|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 20
مراسلات: 5,772
کمائي: 82,792
شکریہ: 2
2,019 مراسلہ میں 3,246 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اوکاڑہ میں حلوائی کی دکان پر ہارون نامی ایک شخص پہنچا۔ بولا
پہلوان جی ! 2 کلو لڈو کتنے کے ہیں ؟ “ 100 روپے کے 2 کلو“ حلوائی پہلوان نے جواب دیا “اچھا ٹھیک ہے پہلوان جی ! 2 کلو لڈو دے دو“ ہارون نے آرڈر دیا حلوائی نے 2 کلو لڈو کا ڈبہ پیک کیا ہارون صاحب کو دیا۔ ہارون صاحب کو اچانک کچھ یاد آیا اور پوچھا ۔ پہلوان جی ! اگر 2 کلو برفی لینی ہو تو کتنے کی آئے گی؟ 150 روپے کی 2 کلو برفی ہو گی۔ حلوائی پہلوان نے کہا ہارون نے لڈو کا ڈبہ واپس کرتے ہوئے کہا جناب مجھے 2 کلو برفی دے دیں۔ حلوائی نے 2 کلو برفی کا ڈبہ بنا دیا اور ہارون صاحب ڈبہ لے کر چلنے لگے۔ اچانک کسی خیال کے تحت پھر پوچھا پہلوان جی ! یہ بتائیں کہ 2 کلو گلاب جامن کتنے کے ہوں گے ؟ “200 روپے کے 2 کلو گلاب جامن آتے ہیں۔“ حلوائی نے صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ہارون نے درخواست کی کہ برفی واپس رکھ لیں۔ اور مجھے 2 کلو گلاب جامن ہی دے دیں۔ حلوائی نے 2 کلو برفی واپس رکھ لی اور 2 کلو گلاب جامن کا ڈبہ دے دیا۔ ہارون ڈبہ بغل میں دبا کر چُپ چاپ چل دیا۔ حلوائی نے کہا “ ہارون صاحب ! جناب 200 روپے گلاب جامن کی قیمت تو ادا کردیں“ “ 200 روپے گلاب جامن کی قیمت ؟ لیکن یہ گلاب جامن تو میں برفی کے بدلے تبدیل کروائے ہیں“ ہارون نے جواباً کہا حلوائی نے گاہک کا دل رکھنے کے لیے کہا “اچھا چلو ! 150 روپے 2 کلو برفی کے ہی دے دیں جناب “ “150 روپے برفی کے کیسے؟؟ لیکن وہ تو میں نے 100 روپے والے لڈو کے بدلے تبدیل کروائی تھی نا ۔ تو 150 کیسے ؟؟“ ہارون صاحب نے پھر چالاکی کا مظاہرہ کیا حلوائی نے مجبوراً دکانداری خراب ہونے کے ڈر سے بچنے کے لیے کہا “اچھا 100 روپے لڈو کے ہی دے دیں جناب “ “لیکن لڈو تو میں نے لیے ہی نہیں “ ہارون صاحب نے اپنی کھوچلانہ اصلیت ظاہر کی اور دکان سے نکل پڑے |
|
|
|