|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
ایک بچی نے پہلی بار ٹیلی فون پر اپنے باپ کی آواز سنی تو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔
ماں : کیا ہوا بیٹی ؟ بچی: امی اب ہم ابو کو اس تنگ سوراخ سے کیسے نکالیں گے؟
__________________
ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے -
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 1,219
کمائي: 17,990
شکریہ: 2,343
915 مراسلہ میں 2,335 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اتنا پرانا لطیفہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے سام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,229
شکریہ: 1,155
6,272 مراسلہ میں 14,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلامُ علیکم
Old is Gold |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا | skjatala (27-05-11), ارشد کمبوہ (27-05-11) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,654
کمائي: 32,976
شکریہ: 9,791
1,376 مراسلہ میں 4,254 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا | ارشد کمبوہ (27-05-11), عصمت (27-05-11) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
اس نے کپڑا نچوڑ کر الگنی پر لٹکایا اور منڈیر پر بیٹھے ہوئے کوّے کو دیکھ کر بولی ۔’’ تو جل مرے موئے کالے کلوٹے بھتنے، کائیں کائیں سے میرا مغز چاٹ لیتا ہے۔ گاؤں بھر میں کیا یہی منڈیر اچھی لگتی ہے تجھے ؟ ’’ اور اس نے اپنا پرانا جوتا پوری قوت سے منڈیر پر پھینکا۔ کوا کائیں کائیں کرتا پَر پھڑپھڑاتا اوپر اٹھ گیا اور پھر نمبردار کے بالا خانے کا چکر کاٹ کر اس درے کی طرف اڑ گیا جدھر سے گاؤں کے نوجوان جو فوج اور پولیس میں ملازم تھے، اپنے بڑے بڑے بستر کاندھوں پر دھرے اور ہاتھوں میں جلیبیوں اور پیڑوں کی پوٹلیاں لٹکائے سال سال بھر بعد اپنی ماؤں ،بہنوں اور خدا جانے کس کس سے ملنے آتے ہیں۔
ایک اور کوّا اُڑتا ہوا آیا اور منڈیر کی بجائے الگنی پر بیٹھ گیا ۔ دو ایک بار جھولا تو دیوار میں دھنسی ہوئی چیڑکی کمزور لکڑی ڈھیلی ہو گئی، باہر کھسکی اور الگنی کپڑے سمیت زمین پر آ رہی کوّا نمبردار کے بالاخانے کا چکر کاٹ کر اسی درّے کی طرف اڑ گیا۔ اِس نے کو ّے کی بارہ پشتوں کو ایسے ایسے خطاب دیئے کہ پڑوسنیں چھتوں پر چڑھ آئیں ۔ ادھیڑ عمر کی ایک بنی ٹھنی بیوہ ناک پر انگلی رکھ کر بولی۔‘‘ ہے ہے کیا غضب ہو گیا کیا قیامت ٹوٹ پڑی ۔ کوّے نے الگنی گرا دی؟ قربان جاؤں، میں سمجھی بہو رانی کو بچھو نے کاٹ لیا ۔ اے یہ کوؤں کی کائیں کائیں بہت اچھا شگون ہے۔ یاد رکھو، تیرا سپاہی آج کل آیا کہ آیا۔‘‘ ----- |
|
|
|
| عصمت کا شکریہ ادا کیا گیا | سام (27-05-11) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 812
کمائي: 5,892
شکریہ: 2,351
408 مراسلہ میں 663 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکریہ بھائی
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| gold, فون, ہے۔, کیسے, گے؟, ٹیلی, پہلی, پھوٹ, پرانا, لگی, نکالیں, آواز, اپنے, السلامُ, امی, ابو, اتنا, بیٹی, باپ, بار, تنگ, خود, رونے, سوراخ, سنی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| زندگی انسان کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں۔دم ھوا کی موج ھے رم کے سوا کچھ بھ نہیں ۔گل تبسم کہہ رھا تھا | عروج | شاعر مشرق علامہ اقبال | 9 | 15-05-11 01:07 PM |
| سپریم کورٹ کے حکم پر 2 رینٹل پاور کمپنیوں نے 24 گھنٹوں کے اندر سوا 2 ارب روپے بمع سود واپس کردئیے | گلاب خان | خبریں | 0 | 09-12-10 05:22 AM |
| بیت اللہ محسود نے خاموشی اختیار کر لی:حکیم اللہ محسود کا دعویٰ | حیدر | خبریں | 6 | 13-08-09 11:01 PM |