واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > عبادات > ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں



ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں


ماہ شعبان اور شب بارات

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-07-10, 01:59 PM   #1
ماہ شعبان اور شب بارات
طلحہ طلحہ آف لائن ہے 25-07-10, 01:59 PM

ماہِ رواں ماہِ شعبان ہے ، اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے مہینوں میں سے ایک مہینہ ، اِس مہینہ کی فضیلت کے بارے میں محدثین نے جو احادیث روایت کی ہیں اُن میں ہمیں ایک فضلیت تو یہ ملتی ہے کہ اِس مہینے میں زیادہ سے زیادہ روزے رکھے جائیں ، جیسا کہ اِیمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا کہنا ہے کہ ((( لم یَکُن النبی صلی اللہ علیہ وسلم یَصُومُ شَہْرًا اَکثَرَ من شَعبَانَ فاِنہ کان یَصُومُ شَعبَانَ کُلَّہُ وکان یقول خُذُوا من العَمَلِ ما تُطِیقُونَ فاِن اللَّہَ لَا یَمَلُّ حتی تَمَلُّوا وَاَحَبُّ الصَّلَاۃِ اِلی النبی صلی اللہ علیہ وسلم ما دُووِمَ علیہ وَاِن قَلَّت وکان اِذا صلی صَلَاۃً دَاوَمَ علیہا ::: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کِسی بھی اور مہینے سے زیادہ شعبان میں روزے رکھا کرتے تھے ، اور کہا کرتے تھے اُتنا (نیک) کام کرو جتنے(کو ہمیشہ کرنے) کی طاقت رکھتے ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ تو (تمہارے کاموں )سے اُس وقت تک نہیں بھرتا جب تک تم لوگ نہ بھر جاو (یعنی ( تمہارے دِل وہ کام کرنے سے نہ بھر جائیں) ،،،،،، ))) صحیح البخاری /کتاب الصیام /باب ٥١ صوم شعبان،
اِس ایک عِلاوہ ماہِ شعبان کی دوسری فضیلت بھی ملتی ہے جِس کا ذِکر اِنشاء اللہ ابھی آگے آئے گا ،
اِس دوسری حدیث میں شعبان کی درمیانی رات کے بارے میں ایک خبر بیان کی گئی ہے مگراِس میں وہ کُچھ یقیناً نہیں ہے جو بھائی لوگوں نے بنا لیا ہے اور جِس پر وہ عمل کئیے جا رہے ہیں ، بھیڑ چال چونکہ ہماری عادت ہو چکی ، لہذا یہ دیکھنے کی زحمت کیوں کی جائے کہ ریوڑ کہاں جا رہا ہے ، بس گردن ڈالے چلے جا رہے ہیں کہ جہاں باقی جائیں گے ہم بھی وہیں جا ئیں گئے اور پھر اِس عادت کو پُختہ کرنے میں شیطان کی محنت بھی کافی شامل ہے ، جو ہمیں اِس خوشی فہمی میں رکھتا ہے کہ ''' اِتنے بڑے بڑے عُلماء بھلا کیسے غلط کہہ سکتے ہیں، اور یہ اِتنے لوگ جو کُچھ کہہ اور کر رہے ہیں یہ سب غلط ہونا تو بہت ہی مُشکل ہے ، وغیرہ وغیرہ ''' اور اِسی طرح کے دیگر وسوسوں کے ذریعے وہ ہمیں حق سے دور رکھتا ہے ، اور یہ بھلائے رکھتا ہے کہ غلطی سے محفوظ ، اور معصوم صِرف اور صِرف انبیاء اور رسول علیہم السلام ہوتے تھے اور ہر قِسم کے کمی ،غلطی ، نُقص اور عیوب سے پاک صِرف اور صِرف اللہ کی ذات ہے ،
اکثریت کِسی بھی معاملے کی درستگی یا نا درستگی کی پرکھ کی کسوٹی نہیں خاص طور پر دِینی معاملات میں وہاں حق صِرف اور صِرف اللہ کی وحی ہے وہ قران میں سے ہو یا اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زُبان پر جاری کروائی ہو ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ((( قُلِ اللّہُ یَہدِی لِلحَقِّ اَفَمَن یَہدِی اِلَی الحَقِّ اَحَقُّ اَن یُتَّبَعَ اَمَّن لاَّ یَہِدِّی اِلاَّ اَن یُہدَی فَمَا لَکُم کَیف َ تَحکُمُونَO وَمَا یَتَّبِعُ اَکْثَرُہُم اِلاَّ ظَنّاً اَِنَّ الظَّنَّ لاَ یُغنِی مِنَ الْحَقِّ شَیااً اِنَّ اللّہَ عَلَیمٌ بِمَا یَفعَلُون ::: (اے رسول )کہیے اللہ ہی حق کی طرف ہدایت دینے والا ہے ، تو وہ جو حق کی طرف ہدایت دیتا ہے وہ اِس بات کا حق دار ہے کہ اُس کی تابع فرمانی کی جائے یا وہ جو ( اللہ سے ) ہدایت پائے بغیر خود کِسی کو ہدایت نہیں دے سکتا ، تو تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ، (کہ اللہ کی ہدایت کے علاوہ اور اور فلسفوں اور رائے کو بنیاد بنا کر ) کیسے عجیب فیصلے کرتے ہوO اور اُن (اِنسانوں) کی اکثریت ظن ( خیالوں) کی پیروی کرتی ہے ، (جبکہ ) بے شک خیالات حق سے غنی نہیں کر سکتے ، جو کچھ یہ کرتے ہیں بے شک اللہ (وہ سب ) بہت اچھی طرح جانتا ہے ))) سورت یونس / آیت ٣٥، ٣٦
اور فرمایا ((( اِنَّ اللّہَ لَذُو فَضلٍ عَلَی النَّاسِ وَلَـکِنَّ اَکثَرَہُم لاَ یَشکُرُون ::: بے شک اللہ انسانوں پر مہربانی کرنے والا ہے لیکن اُنکی اکثریت شکر نہیں کرتی ( یعنی اللہ کی تابع فرمانی کرنے کی بجائے اللہ کی نافرمانی کرتی ہے ) ))) سورت یونس آیت ٦٠ ، تو اکثریت کا کِسی قول و فعل پر عمل پیرا ہونا کِسی بھی مسلمان کے لیے اُس قول یا فعل کو اپنانے کی دلیل نہیں ہوتی ، اکثریت کو درستگی کی دلیل اُس جمہوریت میں مانا جاتا ہے جِس میں سر گنے جاتے ہیں سروں کے اندر کیا ہے وہ نہیں دیکھا جاتا ، آئیے ذرا ماہِ شعبان میں چلی جانے والی بھیڑ چال سے باہر نکل کر تھوڑی دیر کے لئیے دیکھیں تو سہی کہ کون کِس کی ہانک پر کہاں چلا ہی جا رہا ہے ؟
کِسی نے اِن سے کہا ، شعبان کی پندرہویں رات میں حساب کِتاب دیکھے جاتے ہیں ، مُردوں کی روحیں اپنے گھروں میں آتی ہیں ، زندگی اور موت کے فیصلے کئیے جاتے ہیں ، جِس نے آنے والے سال میں مرنا ہونا ہے اُسکا پتہ زندگی کے درخت سے جھاڑ دِیا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ اور شاید اِسی عقیدے کی بنا پر ''' پتہ صاف کرنا ''' محاورۃً اِستعمال کیا جاتا ہے ، بہر حال ، جِس حدیث کو بُنیاد بنا کر یہ قصے گھڑ لئیے گئے اور طرح طرح کی عِبادات اور ذِکر اذکار بنا لیے گئے ،
آئیے سُنیے کہ وہ حدیث کیا ہے ، معاذ ابنِ جبل رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ((( یطَّلعُ اللَّہ ُ تبارکَ و تعالیٰ اِلیٰ خلقِہِ لیلۃِ النِّصفِ مِن شعبانِ فَیَغفِرُ لِجمیع ِ خلقِہِ ، اِلاَّ لِمُشرِکٍ او مشاحن ::: اللہ تبارک و تعالیٰ شعبان کی درمیانی رات میں اپنی مخلوق (کے اعمال )کی خبر لیتا ہے اور اپنی ساری مخلوق کی مغفرت کر دیتا ہے ، سوائے شرک کرنے والے اور بغض و عناد رکھنے والے کے ( اِنکی مغفرت نہیں ہوتی ))) صحیح الجامع الصغیر حدیث١٨١٩ ، سلسلہ احادیث الصحیحہ/حدیث١١٤٤ ،
اور اِس کی دوسری روایت اِن الفاظ میں ہے ((( اِذا کَان لَیلۃِ النِّصفِ مِن شعبانِ اَطلَعُ اللَّہ ُ اِلَی خَلقِہِ فَیَغفِرُ لِلمُؤمِنِینَ وَ یَملیَ لِلکَافِرِینَ وَ یَدعُ اَئہلِ الحِقدِ بِحِقدِہِم حَتَی یَدعُوہُ ::: جب شعبان کی درمیانی رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی ساری مخلوق (کے اعمال )کی اطلاع لیتا ہے اور اِیمان والوں کی مغفرت کر دیتا ہے اور کافروں کو مزید ڈِھیل دیتا ہے اورآپس میں بغض (غصہ ) رکھنا والے ( مسلمانوں ) کو مہلت دیتا ہے کہ وہ اپنا غُصہ چھوڑ دیں ))) حدیث حسن ہے ، صحیح الجامع الصغیر و زیادتہُ/ حدیث ٧٧١(771 )
اِن منقولہ بالا دو حدیثوں کو پڑھ کر ان شاء اللہ ہر قاری سمجھ سکتا ہے کہ اِن میں کوئی ایسی خبر نہیں جِس کو بُنیاد بنا کر ہم وہ کُچھ کریں جو کرتے ہیں
بات تو تھی بھیڑ چال کی،اسی چال میں چلتے چلتے ہم نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی تو کُچھ کو دیئے جلاتے ہوئے پایا اور خود بھی یہ کام شروع کر دیا ، کُچھ نے اِس دیے بازی اور آتش پرستی کو ہندو چال اور مجوسی چال سے مُسلم چال میں ڈھالنے کےلئیے شبِ برأت بنا لیا ، کچھ حساب کتاب کی بات بنائی گئی ، کُچھ نماز اور ذِکر اذکار شامل کر لیئے گئے ، جب کہ اِن سب چیزوں کے لیئے ہمارے پاس اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی ثابت شدہ سچی قابلِ اعتماد خبر نہیں، مگر کیا کریں ذوق اور عادت میں شامل ہو چکا ہے کہ ، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو ناکافی سمجھا جائے ، اور اُن کی تعلیمات خلاف ورزی کی جائے لیکن جِن کی پیروی کی جاتی ہے اُنکی بات کو ہر صورت مانا جائے اور اُسے درست ثابت کرنے کے لیے قران و سُنّت کی کوئی بھی تاویل کی جائے ،
خود کو بدلتے نہیں قراں کو بدل دیتے ہیں ::: مرشد کے نہیں رسول کے فرماں کو بدل دیتے ہیں
سُنّت اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کی خِلاف ورزی بھی کی جائے اور اُن کی اتباع کا دعویٰ اور اُن سے نسبت بھی برقرار رکھی جائے ، ہندوؤں کی طرح گھروں کو روحوں کے اِستقبال کے لیے دھویا جائے اور چراغاں کے نام پریہودیوں اور مجوسیوں کی طرح آگ سے سجایا جائے ، عیسائیوں کی طرح پٹاخے چلائے یا بجائے جائیں اور آتش بازی کی جائے رات بھر جاگ جاگ کر خود ساختہ عِبادات اور ذکر اذکار کیئے جائیں ، پھر بھی ہم درست ہمارا دعویٰ سچا ہماری نسبت ٹھیک،،، اور جو اِن کاموں سے روکے اور قران اور صحیح ثابت شدہ سُنّت کی دعوت دے وہ گستاخ ، اور فرقہ واریت پھیلانے والا ، سبحان اللَّہ و الیہ أشکو ،
آگ کو بلا ضرورت استعمال کرنا اور جلائے رکھنا آگ پرست ایرانی مجوسیوں کا باطل مذھب تھا ، کہ وہ ہر وقت گھروں میں آگ جلائے رکھتے تھے اور اپنے خوشی و غم کے اظہار کے لیے خاص طور پر بڑی چھوٹی آگ جلاتے تھے ، یہودی بھی اپنے مذہبی بلاوے کے لیے آگ جلاتے تھے اِسی لیے جب صحابہ نماز کے بلاوے کے بارے میں مشورہ کر رہے تھے تو آگ جلانے کی سوچ کو یہودیوں کی عادت ہونے کی وجہ سے ترک کِیا اور ناقوس (ناقوس، کِسی جانور کا بڑا سے سینگ جِسے کھو کھلا کر کے اُس میں پھونک مار کر زور دار آواز پیدا کی جاتی ہے یا اُسی قِسم کی کوئی اور چیز خواہ دھات سے بنی ہو یا کِسی اور مواد سے ، ناقوس کہلاتی ہے ، ناقوس) استعمال کرنے کی سوچ کو عیسائیوں کی عادت ہونے کی وجہ سے ترک کیا ، تو اُس وقت عُمر رضی اللہ عنہُ نے اذان دینے کا مشورہ دِیا اور اُن کے مشورہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قُبُول فرما کر بلال رضی اللہ عنہُ کو حُکم دِیا کہ اذان کہیں ، اور اذان کے فقرے دو دو دفعہ کہیں ، اور اقامت کے ایک دفعہ ، صحیح البخاری / کتاب الاذان / پہلے باب کی احادیث ، اور صحیح مسلم / کتاب الصلاۃ / پہلے باب کی پہلی حدیث ،
ہندو بھی اپنی کچھ خاص عبادات میں دئیے اور موم بتیاں وغیرہ جلاتے تھے اور ہیں ، مسلمانوں میں کِسی ضرورتِ زندگی کو پورا کرنے کے عِلاوہ آگ کا استعمال کبھی مروج نہیں رہا ، اور ہمارے ہاں اِس رات میں عِبادت کے طور پر ثواب و اجر کی نیت سے آگ جلائی جاتی ہے ، اِنّا للِّہِ و اِنّا اِلیہِ راجِعُونَ ۔
شعبان کی فضیلت میں بیان کی جانے والی غیر ثابت احادیث
(١) جھوٹ کی ایک لمبی کہانی بنا کر حدیث کے طور پر پھیلائی گئی اُسکا آغاز اِسطرح ہے '''""" یا علی من صلی لیلۃ النصف من شعبان مئۃ رکعۃ بالف قل ہو اللہ احد قضی اللہ لہ کل حاجۃ طلبہا تلک اللیلۃ وساق جزافات کثیرۃ واعطی سبعین الف حوراء لکل حوراء سبعون الف غلام وسبعون الف ولدان ،،،،،، ::: اے علی جس نے شعبان کی درمیانی رات میں سو رکعت نماز ، ہزار دفعہ قل ھو اللہ احد کے ساتھ پڑہی تو وہ اللہ سے جس ضرورت کا بھی سوال کرے گا اللہ وہ دے گا ، اور اللہ بہت سے انعامات دے گا اور ستر ہزار حوریں دی جائیں گی اور ستر ہزار درمیانی عمر کے بچے اور ستر ہزار چھوٹی عمر کے بچے ،،،،،،،،، '''""" ،
اِمام ابن القیم نے ''' المنار المنیف فی صحیح و الضعیف ''' میں اِس حدیث کے بارے لکھا ''' حیرت ہے کہ کوئی سُنّت کے عِلم کی خوشبو پاتا ہو اور پھر بھی اِس قِسم کی فضول باتوں سے دھوکہ کھائے ، یہ نماز اِسلام میں چار سو سال کے بعد بیت المقدس کے علاقے میںبنائی گئی اور پھر اِسکے بارے میں بہت سی احادیث بنائی گئیں '''
(٢) '"""'' من صلی لیلۃ النصف من شعبان ثنتی عشرۃ رکعۃ یقرا فی کل رکعۃ ثلاثین مرۃ قل ہو اللہ احد شفع فی عشرۃ من اہل بیتہ قد استوجبوا النار ::: جِس نے شعبان کی درمیانی رات میں بارہ رکعت نماز پڑہی اور ہر رکعت میں تیس دفعہ قل ھو اللہ احد پڑہی تو وہ اپنے گھر والوں میں سے ایسے دس کی شفاعت کر سکے گا جِن پر جہنم میں جانا واجب ہو چکا ہو گا'''
سابقہ حوالہ /جلد ١ /صفحہ ٩٨ (ناشر کے فرق سے صفحات کے نمبر مختلف ہو سکتے ہیں)
(٣) '""""'' خمس لیال لا ترد فیہن الدعوۃ اول لیلۃ من رجب ولیلۃ النصف من شعبان ولیلۃ الجمعۃ ولیلۃ الفطر ولیلۃ النحر ::: پانچ راتیں (ایسی) ہیں جن میں دُعا رد نہیں کی جاتی (قُبُول کی جاتی ہے ) رجب کی پہلی رات اور شعبان کی درمیانی رات ، اور جمعہ کی رات اور عید ِفطر کی رات ''"""' :::حدیث مَن گِھڑت جھوٹی ہے ، اِس کی سند میں ابو سعید بندار بن عمر بن محمد بن الرویانی نامی راوی ہے جسے محدثین نے جھوٹا اور حدیثیں گَھڑنے والا قرار دِیا ہے ،
( ایک تنبیہہ ::: خیال رہے کہ اسلامی قمری نظام میں رات دِن سے پہلے آتی ہے جبکہ عیسوی نظامِ تاریخ میں دِن رات سے پہلے آتے ہیں ، عیدِ فِطر کی رات وہ رات جو عید کے دِن سے پہلے ہے ، جِسے عام طور پر چاند رات کہا جاتا ہے اور جو اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے اور شکر کی ادائیگی کی تیاری کرنے کی بجائے نافرمانی کرتے ہوئے اور مزید نافرمانی کی تیاری کرتے ہوئے گذاری جاتی ہے ، اِس موضوع پر رمضان کے مضامین کے آخر میں بات ہو چکی ، اسی طرح جمعہ کی رات وہ رات جو جمعرات کے دِن اور جمعہ کے دِن کے درمیان ہوتی ہے اور اسی طرح ساری راتیں دِنوں سے پہلے شمار کی جاتی ہیں اور اسی لیے ہماری اسلامی قمری تاریخ سورج غروب ہونے سے شروع ہوتی ہے نہ کہ آدھی رات گذرنے پر ،
(٤) '""""'' من احیا اللیالی الخمس وجبت لہ الجنۃ لیلۃ الترویۃ ولیلۃ عرفۃ ولیلۃ النحر ولیلۃ الفطرولیلۃ النصف من شعبان ::: جِس نے پانچ راتیں زندہ کِیں (یعنی عِبادت کرتے ہوئے گُزارِیں ) تو اُس کے لیے جنّت واجب ہو گئی ، ترویہ (یعنی آٹھ ذی الحج) کی رات ، اور عرفہ ( نو ذی الحج) کی رات ، اور نحر (قربانی کے دِن یعنی دس ذی الحج ) کی رات ، اور( عیدِ ) فِطر کی رات ، اور شعبان کی درمیانی رات '''"""" مَن گَھڑت جھوٹی حدیث ، ضعیف الترغیب والترھیب /کتاب العیدین و الاضحیۃ / پہلے باب کی دوسری حدیث۔
(٥) ''""""' ،،،،،،اِن اللہ تعالی ینزل لیلۃ النصف من شعبان اِلی السماء الدنیا فیغفر لاکثر من عدد شعر غنم کلب::: اللہ تعالیٰ شعبان کی درمیانی رات میں دُنیا کے آسمان کی طرف اُترتاہے اور بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے زیادہ لوگوں کی بخشش کرتا ہے '""""'' سنن النسائی / کتاب الصوم / باب ٣٩ (39 ) میں امام النسائی نے یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھا کہ ''' میں نے محمد (یعنی امام البخاری ) کو سنا کہ وہ اِس حدیث کو کمزور ( نا قابل حُجت ) قرار دیتے تھے'''
(٦) """"" اِذا کانت لیلۃ النصف من شعبان فقوموا لیلہا وصوموا نہارہا فاِن اللہ ینزل فیہا لغروب الشمس اِلی سماء الدنیا فیقول الا من مستغفر لی فاغفر لہ الا مسترزق فارزقہ الا مبتلی فاعافیہ الا کذا الا کذا حتی یطلع الفجر ::: جب شعبان کی درمیانی رات ہو تو اُس رات قیام (یعنی نماز پڑھا) کرو ، اور اُس رات کے دِن کو روزہ رکھا کرو کیونکہ اِس رات میں سورج غروب ہوتے ہی ( یعنی رات کے آغاز میں ہی) اللہ تعالیٰ دُنیا کے آسمان پر اُتر آتا ہے اور کہتا ہے ، ہے کوئی مجھ سے بخشش مانگنے والا کہ میں اُس کی بخشش کر دوں ، ہے کوئی رزق مانگنے والا کہ میں اُسے رزق دوں ، ہے کوئی مصیبت زدہ کہ میں اُس عافیت دوں ، ہے کوئی ایسا ، ہے کوئی ایسا ،،، یہاں تک فجر کا وقت ہو جاتا ہے '""""''' حدیث سنن ابن ماجہ میں ہے اور اِسکی سند میں ابن ابی سبرہ نامی راوی کو حدیثیں گھڑنے والا کہا گیا ہے (بحولہ التقریب التھذیب اور الزوائد للبوصیری) اس حدیث کے بعض حصے دوسری صحیح روایات میں ملتے ہیں لیکن ہمارے اِس موضوع سے متعلق حصہ مَن گَھڑت ہی ہے ۔
اِن مندرجہ بالا احادیث اور اِن جیسی کچھ اور کی بنیاد پر یا محض سنی سنائی کہانیوں ، قصوں ، خوابوں اور نام نہاد الہامات کی بنیاد پر جو کام اور عقائد جِن کا قُران اور سُنّت میں کوئی صحیح ثبوت نہیں مغفرت کا سبب ہیں یا عذاب کا ؟
آیے مضمون کے آغاز میں نقل کی گئی دو صحیح حدیثوں کی روشنی میں سوچتے ہیں کہ ہم کِن میں ہیں؟
کیا ہم کِسی مُسلمان سے بُغض و عناد تو نہیں رکھتے ؟
کیا ہم کِسی مَن گھڑت ، نئی عِبادت کو ادا کر کے یا کوئی بے بُنیاد عقیدہ اپنا کر کِسی بدعت یا شرک کا شکار تو نہیں ہو رہے ؟
اللہ نہ کرے کہ ایسا ہو ، کیونکہ اگر ایسا ہے تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان جو آغاز میں نقل کیا گیا، کے مطابق پندرہ شعبان کی رات میں ہمارے لیے خیر کی کوئی اُمید نہیں اور اگر ایسا نہیں تو اِن شاء اللہ ہماری مغفرت کر دی جائے گی ۔ والسلام علیکُم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ۔
بشکریہ عادل سہیل صاحب
ماہ شعبان ، شب برات ، اور ہم

طلحہ
Senior Member
تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 301
شکریہ: 256
262 مراسلہ میں 945 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 485
Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے طلحہ کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (26-07-10), فرحان دانش (26-07-10), محمد یاسرعلی (17-07-11), محمد عاصم (18-07-11), مرزا عامر (26-07-10), wajee (25-07-10), احمد بلال (26-07-10), بلال اویسی (25-07-10), عارف اقبال (05-08-10), عبداللہ حیدر (26-07-10)
پرانا 26-07-10, 02:22 AM   #2
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس رات میں مجھے جو سب سے زیادہ فضیلت نظر آتی ھے وہ ھے بیسن اور سوجی کا حلوہ کچھ لوگ زردہ بھی پکا لیا کرتے ہیں لیکن بھائی جو بات حلوے کی ھے وہ زردے کی نہیں- حلوہ حلوہ ھے-
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (17-07-11), فرحان دانش (26-07-10), ارشد کمبوہ (17-07-11)
پرانا 05-08-10, 05:24 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، طلحہ بھائی ،
اللہ تعالیٰ آپ کی محنت قبول فرمائے ، بھائی بات شبء برأٔت کی ہے ، شبء بارات کی نہیں ،
حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو پہلے والی سے دوسرے والی سے کہیں زیادہ خوفناک ہے ، کیونکہ دوسرے والی کی خوفناکی تو ایک بے چارے یا کبھی کبھار چند لوگوں کی حد تک رہتی ہے ، اور پہلے والی کی خوفناکی تو ساری امت کو ہی نشانہ بنائے ہوئے ہے ، و اللہ السمتعان ،
اللہ ہم سب کو ہر گمراہی سے محفوظ رکھے ، و السلام علیکم۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی مرزا عامر صاحب ، آپ نے جس فضیلت کا ذکر فرمایا ہے وہ صرف شبء برأت تک ہی محدود مت رکھیے ، ورنہ یہ ظلم ہو گا ، حلوے پر بھی اور اہلء حلوہ پر بھی ، یہ فضیلت تو ہر معاملے پر وارد کرنے کی کوشش ہوتی ہے یہاں تک موت و پریشانی سے متعلق محافل بھی اس میٹھی میٹھی فضیلت سے بچتی نہیں و لا حول و لا قوۃ الا باللہ ، والسلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (17-07-11), محمد عاصم (18-07-11), مرزا عامر (05-08-10), ارشد کمبوہ (17-07-11)
پرانا 17-07-11, 12:00 AM   #4
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پاکستان میں رات کافی ہو چکی ہے اور کچھ لوگ تو یقیناً حلوہ کھا کر پٹاخے بھی پھوڑنے چلے گئے ہوں گے اور کچھ قبروں پر اگربتیاں جلانے ۔ اس مراسلے کو کون پڑھے گا`؟؟؟؟
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (17-07-11), محمد عاصم (18-07-11), ارشد کمبوہ (17-07-11), حیدر (17-07-11)
پرانا 17-07-11, 12:38 AM   #5
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جی یہ سب کل ہوگا
اتوار کا دن اور اتوار کی رات کو
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (17-07-11), ارشد کمبوہ (17-07-11), حیدر (17-07-11)
پرانا 17-07-11, 12:40 AM   #6
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ویسے ابھی ساڑھے بارہ ہی بجے ہیں
میں تو ایک بجے دوستوں کی طرف نکلتا ہوں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
ارشد کمبوہ (17-07-11), حیدر (17-07-11)
پرانا 17-07-11, 12:49 AM   #7
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
جی یہ سب کل ہوگا
اتوار کا دن اور اتوار کی رات کو
اوہ ہ ہ ہو میں سمجھا کہ یہ آج رات ہے ۔
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (17-07-11), ارشد کمبوہ (17-07-11), حیدر (17-07-11)
پرانا 17-07-11, 01:35 AM   #8
Senior Member
 
محمد یاسرعلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: راولپنڈی
عمر: 28
مراسلات: 4,031
کمائي: 54,668
شکریہ: 7,881
2,881 مراسلہ میں 7,142 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد یاسرعلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد یاسرعلی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

چلیں آپ سعودیہ والوں کے ساتھ منا لیں ویسے عرب ممالک میں شبِ برات آج ہی ہے نا
محمد یاسرعلی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمد یاسرعلی کا شکریہ ادا کیا
ارشد کمبوہ (17-07-11), حیدر (17-07-11)
پرانا 17-07-11, 01:51 AM   #9
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کچھ لوگ شبِ بارات کو قران حکیم سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے لیئے سورۃ الدخان کی شروع کی آیات کا حوالہ دیا جاتا ہے ۔ آئیے قران پاک کی مزید سورتوں کی آیات سے کیا ربط ملتا ہے

1 شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ۔۔۔۔۔۔ سورۃ البقرۃ آیت 185
رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور رہنمائی کرنے والی اور امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں،-----

2 . حمO وَالْكِتَابِ الْمُبِينِO. إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَO فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍO أَمْرًا مِّنْ عِندِنَا إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَO رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُO
حا میم اس روشن کتاب کی قسمo بیشک ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں اتارا ہے بیشک ہم ڈر سنانے والے ہیںo اس میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کر دیا جاتا ہےo ہماری بارگاہ کے حکم سے، بیشک ہم ہی بھیجنے والے ہیںo آپ کے رب کی جانب سے رحمت ہے، بیشک وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہےo سورۃ الدخان آیات 1 تا 6


3- إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِO وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِO لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍO تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍO سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِO

بیشک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہےo اور آپ کیا سمجھے ہیں (کہ) شبِ قدر کیا ہےo شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہےo اس میں فرشتے اور روح الامین اپنے رب کے حکم سے ہر امر کے ساتھ اترتے ہیںo یہ طلوعِ فجر تک سلامتی ہےo

اہم نقاط ۔
1 رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قران کا نزول ہوا -
2 سورۃ دخان کی شروع کی آیات میں جو بات کی جارہی ہے وہ اس مبارک رات کی کی جا رہی ہے جس میں قران نزول ہوا ۔ اور قران کا نزول رمضان میں ہوا نہ کہ شعبان میں
3 سورۃ القدر میں اس رات کو لیلۃ القدر کا نام دیا گیا ۔
4 تمام امور کے فیصلے لیلۃ القدر یعنی تقدیر کی رات میں کیئے جاتے ہین
اس کے علاوہ اگر کسی اور رات کا قران پاک میں ذکر ہے تو براہ مہربانی تصحیح فرمادیں
اگر آپ کے کسی مسلک کے مولوی نے سورۃ دحان کی آیات کو شبِ برات سے جوڑنے کی کوشش کی ہے تو آپ خود اپنے دل سے بھی پوچھیں کہ حقیقت تو کچھ اور واضح ہو رہی ہے ۔
احادیث کے مطابق آپ لوگ شبِ بارات کو جس طرح گزارنا چاہیں آپ کی مر ضی لیکن قران حکیم کو ہدایت کے لیئے پڑھیئے نہ کہ اپنے مسلک کی پشت پناہی کے لیئے ۔
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (17-07-11), کنعان (17-07-11), محمد عاصم (18-07-11), احمد بلال (18-07-11), ارشد کمبوہ (17-07-11), حیدر (17-07-11)
پرانا 17-07-11, 01:53 AM   #10
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمد یاسرعلی مراسلہ دیکھیں
چلیں آپ سعودیہ والوں کے ساتھ منا لیں ویسے عرب ممالک میں شبِ برات آج ہی ہے نا
جی ہاں سعودی عرب میں آج ہی ہے ۔
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
ارشد کمبوہ (17-07-11), حیدر (17-07-11)
پرانا 17-07-11, 02:04 AM   #11
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,721
شکریہ: 13,535
4,914 مراسلہ میں 16,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم!

ہمارے یہاں بھی آج کی رات ھے پوری فیملی تیاری کر کے بیٹھی ہوئی ھے اور ابھی تھوڑی دیر میں سب مصلہ پر چلے جائیں گے رات ساری قرآن مجید، نوافل پڑھیں گے اور روزہ رکھ سے سو جائیں گے اور کل روزہ کھلنے کے وقت اٹھ جائیں گے۔ اللہ سبحان تعالی ان کی اور سب کی عبادت، بیٹھنا، پڑھنا قبول فرمائے، آمین

والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (17-07-11), ننھا بچہ (17-07-11), محمد یاسرعلی (17-07-11), مرزا عامر (17-07-11), احمد بلال (18-07-11), حیدر (17-07-11), عبدالقدوس (18-07-11)
پرانا 17-07-11, 02:19 AM   #12
Senior Member
 
ننھا بچہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: جہانِ فانی میں
مراسلات: 4,510
کمائي: 52,546
شکریہ: 5,871
3,229 مراسلہ میں 6,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
ننھا بچہ کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم!

ہمارے یہاں بھی آج کی رات ھے پوری فیملی تیاری کر کے بیٹھی ہوئی ھے اور ابھی تھوڑی دیر میں سب مصلہ پر چلے جائیں گے رات ساری قرآن مجید، نوافل پڑھیں گے اور روزہ رکھ سے سو جائیں گے اور کل روزہ کھلنے کے وقت اٹھ جائیں گے۔ اللہ سبحان تعالی ان کی اور سب کی عبادت، بیٹھنا، پڑھنا قبول فرمائے، آمین

والسلام

جزاءک اللہ
اللہ آپ کی عبادات قبول فرمائیں
ننھا بچہ آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے ننھا بچہ کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (17-07-11), کنعان (17-07-11), مرزا عامر (17-07-11), احمد بلال (18-07-11), حیدر (17-07-11), عبدالقدوس (18-07-11)
پرانا 18-07-11, 11:38 PM   #13
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
کمائي: 52,639
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جزاک اللہ طلحہ بھائی بہت مدلل تحریر ہے۔
اللہ ہم سب کو قرآن اور صحیح حدیث پر عمل کرنے کی توفیق دے آمین
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (18-07-11), عبداللہ حیدر (19-07-11)
جواب

Tags
ہندو, فرقہ واریت, پاک, قران, لوگ, نماز, نظر, موم, موت, اللہ, اسلامی, بھائی, ترک, جھوٹ, جلد, حال, حدیث, حسن, خلاف, خبر, دُعا, روزہ, رمضان, شعبان, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:59 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger