) جانتے ہیں جو کچھ تم کرو (ف۱۵)
(۱۳) بیشک نِکو کار (ف۱۶) ضرور چین میں ہیں (ف۱۷)
(۱۴) اور بیشک بدکار (ف۱۸) ضرور دوزخ میں ہیں،
(۱۵) انصاف کے دن اس میں جائیں گے،
(۱۶) اور اس سے کہیں چھپ نہ سکیں گے،
(۱۷) اور تو کیا جانیں کیسا انصاف کا دن،
(۱۸) پھر تو کیا جانے کیسا انصاف کا دن،
(۱۹) جس دن کوئی جان کسی جان کا کچھ اختیار نہ رکھے گی (ف۱۹) اور سارا حکم اس دن اللہ کا ہے،

سورة مطففین ۔۸۳
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) کم تولنے والوں کی خرابی ہے،
(۲) وہ کہ جب اوروں سے ناپ لیں پورا لیں،
(۳) اور جب انہیں ناپ تول کردی کم کردیں،
(۴) کیا ان لوگوں کو گمان نہیں کہ انہیں اٹھنا ہے،
(۵) ایک عظمت والے دن کے لیے (ف۲)
(۶) جس دن سب لوگ (ف۳) رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے،
(۷) بیشک کافروں کی لکھت (ف۴) سب سے نیچی جگہ سجین میں ہے (ف۵)
(۸) اور تو کیا جانے سجین کیسی ہے (ف۶)
(۹) وہ لکھت ایک مہر کیا نوشتہ ہے (ف۷)
(۱۰) اس دن (ف۸) جھٹلانے والوں کی خرابی ہے،
(۱۱) جو انصاف کے دن کو جھٹلاتے ہیں (ف۹)
(۱۲) اور اسے نہ جھٹلائے گا مگر ہر سرکش (ف۱۰)
(۱۳) جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں کہے (ف۱۱) اگلوں کی کہانیاں ہیں،
(۱۴) کوئی نہیں (ف۱۲) بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھادیا ہے ان کی کمائیوں نے (ف۱۳)
(۱۵) ہاں ہاں بیشک وہ اس دن (ف۱۴) اپنے رب کے دیدار سے محروم ہیں (ف۱۵)
(۱۶) پھر بیشک انہیں جہنم میں داخل ہونا،
(۱۷) پھر کہا جائے گا، یہ ہے وہ (ف۱۶) جسے تم جھٹلاتے تھے (ف۱۷)
(۱۸) ہاں ہاں بیشک نیکوں کی لکھت (ف۱۸) سب سے اونچا محل علیین میں ہے (ف۱۹)
(۱۹) اور تو کیا جانے علیین کیسی ہے (ف۲۰)
(۲۰) وہ لکھت ایک مہر کیا نوشتہ ہے (ف۲۱)
(۲۱) کہ مقرب (ف۲۲) جس کی زیارت کرتے ہیں،
(۲۲) بیشک نیکوکار ضرور چین میں ہیں،
(۲۳) تختوں پر دیکھتے ہیں (ف۲۳)
(۲۴) تو ان کے چہروں میں چین کی تازگی پہنچانے (ف۲۴)
(۲۵) نتھری شراب پلائے جائیں گے جو مہُر کی ہوئی رکھی ہے (ف۲۵)
(۲۶) اس کی مہُر مشک پر ہے، اور اسی پر چاہیے کہ للچائیں للچانے والے (ف۲۶)
(۲۷) اور اس کی ملونی تسنیم سے ہے (ف۲۷)
(۲۸) وہ چشمہ جس سے مقربانِ بارگاہ پیتے ہیں (ف۲۸)
(۲۹) بیشک مجرم لوگ (ف۲۹) ایمان والوں سے (ف۳۰) ہنسا کرتے تھے،
(۳۰) اور جب وہ (ف۳۱) ان پر گزرتے تو یہ آپس میں ان پر آنکھوں سے اشارے کرتے (ف۳۲)
(۳۱) اور جب (ف۹۳۳ اپنے گھر پلٹتے خوشیاں کرتے پلٹتے (ف۳۴)
(۳۲) اور جب مسلمانوں کو دیکھتے کہتے بیشک یہ لوگ بہکے ہوئے ہیں (ف۳۵)
(۳۳) اور یہ (ف۳۶) کچھ ان پر نگہبان بناکر نہ بھیجے گئے (ف۳۷)
(۳۴) تو آج (ف۳۸) ایمان والے کافروں سے ہنستے ہیں (ف۳۹)
(۳۵) تختوں پر بیٹھے دیکھتے ہیں (ف۴۰)
(۳۶) کیوں کچھ بدلا ملا کافروں کو اپنے کیے کا (ف۴۱)

