واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > پاک۔نیٹ پراجیکٹس > قران پراجیکٹ (http://quran.pak.net)



قران پراجیکٹ (http://quran.pak.net) قران پراجیکٹ http://quran.pak.net/


10 واں پارہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 05-08-09, 05:09 AM   #1
10 واں پارہ
ابن جلال ابن جلال آف لائن ہے 05-08-09, 05:09 AM

اور جان لو کہ تم جو کچھ کسی چیز سے غنیمت لو اس کا پانچواں حصہ ہے ۔ اللہ کے لئے ، اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لئے ، اور (اُن کے ) قرابت داروں کے لئے ، اور یتیموں ، اور مسکینوں ، اور مسافروں کے لئے ، اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور جو ، ہم نے اپنے بندہ پر فیصلہ (بدر) کے دن نازل کیا ۔ جس دن (کفر و اسلام کی) دونوں فوجیں بھڑ گئیں ، اور اللہ ہر چیز پر قدرت والا ہے ۔
۴۱۔
جب تم اِدھر والے کنارہ پر تھے اور وہ پَرلے کنارہ پر تھے ، اور قافلہ تم سے نیچے (تَرائی میں ) تھا اگر تم باہم وعدہ کرتے تو البتہ وعدہ میں اختلاف کرتے (وقت پر نہ پہنچتے ) لیکن ( اللہ نے جمع کیا) تاکہ پورا کر دے اللہ وہ کام جو ہو کر رہنے والا تھا ، تاکہ جو ہلاک ہو وہ دلیل سے ہلاک ہو ، اور جس کو زندہ رہنا ہے وہ زندہ رہے دلیل سے ، اور بے شک اللہ سننے والا ، جاننے والا ہے ۔
۴۲۔
اور جب اللہ نے تمہیں تمہاری خواب میں ان (کافروں ) کو دکھایا تھوڑ ا ، اور اگر وہ تمہیں اُن (کی تعداد) کو بہت دکھاتا تو تم بزدلی کرتے ، اور (جنگ کے ) معاملے میں جھگڑ تے ، لیکن اللہ نے بچالیا، بے شک وہ دلوں کی بات جاننے والا ہے ۔
۴۳۔
اور جب تم آمنے سامنے ہوئے تو وہ تمہیں دکھلائے تمہاری آنکھوں میں تھوڑ ے ، اور تمہیں اُن کی آنکھوں میں دکھلایا تھوڑ ا، تاکہ اللہ پورا کر دے وہ کام جو ہوکر رہنے والا تھا، اور تمام کاموں کی باز گشت اللہ کی طرف ہے ۔
۴۴۔
اے ایمان والو! جب کسی جماعتِ (کفار) سے تمہارآمنا سامنا ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو بکثرت یاد کرو تاکہ تم فلاح ( دو جہان میں کامیابی )پاؤ۔
۴۵۔
اور اطاعت کرو اللہ کی ، اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ، اور آپس میں جھگڑ ا نہ کرو کہ بزدل ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا جاتی رہے گی (اُکھڑ جائے گی) اور صبر کرو بے شک اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے
۴۶۔
اور اُن لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو اپنے گھروں سے نکلے اِتراتے ، اور لوگوں کے دکھاوے کو ، اور اللہ کے راستے سے روکتے ہوئے ، اور وہ جو کرتے ہیں اللہ احاطہ کئے ہوئے ہے ۔
۴۷۔
اور جب شیطان نے ان کے کام خوشنما کر کے دکھائے ، اور کہا آج لوگوں میں سے تم پر کوئی غالب (آنے والا ) نہیں ، اور میں تمہارا رفیق(حمایتی ) ہوں ، پھر جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو وہ اپنی ایڑ یوں پر اُلٹا پھر گیا ، اور بولا میں تم سے لاتعلق ہوں ، میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ، میں اللہ سے ڈرتا ہوں ( کہ مجھے ہلاک نہ کر دے ) اور اللہ سخت عذاب والا ہے ۔
۴۸۔
جب منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض تھا کہنے لگے کہ انہیں (مسلمانوں کو)ان کے دین نے مغرور کر دیا ہے ، اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو بے شک اللہ غالب حکمت والا ہے ۔
۴۹۔
اور اگر تو دیکھے جب فرشتے کافروں کی جان نکالتے ہیں ، مارتے (جاتے ) ہیں ان کے چہروں اور اُن کی پیٹھوں پر اور (کہتے جاتے ہیں ) دوزخ کا عذاب چکھو۔
۵۰۔
یہ اس کا بدلہ ہے جو تمہارے ہاتھوں نے ( اعمال) آگے بھیجے ہیں اور یہ کہ اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ۔
۵۱۔
جیسا کہ فرعون والوں کا اور ان سے پہلے لوگوں کا دستور تھا ، انہوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا، اور اللہ نے انہیں ان کے گنا ہوں پر پکڑ ا بے شک اللہ قوت والا سخت عذاب والا ہے ۔
۵۲۔
یہ اس لئے ہے کہ اللہ (کبھی ) اس نعمت کو بدلنے والا نہیں جو اس نے کسی قوم کو دی ، جب تک وہ (نہ ) بدل ڈالیں جوان کے دلوں میں ہے (اپنا عقیدہ و احوال ) اور یہ کہ اللہ سننے والا ، جاننے والا ہے ۔
۵۳۔
جیسا کہ دستور تھا فرعون والوں کا اور ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے انہوں نے اپنے رب کی آیتوں کو جھٹلایا تو ہم نے اُنہیں ان کے گنا ہوں کے سبب ہلاک کر دیا، اور فرعون والوں کو غرق کر دیا ، اور وہ سب ظالم تھے ۔
۵۴۔
بے شک اللہ کے نزدیک سب جانوروں سے بد تر وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا سو وہ ایمان نہیں لاتے ۔
۵۵۔
وہ لوگ جن سے تم نے معاہدہ کیا پھر وہ اپنا معاہدہ توڑ دیتے ہیں ، ہر بار، اور وہ ڈرتے نہیں ۔
۵۶۔
پس اگر تم انہیں جنگ میں پاؤ تو (انہیں ایسی سزا دو کہ ) ان کے ذریعے بھگا دو اُ ن کو جو ان کے پیچھے ہیں ، عجب نہیں کہ وہ عبرت پکڑ یں ۔
۵۷۔
اگر تمہیں کسی قوم سے دغا بازی کا ڈر ہو تو (اُن کا معاہدہ ) پھینک دو ان کی طرف برابری پر ، (برابری کا جواب دو) بے شک اللہ دغا بازوں کو پسند نہیں کرتا ۔
۵۸۔
اور کافر ہرگز خیال نہ کریں کہ وہ بھاگ نکلے ( بچ گئے ) ہیں ، بے شک وہ عاجر نہ کرسکیں گے ۔
۵۹۔
اور ان کے لئے تیار رکھو جو تم سے ہو سکے قوت سے ، اور پلے ہوئے گھوڑ وں سے ، اس سے تم دھاک بٹھاؤ اللہ کے دشمنوں پر اور اپنے دشمنوں پر ، اور دوسروں پر ان کے سوا ، تم انہیں نہیں جانتے ، اللہ اُنہیں جانتا ہے ، اور تم جو کچھ اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے تمہیں پورا پورا دیا جائے گا، اور تمہارا نقصان نہ کیا جائیگا ۔
۶۰۔
اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو (تم بھی ) اس (صلح) کی طرف جھکو، اور اللہ پر بھروسہ رکھو، بے شک وہ سننے والا ‘ جاننے والا ہے ۔
۶۱۔
اور اگر وہ تمہیں دھوکہ دینا چاہیں تو بے شک تمہارے لئے اللہ کافی ہے ، وہ جس نے تمہیں اپنی مدد سے اور مسلمانوں سے زور دیا ۔
۶۲۔
اور اُلفت ڈال دی ان کے دلوں میں ، اگر تم سب کچھ خرچ کر دیتے جو زمین میں ہے ان کے دلوں میں اُلفت نہ ڈال سکتے لیکن اللہ نے ان کے درمیان اُلفت ڈال دی‘ بے شک وہ غالب حکمت والا ہے ۔
۶۳۔
اے نبی !(صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کافی ہے تمہیں اور مومنوں کو جو تمہارے پیرو ہیں ۔
۶۴۔
اے نبی!( صلی اللہ علیہ وسلم) مومنوں کو جہاد پر ترغیب دو اگر تم میں سے بیس (۲۰) صبر والے (ثابت قدم ) ہوں گے تو وہ دو سو (۲۰۰) پر غالب آئیں گے ، اور اگر تم میں سے ایک سو (۱۰۰) ہوں تو وہ ایک ہزار (۱۰۰۰) کافروں پر غالب آئیں گے ، اس لئے کہ وہ لوگ (کافر ) سمجھ نہیں رکھتے ۔
۶۵۔ اب اللہ نے تم سے تخفیف کر دی ، اور معلوم کر لیا کہ تم میں کمزوری ہے ، پس اگر تم میں سے ایک سو (۱۰۰) صبر والے ہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے ، اگر تم میں سے ایک ہزار (۱۰۰۰) ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے دو ہزار (۲۰۰۰) پر غالب رہیں گے اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔
۶۶۔
کسی نبی کے لئے (لائق) نہیں کہ اس کے (قبضہ میں ) قیدی ہوں جب تک وہ زمین میں خونریزی (نہ ) کر لے ، تم دنیا کا مال چاہتے ہو، اور اللہ آخرت چاہتا ہے ، اور اللہ غالب، حکمت والا ہے ۔
۶۷۔
اگر اللہ ( کی طرف) سے پہلے ہی لکھا ہوا نہ ہوتا تو اس کے لینے (بدلہ) میں تمہیں پہنچتابڑ ا عذاب۔
۶۸۔
پس اس میں سے کھاؤ جو تمہیں غنیمت میں حلال پاک ملا ، اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ بخشنے والا، نہایت مہربان ہے ۔
۶۹۔
اے نبی !(صلی اللہ علیہ وسلم) آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ہاتھ (قبضہ ) میں جو قیدی ہیں ، اُن سے کہہ دیں کہ اگر اللہ تمہارے دلوں میں کوئی بھلائی معلوم کر لے گا تو تمہیں اس سے بہتر دے گا جو تم سے لیا گیا ، اور وہ تمہیں بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا نہایت مہربان ہے ۔
۷۰۔
اور اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے خیانت کا ارادہ کریں گے تو انہوں نے اس سے قبل اللہ سے خیانت کی تو اللہ نے اُنہیں (تمہارے ) قبضہ میں دیدیا ، اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے ۔
۷۱۔
بے شک جو لوگ ایمان لائے ، اور انہوں نے ہجرت کی اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ، اور جن لوگوں نے ٹھکانہ دیا اور مدد کی وہی لوگ ایک دوسرے کے رفیق ہیں ، اور جو لوگ ایمان لائے ، اُنہوں نے ہجرت نہ کی تمہیں نہیں ہے کچھ سرو کار ان کی رفاقت سے ، یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں ، اور اگر وہ تم سے دین میں مدد مانگیں تو تم پر مدد لازم ہے ، مگر اس قوم کے خلاف نہیں جس کے اور تمہارے درمیان معاہدہ ہو ، اور جو تم کرتے ہو اللہ اُسے دیکھنے والا ہے ۔
۷۲۔
اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ ایک دوسرے کے رفیق ہیں ، اگر تم ایسا نہ کرو گے تو فتنہ ہو گا زمین میں ، اور بڑ ا فساد (ہو گا) ۔
۷۳۔
اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا اللہ کے راستے میں ، اور جن لوگوں نے ٹھکانہ دیا اور مدد کی وہی لوگ سچے مومن ہیں ، ان کے لئے بخشش اور عزت کی روزی ہے ۔

 
ابن جلال's Avatar
ابن جلال
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 173
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ابن جلال کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (05-08-09), ابو عمار (05-08-09)
پرانا 06-08-09, 04:42 AM   #2
Senior Member
 
ابن جلال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
کمائي: 27,082
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

۷۴۔
اور جو لوگ اس کے بعد ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور تمہارے ساتھ (مل کر) جہاد کیا پس وہی تم میں سے ہیں ، اور قرابت دار (آپس میں ) ایک دوسرے سے زیادہ حق دار ہیں اللہ کے حکم کی رُر سے ، بے شک اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے ۔
۷۵۔

سورۃ التوبہ




۱۔اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) (کی طرف ) قطع تعلق ہے ان مشرکوں سے جنہوں نے تم سے عہد کیا ہوا تھا ۔
۲۔پس (مشرکو) زمین میں چار (۴) مہینے چل پھر لو ، اور جان لو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ، اور یہ کہ اللہ کافروں کو رسوا کرنے والا ہے ۔
۳۔اور اللہ اور اس کے رسول ( کی طرف ) سے حجِ اکبر کے دن لوگوں کے لئے اعلان ہے کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)کا مشرکوں سے قطع تعلق ہے ، پس اگر تم توبہ کر لو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے ، اور اگر تم نے منہ پھیر لیا تو جان لو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ، اور آگاہ کر دو اُ ن لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا عذابِ درد ناک سے ۔
۴۔سوائے اُ ن مشرک لوگوں کے جن سے تم نے عہد کیا تھا ، پھر اُنہوں نے تم سے (عہد میں ) کچھ بھی کمی نہ کی اور نہ انہوں نے تمہارے خلاف کسی کی مدد کی ، تو ان سے ان کا عہد ان کی (مقررہ ) مدت تک پورا کرو، بے شک اللہ پرہیز گارون کو دوست رکھتا ہے ۔
۵۔پھر جب حُرمت والے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو قتل کرو جہاں تم اُنہیں پاؤ، اور اُنہیں پکڑ و ، اور اُنہیں گھیرلو ، اور ان کے لئے ہر گھات میں بیٹھو ، پھر اگر وہ توبہ کر لیں ، اور نماز قائم کریں ، اور زکواۃ ادا کریں ، تو ان کا راستہ چھوڑ دو، بے شک اللہ بخشنے والا نہایت مہربان ہے ۔
۶۔ اور اگر مشرکین ہی سے کوئی آپ (صلی اللہ علیہ و سلم) سے پناہ مانگے تو اُسے پناہ دے دیں ، یہاں تک کہ وہ سُن لے اللہ کا کلام، پھر اُسے اس کی امن کی جگہ پہنچادیں ، یہ اس لئے ہے کہ وہ لوگ علم نہیں رکھتے (نادان ہیں ) ۔
۷۔کیونکر ہو مشرکوں کے لئے اللہ کے پاس اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و سلم ) کے پاس کوئی عہد ، سوائے ان لوگوں کے جن سے تم نے عہد کیا مسجدِ حرام (خانہ کعبہ ) کے پاس ، سو جب تک وہ تمہارے لئے (عہد پر ) قائم رہیں تم (بھی ) ان کے لئے قائم رہو ، بے شک اللہ پرہیز گاروں کو دوست رکھتا ہے ۔
۸۔ کیسے ( صلح ہو ، حال یہ ہے ) اگر وہ تم پر غالب آجائیں تو وہ نہ لحاظ کریں تمہاری قرابت کا ، اور نہ عہد کا ، وہ تمہیں اپنے منہ سے ( محض زبانی ) راضی کر دیتے ہیں ، لیکن اُ ن کے دل نہیں مانتے ، اور ان میں اکثر نا فرما ن ہیں ۔
۹۔انہوں نے اللہ کے احکام تھوڑ ی قیمت پر بیچ ڈالے ، پھر انہوں نے اس کے راستے سے روکا، بے شک برا ہے جو وہ کرتے ہیں ۔
۱۰۔ وہ کسی مومن کے بارے میں نہ قرابت کا لحاظ کرتے ہیں نہ عہد کا ، اور وہی لوگ ہیں حد سے بڑ ھنے والے ۔
۱۱۔ پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں ، اور زکواۃ ادا کریں ، تو وہ تمہارے بھائی ہیں دین میں ‘ اور ہم آیات کھول کر بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں ۔
۱۲۔ اور اگر وہ اپنی قسمیں توڑ دیں اپنے عہد کے بعد ، اور تمہارے دین میں عیب نکالیں ، تو کفر کے سرداروں سے جنگ کرو، بے شک اُن کی قسمیں کچھ نہیں ، شاید وہ باز آجائیں ۔
۱۳۔ کیا تم ایسی قوم سے نہ لڑ و گے ؟ جنہوں نے اپنا عہد توڑ ڈالا اور اُنہوں نے رسول (صلی اللہ علیہ و سلم ) کو نکالنے (جلا وطن کرنے ) کا ارادہ کیا اور اُنہوں نے تم سے پہل کی ، کیا تم اُ ن سے ڈرتے ہو؟تو اللہ زیادہ حق رکھتا ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم ایمان والے ہو ۔
۱۴۔تم ان سے لڑ و (تاکہ ) اللہ انہیں عذاب دے تمہارے ہاتھوں سے ، اور اُ نہیں رُسوا کرے ، اور تمہیں اُن پر غالب کرے ، اور دل ٹھنڈے کرے مومن لوگوں کے ۔
۱۵۔ اور ان کے دلوں سے غصہ دُور کرے ، اور اللہ جس کی چاہے توبہ قبول کرتا ہے ، اور اللہ علم والا، حکمت والا ہے ۔
۱۶۔کیا تم گمان کرتے ہو کہ تم چھوڑ دیئے جاؤ گے ؟ (جبکہ ) اللہ نے ابھی ان کو معلوم نہیں کیا تم میں سے جنہوں نے جہاد کیا ، اور اُ نہوں نے نہیں بنایا کسی کو اللہ کے سوا، اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و سلم ) اور مومنوں ( کے سوا )رازدار۔ اور اللہ اس سے با خبر ہے جو تم کرتے ہو ۔
۱۷۔ مشرکوں کا (کام ) نہیں کہ وہ آباد کریں اللہ کی مسجدیں ‘ (جبکہ ) اپنے اوپر کفر کو تسلیم کرتے ہو ں ، وہی لوگ ہیں جن کے عمل اکارت گئے ، اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے ۔
۱۸۔ اللہ کی مسجدیں صرف وہی آباد کرتا ہے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لایا ، اور اور اس نے نماز قائم کی ، اور زکواۃ ادا کی، اور وہ اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرا ، سو اُمید ہے کہ وہی لوگ ہدایت پانے والوں میں سے ہوں ۔
۱۹۔کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام (خانہ کعبہ ) کو آباد کرنا ٹھہرایا ہے اس کے مانند جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان لایا اور اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا، وہ برابر نہیں ہیں اللہ کے نزدیک ، اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا ۔
۲۰۔ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کیا (اُن کے ) درجے اللہ کے ہاں بہت بڑ ے ہیں ، اور وہی لوگ مراد کو پہنچنے والے ہیں ۔
۲۱۔ان کا رب انہیں اپنی طرف سے رحمت اور خوشنودی اور باغات کی خوشخبری دیتا ہے ان میں ان کے لئے دائمی نعمت ہے ۔
۲۲۔وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ، بے شک اللہ کے ہاں اجرِعظیم ہے ۔
۲۳۔اے ایمان والو! اپنے باپ داد کو اور اپنے بھائیوں کو رفیق نہ بناؤ اگر وہ لوگ ایمان کے خلاف کفر کو پسند کریں ‘ اور تم میں سے جو اُ ن سے دوستی کرے گا تو وہی لوگ ظالم ہیں ۔
۲۴۔ کہہ دیں ، اگر تمہارے باپ داد، تمہارے بیٹے ، اور تمہارے بھائی ، اور تمہاری بیویاں ، اور تمہارے کُنبے ، اور مال جو تم نے کمائے ، اور تجارت جس کے نقصان سے تم ڈرتے ہو ، اور حویلیاں جن کو تم پسند کرتے ہو ، تمہیں اللہ سے اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و سلم ) سے اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ پیارے ہو ں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے ، اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا ۔
۲۵۔البتہ اللہ نے تمہاری مدد کی بہت سے میدانوں میں ‘ اور حُنَین کے دن ، جب تم اپنی کثرت پر اِترا گئے تو اس (کثرت) نے تمہیں کچھ فائدہ نہ دیا ، اور تم پر زمین فراخی کے باوجود تنگ ہوگئی ، پھر تم پیٹھ دے کر پھر گئے ۔
۲۶۔پھر اللہ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ و سلم ) پر اور مومنوں پر اپنی تسکین نازک کی ، اور اس نے لشکر اُتارے جو تم نے نہ دیکھے ، اور کافروں کو عذاب دیا ، اور یہی سزا ہے کافروں کی ۔
۲۷۔ پھر اس کے بعد اللہ جس کی چاہے توبہ قبول کرے گا ، اور اللہ بخشنے والا ، نہایت مہربان ہے ۔
۲۸۔ اے مومنو! اس کے سوا نہیں کہ مشرک پلید ہیں ، لہٰذا وہ قریب نہ جائیں اس سال کے بعد مسجدِحرام (خانہ کعبہ ) کے ۔ اور اگر تمہیں محتاجی کا ڈر ہو تو اللہ تمہیں جلد غنی کر دے گا اپنے فضل سے اگر چاہے ، بے شک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے ۔
۲۹۔تم ان لوگوں سے لڑ و جو ایمان نہیں لائے اللہ پر، اور نہ یومِ آخرت پر ، اور نہ حرام جانتے ہیں وہ جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و سلم )نے حرام ٹھہرایا ہے ، اور نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں ان لوگوں میں سے جو اہل کتاب ہیں ، یہاں تک کہ وہ جزیہ دیں اپنے ہاتھ سے ذلیل ہو کر۔
۳۰۔یہود نے کہا عُزَیر ؑاللہ کا بیٹا ہے ، اور کہا نصاریٰ نے مسیح ؑ اللہ کا بیٹا ہے ، یہ باتیں ہیں اُ ن کے منہ کی ، وہ رِیس کرتے ہیں پہلے کافروں کی بات کی۔ اللہ انہیں ہلاک کرے ، کہاں بہکے جا رہے ہیں ؟
۳۱۔ انہوں نے بنالیا اپنے علماء اور اپنے دوریشوں کو رب ، اللہ کے سوا، اور مسیح ؑ ابن مریم کو (بھی ) ، اور انہیں حکم نہیں دیا گیامگر یہ کہ وہ معبودِ واحدکی عبادت کریں ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ اُ س سے پاک ہے جو وہ شرکت کرتے ہیں ۔
۳۲۔وہ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کے نور کو اپنے منہ (کی پھونکوں )سے بجھادیں اور اللہ ( اس کے بغیر) نہ رہے گا مگر یہ کہ اپنے نور کو پورا کرے ، خواہ کافر پسند نہ کریں ۔
۳۳۔ وہ جس نے اپنا رسول (صلی اللہ علیہ و سلم ) بھیجا ہدایت کے ساتھ اور دین حق کے ساتھ ، تاکہ اسے تمام دینوں پر غلبہ دے ‘ خواہ شمرک پسند نہ کریں ۔
۳۴۔اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو (مومنو)! بے شک بہت سے علماء اور درویش لوگوں کے مال ناحق طور پر کھاتے ہیں ، اور اللہ کے راستے سے روکتے ہیں ، اور وہ لوگ جو سونا اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں ، اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ، سو انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری دو( آگاہ کر دو) ۔
۳۵۔جس دن ہم اسے دہکائیں گے جہنم کی آگ میں ، پھر اس سے اُ ن کی پیشانیوں ، اور ان کے پہلوؤں ، اور ان کی پیٹھوں کو داغا جائے گا کہ یہ ہے وہ جو تم نے اپنے لئے جمع کر کے رکھا تھا، پس مزہ چکھو جو تم جمع کر کے رکھتے تھے ۔
۳۶۔ بے شک مہینوں کی تعدا داللہ کے نزدیک اللہ کی کتاب میں بارہ (۱۲) مہینے ہے ، جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اُن میں چار(۴) حُرمت والے ( ادب کے ) مہینے ہیں ، یہی ہے درست دین ، پس تم اِن میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو ، اور تم سب کے سب مشرکوں سے لڑ و جیسے وہ سب کے سب تم سے لڑ تے ہیں ، اور جان لو کہ اللہ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے ۔
۳۷۔ یہ جو مہینے کا ہٹا کر (آگے پیچھے کرنا ہے ) کفر میں اضافہ ہے ، اس سے کافر گمراہ ہوتے ہیں وہ اسے (اس مہینے کو) ایک سال حلال کر لیتے ہیں اور دوسرے سال اسے حرام کر لیتے ہیں تاکہ وہ گنتی پوری کر لیں اس کی جو اللہ نے حرام کئے ۔ سو وہ حلال کرتے ہیں جو اللہ نے حرام کیا، ان کے برے اعمال انہیں مزیّن کر دیئے گئے ہیں ، اور اللہ کافروں کی قوم کو ہدایت نہیں دیتا ۔
۳۸۔اے مومنو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تمہیں کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں کُوچ کرو تو تم گرے جاتے ہو ، زمین پر ، کیا تم نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو پسند کر لیا ؟ سو (کچھ بھی ) نہیں ہے دنیا کی زندگی کا سامان آخرت کے مقابلہ میں مگر تھوڑ ا ۔
۳۹۔ اگر تم (راہِ خدا) میں نہ نکلو گے تو (اللہ ) تمہیں عذاب دے گا دردناک، اور تمہارے سوا کوئی اور قوم بدلہ میں لے آئے گا ، اور تم اس کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکو گے ، اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ۔
۴۰۔ اگر تم اُ س (نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم)کی مدد نہ کرو گے تو البتہ اللہ نے مدد کی ہے جب کافروں نے انہیں نکالا تھا وہ دوسرے تھے دونوں میں ، جب وہ دونوں غار (ثور ) میں تھے ، جب وہ اپنے ساتھی(ابوبکر صدیق ؓ) سے کہتے تھے ، گھبراؤ نہیں ، یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے ، تو اس نے اُ ن پر اپنی تسکین نازل کی اور ایسے لشکروں سے اُن کی مدد کی جو تم نے نہیں دیکھے ، اور کافروں کی بات پست کر دی، اور اللہ کا کلمہ (بول ) بالا ہے ، اور اللہ غالب حکمت والا ہے ۔
۴۱۔تم نکلو ہلکے ہو یا بھاری ، اور اپنے مالوں سے جہاد کرو اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں ، یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو ۔
۴۲۔اگر مال غنیمت قریب، اور سفر آسان ہوتا ، تو وہ آپ (صلی اللہ علیہ و سلم) کے پیچھے ہولیتے ، لیکن دُور نظر آیا اُنہیں راستہ، اور اب اللہ کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم سے ہو سکتا تو ہم ضرور تمہارے ساتھ نکلتے ، وہ اپنے آپ کو ہلاک کر رہے ہیں ، اور اللہ جانتا ہے کہ وہ یقینا جھوٹے ہیں ۔
۴۳۔ اللہ تمہیں معاف کرے آ پ (صلی اللہ علیہ و سلم) نے (اس سے پیشتر ) اُنہیں کیوں اجازت دیدی ، یہاں تک کہ آپ پر ظاہر ہوجاتے وہ لوگ جو سچے ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ و سلم) جان لیتے جھوٹو ں کو ۔
۴۴۔آپ (صلی اللہ علیہ و سلم) سے وہ لوگ رخصت نہیں مانگتے ، جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ، کہ وہ جہاد کریں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے ، اور اللہ متّقیوں (ڈرنے والے ، پرہیز گاروں ) کو خوب جانتا ہے ۔
۴۵۔آپ (صلی اللہ علیہ و سلم) سے صرف وہ لوگ رخصت مانگتے ہیں جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ، اور ان کے دل شک میں پڑ ے ہیں سو وہ اپنے شک میں بھٹک رہے ہیں ۔
۴۶۔ اور اگر وہ نکلنے کا ارادہ کرتے تو اس کے لئے ضرور تیار کرتے کچھ سامان، لیکن اللہ نے اُ ن کا اٹھنا نا پسند کیا، سو ان کو روک دیا اور کہہ دیا گیا(معذور ) بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھ جاؤ ۔
۴۷۔اور اگر وہ تم میں (تمہارے ساتھ ) نکلتے تمہارے لئے خرابی کے سوا کچھ نہ بڑ ھاتے ، اور تمہارے درمیان دوڑ ے پھرتے ، چاہتے ہوئے تمہارے لئے بگاڑ ، اور تم میں اُن کے جاسوس ہیں ، اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے ۔
۴۸۔البتہ اُنہوں نے چاہا تھا اس سے قبل بھی بگاڑ ، اور اُنہوں نے تمہارے لئے تدبیریں اُلٹ پلٹ کیں ، یہاں تک کہ حق آ گیا ، اور غالب آ گیا امرِ الٰہی اور وہ پسندہ نہ کرنے والے ( ناخوش ) رہے ۔
۴۹۔اور ان میں سے کوئی کہتا ہے مجھے اجازت دیں اور مجھے آزمائش میں نہ ڈالیں ، یاد رکھو وہ آزمائش میں پڑ چکے ہیں ، اور بے شک جہنم کافروں کو گھیرے ہوئے ہے ۔
۵۰۔اگر تمہیں پہنچے کوئی بھلائی تو اُنہیں بری لگے ، اور تمہیں کوئی مصیبت پہنچے تو وہ کہیں ہم نے اپنا کام سنبھال لیا تھا اس سے پہلے اور وہ خوشیاں مناتے لوٹ جاتے ہیں ۔
۵۱۔ آپ (صلی اللہ علیہ و سلم) کہہ دیں ہمیں ہر گز نہ پہنچے گا مگر (وہی ) جو اللہ نے ہمارے لئے لکھ دیا ہے ، وہی ہمارا مولا ہے ۔ اور مومنوں کو اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے ۔
۵۲۔ آپ (صلی اللہ علیہ و سلم) کہہ دیں کیا تم ہر دو خوبیوں میں سے ہم پر ایک کا انتظار کرتے ہو، اور ہم تمہارے لئے انتظار کر رہے ہیں کہ تمہیں پہنچے اللہ کے پاس سے کوئی عذاب یا ہمارے ہاتھوں سے ، سو تم انتظار کرو، ہم (بھی ) تمہارے ساتھ منتظر ہیں ۔
۵۳۔آپ (صلی اللہ علیہ و سلم) کہہ دیں تم خوشی سے خرچ کرو یا نا خوشی سے ، ہر گز تم سے قبول نہ کیا جائیگا ، بے شک تم ہو قومِ فاسقین(نافرمانوں کی قوم )
۵۴۔ اور اُن کے خرچ قبول ہونے میں مانع نہ ہوا مگر یہ کہ وہ منکر ہوئے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و سلم) کے ، اور وہ نماز کو نہیں آتے مگر سستی سے ، اور وہ خرچ نہیں کرتے مگر نا خوشی سے ۔
۵۵۔ سو تمہیں تعجب نہ ہو ان کے مالوں پر ، اور نہ ان کی اولاد پر ، اللہ یہی چاہتا ہے کہ انہیں اس سے دنیا کی زندگی میں عذاب دے ، اور ان کی جانیں نکلیں تو ( اس وقت ) بھی وہ کافر ہوں ۔
۵۶۔ اور وہ اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ بے شک وہ تم میں سے ہیں ، حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ، لیکن وہ لوگ ڈرتے ہیں ۔
۵۷۔ اگر وہ پائیں کوئی پناہ کی جگہ ، یا غار، یا گھسنے (سرسمانے ) کی جگہ تو وہ اس کی طرف پھر جائیں رسیاں تڑ اتے ہوئے ۔
۵۸۔ اور ان میں سے بعض آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر صدقات ( کی تقسیم میں ) طعن کرتے ہیں ، سو اگر اس سے اُنہیں دیدیا جائے ، تو وہ راضی ہوجائیں اور اگر انہیں اس سے نہ دیا جائے تو وہ اُسی وقت ناراض ہوجاتے ہیں ۔
۵۹۔ کیا اچھا ہوتا اگر وہ ( اس پر ) راضی ہوجاتے جو اللہ نے اور اُ س کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اُنہیں دیا، اور وہ کہتے ہمیں اللہ کافی ہے ، اب ہمیں دے گا اللہ اپنے فضل سے ، بے شک ہم اللہ اور اس کے رسول کی طرف رغبت رکھتے ہیں ۔
۶۰۔ع(رکوع)۔۔۔ زکواۃ (حق ہے ) صرف مفلسوں کا ، اورمحتاجوں کا ، اور اس پر کام کرنے والے (کارکنوں کا) اور (اُ ن لوگوں کا) جنہیں ( اسلام کی ) الفت دی جائے ، اور گرد نوں کے چھڑ انے (آزاد کرانے میں )اور قرض داروں کا (قرض ادا کرنے میں )اور اللہ کی راہ میں ، اور مسافروں کا ( یہ ) اللہ کی طرف سے ٹھہرایا ہوا فریضہ ہے ، اور اللہ علم والا ، حکمت والا ہے ۔
۶۱۔ اور ان میں سے بعض لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ستاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو کان ہے (کانوں کا کچاہے )آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کہہ دیں کان تمہاری بھلائی کے لئے ہے ، وہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں ، اور مومنوں پر یقین رکھتے ہیں اور ان لوگوں کے لئے رحمت ہیں جو تم میں سے ایمان لائے ، اور جو لوگ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو ستاتے ہیں ، ان کے لئے درد ناک عذاب ہے ۔
۶۲۔وہ تمہارے لئے (تمہارے سامنے ) اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تمہیں خوش کریں ، اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا زیادہ حق ہے کہ وہ انہیں خوش کریں ، اگر وہ ایمان والے ہیں ۔
۶۳۔ کیا وہ نہی جانتے ؟ کہ جو مقابلہ کرے گا اللہ کا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا تو بے شک اس کے لئے دوزخ کی آگ ہے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ، یہ بڑ ی رُسوائی ہے ۔
۶۴۔منافقین ڈرتے ہیں کہ مسلمانوں پر کوئی ایسی سورۃ نازل (نہ ) ہوجائے جو اُنہیں (مسلمانوں کو ) جتادے جو ان (منافقوں ) کے دلوں میں ہے ، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کہہ دیں تم ٹھٹھے (ہنسی مذاق) کرتے رہو، بے شک تم جس سے ڈرتے ہو اللہ اسے کھولنے والا ہے (کھول کر رہے گا)
۶۵۔اور تم اُ ن سے پوچھو تو وہ ضرور کہیں گے ہم تو صرف دل لگی اور کھیل کرتے ہیں ، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کہہ دیں کیا تم اللہ سے ، اور اس کی آیات سے ، اور اس کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم ) سے ہنسی کرتے تھے ؟ ۔
۶۶۔بہانے نہ بناؤ تم اپنے ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے ، اور ہم تم میں سے ایک گروہ کو معاف کر دیں تو دوسرے گروہ کو عذاب دیں گے اس لئے کہ وہ مجرم تھے ۔
۶۷۔ منافق مرد اور منافق عورتیں ان میں سے بعض ، بعض کے (ایک دوسرے کے ہم جنس ) ہیں ، برائی کا حکم دیتے ہیں اور نیکی سے روکتے ہیں ، اور اپنے ہاتھ (مٹھیاں خرچ کرنے سے ) بند رکھتے ہیں ، وہ اللہ کو بھول بیٹھے تو اللہ نے انہیں بھلا دیا، بے شک منافق ہی نا فرمان ہیں ۔
۶۸۔اللہ نے منافق مردوں ، اور منافق عورتوں ، اور کافروں کو جہنم کی آگ کا وعدہ دیا ہے ، اس میں ہمیشہ رہیں گے ، وہی اُن کے لئے کافی ہے ، اور اُ ن پر اللہ نے لعنت کی ، اور ان کے لئے ہمیشہ رہنے والا عذاب ہے ۔
۶۹۔ جس طرح وہ لوگ جو تم سے قبل تھیوہ تم سے بہت زور والے تھے قوت میں ، اور زیادہ تھے مال میں ، اور اولاد میں ، سو اُنہوں نے اپنے حصّے سے فائدہ اُٹھایا ، سو تم اپنے حصّے سے فائدہ اٹھالو، جیسے انہوں نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھایا جو تم سے پہلے تھے ، اور تم (بری باتوں میں ) گھسے جیسے وہ گھسے تھے وہی لوگ ہیں جن کے عمل دنیا اور آخرت میں اکارت گئے ، اور وہی لوگ ہیں خسارہ اٹھانے والے ۔
۷۰۔کیا اُن تک ان لوگوں کی خبر نہ آئی (نہ پہنچی) جو ان سے پہلے تھے ، قومِ نوح اور عاد اور ثمود، اور قومِ ابراہیم ؑ اور مَدیَن والے ، اور وہ بستیاں جو اُلٹ دی گئیں ، ان کے پاس ان کے رسول آئے واضح احکام و دلائل کے ساتھ، سو اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا، لیکن وہ اپنے اوپر ظلم کرتے تھے ۔
ابن جلال آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 06-08-09, 04:43 AM   #3
Senior Member
 
ابن جلال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
کمائي: 27,082
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

۷۴۔
اور جو لوگ اس کے بعد ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور تمہارے ساتھ (مل کر) جہاد کیا پس وہی تم میں سے ہیں ، اور قرابت دار (آپس میں ) ایک دوسرے سے زیادہ حق دار ہیں اللہ کے حکم کی رُر سے ، بے شک اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے ۔
۷۵۔

سورۃ التوبہ




۱۔اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) (کی طرف ) قطع تعلق ہے ان مشرکوں سے جنہوں نے تم سے عہد کیا ہوا تھا ۔
۲۔پس (مشرکو) زمین میں چار (۴) مہینے چل پھر لو ، اور جان لو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ، اور یہ کہ اللہ کافروں کو رسوا کرنے والا ہے ۔
۳۔اور اللہ اور اس کے رسول ( کی طرف ) سے حجِ اکبر کے دن لوگوں کے لئے اعلان ہے کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)کا مشرکوں سے قطع تعلق ہے ، پس اگر تم توبہ کر لو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے ، اور اگر تم نے منہ پھیر لیا تو جان لو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ، اور آگاہ کر دو اُ ن لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا عذابِ درد ناک سے ۔
۴۔سوائے اُ ن مشرک لوگوں کے جن سے تم نے عہد کیا تھا ، پھر اُنہوں نے تم سے (عہد میں ) کچھ بھی کمی نہ کی اور نہ انہوں نے تمہارے خلاف کسی کی مدد کی ، تو ان سے ان کا عہد ان کی (مقررہ ) مدت تک پورا کرو، بے شک اللہ پرہیز گارون کو دوست رکھتا ہے ۔
۵۔پھر جب حُرمت والے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو قتل کرو جہاں تم اُنہیں پاؤ، اور اُنہیں پکڑ و ، اور اُنہیں گھیرلو ، اور ان کے لئے ہر گھات میں بیٹھو ، پھر اگر وہ توبہ کر لیں ، اور نماز قائم کریں ، اور زکواۃ ادا کریں ، تو ان کا راستہ چھوڑ دو، بے شک اللہ بخشنے والا نہایت مہربان ہے ۔
۶۔ اور اگر مشرکین ہی سے کوئی آپ (صلی اللہ علیہ و سلم) سے پناہ مانگے تو اُسے پناہ دے دیں ، یہاں تک کہ وہ سُن لے اللہ کا کلام، پھر اُسے اس کی امن کی جگہ پہنچادیں ، یہ اس لئے ہے کہ وہ لوگ علم نہیں رکھتے (نادان ہیں ) ۔
۷۔کیونکر ہو مشرکوں کے لئے اللہ کے پاس اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و سلم ) کے پاس کوئی عہد ، سوائے ان لوگوں کے جن سے تم نے عہد کیا مسجدِ حرام (خانہ کعبہ ) کے پاس ، سو جب تک وہ تمہارے لئے (عہد پر ) قائم رہیں تم (بھی ) ان کے لئے قائم رہو ، بے شک اللہ پرہیز گاروں کو دوست رکھتا ہے ۔
۸۔ کیسے ( صلح ہو ، حال یہ ہے ) اگر وہ تم پر غالب آجائیں تو وہ نہ لحاظ کریں تمہاری قرابت کا ، اور نہ عہد کا ، وہ تمہیں اپنے منہ سے ( محض زبانی ) راضی کر دیتے ہیں ، لیکن اُ ن کے دل نہیں مانتے ، اور ان میں اکثر نا فرما ن ہیں ۔
۹۔انہوں نے اللہ کے احکام تھوڑ ی قیمت پر بیچ ڈالے ، پھر انہوں نے اس کے راستے سے روکا، بے شک برا ہے جو وہ کرتے ہیں ۔
۱۰۔ وہ کسی مومن کے بارے میں نہ قرابت کا لحاظ کرتے ہیں نہ عہد کا ، اور وہی لوگ ہیں حد سے بڑ ھنے والے ۔
۱۱۔ پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں ، اور زکواۃ ادا کریں ، تو وہ تمہارے بھائی ہیں دین میں ‘ اور ہم آیات کھول کر بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں ۔
۱۲۔ اور اگر وہ اپنی قسمیں توڑ دیں اپنے عہد کے بعد ، اور تمہارے دین میں عیب نکالیں ، تو کفر کے سرداروں سے جنگ کرو، بے شک اُن کی قسمیں کچھ نہیں ، شاید وہ باز آجائیں ۔
۱۳۔ کیا تم ایسی قوم سے نہ لڑ و گے ؟ جنہوں نے اپنا عہد توڑ ڈالا اور اُنہوں نے رسول (صلی اللہ علیہ و سلم ) کو نکالنے (جلا وطن کرنے ) کا ارادہ کیا اور اُنہوں نے تم سے پہل کی ، کیا تم اُ ن سے ڈرتے ہو؟تو اللہ زیادہ حق رکھتا ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم ایمان والے ہو ۔
۱۴۔تم ان سے لڑ و (تاکہ ) اللہ انہیں عذاب دے تمہارے ہاتھوں سے ، اور اُ نہیں رُسوا کرے ، اور تمہیں اُن پر غالب کرے ، اور دل ٹھنڈے کرے مومن لوگوں کے ۔
۱۵۔ اور ان کے دلوں سے غصہ دُور کرے ، اور اللہ جس کی چاہے توبہ قبول کرتا ہے ، اور اللہ علم والا، حکمت والا ہے ۔
۱۶۔کیا تم گمان کرتے ہو کہ تم چھوڑ دیئے جاؤ گے ؟ (جبکہ ) اللہ نے ابھی ان کو معلوم نہیں کیا تم میں سے جنہوں نے جہاد کیا ، اور اُ نہوں نے نہیں بنایا کسی کو اللہ کے سوا، اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و سلم ) اور مومنوں ( کے سوا )رازدار۔ اور اللہ اس سے با خبر ہے جو تم کرتے ہو ۔
۱۷۔ مشرکوں کا (کام ) نہیں کہ وہ آباد کریں اللہ کی مسجدیں ‘ (جبکہ ) اپنے اوپر کفر کو تسلیم کرتے ہو ں ، وہی لوگ ہیں جن کے عمل اکارت گئے ، اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے ۔
۱۸۔ اللہ کی مسجدیں صرف وہی آباد کرتا ہے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لایا ، اور اور اس نے نماز قائم کی ، اور زکواۃ ادا کی، اور وہ اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرا ، سو اُمید ہے کہ وہی لوگ ہدایت پانے والوں میں سے ہوں ۔
۱۹۔کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام (خانہ کعبہ ) کو آباد کرنا ٹھہرایا ہے اس کے مانند جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان لایا اور اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا، وہ برابر نہیں ہیں اللہ کے نزدیک ، اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا ۔
۲۰۔ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کیا (اُن کے ) درجے اللہ کے ہاں بہت بڑ ے ہیں ، اور وہی لوگ مراد کو پہنچنے والے ہیں ۔
۲۱۔ان کا رب انہیں اپنی طرف سے رحمت اور خوشنودی اور باغات کی خوشخبری دیتا ہے ان میں ان کے لئے دائمی نعمت ہے ۔
۲۲۔وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ، بے شک اللہ کے ہاں اجرِعظیم ہے ۔
۲۳۔اے ایمان والو! اپنے باپ داد کو اور اپنے بھائیوں کو رفیق نہ بناؤ اگر وہ لوگ ایمان کے خلاف کفر کو پسند کریں ‘ اور تم میں سے جو اُ ن سے دوستی کرے گا تو وہی لوگ ظالم ہیں ۔
۲۴۔ کہہ دیں ، اگر تمہارے باپ داد، تمہارے بیٹے ، اور تمہارے بھائی ، اور تمہاری بیویاں ، اور تمہارے کُنبے ، اور مال جو تم نے کمائے ، اور تجارت جس کے نقصان سے تم ڈرتے ہو ، اور حویلیاں جن کو تم پسند کرتے ہو ، تمہیں اللہ سے اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و سلم ) سے اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ پیارے ہو ں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے ، اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا ۔
۲۵۔البتہ اللہ نے تمہاری مدد کی بہت سے میدانوں میں ‘ اور حُنَین کے دن ، جب تم اپنی کثرت پر اِترا گئے تو اس (کثرت) نے تمہیں کچھ فائدہ نہ دیا ، اور تم پر زمین فراخی کے باوجود تنگ ہوگئی ، پھر تم پیٹھ دے کر پھر گئے ۔
۲۶۔پھر اللہ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ و سلم ) پر اور مومنوں پر اپنی تسکین نازک کی ، اور اس نے لشکر اُتارے جو تم نے نہ دیکھے ، اور کافروں کو عذاب دیا ، اور یہی سزا ہے کافروں کی ۔
۲۷۔ پھر اس کے بعد اللہ جس کی چاہے توبہ قبول کرے گا ، اور اللہ بخشنے والا ، نہایت مہربان ہے ۔
۲۸۔ اے مومنو! اس کے سوا نہیں کہ مشرک پلید ہیں ، لہٰذا وہ قریب نہ جائیں اس سال کے بعد مسجدِحرام (خانہ کعبہ ) کے ۔ اور اگر تمہیں محتاجی کا ڈر ہو تو اللہ تمہیں جلد غنی کر دے گا اپنے فضل سے اگر چاہے ، بے شک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے ۔
۲۹۔تم ان لوگوں سے لڑ و جو ایمان نہیں لائے اللہ پر، اور نہ یومِ آخرت پر ، اور نہ حرام جانتے ہیں وہ جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و سلم )نے حرام ٹھہرایا ہے ، اور نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں ان لوگوں میں سے جو اہل کتاب ہیں ، یہاں تک کہ وہ جزیہ دیں اپنے ہاتھ سے ذلیل ہو کر۔
۳۰۔یہود نے کہا عُزَیر ؑاللہ کا بیٹا ہے ، اور کہا نصاریٰ نے مسیح ؑ اللہ کا بیٹا ہے ، یہ باتیں ہیں اُ ن کے منہ کی ، وہ رِیس کرتے ہیں پہلے کافروں کی بات کی۔ اللہ انہیں ہلاک کرے ، کہاں بہکے جا رہے ہیں ؟
۳۱۔ انہوں نے بنالیا اپنے علماء اور اپنے دوریشوں کو رب ، اللہ کے سوا، اور مسیح ؑ ابن مریم کو (بھی ) ، اور انہیں حکم نہیں دیا گیامگر یہ کہ وہ معبودِ واحدکی عبادت کریں ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ اُ س سے پاک ہے جو وہ شرکت کرتے ہیں ۔
۳۲۔وہ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کے نور کو اپنے منہ (کی پھونکوں )سے بجھادیں اور اللہ ( اس کے بغیر) نہ رہے گا مگر یہ کہ اپنے نور کو پورا کرے ، خواہ کافر پسند نہ کریں ۔
۳۳۔ وہ جس نے اپنا رسول (صلی اللہ علیہ و سلم ) بھیجا ہدایت کے ساتھ اور دین حق کے ساتھ ، تاکہ اسے تمام دینوں پر غلبہ دے ‘ خواہ شمرک پسند نہ کریں ۔
۳۴۔اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو (مومنو)! بے شک بہت سے علماء اور درویش لوگوں کے مال ناحق طور پر کھاتے ہیں ، اور اللہ کے راستے سے روکتے ہیں ، اور وہ لوگ جو سونا اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں ، اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ، سو انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری دو( آگاہ کر دو) ۔
۳۵۔جس دن ہم اسے دہکائیں گے جہنم کی آگ میں ، پھر اس سے اُ ن کی پیشانیوں ، اور ان کے پہلوؤں ، اور ان کی پیٹھوں کو داغا جائے گا کہ یہ ہے وہ جو تم نے اپنے لئے جمع کر کے رکھا تھا، پس مزہ چکھو جو تم جمع کر کے رکھتے تھے ۔
۳۶۔ بے شک مہینوں کی تعدا داللہ کے نزدیک اللہ کی کتاب میں بارہ (۱۲) مہینے ہے ، جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اُن میں چار(۴) حُرمت والے ( ادب کے ) مہینے ہیں ، یہی ہے درست دین ، پس تم اِن میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو ، اور تم سب کے سب مشرکوں سے لڑ و جیسے وہ سب کے سب تم سے لڑ تے ہیں ، اور جان لو کہ اللہ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے ۔
۳۷۔ یہ جو مہینے کا ہٹا کر (آگے پیچھے کرنا ہے ) کفر میں اضافہ ہے ، اس سے کافر گمراہ ہوتے ہیں وہ اسے (اس مہینے کو) ایک سال حلال کر لیتے ہیں اور دوسرے سال اسے حرام کر لیتے ہیں تاکہ وہ گنتی پوری کر لیں اس کی جو اللہ نے حرام کئے ۔ سو وہ حلال کرتے ہیں جو اللہ نے حرام کیا، ان کے برے اعمال انہیں مزیّن کر دیئے گئے ہیں ، اور اللہ کافروں کی قوم کو ہدایت نہیں دیتا ۔
۳۸۔اے مومنو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تمہیں کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں کُوچ کرو تو تم گرے جاتے ہو ، زمین پر ، کیا تم نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو پسند کر لیا ؟ سو (کچھ بھی ) نہیں ہے دنیا کی زندگی کا سامان آخرت کے مقابلہ میں مگر تھوڑ ا ۔
۳۹۔ اگر تم (راہِ خدا) میں نہ نکلو گے تو (اللہ ) تمہیں عذاب دے گا دردناک، اور تمہارے سوا کوئی اور قوم بدلہ میں لے آئے گا ، اور تم اس کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکو گے ، اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ۔
۴۰۔ اگر تم اُ س (نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم)کی مدد نہ کرو گے تو البتہ اللہ نے مدد کی ہے جب کافروں نے انہیں نکالا تھا وہ دوسرے تھے دونوں میں ، جب وہ دونوں غار (ثور ) میں تھے ، جب وہ اپنے ساتھی(ابوبکر صدیق ؓ) سے کہتے تھے ، گھبراؤ نہیں ، یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے ، تو اس نے اُ ن پر اپنی تسکین نازل کی اور ایسے لشکروں سے اُن کی مدد کی جو تم نے نہیں دیکھے ، اور کافروں کی بات پست کر دی، اور اللہ کا کلمہ (بول ) بالا ہے ، اور اللہ غالب حکمت والا ہے ۔
۴۱۔تم نکلو ہلکے ہو یا بھاری ، اور اپنے مالوں سے جہاد کرو اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں ، یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو ۔
۴۲۔اگر مال غنیمت قریب، اور سفر آسان ہوتا ، تو وہ آپ (صلی اللہ علیہ و سلم) کے پیچھے ہولیتے ، لیکن دُور نظر آیا اُنہیں راستہ، اور اب اللہ کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم سے ہو سکتا تو ہم ضرور تمہارے ساتھ نکلتے ، وہ اپنے آپ کو ہلاک کر رہے ہیں ، اور اللہ جانتا ہے کہ وہ یقینا جھوٹے ہیں ۔
۴۳۔ اللہ تمہیں معاف کرے آ پ (صلی اللہ علیہ و سلم) نے (اس سے پیشتر ) اُنہیں کیوں اجازت دیدی ، یہاں تک کہ آپ پر ظاہر ہوجاتے وہ لوگ جو سچے ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ و سلم) جان لیتے جھوٹو ں کو ۔
۴۴۔آپ (صلی اللہ علیہ و سلم) سے وہ لوگ رخصت نہیں مانگتے ، جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ، کہ وہ جہاد کریں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے ، اور اللہ متّقیوں (ڈرنے والے ، پرہیز گاروں ) کو خوب جانتا ہے ۔
۴۵۔آپ (صلی اللہ علیہ و سلم) سے صرف وہ لوگ رخصت مانگتے ہیں جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ، اور ان کے دل شک میں پڑ ے ہیں سو وہ اپنے شک میں بھٹک رہے ہیں ۔
۴۶۔ اور اگر وہ نکلنے کا ارادہ کرتے تو اس کے لئے ضرور تیار کرتے کچھ سامان، لیکن اللہ نے اُ ن کا اٹھنا نا پسند کیا، سو ان کو روک دیا اور کہہ دیا گیا(معذور ) بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھ جاؤ ۔
۴۷۔اور اگر وہ تم میں (تمہارے ساتھ ) نکلتے تمہارے لئے خرابی کے سوا کچھ نہ بڑ ھاتے ، اور تمہارے درمیان دوڑ ے پھرتے ، چاہتے ہوئے تمہارے لئے بگاڑ ، اور تم میں اُن کے جاسوس ہیں ، اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے ۔
۴۸۔البتہ اُنہوں نے چاہا تھا اس سے قبل بھی بگاڑ ، اور اُنہوں نے تمہارے لئے تدبیریں اُلٹ پلٹ کیں ، یہاں تک کہ حق آ گیا ، اور غالب آ گیا امرِ الٰہی اور وہ پسندہ نہ کرنے والے ( ناخوش ) رہے ۔
۴۹۔اور ان میں سے کوئی کہتا ہے مجھے اجازت دیں اور مجھے آزمائش میں نہ ڈالیں ، یاد رکھو وہ آزمائش میں پڑ چکے ہیں ، اور بے شک جہنم کافروں کو گھیرے ہوئے ہے ۔
۵۰۔اگر تمہیں پہنچے کوئی بھلائی تو اُنہیں بری لگے ، اور تمہیں کوئی مصیبت پہنچے تو وہ کہیں ہم نے اپنا کام سنبھال لیا تھا اس سے پہلے اور وہ خوشیاں مناتے لوٹ جاتے ہیں ۔
۵۱۔ آپ (صلی اللہ علیہ و سلم) کہہ دیں ہمیں ہر گز نہ پہنچے گا مگر (وہی ) جو اللہ نے ہمارے لئے لکھ دیا ہے ، وہی ہمارا مولا ہے ۔ اور مومنوں کو اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے ۔
۵۲۔ آپ (صلی اللہ علیہ و سلم) کہہ دیں کیا تم ہر دو خوبیوں میں سے ہم پر ایک کا انتظار کرتے ہو، اور ہم تمہارے لئے انتظار کر رہے ہیں کہ تمہیں پہنچے اللہ کے پاس سے کوئی عذاب یا ہمارے ہاتھوں سے ، سو تم انتظار کرو، ہم (بھی ) تمہارے ساتھ منتظر ہیں ۔
۵۳۔آپ (صلی اللہ علیہ و سلم) کہہ دیں تم خوشی سے خرچ کرو یا نا خوشی سے ، ہر گز تم سے قبول نہ کیا جائیگا ، بے شک تم ہو قومِ فاسقین(نافرمانوں کی قوم )
۵۴۔ اور اُن کے خرچ قبول ہونے میں مانع نہ ہوا مگر یہ کہ وہ منکر ہوئے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و سلم) کے ، اور وہ نماز کو نہیں آتے مگر سستی سے ، اور وہ خرچ نہیں کرتے مگر نا خوشی سے ۔
۵۵۔ سو تمہیں تعجب نہ ہو ان کے مالوں پر ، اور نہ ان کی اولاد پر ، اللہ یہی چاہتا ہے کہ انہیں اس سے دنیا کی زندگی میں عذاب دے ، اور ان کی جانیں نکلیں تو ( اس وقت ) بھی وہ کافر ہوں ۔
۵۶۔ اور وہ اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ بے شک وہ تم میں سے ہیں ، حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ، لیکن وہ لوگ ڈرتے ہیں ۔
۵۷۔ اگر وہ پائیں کوئی پناہ کی جگہ ، یا غار، یا گھسنے (سرسمانے ) کی جگہ تو وہ اس کی طرف پھر جائیں رسیاں تڑ اتے ہوئے ۔
۵۸۔ اور ان میں سے بعض آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر صدقات ( کی تقسیم میں ) طعن کرتے ہیں ، سو اگر اس سے اُنہیں دیدیا جائے ، تو وہ راضی ہوجائیں اور اگر انہیں اس سے نہ دیا جائے تو وہ اُسی وقت ناراض ہوجاتے ہیں ۔
۵۹۔ کیا اچھا ہوتا اگر وہ ( اس پر ) راضی ہوجاتے جو اللہ نے اور اُ س کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اُنہیں دیا، اور وہ کہتے ہمیں اللہ کافی ہے ، اب ہمیں دے گا اللہ اپنے فضل سے ، بے شک ہم اللہ اور اس کے رسول کی طرف رغبت رکھتے ہیں ۔
۶۰۔ع(رکوع)۔۔۔ زکواۃ (حق ہے ) صرف مفلسوں کا ، اورمحتاجوں کا ، اور اس پر کام کرنے والے (کارکنوں کا) اور (اُ ن لوگوں کا) جنہیں ( اسلام کی ) الفت دی جائے ، اور گرد نوں کے چھڑ انے (آزاد کرانے میں )اور قرض داروں کا (قرض ادا کرنے میں )اور اللہ کی راہ میں ، اور مسافروں کا ( یہ ) اللہ کی طرف سے ٹھہرایا ہوا فریضہ ہے ، اور اللہ علم والا ، حکمت والا ہے ۔
۶۱۔ اور ان میں سے بعض لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ستاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو کان ہے (کانوں کا کچاہے )آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کہہ دیں کان تمہاری بھلائی کے لئے ہے ، وہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں ، اور مومنوں پر یقین رکھتے ہیں اور ان لوگوں کے لئے رحمت ہیں جو تم میں سے ایمان لائے ، اور جو لوگ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو ستاتے ہیں ، ان کے لئے درد ناک عذاب ہے ۔
۶۲۔وہ تمہارے لئے (تمہارے سامنے ) اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تمہیں خوش کریں ، اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا زیادہ حق ہے کہ وہ انہیں خوش کریں ، اگر وہ ایمان والے ہیں ۔
۶۳۔ کیا وہ نہی جانتے ؟ کہ جو مقابلہ کرے گا اللہ کا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا تو بے شک اس کے لئے دوزخ کی آگ ہے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ، یہ بڑ ی رُسوائی ہے ۔
۶۴۔منافقین ڈرتے ہیں کہ مسلمانوں پر کوئی ایسی سورۃ نازل (نہ ) ہوجائے جو اُنہیں (مسلمانوں کو ) جتادے جو ان (منافقوں ) کے دلوں میں ہے ، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کہہ دیں تم ٹھٹھے (ہنسی مذاق) کرتے رہو، بے شک تم جس سے ڈرتے ہو اللہ اسے کھولنے والا ہے (کھول کر رہے گا)
۶۵۔اور تم اُ ن سے پوچھو تو وہ ضرور کہیں گے ہم تو صرف دل لگی اور کھیل کرتے ہیں ، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کہہ دیں کیا تم اللہ سے ، اور اس کی آیات سے ، اور اس کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم ) سے ہنسی کرتے تھے ؟ ۔
۶۶۔بہانے نہ بناؤ تم اپنے ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے ، اور ہم تم میں سے ایک گروہ کو معاف کر دیں تو دوسرے گروہ کو عذاب دیں گے اس لئے کہ وہ مجرم تھے ۔
۶۷۔ منافق مرد اور منافق عورتیں ان میں سے بعض ، بعض کے (ایک دوسرے کے ہم جنس ) ہیں ، برائی کا حکم دیتے ہیں اور نیکی سے روکتے ہیں ، اور اپنے ہاتھ (مٹھیاں خرچ کرنے سے ) بند رکھتے ہیں ، وہ اللہ کو بھول بیٹھے تو اللہ نے انہیں بھلا دیا، بے شک منافق ہی نا فرمان ہیں ۔
۶۸۔اللہ نے منافق مردوں ، اور منافق عورتوں ، اور کافروں کو جہنم کی آگ کا وعدہ دیا ہے ، اس میں ہمیشہ رہیں گے ، وہی اُن کے لئے کافی ہے ، اور اُ ن پر اللہ نے لعنت کی ، اور ان کے لئے ہمیشہ رہنے والا عذاب ہے ۔
۶۹۔ جس طرح وہ لوگ جو تم سے قبل تھیوہ تم سے بہت زور والے تھے قوت میں ، اور زیادہ تھے مال میں ، اور اولاد میں ، سو اُنہوں نے اپنے حصّے سے فائدہ اُٹھایا ، سو تم اپنے حصّے سے فائدہ اٹھالو، جیسے انہوں نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھایا جو تم سے پہلے تھے ، اور تم (بری باتوں میں ) گھسے جیسے وہ گھسے تھے وہی لوگ ہیں جن کے عمل دنیا اور آخرت میں اکارت گئے ، اور وہی لوگ ہیں خسارہ اٹھانے والے ۔
۷۰۔کیا اُن تک ان لوگوں کی خبر نہ آئی (نہ پہنچی) جو ان سے پہلے تھے ، قومِ نوح اور عاد اور ثمود، اور قومِ ابراہیم ؑ اور مَدیَن والے ، اور وہ بستیاں جو اُلٹ دی گئیں ، ان کے پاس ان کے رسول آئے واضح احکام و دلائل کے ساتھ، سو اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا، لیکن وہ اپنے اوپر ظلم کرتے تھے ۔
ابن جلال آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
گمان, پیارے, پاک, پسند, قدم, نماز, نظر, منافق, معلوم, آج, ایمان, اللہ, اسلام, جواب, خلاف, خدا, دوست, دستور, راستہ, ظالم, عبادت, عزت, غار, صلح, صبر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:53 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger