![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
کمائي: 7,381
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اردو فورمز کی سب سے لمبی تھریڈ ''ایک کہانی''
ایک تھا بادشاہ اس کو نہ جانے کیا سوجھی کہ اس نے یہ اعلان کرادیا کہ بھائی اس کو جو سب سے لمبی کہانی سنائے گا اس کا نکاح وہ اپنی بیٹی سے کردے گا اور انعام میں اسے آدھی سلطنت دے دے گا بہت سے لوگوں نے اپنی قسمت آزمائی کی لیکن بادشاہ بہت چالاک تھا لازمی بات ہے آدھی سلطنت کا معاملہ تھا جو کوئی بھی کہانی سنانے آتا بادشاہ اس کی کہانی سننے کے بعد کہتا کہ یہ کھانی کوئی خاص لمبی نہیں ہے اڑتے اڑتے یہ خبر ہمارے ایڈمسنٹریٹر صاحب کے کانوں تک بھی پہنچ گئی بس پھر کیا تھا بادشاہ کی شامت ہی جو آئی تھی بے چارہ بے موت مارا گیا ایک دن اچانک ہمارے ایڈمسنٹریٹر صاحب اجنبی بن کے وہاں پہنچ گئے جب بادشاہ کو پتہ چلا کہ ہمارے شہر میں کوئی اجنبی ہمیں کہانی سنانے آیا ہے تو بادشاہ نے انہیں خود بلوا بھیجا جب ہمارے ایڈ صاحب دربارِ عالی میں پہنچے تو ان کی تو ٹور ہی الگ تھی لازمی بات ہے بادشاہ نے بلوایا تھا بادشاہ بے چارے کو پتہ نہیں تھا کہ یہ ہمارے ایڈ صاحب ہیں کیا چیز وہ ان کو بھی کوئی ایویں کی شے سمجھا اب اس بے چارے کو کیا پتہ تھا کہ بھائی یہ تو خود پاک نیٹ پر سب سے لمبے تھریڈ کے چکر میں ہیں اور تھریڈ کے بارے میں تو بادشاہ کے باپ کو بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ ہے کیا بلا کیونکہ اس نے انگلش کی شکل ہی نہیں دیکھی تھی اب اسے کیا پتہ کہ یہ تھریڈ کیا بلا ہے خیر جب ہمارے ایڈ صاحب دربارِ شاہی میں پہنچے تو بادشاہ نے استفسار کیا کہ آپ کا اسم گرامی کیا ہے اور آپ کہاں سے تشریف لائے ہیں تو موصوف کہنے لگے ہم تو ٹہرے اجنبی خیر بادشاہ کی سمجھ میں یہ گاڑی اردو نہیں آئی گاڑی کیا اسے تو پتلی اردو بھی نہیں آتی تھی وہ تو بھلا ہو درباریوں کا جن کے آدابانا کلمات سن سن کر بادشاہ بھی با ادب بن گیا تھا ورنہ وہ تھا بے ادب ہی خیراس نے اپنی جھینپ مٹانے کے لئے کہا کہ تم تو ٹہرے پردیسی کہانی کیا سناؤ گے اب تو ہمارے ایڈ صاحب کو غصہ ہی جو آگیا غصے میں ایک درباری کی کرسی اٹھا کر بادشاہ کے سر میں دے مارنے ہی والے تھے کہ بادشاہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا اگر زرا دیر اور احساس نہ ہوتا تو پھر کوئی احساس باقی نہ رہتا ایڈ صاحب نے کہا آج ہم تمہیں دنیا کی سب سے لمبی کہانی سنائیں گے جو سو سال تک طویل ہوگی اور تمہیں سو سال تک زندہ رہنا پڑیگا ورنہ ہم تمہیں ابھی مار دیں گے بادشاہ نے جب یہ سنا تو بادشاہ کے تو ٹانگوں کے طوطے اڑ گئے اور وہ لنگڑانے لگا درباریوں نے اسے سہارا دیا جو کہانی سننے سے پہلے ہی بے سہارا ہو گیا تھا بادشاہ کو اچانک پیلئے نے پکڑ لیا جب تحقیق کی تو پتہ چلا کہ یہ خوف کے مارے پیلا ہوگیا ہے بھلا بادشاہ کا واسطہ اس طرح کے اجنبیوں سے کہاں پڑا ہوگا خیر بادشاہ نے بڑی مشکل سے اپنی ہمت کو جمع کرکے کہا کہ اے اجنبی ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اپنی کہانی کو مختصر کر کے سناؤ یعنی آدھی کرلو ایڈ صاحب نے بھی کوئی کچی گولیاں تھوڑی کھیلی تھی پکا پکا کر کھیلا کرتے تھے ایک دفعہ ایک گولی کو اتنا پکایا کہ اس میں سے بخار نکل کے بھاگ نکلا اب یہ بخار کے پیچھے پیچھے بخار ان کے آگے آگے جب لوگوں نے یہ ماجرا دیکھا تو بڑے حیران ہوئے کہ یہ بھی کیا انسان ہے بخار کو بھگا رہا ہے ہائے بے چارا بخار جب سے جو گیا ہے مجال ہے کہ کبھی ایڈ صاحب کے ہتھے چرھا ہو توبہ کرو دوبارا آیا ہی نہیں جب بھی آیا زکام ہی آیا ایک دفعہ پیغام بھی بھیجا کہ بھائی اب ایڈ صاحب بوڑھے ہوگئے ہیں اب ان میں وہ دم خم نہیں رہا اب تو آجاؤ لیکن جواب ندارد بہر حال بات کہاں سے کہاں نکل گئی'' تھریڈ لمبا جو کرنا ٹھرا '' بادشاہ کی بات سن کے ایڈ صاحب نے جواب دیا کہ ''جالی آہ'' او سوری ''عالی جاہ ''آپ کہانی کو چاہے کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ کرلیں لیکن اس میں سو سال ہی لگیں گے یہ کہانی کا پہلا اصول ہے چاہے تو آپ اس کو ایک گھنٹے کی بھی کر سکتے ہیں لیکن سنانے میں پورے سو سال ہی لگیں گے ایک گھنٹے کی کہانی میں بھی سوسال یہ کیسی کہانی ہوئی ؟یہ ایسی ہی کہانی ہے سننی ہے تو سنو ورنہ مرنے کے لئے تیار ہوجاؤ بادشاہ نے کہا کہ میں تمہیں اپنی پوری سلطنت دے دیتا ہوں لیکن مجھے صرف ایک گھنٹے والی کہانی سنادو اور شادی کا کیا ہوگا اس کے بارے میں میں بعد میں سوچ کر بتاؤں گا خیر ایڈ صاحب نے سوچا کہ یار سلطنت بڑی چیز ہے دولت ہوگی تو جہاں مرضی وہاں شادی ہوجائے گی اور اس بات پر معاملات طے ہوگئے کہ ایک سوسال والی کہانی مختصر کرکے ایک گھنٹے میں سنائی جاگے گی اب کہانی سننے کا دن مقرر ہوا لوگ جمع ہوئے مجمع لگا اعلانات ہوئے اور وہ دن بھی آگیا جب کہانی سنائی جانی تھی بادشاہ اور ایڈ منسٹریٹر صاحب آمنے سامنے آگئے کہانی شروع ہوئی ایڈ صاحب نے کچھ اس طرح کہانی کا آغاز کیا کہ میرا ایک کھیت تھا جب میرا کھیت تیار ہوگیا تو میں نے اس میں سے سارے بالیں الگ کرلیں اور دالیں الگ کر لیں اب میں نے دیکھا کہ سامنے والے درخت پر کچھ چڑیاں بیٹھی تھیں جو نہ جانے کتنی تھیں میں نے گنی نہیں تھی جب ساری دال کے دانے الگ ہوگئے تو میں نے وہ دال کے دانوں کا ڈھیر اپنے گھر کے سامنے درختوں کے آگے ڈال دیا اب میں سارے دن اس کو دیکھتا رہتا ایک چڑیا آتی ایک دال کا دانہ اٹھا تی اور ُپھر سے اڑ جاتی پھر ایک چڑیا آتی ایک دال کا دانہ اٹھا تی اور ُپھر سے اڑ جاتی پھر ایک چڑیا آتی ایک دال کا دانہ اٹھا تی اور ُپھر سے اڑ جاتی پھر ایک چڑیا آتی ایک دال کا دانہ اٹھا تی اور ُپھر سے اڑ جاتی پھر ایک چڑیا آتی ایک دال کا دانہ اٹھا تی اور ُپھر سے اڑ جاتی بادشاہ نے کہا بھائی آگے بھی تو بتاؤ ابھی بہت ساری چڑیاں باقی ہیں عالی جاہ پہلے ساری چڑیاں دال کے دانے چک جائیں پھر کہانی آگے بڑھے گی پھر ایک چڑیا آتی ایک دال کا دانہ اٹھا تی اور ُپھر سے اڑ جاتی آخر بادشاہ تنگ آگیا اور بولا بھائی تم نہیں ہم تو ٹہرے اجنبی ہم چلے تمہیں یہ بادشاہت مبارک ہو ۔ بولو کہانی پسند آئی یا نہیں اب یہی چکر چلانے یہ صاحب یہاں بھی پہنچ گئے ہیں لیکن یہ کامیاب نہیں ہوسکتے کیوں کہ ہم ان کی کہانی پہلے ہی سن چکے ہیں۔ بھا ئی ناراض مت ہوئیے گا ہم نے صرف مذاق کیا ہے اگر برا لگے تو پیشگی معافی کے خواستگار ہیں للہ آپ کی دل آزاری مقصود نہیں بس زرا سا شغل ہے شاید اس سے کسی کے اداس ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر جائے M A Ansari |
|
|
|
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
منصور بھائی کمال کردیا یار آپ نے۔
![]() مذکور تھریڈز پر کافی دوستوں کے تحفظات ہیں لیکن ہم پھر بھی اس سلسلے کو جاری رکھیں گے۔ آپ کی اس کہانی کا بہت بہت شکریہ ، تحفہ قبول کیجیئے۔
__________________
میںتمھارے اس حق کے لیئے کہ تم مجھ سے "اختلاف" کرسکو، آخری وقت تک لڑوںگا! |
|
|
|
| shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا | نورالدین (26-04-11) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
کمائي: 7,381
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یار شادی کے متعلق لکھنے ہی لگا تھا کہ ایڈ صاحب کا فون آگیا کہ خبر دار جو ذاتیات میں ٹانگ اڑانے کی کوشش کی تمہاری ٹانگ ہی اڑادی جائے گی بس بھائی مجھے اپنی ٹانگ پیاری تھی اس لئے میں نے سوچا کہ شادی جائے بھاڑ میں اپنی ٹانگ تو بچاؤں ہا ہا ہا
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,654
کمائي: 32,976
شکریہ: 9,791
1,376 مراسلہ میں 4,254 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اگر آپ زردار کی کہانی لکھتے تو ٹانگ سے بم نہیں باندھ دیا جاتا۔ شکر کریں۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فورمز, کلمات, پاک, پسند, موت, معلوم, آج, انگلش, انسان, انعام, اجنبی, اردو, اردو فورمز, بھائی, بادشاہت, جواب, حکم, حال, خبر, دل, سوری, سال, شہر, غصہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سب سے لمبا تھریڈ | شیرازی | تجاویز اور شکایات | 20 | 26-04-11 02:39 PM |
| بائیو کا پریکٹٰکل ہو رہا تھا | The Great | قہقہے ہی قہقے | 2 | 21-04-11 12:27 AM |
| تھریڈ بند !!! | sahj | عمومی بحث | 2 | 13-03-11 08:11 PM |
| ایک تھریڈ لکھنا ھے | Haya 786 | گپ شپ | 17 | 24-12-10 11:08 PM |