واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > عبادات > ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں



ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں


روزہ ، رمضان المبارک کے بارے میں چند اقتباسات

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 16-09-09, 01:52 AM   #1
روزہ ، رمضان المبارک کے بارے میں چند اقتباسات
Real_Light Real_Light آف لائن ہے 16-09-09, 01:52 AM

روزہ ، رمضان المبارک کے بارے میں چند اقتباسات


۱۔
”تمام شریعت کی بنیاد تقویٰ پر ہے ، تقویٰ پیدا ہوتا ہے جذبات و خواہشات پر قابو پانے کی قوت و صلاحیت سے اور اس قوت و صلاحیت کی سب سے بہتر تربیت روزوں کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔“
( مولانا امین احسن اصلاحی، تدبر قرآن، ج ۱ ص ۵۴۴)
۲۔
”رمضان کے روزوں کو صرف عبادت اور تقویٰ کی تربیت ہی نہیں قرار دیا گیا، بلکہ انھیں مزید برآں اُس عظیم الشان نعمت ہدایت پر اللہ تعالیٰ کا شکریہ بھی ٹھیرایا گیا ہے، جو قرآن کی شکل میں اُس نے ہمیں عطا فرمائی ہے۔“ (مولانا مودودی،تفہیم القرآن ،ج ۱ص ۱۴۱)
۳۔
بارہ مہینوں میں سے صرف ۰۳ یا ۹۲ دن کے روزے، روزوں کی روحانی برکات کو سامنے رکھ کر دیکھیے تو معلوم ہو گا کہ یہ کوئی بڑی مدت نہیں بلکہ گنتی کے چند ہی دن ہیں۔ اس وجہ سے خدا کی رضا جوئی اور اصلاح نفس کے طالب اس مدت کو کوئی طویل مدت نہیں سمجھتے بلکہ نہایت قلیل اور چند روزہ سمجھتے ہیں۔ ( مولانا امین احسن اصلاحی، تدبر قرآن،ج۱ ص ۶۴۴)
۴۔
”نماز اور زکوٰة کے بعد تیسری اہم عبادت روزہ ہے۔عربی زبان میں اِس کے لیے ’ صوم‘ کا لفظ آتا ہے، جس کے معنی کسی چیز سے رک جانے اور اُس کو ترک کردینے کے ہیں۔ گھوڑوں کو تربیت دینے کے لیے جب بھوکا اور پیاسا رکھا جاتا تھا تواہل عرب اِسے اُن کے صوم سے تعبیر کرتے تھے۔ شریعت کی اصطلاح میں یہ لفظ خاص حدود وقیود کے ساتھ کھانے پینے اور ازدواجی تعلقات سے رک جانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اردو زبان میں اِسی کو روزہ کہتے ہیں۔ انسان چونکہ اِس دنیا میں اپنا ایک عملی وجود بھی رکھتا ہے، اِس لیے اللہ تعالیٰ کے لیے اُس کا جذبۂ عبادت جب اُس کے اِس عملی وجود سے متعلق ہوتا ہے تو پرستش کے ساتھ اطاعت کو بھی شامل ہوجاتا ہے۔ روزہ اِسی اطاعت کا علامتی اظہارہے۔ اِس میں بندہ اپنے پروردگار کے حکم پراور اُس کی رضا اور خوشنودی کی طلب میں بعض مباحات کو اپنے لیے حرام قرار دے کر مجسم اطاعت بن جاتا او راِس طرح گویا زبان حال سے اِس بات کا اعلان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اُس کے حکم سے بڑی کوئی چیز نہیں ہے۔وہ اگر قانون فطرت کی رو سے جائز کسی شے کو بھی اُس کے لیے ممنوع ٹھیرا دیتا ہے تو بندے کی حیثیت سے زیبا یہی ہے کہ وہ بے چون وچرا اِس حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دے۔ “
(جاوید احمد غامدی ،میزان،ص۳۵۵،۳۵۴)
۵۔
”روزے کے حکم سے یہ مقصود نہیں ہے کہ انسان کا فاقہ کرنا اور اپنے جسم کو تکلیف و مشقت میں ڈالنا کوئی ایسی بات ہے جس میں پاکی و نیکی ہے بلکہ تمام تر مقصود نفس انسانی کی اصلاح و تہذیب ہے۔ روزہ رکھنے سے تم میں پرہیزگاری کی قوت پیدا ہو گی اور نفسانی خواہشوں کوقابو میں رکھنے کا سبق سیکھ لوگے۔ “
( مولانا ابو الکلام آزاد، ترجمان القرآن،ج ۱ ،ص ۴۰۳)
۶۔
”روزہ ایک سالانہ تربیتی کورس ہے جس کے ذریعہ آدمی کے اوپر بھوک کے احوال پیدا کیے جاتے ہیں، تاکہ اس کے اندر عجز او رتضرع (گڑگڑانا)اور انابت(توبہ) کی کیفیات ابھریں، وہ اللہ کو یاد کرنے والا بن جائے۔تضرع اور شکر دو انتہائی مطلوب دینی کیفیات ہیں۔ رمضان کے روزے کا مقصد یہ ہے کہ دن کی بھوک اور رات کی شکم سیری کے ذریعہ یہ دونوں مطلوب کیفیات آدمی کے اندر پیدا کی جائیں۔روزہ آدمی کی ذاتی خواہشوں پر پابندی لگاتا ہے۔ روزہ یہ سبق دیتا ہے کہ اپنی ذات کے لیے جینے کے بجائے خدا کے لیے جیو۔ اپنی خواہشوں کو سب کچھ سمجھنے کے بجائے صرف خدا کو اپنا سب کچھ بنا لو۔“
(مولانا وحید الدین خان، الرسالہ دسمبر ۹۹۹۱، ص ۴)
۷۔
”رمضان کا پورا مہینا روزہ دار کو سخت ڈسپلن کے تحت گزارنا ہوتا ہے۔ سونا او رجاگنا، کھانا ور پینا، غرض ہر مشغولیت کو ایک سخت قسم کے نظام الاوقات کے تحت انجام دینا ہوتا ہے اس طرح کی ایک منظم زندگی پورے مہینا تک جاری رہتی ہے۔ اس طرح کی ایک ماہانہ زندگی آدمی کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ سال کے بقیہ مہینوں میں بھی نظم اور ڈسپلن کے تحت گزارے۔روزہ آدمی کے اندر یہ مزاج پیدا کرتا ہے کہ وہ دنیا میں اس طرح رہے کہ وہ ایک با اصول انسان بنا ہوا ہو۔ و ہ اپنے آپ کو پوری طرح خدا کے کنٹرول میں دیے ہوئے ہو۔“
(مولانا وحید الدین خان،الرسالہ جنوری ۹۹۹۱، ص ۵)
۸۔
”روزے سے مقصود یہ نہیں کہ جسمانی خواہشیں بالکل ترک کر دی جائیں بلکہ مقصود ضبط و اعتدال ہے۔“
( مولانا ابو الکلام آزاد، ترجمان القرآن ،ج ۱ ،ص ۴۰۳)
۹۔
”روزہ آدمی کی شخصیت کے حیوانی پہلو کو دباتا ہے۔ وہ اس کے اندر چھپے ہوئے لطیف احساسات کو بیدا رکرتا ہے۔ اس طرح آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ اعلیٰ انسانی اقدار کی طرف تیز رفتاری کے ساتھ اپنا سفر طے کر سکے۔روزہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ آنے والے دن کو اس سے پہلے محسوس کرے جب کہ وہ بالکل سامنے آ چکا ہو۔ وہ موت سے پہلے موت کے بعد کی تیاری کرنے میں لگ جائے۔ “
(مولانا وحید الدین خان،الرسالہ دسمبر۰۰۰۲، ص ۱۳)
۱۰۔
”روزے کے حکم سے یہ مقصود نہیں ہے کہ انسان کا فاقہ کرنا اور اپنے جسم کو تکلیف و مشقت میں ڈالنا کوئی ایسی بات ہے جس میں پاکی و نیکی ہے بلکہ تمام تر مقصود نفس انسانی کی اصلاح و تہذیب ہے۔ روزہ رکھنے سے تم میں پرہیزگاری کی قوت پیدا ہو گی اور نفسانی خواہشوں کوقابو میں رکھنے کا سبق سیکھ لوگے۔ “
( مولانا ابو الکلام آزاد، ترجمان القرآن،ج ۱ ،ص ۳۰۴)
۱۱۔
”روزہ ایک سالانہ تربیتی کورس ہے جس کے ذریعہ آدمی کے اوپر بھوک کے احوال پیدا کیے جاتے ہیں، تاکہ اس کے اندر عجز او رتضرع (گڑگڑانا)اور انابت(توبہ) کی کیفیات ابھریں، وہ اللہ کو یاد کرنے والا بن جائے۔تضرع اور شکر دو انتہائی مطلوب دینی کیفیات ہیں۔ رمضان کے روزے کا مقصد یہ ہے کہ دن کی بھوک اور رات کی شکم سیری کے ذریعہ یہ دونوں مطلوب کیفیات آدمی کے اندر پیدا کی جائیں۔روزہ آدمی کی ذاتی خواہشوں پر پابندی لگاتا ہے۔ روزہ یہ سبق دیتا ہے کہ اپنی ذات کے لیے جینے کے بجائے خدا کے لیے جیو۔ اپنی خواہشوں کو سب کچھ سمجھنے کے بجائے صرف خدا کو اپنا سب کچھ بنا لو۔“
(مولانا وحید الدین خان، الرسالہ دسمبر ۱۹۹۹، ص ۴)
۱۲۔
”رمضان کا پورا مہینا روزہ دار کو سخت ڈسپلن کے تحت گزارنا ہوتا ہے۔ سونا او رجاگنا، کھانا ور پینا، غرض ہر مشغولیت کو ایک سخت قسم کے نظام الاوقات کے تحت انجام دینا ہوتا ہے اس طرح کی ایک منظم زندگی پورے مہینا تک جاری رہتی ہے۔ اس طرح کی ایک ماہانہ زندگی آدمی کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ سال کے بقیہ مہینوں میں بھی نظم اور ڈسپلن کے تحت گزارے۔روزہ آدمی کے اندر یہ مزاج پیدا کرتا ہے کہ وہ دنیا میں اس طرح رہے کہ وہ ایک با اصول انسان بنا ہوا ہو۔ و ہ اپنے آپ کو پوری طرح خدا کے کنٹرول میں دیے ہوئے ہو۔“
(مولانا وحید الدین خان،الرسالہ جنوری ۱۹۹۹، ص ۵)
۱۳۔
”روزے سے مقصود یہ نہیں کہ جسمانی خواہشیں بالکل ترک کر دی جائیں بلکہ مقصود ضبط و اعتدال ہے۔“
( مولانا ابو الکلام آزاد، ترجمان القرآن ،ج ۱ ،ص ۳۰۴)
۱۴۔
”روزہ آدمی کی شخصیت کے حیوانی پہلو کو دباتا ہے۔ وہ اس کے اندر چھپے ہوئے لطیف احساسات کو بیدا رکرتا ہے۔ اس طرح آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ اعلیٰ انسانی اقدار کی طرف تیز رفتاری کے ساتھ اپنا سفر طے کر سکے۔روزہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ آنے والے دن کو اس سے پہلے محسوس کرے جب کہ وہ بالکل سامنے آ چکا ہو۔ وہ موت سے پہلے موت کے بعد کی تیاری کرنے میں لگ جائے۔ “
(مولانا وحید الدین خان،الرسالہ دسمبر۲۰۰۰، ص ۱۳)

__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میں‌حُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے

 
Real_Light's Avatar
Real_Light
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
شکریہ: 3,117
988 مراسلہ میں 1,963 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 128
Reply With Quote
جواب

Tags
کورس, کنٹرول, پیاسا, موت, معلوم, آدمی, اللہ, المبارک, انسان, اردو, اعلیٰ, ترک, حکم, حال, خدا, روزہ, رمضان, رات, زندگی, سفر, عبادت, عظیم, غامدی, صلاحیت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
وزن کی کمی میں پانی کا کردار سیپ شعبہ طب 2 18-01-11 11:33 PM
روزہ کی حالت میں گالی دینے والے کہ لیے جواب pak jihad ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں 3 03-09-10 07:29 PM
رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہیں رکھنا چاہیے۔ میاں شاہد صحیح البخاری 0 13-08-10 08:14 PM
::::::: قران کے سایے میں ::::::::روزے کا اصل مقصد اور سبب ::::::: عادل سہیل ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں 2 05-08-10 07:25 PM
کرسچن بالے نئی فلم کے کیلئے اپنا وزن 22 کلوگرام کم کریں گے عبدالقدوس فلمی دنیا 0 04-12-07 12:37 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:57 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger