پچیسویں پارے کا آغاز سورة حم سجدہ سے ہوتا ہے ۔اس پارے کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کی وسعت کا ذکر کیا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے علم کی کیفیت یہ ہے کہ قیامت کی گھڑیوں کا علم صرف اس کے پاس ہے اور ہر اگنے والے پھل کا علم اس کے پاس ہے اور ہر عورت کے حمل اور اس کے بچے کی پیدائش کا علم اللہ کے پاس ہے ۔اللہ تعالیٰ چونکہ خود بنانے والے ہیں اس لیئے اس سے کوئی چیز ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا ہے کہ وہ انسان کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کی اپنی ذاتوں میں بھی یہاں تک کہ انسانوں کو یقین ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہے۔
سورة حم سجدہ کے بعد سورة شوریٰ ہے۔ سورة شوریٰ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ پر اس لیے وحی کو نازل فرمایا ہے کہ وہ اہل مکہ اور اس کے گرد و نواح اور پوری کائنات کے لوگوں کو قیامت کے دن سے ڈرائیں جس کی آمد میں کوئی شک اور شبہ نہیں ہے۔
اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کی طرح نہیں ہے اور وہ سننے اور دیکھنے والا ہے اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کو اسی دین کی وصیت کی گئی ہے جس کی وصیت جناب نوح ،جناب ابراھیم ،جناب موسیٰ ،جناب عیسی ٰ علیہ السلام کو کی گئی تھی کہ دین کو قائم کیا جائے ۔یعنی زندگی کے ہر شعبے کو دین کے تابع کر لیا جائے۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو تلقین کی کہ آپ اعلان فرمادیں کے میں دین کی دعوت کے سلسلے میں کسی اجر کا طلب گار نہیں ہوں لیکن میں اتنا ضرور چاہوں گا کہ رشتہٴ قرابت کا خیال کیا جائے ۔انبیاء علیہم السلام دعوت دین کا کام صرف اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں اور اس کے بدلے وہ دنیا کی زندگانی کے طلب گار نہیں ہوتے ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ انسان کو زندگی میں جتنی بھی مصیبتیں آتی ہیں ان کا بنیادی سبب انسان کے اپنے گناہ ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بہت سے گناہوں کو نظر انداز بھی فرمادیتے ہیں ۔قرآن کے ایک اور مقام پر ارشاد ہوا کہ اگر اللہ تعالیٰ انسانوں کی ہر غلطی پر گرفت فرمائیں تو زمین پر کو ئی مخلوق زندہ باقی نہ رہے۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ مسلمانوں کے تمام کام مشاور ت سے طے ہوتے ہیں یعنی حقیقی مسلمان ہر کام میں اپنی رائے کے پیچھے چلنے کی بجائے مشاورت کے راستے کو اختیار کرتا ہے۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ وہ جس کو چاہتے ہیں بیٹے دیتے ہیں جس کو چاہتے ہیں بیٹیاں دیتے ہیں۔جس کو چاہتے ہیں بیٹے اور بیٹیاں ملا کر دیتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں بے اولاد رکھتے ہیں۔اولاد کی تقسیم صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا بھی ذکر کیا کہ مالک کائنات جب بھی اپنے کسی بندے یعنی کسی نبی سے کلام کرتے ہیں تو پردے کی اوٹ سے کلام کرتے ہیں یا اس پر وحی نازل فرماتے ہیں یا اپنے کسی فرشتے کو پیغام دیکر اپنے نبی کے پاس بھیجتے ہیں ۔خود پردے کے پیچھے اس لیے رہتے ہیں کہ یہ ان کی بلندی اور حکمت کا تقاضا ہے ۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے قلب اطہر پر اپنا قرآن اتارا جس نے ایمان اور کتاب کی حقیقت کو رسول اللہ ﷺ پر واضح کر دیا اور اس کے ذریعے رسول اللہ صراط مستقیم کی طرف رہنمائی فرماتے رہے ۔
سورة شوریٰ کے بعد سورة الزخرف ہے سورة الزخرف میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اس قرآن کو عربی میں اتارنے کی وجہ یہ تھی کہ اہل عرب اس زبان کو جانتے تھے اور اس کو پڑھ کر وہ شعور حاصل کر سکتے ہیں اور یہ بھی بتلایا گیا کہ اپنے نزول سے قبل قرآن مجید لوح محفوظ میں موجود تھا۔
اس سورت میں ذکر ہوا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی کو بقدر ضرورت اتارتے ہیں اور اس سے مردہ زمینوں کو زندہ فرماتے ہیں ۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں اس نے جانوروں اور کشتیوں کو بنایا جن پر انسان سواری کرتا ہے جب ان کی پشت پر بیٹھتا ہے تو کہتا ہے پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لیے ان کو مسخر کیا اور ہم ان کو قابو میں لانے کی صلاحیت نہ رکھتے تھے اور بے شک ہم نے اس کی طرف پلٹ کر جانا ہے ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی شدید مذمت کی ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو اس کا حصہ دار بناتے ہیں اور فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اللہ کے لیے تو بیٹیاں بناتے ہو اور خود اگر تمہیں بیٹی کی پیدائش کی خوشخبری دی جائے تو تمہارے چہرے صدمے سے سیاہ ہو جاتے ہیں ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب بھی ہم نے کسی بستی میں اپنے کسی نبی کو بھیجا تو اس بستی کے امراء نے کہا کہ ہم نے اپنے آباء کو ایک خاص طریقے پر پایا ہے اور ہم اس کی پیروی کرنے والے ہیں ۔اس کے جواب میں انبیاء نے کہا کیا ہم تم کو اس بات سے آگاہ نہ کریں جو تمہارے آباء کے طریقے سے بہترہے۔تو جواب میں بستی کے سردار کہنے لگے جو کچھ تم لے کر آئے ہو ہم اس کا انکار کرنے والے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں یہ بھی بتلایا کہ کافروں کو اس بات پر اعتراض تھا کہ قرآن مکہ یا طائف کے کسی چوہدری پر کیوں نہیں اترا۔ اللہ نے کہا کیا میری رحمتوں کو تقسیم کرنا ان کے اختیار میں ہے؟ میں جب چاہتا ہوں اور جہاں چاہتا ہوں اپنی رحمت کو اتار دیتا ہوں ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اعراض کرتے ہیں اللہ تعالیٰ شیطان کو ان کا ساتھی بنادیتے ہیں اور وہ راہ ہدایت سے بھٹک جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ سیدھے راستے پر ہیں ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ انہوں نے جناب موسیٰ کو فرعون کے پاس واضح نشانیوں کے ساتھ بھیجا لیکن فرعون اور اس کے مصاحبین ایمان لانے کی بجائے جناب موسیٰ کا مذاق اڑاتے رہے اللہ تعالیٰ ان کو پے درپے نشانیاں دکھلاتے رہے اور ان پر عذاب کو بھی مسلط کیا تاکہ وہ پلٹ آئیں اور جب بھی کبھی ان پر عذاب آتا تو ایمان لانے کا وعدہ کرتے اور جب عذاب ٹل جاتا دوبارہ بغاوت پر آمادہ و تیار ہو جاتے ۔فرعون نے جناب موسیٰ علیہ السلام کی تردید کرنے کے لیے ایک مرتبہ اپنی قوم سے مخاطب ہو کر کہا کہ اے میری قوم کے لوگو!کیا میرے پاس مصر کی حکومت نہیں ہے اور یہ نہریں میرے قدموں اور محلات کے نیچے سے بہتی ہیں کیا میں بہتر ہوں یا موسیٰ علیہ السلام جن کی زبان میں لکنت ہے۔ اگر یہ اپنے دعوے میں سچے ہیں تو ان کے پاس سونے کے ڈھیر کیوں نہیں اور ان کے ہمراہ فرشتوں کی جماعتیں کیوں نہیں۔ یہ سب کچھ سننے کے بعد فرعون کی قوم کے لوگ پھسل گئے اور انہوں نے فرعون کی اطاعت کو اختیار کر لیا۔ درحقیقت ایسے تمام لوگ گناہ گار تھے ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے جناب عیسیٰ علیہ السلام کا بھی ذکر کیا اور جناب عیسیٰ علیہ السلام کو قیامت کی علامات میں سے ایک قرار دیا۔ قرب قیامت میں جناب عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہو گا اور وہ دوبارہ اسلامی شریعت کو دنیا میں نافذ کریں گے۔
سورة الزخرف کے بعد سورة دخان ہے ۔سورة دخان میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ انہوں نے قرآن مجید کو بابرکت رات میں نازل کیا ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کے عقیدے کا ذکر کیا کہ وہ یہ کہتے تھے یہاں دنیا میں آنے والی موت کے بعد کوئی موت نہیں ہو سکتی اور نہ ہم کو اُٹھایا جائے گا اور انہوں نے کہا کہ ہمارے آباء کو ہمارے سامنے لایا جائے تاکہ ہمیں یقین ہو سکے کہ اس زندگی کے بعد بھی کوئی زندگی موجود ہے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے کہ ہم نے زمین اور آسمان اور ان کے مابین جو کچھ بھی ہے کھیل کے لیے نہیں بنایا بلکہ ان کو حق کے ساتھ بنایا ہے لیکن اکثر لوگ یہ بات نہیں جانتے اور یقیناً اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب کو جمع فرمائے گا ۔
اس کے بعد سورة جاثیہ ہے اور سورة جاثیہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سی نشانیوں کا ذکر کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ زمین و آسمان میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے اور انسانوں اور جانوروں کی تخلیق میں نشانیاں ہیں یقین رکھنے والوں کے لیے اور صبح و شام کی گردش میں اور آسمان سے اترنے والے پانی میں جس سے مردہ زمینیں زندہ ہوتی ہیں اورہواؤں کے چلنے میں نشانیاں ہیں عقل والوں کے لیے ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سمندروں کو مسخر کیا تاکہ اس کے حکم سے ان سمندروں میں کشتیوں کو چلایا جائے اور اس کا فضل تلاش کیا جائے تاکہ اس کا شکر ادا کیا جائے ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب و حکمت اور نبوت دی اور پاکیزہ رزق بھی دیا اور ان کو جہانوں پر فضیلت دی ۔پھراس کے بعد اللہ تعالیٰ نے شریعت کو بنی اسرائیل سے لیکر رسول اللہ ﷺ کے سپرد کر دیا اور رسول اللہ ﷺ کو بھی تلقین کی کہ آپ نے یہود و نصاریٰ کی خواہشات کو کوئی اہمیت نہیں دینی اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پابندی کرنی ہے۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا بھی ذکر کیا جو اللہ کو بھول چکے ہیں اور خواہشات کی پیروی کرنے والے ہیں ان کے دلوں اور کانوں پر مہریں اور آنکھوں پر پردہ ہے تو پس کون ہے جو اللہ کے ماسواایسے لوگوں کو ہدایت دے ۔اللہ نے اس سورت میں دہریت کو بھی رد کیا اور کہا کہ اگر دہر یے مردوں کو اپنی آنکھوں سے زندہ ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں تو وہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ہی انسانوں کو زندگی کے بعد موت دیتے ہیں اور پھر قیامت کے دن دوبارہ انکو جمع کریں گے اور لوگوں کی اکثریت اس بات کو نہیں جانتی ۔اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے ۔(آمین)
تراویح...ترجمہ و خلاصہ …حافظ ابتسام الٰہی ظہیر...پچیسواں پارہ