اٹھارھویں پارے کا آغاز سورہ مومنون سے ہوتا ہے سورہ مومنون کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے اس گروہ کا ذکر کیا ہے جو جنت کے سب سے بلند مقام فردوس کا وارث بننے والا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ مومن کامیاب ہوئے جنہوں نے اپنی نمازوں میں اللہ کے خوف اور خشیت کو اختیار کیا جنہوں نے لغویات سے اجتناب کیا جو زکوٰة کو صحیح طریقے سے ادا کرتے ہیں، جو امانتوں اور وعدوں کی پاسداری کرتے ہیں، جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں، جو اپنی پاک دامنی کا تحفظ کرتے ہیں سوائے اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے۔ جو صاحب ایمان ایسا کرے گا وہ فردوس کا وارث بن جائے گا۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے جناب نوح علیہ السلام اور ان کے بعد آنے والے نبیوں کی محنت کا بھی ذکر کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی توحید کے پھیلاؤکے لیئے ہر طرح کے طعنوں کو سہہ لیا مگر اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت کو چھوڑنا گوارہ نہیں کیا۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی دعوت کا ذکر کیا کہ رسول ﷺ صراط مستقیم کی طرف بلانے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے یہ بتلایا کہ جو لوگ آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے وہ سیدھے راستے سے بھٹکے ہوئے ہیں ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتلایا کہ بعض لوگوں کا یہ گمان ہے کہ ہم نے ان کو بغیر وجہ کے پیدا کردیا ہے۔ اور انہوں نے ہمارے پاس پلٹ کر نہیں آنا حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسانوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گااور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دوبارہ پیش ہونگے اور انکو اپنے کئے کا جواب دینا ہوگا ۔اس سورت کے آخر میں جاکر اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ جو کوئی بھی غیر اللہ کو پکارتا ہے اس کے پاس ایسا کرنے کی کوئی دلیل نہیں اور اس کا حساب پروردگار کے پاس ہے اور اس نے کبھی کافروں کو کامیاب نہیں کیا اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو اس امر کی تلقین بھی کی ہے کہ وہ دعا مانگیں کہ اے میرے پروردگار مجھ کو بخش دے اور مجھ پررحم فرما اور تو بہترین رحم کرنے والا ہے ۔
سورہ مومنون کے بعد سورہ نور ہے اور سورہ نور میں اللہ تعالیٰ نے فحاشی کی روک تھام کے لیئے زنا کی سزا مقرر فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ زانی اور زانیہ کو ایک سو کوڑے مارنے چاہئیں اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی حد کو عبور کرے اس کے بارے میں کسی کے دل میں نرمی پیدا نہیں ہونی چاہیے۔ سورہ نور میں زانی اور زانیہ کے لیئے جو سزا مقرر کی گئی وہ غیرشادی شدہ زانی کی حد ہے جبکہ اگر اس گناہ کا ارتکاب شادی شدہ مرد یا عورت کرے تو حدیث پاک میں ایسے مجرم کے لیے سنگسار کی حد مقرر ہے۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے پاکدامن عورتو ں پر تہمت لگانے کی مذمت کی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کے جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں اور پھر چار گواہوں کو پورا نہیں کرتے ایسے لوگوں کو80 کوڑے لگنے چاہئیں اور مستقبل میں ان کی کوئی گواہی قبول نہیں کرنی چاہیے اور انکا شمار فاسقوں میں ہو گا ۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بد کرداری کے ایک غیر معمولی وقوعے کا ذکر کیا ہے کہ جب مرد اپنی بیوی کو برائی کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھے تو اس صورت میں مرد کی غیرت اس بات کو گوارانہیں کرتی کہ وہ چارگواہوں کو لے کر آئے تو ایسی صورت میں وہ چار گواہوں کی جگہ چار قسمیں کھا کر اپنی بیوی پر برائی کا الزام لگا سکتا ہے اور پانچویں قسم اس کو یہ کھانا ہو گی کہ اللہ کی اس پر لعنت ہو اگر وہ جھوٹی قسم اٹھارہا ہے۔ ایسی صورت میں بیوی کو صفائی کا پورا موقع دیا جائے کہ وہ اپنی صفائی کے لیئے چار قسمیں اٹھائے کہ اس پر جھوٹی تہمت لگائی جارہی ہے اور پانچویں قسم یہ اٹھائے کہ اللہ کا اس پر غضب ہو اگر اس کے شوہر کا الزام سچا ہو۔اگر بیوی اپنے دفاع کے لیئے قسم نہیں اٹھاتی تو اس پر شرعی حد کوقائم کردیا جائے گا اگر بیوی قسم اٹھا لیتی ہے تو شوہر اور بیوی کے درمیان تفریق کر دی جائے گی ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے بد گمانی کی بھی مذمت کی ہے اگر کوئی کسی مسلمان پر الزام لگاتا ہے تو اس کو اس الزام کی تائید کے لیئے چار گواہوں کو پیش کرنا ہو گا اگر کوئی چار گواہوں کو پیش نہیں کرتا تو مسلمانوں کو چاہیئے کہ فوراً اس الزام کی تردید کریں تاکہ معاشرے میں افواہوں کا قلع قمع ہو سکے اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہکی پاکدامنی کا بھی ذکر کیا اور ان کی طہارت کے بیان کے لیئے اٹھارہ آیات کا نزول فرمایا۔ معاشرے میں برائی کی روک تھام کے لیئے اللہ تعالیٰ نے اس پارے میں مومن مردوں کو اپنی نگاہیں جھکانے کا حکم دیا ہے اور مومن عورتوں کو اپنی نگاہیں جھکانے کے ساتھ ساتھ پردہ کرنے کا بھی حکم دیا ہے اور محرم رشتہ داروں کے علاوہ تمام لوگوں سے اپنی زینتیں چھپانے کا حکم دیا ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے غیر شادی شدہ مردکی شادی کرنے کا حکم دیاہے اور ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی شخص فقیر تنگدست ہو تو نکاح کرنے کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اسے غنی فرما سکتے ہیں ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے برائی اور بدکاری کے لیئے عورتوں کو استعمال کرنے سے روکا ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ جن عورتوں کو جبراً بدکاری کے لیئے استعمال کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ ایسی عورتوں کو غلط کاری کے نتیجے میں عذاب نہیں دے گا ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ زمین اور آسمان کو روشن فرمانے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے نور کے ذریعے جس کو چاہتے ہیں ہدایت کے راستے پر گامزن فرما دیتے ہیں۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ان مردوں کا ذکر کیا ہے جو تجارت اور سودا گری میں مشغول ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے ذکر اور نماز سے غافل نہیں ہو تے۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کے اعمال کا ذکر کیا ہے کہ کافروں کے اعمال سراب کی مانند ہو تے ہیں کہ پیاسا دور سے سراب کو پانی خیال کرتا ہے مگر قریب جا تا ہے تو وہاں پر کچھ بھی موجود نہیں ہوتا اسی طرح کافروں کو اپنے اعمال خوشنما معلوم ہوتے ہیں مگر قیامت کے دن ان کے اعمال کا کوئی وزن نہیں ہو گا۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے صحیح ایمان رکھنے والے مومنوں کا ذکر کیا ہے کہ جب ان کو اللہ اور رسول کے احکامات کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ جواب میں کہتے ہیں ہم نے سنا اور اطاعت کی اور صحیح کامیابی انہی صاحب ایمان لوگوں کے لیئے ہے۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے ایمان اور عمل صالح اختیار کرنے والے مومنوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کو زمین پر اسی طرح خلافت عطا کریں گے جس طرح انہوں نے ان سے پہلے لوگوں کو زمین پر حکومت عطا کی تھی ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے خلوت کے تین اوقات کا ذکر کیا کہ ان اوقات ممنوعہ میں کسی کے گھر جانا درست نہیں۔ ایک عشاء کے بعد دوسرا فجر سے پہلے اور تیسرا ظہر کے بعد ۔ ان تین اوقات میں کسی کے گھر جانا درست عمل نہیں ہے۔ ان تین اوقات کے علاوہ انسان کسی بھی وقت کسی کے گھر اجازت لیکر ملاقات کرنے کے لیئے جاسکتا ہے ۔
اس سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے احکامات کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے احکامات کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ڈرجانا چاہیئے کہ کہیں وہ دنیا میں فتنے کا نشانہ نہ بن جائیں اور آخرت میں ان کو درد ناک عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
سورہ نور کے بعد سورہ فرقان ہے۔ سورہ فرقان میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان کو نازل کیا تا کہ وہ دنیا والوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائیں ۔فرقان کا مطلب فرق کرنے والا ہوتا ہے۔ قرآن مجید نیکی اور بدی، ہدایت اور گمراہی، شرک اور توحید، حلال اور حرام کے درمیان فرق کرنے والا ہے اس لیئے اللہ تعالیٰ نے اس کو فرقان کہہ کر پکارا ہے ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تخلیق کا بھی ذکر کیا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اس کی تقدیر کو بھی ساتھ ہی لکھ دیا ہے۔ تمام مخلوق تقدیر الٰہی کی پابند ہے اور تقدیر الٰہی سے تجاوز نہیں کر سکتی۔ پرندہ فضائے بسیط میں اڑسکتا ہے مگر سمندر میں تیر نہیں سکتا ،مچھلی سمندر میں تیر سکتی ہے مگر فضا میں اڑ نہیں سکتی۔ ان تمام جانداروں کی محدود سرگرمیوں کی وجہ اللہ تعالیٰ کی لکھی ہوئی تقدیر ہے انسان بھی اللہ کی تقدیر کا پابند ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنے افعال میں آزاد نہیں۔ انسان اپنے افعال کو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی بصیرت اور صلاحیتوں کے مطابق استعمال کر سکتا ہے ۔اور ہدایت اور گمراہی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا اس کے بس اور اختیار میں ہے اور اسی وجہ سے اس کو اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن مجید پڑھنے اسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے ۔(آمین)
Jang Urdu Searchable