|
|
#1 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,070
کمائي: 1,047,283
شکریہ: 5,802
6,281 مراسلہ میں 15,259 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
یک دیہاتی کو کسی دھوکے باز نے مسقط لے جانے کے بہانے مری کی پہاڑیوں پر چھوڑ دیا اور کہا ”یہاں سے تین کے فاصلے پر مسقط ہے۔“ تین دن بعد اسے ایک آدمی ملا جس نے ایک بیگ اور بستر اٹھا رکھا تھا دیہاتی نے اس آدمی سے پوچھا ”آپ نے مسقط دیکھا ہے؟“ آدمی نے جواب دیا ”میں خود تین مہینے سے دبئی ڈھونڈ رہا ہوں تم مسقط کی بات کرتے ہو۔“
__________________
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
بسم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلاَةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاء * رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے سیپ کا شکریہ ادا کیا | کنعان (10-01-11), ھارون اعظم (09-01-11), یاسر عمران مرزا (09-01-11), محمد عاصم (18-01-11), اویسی (15-01-11), خرم شہزاد خرم (14-01-11), عبداللہ آدم (14-01-11), عروج (18-01-11) |
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
دیہاتی دبئی یا مسقط نہیں جاتے بلکہ وہ یوپین ممالک میں جاتے ہیں اور یہاں پر ان کی تعداد سب سے زیادہ ھے کیونکہ ان کے پاس ایجنٹوں کو دینے کے لئے رقم ایک کثیر رقم موجود ہوتی ھے اور جسے وہ یہاں آ کر 2 سال میں پورا کر لیتے ہیں۔ شہروں میں رہنے والے گلف میں جاتے ہیں۔ والسلام
__________________
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اکثر خود بھی پورے ہو جاتے ہیں راستے میں ہی!!!
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا | کنعان (14-01-11), خرم شہزاد خرم (14-01-11) |
|
|
#5 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم!
راستے میں وہی پورے ہوتے ہیں جن کے پاس ایجنٹس کو دینے کے لئے پوری رقم نہیں ہوتی۔ ان کے پاس دو روٹس ہوتے ہیں ایک وہ جس کی فیس وہ پوری لیتے ہیں اور اس میں پورے ہونے والی بات نہیں۔ اور ایک وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمارے پاس بس اتنا ہی ھے تو ان کے لئے روٹ دوسرا جس میں موت سر پر منڈلا رہی ہوتی ھے جہاں سانس ختم اسے وہیں پھینک کے آگے نکل جاتے ہیں۔ والسلام |
|
|
|
| کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا | اویسی (15-01-11) |
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#7 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اس میں شان میں کمی پر تو کوئی بات نہیں لوگ خودکشی اور بچے فروخت کرتے اکثر دیکھے جا سکتے ہیں، پاکستان میں رہ کر بھی تو بمبوں کی بینٹ چڑھ رہے ہیں لوگ، کراچی کے حالیہ حالات کی طرف ہی دیکھ لیں کس طرح قتل عام جاری ھے۔ شان تو ان کی بھی نہیں گھٹتی جو اس سے سیف ہو جاتے ہیں۔ رزق کے لئے شہر، ملک چھوڑنے کا بھی حکم ھے اگر اپنے ملک میں میسر نہیں، اب کیا پتہ کہ اس میں کس کی موت واقع ہو جائے، موت کو حج و عمرہ کرنے پر گئے ہوئے لوگوں کو بھی وہاں آ جاتی ھے۔ ایک بندے کی تنخواہ ہی اتنی ھے کہ وہ اپنی 3،2،1۔۔۔۔۔۔۔ بیٹیاں بیاہ نہیں سکتا تو اس کا کوئی بیٹا اپنے باپ پر جو فرض ھے اسے پورا کرنے کے لئے ایسی کوشش کرتا ھے کہ جہاں پر ایک روپے کے بدلے25،100،150 روپے بنتے ہوں ان ترقی یافتہ ممالک کا رخ کرے۔ اب قسمت کا کیا معلوم کہ وہ اسے ترقی کی طرف لے کر جا رہی ھے یا موت کی طرف۔ کوشش ھے جو ہر انسان کرتا ھے۔ والسلام |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فاصلے, کہا, کرتے, پوچھا, ڈھونڈ, ورحمتہ, لے, چھوڑ, ملا, آدمی, اٹھا, اللہ, السلام, اسے, بہانے, بیگ, باز, تین, جواب, جانے, خود, دھوکے, دیکھا, دبئی, رکھا |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|