سورة انشقا ق ۔۸۴
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) جب آسمان شق ہو (ف۲)
(۲) اور اپنے رب کا حکم سنے (ف۳) اور اسے سزاوار ہی یہ ہے،
(۳) اور جب زمین دراز کی جائے (ف۴)
(۴) اور جو کچھ اس میں ہے (ف۵) ڈال دے اور خالی ہوجائے،
(۵) اور اپنے رب کا حکم سنے (ف۶) اور اسے سزاوار ہی یہ ہے (ف۷)
(۶) اے آدمی! بیشک تجھے اپنے رب کی طرف (ف۸) ضرور دوڑنا ہے پھر اس سے ملنا (ف۹)
(۷) تو وہ وہ اپنا نامہٴ اعمال دہنے ہاتھ میں دیا جائے (ف۱۰)
(۸) اس سے عنقریب سہل حساب لیا جائے گا (ف۱۱)
(۹) اور اپنے گھر والوں کی طرف (ف۱۲) شاد شاد پلٹے گا (ف۱۳)
(۱۰) اور وہ جس کا نامہٴ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے (ف۱۴)
(۱۱) وہ عنقریب موت مانگے گا (ف۱۵)
(۱۲) اور بھڑکتی ا ٓ گ میں جائے گا،
(۱۳) بیشک وہ اپنے گھر میں (ف۱۶) خوش تھا (ف۱۷)
(۱۴) وہ سمجھا کہ اسے پھرنا نہیں (ف۱۸)
(۱۵) ہاں کیوں نہیں (ف۱۹) بیشک اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے،
(۱۶) تو مجھے قسم ہے شام کے اجالے کی (ف۲۰)
(۱۷) اور رات کی اور جو چیزیں اس میں جمع ہوتی ہیں (ف۲۱)
(۱۸) اور چاند کی جب پورا ہو (ف۲۲)
(۱۹) ضرور تم منزل بہ منزل چڑھو گے (ف۲۳)
(۲۰) تو کیا ہوا انہیں ایمان نہیں لاتے (ف۲۴)
(۲۱) اور جب قرآن پڑھا جائے سجدہ نہیں کرتے (ف۲۵) السجدة ۔۱۳
(۲۲) بلکہ کافر جھٹلا رہے ہیں (ف۲۶)
(۲۳) اور اللہ خوب جانتا ہے جو اپنے جی میں رکھتے ہیں (ف۲۷)
(۲۴) تو تم انہیں دردناک عذاب کی بشارت دو (ف۲۸)
(۲۵) مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے وہ ثواب ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا،

سورة بروج ۔۸۵
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) قسم آسمان کی، جس میں برج ہیں (ف۲)
(۲) اور اس دن کی جس کا وعدہ ہے (ف۳)
(۳) اور اس دن کی جو گواہ ہے (ف۴) اور اس دن کی جس میں حاضر ہوتے ہیں (ف۵)
(۴) کھائی والوں پر لعنت ہو (ف۶)
(۵) اس بھڑکتی آ گ والے،
(۶) جب وہ اس کے کناروں پر بیٹھے تھے (ف۷) اور وه خد گواه ہیں جو کہ مسلما نوں کے ساتھ کر رہے تھے (ف۸)
(۸) اور انھیں مسلمانوں کا کیا برا لگا یہی نہ کے وہ ایمان لا ئے اللہ والے سب خو بیوں سرا ہے پر،
(۹) کے اس کے لئے آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے اور اللہ ہر چیز پر گواه ہے ،
(۱۰) بے شک جنھو ں نے ایذا دی مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو پھر تو بہ نہ کی ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے (ف۱۱) اور ان کے لئے آگ کا عذاب (ف۱۲)
(۱۱) بے شک جو ایما ن لائے اور اچھے کام کئے ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں رواں یہی بڑی کامیابی ہے،
(۱۲) بے شک تیرے رب کی گرفت بہت سخت ہے (ف۱۳)
(۱۳) بے شک وه پہلے اور پھر کرے (ف۱۴)
(۱۴) اور وہی ہے بخشنے والا اپنے نیک بندوں پر پیارا ،
(۱۵) عزت والے عرش کا مالک ،
(۱۶) ہمیشہ جو چاہے کہ لینے والا ،
(۱۷) کیا تمھارے پاس لشکروں کے بات آئی (ف۱۵)
(۱۸) وه لشکر کون فرعون اور ثمود (ف۱۶)
(۱۹) بلکہ (ف۱۷) کافر جھٹلا نے میں ہیں (ف۱۸)
(۲۰) اور اللہ ان کے پیچھے سے انھیں گھیرے ہوئے ہے (ف۱۹)
(۲۱) بلکہ وه کمال شرف والا قران ہے،
(۲۲) لو ح محفوظ میں ،


اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)
(۱) آسمان کی قسم اور رات کے آنے والے کی،(ف۲)
(۲) اور کچھ تم نے جا نا وه رات کو آنے والا کیا ہے ،
(۳) خوب چمکتا تارا ،
(۴) کوئی جان نہیں جس پر نگہبان نہ ہو (ف۳)
(۵) تو چاہئے کہ آدمی غور کرے کہ کس چیز سے بنا یا گیا (ف۴)
(۶) جَست کرتے ( اوچھلتے ہوئے ) پانی سے ،(ف۵)
(۷) جو نکلتا ہے پیٹھ اور سینوں کے بیچ سے (ف۶)
(۸) بے شک اللہ اس کے واپس کرینے پر(ف۷) قادر ہے
(۹) جس دن چھپی باتوں کی جانچ ہوگی (ف۸)
(۱۰) تو آدمی کے پاس نہ کچھ زور ہوگا نہ کوئی مددگار (ف۹)
(۱۱) آسمان کی قسم! جس سے مینھ اترتا ہے (ف۱۰)
(۱۲) اور زمین کی جو اس سے کھلتی ہے (ف۱۱)
(۱۳) بیشک قرآن ضرور فیصلہ کی بات ہے (ف۱۲)
(۱۴) اور کوئی ہنسی کی بات نہیں (ف۱۳)
(۱۵) بیشک کافر اپنا سا داؤ چلتے ہیں (ف۱۴)
(۱۶) اور میں اپنی خفیہ تدبیر فرماتا ہوں (ف۱۵)
(۱۷) تو تم کافروں کو ڈھیل دو (ف۱۶) انہیں کچھ تھوڑی مہلت دو (ف۱۷)

سورة اعلیٰ ۔۸۷
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) اپنے رب کے نام کی پاکی بولو جب سے بلند ہے (ف۲)
(۲) جس نے بناکر ٹھیک کیا (ف۳)
(۳) اور جس نے اندازہ پر رکھ کر راہ دی (ف۴)
(۴) اور جس نے چارہ نکالا،
(۵) پھر اسے خشک سیاہ کردیا،
(۶) اب ہم تمہیں پڑھائیں گے کہ تم نہ بھولو گے (۵)
(۷) مگر جو اللہ چاہے (ف۶) بیشک وہ جانتا ہے ہر کھلے اور چھپے کو،
(۸) اور ہم تمہارے لیے آسانی کا سامان کردیں گے (ف۷)
(۹) تو تم نصیحت فرماؤ (ف۸) اگر نصیحت کام دے (ف۹)
(۱۰) عنقریب نصیحت مانے گا جو ڈرتا ہے (ف۱۰)
(۱۱) اور اس (ف۱۱) سے وہ بڑا بدبخت دور رہے گا،
(۱۲) جو سب سے بڑی آگ میں جائے گا (ف۱۲)
(۱۳) پھر نہ اس میں مرے (ف۱۳) اور نہ جیے (ف۱۴)
(۱۴) بیشک مراد کو پہنچا جو ستھرا ہوا (ف۱۵)
(۱۵) اور اپنے رب کا نام لے کر (ف۱۶) نماز پڑھی (ف۱۷)
(۱۶) بلکہ تم جیتی دنیا کو ترجیح دیتے ہو (ف۱۸)
(۱۷) اور آخرت بہتر اور باقی رہنے والی،
(۱۸) بیشک یہ (ف۱۹) اگلے صحیفوں میں ہے (ف۲۰)
(۱۹) ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں،

سورة غاثیہ ۔۸۸
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) بیشک تمہارے پاس (ف۲) اس مصیبت کی خبر آئی جو چھا جائے گی (ف۳)
(۲) کتنے ہی منہ اس دن ذلیل ہوں گے،
(۳) کام کریں مشقت جھیلیں،
(۴) جائیں بھڑکتی آگ میں (ف۴)
(۵) نہایت جلتے چشمہ کا پانی پلائے جائیں،
(۶) ان کے لیے کچھ کھانا نہیں مگر آگ کے کانٹے (ف۵)
(۷) کہ نہ فربہی لائیں اور نہ بھوک میں کام دیں (ف۶)
(۸) کتنے ہی منہ اس دن چین میں ہیں (ف۷)
(۹) اپنی کوشش پر راضی (ف۸)
(۱۰) بلند باغ میں،
(۱۱) کہ اس میں کوئی بیہودہ بات نہ سنیں گے ،
(۱۲) اس میں رواں چشمہ ہے،
(۱۳) اس میں بلند تخت ہیں،
(۱۴) اور چنے ہوئے کوزے (ف۹)
(۱۵) اور برابر برابر بچھے ہوئے قالین
(۱۶) اور پھیلی ہوئی چاندنیاں (ف۱۰)
(۱۷) تو کیا اونٹ کو نہیں دیکھتے کیسا بنایا گیا،
(۱۸) اور آسمان کو کیسا اونچا کیا گیا (ف۱۱)
(۱۹) اور پہاڑوں کو، کیسے قائم کیے گئے،
(۲۰) اور زمین کو، کیسے بچھائی گئی،
(۲۱) تو تم نصیحت سناؤ (ف۱۲) تم تو یہی نصیحت سنانے والے ہو،
(۲۲) تم کچھ ان پر کڑ وڑا (ضامن) نہیں (ف۱۳)
(۲۳) ہاں جو منہ پھیرے (ف۱۴) اور کفر کرے (ف۱۵)
(۲۴) تو اسے اللہ بڑا عذاب دے گا (ف۱۶)
(۲۵) بیشک ہماری ہی طرف ان کا پھرنا (ف۱۷)
(۲۶) پھر بیشک ہماری ہی طرف ان کا حساب ہے،

سورة فجر ۔۸۹
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) اس صبح کی قسم (ف۲)
(۲) اور دس راتوں کی (ف۳)
(۳) اور جفت اور طاق کی (ف۴)
(۴) اور رات کی جب چل دے (ف۵)
(۵) کیوں اس میں عقلمند کے لیے قسم ہوئی (ف۶)
(۶) کیا تم نے نہ دیکھا (ف۷) تمہارے رب نے عاد کے ساتھ کیسا کیا،
(۷) وہ اِرم حد سے زیادہ طول والے (ف۸)
(۸) کہ اس جیسا شہروں میں پیدا نہ ہوا (ف۹)
(۹) اور ثمود جنہوں نے وادی میں (ف۱۰) پتھر کی چٹانیں کاٹیں (ف۱۱)
(۱۰) اور فرعون کہ چومیخا کرتا (سخت سزائیں دیتا) (ف۱۲)
(۱۱) جنہوں نے شہروں میں سرکشی کی (ف۱۳)
(۱۲) پھر ان میں بہت فساد پھیلایا (ف۱۴)
(۱۳) تو ان پر تمہارے رب نے عذاب کا کوڑا بقوت مارا ،
(۱۴) بیشک تمہارے رب کی نظر سے کچھ غائب نہیں،
(۱۵) لیکن آدمی تو جب اسے اس کا رب آزمائے کہ اس کو جاہ اور نعمت دے، جب تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے عزت دی،
(۱۶) اور اگر آزمائے اور اس کا رزق اس پر تنگ کرے، تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے خوار کیا،
(۱۷) یوں نہیں (ف۱۵) بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے (ف۱۶)
(۱۸) اور آپس میں ایک دوسرے کو مسکین کے کھلانے کی رغبت نہیں دیتے،
(۱۹) اور میراث کا مال ہپ ہپ کھاتے ہو (ف۱۷)
(۲۰) اور مال کی نہایت محبت رکھتے ہو (ف۱۸)
(۲۱) ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر پاش پاش کردی جائے (ف۱۹)
(۲۲) اور تمہارے رب کا حکم آئے اور فرشتے قطار قطار،
(۲۳) اور اس دن جہنم لائے جائے (ف۲۰) اس دن آدمی سوچے گا (ف۲۱) اور اب اسے سوچنے کا وقت کہاں (ف۲۲)
(۲۴) کہے گا ہائے کسی طرح میں نے جیتے جی نیکی آگے بھیجی ہوتی،
(۲۵) تو اس دن اس کا سا عذاب (ف۲۳) کوئی نہیں کرتا،
(۲۶) اور اس کا سا باندھنا کوئی نہیں باندھتا،
(۲۷) اے اطمینان والی جان (ف۲۴)
(۲۸) اپنے رب کی طرف واپس ہو یوں کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی،
(۲۹) پھر میرے خاص بندوں میں داخل ہو،
(۳۰) اور میری جنت میں آ،

سورة بلد ۔۹۰
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) مجھے اس شہر کی قسم (ف۲)
(۲) کہ اے محبوب! تم اس شہر میں تشریف فرما ہو (ف۳)
(۳) اور تمہارے باپ ابراہیم کی قسم اور اس کی اولاد کی کہ تم ہو (ف۴)
(۴) بیشک ہم نے آدمی کو مشقت میں رہتا پیدا کیا (ف۵)
(۵) کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ ہرگز اس پر کوئی قدرت نہیں پائے گا (ف۶)
(۶) کہتا ہے میں نے ڈھیروں مال فنا کردیا (ف۷)
(۷) کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اسے کسی نے نہ دیکھا (ف۸)
(۸) کیا ہم نے اس کی دو آنکھیں نہ بنائیں (ف۹)
(۹) اور زبان (ف۱۰) اور دو ہونٹ (ف۱۱)
(۱۰) اور اسے دو ابھری چیزوں کی راہ بتائی (ف۱۲)
(۱۱) پھر بے تامل گھاٹی میں نہ کودا (ف۱۳)
(۱۲) اور تو نے کیا جانا وہ گھاٹی کیا ہے (ف۱۴)
(۱۳) کسی بندے کی گردن چھڑانا (ف۱۵)
(۱۴) یا بھوک کے دن کھانا دینا (ف۱۶)
(۱۵) رشتہ دار یتیم کو،
(۱۶) یا خاک نشین مسکین کو (ف۱۷)
(۱۷) پھر ہو ان سے جو ایمان لائے (ف۱۸) اور انہوں نے آپس میں صبر کی وصیتیں کیں (ف۱۹) اور آپس میں مہربانی کی وصیتیں کیں(ف۲۰)
(۱۸) یہ دہنی طرف والے ہیں (ف۲۱)
(۱۹) اور جنہوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا وہ بائیں طرف والے (ف۲۲)
(۲۰) ان پر آگ ہے کہ اس میں ڈال کر اوپر سے بند کردی گئی (ف۲۳)

سورة شمس ۔۹۱

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) سورج اور اس کی روشنی کی قسم،
(۲) اور چاند کی جب اس کے پیچھے آئے (ف۲)
(۳) اور دن کی جب اسے چمکائے (ف۳)
(۴) اور رات کی جب اسے چھپائے (ف۴)
(۵) اور آسمان اور اس کے بنانے والے کی قسم،
(۶) اور زمین اور اس کے پھیلانے والے کی قسم،
(۷) اور جان کی اور اس کی جس نے اسے ٹھیک بنایا (ف۵)
(۸) پھر اس کی بدکاری اور اس کی پرہیزگاری دل میں ڈالی (ف۶)
(۹) بیشک مراد کو پہنچایا جس نے اسے (ف۷) ستھرا کیا (ف۸)
(۱۰) اور نامراد ہوا جس نے اسے معصیت میں چھپایا،
(۱۱) ثمود نے اپنی سرکشی سے جھٹلایا (ف۹)
(۱۲) جبکہ اس کا سب سے بدبخت (ف۱۰) اٹھ کھڑا ہوا،
(۱۳) تو ان سے اللہ کے رسول (ف۱۱) نے فرمایا اللہ کے ناقہ (ف۱۲) اور اس کی پینے کی باری سے بچو (ف۱۳) (۱۴) تو انہوں نے اسے جھٹلایا پھر ناقہ کی کوچیں کاٹ دیں تو ان پر ان کے رب نے ان کے گناہ کے سبب (ف۱۴) تباہی ڈال کر وہ بستی برابر کردی (ف۱۵)
(۵) اور اس کے پیچھا کرنے والے کا اسے خوف نہیں (ف۱۶)

