واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > عبادات > ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں



ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں


تیرھویں پارے کے مضامین کا خلاصہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 14-08-11, 10:23 PM   #1
تیرھویں پارے کے مضامین کا خلاصہ
عبداللہ حیدر عبداللہ حیدر آف لائن ہے 14-08-11, 10:23 PM

تیرھویں پارے کا آغاز بھی سورة یوسف سے ہوتا ہے۔ جناب یوسف علیہ السّلام جب جیل سے آزاد ہوگئے تو بادشاہ نے جناب یوسف علیہ السّلام کو اپنے قریبی مصاحبوں میں شامل کر لیا ۔آپ  ابتدائی طور پر وزیر خزانہ اور بعد میں عزیزِ مصر کے منصب پر فائز ہوگئے ۔جناب یوسف علیہ السّلام نے زرعی نظام کو بڑی توجّہ سے چلایا اور خوش حالی کے سات سالوں میں مستقبل کے لیے بہترین پلاننگ کی یہاں تک کہ جب پوری دنیا میں قحط سالی عام ہو گئی تو مصر کی معیشت انتہائی مضبوط اور مستحکم تھی ۔قحط سالی عروج پر پہنچی تو غلّے کے حصول کے لیے دنیا بھر سے قافلے مصر پہنچنا شروع ہوگئے ۔جناب یعقوب علیہ السّلام کے بیٹوں نے بھی مصر کا رخ کیا، جب وہ عزیزِ مصر کے محل میں داخل ہوئے تو جناب یوسف  اپنے بھائیوں کو پہچان گئے، جب کہ آپ کے بھائی آپ سے غافل تھے ۔ آپ نے باتوں باتوں میں اپنے بھائیوں سے کہا کہ اگلی مرتبہ اپنے چھوٹے بھائی بن یامین کو بھی ساتھ لانا، اگر تم اپنے چھوٹے بھائی کو نہ لائے تو تمہیں غلّے سے کچھ بھی نہیں ملے گا اور ساتھ ہی جو پونجی ان کے بھائی غلہ خریدنے کے لیے لائے تھے، اس کو بھی اپنے بھائیوں کے سامان میں ڈال دیا ۔ جب جناب یوسف علیہ السّلام کے بھائی جناب یعقوب علیہ السّلام کے پاس پہنچے تو انہوں نے عزیزِ مصر کی بہت تعریف کی اور ساتھ ہی یہ بھی بتلایا کہ بابا، عزیزِ مصر کی خواہش تھی کہ ہم بھائی بن یامین کو بھی ساتھ لے کر جائیں ۔جناب یعقوب علیہ السّلام نے جواب میں کہا کہ کیا میں تم پر اسی طرح اعتماد کروں، جس طرح میں نے اس سے قبل یوسف علیہ السّلام کے معاملے میں تم پر اعتماد کیا تھا ۔اس پر جناب یعقوب علیہ السّلام کے بیٹے خاموش ہو گئے ۔جب سامان کو کھولا گیا تو اس میں سے غلّے کے ساتھ ساتھ پونجی بھی برآمد ہو گئی ۔اس پر یعقوب علیہ السّلام کے بیٹوں نے کہا دیکھیے بابا عزیزِ مصر نے تو ہماری پونجی بھی ہمیں دے دی ہے ۔اب جناب یعقوب علیہ السّلام نے کہا کہ میں بن یامین کو تمہارے ساتھ اس صورت میں روانہ کروں گا کہ تم اس کی حفاظت کی قسم کھاؤ۔بیٹوں نے جناب یعقوب  کے سامنے حلف دیا تو جناب یعقوب  نے اپنے بیٹوں کو نصیحت کی کہ جب مصر میں داخلے کا وقت آئے تو علیحدہ علیحدہ دروازوں سے داخل ہونا ۔جب دوبارہ یوسف علیہ السّلام کے بھائی ان کے پاس پہنچے تو جناب یوسف علیہ السّلام نے جناب بن یامین کو علیحدہ ایک طرف کر لیا اور ان سے کہا کہ میں آپ کا بھائی یوسف ہوں ۔اس کے بعد یوسف علیہ السّلام نے اپنا پیالہ جناب بن یامین کے سامان میں رکھوا دیا ۔جب قافلہ روانہ ہونے لگا تو اعلان کروایا گیا کہ قافلے والو! تم چور ہو ۔جناب یعقوب علیہ السّلام کے بیٹوں نے جواب میں کہا اللہ کی قسم! ہم زمین پر فساد پھیلانے نہیں آئے اور نہ ہی ہم چور ہیں۔ اس پر ا ن سے کہا گیا کہ اگر تم میں سے کسی کے سامان سے بادشاہ کا پیالہ برآمد ہوگیا تو اس کی کیا سزا ہو گی؟ جواب میں جناب یوسف علیہ اسلا م کے بھائیوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جو مجرم ہوگا وہ خود اپنے کیے کا ذمّہ دار ہو گا۔ چنانچہ جب سامان کی تلاشی لی گئی تو جناب بن یامین کے سامان میں سے پیالہ برآمد ہو گیا ۔جناب یوسف علیہ السّلام کے بھائیوں نے اس موقع پر بڑے عجیب ردّعمل کا اظہار کیااور کہا کہ اگر بن یامین نے چوری کی ہے تو اس سے قبل ان کے بھائی یوسف نے بھی چوری کی تھی۔ اس پر جناب یوسف نے کہا تم جو الزام تراشی کرتے ہو ، اس کی حقیقت سے اللہ تعالی ٰبخوبی آگاہ ہیں۔ جناب یوسف کے بھائیوں نے یہ بھی کہا کہ آپ ہم بھائیوں میں سے کسی ایک کو پکڑلیں۔ جناب یوسف نے کہا کہ معاذ اللہ ہم کسی مجرم کی جگہ کسی دوسرے کو کس طرح پکڑ سکتے ہیں ۔جناب یوسف علیہ السّلام کے ایک بھائی نے کہا کہ میں تو واپس نہیں جاؤں گا، یہاں تک کہ بابا جان مجھے اجازت نہیں دیں گے یا اللہ تعالیٰ میرے حق میں کوئی فیصلہ نہیں فرماتے ۔جناب یوسف علیہ السّلام کے بھائی جناب یعقوب علیہ السّلام کے پاس پہنچے اور ان کو جناب بن یامین کی گرفتاری کی خبر دی تو جناب یعقوب علیہ السّلام نے بلند آواز سے جناب یوسف کا نام لیا اور آپ اتنی شدّت سے روئے کہ آپ کی بینائی چلی گئی۔ جناب یعقوب علیہ السّلام نے اپنے بیٹوں کو نصیحت کی کہ آپ اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہوں اور جناب یوسف اور ان کے بھائی کو تلاش کریں۔ اب جناب یوسف کے بھائی دوبارہ مصر آئے تو حالت بدلی ہوئی تھی ۔غربت اور مفلوک الحالی نے ان کو بری طرح متاثر کیا ہوا تھا۔ انہوں نے جناب یوسف علیہ السّلام کے پاس آکر اپنی غربت کی شکایت کی تو جناب یوسف نے پوچھا کہا آپ بھول گئے جو آپ نے اپنے بھائی یوسف کے ساتھ کیا۔ بھائیوں نے کہا کہ آپ یوسف کو کیسے جانتے ہیں کہیں آپ ہی تو یوسف نہیں۔کہا میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے اللہ نے ہم پر احسان کیا۔ بے شک جو صبر اور تقویٰ کو اختیار کرتا ہے تو اللہ نیکو کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا ۔اس موقع پر جناب یوسف علیہ السّلام کے بھائی انتہائی شرمسار ہوئے اور انہوں نے آپ سے معافی چاہی تو جناب یوسف علیہ السّلام نے کہا کہ تم سے کوئی مواخذہ نہیں ہوگا اور اللہ بھی تمہیں معاف کرے۔ جناب یوسف نے اپنے بھائیوں کو اپنی قمیص اتار کر دی اور کہا کہ اسے بابا جان کے چہرے پر ڈالنا،ان کی بینائی واپس آجائے گی اور آئندہ ان کو بھی اپنے ہمراہ لانا۔ جناب یعقوب کے بیٹے جب آپکی قمیص لے کر روانہ ہوئے تو جناب یعقوب نے اپنے گھر میں موجود بیٹوں کو مخاطب ہو کر کہا مجھے بیٹے یوسف کی خوشبو آرہی ہے ۔اس پر بیٹوں نے کچھ بے ادبی والے الفاظ کہے۔ جناب یعقوب علیہ السّلام خاموش ہو گئے۔ جب مصر سے آپ کے بیٹے آئے اور انہوں نے آپ کے چہرے پر وہ قمیص ڈالی تو جناب یعقوب کی بینائی واپس آگئی۔ جناب یعقوب کے گھر میں موجود بیٹے انتہائی شرمندہ ہوئے ۔ انہوں نے حضرت یعقوب سے معافی طلب کی۔ جناب یعقوب نے بھی اپنے بیٹوں کو معاف کر دیا ۔سب مصر کو روانہ ہوئے جب جناب یوسف کے پاس پہنچے تو جناب یوسف نے جناب یعقوب کو تخت پر بٹھالیا جناب یعقوب اور ان کے گیارہ بیٹے جناب یوسف کے سامنے جھک گئے ۔( اُس شریعت میں تعظیمی سجدہ جائز تھا جبکہ مسلمانوں کے لیے تعظیمی سجدہ منع ہے ۔)حضرت یوسف علیہ السّلام نے اس موقع پر پروردگار عالم کا شکرادا کرتے ہوئے کہا کہ میرے پروردگار نے مجھے حکومت بھی عطا کی اور خوابوں کی تعبیر کا علم بھی سکھایا، زمین و آسمان کے بنانے والے رب یوسف کی دعا ہے کہ مجھے اسلام پر موت دینا اور صالحین کے ساتھ ملا دینا ۔جناب یوسف علیہ السّلام کا واقعہ عروج وزوال کی ایک داستان اور صبر اور استقامت کی دستاویز ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ صبر کا پھل ضرور دیتا ہے، چاہے اس میں کچھ دیر ہو ۔
سورة یوسف کے بعد سورة الرّعد ہے اس کے آغازمیں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتیں جتلاتے ہوئے بتلایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے انواع و اقسام کے پھلوں کو پیدا کیا ۔اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ نے ہر قوم میں ایک ہادی کو بھی مبعوث فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ بجلی کی کڑک اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا کو بیان کرتی ہے اور فرشتے اللہ کے خوف سے کانپتے ہیں ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ دلوں کا امن اور سکون اللہ کے ذکر اور اسکی یاد سے حاصل ہو تا ہے ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ قرآن میں اتنی تاثیر ہے کہ اگر مردے سنیں تو کلام کرنا شروع کر دیں ۔اگر زمین سنے تو زمین کا سینہ شق ہو جائے ۔اگر پہاڑ سنیں تو حرکت کرنے لگیں ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ اللہ تعالیٰ جس چیز کو چاہتے ہیں باقی رکھتے ہیں اور جس چیز کو چاہتے ہیں مٹا دیتے ہیں اور لوحِ محفوظ انہی کے پاس ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی تقدیر کے خطرناک فیصلوں سے پناہ چاہتا ہے، اسے اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
اس کے بعد سورةابراھیم ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے ہر قوم میں ان کی زبان بولنے والا ایک رسول بھیجا۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرا یہ اعلان ہے کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں اپنی نعمتوں کو بڑھا دوں گا اور اگر تم نے کفرانِ نعمت کیا تو میرا عذاب شدید ہے ۔اللہ نے اس سورت میں کلمہ طیّبہ کو شجرہ طیّبہ سے نسبت دیتے ہوئے کہا کہ کلمہ طیّبہ ایک ایسے درخت کی مانند ہے جسے زمین میں لگایا گیا اور اس کی شاخیں آسمان تک پھیلی ہوئی ہیں اور کلمہ خبیثہ کی مثال اُس بیل کی طرح ہے جو زمین پر بکھری ہوئی ہے اور اس کو کوئی قرار حاصل نہیں ۔اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے جناب ابراھیم علیہ السّلام کی ان دعاؤں کا بھی ذکر کیا جو انہوں نے اپنی اولاد کے لیے کی تھیں۔ جناب ابراھیم  نے ربّ کریم سے دعا مانگی کہ مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچائے رکھنا۔ انہوں نے مکہ مکرمہ کے لیے امن و آشتی کی دعا بھی مانگی۔ جناب ابراھیم علیہ السّلام نے یہ دعا بھی مانگی کہ اللہ میری اولاد کی طرف لوگوں کے دلوں کو مائل کرنا اور ان کو پھلوں سے رزق عطا فرمانا۔ابراھیم علیہ السّلام نے یہ دعا بھی مانگی کہ اللہ مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے کی توفیق دینا۔ اے میرے پروردگار میری دعاؤں کو قبول کرنا اور مجھے میرے والد کو اور اہلِ ایمان کو قیامت کے دن معاف کر دینا ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے ۔ (آمین)
تراویح...ترجمہ و خلاصہ…حافظ ابتسام الٰہی ظہیر

 
عبداللہ حیدر's Avatar
عبداللہ حیدر
ذیلی ناظم

تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 223
Reply With Quote
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (14-08-11)
پرانا 14-08-11, 10:45 PM   #2
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ بھتیجے
رمضان کے حوالے سے بہترین شئرنگ ہے
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
com, search, کلام, پہچان, وزیر, قرآن, چور, نماز, مکہ, موقع, مواخذہ, موت, ایمان, اللہ, الزام, اسلام, بہترین, جیل, جواب, خوش, خبر, دعا, عالم, صالحین, صبر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کل چودھویں کی رات تھی آباد تھا کمرہ تیرا The Great مزاحیہ شاعری 2 20-09-09 10:40 PM
پندرھویں شعبان کی رات کی فضیلت عبداللہ حیدر ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں 16 21-08-09 10:08 PM
دھویں کی تحریر عبدالقدوس ابن صفی 0 16-11-08 07:49 PM
چودھویں کی رات محمدعدنان مزاحیہ شاعری 1 01-12-07 09:00 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:57 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger