واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > عبادات > قربانی



قربانی قربانی


قربانی کرنے کے بجائے سیلاب زدگان کی مدد ۔۔۔؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 28-10-11, 10:49 PM   #1
قربانی کرنے کے بجائے سیلاب زدگان کی مدد ۔۔۔؟
ملک اظہر ملک اظہر آن لائن ہے 28-10-11, 10:49 PM

قربانی کرنے کے بجائے سیلاب زدگان کی مدد ۔۔۔؟

سوال : ایک ادارے کا سربراہ یہ کہتا ہے کہ ہمارے ملک میں لوگ سیلاب کا شکار ہیں ، اس سال عید الضحٰی کے موقع پر قربانی کرنے کے بجائے یہ رقم سیلاب زدگان کو بطور امداد دے دی جائے تاکہ ان کی مشکلات میں کمی ہوسکے ، وہ یہ بھی کہتا کہ علماء کرام نے یہ فتوٰی دیا ہے کہ لوگ حج و عمرے کے بجائے یہ رقم سیلاب زدگان پر خرچ کریں تو انہیں کئی حج اور عمروں کا ثواب ملے گا ، مزید یہ کہ حج صاحب استطاعت پر فرض ہے اور قربانی سنت ، اس سلسلے میں راہنمائی فرمائیں ۔

جواب: اس مسئلے کے حل سے پہلے جاننا ضروری ہے کہ دین میں قربانی کی حیثیت کیا ہے ، کیا اس کا مقام یہی ہے کہ اسے ہر شخص*کی صوابدید پر چھوڑ دیا جائے کہ جو چاہے ، جب چاہے ، اپنی مرضی سے اس کے حکم کو باطل کردے یا نافذ کردے ۔ قربانی ہر صاحب نصاب بالغ ومرد و عورت پر واجب ہے ۔
ارشاد باری تعالٰی ہے : اپنے رب کی نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے (سورۃ کوثر 2 )
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :قربانی کے دن بنی آدم کا کوئی بھی عمل (خیر) اللہ تعالٰی کے نزدیک (قربانی کے جانور کا) خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ہے ، اور قربانی کے یہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں ، بالوں اور کھروں کے ساتھ (اللہ تعالٰی کے حضور) آئے گا ، اور (قربانی کے جانور کا ) خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں قبولیت کا درجہ پالے گا ۔ پس (اے مومنو ) تم خوش دلی سے قربانی کیا کرو۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس گنجائش ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے ۔
قربانی نہ کرنے پر وعید کا لاحق ہونا ، اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب قربانی واجب ہو ۔
حضرت جندب بن سفیان بیان کرتے ہیں کہ میں عید الاضحی کے دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھاکر فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذبح کی ہوئی بکری کو دیکھا اور فرمایا : جس شخص نے نماز سے پہلے قربانی کی ہے وہ اس کی جگہ دوسری کرے اور جس نے ابھی تک نہیں کی وہ اللہ کا نام لیکر کرے ۔
مزکورہ بالا آیات اور احادیث میں قربانی کا امر (حکم) کیا ہے اور امر وجوب کے لیے ہوتا ہے ، جس حدیث میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت فرمایا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ قربانی دین میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا طریقہ ہے اور یہ وجوب کی نفی نہیں کرتا ۔
امام برہان الدین علی المرغینانی لکھتے ہیں کہ ہر آزاد ، مسلمان ، مقیم ، مالدار پر ایام قربانی (10 تا 12 ذوالحجہ ) میں اپنی طرف سے اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے قربانی کرنا واجب ہے ۔
مذکورہ شخص*کا یہ کہنا غلط ہے کہ علما نے فتوٰی دیا ہے کہ لوگ حج وعمرہ کے بجائے یہ رقم سیلاب زدگان پر خرچ کریں تو انہیں کئی حج اور عمروں کا ثواب ملے گا ، دراصل اس شخص نے علما کا موقف کو صحیح نہیں سمجھا ۔ علما کا بیان یہ تھا کہ فرض حج تو کسی طور پر بھی ساقط نہیں ہوتا البتہ نفلی حج کو مؤخر کرکے یہ رقم سیلاب زدگان پر خرچ کی جاسکتی ہے ، کیوں کہ اہل پاکستان پر ایک بہت بڑی آزمائش ہے اور عمرہ اپنی اصل کے اعتبار سے ہی ایک نفلی عبادت ہے ۔ لیکن واجب قربانی کو نہ تو ترک کیا جاسکتا ہے اور نہ ساقط کیا جاسکتا ہے ، البتہ مالی حیثیت والے لوگ اگر اپنے روز مرہ کے مصارف یا تعیشات میں کمی کرکے کچھ رقم سیلاب زدگان کی مدد پر صرف کریں تو یہ ان کی دینی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے اور اعلی انسانی قدر بھی ۔
قربانی بھی ضرورت مند انسانوں کی خدمت کا ایک ذریعہ ہے ، مویشی پالنے والے لوگ بھی اسی آس پر جانور پالتے ہیں کہ ایام قربانی میں انہیں فروخت کرکے اپنی ضروریات پوری کریں گے ، پھر قربانی کے گوشت سے بھی غریبوں اور ناداروں کی مدد کی جاتی ہے اور کھال بھی ناداروں کی مدد کا ایک ذریعہ ہے ، نیز قربانی اسلام کا ایک شعار ہے ۔ حضرت ابراہیم و اسماعیل اور امام الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت جلیلہ ہے اور اس کی بےشمار شرعی حکمتیں اور برکات ہیں ۔

مفتی منیب الرحمان صاحب
روزنامہ ایکسپریس
15 اکتوبر 2010
__________________
یکے آنکہ در خویش خود بیں مباش
دوم آنکہ در غیر بد بیں مباش

ملک اظہر
Senior Member
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 259
شکریہ: 447
126 مراسلہ میں 516 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 553
Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے ملک اظہر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (29-10-11), ھارون اعظم (28-10-11), قاسمی (29-10-11), نورالدین (30-10-11), مہتاب (28-10-11), آبی ٹوکول (28-10-11), ابوسعد (30-10-11), رضی (30-10-11), سیفی خان (29-10-11), سام (30-10-11), سحر (28-10-11), عروج (28-10-11)
پرانا 28-10-11, 11:42 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہر صورت اپنے تکلیف میں مبتلا بہن بھائیوں کی مدد تو سبھی پر فرض ھے۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا
قاسمی (29-10-11), سام (30-10-11)
پرانا 28-10-11, 11:53 PM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,652
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مولوی کا اسلام ، اسلام سے کافی مختلف ہے۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (30-10-11), نورالدین (30-10-11)
پرانا 29-10-11, 12:14 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 259
کمائي: 5,659
شکریہ: 447
126 مراسلہ میں 516 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عروج مراسلہ دیکھیں
بہر صورت اپنے تکلیف میں مبتلا بہن بھائیوں کی مدد تو سبھی پر فرض ھے۔

یقیناًمصیبت زدہ،نادار افراد کا تعاون کرنا ہمارا اسلامی فریضہ ہے،مولانا صاحب نے اس سے ہرگز منع نہیں فرمایا ان مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرنی چاہیے مگر کوئی واجب ترک کیے بغیر
اللہ تعالی کا ارشاد ہے: وتعاونوا علی البر والتقوی ترجمہ: اور تم نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کیا کرو!-(سورۃ المائدۃ:2)سیلاب کی وجہ سے کئی خاندان بے گھر ہوگئے ،عورتیں بیوہ ہوگئیں ،بچے یتیم ہوگئے ہیں ، ایسے مصیبت زدہ تنگدست افراد کا تعاون کرنا ہماری دینی واخلاقی ذمہ داری اور موجب سعادت دارین ہے ۔
صحیح مسلم شریف میں حدیث مبارک ہے:
عن أبی ہریرۃ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم من نفس عن مؤمن کربۃ من کرب الدنیا نفس اللہ عنہ کربۃ من کرب یوم القیامۃ ومن یسر علی معسر یسر اللہ علیہ فی الدنیا والآخرۃ-
(صحیح مسلم شریف، باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن وعلی الذکر،حدیث نمبر:38-)
ترجمہ:سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جو شخص کسی مومن سے دنیا کی مصیبتوں میں سے کسی ادنی مصیبت کو دور کرتا ہے تو اللہ تعالی اس شخص سے قیامت کی بڑی مصیبت کو دور فرمادیگا،اور جو شخص کسی تنگدست کے لئے سہولت فراہم کرے گاتو اللہ تعالی اس کے لئے دنیا وآخرت میں آسانی پیدا فرمادیگا-
صحیح بخاری ومسلم میں حدیث مبارک ہے:
عن أبی ہریرۃ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : " الساعی علی الأرملۃ والمسکین کالساعی فی سبیل اللہ " وأحسبہ قال : " کالقائم لا یفتر وکالصائم لا یفطر ۔
ترجمہ:سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیوہ خاتون اور مسکین ومحتاج کو راحت پہونچانے کے لئے کوشش کرنے والا راہ خدا میں محنت کرنے والے کی طرح ہے،روای کہتے ہیں :میں سمجھتا ہوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا:وہ شخص اس شب بیدار کی طرح ہے جوکبھی تھکتا نہیں،اور اس روزہ دارکی طرح ہے جو مسلسل روزے رکھتا ہے- (صحیح بخاری، باب الساعی علی المسکین، حدیث نمبر: 6007-صحیح مسلم، باب الإحسان إلی الأرملۃ والمسکین والیتیم، حدیث نمبر:2982)
زجاجۃ المصابیح میں حدیث پاک ہے: وعن ابن عباس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : " من آوی یتیما إلی طعامہ وشرابہ أوجب اللہ لہ الجنۃ البتۃ إلا أن یعمل ذنبا لا یغفر-
ترجمہ:سیدنا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو شخص کسی یتیم کو اپنے کھانے پینے میں شامل کرلے، یقینی طور پر اللہ تعالی اسے جنت عطا فرماتا ہے سوائے یہ کہ وہ کوئی ایسا گناہ کربیٹھے جو قابل بخشش نہ ہو- ( زجاجۃ المصابیح،ج4،ص96)
صحیح بخاری ومسلم میں حدیث مبارک ہے:
عن ابن عمر أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ۔۔۔۔۔۔ ومن کان فی حاجۃ أخیہ کان اللہ فی حاجتہ۔
ترجمہ:سیدنا عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:۔۔۔۔۔۔جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پورا کرنے میں مصروف رہتا ہے اللہ تعالی کی اس کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے-(صحیح بخاری، باب لا یظلم المسلم المسلم ولا یسلمہ ، حدیث نمبر: 2442 - صحیح مسلم، باب تحریم الظلم ، حدیث نمبر: 2580)
زجاجۃ المصابیح میں حدیث پاک ہے:
وعن أنس قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : " من قضی لأحد من أمتی حاجۃ یرید أن یسرہ بہا فقد سرنی ومن سرنی فقد سر اللہ ومن سر اللہ أدخلہ اللہ الجنۃ
"ترجمہ:سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو شخص میری امت کے کسی فرد کی کوئی حاجت پوری کرے جس کے ذریعہ وہ اس کو خوش کرنا چاھتا ہو تو دراصل اس نے مجھے خوش کیا اور جس نے مجھے خوش کیا اس نے اللہ تعالی کو خوش کیا اور جس نے اللہ تعالی کو خوش کیا، اللہ تعالی اسے جنت میں داخل فرمائے گا-( زجاجۃ المصابیح،ج4،ص99)
منتظمین صاحب مولوی کا اسلام بھی یہی ہے تعصب نہ چاہیے شکریہ
یکے آنکہ در خویش خود بیں مباش
دوم آنکہ در غیر بد بیں مباش

Last edited by ملک اظہر; 29-10-11 at 12:16 AM.
ملک اظہر آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ملک اظہر کا شکریہ ادا کیا
مہتاب (29-10-11), آبی ٹوکول (29-10-11), ابوسعد (30-10-11), سام (30-10-11), شمشاد احمد (29-10-11)
پرانا 29-10-11, 12:26 AM   #5
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
مولوی کا اسلام ، اسلام سے کافی مختلف ہے۔
غير مولوي كے اسلام كا اگر ايك جامع خاكہ بھي پيش كر ديتے تو موازنہ كرنےميں آساني رہتي۔ پر وہ كيا ہے كہ كوسنا آسان ہے كرنا مشكل ہے۔۔۔ لہذا تن آساني نے ہي اس قوم كو اس حال تك پہنچايا ہے۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔

Last edited by شمشاد احمد; 29-10-11 at 12:32 AM.
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
ننھا بچہ (30-10-11), ملک اظہر (29-10-11), سام (30-10-11)
پرانا 29-10-11, 12:29 AM   #6
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عروج مراسلہ دیکھیں
بہر صورت اپنے تکلیف میں مبتلا بہن بھائیوں کی مدد تو سبھی پر فرض ھے۔
اس فريضہ كا مطلب يہ تو نہيں كہ ايك فريضہ كي ادائيگي كے چكر ميں دوسرے فرائض و واجبات تو يا تو ترك كر ديا جائے يا اس ميں حسب منشاء تاويل كر دي جائے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (30-10-11)
پرانا 30-10-11, 12:41 PM   #7
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ ملک صاحب اور جزاک اللہ خیر
قربانی کے بجائے صدقہ یا خیرات کرنا اور سیلاب زدگان کی مدد کرنا درست نہیں ہے۔
اگر کسی کی مدد کرنی ہی ہے تو اپنے دیگر مصارف پر ذرا کمپرومائز کر لیں قربانی کی عبادت کو ہی قربان کرنے پر تل گئے ہیں ۔
قربانی کا اجر و ثواب اسی صورت میں ہے کہ قربانی کے ارادے سے قربانی کا جانور اللہ کے نام پر ذبح کیا جائے


اب کسی کو اگر یہ ملا کا اسلام لگتا ہے تو اس کو چاہیے کہ اپنے علیحدہ سے ماخذ بنا لے قرآن و حدیث کے علاوہ اور پھر جیسے چاہے اس پر عمل کرے
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
ملک اظہر (30-10-11), سحر (30-10-11), عبدالقدوس (30-10-11)
پرانا 30-10-11, 12:49 PM   #8
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

قربانی کا گوشت سیلاب ذدگان میں تقسیم کردیں ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
ملک اظہر (30-10-11), سام (30-10-11), عبدالقدوس (30-10-11)
جواب

Tags
فروخت, فرض, کوثر, پاک, پاکستان, لوگ, نماز, موقع, اللہ, اسلام, ترک, جواب, حکم, حل, حدیث, خون, خوش, سال, شخص, عید, عورت, عبادت, صحیح, صدیقہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
Kali Siradas System کے تحت سیلف ڈیفینس سیکھیں! shafresha کھیل اور کھلاڑی 1 16-06-11 12:43 PM
حامد کاظمی، سیکرٹری اور جوائنٹ سیکرٹری وزارت مذہبی امور کے اکاﺅنٹس منجمد، نام ای سی ایل میں شامل گلاب خان خبریں 0 15-12-10 04:52 AM
سینیٹر سیمیں صدیقی سے مغفر حسین کی ملاقات عبدالقدوس خبریں 0 02-07-08 01:01 PM
الطاف حسین کی ہدایت پر متحدہ کے پارلیمنٹیرین پبلک سیکریٹریٹ میں عوا می شکا عبدالقدوس خبریں 0 19-04-08 04:16 AM
اپوزیشن بد نظمی اور تقسیم در تقسیم کا شکار بینظیر اور نواز شر یف کے در میان گھنٹوں بات چیت، بے اعتماد ی ختم نہیں ہو ئی عبدالقدوس خبریں 0 22-11-07 08:07 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:55 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger