واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > عبادات > ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں



ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں


چوبیسویں‌پارے کے مضامین کا خلاصہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 26-08-11, 04:35 AM   #1
چوبیسویں‌پارے کے مضامین کا خلاصہ
عبداللہ حیدر عبداللہ حیدر آف لائن ہے 26-08-11, 04:35 AM

چوبیسویں پارے کاآغازسورة الزمر سے ہوتا ہے ۔اس پارے کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ سب سے بڑا ظالم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے اور سچائی کو جھٹلاتا ہے۔ ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہے ۔اور اس کے بر عکس جو سچائی کی دعوت لے کر آتا ہے اور جو سچائی کی تائید کرتا ہے ایسے لوگ متقی ہیں، ایسے لوگوں کے لیئے اللہ تعالیٰ نے جنتوں کو تیار کر دیا ہے جن میں ان کے لیئے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہتے ہیں ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو مخاطب کر کے کہا ہے کہ ” اے میرے بندو جو اپنی جانوں پر ظلم کرچکے ہو اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہونا، بے شک اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے “۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی ویسے قدر نہیں کی جیسے قدر کرنے کا حق ہے، جب قیامت کا دن آئے گا تو زمین اللہ تعالیٰ کے نور سے روشن ہو جائے گی اور اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لیں گے۔
سورة الزمر کے بعد سورة مومن ہے ۔سورة مومن کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بعض صفات کا ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف کرنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے اور اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والے لوگ کافروں کے علاوہ کوئی نہیں ہوتے اور زمین پر ان کے ٹھاٹھ باٹھ اور شاہانہ انداز زندگی کو دیکھ کر انسان کو گمراہ نہیں ہونا چاہیئے ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ عرش عظیم کو اٹھا نے والے فرشتے اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کی حمد اور تسبیح بیان کرتے ہیں اور زمین پر موجود اہل ایمان کے لیئے دعا ئے مغفرت بھی کرتے ہیں ۔
اس سورت میں قیامت کی ہولناکیوں کا بھی ذکر ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ شدید غضبناک ہوں گے اور باربار یہ آواز بلند فرمائیں گے کہ ” آج کے دن کس کی بادشاہی ہے ؟“ اور پھر خود ہی جواب دیں گے کہ اللہ واحد و قہار کی بادشاہی ہے ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے اس عزم کا بھی ذکر کیا کہ اس نے جناب موسیٰ علیہ السلام کو شہید کرنے کا ارادہ کیا تھا تو جناب موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو جواب دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ میں اپنے اور تیرے پرور دگار کی پناہ طلب کرتا ہوں ہر اس متکبرکے شر سے جو یوم حساب پر یقین نہیں رکھتا ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے قبیلے کے ایک مومن شخص کا بھی ذکر کیا ہے جو دربار فرعون میں ایک اعلیٰ منصب پر فائز تھا اور اپنے ایمان کا اظہار نہیں کرتا تھا لیکن جب فرعون نے جناب موسیٰ علیہ السلام کو شہید کرنے کا ارادہ کیا تو اس صاحب ایمان شخص کے لیئے یہ بات نا قابل برداشت ہو گئی اور اس نے اس موقع پر کہا کہ کیا تم اس شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جس کا جرم اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اللہ کو اپنا رب کہتا ہے۔ اس مومن نے کہا کہ فرعون کے قبیلے والو تم ان اقوام کے حالات پر غور نہیں کرتے جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا۔ قوم نوح ،قوم عاد ،قوم ثمود اور قوم لوط کے حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں ۔ اس نے کہا میری قوم کے لوگو ! تمہارا حال عجیب ہے کہ میں تمہیں نجات کے راستے کی طرف بلا رہا ہوں اور تم مجھے آگ کی طرف بلا رہے ہو۔ اس کے بعد اس نے کہا کہ ایک وقت آئے گا جب تم میری کہی ہوئی نصیحت کی باتوں کو یاد کرو گے اور جہاں تک میرا معاملہ ہے میں نے اس کو اللہ کے سپرد کردیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے احوال کو پوری طرح جاننے والا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اس مومن کو فرعون کے ظلم و ستم سے نجات دے دی اور فرعون اور اس کے قبیلے والوں کو برے عذاب میں مبتلا کر دیا ۔اب عالم یہ ہے کہ صبح اور شام آگ کو آل فرعون پر پیش کیا جاتا ہے اور جس دن قیامت قائم ہوگی فرعون اور اس کے قبیلے کو شدید عذاب میں داخل کر دیا جائے گا ۔
اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ بے شک ہم مدد کریں گے اپنے رسولوں اور اہل ایمان کی دنیا میں بھی اور جب قیامت قائم ہوگی ۔ جب قیامت کا دن آئے گا اس دن کوئی عذر ظالموں کے کام نہیں آئے گا اور ان کو اللہ کی لعنت اور برے ٹھکانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا کہ تم مجھے پکارو میں تمہاری دعاؤں کو سنوں گا، بے شک وہ لوگ جو اللہ کی عبادت سے تکبر کرتے ہیں ان کو جہنم میں داخل کردیا جائے گا ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ جہنم میں جانے والے مجرموں کے احوال کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ ان کو زنجیروں میں جکڑ کر آگ میں پھینک دیا جائے گا ۔ایک تو آگ کا عذا ب ہو گا اور اس پر اضافہ یہ کہ اس میں گرفتار حالت میں رہنا پڑے گا، اس وجہ سے ان کی تلخیوں میں کئی گنا اضافہ ہوجائے گا ۔
اس سورت میں اللہ تعا لیٰ نے چوپایوں اور کشتیوں کا ذکر بھی کیا کہ چوپایوں اور کشتیوں کو اللہ تعالیٰ نے ہماری سواری کے لیئے بنایا ہے، اگر اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی سواریاں انسان کے پاس نہ ہوتیں تو انسان کے لیئے فاصلوں کو طے کرنا بہت مشکل ہو جاتا ۔اس سورت کے آخر میں جاکر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے جب اللہ کا عذاب آجاتا ہے تو اس وقت یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لے آئے اور ہم ماضی میں کیئے گئے شرک کا انکار کرتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں میرے عذاب یا سختی کو دیکھ کر ایمان قبول کیا جائے یا اس کا اظہار کیا جائے تو ایمان کاکوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ یہ پروردگار عالم کا طریقہ ہے جو اس کے بندوں میں جاری ہے اور کافروں کا مقدر گھاٹا ہے ۔
سورة مومن کے بعد سورة حم السجدہ ہے ۔سورة حم السجدہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کے نزول کا مقصد یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺلوگوں کو ڈرائیں اور ان کو بشارت دیں مگر لوگوں کی اکثریت قرآن مجید کی دعوت سے اعراض کر لیتی ہے اور کہتی ہے ہمارے کان اور دل آپ کی دعوت کو سننے اور ماننے سے قاصرہیں۔یہ کافروں کی بدنصیبی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی کھلی آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے زکوٰة نہ دینے والوں کو تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ ایسے لوگ مشرک اور آخرت کا انکار کرنے والے ہیں۔ ان کے مدمقابل جو لوگ ایمان لانے اور عمل صالح کرنے والے ہیں ان کے لیئے اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا اجر تیار کر دیا ہے۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان کی تخلیق کا بھی ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کو دو دن میں بنایا تھا اور ہر آسمان پر اپنے حکم کو وحی کے ذریعے نازل فرمایا تھا جبکہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو دو دن میں بنایا اور پھر اس کے بعد دو دن کے اندر اس میں پہاڑ وں اور دیگر لوازمات کو پیدا کیا تھا ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے قوم عاد و ثمود پر آنے والے عذابوں کا بھی ذکر کیا ہے کہ قوم عاد کے لوگ اپنی قوت پر ناز اں تھے اور اس بات کو بھول چکے تھے کہ اللہ تعالیٰ جو ان کو بنانے والا ہے ان سے کہیں زیادہ طاقت ور ہے ۔اسی طرح ثمودیوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نشانیاں دکھلائیں لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں دیکھ کر بھی بغاوت پر آمادہ و تیار رہے ۔
جب قیامت کا دن آئے گا تو اللہ سے دشمنی رکھنے والوں کے کان، آنکھ اور کھال بھی ان کے خلاف گواہی دیں گی ۔ وہ لوگ اپنی کھال سے مخاطب ہو کر کہیں گے کہ ہمارے خلاف کیوں گواہی دیتی ہو۔ تو ان کی کھال کا یہ جواب ہوگا کہ اس اللہ نے ہمیں قوت گویائی عطا فرمائی ہے جو ہر چیز کو قوت گویائی دیتا ہے۔ ان کی کھال مزید کہے گی کہ تم یہ گمان کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے واقف نہیں ہے، تمہاری اس بد گمانی نے آج تمہیں گھاٹے میں ڈال دیا ہے ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور انہوں نے اس پر استقامت کو اختیار کیا تو اللہ تعالیٰ ان پر موت کے وقت فرشتوں کا نزول فرمائے گا اورفرشتے ان سے کہیں گے کہ نہ ڈرو اور نہ غم کھاؤ ۔ تم کو جنت کی بشارت دی جاتی ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ۔ہم تمہارے ساتھ تھے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور اس جنت میں تمہارے لیئے وہ سب کچھ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کے سامنے سجدہ کرنے سے منع کیا ہے اور کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ کیا کرو، اگر تم اس کی پوجا کرنے والے ہو ۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ باطل نہ اس کتاب یعنی قرآن کو آگے سے چھوسکتا ہے نہ پیچھے سے اور اس کو حکمت والے لائق تعریف نے نازل کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے ۔(آمین)
تراویح......ترجمہ و خلاصہ …حافظ ابتسام الٰہی ظہیر.....چوبیسواں پارہ

 
عبداللہ حیدر's Avatar
عبداللہ حیدر
ذیلی ناظم

تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 163
Reply With Quote
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (26-08-11)
پرانا 26-08-11, 02:24 PM   #2
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,194
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ آپکو اجر عطا فرمائے
آمین !
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
search, گمان, قرآن, موت, موسیٰ علیہ السلام, مجید, آج, ایمان, اللہ, انسان, اعلیٰ, جھوٹ, جواب, جرم, حکم, خلاف, دل, دعا, زندگی, شام, شخص, ظالم, عالم, عبادت, غم


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
داتادربار:دھماکہ‌کی‌جگہ‌ ٹائیل‌پر‌'یا‌اللہ'لکھا‌ گیا ziamurtaza خبریں 41 13-07-10 10:33 PM
اپنے گناہوں‌پر رونے والے میاں شاہد پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 2 25-07-08 09:37 AM
گنگا کے گھاٹ‌پر میاں شاہد جوش 0 05-07-08 12:33 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:59 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger