واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > عبادات > ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں



ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں


ستائیسویں پارے کے مضامین کا خلاصہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 29-08-11, 04:32 AM   #1
ستائیسویں پارے کے مضامین کا خلاصہ
عبداللہ حیدر عبداللہ حیدر آف لائن ہے 29-08-11, 04:32 AM

ستائیسویں پارے کا آغاز سورة ذٰریت سے ہوتا ہے، اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے قومِ لوط ،قومِ فرعون ،قومِ عاد ،قومِ ثمود اور قومِ نوح کی نافرمانیوں اوران پرآنے والے عذاب کا ذکر کیا ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں اور جنّات کی تخلیق کے مقصد کا بھی ذکر کیا ہے کہ جنّات اور انسان کی تخلیق کا مقصد صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت اور بندگی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ نہ تو مجھے ان سے رزق کی طلب ہے اور نہ میں نے کبھی ان سے کھانا مانگا ہے ۔اس کے بعد سورة طور ہے ۔سورة طور میں اللہ تعالیٰ نے طور پہاڑ، بیتِ معمور، بلندو بالا آسمان ،سمندر کی لہروں اور کتابِ مقدّس کی قسم کھا کر کہا ہے کہ قیامت کا دن ضرور آ ئے گا اور اس دن پہاڑ چلنا شروع کر دیں گے، اس دن یومِ جزا کو جھٹلانے والوں کو جہنّم کی آگ کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان کو کہا جائے گا کہ یہ وہ آگ ہے جس کا تم انکار کیا کرتے تھے اور اس دن متّقی جنّت کی نعمتوں میں ہونگے اور جو ان کو پروردگار نے رزق عطا کیا ہوگا کھا رہے ہونگے اور ان سے کہا جائے گا کہ اپنے سابقہ اعمال کے سبب جو چاہو کھاؤ اور پیو اور وہ لوگ جو ایمان لے آئیں گے اور ان کی اولادیں بھی مومن ہونگی، اللہ تعالیٰ ان کو اور ان کی اولادوں کو جنّت میں اکٹھا فرمادے گا ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا بھی ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نہ تو(معاذ اللہ) کاہن تھے اور نہ ہی شاعر ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر کافر اپنے الزامات میں سچے ہیں تو ان کو چاہیے کہ قرآن مجید جیسی کو ئی بات پیش کریں۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کو نہیں مانتے ان کو سوچنا چاہیے کہ ان کو کس نے بنایا ہے یا وہ خو د ہی اپنے خالق ہیں۔ در حقیقت اللہ تعالیٰ کی ذات کا انکار کرنے والوں کے دلائل انتہائی کم زور اور کھوکھلے ہیں ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو صبر کی تلقین بھی کی اور کہا کہ آپ اپنے پروردگار کے حکم پر صبر کریں، بے شک آپ میری آنکھوں کے سامنے ہیں یعنی جو صبر بھی رسول اللہ ﷺ کریں گے اللہ تعالیٰ اس سے بخوبی آگاہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کی محبت اورمعیت ہمیشہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتی ہے ۔
سورة طور کے بعد سورة نجم ہے اور سورة نجم میں پروردگار عالم نے کہا ہے رسول اللہ ﷺ اس وقت تک کوئی کلام نہیں کرتے جب تک مالکِ کائنات ان پر وحی کا نزول نہیں فرماتے ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے سفرِ معراج کا ذکر کیا ہے اور یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ انہوں نے سفرِ معراج میں اپنے پروردگار کی بہت سی نشانیوں کو دیکھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جو میرے بندے نے اپنی آنکھوں سے دیکھا،کیا تم اس پر شک کرتے ہو؟ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے سدرة المنتہیٰ کا بھی ذکر کیا جو کہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانی ہے اور رسول کریم ﷺ نے یہاں پر ایسے رنگوں اور روشنی کے سیلاب کو دیکھا تھا جن کا دنیا میں تصوّر بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے کہا کہ جو لوگ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتلاتے ہیں، ان کو یومِ حساب پر یقین نہیں ہے۔
اس سورت میں اللہ تعا لیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ کبیرہ گناہوں اور فحاشی کے کاموں سے اجتناب کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرمادے گا، ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کی وسعت کابھی ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو اس وقت سے جانتے ہیں جب ان کے خمیروں کو مٹی سے اٹھایاگیا اور جب وہ اپنی ماؤں کے پیٹوں میں جنین کی حیثیت سے موجود تھے ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ابراھیم علیہ السّلام کے صحیفوں اور موسیٰ علیہ السّلام پر نازل ہونے والی وحی کے اہم مضامین کا ذکر کیا کہ ان صحیفوں میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمادیا تھا کہ بے شک انسان کے لیے وہی کچھ ہے، جس کی وہ کوشش کرتا ہے اور وہ اپنی کوشش کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مذمّت کی ہے جو قرآن مجید پر تعجب کرتے ہیں اور رونے کی بجائے ہنسی مذاق میں اپنا وقت بِتا رہے ہیں اور لغویات میں اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں ۔پس اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہونا چاہیے اور اسی کی عبادت کرنی چاہیے ۔
اس کے بعد سورة قمر ہے۔ سورة قمر میں اللہ تعالیٰ نے قومِ نوح کا ذکر کیا کہ انہوں نے جناب نوح علیہ السّلام کو جھٹلایا اور ان کو دیوانہ اور مجنوں کہا اور ان کو پتّھر مارے تو انہوں نے پروردگار سے دعا مانگی کہ میں مغلوب ہوں تو میری مدد فرما ۔اس پر اللہ تعالیٰ نے آسمان کے دروازوں کو کھول دیا، جس سے پانی اترا اور زمین سے چشمے جاری کیے،جس سے پوری قوم تباہ ہو گئی ۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے سورة القمر میں قومِ لوط ،قومِ عاد اور قومِ ثمود کا ذکر کیا کہ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے غضب کا نشانہ بنے ۔قومِ عاد پر ہوا ،قومِ ثمود پر چنگھاڑ اور قومِ لوط پر پتّھروں کی بارش کو برسایا گیا ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے متعدّد مقامات پر اس حقیقت کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو سمجھنے والوں کے لیے آسان بنادیا، پس ہے کوئی جو نصیحت حاصل کرے ۔اس پیغام کو مغضوب قوموں کے ساتھ ذکر کرنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جس طرح سابقہ قومیں اللہ تعالیٰ کے احکامات اور نصیحتوں کاا نکار کر کے اللہ کے غضب کا نشانہ بنیں ،اسی طرح قرآن مجید کی نصیحت کا انکار کرنے والوں کو بھی اللہ تعالیٰ کے غضب کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اللہ کا ڈر اختیار کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اعلیٰ گھر عطا کرے گا اور ان کے قریب ہی مقرّب ملائکہ ہوں گے ۔
سورة القمر کے بعد سورة رحمن ہے ۔سورة رحمن میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ رحمن نے قرآن مجید سکھلایا، انسان کو بنایا اور اس کو بیان کرنے کی صلاحیت عطا فرمائی ۔سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور ستارے اور درخت اللہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ اسی نے آسمان کو بنایا اور ترازو کو قائم کیا ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انسانوں کو چاہیے کہ ترازو کو صحیح طریقے سے قا ئم کیا کریں اور تولنے میں کوتاہی نہ کیا کریں ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے زمین کی تخلیق کا بھی ذکر کیا اور اس میں مختلف طرح کے پھلوں اور خوشبوؤں کو پیدا فرمایا اور انسانوں اور جنّات کو مخاطب کر کے کہاکہ تم دونوں گروہ پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟جنّات اور انسان کے لیے اللہ تعالیٰ نے سمندروں کو رواں فرمایا جس میں سے موتی اور جواہرات نکلتے ہیں اور اسی کے فضل سے کشتیاں اور بحری جہاز سمندروں میں چلتے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کا بھی ذکر کیا جو اللہ تعالیٰ انسانوں اور جنّات کو آخرت میں عطا فرمانے والے ہیں ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جنّت میں خوبصورت بچھونے ہوں گے، قِسم ہا قِسم کے پھل ہوں گے اور خیموں میں مقیم کنواری بیویاں ہوں گی جب اللہ تعالیٰ اتنی نعمتیں عطا فرمانے والے ہیں تو اسکی نعمتوں کا انکار کرنا کسی بھی طور درست اور جائز نہیں ہے ۔
سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نام ذوالجلال والاکرام کے بابرکت ہونے کا بھی ذکر کیا ہے ۔سورة رحمن کے بعد سورة واقعہ ہے۔ سورة واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے تین گروہوں کا ذکر کیا ۔ایک مقرّبین کا گروہ ہے جبکہ دوسرا گروہ عام جنّتیوں کا ہے جبکہ تیسرا گروہ جہنّمیوں کا ہے ۔مقرّبین کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی نعمتوں کو تیار کیا ہے جبکہ عام جنّتی بھی اللہ تعالیٰ کی عنایات پر شاداں و فرحاں ہوں گے ۔جبکہ جہنّمیوں کو تھوہر کا درخت کھانا پڑے گا، جس سے ان کے معدے ابل اورپگھل جائیں گے اور ان کو پیپ اور بھاپ والا پانی پلایا جائے گا ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ لوگ بہت گناہ گار تھے اور اپنی پیدائش کو بھول چکے تھے کہ اگر ان کو پہلی مرتبہ پانی کے قطرے سے پیدا کیا جاسکتا ہے تو دوبارہ کیوں پیدا نہیں کیا جاسکتا ۔یہ لوگ اپنی کھیتی باڑی پر بھی غور نہیں کرتے تھے کہ جو بیج یہ بوتے تھے اس کو یہ تو نہیں پیدا کرتے تھے، اس کو پروردگار پیدا کرتا تھا ۔اور بارش کا پانی بھی ان کی رہنمائی کے لیے کافی تھا کہ بارشوں کا نزول بھی انسان کی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے ہوتا تھا ۔لیکن ان کی گمراہی ان کی ہلاکت کا سبب بن گئی ۔
سورة واقعہ کے بعد سورہ حدید ہے اور سورة حدید میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کا ذکر کیا کہ وہ اوّل بھی ہے اور آخر بھی اور ظاہر بھی ہے اور پوشیدہ بھی اور وہ ہر چیز کوجاننے والا ہے۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کی دو جماعتوں کا ذکر کیا کہ فتح مکہ سے پہلے اسلام لانے والے صحابہ کا مقام، فتح مکہ کے بعد ایمان لانے والوں کے مقابلے میں زیادہ ہے لیکن دونوں گروہ جنّتی ہیں ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ لوہے کو اللہ تعالیٰ نے اتارا، جس میں قوّت بھی ہے اور انسانوں کے لیے فائدہ بھی ہے ۔اس سورة میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السّلام کے پیروکاروں کے دلوں میں رحمت اور محبت کو اللہ نے پیدا کیا جبکہ رہبانیت کا تصوّر خود انہوں نے وضع کیا لیکن وہ اس کو نباہ بھی نہیں سکے ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جو ان میں سے ایمان لائے، وہ اجر کے حق دار ہیں مگر ان کی اکثریت ایمان سے دور اور سرکشی پر آمادہ ہے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن پڑھنے ،سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے ۔(آمین )
تراویح ترجمہ و خلاصہ …حافظ ابتسام الٰہی ظہیر .... ستائیسواں پارہ

 
عبداللہ حیدر's Avatar
عبداللہ حیدر
ذیلی ناظم

تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 153
Reply With Quote
پرانا 29-08-11, 04:46 AM   #2
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,513
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,936 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جزاک اللہ
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
سیفی خان کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
search, قرآن, لوگ, نظر, مکہ, مجید, محبت, معراج, ایمان, اللہ, اسلام, اعلیٰ, بندگی, حکم, دعا, ستارے, عیسیٰ, عالم, عبادت, صفات, صلاحیت, صبر, صحیح, صحابہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
تئیسویں پارے کے مضامین کا خلاصہ عبداللہ حیدر ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں 2 26-08-11 01:03 AM
پاکستان کرپشن میں ’ترقی ‘کر کے سنتالیسویں سے چونتیسویں نمبر پر آگیا: ٹرانسپپیرنسی انٹرنیشنل جاویداسد خبریں 1 26-10-10 07:42 PM
اردو زبان کے مسائل اور اکیسویں صدی از شہزاد احمد شہزاد عدنان دانی اپکے کالم 7 23-01-10 01:30 PM
اکیسویں صدی کا طلسم کدہ گوہر خبریں 8 16-01-10 07:59 PM
اکیسویں صدی ، اقبال اور پاکستان گوہر اپکے کالم 0 09-11-09 09:59 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:58 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger