واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > عبادات > ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں



ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں


اکیسویں پارے کے مضامین کا خلاصہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 23-08-11, 05:01 AM   #1
اکیسویں پارے کے مضامین کا خلاصہ
عبداللہ حیدر عبداللہ حیدر آف لائن ہے 23-08-11, 05:01 AM

اکیسویں پارے کا آغاز سورہ عنکبوت سے ہوتا ہے۔اکیسویں پارے کے آغاز میں اللہ تعالیٰ حبیب علیہ السّلام سے فرماتے ہیں کہ جو کتاب آپ پر نازل کی گئی ہے اس کی تلاوت کریں اور نماز قائم کریں اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا بیشک نماز فحاشی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔اس پارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ تو نزولِ قرآن سے قبل کوئی کتاب لکھی تھی اور نہ ہی آپ پڑھنا جانتے تھے، اگر آپ پڑ ھنا لکھنا جانتے ہوتے تو پھر شک کرنے والوں کی بات میں کوئی وزن ہوتا لیکن اب تو ان کا اعتراض بالکل ہی بلاجواز ہے اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ یہ واضح آیات ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اہلِ علم کے سینوں میں محفوظ فرمادیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی آیات میں جھگڑنے والے لوگ ظالم اور کافر ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں مشرکینِ مکہ کی بد اعتقادی کا ذکر کیا کہ جب وہ سمندروں میں ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کو پورے اخلاص سے پکارتے ہیں اور جب خشکی میں ہوتے ہیں تو وہ شرک کا ارتکاب کر تے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں جو لوگ میرے راستے میں جدّوجہد کرتے ہیں، میں ان کو اپنا راستہ ضرور دکھاؤں گا اور بے شک اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کے ساتھ ہے ۔
سورة عنکبوت کے بعد سورہ الرّوم ہے ۔سورہ الرّوم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ روم مغلوب ہو گیا ہے لیکن شکست کے چند ہی سالوں کے اندر روم غالب آئے گا ۔جب سورہ الرّوم میں ان آیات کا نزول ہوا تو اس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ رومی ایران پر غالب آئیں گے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس پیشنگوئی کو اس طرح پورا کیا کہ رومیوں نے ایران سے شکست کھانے کے بعد نو برس کے اندر ان کو عبرتناک شکست سے دوچار کر دیا تھا ۔اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اعمالِ صالح کی جزا جنّت کو بتلایا ہے اور کفر اور آیاتِ الٰہی اور یومِ حساب کو جھٹلانے کی سزا جہنّم ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اس پارے میں یہ بھی بتلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح ہے صبح اور شام کے وقت اور اس کی حمد بیان ہوتی ہے ظہر اور عشاء کے وقت ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سی نشانیوں کا بھی ذکر کیا ۔اسکی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس نے مٹی سے انسان کے خمیر کو اٹھایا اور اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے ہماری جنس میں سے ہمارے لیے بیویوں کو پیدا کیا، جن سے ہم سکون حاصل کرتے ہیں اور جوڑوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے شفقت اور رحمت کو پیدا کیا اور اس کی ایک نشانی زمین و آسمان کی تخلیق اور رنگوں اور زبانوں کا اختلاف ہے ۔ اسی طرح اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ انسان دن اور رات کو سوتا بھی ہے اور محنت بھی کرتا ہے اور اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ بجلی کڑکتی ہے، جس سے انسان کو فائدہ کی امید ہوتی ہے اور تباہی کا اندیشہ بھی اورپھر وہ آسمان سے پانی اتارتا ہے، جس سے مردہ زمین زندہ ہوتی ہے اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ زمین اور آسمان اس کے حکم سے قائم ہیں اور جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انسانوں کو آواز دیں گے تو انسان قبروں میں سے نکل کر اس کی پکار پر لبّیک کہیں گے ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نصیحت کی کہ قرابت داروں،مسکینوں اورمسافروں کا حق ان کو دینا چاہیے، یہ بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنے پروردگار کی زیارت کرنا چاہتے ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جو سود انسان کھاتا ہے، جس کا مقصد مالوں کو پرورش دینا ہوتاہے، اس سے مال پروان نہیں چڑھتا اور جو زکوٰة اللہ تعالیٰ کے لیے دی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ اس میں اضافہ فرماتے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ اپنی تخلیق کی قوّت کو منوانے کے لیے ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ کی ذات وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ، پھر تمہیں رزق دیا اور پھر تمہیں موت دیں گے ،پھر تمہیں زندہ کریں گے کیا وہ معبودانِ باطل، جن کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کیا جاتا ہے، وہ یہ کام کر سکتے ہیں؟۔اللہ تعالیٰ پاک اور بلند ہے اس چیز سے جن کو شرک کرنے والے اللہ تعالیٰ کے ساتھ جوڑتے ہیں ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ خشکیوں اور پانیوں میں انسانوں کی بد اعمالیوں نے فساد پیدا کر دیا ہے، انسانوں کو چاہیے کہ اپنا احتساب کریں اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آکر استغفار کیا کریں تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو معاف فرمادے اور ان کو امن و آشتی حاصل ہو جائے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے تمہیں کم زوری سے پیدا کیا اور پھر کم زوری کے بعد قوّت عطا فرمائی اور پھرقوّت کے بعد دوبارہ کم زوری اور بڑھاپے کو انسانوں پر مسلط کر دیا، وہ جو چاہتا ہے بنا سکتا ہے اور وہ جاننے والا اور قدرت رکھنے والا ہے ۔
سورة روم کے بعد سورة لقمان ہے ۔سورة لقمان میں اللہ تعالیٰ نے بتلایا ہے کہ کامیابی حاصل کرنے والے لوگ، نمازوں کو قائم کرنے والے ،زکوٰ ة ادا کرنے والے اور آخرت پر پختہ یقین رکھنے والے ہوتے ہیں ۔
سورة لقمان میں اللہ تعالیٰ نے بتلایا ہے کہ بعض لوگ لغو باتوں کا کاروبار کرتے ہیں اور ان کا مقصد صرف لوگوں کو گم راہ کرنا ہو تا ہے، لغو باتوں میں موسیقی ،بے راہ روی پیدا کرنے والا لٹریچر ،مخرب الاخلاق افسانے اور ناول وغیرہ سبھی شامل ہیں اور ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے ذلّت والا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔
سورة لقمان میں اللہ تعالیٰ نے حکیم لقمان کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکمت سے نوازا تھا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔ جناب لقمان نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ حکمت اور دانائی کی روشنی میں اپنے بیٹے کو بعض یادگار نصیحتیں کی تھیں۔ ان نصیحتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو کہا تھا کہ اے میرے بیٹے شرک نہ کرنا، بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے اور انہوں نے اپنے بیٹے کو کہا تھا کہ والدین کی خدمت اور اطاعت کرنا اور اگر وہ شرک اور بے دینی کا حکم دیں تو ان کی بات نہیں ماننا اور دنیا کے معاملات میں ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ زمین اور آسمان میں موجود ہر ذرّے کی کیفیت سے آگاہ ہیں، اس لیے جوبھی چھوٹا سا گناہ اورچھوٹی سی نیکی تم کرو گے اللہ تعالیٰ اس کو سامنے لے آئے گا، بے شک وہ باریک بین اور با خبرہے ۔اس کے علاوہ جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو کہا کہ بیٹے نماز کو قائم کرنا، نیکی کا حکم دینا، برائی سے روکنا اور جو کچھ تم کو پہنچے اس پر صبر کرنا، بے شک یہ بہت بڑا کام ہے۔ زمین پر اکڑ کر مت چلنا، میانہ روی کو اختیار کرنا اور اپنی آواز کوبات چیت میں پست رکھنا، بے شک بدترین آواز گدھے کی آوازہے ۔
اس سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے ان پانچ غیب کی باتوں کا ذکر کیا ہے جن کو صرف وہ جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں بے شک اس کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہ جانتا ہے بارش کب ہو گی اور وہ جانتا ہے جو ماں کے رحم میں ہے اور کسی نفس کو نہیں پتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور کوئی نہیں جانتا وہ کس زمین میں مرے گا۔ ان تمام باتوں کا علم صرف باخبر اور علم رکھنے والے اللہ کے پاس ہے ۔
اس کے بعد سورة سجدہ ہے۔سورة سجدہ میں اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ اس نے ملک الموت کی ڈیوٹی انسانوں کی روح قبض کرنے پر لگائی ہے ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے جنّت کی نعمتوں کا ذکر کر تے ہوئے بتلایا کہ کسی انسان کو علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا اہتمام فرمایا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں بتلایا ہے کہ مومن اور گناہ گار برابر نہیں ہو سکتے ۔مومن کا مقدر جنّت جبکہ سرکشی اور نافرمانی اختیار کرنے والے کا مقدر جہنّم کے انگارے ہیں ۔
سورت سجدہ کے بعد سورة احزاب ہے سورة احزاب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں ہو تا، اس لیے کسی کے نسب میں تبدیلی نہیں کرنی چاہیے ۔اس طرح اگر کوئی اپنی بیوی کو اپنی ماں کہہ دے تو وہ اسکی ماں نہیں ہو جاتی، کفّارہ ادا کر کے سابقہ تعلقات معمول پر آسکتے ہیں ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی ازواجِ مطہرات کے مقا م کی بلندی کا ذکر کیا کہ نبی ﷺ کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں، ہر مومن اور مسلمان کے لیے ازواجِ مطہرات کا احترام ضروری ہے ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے احزاب کے معرکے کا ذکر کیا کہ جب چوبیس ہزار کے لشکر نے مدینہ کی چھو ٹی سی بستی پر حملہ کر دیا تھا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کے ایمان کی وجہ سے کافروں پر غلبہ عطا فرمایا تھا ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جس کو اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور یومِ حساب کی آمد کا یقین ہے، اس کے لیے رسول اللہ کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔رسول اللہ ﷺہرشعبہ زندگی میں ہمارے لیے نمونے کی حیثیت رکھتے ہیں اور گھریلو زندگی ،سماجی زندگی ،انفرادی زندگی ،اجتماعی زندگی میں ان کی ذات ہی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ سے ارشاد فرمایا ہے کہ وہ اپنی بیویوں سے کہہ دیں کہ اگر وہ دنیا کا مال ومتاع چاہتی ہیں تو وہ ان کو عطا کر دیا جائے گا اور اس کے ساتھ ان کو رخصت کر دیا جائے گا لیکن اگر وہ اللہ، اس کے رسول اور یومِ جزا کو چاہتی ہیں تو نیکو کار عورتوں کے لیے بہت بڑا اجر ہے ۔تمام ازواجِ مطہرات نے دنیا کی زیب و زینت کے مقابلے میں آخرت کو اختیار کیا اور کامیاب اور کامران ٹھہر یں ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن پڑھنے ،سمجھنے او ر اس پر عمل کرنے کی توفیق دے ۔(آمین )
تراویح...ترجمہ و خلاصہ…حافظ ابتسام الٰہی ظہیر

 
عبداللہ حیدر's Avatar
عبداللہ حیدر
ذیلی ناظم

تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 155
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
حیدر (23-08-11), راجہ اکرام (23-08-11)
پرانا 23-08-11, 11:29 AM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,579
کمائي: 315,300
شکریہ: 25,212
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
جزاک اللہ خیرا اخی الکریم
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
search, گمان, پاک, قرآن, لوگ, نماز, مکہ, موت, ماں, ایمان, ایران, اللہ, انسان, بہترین, حکم, دعا, رات, راستہ, زندگی, شام, ظالم, صالح, صبح, صبر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
بیسویں پارے کے مضامین کا خلاصہ عبداللہ حیدر ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں 1 22-08-11 10:41 AM
انیسویں ترمیم منظور قاسم شاہ خبریں 0 22-12-10 10:24 PM
اکیسویں صدی کا طلسم کدہ گوہر خبریں 8 16-01-10 07:59 PM
بیسویں صدی کی سب سے بڑی قزّاقی فیصل ناصر عمومی بحث 0 30-01-09 04:01 AM
اکیسویں بین الاقوامی کانفرنس برائے اتحاد مسلم ! طاھر دلچسپ اور عجیب 0 22-05-08 12:15 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:56 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger