| ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#16 |
|
Senior Member
![]() |
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Last edited by بنت آدم; 06-08-11 at 11:08 PM. |
|
|
|
|
|
#17 |
|
Senior Member
![]() |
اجازت دیجیے اللہ حافظ
|
|
|
|
|
|
#18 | |||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ، محترمہ بیٹی ، بنت آدم ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو صرف اس طرح اس کی عبادت کی توفق دے جس طرح اس نے خود یا اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ذریعے ہمیں سکھایا سمجھایا ہے ، بیٹی اس آیت کریمہ میں غور و تدبر فرمایے (((((قُل إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثلُكُم يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَٰهُكُم إِلَٰهٌ وَاحِدٌ فَمَن كَانَ يَرجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَليَعمَل عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشرِك بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا::: (اے محمد ) فرمایے کہ بے شک میں تُم لوگوں کی طرح ایک بشر ہوں (فرق یہ ہے کہ)میری طرف (اللہ کی طرف سے) وحی کی جاتی ہے کہ یقیناً تُم لوگوں کا ایک ہی (حقیقی اور سچا)معبود (اللہ )ہے، لہذا جو کوئی اللہ سے ملنے کا یقین رکھتا ہے وہ نیک عمل کرے اور اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے))))) سورت الکہف/آخری آیت ، ذرا اس آیت کریمہ میں تدبر کیجیے بیٹی کہ اللہ کے ہاں کسی عبادت کے مقبول ہونے ، کسی عمل کے مقبول ہونے کے لیے دو شرائط رکھی گئی ہیں (۱) اخلاص للہ ، اور (۲) نبی اکرم صلی اللہ علیہ علی آلہ وسلم کی سنت مبارکہ کی موافقت ، کوئی بھی عمل اللہ کے ہاں اس وقت تک نیک عمل نہیں قبول ہو سکتا جب تک وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے اجازت شدہ نہ ہو ، اور ان میں سے عبادات سب سے پہلے آتی ہیں ، امید ہے آپ عبادت کی تعریف تو جانتی ہوں گی ، کہ ہر وہ عمل جو اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے وہ عبادت میں شمار ہوتا ہے خواہ وہ عام معروف عبادات کی صف میں شامل نہ ہوتا ہو ، اور جو عمل اللہ کی رضا کے لیے نہ ہو وہ اللہ کی عبادت کے طور پر مقبول نہیں ہوتا خواہ وہ عام معروف عبادات میں سے ہو ، لہذا خوب اچھی طرح سے سمجھنے کی کوشش کیجیے میری بیٹی کہ ، دِین کی نسبت سے کوئی بھی عمل اس وقت تک اللہ کے ہاں مقبول نہیں جب تک وہ خالص اللہ کی رضا کے لیے نہ ہو اور اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت مبارکہ کی موافقت نہ رکھتا ہو، میں نے کہا ، اُس نے لکھا ، فلاں علامہ صاحب نے فرمایا ، فلاں امام صاحب نے لکھا ، اس قسم کی باتیں دین کے اعمال کی درستگی کی دلیل نہیں ہوتیں بٹیا ، بلکہ صرف اور صرف اللہ کی کتاب اور پھر اللہ کی اجازت کے مطابق اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت مبارکہ کی موافقت والے عمل ہی درست ہوتے ہیں ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم وہ واحد ہستی تھے جن کی زبان مبارک سے اللہ نے اپنی شریعت کی تکمیل فرمائی اور ان کے بعد کسی کو بھی اس کا چارہ نہیں کہ وہ کسی عبادت کو شریعت میں شامل کرے ، کسی عمل کا اجر و ثواب بتائے ، کسی عمل کی کوئی فضیلت بیان کرے ، پڑھیے کہ اللہ نے اس کا اعلان فرمایا ہے (((((ثُمَّ جَعَلنَاكَ عَلَى شَرِيعَةٍ مِنَ الأمر فَاتَّبِعهَا وَلا تَتَّبِع أَهوَاءَ الَّذِينَ لا يَعلَمُونoإنَّهُم لَن يُغنُوا عَنكَ مِنَ اللَّهِ شَيئًا وَإِنَّ الظَّالِمِينَ بَعضُهُم أَولِيَاءُ بَعضٍ وَاللَّهُ وَلِيُّ المُتَّقِينَ:::پھر ہم نے آپ کو دِین کے ایک طریقے پر قائم فرما دیا ، لہذا آپ اسی کی پیروی کیجیے اور جو علم نہیں رکھتے ان کی خواہشوں کی پیروی مت کیجیے (گا)o بے شک وہ لوگ اللہ کے سامنے آپ کے کسی کام نہ آ سکیں گے اوریقیناً ظلم کرنے والے ایک دوسرے کے دوست ہیں اور اللہ تقویٰ والوں کا دوست ہے )))))سورت الجاثیہ/آیات 18،19، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے تصدیق کے بغیر شریعت کے امور میں ، جن میں عبادات بدرجہ اُولیٰ شامل ہیں ،راستے بتانے والوں اور ان راستوں پر چلنے والوں کے بارے میں اللہ سُبحانہ ُ وتعالیٰ نے فرمایا ہے (((((أَم لَهُم شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُم مِنَ الدِّينِ مَا لَم يَأذَن بِهِ اللَّهُ وَلَولَا كَلِمَةُ الفَصلِ لَقُضِيَ بَينَهُم وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُم عَذَابٌ أَلِيمٌ:::کیا اُن کے لیے(اللہ کے ایسے) شریک ہیں جو ان کے لیے دین میں وہ راستے بناتے ہیں جن کی اللہ نے اجازت نہیں دی ، اور اگر اللہ کی طرف سے (قیامت کے قیام کا) فیصلہ نہ ہوچکا ہوتا تو ان کے درمیان(ابھی ہی)فیصلہ کر دیا جاتا اور یقیناً ظلم کرنے والوں کے لیے دردناک عذاب ہے)))))سورت الشُوریٰ /آیت 21، بیٹی میں نے آپ کے سامنے جو سوالات رکھے تھے اُن میں عبادت سے ممانعت کی بات نہیں ، بلکہ جو عبادات آپ نے خاص نسبتوں ،خاص ٖفضیلتوں اور خاص نتائج کی خبر کے ساتھ ذکر کی تھیں میں نے ان خبروں کی تصدیق طلب کی تھی ، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آپ ان خبروں کو نشر کرنے سے پہلے بلکہ اُن کو قبول کرنے سے پہلے ان کی تصدیق حاصل کرتیں ، بیٹی ، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ فرمان ہمیشہ یاد رکھیے کہ (((((كَفَى بِالمَرءِ كَذِبًا أَن يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ::: کسی انسان کے (اللہ کے ہاں)جھوٹے ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ جو کچھ وہ سنے اس کے مطابق بات کرتا رہے ))))) صحیح مسلم کی ابتدائی احادیث میں ہے ، لہذا میری بیٹی دین تو دین دُنیا کے بھی کسی معاملے کی کوئی خبر ، کوئی بات بلا تصدیق آگے نہیں بڑھائی جانی چاہیے ، یہ بھی یاد رکھیے کہ تصدیق حسنء ظن کی بنا پر نہیں ہوتی ، ٹھوس شواھد کی بنا پر ہوتی ہے ، اگر ہم کسی شخصیت کے بارے میں اس کے علم و فضل کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہیں تو وہ حسن ظن اس شخصیت کے کہے یا لکھے ہوئے کو دینی اعمال کی درستگی کی دلیل نہیں بنا سکتا ، بیٹی ، آپ عبادات کرنا چاہتی ہیں ، ضرور کیجیے ، لیکن یہ تو دیکھیے کہ آپ جو عبادت ، جس خبر کی بنیاد پر ، اس خبر میں بتائے گئے اجر و ثواب ، فضیلت اور نسبت کی بنیاد پر کر رہی ہیں وہ کہاں تک سچ ہے !!!؟؟؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ اور اس قسم کی بے بنیاد غیر مصدقہ خبروں پر عمل کرنے والے بے چارے عمل کر کر کے جب اللہ کے سامنے پہنچے اور اسے اس کے اعمال کے نتیجے میں یہ جواب ملے کہ جس نے تمہیں وہ سب خبریں دیں تھیں اسی سے جا کر وہ سب کچھ حاسل کرو ، ہم نے یا ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ علی و آلہ وسلم) نے تو ایسی کوئی بات نہ بتائی تھی ، پس ہم اس کے ذمہ دار نہیں ، جنہوں نے تمہیں اس راہ پر چلایا تھا ، جن کی تم نے اطاعت کی تھی انہی سے اجر و ثواب بھی لو ، ابھی ابھی ذکر کردہ سورت الجاثیہ اور سورت الشوریٰ کی آیات میں پھر غور و تدبر کیجیے ، بٹیا ، اور مزید درج ذیل آیات میں بھی ::: (((((يَومَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُم فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيتَنَا أَطَعنَا اللَّهَ وَأَطَعنَا الرَّسُولَاoوَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَاoرَبَّنَا آتِهِم ضِعفَينِ مِنَ العَذَابِ وَالعَنهُم لَعنًا كَبِيرًا:::اُس دن ان لوگوں کے چہرے جہنم کی آگ میں لوٹ پوٹ ہوں گے اور وہ کہیں گے اے کاش ہم نے اللہ اور رسول کی اطاعت کی ہوتی oاور کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے اپنے سرداروں ( راہمناؤں) اور بڑوں کی اطاعت کی (تو )انہوں نے ہمیں (حق والے) راستے سے گمراہ کر دیا oاے ہمارے رب انہیں دگنا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت کر))))) سورت الاحزاب /آیات 66تا68، (((((وَيَومَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيهِ يَقُولُ يَا لَيتَنِي اتَّخَذتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلاoيَا وَيلَتَى لَيتَنِي لَم أَتَّخِذ فُلانًا خَلِيلاً oلَقَد أَضَلَّنِي عَنِ الذِّكرِ بَعدَ إِذ جَاءَنِي وَكَانَ الشَّيطَانُ لِلإنسَانِ خَذُولا وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَومِي اتَّخَذُوا هَٰذَا القُرآنَ مَهجُورًا ::: اور اس دن (اپنی جان پر)ظلم کرنے والا اپنے دونوں ہاتھوں پر دانتوں سے کاٹے گا اور کہے گا اے کاش میں نے رسول کے ساتھ راہ اپنائی ہوتی ہے o ہائے میری شامت (آگئی )کاش میں نے فُلاں کو دوست نہ بنایا ہوتاo اُس نے تو مجھے میرے پاس نصیحت (اللہ کی کتاب) آنے کے بعد بہکایا اور بے شک شیطان انسان کو بھٹکانے والا ہی ہے ، اور رسول(شکوہ و شکایت) فرمائیں گے کہ اے رب میری قوم نے قران کو چھوڑی ہوئی چیز بنائے رکھا))))) سورت الفرقان/آیات 27تا29، بیٹی ، اللہ کی عبادت ، اللہ کی کتاب میں اللہ کے مقرر کردہ قانون کی روشنی میں کی جائے گی ورنہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی نافرمانی کا گناہ بھی ہوگا اور اللہ کی کتاب سے ہجرت کرنے کا گناہ بھی، کہ جس کتاب میں بڑی ہی وضاحت سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اطاعت کے احکامت ہیں ، ان کے ذریعے ارسال کردہ، اللہ کی طرف سے مکمل کردہ دین اور شریعت کی پیروی کے احکام ہیں ، اور بغیر علم کے یعنی کسی تصدیق کے بغیر خود ساختہ عبادات ، اور اعمال کے اجر و ثواب اور فضیلتوں کے خبریں دینے اور ان پر عمل کرنے والوں کے انجام کے بارے میں خبریں ہیں ، اُس کتاب سے ہجرت کرنا یہی ہے کہ ہم اس میں دیے گئے احکام پر عمل نہ کریں اور سنی سنائی غیر مصدقہ باتوں پر عمل پیرا ہوں ، میرا خیال ہے کہ بات کچھ لمبی ہو گئی ، آپ اسے بار بار توجہ سے پڑھیے ، اللہ تعالیٰ ہم سب کے لیے اس میں خیر عطاء فرمائے ، اس کے علاوہ آپ نے اپنے منقولہ بالا مراسلے کے بعد ایک دو اور مراسلات میں بھی کچھ غلط معلومات ارسال کی ہیں ، ان شاء اللہ ان کے بارے میں بات کسی اگلی فرصت میں ہو گی ، کافی عرصہ پہلے میں نے رمضان کی فضیلت اور مسائل کے بارے میں مضمون ارسال کیا تھا ، کچھ فرصت ملے تو اس کا مطالعہ بھی فرمایے گا ، اس میں آپ کو آپ کی ارسال کردہ معلومات کی صحت کے بارے میں کچھ معلومات میسر ہوں گی ، بیٹی ، میری یہ ساری بات چیت کسی تعصب یا ضد کی نظر سے نہیں ، آپ نے مجھے انکل کہا ، کچھ مزید اپنائیت کا احساس ہوا لہذا دلی احترام کے ساتھ اپنی بیٹی کو نصیحت کی ہے ، اور امید کرتا ہوں کہ میری بیٹی میری نصیحت قبول کرے گی ، والسلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|||
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (05-08-11), ھارون اعظم (08-08-11), مرزا عامر (07-08-11), معظم (05-08-11), اسراراحمد چوہدری (14-08-11), راجہ اکرام (05-08-11) |
|
|
#19 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزاک اللہ خیر محترم عادل سہیل بھائی
|
|
|
|
|
|
#20 |
|
Senior Member
![]() |
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Last edited by بنت آدم; 06-08-11 at 11:39 PM. |
|
|
|
|
|
#21 |
|
Senior Member
![]() |
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
Last edited by بنت آدم; 06-08-11 at 11:42 PM. |
|
|
|
|
|
#22 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اور فیشن پر نہ بولنا وغیر جو کچھ آپ نے کہا ۔۔۔۔۔۔۔ یہاں بھی آپ دو مختلف باتوں کو مکس کر گئی ہیں، فیشن کوئی دین سمجھ کر نہیں کرتا، اس لیے اس کا کرنے والا خود جواب دہ ہے اگر وہ اسلامی تعلیمات کی حدود سے نکلتا ہے جبکہ یہاں جو کچھ آپ ذکر کر رہی ہیں کتابوں سے پڑھ پڑھ کر اسے آپ دین سمجھ کر پیش کر رہی ہیں، اور دین مٰیں زیادہ افضلیت اور ترجیح اسی کو ہے جو منقول ہو مستند ذرائع سے ۔۔ باقی آپ خود سمجھدار اور پڑھی لکھی ہیں، اچھے برے کا فیصلہ خود کر سکتی ہیں
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
|
|
#23 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جب کچھ شیئر کریں تو حوصلہ رکھا کریں کہ اس پر سوالات آ سکتے ہیں۔ اسی طرح علم کا سلسلہ چلتا ہے ایسا نہیں ہوتا جو کچھ آپ نے ادھر ادھر سے سن کر لکھ دیا وہ حتمی ہے اور اس پر کوئی سوال نہیں اٹھا سکتا اہل علم کو وسعت نظر و فکر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح بغیر کسی وجہ کے لاسٹ شیئرنگ کہنا کسی طور مناسب نہیں اگر سوال پوچھنے پر آپ شیئرنگ کرنا چھوڑ رہی ہیں تو اس سے یہی مطلب نکلتا ہے کہ آپ اپنے شیئر کیے ہوئے کو اتھینٹک سمجھتی ہیں اور اس پر اعتراض یا سوال کسی طور برداشت نہیں کر سکتیں۔ اپنے اس مراسلے پر نظر ثانی کریں |
|
|
|
|
|
|
#24 |
|
Senior Member
![]() |
سوری سر میرا اتنا علم نہیں کے میں بحث مباہلہ ٹائپ کچھ کروں میں نے کہا ناں میری شیرنگ ایسی ہوں گی سنی سنائی پر نہیں مساجد سے ملنے والے پیجزمیں بھی جو مواد ہو سیم عبادات و وظائف بک میں مینشن ادھر بکس میں بھی مینشن لائک شب قدر کی عبادات میں نہ ایس ایم پر چلتی ہوں نہ عادت ہے نہ ہی اس پر جس نے سنائی پڑھنا شروع بک مین مینشن جو ہو وہی دیکھ کر لکھتی ہوں جو چیز خود پڑھتی ہوں وہھ لکھتی ہوں یہاں اعتراض ہوا اور میری عموما شئیرنگ ایسی ہی ہیں ہوں گی کیوں کی میں ایک عبادت و وظائف کے علاوہ عطاری قادری صاحبان کی لکھی ہوئی کتب پڑھتی اور بعض مقامات میں ان کتب میں بھی ریفرنس نہیں ہوتا سو مین وہ بھی جاہل ہیں علم نہیں آپ کے پاس ہے تو بہتر ہے میں خاموش رہوں شئیرنگ نہیں کروں مزید الفاظ مجھے خرچ نہیں کرنے جزاک اللہ فی امان اللہ
Last edited by بنت آدم; 06-08-11 at 11:22 PM. |
|
|
|
| بنت آدم کا شکریہ ادا کیا گیا | کنعان (07-08-11) |
|
|
#25 |
|
Senior Member
![]() |
سر اوپر انکل نے قرآن کا حوالہ دیا ہے اس کے بعد کچھ کہنا فضول اللہ عزوجل نے جیسے کئی میٹرز میں مجھے راہیں دکھائیں بیشک یہاں بھی دکھائے گا جب وہ مجھے ایک مسلک کا اصل چہرہ دکھانے کا اہتمام کر سکتا ہے کہ میں کفریہ عقائد سے نکلوں تو یہاں بھی غلط ہوئی تو وہ انشاء اللہ یہاں بھی مدد فرمائے گا میں خاموش صرف اوپر موجود آیات کی وجہ سے ہوئی ہوں کہ برحال اہترام کرنا فرض وہ اللہ کا کلام ہے دیٹس ال جزاک اللہ فی امان اللہ
|
|
|
|
| بنت آدم کا شکریہ ادا کیا گیا | کنعان (07-08-11) |
|
|
#26 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
صرف آیات کی وجہ سے خاموش نہ ہوں، بلکہ اگر کوئی اچھی بات ہے تو اسے ضرور شیئر کریں تا کہ ہمیں بھی کچھ معلومات مل سکیں
قرآن کا احترام اپنی جگہ لیکن علم چھپانا بھی درست نہیں ۔۔ اور معلومات شیئر کرنا کسی طور قرآن کے احترام کے خلاف نہیں |
|
|
|
|
|
#27 |
|
Senior Member
![]() |
سوری سر میں بہتر معذرت کے ساتھ اٹس مائی لاسٹ شیرنگ یہاں کافی لوگ ہیں جو مجھ سے بہتر علم رکھتے مزید اس فورم پر البتہ میری کوئی شئیرنگ نہیں ہو گی کہا سنا معاف اگر جانے ان جانے کوئی بات سخت کہی ہو جس سے دل آزاری ہوئی ہو تو معذرت خواں ہوں اللہ عزوجل بھی اس کے لیے معاف فرمائے فی امان اللہ
|
|
|
|
| بنت آدم کا شکریہ ادا کیا گیا | کنعان (07-08-11) |
|
|
#28 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم بنت آدم سسٹر
فارم چھوڑ کر جانے کا فیصلہ درست نہیں ھے، ٹھیک ھے آپ ابھی عمر میں چھوٹی ہیں اور کنورسیشن نہیں کر سکتیں تو کوئی بات نہیں لیکن براہ مہربانی آپ اپنی کتابت جاری رکھیں۔ والسلام
__________________
|
|
|
|
|
|
#29 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھإئی راجہ اکرام صاحب ، آپ نے بیٹی بنت آدم کو اچھی طرح سے سمجھانے کی کوشش کی ہے ، اور بیٹی بھی سمجھنا چاہتی ہے لیکن عام معمول کے مطابق اپنی کہی یا بتإئی گئی بات میں غلطی کو تسلیم کرنے کی ہچکچاہٹ مانع محسوس ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اُس کا وہ دین سیکھنے ، سمجھنے اور سمجھانے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے جو اللہ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر نازل فرمایا ، اور ان صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ذریعے مکمل فرما دیا ، اور ہمیں ہر خود ساختہ بے بنیاد غیر مصدقہ خبر کو اپنانے سے بچائے ، ----------------------------------------- بیٹی بنت آدم ، اللہ تعالیٰ آپ کو بھی بہترین اجر سے نوازے کہ آپ اللہ کے کلام کی تکریم میں خاموش رہنا چاہتی ہیں ، لیکن بیٹی ، یہ اس لحاظ سے درست نہیں کہ آپ ایک بات کو مان نہیں پا رہی ہیں اور آیات کے ذکر کی بنا پر اس بات کو مزید سمجھنے کی کوشش سے دست بردار ہو رہی ہیں ، جبکہ معاملہ آپ کے لیے واضح نہیں ہوا ، میں نے جو کچھ پیش کیا وہ بالکل واضح ہے لیکن آپ کے لیے قابل قبول نہیں ، یا میں آپ کو اس طرح سمجھا نہیں پا رہا جس طرح سمجھا جانا چاہیے ، بٹیا یہاں سے واپس ہونا یا یہیں پر رک جانا آپ کو درست بات تک پہنچنے نہیں دے گا ، اور آپ یقینا ایک تذبذب کی سی کیفیت میں رہیں گی ، جس کا جز وقتی شعور آپ کو ہوتا رہے گا ، لہذا بیٹی جو کچھ آپ کہنا چاہیں بلا تکلف کہیے ، اس فورمز پر الحمد للہ سب ہی خوش دلی سے ایک دوسرے کی بات سنتے ہیں، بیٹی آپ نے جو کچھ دوسرے سکیشنز میں موجود خرافات کے بارے میں میری طرف سے بات نہ کرنے کے بارے میں کہا ہے وہ آپ کی معلومات کی حد تک درست ہے ، جزاکِ اللہ خیرا ، اس طرح ایک دوسرے کو یاد دہانی ضرور کروانا چاہیے ، اس فورمز کے آغاز سے میں بہت سے ذمہ دار لوگوں کو بارہا ایسے معاملات میں ذاتی پیغامات اور ای میلز کے ذریعے گذارشات پیش کرتا چلا آیا ہوں ، لیکن ،،،، ((((( انک لا تھدی مَن احببت و اللہ یھدی مَن یشاء ::: آپ (اے محمد )جسے چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے اور اللہ ہی جسے چاہتا ہےہدایت دیتا ہے ))))) ہمارے پاک نیٹ کی انتظامیہ ابھی تک بمشکل تمام دینی فورمز کو سینڈ لاسٹ پوزیشن میں لا سکی ہے اس سے بھی آپ کچھ اندازہ کر سکتی ہیں، بہر حال ، پیوستہ رہ شجر سے امیدء بہار رکھ ، اللہ ہی ہے جو جب چاہے جس کا چاہے جیسے چاہے دل بدلنے پر قادر ہے ، اور اسے اپنے دین کے کام میں استعمال کر لے، بیٹی ایک دفعہ پھر کہتا ہوں ، دین کے معاملات کو اللہ اور اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی اجازت کے بغیر قبول نہیں کیا جا سکتا ، کسی سے حسن ظن اس کی شخصیت کو ہماری نظروں میں محترم بنانے کے کام تو آ سکتا ہے اس کی شخصیت کو دینی معاملات میں دلیل بنانے کے نہیں ، عقائد اور عبادات کے معاملات سب سے پہلے آتے ہیں، چند ایک مثالیں پیش کرتا ہوں غور کیجیے ، اگر ایک شخص فجر کی نماز دو کی بجائے تین یا چار رکعت ادا کرے تو کیا اسے ثواب ہو گا ؟؟؟ یقینا آپ بھی اس کا جواب نہیں میں دیں گی ، لیکن کیوں ؟؟؟ اس کا جواب آپ اپنے اندر تلاش کیجیے ، اگر کوئی مسلمان مغرب کی نماز تین کی بجائے چار رکعت پڑھے تو کیا اسے ثواب ہو گا ؟؟؟ یقینا آپ بھی اس کا جواب نہیں میں دیں گی ، لیکن کیوں ؟؟؟ اس کا جواب بھی آپ اپنے اندر تلاش کیجیے ، اگر کوئی مسلمان دوران حج قیامء عرفات ایک دن کی بجائے دو یا زیادہ دن کرے تو کیا اسے ثواب ہو گا ؟؟؟ یقینا آپ بھی اس کا جواب نہیں میں دیں گی ، لیکن کیوں ؟؟؟ اس کا جواب بھی آپ اپنے اندر تلاش کیجیے ، چلتے چلتے ایک عظیم امام ، جلیل القدر تابعی سعید بن المُسیب رحمہُ اللہ کا فتویٰ سناتا چلوں جو کہ اِمام البیہقی نے اپنی ’’’سنن الکبری ‘‘‘ صحیح أسناد کے ساتھ نقل کیا کہ ’’’ سعید بن المُسیب نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ فجر طلوع ہونے کے بعد دو رکعت سے زیادہ نماز پڑہتا ہے اور اِس نماز میںخوب رکوع اور سجدے کرتا ہے تو سعید نے اُسے اِس کام سے منع کیا ، اُس آدمی نے کہا ::: یا أَبَا مُحَمَّدٍ أَیُعَذِّبُنِی اللَّہ ُ عَلٰی الصَّلَاۃِ ::: اے أبا محمد کیا اللہ مجھے نماز پر عذاب دے گا ؟ ::: تو سعید رحمۃُ اللہ علیہ نے جواب دِیا ::: لَا وَلَکِن یُعَذِّبُکَ اللہ بِخِلَافِ السُّنَّۃِ ’’’ نہیں لیکن تمہیں سُنّت کی خِلاف ورزی پر عذاب دے گا ‘‘‘ ::: سنن البیہقی الکبریٰ / حدیث۴۲۳۴ /کتاب الصلاۃ /باب ۵۹۳ من لم یصل بعد الفجر إلا رکعتی الفجر ثم بادر بالفرض ، کی آخری روایت ، اِمام الالبانی نے صحیح قرار دیا ، پس میری بیٹی ، جو عبادت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت مبارکہ سے سرٹیفائیڈ نہ ہو گی وہ ثواب کی حامل نہیں ہو سکتی ، اور سنت مبارکہ کی پیروی ہی اہل سنت کا مسلک ہے ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | راجہ اکرام (07-08-11) |
![]() |
| Tags |
| color, size, فتح, کلمہ, پہلی, پڑھنے, پاک, نماز, آزاد, اول, الہ, اللہ, المبارک, السلام, تین, جنت, جائیں, خصوصی, دفعہ, دوسری, دعا, رمضان, سورہ, شب, شریف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| رمضان المبارک کے حوالے سے خصوصی مضمون:: اے خیر کے طا لب آگے بڑھ::: از:ڈاکٹر رخسانہ جبین | JISOUTH | اپکے کالم | 0 | 27-07-11 02:59 PM |
| امریکی نمائندۂ خصوصی رچرڈ ہالبروک انتقال کرگئے | یاسر عمران مرزا | خبریں | 27 | 15-12-10 04:39 PM |
| انجم بھائ کے لئے خصوصی دعا | نیلم خان | آپ اور ہم - دکھ سکھ کے ساتھی | 110 | 25-10-09 05:09 AM |
| عبادت و بندگی - رمضان المبارک کے موقع پر خصوصی تحریر | گوہر | عبادات | 0 | 25-08-09 04:01 AM |