واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > عبادات > ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں



ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں


کیا باجماعت نماز تراویح بدعت ہے؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 23-08-10, 02:19 AM  
کیا باجماعت نماز تراویح بدعت ہے؟
عبداللہ حیدر عبداللہ حیدر آف لائن ہے 23-08-10, 02:19 AM

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
بدعات کا جواز ثابت کرنے کے لیے کچھ لوگوں‌نے مشہور کر رکھا ہے کہ نماز تراویح کی جماعت سب سے پہلے عمر رضی اللہ عنہ نے شروع کرائی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے زمانے میں اس کا رواج نہ تھا۔ لیکن صحیح اور ثابت شدہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے خود جماعت کے ساتھ نماز تراویح ادا فرمائی ہے۔
اپنے فرمان مبارک سےباجماعت تراویح کی فضیلت بیان کی۔
اور جو صحابہ نماز تراویح باجماعت ادا کرتے تھے ان کی تعریف کی اور اس سے منع نہیں فرمایا۔

یعنی سنت کی تعریف کے مطابق قولی، فعلی اور تقریری ہر لحاظ سے اس کا سنت ہونا شک و شبہ سے بالا تر ہے۔

اب اللہ کی توفیق سے اس بات کے دلائل اور تفصیل عرض کرتا ہوں۔

نماز تراویح کے فعلی سنت ہونے کی دلیل

اہل سنت و الجماعت کی معتبر ترین کتابوں میں سے ایک یعنی صحیح مسلم کی یہ حدیث ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ ثُمَّ صَلَّى مِنْ الْقَابِلَةِ فَكَثُرَ النَّاسُ ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنْ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ فَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنْ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلَّا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ قَالَ وَذَلِكَ فِي رَمَضَان
(صحیح مسلم کتاب صلاۃ المسافرین و قصرھا باب الترغیب فی قیام رمضان و ھو التراویح)
"ایمان والوں کی ماں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ایک رات مسجد میں نماز(تراویح) پڑھی تو کچھ لوگ نے ان صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اقتداء میں نماز پڑھنی شروع کر دی۔ پھر دوسری شب نماز پڑھی تو اور زیادہ لوگ جمع ہو گئے، پھر تیسری یا چوتھی رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم تشریف نہیں لائے۔ پھر جب صبح ہوئی تو فرمایا “میں نے دیکھا جو تم کر رہے تھے، مجھے تمہارے پاس آنے سے صرف یہ خوف مانع تھا کہ کہیں تم پر (نماز تراویح) فرض نہ ہو جائے۔ اور یہ رمضان کا واقعہ تھا۔
صحیح مسلم کی احادیث کے صحیح ہونے پر تمام اہل سنت و الجماعت کا اتفاق ہے اس لیے مزید کوئی حوالہ پیش کرنے کی ضرورت تو نہیں ہے لیکن قارئین کی تسلی کے لیے دوسرے محدثین کی فہرست بھی پیش کی جارہی ہے جنہوں نے اس حدیث کو روایت کیا۔
صحیح البخاری کتاب صلاۃ التراویح باب فضل من قام رمضان
سنن ابی داؤد باب الصلاۃ کتاب فی قیام شھر رمضان۔
صحیح ابن خزیمہ جلد سوم ص 338۔ حدیث نمبر 2206
موطا امام مالک کتاب الندا للصلاۃ باب الترغیب فی الصلاۃ فی رمضان
مصنف عبدالرزاق باب الصلاۃ کتاب الضجعۃ بعد الوتر و باب النافلۃ
مسند احمد میں “باقی مسند الانصار” باقی المسند السابق
صحیح ابن حبان باب کتاب الایمان باب التکلیف
المعجم الاوسط للطبرانی حدیث نمبر 5439
السنن الکبری للبیہقی جلد 2 صفحہ 493
سنن النسائی الصغرٰی کتاب قیام اللیل و تطوع النھار باب قیام شھر رمضان
مستخرج ابی عوانہ کتاب مبتدا کتاب الصیام باب الترغیب فی قیام اللیل و الصلاۃ فی شھر رمضان و ثوابہ

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے باجماعت تراویح کے بارے میں مندرجہ ذیل حدیث صحیح سند کے ساتھ بیان کی ہے:
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ زِيَادٍ أَبُو طَلْحَةَ الْأَنْمَارِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ عَلَى مِنْبَرِ حِمْصَ قُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ ثُمَّ قُمْنَا مَعَهُ لَيْلَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ ثُمَّ قَامَ بِنَا لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ لَا نُدْرِكَ الْفَلَاحَ قَالَ وَكُنَّا نَدْعُو السُّحُورَ الْفَلَاحَ
(مسند احمد بن حنبل، مسند الکوفیین حدیث نعمان بن بشیر عن النبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم)
"نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے منبر پر کھڑے ہو کر بیان کیا کہ “ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ساتھ رمضان کی تئیسویں کو رات کے پہلے ایک تہائی حصہ تک قیام کیا۔ پھر پچیسویں کو آدھی رات تک قیام کیا۔ پھر ستائیسویں کو ان (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسل) نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ہمیں گمان ہوا کہ ہم “فلاح” کو نہیں پا سکیں گے اور ہم لوگ سحری کو “فلاح” کہا کرتے تھے”

باجماعت نماز تروایح قولی سنت بھی ہے:

سنن ابی داؤد کی ایک صحیح حدیث دیکھتے ہیں جس سے معلوم ہو گا کہ اس کا سنت ہونا فرمان رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے بھی ثابت ہے :
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ
صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنْ الشَّهْرِ حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ فَلَمَّا كَانَتْ السَّادِسَةُ لَمْ يَقُمْ بِنَا فَلَمَّا كَانَتْ الْخَامِسَةُ قَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ نَفَّلْتَنَا قِيَامَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ قَالَ فَقَالَ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ قَالَ فَلَمَّا كَانَتْ الرَّابِعَةُ لَمْ يَقُمْ فَلَمَّا كَانَتْ الثَّالِثَةُ جَمَعَ أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ وَالنَّاسَ فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ قَالَ قُلْتُ وَمَا الْفَلَاحُ قَالَ السُّحُورُ ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِقِيَّةَ الشَّهْرِ

(سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب فی قیام شھر رمضان)
"ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے تو ان صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ہمارے ساتھ کچھ قیام نہ کیا حتٰی کہ (رمضان ختم ہونے میں) سات دن رہ گئے (یعنی تئیسویں رمضان کی رات کو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ہمارے ساتھ قیام کیا (یعنی نماز تراویح پڑھی)۔ یہاں تک کہ رات کا ایک تہائی حصہ گزر گیا۔ پھر جب چھٹی رات تھی (یعنی رمضان ختم ہونے میں چھے دن رہ گئے) تو ان صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ہمارے ساتھ قیام نہیں کیا۔ پھر جب پانچویں رات تھی ( پانچ دن باقی رہ گئے )تو ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی۔ میں نے عرض کیا “اے اللہ کے رسول ! کاش ، آپ اس رات ہمیں اور بھی نفل پڑھاتے۔ فرمایا “جب آدمی امام کے ساتھ اس کے فارغ ہونے تک نماز پڑھتا ہے تو اس کے لیے پوری رات کے قیام کا ثواب شمار کیا جاتا ہے۔ پھر چوتھی رات کو قیام نہیں کیا۔ پھر جب تیسری رات تھی (یعنی رمضان کی ستائیسویں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنے گھر والوں ، ازواج مطہرات اور دوسرے لوگوں کو جمع کیا اور انہیں نماز پڑھائی یہاں تک کہ ہمیں فلاح کے فوت ہونے کا ڈر پیدا ہو گیا۔ جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا “فلاح کیا چیز ہے” تو انہوں نے فرمایا “سحری”۔ پھر اس کے بعد کی راتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے (جماعت کےساتھ) قیام نہیں کیا۔
اس حدیث کو امام دارمی نے بھی اپنی سنن میں روایت کیا ہے۔ دیکھیے سنن دارمی کتاب “و من باب الصوم” باب فی قیام رمضان۔

باجماعت نماز تروایح تقریری سنت بھی ہے

تقریر سے مراد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے سامنے کوئی کام کیا گیا ہو اور ان صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اس پر خاموشی اختیار فرمائی ہو اور اس سے منع نہ فرمایا ہو۔ قول و فعل کی طرح تقریر بھی کسی عمل کے سنت ہونے کی دلیل ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے تراویح کی جماعت تو کرائی لیکن اس پر ہمیشگی اختیار نہیں کی اس خوف سے کہ کہیں امت پر فرض نہ کر دی جائے۔ لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے طور پر مسجد نبوی میں جماعت کے ساتھ تراویح پڑھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے انہیں منع نہیں کیا۔ اس بات کی تفصیل امام احمد بن حنبل نے صحیح سند کے ساتھ یوں بیان کی ہے:

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ النَّاسُ يُصَلُّونَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ بِاللَّيْلِ أَوْزَاعًا يَكُونُ مَعَ الرَّجُلِ شَيْءٌ مِنْ الْقُرْآنِ فَيَكُونُ مَعَهُ النَّفَرُ الْخَمْسَةُ أَوْ السِّتَّةُ أَوْ أَقَلُّ مِنْ ذَلِكَ أَوْ أَكْثَرُ فَيُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ (مسند احمد بن حنبل مسند باقی الانصار، باقی المسند السابق)

"نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ “رمضان کی راتوں میں لوگ مسجدنبوی میں الگ الگ گروہوں کی صورت میں نماز پڑھتے تھے۔ ہوتا یوں تھا کہ کسی آدمی کو قرآن کا کچھ حصہ یاد ہوتا تو پانچ چھے یا اس سے کم و بیش آدمی اس کے ساتھ ہو جاتے اور اس کی اقتدا میں نماز ادا کرتے”
یہ ایک لمبی حدیث کا ابتدائی حصہ ہے۔
- امید ہے اس گفتگو سے غلط فہمیوں کو دور کرنے میں مدد ملے گی باذن اللہ۔ اور واضح ہو گا کہ صحیح بخاری میں عمر رضی اللہ عنہ کا باجماعت نماز تراویح کو بدعت کہنے کے بارے جو قول ہے اس میں بدعت کا لغوی مطلب مراد ہے نہ کہ شرعی۔
والسلام علیکم

Last edited by عبداللہ حیدر; 23-08-10 at 02:23 AM..

 
عبداللہ حیدر's Avatar
عبداللہ حیدر
ذیلی ناظم

تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 756
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
bashirahmed98 (27-08-10), rana ammar mazhar (16-01-12), shafresha (23-08-10), محمد عاصم (23-08-10), مرزا عامر (23-08-10), راجہ اکرام (18-08-11), شھزادباجوہ (05-09-11), طلحہ (30-08-10), عبداللہ آدم (24-08-10)
پرانا 31-08-10, 12:28 AM   #16
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ھارون اعظم مراسلہ دیکھیں
بلاتبصرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
آپکی سمجھ شریف پر۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلا تبصرہ
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (16-01-12)
جواب

Tags
arabic, فرض, کتابوں, گمان, قرآن, نماز, ماں, مسجد, مسجد نبوی, معلوم, آدمی, ایمان, اللہ, جلد, حدیث, دریافت, رمضان, رات, سحری, صفحہ, صلاۃ, صبح, صحیح, صحابہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ارباب رحیم سے بدسلوکی جاوید پٹھان کیخلاف مقدمے کی سماعت عبدالقدوس خبریں 0 16-04-08 07:58 AM
بش انتظامیہ کو (ن) لیگ کی سوچ پر تشویش لاحق ہے،طلعت مسعود عبدالقدوس خبریں 0 16-04-08 07:42 AM
جیو پر پابندی کیخلاف درخواستیں،سندھ ہائیکورٹ میں5بار سماعت کے بعد ناقابل سماعت قرار دے کر خارج خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-12-07 08:28 AM
توہین عدالت پر چیف الیکشن کمشنرکیخلاف درخواست کی سماعت بعد میں کرینگے، جسٹس جاوید اقبال خرم شہزاد خرم خبریں 0 26-10-07 11:18 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:55 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger