| قران پراجیکٹ (http://quran.pak.net) قران پراجیکٹ http://quran.pak.net/ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 467
|
||||
| 5 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (03-08-09), shafresha (03-08-09), فیصل ناصر (05-08-09), خرم شہزاد خرم (21-08-09), عبداللہ حیدر (03-08-09) |
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سُورة الْمُجَادَلَة 58 سورت مدني ۔ ترتيب نزولي : 105 ۔ رکوع : 3 ۔ آيات : 22 ۔ پارہ نمبر : 28 بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا ، مہربان ہے 1 - یقیناً اللہ نے اس عورت (خولہ) کی بات سن لی جو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث کرتی تھی اور اللہ سے اپنے غم کی شکایت کرتی تھی، اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سنتا تھا۔ بیشک اللہ سننے والا، دیکھنے والا ھے۔ 2 - تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں (انہیں ماں کہہ دیتے ہیں) تو وہ ان کی مائیں نہیں (ہو جاتیں) ان کو مائیں صرف وہی ہیں جنہوں نے انہیں جنا ھے ، اور بے شک وہ ایک نامعقول بات اور جھوٹ کہتے ہیں ، اور بے شک اللہ معاف کرنے والا، بخشنے والا ھے۔ 3 ـ اور جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہارکرتے ہیں (انہیں مائیں کہ دیتے ہیں) پھر وہ اپنے قول سے رجوع کر لیں تو (ان پر) لازم ھے آزاد کرنا ایک غلام کو اس سے قبل کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں (باہم اختلاط کریں) یہ جو جس کی تمہیں نصیحت کی جاتی ھے، اور اللہ اس سے باخبر ھے جو کچھ تم کرتے ہو۔ 4 - تو جو کوئی یہ (غلام) نہ پائے تو لگاتار دو مہینے روزے (رکھے) اس سے قبل کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں (اختلاط کریں) پھر جس کو ( اس کو بھی ) مقدور نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے، یہ اس لئے ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان رکھو، اور یہ اللہ کی ( مقرر کردہ) حدیں ہیں ، اور نہ ماننے والوں کے لئے دردناک عذاب ہے۔ 5 ـ بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی مخالفت کرتے ہیں وہ ذلیل کئے جائیں گے، جیسے ذلیل کئے گئے وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے، اور یقیناً ہم نے واضح آیتیں نازل کی ہیں ، اور کافروں کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔ 6 ـ جس دن (جلا) اٹھائے گا اللہ ان سب کو، تو جو کچھ انہوں نے کیا وہ انہیں آگاہ کرے گا، اسے اللہ نے گن (محفوظ) رکھا تھا اور وہ اسے بھول گئے تھے اور اللہ ہر شے پر نگران ہے۔ 7 - کیا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے نہیں دیکھا کہ اللہ جانتا ہے جو آسمان میں ہے اور جو زمیں میں ہے، تین لوگوں میں کوئی سرگوشی نہیںہوتی، مگر وہ ان میں چوتھا ہوتا ھے اور نہ پانچ (کی سرگوشی) مگر وہ ان میں چھٹا ہوتا ہے، اور خواہ اس سے کم ہوں یا ذیادہ مگر جہاں کہیں وہ ہوں وہ (اللہ) ان کے ساتھ ہوتا ہے، جو کچھ انہوں نے کیا پھر قیامت کے دن وہ انہیں بتلا دے گا، بیشک اللہ ہر شے کا جاننے والا ہے۔ 8 - کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں سرگوشی سے منع کیا گیا (مگر) وہ پھر وہی کرتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا اور وہ گناہ اور سرکشی کی اور رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی نافرمانی (کے بارے میں) باہم سرگوشی کرتے ہیں، اور جب وہ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس آتے ہیں تو آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم) کو سلام دعا دیتے ہیں اس لفظ سے جس سے اللہ نے آپ کو دعا نہیں دی، اور وہ اپنے دلوں میں کہتے ہیں اللہ ہمیں اس کی کیوں سزا نہیں دیتا جو ہم کہتے ہیں ۔ ان کے لئے کافی ھے جہنم، وہ اس میں ڈالے جائیں گے، سو (یہ کیسا) برا ٹھکانا ہے 9 - اے ایمان والو ! جب تم باہم سرگوشی کرو تو گناہ اور سرکشی کی اور رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی نافرمانی کے (بارے میں) سرگوشی نہ کرو، اور (بلکہ) نیکی اور پرہیز کاری کی سرگوشی کرو، اور اللہ سے ڈرو جس کے پاس تم جمع کئے جاؤ گے۔ 10 - اس کے سوا نہیں کہ سرگوشی شیطان (کی طرف) سے ہے، تاکہ وہ ان لوگوں کو غمگین کر دے جو ایمان لائے، اور وہ اللہ کے حکم کے بغیر ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور مومنوں کو اللہ پر (ہی) بھروسہ کرنا چاہیئے 11 - اے مومنو ! جب تمہیں کہا جائے کہ تم مجلسوں میں کھل کر بیٹھو، تو تم کھل کر بیٹھ جایا کرو، اللہ تمہیں کشادگی بخشے گا، اور جب کہا جائے کہ تم اٹھ کھڑے ہو ، تو اٹھ جایا کرو، تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اللہ (ان کے درجے) بلند کریگا، اور جن لوگوں کو علم عطا کیا گیا (ان کے) درجے ہیں ، اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے 12 - اے مومنو ! جب تم رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم) سے کان میں بات کرو (سرگوشی کرو) تو تم اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ دو، یہ تمہارے لئے بہتر اور زیادہ پاکیزہ ہے، پھر اگر تم (مقدور) نہ پاؤ تو بے شک اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ 13 - کیا تم اس سے ڈر گئے کہ اپنی سرگوشی سے پہلے صدقہ دو ، سو جب تم نہ کر سکے، اور اللہ نے تم پر درگزر فرمایا تو تم نماز قائم کرو، اور زکٰوۃ ادا کرو، اور اللہ اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی اظاعت کرو، اور اللہ اس سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو، 14 - کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا؟ جو ان لوگوں سے دوستی کرتے ہیںجن پر اللہ نے غضب کیا، وہ نہ تم میں سے ہیں اور نہ ان میں سے ہیں، اور وہ جھوٹ پر قسم کھا جاتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں۔ 15 - اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کیا ہے، بے شک وہ برے کام کرتے تھے ۔ 16 - انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا لیا، پس انہوں نے (لوگوں کو) اللہ کے راستہ سے روکا تو ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔ 17 - انہیں ان کے مال اور نہ ان کی اولاد اللہ سے ہر گز ذرا بھی نہ بچا سکیں گے۔ یہی لوگ جہنمی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ 18 - جس دن اللہ ان سب کو دوبارہ اٹھائے گا تو اس کے لئے (اس کے حضور) قسمیں کھائیں گے جیسے وہ تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں، اور وہ گمان کرتے ہیںکہ وہ کسی شے پر (بھلی راہ پر) ہیں یاد رکھو ! بیشک وہی جھوٹے ہیں۔ 19 - غالب آ گیا ہے ان پر شیطان، تو اس نے انہیں اللہ کی یاد بھلا دی یہی لوگ شیطان کا گروہ ہیں، خوب یاد رکھو، بے شک شیطان کے گروہ ہی گھاٹا پانے والے ہیں۔ 20 - بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی مخالفت کرتے ہیں، یہی لوگ ذلیل ترین لوگوں میں سے ہیں۔ 21 - اللہ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم) ضرور غالب آئیں گے، بیشک اللہ (قوی توانا) غالب ہے۔ 22 - تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور آخرت کے دن پر کہ وہ اس سے دوستی رکھتے ہوں، جس نے اللہ اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی مخالفت کی، خواہ وہ ان کے باپ دادا ہوں یا ان کے بیٹے ہوں، یا ان کے بھائی ہوں، یا ان کے کنبے والے ہوں، یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت کر دیا ہے اور ان کی مدد کی ہے اپنے غیبی فیض سے، اور وہ انہیں (ان) باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، راضی ہوا ان سے اللہ ، اور وہ اس سے راضی، یہی لوگ ہیں اللہ کا گروہ ، خوب یاد رکھو ! اللہ کا گروہ ہی (دو جہاں میں)کامیاب ہونے والے ہیں۔ ----------------
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | مباح (17-08-09), خرم شہزاد خرم (21-08-09) |
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سُورة الْحَشْر 59 سورت مدني ۔ ترتيب نزولي : 101 ۔ رکوع : 3 ۔ آيات : 24 ۔ پارہ نمبر : 28 بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا ، مہربان ہے 1 ۔ اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہے جو بھی آسمانوں میں اور جو بھی زمین میں ہے ، اور وہ غالب حکمت والا ہے 2 ۔ وہی ہے جس نے نکالا اہل کتاب کے کافروں کو ان کے گھروں سے (ان کے) پہلے ہی اجتماع لشکر پر، تمہیں گمان (بھی) نہ تھا کہ وہ نکلیں گے اور وہ خیال کرتے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچا لیں گے، تو ان پر اللہ (کا غضب ایسی جگہ سے آیا) جس کا انہیں گمان (بھی) نہ تھا اور اللہ نے ان کے دلوں میں رعب ڈالا اور وہ اپنے ہاتھوں سے اور مومنوں کے ہاتھوں سے اپنے گھر برباد کرنے لگے، تو اے بصیرت کی آنکھوں والا عبرت پکڑو 3 ۔ اور اگر یہ نہ ہوتا کہ اللہ نے ان پر جلاوطن ہونا لکھ رکھا ہوتا، تو وہ انہیں دنیا میں عذاب دیتا اور ان کے لئے آخرت میں جہنم کا عذاب ہے 4 ۔ یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مخالفت کی، اور جو اللہ کی مخالفت کرے تو بیشک اللہ اس کو سخت سزا دینے والا ہے۔ 5 ۔ جو تم نے درختوں کے تنے کاٹ ڈالے، یا انہیں ان کی جڑوں ہر کھڑا چھوڑ دیا، تو (یہ) اللہ کے حکم سے تھا، اور تاکہ وہ نافرمانوں کو رسوا کر دے۔ 6 ۔ اور اللہ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ان (بنو نضیر) سے جو (مال) دلوایا تو نہ تم نے ان پر گھوڑے دوڑائے تھے اور نہ اونٹ، بلکہ اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے مسلط فرما دیتا ہے، اور اللہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ 7 ۔ اللہ نے بستیوں والوں سے جو مال اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کو دلوائے تو وہ اللہ کے لئے ہے اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لئے اور (رسول صلی اللہ علیہ وسلم) قرابت داروں کے لئے، اور یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لئے تاکہ (دولت) نہ تہے تمہارے مال داروں کے ہاتھوں کے درمیان (ہی) گردش کرتی، اور تمہیں رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) جو عطا فرمائیں وہ لے لو اور وہ تمہیں جس سے منع کریں اس سے تم باز رہو، اور تم اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ 8 ۔ محتاج مہاجروں کے لئے (خاص طور پر) جو نکالے گئے اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے (محروم کئے گئے) وہ اللہ کا فضل اور (اس کی) رضا چاہتے ہیں اور وہ مدد کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی، یہی لوگ سچے ہیں 9 ۔ اور جو لوگ (انصار) اس گھر ( دار الحجرت مدینہ میں) ان سے قبل مقیم رہے اور ایمان (میں پختہ) رہے اور وہ (ان سے) محبت کرتے ہیں جنہوں نے انکی طرف ہجرت کی، اور جو (انہیں مہاجرین کو) دیا گیا اسکی اپنے دلوں میں کوئی حاجت نہیں پاتے۔ اور وہ اختیار کرتے ہیں (وہ انہیں ترجیع دیتے ہیں) اپنی جانوں پر خواہ (خود) انہیں تنگی (ضرورت) ہو، اور جس نے اپنی ذات کو بخل سے بچایا تو یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ 10 ۔ اور جو لوگ ان کے بعد آئے، وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب ! ہمیں اور ہمارے بھائیوں کو بخش دے وہ جنہوں نے ایمان میں ہم سے سبقت کی، اور جو ایمان لائے ہمارے دلوں میں ان لوگوں کے لئے کوئی کینہ نہ ہونے دے، اے ہمارے رب ! بیشک تو شفقت کرنے والا ہے، رحم کرنے والا ہے۔ 11 ۔ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے منافقون کو نہیں دیکھا؟ وہ اپنے بھائیوں کو کہتے ہیں جو کافر ہوئے، اہل کتاب میں سے، البتہ اگر تم نکالے (جلاوطن کئے) گئے تو ہم ضرور تمہارے ساتھ نکل جائیں گے اور تمہارے بارے میں کبھی ہم کسی کا حکم نہ مانیں گے اور اگر تم سے لڑائی ہوئی تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بیشک وہ جھوٹے ہیں۔ 12 ۔ اور اگر وہ جلاوطن کئے گئے تو یہ نہ نکلیں گے ان کے ساتھ ، اور اگر ان سے لڑائی ہوئی تو یہ ان کی مدد نہ کریں گے، اور اگر مدد کریں گے (بھی) تو یقیناً پیٹھ پھیریں گے (بھاگ جائیں گے) پھر کہیں گے وہ مدد نہ کئے جائیں گے۔ 13 ۔ یقیناً ان کے دلوں میں تمہارا ڈر اللہ سے بہت زیادہ ھے، یہ اس لئے ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھتے نہیں۔ 14 ۔ وہ سب مل کر بھی تم سے نہ لڑیں گے، مگر بستیوں میں قلعہ بند ہو کر یا دیواروں ( فصیل) کے پیچھے سے آپس میں ان کی لڑائی بہت سخت ہے، تم انہیں اکٹھے گمان کرتے ہو، حالانکہ ان کے دل الگ الگ ہیں ، یہ اس لئے ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو عقل نہیں رکھتے۔ 15 ۔ ان کا حال ان لوگوں جیسا ہے جو قریبی زمانے میں ان سے قبل ہوئے ہیں، انہوں نے اپنے کام کا وبال چکھ لیا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ 16 ۔ شیطان کے حال جیسا، جب اس نے انسان سے کہا تو کفر اختیار کر، پھر جب اس نے کفر کیا تو اس نے کہا بیشک میں تجھ سے لا تعلق ہوں، تحقیق میں تمام جہانوں کے رب اللہ سے ڈرتا ہوں۔ 17 ۔ پس دونوں کا انجام (یہ ہے) کہ وہ دونوں آگ میں ہوں گے، وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے، اور یہ سزا ہے ظالموں کی۔ 18 ۔ اے ایمان والو ! تم اللہ سے ڈرو اور چاہیئے کہ دیکھے (سوچے) ہر شخص کہ اس نے کل کے لئے کیا آگے بھیجا ہے ! اور تم اللہ سے ڈرو، بیشک جو تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔۔ 19 ۔ اور تم نہ ہو جاؤ ان لوگوں کی طرح جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا، تو اللہ نے ( ایسا کر دیا) کہ انہوں نے خود اپنے آپ کو بھلا دیا یہی نافرمان لوگ ہیں۔ 20 ۔ برابر نہیں دوذخ والے اور جنت والے، جنت والے ہی مراد کو پہنچنے والے ہیں۔ 21 ۔ اگر ہم نازل کرتے یہ قرآن کسی پہاڑ پر تو تم اس کو اللہ کے خوف سے دبا (جھکا) ہوا ٹکڑے ٹکڑے دیکھتے، اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غوروفکر کریں۔ 22 ۔ وہ اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جانے والا پوشیدہ کا اور آشکارا کا، وہ بڑا مہربان، رحم کرنے والا ہے، 23 ۔ وہ اللہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں (وہ حقیقی) بادشاہ ہے، (ہر عیب سے) نہایت پاک ہے۔ سلامتی والا، امن دینے والا، نگہبان، غالب، زبردست، بڑائی والا، اللہ پاک ہے، اس سے جو وہ شریک کرتے ہیں۔ 24 ۔ وہ اللہ ہے خالق، ایجاد کرنے والا، صورتیں بنانے والا، اسی کے ہیں (سب) اچھے نام، اس کی پاکیزگی بیان کرتا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے، اور وہ غالب حکمت والا ہے۔ ----------------
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سُورة الْمُمْتَحِنَة 60 سورت مدني ۔ ترتيب نزولي : 91 ۔ رکوع : 2 ۔ آيات : 13 ۔ پارہ نمبر : 28 بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا ، مہربان ہے 1 ۔ اے ایمان والو ! تم میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ، تم ان کی طرف دوستی کا پیغام بھیجتے ہو، اور تمہارے پاس جو حق آیا ہے وہ اس کے منکر ہو چکے، وہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم) کو اور تمہیں بھی جلاوطن کرتے ہیں (مخض اس لئے) کہ تم اللہ پر ایمان لاتے ہو، (جو) تمہارا رب ہے، اگر تم نکلتے ہو میرے راستے میں جہاد کے لئے، اور میری رضا چاہنے کے لئے، تم ان کی طرف چھپا کر بھیجتے ہو، دوستی (کا پیغام) اور میں خوب جانتا ہوں جو تم چھپاتے ہو، اور جو تم ظاہر کرتے ہو، اور تم میں سے جو کوئی یہ کرے گا تو (جان لو) کہ تحقیق وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔ 2۔ اگر وہ تمہیں پائیں (تم پر دسترس پا لیں) تو یہ تمہارے دشمن ہو جائیں اور تم پر کھولیں برائی کے ساتھ اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں (دست درازی اور زبان ورازی کریں) اور وہ چاہتے ہیں کہ کاش تم کافر ہو جاؤ۔ 3 ۔ تمہیں ہر گز نفع نہ دیں گے تمہارے رشتے اور نہ تمہاری اولاد قیامت کے دن، اللہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا، اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ دیکھتا ہے۔ 4 ۔ بے شک تہارے لئے ہے بہترین نمونہ ابراہیم (علیہ السلام) اور ان لوگوں میں ہے جو ان کے ساتھ تھے، جب انہوں نے اپنی قوم کو کہا بیشک ہم تم سے بیزار ہیں، اور ان سے جن کی تم اللہ کے سوا بندگی کرتے ہو، ہم تمہارے منکر ہیں، اور ظاہر ہو گئی ہمارے اور تمہارے درمیان عداوت اور دشمنی ہمیشہ کے لئے، یہاں تک کہ تم اللہ واحد پر ایمان لے آؤ، مگر ابراہیم ( علیہ السلام) کا اپنے باپ سے یہ کہنا کہ میں ضرور مغفرت مانگوں گا تمہارے لئے، اور اللہ کے آگے میں تمہارے لئے کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا، اے ہمارے رب ! ہم نے تجھ پر بھروسہ کیا، اور تیری طرف ہم نے رجوع کیا، اور تیری طرف بازگشت ہے۔ 5 ۔ اے ہمارے رب ! ہمیں کافروں کا تختہ مشق نہ بنا، اور اے ہمارے رب ! تو ہمیں بخش دے بیشک تو ہی غالب حکمت والا ہے۔ 6 ۔ یقیناً تمہارے لئے ان میں بہترین نمونہ ہے (یعنی) اس کے لئے جو امید رکھتا ہے اللہ (سے ملاقات) کی اور آخرت کے دن کی، اور جس نے روگردانی کی، تو بے شک اللہ بے نیاز ستودہ صفات ہے۔ 7 - قریب ہے کہ اللہ تمہارے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان دوستی کر دے جن سے تم عداوت رکھتے ہو، اور اللہ قدرت رکھنے والا ہے، اور اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ 8 ۔ اللہ تمہیں منع نہیں کرتا کہ ان لوگوں سے جو تم سے دین (کے بارے میں) نہیں لڑے اور انہوں نے تمہیں نہیں نکالا تمہارے گھروں سے، کہ تم ان سے دوستی کرو، اور ان سے انصاف کرو، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو محبوب رکھتا ھے 9 ۔ اس کے سواہ نہیں کہ اللہ تمہیں منع کرتا ہے کہ جو لوگ تم سے دین (کے بارے) میں لڑے، اور انہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا، اور تمہارے نکالنے میں (نکالنے والوں کی) مدد کی، تم ان سے دوستی کرو، اور جو ان سے دوستی رکھے گا تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ 10 - اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں آئیں تو ان کا امتحان کر لیا کرو، اللہ خوب جانتا ھے ان کے ایمان کو، پس اگر تم انہیں جان لو کہ مومن ہیں تو تم انہیں کافروں کی طرف واپس نہ کرو، وہ (مومن مہاجرات) حلال نہیں ہیں ان ( کافروں) کے لئے، اور وہ (کافر) ان عورتوں کیلئے حلال نہیں، اور تم ان (کافر شوہروں) کو دیدو جو انہوں نے خرچ کیا ہو اور تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم ان (مہاجر) عورتوں سے نکاح کر لو، جب تم انہیں ان کے مہر دے دو، اور تم کافر عورتوں کی ناموس کو قبضے میں نہ رکھو اور تم (کفار سے) مانگ لو جو تم نے خرچ کیا ہو، اور چاہیئے کہ وہ (کافر) تم سے مانگ لیں جو انہوں نے خرچ کیا ہو، یہ اللہ کا حکم ہے، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے، اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ 11 - اور اگر کفار کی طرف (رہ جانے سے) تمہاری بیویوں میں سے کوئی تمہارے ہاتھ سے نکل جائے تو کفار کو سزا دو، پس جن کی عورتیں جاتی رہیں ان کو دو جس قدر انہوں نے خرچ کیا ہو، اور اللہ سے ڈرو، جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔ 12 ۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) ! جب آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس آئیں مومن عورتیں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے اس پر بیعت کرنے لے لئے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی شے کو شریک نہ کریں گی، اور نہ چوری کریں گی، اور نہ زنا کریں گی، اور نہ وہ قتل کریں گی اپنی اولاد کو، اور نہ بہتان (کی اولاد) لائیں گی جو انہوں نے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان باندھا ہو (شوہر کے نطفہ سے ہونے کا دعویٰ کیا ہو) اور نہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی نافرمانی کریں گی نیک کاموں (شریعت) میں تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ان کے بیعت لے لیں، اور ان کے لئے اللہ سے مغفرت مانگیں، بے شک اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ 13 ۔ اے ایمان والو ! تم ان لوگوں سے دوستی نہ رکھو جن پر اللہ نے غضب کیا، وہ آخرت سے نا امید ہو چکے ہیں، جیسے کافر مردوں (کے جی اٹھنے) سے مایوس ہیں۔ ----------------
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سُورة الصَّفّ 61 سورت : مدني ۔ ترتيب نزولي : 109 ۔ رکوع : 2 ۔ آيات : 14 ۔ پارہ نمبر : 28 بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا ، مہربان ہے 1 ۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہے، اور وہ غالب حکمت والا ہے۔ 2 ۔ اے ایمان والو ! تم کیوں کہتے ہو ؟ وہ جو تم کرتے نہیں۔ 3 ۔ اللہ کے نزدیک بڑی ناپسندیدہ بات ہے کہ تم وہ کہو جو تم کرتے نہیں۔ 4 ۔ بے شک اللہ ان لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو اس کے راستے میں صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں، گویا کہ وہ ایک عمارت ہیں سیسہ پلائی ہوئی 5 ۔ اور (یاد کرو) جب موسٰی (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم ! تم مجھے کیوں ایذا پہنچاتے ہو اور یقیناً تم جان چکے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، پس جب انہوں نے کج روی کی تو اللہ نے ان کے دلوں کو کج کر دیا اور اللہ ہدایت نہیں دیتا نافرمان لوگوں کو۔ 6 ۔ اور یاد کرو جب مریم (علیہ السلام) کے بیٹے عیسٰی (علیہ السلام) نے کہا اے بنی اسرائیل ! بیشک میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری طرف، اس کی تصدیق کرنے والا ہوں جو مجھ سے پہلے توریت (آئی) اور ایک رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی خوشخبری دینے والا ہوں جو میرے بعد آئے گا اس کو نام احمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہو گا پھر جب وہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ان کے پاس واضع دلائل کے ساتھ آئے تو انہوں نے کہا یہ تو کھلا جادو ہے۔ 7 ۔ اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے ؟ جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے، جبکہ وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے، اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ 8 ۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کا نور اپنے مونہوں (کی پھونکوں) سے بجھا دیں، اور اللہ اپنا نور پورا کرنے والا ہے خواہ کافر ناخوش ہوں 9 ۔ وہی ہے جس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کر دے اور خواہ مشرک ناخوش ہوں۔ 10 ۔ اے ایمان والو ! کیا میں تمہیں ایسی تجارت بتلاؤں ؟ جو تمہیںدردناک عذاب سے نجات دے۔ 11 ۔ تم ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر، اور تم اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرو، یہ تمہارے لئے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔ 12 ۔ وہ تمہیں تمہارے گناہ بخشدے گا، اور تمہیں باغات میں داخل کرے گا، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں۔ اور ہمیشہ کے باغات میں پاکیزہ مکانات میں، یہ بڑی کامیابی ہے۔ 13 ۔ اور ایک اور (بات بھی) جسے تم بہت چاہتے ہو (یعنی) اللہ سے مدد اور قریبی فتح، اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) مومنون کو خوشخبری دیجئے 14 ۔ اے ایمان والو ! تم ہو جاؤ اللہ کے مدد گار، جیسے مریم کے بیٹے عیسی (علیہ السلام) نے حواریوں کو کہا کون ہے اللہ کی طرف میرا مدد گار ؟ تو کہا حواریوں نے نے ہم اللہ کے مدد گار ہیں ، تو بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لے آیا اور کفر کیا ایک گروہ نے، تو ہم نے ان کے دشمنوں پر ایمان والوں کی مدد کی، سو وہ غالب ہو گئے۔ ----------------
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سُورة الْجُمُعَة 62 سورت مدني ۔ ترتيب نزولي : 110 ۔ رکوع : 2 ۔ آيات : 11 ۔ پارہ نمبر : 28 بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا ، مہربان ہے 1 ۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہے، جو بادشاہ حقیقی، کمال درجہ پاک، غالب، حکمت والا ہے۔ 2 ۔ وہی ہے جس نے ان پڑھوں میں ایک رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ان ہی میں سے بھیجا وہ انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے، اور انہیں (برائیوں سے) پاک کرتا ھے، اور انہیں سیکھاتا ہے کتاب اور دانشمندی کی باتیں، اور بالتحقیق یہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔ 3 ۔ اور ان کے علاوہ (ان کو بھی) جو ابھی ان سے نہیں ملے، وہ غالب، حکمت والا ہے۔ 4 ۔ یہ اللہ کا فضل ہے، وہ جس کو چاہتا ہے اسے دیتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ 5 ۔ ان لوگوں کی مثال جن پر توریت لادی (اتاری) گئی، پھر انہوں نے اسے نہ اٹھایا (اس پر کاربند نہ ہوئے) گدھے کی طرح ہے جو کتابیں لادے ہوئے ہے، ان لوگوں کی حالت بری ہے جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا، اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ 6 ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) فرما دیں اے یہودیو ! اگر تمہیں گھمنڈ ہے کہ تم دوسرے لوگوں کے علاوہ (بلا شرکت غیر سے) اللہ کے دوست ہو، تو موت کی تمنا کرو، اگر تم سچے ہو۔ 7 ۔ اور اس کے سبب جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے وہ کبھی بھی موت کی تمنا نہ کریں گے اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ 8 ۔ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم) فرما دیں بیشک جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ تو بقیناً تمہیں ملنے والی ہے (آ پکڑےگی) پھر تم اس کے سامنے لوٹائے جاؤ گے جو جاننے والا ہے پوشیدہ اور ظاہر کا، وہ تمہیں اس سے آگاہ کر دے گا جو تم کرتے تھے۔ 9 ۔ اے ایمان والو ! جب پکارا جائے (اذان دی جائے) جمعہ کے دن نماز (جمعہ) کے لئے تو تم (فوراً) اللہ کی یاد کے لئے لپکو، اور خریدو فروخت چھوڑ دو، یہ بہتر ہے تمہارے لئے اگر تم جانتے ہو۔ 10 ۔ پھر جب نماز پوری ہو چکے تو تم زمیں میں پھیل جاؤ اور تم تلاش کرو اللہ کا فضل (روزی) اور تم اللہ کو بکثرت یاد کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔ 11 ۔ اور جب وہ دیکھتے ہیں تجارت، یا کھیل تماشہ، تو وہ اس کی طرف دوڑ جاتے ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) فرما دیں جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے کھیل تماشے سے اور تجارت سے، اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔ ---------------
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سُورة الْمُنَافِقُوْن 63 سورت مدني ۔ ترتيب نزولي : 104 ۔ رکوع : 2 ۔ آيات : 11 ۔ پارہ نمبر : 28 بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا ، مہربان ہے 1 ۔ جب منافق آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ بیشک آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں جبکہ اللہ گواہی دیتا ہے بیشک منافق جھوٹے ہیں۔ 2 ۔ انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا لیا ہے، پس وہ (دوسروں کو بھی) روکتے ہیں، اللہ کے راستے سے، بیشک برا ہے جو وہ کرتے ہیں۔ 3 ۔ یہ اس لئے ہے کہ وہ ایمان لائے، پھر انہوں نے کفر کیا، تو مہر لگا دی گئی ان کے دلوں پر پس وہ نہیں سمجھتے۔ 4 ۔ اور جب آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم) انہیں دیکھیں تو ان کے جسم آپ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم) کو خوشنما معلوم ہوں، اور اگر وہ بات کریں تو آپ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم) ان باتوں کو (غور سے) سنیں گویا کہ وہ لکڑیاں ہیںدیوار (کے سہارے) لگائی ہوئی، وہ ہر بلند آواز کو اپنے اوپر گمان کرتے ہیں، وہ دشمن ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ان سے بچیں، اللہ انہیں غارت کرے، وہ کہاں پھرے جاتے ہیں۔ 5 ۔ اور جب ان سے کہا جائے آؤ، بخشش کی دعا کریں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) تمہارے لئے تو وہ اپنے سروں کو پھیر لیتے ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) انہیں دیکھیں تو وہ منہ پھیر لیتے ہیں اور وہ بڑا ہی تکبر کرنے والے ہیں۔ 6 ۔ ان پر ان کے حق میں برابر ہے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ان کے لئے بخشش مانگیں یا نہ مانگیں اللہ انہیں ہر گز نہ بخشے گا، بیشک اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ 7 ۔ وہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ تم ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس ہیں یہاں تک کہ وہ منتشر (پریشان) ہو جائیں، اور آسمانوں اور زمین کے خزانے اللہ (ہی) کے لئے ہیں اور لیکن منافق سمجھتے نہیں 8 ۔ وہ کہتے ہیں اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹ کر گئے تو معزز ترین (منافق) نہایت ذلیل کو وہاں سے نکال دے گا اور عزت تو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) اور مومنوں کے لئے ہے اور لیکن منافق نہیں جانتے۔ 9 ۔ اے ایمان والو ! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دیں، اور جو یہ کرے گا تو وہی لوگ خسارے میں پڑنے والے ہیں۔ 10 ۔ اور ہم نے تمہیں جو دیا ہے اس میں سے اس سے قبل خرچ کرو کہ آ جائے تم میںسے کسی کو موت، تو وہ کہے اے میرے رب ! تو نے مجھے کیوں ایک قریبی مدت تک مہلت نہ دی ؟ تو میں صدقہ کرتا اور میں نیکو کاروں میں سے ہوتا۔ 11 ۔ اور جب اس کی اجل آ گئی تو اللہ ہر گز کسی کو ڈھیل نہ دے گا، اور اللہ اس سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔ ----------------
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سُورة التَّغَابُن 64 سورت مدني ۔ ترتيب نزولي : 108 ۔ رکوع : 2 ۔ آيات : 18 ۔ پارہ نمبر : 28 بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا ، مہربان ہے 1 ۔ اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہے جو بھی آسمانوں میں اور جو بھی زمین میں ہے، اسی کے لئے ہے بادشاہی اور اسی کے لئے ہیں تمام تعریفیں، اور وہ ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے۔ 2 ۔ وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، سو تم میں سے کوئی کافر ہے اور تم میں سے کوئی مومن ہے، اور اللہ اس کو جو تم کرتے ہو دیکھنے والا ہے۔ 3 ۔ اس نے آسمانوں اور زمین کو حق (درست تدبیر) ک ساتھ پیدا کیا اور تمہیں صورتیں دیں تو تمہیں بہت ہی اچھی صورتیں دیں، اور اسی کی طرف بازگشت ہے (لوٹ کر جانا ہے) 4 ۔ وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے، اور وہ جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو، اور اللہ دلوں کے بھید جاننے والا ہے۔ 5 ۔ کیا تمہارے پاس اس لوگوں کی خبر نہیں آئی جنہوں نے اس سے پہلے کفر کیا تو انہوں نے وبال چکھ لیا اپنے کام کا، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ 6 ۔ یہ اس لئے ہوا کہ ان کے پاس رسول واضع نشانیوں کے ساتھ آتے تھے تو وہ کہتے کیا بشر ہمیں ہدایت دیتے ہیں تو انہوں نے کفر کیا اور پھر گئے، اور اللہ نے بےنیازی فرمائی اور اللہ بے نیاز ستودہ صفات (سزا وار حمد) ہے، 7 ۔ ان لوگوں نے دعوی کیا جو کافر ہوئے کہ وہ ہر گز دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) فرما دیں، ہاں ! کیوں نہیں ! میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے، پھر تمہیں جتلا دیا جائے گا جو تم کرتے تھے اور یہ اللہ پر آسان ہے۔ 8 ۔ پس تم اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان لے آؤ اور اس نور (قرآن) پر جو ہم نے نازل کیا ہے اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ 9 ۔ جس دن وہ تمہیں جمع کرے گا (یعنی) قیامت کے دن، یہ ہار جیت کا دن ہے، اور جو اللہ پر ایمان لائے اور وہ اچھے کام کرے وہ (اللہ) اس سے اس کی برائیاں دور کر دے گا اور اسے (ان) باغات مین داخل کرے گا، جن کے نیچے نہریں جاری ہیں وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑی کامیابی ہے۔ 10 ۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا، اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا یہی لوگ دوزخ والے ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بری جائے بازگشت (برا ٹھکانا) ہے۔ 11 ۔ کوئی مصیبت نہیں پہنچتی مگر اللہ کے اذن سے، اور جو شخص اللہ پر ایمان لاتا ہے وہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے اور اللہ ہر شے کو جاننے والا ہے۔ 12 ۔ اور تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کرو، پھر اگر تم پھر گئے تو اس کے سوا نہیںکہ ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ذمے صاف صاف پہنچا دینا ہے۔ 13 ۔ اللہ (ہے) اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پس مومنوں کو اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیئے۔ 14 ۔ اے ایمان والو ! بے شک تمہاری بعض بیویاں اور تمہاری بعض اولاد تمہارے (دین کے) دشمن ہیں، پس تم ان سے بچو، اور اگر تم معاف کر دو، اور درگزر کرو، اور تم بخش دو، تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ 15 ۔ اس کے سوا نہیں کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں، اور اللہ کے پاس بڑا اجر ہے۔ 16 ۔ پس جہاں تک ہو سکے تم اللہ سے ڈرو، اور سنو، اور اطاعت کرو، اور خرچ کرو (یہ) تمہارے حق میں بہتر ہے، اور جو اپنی جان (طبعیت) کی بخیلی سے بچا لیا گیا تو یہی لوگ فلاح (دو جہاں میں کامیابی) پانے والے ہیں۔ 17 ۔ اگر تم اللہ کو قرض حسنہ دو گے تو وہ تمہارے لئے اسے دو چند کر دے گا، اور وہ تمہیں بخش دے گا، اور اللہ قدر شناس، بردبار ہے۔ 18 ۔ وہ جاننے والا ہے پوشیدہ اور ظاہر کا، غالب، حکمت والا۔ ----------------
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سُورة الطَّلاَق 65 سورت مدني ۔ ترتيب نزولي : 99 ۔ رکوع : 2 ۔ آيات : 12 ۔ پارہ نمبر : 28 بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا ، مہربان ہے 1 ۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) ! (امت کو فرما دیں) جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے وقت (حالت طہر میں) طلاق دو، اور تم عدت کا شمار رکھو، اور تم ڈرو اللہ سے جو تمہارا رب ہے، تم انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، مگر یہ کہ وہ کھلی بے حیائی (کا ارتکاب) کریں، اور یہ اللہ کی حدود ہیں، اور جو اللہ کی حدوں سے آگے نکلے گا (تجاوز کرے گا) تو تحقیق اس نے اپنی جان پر ظلم کیا، تمہیں خبر نہیں ممکن ہے اللہ اس کے بعد (رجوع کی) کوئی اور بات (سبیل) پیدا کر دے۔ 2 ۔ پھر جب وہ اپنی میعاد کے (نزدیک) پہنچ جائیں تو انہیں اچھے طریقے سے روک لو یا جدا (رخصت) کر دو، اور اپنے میں سے دو انصاف پسند گواہ کر لو اور تم (صرف) اللہ کے لئے گواہی دو، یہی ہے جس کی (ہر اس شخص کو) نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اور جو اللہ سے ڈرتا ہے تو وہ اس کے لئے نجات (مخلص) کی راہ نکال دیتا ہے۔ 3 ۔ اور وہ اسے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان (بھی) نہیں ہوتا، اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو وہ اس کے لئے کافی ہے، بیشک اللہ اپنے کام پورے کرنیوالا ہے، بیشک اللہ نے ہر بات کے لئے اندازہ مقرر کیا ہے۔ 4 ۔ اور جو (پیرانہ سالی کی ونہ سے) حیض سے ناامید ہو گئی ہوں تمہاری مطلقہ بیبیوں میں سے اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے، اور (کم سنی کی وجہ سے) جنہیں حیض نہیں آیا۔ اور حمل والیوں کی عدت ان کے وضع حمل (بچہ جننے تک) ہے اور جو اللہ سے ڈرے گا تو وہ اس کے لئے اس کے کام میں آسانی کر دے گا۔ 5 ۔ یہ اللہ کے حکم ہیں، اس نے تمہاری طرف اتارے ہیں اور جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس کی برائیاں اس سے دور فرما دے گا اور اس کو بڑا اجر دے گا۔ 6 ۔ تم جہاں رہتے ہو انہیں تم اپنی استطاعت کے مطابق (وہاں) رکھو اور تم انہیں تنگ کرنے کے لئے ضرر (تکلیف) نہ پہنچاؤ اور اگر وہ حمل سے ہوں تو ان پر خرچ کرو یہاں تک کہ وضع حمل ہو جائے (بچہ پیدا ہو جائے) پھر اگر وہ تمہارے لئے (تمہاری خاطر) دودھ پلائیں تو انہیں ان کی اجرت دو، اور تم آپس میں معقول طریقے سے مشورہ کر لیا کرو۔ اور اگر تم باہم کشمکش کرو گے تو اس کو کوئی دوسری (بی بی) دودھ پلا دے گی۔ 7 ۔ چاہیئے کہ وسعت والا اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے اور جس پر تنگ کر دیا گیا ہو اس کا رزق (آمدنی) تو اللہ نے جو اسے دیا ہے اس میں سےخرچ کرنا چاہیئے اللہ کسی کو تکلیف نہیں دیتا (مکلف نہیںٹھہراتا)، مگر ( اسی قدر) جتنا اس نے اسے دیا ہے جلد کر دےگا اللہ تنگی کے بعد آسانی۔ 8 ۔ اور کئی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے رب کے حکم سے اور اس کے رسولوں سے سرکشی کی اور ہم نے سختی سے ان کا حساب لیا، اور ہم نے انہیں بڑا عذاب دیا۔ 9 ۔ پھر انہوں نے اپنے کام کا وبال چکھا اور ان کے کام کا انجام خسارا (گھاٹا) ہوا۔ 10 ۔ اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کیا ہے، پس تم اللہ سے ڈرو اے عقل والو ۔ ایمان والا ! تحقیق اللہ نے تمہاری طرف کتاب نازل کی ہے۔ 11 ۔ وہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) (بھیجا ہے) جو تم پر پڑھتا ہے اللہ کی روشن آیتیں، تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کئے وہ انہیں نکالے تاریکیوں سے نور کی طرف اور جو اللہ پر ایمان لائے گا اور اچھے عمل کرے گا تو وہ اسے ان باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ رہیں گے ان میں ہمیشہ ہمیشہ، بیشک اللہ نے اس کے لئے بہت اچھی روزی رکھی ہے۔ 12 ۔ اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے، اور زمین بھی ان کی طرح، ان کے درمیان حکم اترتا ہے تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے، اور یہ کہ اللہ نے ہر شے کا علم سے احاطہ کیا ہوا ھے۔ ----------------
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سُورة التَّحْرِيْم 66 سورت مدني ۔ ترتيب نزولي : 107 ۔ رکوع : 2 ۔ آيات : 12 ۔ پارہ نمبر : 28 بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا ، مہربان ہے 1 ۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) ! جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا ہے تم اسے کیوں حرام ٹھراتے ہو ؟ اپنی بیبیوں کی خوشنودی چاہتے ہوئے، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ 2 ۔ تحقیق اللہ نے تمہارے لئے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر کر دیا ہے، اور اللہ تمہارا کار ساز ہے، اور وہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ 3 ۔ اور جب نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنی ایک بیبی سے ایک راز کی بات کہی، پھر جب اس (بی بی) نے اس بات کی (کسی دوسری بی بی کو) خبر کر دی اور اللہ نے ظاہر کر دیا اس (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) پر، تو اس نے اس کی کچھ کو خبر دی، اور بعض سے اعراض کیا، پھر اس بی بی کو وہ بات جتلائی تو وہ بولی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کس نے خبر دی ؟ اس (بات کی) آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا مجھے علم والے، خبر رکھنے والے نے خبر دی۔ 4 ۔ (اے بیبیو !) اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کرو (تو بہتر ہے کیونکہ) تمہارے دل یقیناً کج ہو گئے اگر اس (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کی (ایذا رسانی) پر تم ایک دوسری کی مدد کرو گی تو بیشک اللہ اس کا رفیق ہے، اور جبریل (علیہ السلام) اور نیک مومن اور فرشتے (بھی) ان کے علاوہ مدد گار ہیں۔ 5 ۔ اگر وہ تمہیں طلاق دے دیں تو قریب ہے کہ اس کا رب اس کے لئے اور بیبیاں بدل دے تم سے بہتر اطاعت گزار، ایمان والیاں، فرمانبرداری کرنے والیاں، توبہ کرنے والیاں، عبادت گزار، روزہ دار، شوہر دیدہ، اور کنواریاں۔ 6 ۔ اے ایمان والو ! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ، جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں، اس پر درشت خو، زور آور فرشتے (معین) ہیں، اللہ جو انہیں حکم دیتا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہ کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ 7 ۔ اے کافرو ! آج تم عذر نہ کرو (بہانے نہ بناؤ) اس کے سوا نہیں کہ تمہیں اس کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے تھے۔ 8 ۔ اے ایمان والو ! تم اللہ کے آگے توبہ کرو خالص (صاف دل سے) توبہ امید ہے تمہارا رب تم سے دور کر دے گا تمہارے گناہ اور وہ تمہیں ان باغات میں داخل کرے گا، جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، اس دن اللہ رسوا نہ کرے گا نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو، اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے، ان کا نور ان کے سامنے اور ان کا دائیں دوڑتا ہو گا، اور وہ دعا کرتے ہوں گے، اے ہمارے رب ! ہمارے لئے ہمارا نور پورا کر دے اور ہماری مغفرت فرما دے، بیشک تو ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے۔ 9 ۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) جہاد کیجئے کافروں اور منافقوں سے، اور ان پر سختی کیجئے اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ (بہت) بری جگہ ہے۔ 10 ۔ بیان کی اللہ نے کافروں کے لئے نوح (علیہ السلام) کی بیوی اور لوط (علیہ السلام) کی بیوی کی مثال، وہ دونوں دو بندوں کے گھروں میں تھیں، ہمارے صالح بندوں میں سے، سو انہوں نے ان دونوں کی خیانت کی تو اللہ کے آگے ان دونوں کے کچھ کام نہ آیا، اور کہا گیا تم دونوں جہنم میں داخل ہو جاؤ داخل ہونے والوں کے ساتھ ۔ 11 ۔ اور اللہ نے مومنوں کے لئے فرعون کی بیوی کی مثال بیان کی، جب اس (بی بی) نے کہا اے میرے رب ! میرے لئے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے، اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے بچا لے، اور مجھے ظالموں کی قوم سے بچا لے ۔ 12 ۔ (اور دوسری مثال) عمران (علیہ السلام) کی بیٹی مریم (علیہ السلام) کی، جس نے حفاظت کی اپنی شرمگاہ کی، سو ہم نے اس میں اپنی روح پھونکی، اور اس نے تصدیق کی اپنے رب کی باتوں کی، اور اس کی کتابوں کی، اور وہ فرمانبرداری کرنے والیوں میں سے تھی۔ ----------------
|
|
|
|
| کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا | مباح (17-08-09) |
![]() |
| Tags |
| color, گمان, پسند, قرآن, لوگ, منافق, ممکن, معلوم, ایمان, اللہ, اردو, جھوٹ, جیت, جلد, حکم, خبر, دعا, شخص, طلاق, عقل, عزت, صفات, صاف, صدقہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|