ولہویں پارے کا آغاز بھی سورة الکہف سے ہوتا ہے ۔پندرھویں پارے میں جناب موسیٰ علیہ السّلام کی جناب خضرعلیہ السّلام سے ملاقات کا ذکر ہوا تھا۔ جناب موسیٰ علیہ السّلام جناب خضر علیہ السّلام کے کشتی میں سوراخ کرنے کے بعد ایک خوب صورت بچّے کے قتل پر بھی مطمئن نہ تھے۔ اس لیے آپ نے اس پر بھی اعتراض کیا تھا ۔جناب خضر علیہ السّلام نے جناب موسیٰ علیہ السّلام کو کہا کہ کیا میں نے آپ کو نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ جناب موسیٰ علیہ السّلام نے فیصلہ کن انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ اب اگر میں نے کوئی سوال کیا تو آپ مجھے اپنے سے علیحد ہ کردیجیے گا، اس لیے کہ اب مزید سوال کرنے کا کوئی جواز نہیں رہا۔جنابِ خضر اور موسیٰ علیہ السّلام اکٹھے آگے بڑھتے ہیں حتّٰی کہ ایک بستی میں جا پہنچتے ہیں، بستی کے لوگ بڑے بے مروّت تھے۔ انہوں نے دو معزّز مہمانوں کی کوئی خاطر تواضع نہ کی ۔اس بستی میں ایک جگہ دیوار گری ہوئی تھی۔ جناب خضر اس گری ہوئی دیوار کی تعمیر نو کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔جب دیوار مکمل ہو گئی اور جناب خضر نے وہاں سے چلنے کا ارادہ کیا تو جناب موسیٰ علیہ السّلام نے کہا کہ جناب خضر اگر آپ چاہتے تو اس کام کا معاوضہ بھی وصول کر سکتے تھے ۔جناب خضر نے کہا کہ اب میرے اور آپ کے درمیان جدائی کا وقت آپہنچا ہے۔ میں آپ کو ان تمام کاموں کی تعبیر سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں، جن پر آپ صبر نہیں کر سکے ۔حضرت خضر نے جناب موسیٰ علیہ السّلام کو بتلایا کہ کشتی میں میرے سوراخ کرنے کا سبب یہ تھا کہ جس ساحل پر جاکر کشتی رکی تھی، وہاں ایک بادشاہ کی حکومت تھی جو کہ ہر بے عیب کشتی پر جبراً قبضہ کر لیتا تھا۔ میں نے اس کشتی میں سوراخ کر دیا تا کہ کشتی کے غریب مالک بادشاہ کے ظلم سے بچ جائیں۔جس خوب صورت بچّے کو میں نے قتل کیا، وہ بڑا ہو کر اپنے والدین کے ایمان کے لیے خطرہ بننے والا تھا۔ اس کی موت کے بعد اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے والدین کو ایک صالح بچّہ عطا فرمانے والے ہیں، جہاں تک تعلق ہے دیوار کی تعمیرِ نو کا تو وہ دیوار ایک ایسے گھر کی تھی جو بستی کے دو یتیم بچّوں کی ملکیت تھا، جن کا باپ نیک آدمی تھا اور ان کے گھر کے نیچے خزانہ دفن تھا۔ مالکِ کائنات چاہتے تھے کہ بچّے جوان ہو جائیں اور بڑے ہوکر اپنے خزانے کو نکال لیں، جو کچھ بھی میں نے کیا اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ کے حکم پر کیا۔ یہ واقعہ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ مکمل علم اللہ تعالیٰ کی ذات کے پاس ہے اور وہ جتنا کسی کو دینا چاہتا ہے، دے دیتا ہے۔ اگرچہ جناب موسیٰ علیہ السّلام اولوالعزم رسول تھے لیکن اللہ نے بعض معاملات کا علم جناب خضر علیہ السّلام کو عطا فرما دیا، جن سے جناب موسیٰ علیہ السّلام واقف نہ تھے۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے جناب ذوالقرنین کا بھی ذکر کیا کہ جناب ذوالقرنین ایک نیک بادشاہ تھے، جنہوں نے اللہ کی توحید کی حکمرانی کے لیے بے مثال جدّو جہد کی تھی ۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے جناب ذوالقرنین کے تین سفروں کا ذکر کیا، جن میں سے ایک سفر انہوں نے مشرق کی طرف کیا اور ایک مغرب کی طرف ، اس کے علاوہ آپ نے ایک سفر ایسی بستی کی طرف کیا، جس کے رہنے والے دو پہاڑوں کی ایک سمت میں رہتے تھے جبکہ یا جوج اور ماجوج پہاڑوں کی دوسری طرف رہتے تھے ۔اس بستی کے لوگ یاجوج اور ماجوج سے تنگ تھے۔ بستی کے لوگوں نے جناب ذوالقرنین سے استدعا کی کہ یاجوج اور ماجوج کے فتنے سے بچنے کے لیے ان کی مدد کی جائے ۔جناب ذوالقرنین نے بستی کے لوگوں کو یاجوج اور ماجوج کے شر سے بچانے کے لیے دو پہاڑوں کے دامن میں لوہے کی متعدد چادروں کو کھڑا کر کے ان کے درمیان تانبے کو پگھلا کر یاجوج اور ماجوج کو پہاڑوں کے دوسری طرف بند کر دیا ۔
سورة کہف میں اللہ تعالیٰ نے اپنی توانائیوں کو دنیا کی زیب و زینت کے لیے وقف اور صرف کرنے والے لوگوں کے اعمال کو بدترین اعمال قرار دیا جبکہ وہ گمان کرتے ہیں کہ ہ بہترین کاموں میں مشغول ہیں ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ایسے لوگ میری ملاقات اور نشانیوں کا انکار کرنے والے ہیں اور ایسے لوگوں کے اعمال برباد ہو جائیں گے اور قیامت کے دن ان کا کوئی وزن نہیں ہو گا ۔
سورة کہف کے بعد سورة مریم ہے ۔سورة مریم میں اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السّلا م کی معجزاتی پیدائش کا ذکر کیا ہے ۔جناب زکریا علیہ السّلام جناب مریم کے کفیل اور خالوتھے، جب انہوں نے سیّدہ مریم کے پاس بے موسم کے پھل دیکھے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگی” اے پروردگار! تو مجھے بھی صالح اولاد عطا فرمادے ۔“جناب زکریا بوڑھے ہو چکے تھے اور ان کی بیوی بھی بانجھ تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے جناب زکریا کی فریاد سن کر ان کو بڑھاپے میں جناب یحییٰ علیہ السّلام سے نواز دیا ۔اسی طرح جناب مریم سلام اللہ علیہا کے پاس جناب جبرائیلِ امین آتے ہیں اور ان کو ایک صالح بیٹے کی بشارت دیتے ہیں۔ جناب مریم سلام اللہ علیہا کہتی ہیں کیا میرے گھر بیٹا پیدا ہو گا ؟جب کہ میں نے تو کسی مرد کی خلوت بھی اختیار نہیں کی ۔جبرئیل امین کہتے ہیں جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا ارادہ فرمالیتے ہیں تو پھر وہ کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہوتے ۔وہ لفظ” کُن “ کہتے ہیں اور وہ کام ہو جاتا ہے ۔سیّدہ مریم حاملہ ہو جاتی ہیں، جب عیسیٰ علیہ السّلام پیدا ہوتے ہیں تو سیّدہ مریم لو گوں کی طعن و تشنیع کے خوف سے بے قرار ہو جاتی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کے دل کو مضبوط فرماتے ہیں اور ان کو حکم دیتے ہیں کہ جب آپ کی ملاقات کسی انسان سے ہو تو آپ نے کہنا ہے کہ میں نے رحمن کے لیے روزہ رکھا ہوا ہے، اس لیے میں کسی کے ساتھ کلام نہیں کروں گی ۔جب آپ بستی میں داخل ہوتی ہیں تو بستی کے لوگ آپ کی جھو لی میں بچّے کو دیکھ کر کہتے ہیں اے ہارون کی بہن اے عمران کی بیٹی! نہ تو آپ کا باپ برا آدمی تھا اور نہ آپ کی ماں نے خیانت کی تھی، یہ آپ نے کیا کر دیا تو سیّدہ مریم نے اپنی انگلی سے جناب عیسیٰ علیہ السّلام کی طرف اشارہ کر دیا۔
جناب عیسیٰ علیہ السّلام نے مریم سلام اللہ علیہا کی گود سے آواز دی میں اللہ کا بندہ ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے، گود میں لیٹے ہوئے بچّے کی آواز سن کر لوگ خاموش ہو جاتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے مزید کہا کہ عیسیٰ علیہ السّلام رب کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لائق یہ بات نہیں کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے، جب وہ کسی بات کا ارادہ کرتا ہے تو کُن کہتا ہے اور وہ چیز رونما ہو جاتی ہے ۔
سورة مریم کے بعد سورة طہٰ ہے۔ سور ة طہٰ میں اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ علیہ السّلام کی کوہ طور پر اپنے ساتھ ہو نے والی ملاقات کا ذکر کیا اور یہ بتایا کہ جب موسیٰ علیہ السّلام کوہ طور پر تشریف لائے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں جوتا اتارنے کا حکم دیا اور ان سے پوچھا کہ موسیٰ آپ کے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ جناب موسیٰ علیہ السّلام نے کہا یہ میری لاٹھی ہے، جس سے میں سہارا لیتا ہوں اور اپنی بکریاں چَراتا ہوں۔ اور اس سے بہت سے اور کام بھی لیتا ہوں ۔اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ علیہ السّلام کو اپنی چھڑی زمین پر گرانے کا حکم دیا۔ جب چھڑی زمین پر گری تو بہت بڑے اژدھے کی شکل اختیار کر گئی اور جناب موسیٰ علیہ السّلام خوف زدہ ہوگئے ۔اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ علیہ السّلام کو عصا پکڑنے کا حکم دیا اور کہا آپ اسے پکڑ لیں، یہ(لاٹھی) دوبارہ اپنی شکل میں واپس آجائے گی ۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ علیہ السّلا م کو فرعون کے سامنے جا کر تبلیغ کرنے کا حکم دیا ۔جناب موسیٰ علیہ السّلام نے اس موقع پر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ اے میرے پروردگار! میرے سینے کو کھول دے ،میرے معاملے کو آسان کر دے، میری زبان سے گرہ کو دور کردے تاکہ لوگ میری بات کو صحیح طرح سمجھ سکیں اور میرے اہلِ خانہ میں سے جناب ہارون کو میرا وزیر بنادے۔ اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ علیہ السّلام کی دعا کو سن لیا او ر جناب ہارون کو آپ کا نائب بنا دیا۔ آپ فرعون کے دربار میں آئے تو فرعون نے اپنی قوم کی حمایت حاصل کرنے کے لیے آپ سے سوال کیا کہ میری قوم کے وہ لوگ جو ہم سے پہلے مر چکے ہیں، آپ ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ جناب موسیٰ علیہ السّلام کا ذہن علم و حکمت سے پُر تھا۔ آپ نے بڑا خوبصورت جواب دیا کہ ان کا علم میرے پروردگار کے پاس ہے اور میرا پروردگار نہ کبھی بھولا ہے اور نہ کبھی گم راہ ہوا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے فرعون کو تباہ و برباد کردیا اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات دی۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ علیہ السّلام کو اپنی ملاقات کے لیے بلایا ۔جب جناب موسی ٰ علیہ السّلام اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہو رہے تھے تو ان کی قوم نے ان کی عدم موجودگی میں سامری کے بنائے ہوئے بچھڑے کی پوجا شروع کردی۔موسیٰ علیہ السّلام واپس پلٹے تو اپنی قوم کو شرک کی دلدل میں اترا دیکھ کر انتہائی غضب ناک ہوئے اور جناب ہارون علیہ السّلام سے پوچھا کہ آپ نے اپنی ذمّہ داری کیوں پوری نہیں کی ۔جناب ہارون نے کہا کہ میں نے ان پر سختی اس لیے نہیں کی کہ کہیں یہ لوگ منتشر نہ ہوجائیں۔جناب موسیٰ علیہ السّلام کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو جناب موسیٰ نے سامری کے بنائے ہوئے بچھڑے کو آگ لگا کر اس کی راکھ کو سمندر میں بہا دیا اورا س جھوٹے معبود کی بے بسی اور بے وقعتی کو بنی اسرائیل پر ثابت کردیا ۔
سورة طہٰ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے رُوگردانی کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی معیشت کو تنگ کر دیں گے اور قیامت کے دن اس کو اندھا کر کے اٹھائیں گے، وہ کہے گا اے میرے پروردگار! تو نے مجھے اندھا کیوں کر دیا؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں نے تمہیں اپنی آیات دیں، تُو نے ان کو نظر اندازکر دیا چنانچہ آج تمہیں نظر انداز کر دیا گیا ہے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن پاک پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ (آمین)
تراویح...ترجمہ و خلاصہ…حافظ ابتسام الٰہی ظہیر