ائیسویں پارے کا آغازسورة احزاب سے ہو تا ہے۔ سورة احزاب کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے امہات المومنین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جو کوئی بھی امہات المومنین میں سے اللہ اور اس کے رسول کے لیئے آپ کو وقف کرے گا اور نیک اعمال کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو دو گنا اجر عطا فرمائے گا اور اس کے لیئے پاک رزق تیار کردیا گیا ہے ۔
اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے امہات المومنین کو اس امر کی بھی تلقین کی ہے کہ جب وہ کسی سے بات کریں تو نرم آواز سے بات نہ کیا کریں تاکہ جس کے دل میں مرض ہے وہ ان کی آوازوں کو سن کر طمع نہ رکھے اور معروف طریقے سے بات کریں اور اللہ تعالیٰ نے امہات المومنین کو اس امر کی بھی تلقین کی کہ وہ اپنے گھروں میں مقیم رہیں اور ایام جاہلیت کی بے پردگی اور بناؤ سنگھار کا اظہار نہ کریں اور نماز قائم کریں، زکوٰة ادا کریں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں، بے شک اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ نبی کے گھروالوں سے ناپاکی کو دور کرلیا جائے اور ان کو پاک صاف کر دیا جائے ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اس واقعے کا بھی ذکر کیا کہ جب حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اپنی اہلیہ کے ساتھ ناچاقی ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے جناب رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ وہ جناب زید کی مطلقہ کے ساتھ شادی کر لیں ۔نبی ﷺ کے دل میں یہ خیال تھا کہ لوگ باتیں بنائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ اس مسئلے میں لوگوں کی رائے کی پروا نہ کریں اور جناب زید جو کہ آپ ﷺ کے منہ بولے بیٹے تھے ان کی اہلیہ کے ساتھ شادی کر لیں تاکہ مستقبل میں امت کے لیئے اس معاملے میں کو ئی دشواری نہ رہے ۔ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اس امر کو بھی واضح فرمادیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کسی مرد کے باپ نہیں ہیں بلکہ اللہ کے رسول اور اس کے آخری نبی ہیں ۔
اس سورت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مومنوں کو حکم دیا کہ وہ اللہ کا کثرت سے ذکر کیا کریں اور صبح شام اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہا کریں۔ ارشاد ہوا اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے مومنوں پر درود بھیجتے ہیں تاکہ ان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی سمت گامزن کر دیا جائے اور اللہ تعالیٰ مومنوں پر مہربانی کرنے والا ہے ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ وہ اپنی بیویوں ،بیٹیوں اور مومن عورتوں سے کہہ دیں کہ وہ جلباب اوڑھا کریں۔ جلباب سے مراد ایک ایسا لباس ہے جس نے عورت کو سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے ناخن تک ڈھانکا ہو ۔ اور اس لباس کا مقصد یہ تھا کہ وہ پہچان لی جائیں اور کوئی ان کو تنگ نہ کرے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کے حوالے سے بتلا یا کہ جب قیامت کا دن آئے گا تو جہنمیوں کو اوندھے منہ جہنم کی آگ میں ڈالا جائے گا ۔اس موقع پر جہنمی کہیں گے کہ اے کاش ہم نے اللہ اور اس کے رسول ﷺکی بات کو مانا ہو تا اور کہیں گے کہ ہم نے اپنے بڑوں اور سرداروں کی بات کو مانا، پس انہوں نے ہمیں گمراہ کر دیا اور کہیں گے اے ہمارے پروردگار ان کو دو گناعذاب دے اور ان پر لعنت برسا۔
اس سورت میں سچی بات کہنے کے فوائد بھی بتلائے گئے کہ اگر بات سیدھی کی جائے تو معاملات سنور جاتے ہیں اور اللہ حق گو شخص کے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں ۔
سورة الاحزاب کے بعد سورة سبا ہے۔ سورة سبا میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ سب تعریفیں اللہ کے لیئے ہیں جس کے لیئے آسمان و زمین میں موجود سب کچھ ہے اور اس کی حمد آخرت میں ہے اور وہ باخبر حکمت والا ہے ۔وہ جانتا ہے جو زمین میں جاتا ہے اور جو اس سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اترتا اور اس کی طرف چڑھتا ہے اور وہ رحمت کرنے والا اور بخشنے والا ہے ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے جناب داؤد اور سلیمان علیہما السلام پر اپنے انعامات کا ذکر کیا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے جناب داؤد علیہ السلام کے لیئے پہاڑ اور پرندوں کو مسخر فرما دیا اور لوہے کو ان کے ہاتھوں میں نرم کر دیا تھا۔ اور جناب سلیمان علیہ السلام کے لیئے مہینے کے سفر پر آنے جانے والی ہوا ؤں کو مسخر فرمادیا تھا اور جنات کو ان کے احکامات کے تابع کر دیا تھا کہ وہ اللہ کے حکم سے ان کے کام کرتے تھے اور سلیمان علیہ السلام ان سے تعمیراتی کام لیتے تھے اور جو کوئی نا فرمانی کرتا اس کو سخت سزا کا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔جب اللہ تعالیٰ نے جناب سلیمان علیہ السلام پر موت کو طاری کر دیا تو جنات کو اس بات کی خبر نہ ہوئی، جناب سلیمان علیہ السلام چھڑی کے سہارے کھڑے تھے، جب چھڑی کو دیمک لگ گئی تو جناب سلیمان علیہ السلام کے زمین پر گرنے کے بعد جنات کو اس بات کی خبر ہوئی وگرنہ اتنی دیر تک وہ پوری تندہی سے ان کا کام کرنے میں مصروف رہے۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو ساری انسانیت کے لیئے بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا مگر لوگوں کی اکثریت اس بات کو نہیں جانتی۔
سورة سبا کے بعد سورة فاطر ہے۔ سورة فاطر میں اللہ تعالیٰ بیان کرتے ہیں کہ تمام تعریفیں زمین اور آسمان بنانے والے اللہ کے لیئے ہیں۔ اس نے فرشتوں میں سے بھی رسول چنے ہیں۔ بعض فرشتے دو پروں والے بعض تین اور بعض چار پروں والے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی خلقت میں جس طرح چاہتا ہے اضافہ کرتا ہے ۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے ۔جناب جبرئیل امین جو کہ فرشتوں کے سردار ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے چھ سو پر عطا فرمائے ہیں ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ان گمراہ لوگوں کا بھی ذکر کیا کہ جن کو ان کے غلط اعمال بھی اچھے معلوم ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نبی رحمت ﷺکو دلاسہ دیتے ہیں کہ آپ ان اعمال پر حسرت نہ کریں، اللہ تعالیٰ کو پتہ ہے جو یہ کرتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں دنیا میں جتنی عورتیں حاملہ ہوتی اور جتنی بچوں کو جنتی ہیں اور جو کوئی بھی بوڑھا ہوتا ہے اور جس کی عمر کم ہوتی ہے اللہ کو ہر بات کا علم ہوتا ہے ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ اندھا اور بینا برابر نہیں ہو سکتے اور نہ ہی دھوپ اور چھاؤں برابر ہو سکتے ہیں اور نہ ہی زندہ اور مردہ برابر ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص ہدایت کے راستے پر ہو وہ گمراہ انسانوں کے برابر نہیں ہوتا ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کا ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی کو اتارتا ہے اور اس کے ذریعے مختلف ذائقوں کے پھلوں کو پیدا کرتا ہے اور پہاڑوں میں بھی مختلف رنگوں کے پہاڑ ہیں، کوئی سفید کو ئی سرخ اور کوئی کالے رنگ کا ہے اور انسان اور چوپائے اور مویشیوں کے مختلف رنگ اللہ تعالیٰ کی قدرت کامنہ بولتا ثبوت ہیں ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا بھی ذکر کیا کہ جنت میں نہ دکھ ہو گا اور نہ ہی تھکاوٹ اور اکتاہٹ کا احساس ہو گا ۔سورة فاطر کے بعد سورة یٰس ہے ۔سورة یٰس میں اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کی قسم کھا کر کہا بے شک محمد ﷺ رسولوں میں سے ہیں اور ان کا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے۔ اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ جو لوگ کافر ہیں ان کو ڈرایا جائے یا نہ ڈرایا جائے ان کے لیئے برابر ہے، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ رسول کریم ﷺ اس کو ڈراتے ہیں جو کہ قرآن مجید کی پیروی کرتا اور اللہ تعالیٰ کے ڈر کو اختیار کرنے والا ہے ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ اللہ تعالیٰ دو طرح کے اعمال کو لکھتے ہیں، ایک عمل وہ جو انسان خود کرتا ہے، دوسرا عمل جو اس کے پیچھے آتا ہے ۔ پیچھے آنے والے اعمال میں صدقہ جاریہ اور لواحقین کی دعائیں شامل ہیں ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ایک بستی کا ذکر کیا جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دو رسولوں کو بھیجا لیکن بستی والوں نے ان کو جھٹلا دیا تب اللہ تعالیٰ نے تیسرے رسول کے ذریعے قوت عطا کی ۔ ان رسولوں نے کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ہیں جس پر بستی والوں نے کہا کہ رحمان نے کچھ بھی نازل نہیں کیا اور تم جھوٹ بول رہے ہو ۔ بستی والوں کا مقابلہ کرنے کے لیئے بستی کے ایک کنارے سے ایک شخص اٹھا اور اس نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو رسولوں کی پیروی کرو جو تم سے کچھ بھی طلب نہیں کر رہے اور وہ ہدایت پر ہیں۔ پھر کیا ہوا، یہ سب کچھ تئیسویں پارے میں بیان ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے ۔(آمین)
تراویح...ترجمہ و خلاصہ…حافظ ابتسام الٰہی ظہیر