سورة لیل ۔۹۲
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) اور رات کی قسم جب چھائے (ف۲)
(۲) اور دن کی جب چمکے (ف۳)
(۳) اور اس (ف۴) کی جس نے نر و مادہ بنائے (ف۵)
(۴) بیشک تمہاری کوشش مختلف ہے (ف۶)
(۵) تو وہ جس نے دیا (ف۷) اور پرہیزگاری کی (ف۸)
(۶) اور سب سے اچھی کو سچ مانا (ف۹)
(۷) تو بہت جلد ہم اسے آسانی مہیا کردیں گے (ف۱۰)
(۸) اور وہ جس نے بخل کیا (ف۱۱) اور بے پرواہ بنا (ف۱۲)
(۹) اور سب سے اچھی کو جھٹلایا (ف۱۳)
(۱۰) تو بہت جلد ہم اسے دشواری مہیا کردیں گے (ف۱۴)
(۱۱) اور اس کا مال اسے کام نہ آئے گا جب ہلاکت میں پڑے گا (ف۱۵)
(۱۲) بیشک ہدایت فرمانا (ف۱۶) ہمارے ذمہ ہے،
(۱۳) اور بیشک آخرت اور دنیا دونوں کے ہمیں مالک ہیں،
(۱۴) تو میں تمہیں ڈراتا ہوں اس آگ سے جو بھڑک رہی ہے،
(۱۵) نہ جائے گا اس میں (ف۱۷) مگر بڑا بدبخت،
(۱۶) جس نے جھٹلایا (ف۱۸) اور منہ پھیرا (ف۱۹)
(۱۷) اور بہت اس سے دور رکھا جائے گا جو سب سے زیادہ پرہیزگار ،
(۱۸) جو اپنا مال دیتا ہے کہ ستھرا ہو (ف۲۰)
(۱۹) اور کسی کا اس پر کچھ احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے (ف۲۱)
(۲۰) صرف اپنے رب کی رضا چاہتا ہے جو سب سے بلند ہے،
(۲۱) اور بیشک قریب ہے کہ وہ راضی ہوگا (ف۲۲)

سورة ضحٰی ۔۹۳
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف۱)

(۱) چاشت کی قسم (ف۲)
(۲) اور رات کی جب پردہ ڈالے (ف۳)
(۳) کہ تمہیں تمہارے رب نے نہ چھوڑا، اور نہ مکروہ جانا،
(۴) اور بیشک پچھلی تمہارے لیے پہلی سے بہتر ہے (ف۴)
(۵) اور بیشک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں (ف۵) اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے (ف۶)
(۶) کیا اس نے تمہیں یتیم نہ پایا پھر جگہ دی (ف۷)
(۷) اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی (ف۸)
(۸) اور تمہیں حاجت مند پایا پھر غنی کردیا (ف۹)
(۹) تو یتیم پر دباؤ نہ ڈالو (ف۱۰)
(۱۰) اور منگتا کو نہ جھڑکو (ف۱۱)
(۱۱) اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو (ف۱۲)
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Bookmarks

Tags
کتابوں, گمان, پہچان, قرآن, قصد, لوگ, لوٹے, نماز, موت, ماں, معلوم, آدمی, ایمان, اللہ, جھوٹ, جواب, جلتا, حکم, خلاف, خدا, دعا, راستہ, سودا, عیسیٰ, عقل


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
::::اعلی حضرت امام احمد رضا خان::::: S_S_G_Commando تاریخ و عبر 14 02-10-09 09:14 AM
تسلیم و رضا کے بندے خرم شہزاد خرم اردو ادب سے اقتباسات 1 27-09-07 10:44 AM
ترجمہ ( حدیث نبوی) خرم شہزاد خرم اسلامی نظریہ حیات 5 12-06-07 10:37 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:08 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2010, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO 3.3.0
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2010,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger