پندرھویں پارے کاآغاز سورة بنی اسرائیل سے ہوتا ہے۔ اس سورة کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے نبی علیہ السّلام کے سفر اسراء کاذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو ایک رات میں بیت اللہ شریف سے بیت المقدّس پہنچا دیا تا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کو دیکھ سکیں ۔بیت اللہ الحرام ہدایت کا ایک مرکز ہے جبکہ بیت المقدّس ہدایت کا دوسرا مرکز تھا ۔ اس مرکز میں پہنچ کر اللہ تعالیٰ نے در حقیقت اس بات کو ثابت کیا کہ نبی ﷺایک قبلے کے مقتدا اور امام نہیں بلکہ دونوں قبلوں کے پیشوا اور مقتدا تھے ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ یہ قرآن مجید نیک اعمال کرنے والے مومنوں کے لیے بشارت ہے اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ان کے لیے درد ناک عذاب ہے ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ پوجا صرف اللہ تعالیٰ کی ہونی چاہیے اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا چاہیے ۔اگر وہ دونوں یا ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائے تو اس کو اُف بھی نہیں کہنا چاہیے اور نہ ان کو جھڑکنا چاہیے اور ان کو اچھی بات کہنی چاہیے اور ان کے سامنے عاجزی کے ساتھ اپنے کاندھوں کو جھکائے رکھنا چاہیے اور یہ دعا مانگنی چاہیے کہ پروردگار! ان پر رحم فرما، جس طرح وہ میرے بچپنے میں مجھ پر رحم کرتے رہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ قرابت داروں ،مساکین اور مسافروں کا حق ادا کرنا چاہیے اور فضول خرچی نہیں کرنی چاہیے ، بے شک فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا ناشکرا ہے۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے پُر حکمت احکامات بھی دیے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اپنی اولاد کو تنگی کے خوف سے قتل نہیں کرنا چاہیے، اس لیے کہ والدین اور اولاد دونوں کو رزق اللہ ہی دیتا ہے ۔ان کا قتل بہت بڑی خطا ہے ۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرما یا کہ زنا کے قریب بھی مت جاؤ، بے شک یہ فحاشی کا کام ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ناحق قتل کی بھی مذمّت کی ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ جوان ہو جائیں اور اس کے بعد ارشاد ہوا کہ وعدوں کو پورا کرو، بے شک وعدوں کے بارے میں سوال ہو گا، اسی طرح اللہ نے پورا تولنے کا بھی حکم دیا ۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ایسی بات مت کہو، جس کا تمہیں علم نہیں بے شک کان، آنکھ اور دل بھی اللہ کے سامنے جواب دہ ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ زمین پر اکڑ کے مت چلو بے شک تم زمین کو چیر نہیں سکتے اورنہ ہی زمین پر چلتے ہو ئے پہاڑوں تک پہنچ سکتے ہو۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے آخرت کے تصوّر کو بھی اجاگر کیا ۔اللہ تعالیٰ کہتے ہیں چاہے تم پتّھر بن جاؤ چاہے لو ہا۔ اللہ تعالیٰ دوبارہ انسانوں کو زندہ فر مائیں گے ۔کافر حیران ہو کر پوچھتے ہیں ہمیں کون زندہ کرے گا ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا، پھر وہ مزید سوال کرتے ہیں کہ ایسا کب ہو گا تو اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ جلد ہی یہ سب کچھ رونما ہونے والا ہے ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کی عظمت کا ذکر کیا کہ خشکیوں اور سمندروں میں اللہ تعالیٰ ان کو اٹھاتے ہیں اور چلاتے ہیں اور ان کو طیّب رزق دیتے ہیں اور باقی مخلوقات پر اللہ تعالیٰ نے ان کو فضیلت عطا فرمائی ہے ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے امام کے نام سے بلائیں گے یعنی جس کی پیروی انسان کرتا ہے، اسی کی نسبت سے انسان کو بلایا جائے گا ۔اس سورت میں فجر کے وقت قرآن مجید کی تلاوت کا ذکر کیا گیا ہے کہ اس وقت قرآن مجید کی تلاوت کرنا باعث ِ برکت ہے اور اس وقت فرشتے قرآن سننے کو حاضر ہوتے ہیں ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺکو تہجّد کی نماز ادا کرنے کا حکم دیا کہ یہ نماز نبی ﷺ پر امّت کے مقابلے میں لازمی تھی اور اس کا سبب یہ بتلایا کہ اللہ تعالیٰ نبی کریمﷺ کو قیامت کے روز مقامِ محمود عطا فرمائیں گے۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے روح کی حقیقت کو بھی واضح کیا کہ روح، اللہ کے حکم یعنی امر سے ہے ۔
اس سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو چاہے اللہ کہہ کر پکارو چاہے رحمن کہہ کے پکارو، اللہ تعالیٰ کے اچھے اچھے نام ہیں اس کو جس نام سے چاہو، پکارا جا سکتا ہے ۔
سُورة بنی اسرائیل کے بعد سُورة کہف ہے سورة کہف میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید بشارت دیتا ہے نیک عمل کرنے والے مسلمانوں کو کہ ان کے لیے بڑے اجر کو تیار کردیا گیا ہے اور ڈراتا ہے ان لوگوں کوکہ جنہوں نے کہا کہ اللہ نے بیٹا بنایا ہوا ہے ۔اس میں عیسائیوں اور یہودیوں کو ڈرایا گیا ہے جو کہ عیسیٰ علیہ السّلام اور عُزیر علیہ السّلام کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں نہ تو ان کے پاس علم ہے اور نہ ان کے آباواجداد کے پاس علم تھا اور یہ بات گھڑی ہوئی ہے پس یہ جھوٹ بول رہے ہیں ۔
اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے بعض مومن نوجوانوں کا بھی ذکر کیا جو کہ وقت کے بے دین بادشاہ کے شر اور فتنے سے بچنے کے لیے ایک غار میں پناہ گزیں ہو گئے تھے ۔اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کے اظہار کے لیے انہیں تین سو نو برس کے لیے سلا دیا اور اس کے بعد جب وہ بیدار ہوئے تو آپس میں بات چیت کرنے لگے کہ ہم کتنا سوئے ہونگے تو ان کا خیال یہ تھا کہ ایک دن یا اس کا کچھ حصہ سوئے ہوں گے ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بعض ایسے واقعات بیان کر کے در حقیقت توجّہ آخرت کی طرف مبذول کر وائی ہے کہ جو اللہ تین سو نو برس تک لوگوں کو سلا کر بیدار کر سکتا ہے، کیا وہ قبروں سے مردہ وجودوں کو برآمد نہیں کر سکتا ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ ہر کام کا ارادہ کرنے سے پہلے ان شاأللہ ضرور کہنا چاہیے، اس لیے ضروری نہیں کہ انسان جس کام کا ارادہ کرے وہ ضرور ہو جائے ۔ انسان کا ارادہ کئی مرتبہ کچھ اور ہوتا ہے اور اللہ کو کچھ اور منظور ہوتا ہے ۔اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے دو لوگوں کا ذکر کیا، ان میں سے ایک غریب مگر صاحبِ ایمان تھا جبکہ دوسرا امیر اور بے دین تھا ۔غریب صاحبِ ایمان نے امیر آدمی سے کہا کہ جب تم باغات میں داخل ہو تے ہو تو ماشاأللہ لا قوّة الا باللہ کا ورد کیا کرو تو جواب میں امیر آدمی کا جواب بڑامتکبّرانہ تھا ۔اس نے اپنے مال ومتاع کو اپنی محنت کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ جو کچھ ہے، اسی دنیا میں ہے، اگر قیامت آبھی گئی تو مجھے اس سے بھی بہترملنے والا ہے ۔اس پر غریب آدمی نے امیر کو سمجھانے کی کوشش کی کہ دیکھو اگر چہ میں دنیا میں غریب ہوں لیکن آخرت میں اللہ تعالیٰ مجھے بہت کچھ دے کر میری محرومیوں کا ازالہ کر سکتے ہیں تم کو تو اللہ نے نعمتیں دی ہیں تم کیوں اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے ۔اس پر امیر آدمی نے اس کی باتوں کو نظر انداز کر دیا ۔اللہ تعالیٰ نے اس کے سارے باغ کو تباہ و برباد کر دیا اور وہ دیکھتا ہی رہ گیا ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ علیہ السّلام کے واقعہ کا ذکر کیا ۔ہوا کچھ یوں کہ جناب موسیٰ علیہ السّلام ایک مرتبہ بنی اسرائیل کے اجتماع میں موجود تھے کہ آپ سے سوال کیا گیا کہ اس وقت رُوئے زمین پر سب سے بڑا عالم کون ہے تو جناب موسیٰ علیہ السّلام نے جواب دیا کہ اس وقت سب سے بڑا عالم میں ہوں ۔اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السّلام کو بہت بڑ ا مقام عطا کیا تھا لیکن یہ جواب اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق نہ تھا۔اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ علیہ السّلام کو بتلایا کہ دو دریاؤں کے سنگم پر چلے جائیں، وہا ں آپ کی ملاقات ایک ایسے بندے سے ہوگی، جن کو میں نے اپنی طرف سے علم اور رحمت عطا کی ہے ۔جناب موسیٰ علیہ السّلا م دو دریاؤں کے سنگم پر پہنچے تو وہاں آپ کی ملاقات جناب خضر سے ہوئی ۔جناب موسیٰ علیہ السّلام نے جناب خضر سے پوچھا کہ اگر میں آپ کے ہمراہ رہوں تو کیا آپ رشد وہدایت کی وہ باتیں جو آپ کے علم میں ہیں، مجھے بھی سکھلائیں گے، جناب خضر علیہ السّلام نے جواب میں کہا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے ۔ آپ ان باتوں کی بابت کیونکر صبر کریں گے جن کو آپ جانتے ہی نہیں ۔موسیٰ علیہ السّلام نے جناب خضر علیہ السّلام کو صبر کی یقین دہانی کرائی تو دونوں اکٹھے چل پڑے۔ کچھ چلنے کے بعد آپ ایک کشتی میں سوار ہو گئے ۔جب اترنے لگے تو خضر علیہ السّلام نے کشتی میں سوراخ کر دیا جناب موسیٰ علیہ السّلام کو یہ بات پسند نہ آئی کہ جس کشتی میں سفر کیا، اس میں سوراخ کر دیا۔ آپ نے کہا کہ آپ نے یہ کیا کر دیا جناب خضر علیہ السّلام نے کہا کہ کیا میں نے آپ کو نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ جناب موسیٰ علیہ السّلام نے کہا کہ آپ میرے بھول جانے پر مواخذہ نہ کریں اور نہ ہی میرے سوالات پر تنگی محسوس کریں۔ جناب خضر علیہ السّلام اور موسیٰ علیہ السّلام پھر چل دیے، کچھ آگے جا کر ایک خوب صورت بچّہ نظر آیا، جناب خضر نے بچّے کو قتل کر ڈالا جناب موسیٰ علیہ السّلام سے نہ رہا گیا، آپ نے پھر جناب خضرکے عمل پر اعتراض کیا۔ اس کے بعد کیا ہوا یہ جاننے کے لیے اسی مضمون پرسولہویں پارے میں کچھ بحث کریں گے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن پاک پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔(آمین)
تراویح...ترجمہ و خلاصہ…حافظ ابتسام الٰہی ظہیر