واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > عبادات > قربانی



قربانی قربانی


مقاصد قربانی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-09-08, 02:33 AM   #1
مقاصد قربانی
Real_Light Real_Light آف لائن ہے 20-09-08, 02:33 AM

مقاصد قربانی

قربانی کا لفظ اپنے معنوی اطلاقات کے اعتبار سے وسیع مفہوم کا حامل ہے۔ قربانی کا لفظ ’’قرب‘‘ سے نکلا ہے۔ قرب کسی چیز کے نزدیک ہونے کو کہتے ہیں، لہٰذا قربانی سے مراد ایسا عمل ہے جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب نصیب ہو۔ اصطلاحاً ’’قربانی‘‘ کا لفظ عیدالاضحی کے ذبیحہ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ اس دن قرب الٰہی حاصل کرنے کے لیے جانور ذبح کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ قربانی سے مراد اپنی جان، مال، اولاد، عزت و آبرو، راحت و آرام سمیت ہر چیز کو اﷲ کی رضا کے لیے قربان کر دینا ہے۔ سورہء انعام کی آیت نمبر 162 میں ہے :

’’بے شک میری نماز اور میرا حج اور قربانی (سمیت سب بندگی) اور میری زندگی اور میری موت اﷲ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ ‘‘

قربانی کا تاریخی پس منظر
کسی حلال جانور کو قرب الٰہی کے حصول کی نیت سے ذبح کرنے کا سلسلہ اس وقت سے شروع ہے جب سے حضرت آدم علیہ السلام اس دنیا میں تشریف لائے۔ سب سے پہلے قرآن حکیم میں حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل و قابیل کی طرف سے دی گئی قربانی کا ذکر کیا گیا۔ قربانی کی ابتداء تو حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں نے کی لیکن اس کو دائمی شہرت حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واقعہ سے ملی۔ یہ قربانی ذبح عظیم کی آئینہ دار تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی یاد کو قیامت تک زندہ رکھنے کے لیے ہر سال دس ذی الحج کو قربانی کا فریضہ ادا کیا جاتا رہے گا۔

مقاصد قربانی
قربانی محض ایک رسم کے طور پر جانور ذبح کرنا ہی نہیں بلکہ اس کے ذریعے درج ذیل مقاصد کا حصول مطلوب ہے :

1۔ قربانی ہی وہ سنت ابراہیمی ہے جسے امت محمدیہ میں ایک زندہ جاوید یاد کے طور پر دوام عطا کر دیا گیا ہے اور امت مسلمہ کو ہدایت کی گئی کہ وہ اس کی روح کو تازہ کر تے ہوئے اس کا عملی مظاہرہ کرتی رہے جیسا کہ ارشادہ باری تعالیٰ ہے :

’’اور ہم نے ہر امت کے لیے ایک قربانی مقرر کر دی ہے۔ ‘‘ (الحج، 22 : 34)

اللہ تعالیٰ نے سنت ابراہیمی کی تقلید کو عبادت کا درجہ دے دیا۔ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا : ’’یا رسول اللہ! یہ قربانی کیا شے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا : اس قربانی سے ہمیں کیا ثواب ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (قربانی کے جانور کے) ہر بال کے عوض ایک نیکی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! اگر مینڈھا ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’تب بھی ہر بال کے عوض ایک نیکی ملے گی۔ ‘‘ (سنن ابن ماجہ)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قربانی کا ارادہ کرتے تو دو مینڈھے خریدتے جو موٹے تازے سینگوں والے کالے اور سیاہ رنگ دار ہوتے ایک اپنی امت کے ہر فرد کی جانب سے ذبح کرتے جو بھی اللہ کو ایک مانتا ہو اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا قائل ہو، اور دوسرا اپنی اور اپنی آل کی جانب سے ذبح فرماتے۔ ‘‘ (سنن ابن ماجہ)

حضرت حنش رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : ’’میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دو دہنبے ذبح کرتے دیکھا تو عرض گزار ہوا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنی طرف سے قربانی کرنے کی وصیت فرمائی تھی، چنانچہ (ارشادہ عالی کے تحت) ایک قربانی میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے پیش کر رہا ہوں۔ ‘‘ (سنن ابی داؤد)

یہ بات سنت سے ثابت ہے کہ حضور نبی اکرم نے خود اپنے لیے بھی قربانی کی، اپنے اہل بیت اور قیامت تک آنے والی اپنی امت کی طرف سے بھی قربانی کی۔ یہ عمل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی سنت کے احیاء اور یادگار کے طور پر اللہ رب العزت کی طرف سے عطا ہوا تھا۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وصیت فرمائی تھی کہ میرے بعد میری طرف سے اور اپنی طرف سے قربانی دینا۔ اس پر امیر المومنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہمیشہ عمل پیرا رہے۔

سنت ابراہیمی کی تقلید کرنے سے نہ صرف ان کے اعمال کی یاد زندہ رہتی ہے بلکہ نیک عمل کا جذبہ بھی بیدار ہوتا ہے۔ سنت ابراہیمی علیہ السلام امت مسلمہ کو یاد دلاتی ہے کہ جس طرح وہ آج حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی یادگار سنت کو جاری رکھے ہوئے ہے اس طرح اس خون کو گواہ بنا کر یہ وعدہ کریں کہ دین کی سربلندی کے لیے جان کی قربانی کا نذرانہ پیش کرنا پڑے تب بھی وہ اس سے دریغ نہیں کرے گی۔ اس کے برعکس اگر قربانی کے اندر یہ روح کار فرما نہ ہو تو ایسی قربانی مردہ رسم کے سوا کچھ نہیں۔

2۔ قربانی کا مقصد مسلمانوں میں ایثار و قربانی کا جذبہ پیدا کرنا ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے سنت ابراہیمی کو قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے واجب قرار دیا۔ یہ عبادت بلااختلاف امت محمدیہ میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے طور پر رائج ہے۔ جامع ترمذی میں منقول حدیث مبارکہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے یوں مروی ہے :

’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ طیبہ میں دس سال قیام پذیر رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قربانی دیتے رہے۔ ‘‘

قربانی کا اصل مدعا مسلمانوں کے اندر جذبۂ ایثار اجاگر کرنا ہے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی ہر عزیز شے قربان کرنے کے لیے مستعد رہیں۔

3۔ ہر عمل انسانی شخصیت، نفس اور قلب و باطن پر خاص اثرات مرتب کرتا ہے لیکن کچھ اعمال ایسے ہوتے ہیں جن سے خاص اللہ تعالیٰ کا قرب نصیب ہوتا ہے۔ قربانی بھی ایسے ہی اعمال میں سے ہے لیکن وہی قربانی اللہ رب العزت کی بارگاہ میں مقبول ہوتی ہے جس کا مقصد رضائے الٰہی کا حصول ہو۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

’’ہرگز نہ (تو) اﷲ کو ان (قربانیوں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون مگر اسے تمہاری طرف سے تقویٰ پہنچتا ہے۔ ‘‘ (الحج، 22 : 37)

اسی بنا پر اللہ کی رضا کے لیے کی جانے والی قربانی کے خون کا قطرہ ابھی زمین پر نہیں گرتا کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں شرف قبولیت پا لیتا ہے اور بندے کو بارگاہ الٰہی میں قبولیت کی وہ شان عطا کرتا ہے جس کا ذکر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کی اس روایت میں ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

’’قربانی کے دن اللہ کو خون بہانے سے زیادہ بندے کا کوئی عمل محبوب نہیں اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں اور کہھروں سمیت آئے گا۔ وہ خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک بلند درجہ حاصل کر لیتا ہے تو تمہیں اپنی قربانی سے مسرور ہونا چاہیے۔ ‘‘ (جامع ترمذی)

قربانی کی قبولیت میں جو چیز بنیادی اہمیت کی حامل ہے وہ اللہ کی بارگاہ میں حسن نیت اور صدق و اخلاص ہے۔ عمل اگر صدق و اخلاص کی بناء پر کیا جائے تو چاہے قلیل تر ہی کیوں نہ ہو انسان کا درجہ بلند تر کر دیتا ہے جبکہ وہی عمل اگر صدق و اخلاص، نیک نیتی اور للّٰہیت سے خالی ہو تو خواہ وہ پہاڑوں کی طرح کیوں نہ ہو خدا کی بارگاہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ اگر قربانی میں نیت یہ ہو کہ بہت بڑے اور کثرت سے جانور خرید کر ان کی نمود و نمائش کریں تاکہ لوگ متاثر ہوں اور وہ یہ کہیں کہ بہت بڑا آدمی ہے۔ لوگوں کی نظروں کو تو دھوکہ دیا جا سکتا ہے لیکن خدا کے ہاں ایسا آدمی بڑا نہیں ہوتا۔ عین ممکن ہے کہ خدا کے ہاں پچھلی صف پر بیٹھا ہوا وہ آدمی بڑا ہو جس میں قربانی کرنے کی سکت بھی نہ ہو لیکن اس کا دل چاہ رہا ہو کہ میرے پاس دولت ہوتی تو میں خدا کی رضا کے لیے قربانی کرتا۔ ممکن ہے قربانی نہ کر کے بھی اس غریب کو اللہ کی بارگاہ میں وہ اَجر مل جائے جو ریاکاری کی قربانی کرنے والے کو کبھی میسر نہ ہو سکے۔ لہٰذا قربانی کا قبول ہونا اس پر موقوف ہے کہ قربانی کس نیت سے دی جا رہی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

’’اور جو شخص اﷲ کی نشانیوں کی تعظیم کرتا ہے (یعنی ان جانداروں، یادگاروں، مقامات، احکام اور مناسک وغیرہ کی تعظیم جو اﷲ یا اﷲ والوں کے ساتھ کسی اچھی نسبت یا تعلق کی وجہ سے جانے پہچانے جاتے ہیں) تو یہ (تعظیم) دلوں کے تقویٰ میں سے ہے (یہ تعظیم وہی لوگ بجا لاتے ہیں جن کے دلوں کو تقویٰ نصیب ہو گیا ہو)۔ ‘‘ (الحج، 22 : 32)

اس ارشاد ربانی میں تقویٰ کو دل کی کیفیت قرار دیا گیا ہے۔ قربانی کے جانور اس لیے اللہ کے شعائر ہیں کہ اللہ کے قرب کے لیے ان کو ذبح کیا جاتا ہے۔ چونکہ ان کی نسبت اللہ کی ذات کے ساتھ ہو جاتی ہے اس لیے یہ شعائر اﷲ میں سے ہو جاتے ہیں۔ قرآن حکیم میں ہے :

’’اور قربانی کے بڑے جانوروں (یعنی اونٹ اور گائے وغیرہ) کو ہم نے تمہارے لیے اﷲ کی نشانیوں میں سے بنا دیا ہے۔ ‘‘ (الحج، 22 : 36)

قرآن و سنت کے اَحکام کے پیشہ نظر انسان اس نتیجے پر آسانی سے پہنچ جاتا ہے کہ خدا کی بارگاہ میں جس شے کی قدر و منزلت ہے وہ اس کی ظاہری صورت نہیں بلکہ اس کے اندر چھپی ہوئی حسنہ نیت اور دلوں کا تقویٰ ہے۔ قربانی کرنے والے نیت کے اخلاص اور تقویٰ کے باعث اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی حاصل کرتے ہیں۔ قربانی کا منتہائے مقصود تقویٰ اور پرہیزگاری ہے۔ اگر تقویٰ ہی نصیب نہیں تو پھر قربانی کرنا محض فضول رسم ہے۔ اس لیے خلوص اور صرف رضائے الٰہی کے حصول کی نیت سے ہی قربانی کرنی چاہیے۔
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میں‌حُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے

 
Real_Light's Avatar
Real_Light
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
شکریہ: 3,117
988 مراسلہ میں 1,963 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 368
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے Real_Light کا شکریہ ادا کیا
چیتا چالباز (20-12-08), میاں شاہد (20-12-08), طارق راحیل (04-12-08)
پرانا 04-12-08, 08:35 PM   #2
Senior Member
 
طارق راحیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 27
مراسلات: 2,895
کمائي: 31,889
شکریہ: 4,003
1,212 مراسلہ میں 2,417 بارشکریہ ادا کیا گیا
طارق راحیل کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: مقاصد قربانی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکریہ ۔
طارق راحیل آف لائن ہے   Reply With Quote
طارق راحیل کا شکریہ ادا کیا گیا
Real_Light (16-12-08)
پرانا 20-12-08, 01:35 PM   #3
Senior Member
 
Real_Light's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
کمائي: 17,186
شکریہ: 3,117
988 مراسلہ میں 1,963 بارشکریہ ادا کیا گیا
Real_Light کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں Real_Light کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: مقاصد قربانی

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طارق راحیل مراسلہ دیکھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکریہ ۔
آپ کا بھی شکریہ
طارق صاحب۔
Real_Light آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
وصیت, قرآن, قرآن حکیم, لوگ, نماز, موت, مقاصد قربانی, ممکن, آئینہ, آج, آدمی, اہل بیت, اللہ, امیر, بندگی, حدیث, حسن, خون, خدا, زندگی, سال, عبادت, عزت, صحابہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:55 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger