چودھویں پارے کا آغاز سورة الحجر سے ہوتا ہے ۔ چودھویں پارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بے شک ہم نے ذِکر یعنی قرآن مجید نازل فرمایا اور ہم ہی اسکی حفاظت کرنے والے ہیں ۔اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے ستاروں کی تخلیق کے مقاصد بھی بیان فرمائے ۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم نے آسمانِ دنیا کو ستاروں سے مزیّن کیا اور ان کو شیطان کے شر سے محفوظ کیا مگر جو آسمان کی بات کو چرا کر زمین پر لانا چاہے تو اس کو اللہ تعالیٰ شہابِ ثاقب سے نشانہ بناتے ہیں۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو کھنکتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا اور ان سے بہت عرصہ قبل جنّات کو جھلستی ہوئی آگ کے شعلے سے پیدا فرمایا ۔انسانوں کی تخلیق کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو انسانوں کے سامنے جھکنے کا حکم دیا مگر ابلیس نے جھکنے سے انکار کر دیا اور ابدالآباد تک کے لیے راندہٴ درگاہ بن گیا ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ جہنّم کے سات دروازے ہیں اور ان میں نافرمانوں کو داخل کیا جائے گا۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا بھی ذکر کیا کہ جو رسول اللہ ﷺ کا استہزاء کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے انتقام کے لیے تنہا کا فی ہے ۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ ہمیں سات، بار بار پڑھی جانے والی آیات ( اور قرآن عظیم ) یعنی سورة فا تحہ عطا کی گئی ہے ۔
سورة الحجر کے بعد سورة النّحل ہے۔ سورة النّحل میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے جس بندے پر چاہتے ہیں روح الامین کو فرشتوں کے ہمراہ نازل فرماتے ہیں تا کہ وہ لوگوں کو ڈرائے کہ اللہ کے سوا کو ئی معبود نہیں ۔سورة النّحل میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے انواع و اقسام کی سواریوں کو پیدا فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں ،خچروں اور گدھوں کو پیدا کیا اور وہ وہ کچھ پیدا فرمایا جس کو انسان نہیں جانتا ۔اللہ تعالیٰ نے اپنی تخلیق کی وسعت کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے ایک ہی طرح کے پانی کو نازل فرماتے ہیں جس سے زیتون ،کھجور ،انگور اور طرح طرح کے پھل پیدا ہوتے ہیں۔ ایک ہی طرح کا پانی زمین سے انواع و اقسام کی زراعت کو پیدا کرنے کا سبب ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ یہ بھی بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے سمندروں کو مسخّر کیا ہے، جس سے ہمیں کھانے کے لیے گوشت حاصل ہوتا ہے ۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے حکم سے سمندروں میں انسان کشتیاں بھی چلاتا ہے اور اللہ کے فضل کو تلاش کرتا ہے ۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے زمین میں کہیں پہاڑ ،کہیں نہریں اور کہیں راستے تیار کیے تا کہ ہم ان پر چل سکیں۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ آسمان اور زمین میں جتنے بھی چوپائے اور فرشتے موجود ہیں وہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں اور انہوں نے کبھی تکبّر نہیں کیا ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے دو خداؤں کے تصوّر کی بھی نفی کی اور کہاانسانوں کو دہ الٰہ نہیں پکڑنے چاہییں۔ بے شک وہ اکیلا اللہ ہے ۔ثنویت (دُوئی)کا عقیدہ آتش پرستوں میں موجود تھا اور وہ دو خداؤں کی بات کیا کرتے تھے ۔اللہ تعالیٰ نے ان کے عقیدے کو ردّ کیا اور ایک مقام پر ارشاد فرمایا کہ اگر زمین و آسمان میں دو الٰہ ہوتے تو ہر طرف فساد ہوتا ۔یعنی دو معبودوں کے احکامات ٹکراتے اور کہیں اعتدال نہ ہوتا ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی توجّہ مویشیوں کی طرف بھی مبذول کروایا اور کہا کہ چوپایوں میں انسانوں کے لیے عبرت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے پیٹ سے خالص دودھ پلاتے ہیں جو کہ خون اور گوبر کے بیچ سے نکلتا ہے لیکن اس میں نہ خون کی رنگت ہوتی ہے اور نہ گوبر کی گندگی ۔اور فلٹریشن کا یہ غیر معمولی پلانٹ خالق ِکائنات کی کاری گری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ کھجوراور انگور جیسے پھلوں سے انسان اپنی خوراک کی ضرورت کو پورا کرتا ہے اور اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کے لیے ۔اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھی کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھی پر وحی نازل کی کہ وہ اپنے گھروں کو پہاڑوں ،درختوں اور بلند مقام پر بنائے اور اس کو حکم کیا کہ ہر طرح کے پھلوں کا رس چوسے اور ارشاد فرمایا کہ اس کے جسم سے ایسا شربت یعنی شہد نکلتا ہے جس کے مختلف رنگ ہوتے ہیں اور اس میں انسانوں کے لیے شفا بھی ہے ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ یہ بھی بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو بنایا ہے اور وہی ان کو مارتا ہے اور بعض لوگ ناکارہ عمر کو پہنچ جاتے ہیں مگر پھر بھی ان کو موت نہیں آتی ۔اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ اللہ نے انسانوں کو انہی میں سے ان کی بیویاں عطا فرمائیں اور ان کے ذریعے انسانوں کی نسل کو جاری و ساری رکھا ۔اسی طرح اللہ نے یہ بھی بتلایا کہ اللہ نے انسانوں کو ان کی ماؤں کے پیٹوں سے نکالا اور وہ کچھ بھی نہیں جانتے تھے اور ان کو کان ،آنکھیں اور دل دیا جس کے ذریعے وہ بہت کچھ جاننے کے قابل ہو گئے اور مقصد یہ تھا کہ انسان اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان کیا کہ پرندے کو فضائے بسیط میں اللہ تعالیٰ ہی سہارا دیتے ہیں ۔اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے گھروں کو ہمار ے لیے جائے سکونت بنایا ہے جو سکون انسان کو اپنے گھر میں حاصل ہوتا ہے وہ کسی دوسرے مقام پر حاصل نہیں ہوتا ۔
ا س پارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ پر قرآن مجید کو اس لیے نازل فرمایا تا کہ وہ لوگوں سے بیان کریں جو ان پر نازل کیا گیا ہے، گویا کہ رسول اللہ ﷺ کے فرامین اور آپ ﷺکی سنّتیں قرآن مجید کے بیان کی حیثیت رکھتی ہیں ۔کسی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حضور ﷺ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا تو سیّدہ عائشہ نے جواب میں فرمایا آپﷺ کا اخلاق قرآن تھا ۔اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ عدل ، احسان اور قرابت داروں سے حسنِ سلوک کا حکم دیتا ہے اور فحاشی اور برے کاموں سے روکتا ہے ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نیک عمل کرنے والے مومن مردوں اور عورتوں کو پاکیزہ زندگی نصیب فرمائیں گے اور ان کو ان کے اعمال کی بہترین جزا ملے گی ۔اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی تلاوت کے آداب بھی بتلائے کہ جب بھی قرآن مجید کی تلاوت کی جائے شیطان مردود سے اللہ کی پناہ حاصل کرنی چاہیے۔ اللہ نے کہا کہ جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور جن کا پروردگار پر بھروسا ہے، شیطان کا ان پر زور نہیں چل سکتا ۔شیطان کا زور ان پر چلتا ہے جو اس کی دوستی اختیار کرتے ہیں ۔اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ قرآن مجید کو روح القدس نے رسول اللہ ﷺکے قلب پر نازل کیا تاکہ مومنوں کو ثابت قدم رکھا جائے اوراس میں مسلمانوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے سبا کی بستی کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے سباکی بستی کو امن کے ساتھ رزق کی نعمت سے بھی نوازا تھا ۔انہوں نے اس نعمت کا شکر ادا کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی ناشکری کی تو اللہ تعالیٰ نے ان سے امن چھین کر خوف اور رزق چھین کر بھوک کو مسلط کر دیا تھا ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے جناب ابراھیم علیہ السّلام کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ بے شک ابراھیم علیہ السّلام اکیلے ہی امّت تھے۔ وہ اللہ کے تابع داراور یک سُو مسلمان تھے۔ انہوں نے کبھی شرک نہیں کیا ۔ وہ اللہ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے والے تھے ۔اللہ تعالیٰ نے ان کو قبول کر لیا تھا اور ان کو سیدھے راستے پر چلا دیا تھا ۔اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے دعوت و تبلیغ کا طریقہ بھی بتلایا کہ دعوتِ دین کا کام بڑی حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ ہو نا چاہیے۔ بے شک اللہ کو پتا ہے کہ کون اسکے راستے سے بھٹکا ہوا اور کون ہدایت پر ہے ۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اعدائے دین کی تکلیفوں پر صبر کرنے کو اچھا عمل قرار دیا ہے اور یہ بھی بتلایا ہے کہ صبر اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین رکھ کر ہی ہو سکتا ہے ۔
اس پارے کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ تقویٰ اختیار کرنے والوں اور نیکوکاروں کے ساتھ ہیں۔اللہ تعالیٰ کی تائید حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کا ڈر اور نیکی کے راستے پر استقامت درکار ہے، جس انسان کو یہ دو چیزیں حاصل ہو جائیں گی یقیناً اس کو اللہ کی تائید بھی حاصل ہو جائے گی ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن مجید پڑھنے ،سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)
تراویح...ترجمہ و خلاصہ … حافظ ابتسام الٰہی ظہیر