کثرتِ صدقات و خیرات
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ وہ ہر وقت صدقہ و خیرات کثرت کے ساتھ کیا کرتے تھے، کوئی سوالی ان کے در سے خالی نہیں لوٹتا تھا۔ لیکن رمضان المبارک میں صدقہ و خیرات کی مقدار باقی مہینوں کی نسبت اور زیادہ بڑھ جاتی۔ اس ماہ صدقہ و خیرات میں اتنی کثرت ہو جاتی کہ ہوا کے تیز جھونکے بھی اس کا مقابلہ نہ کر سکتے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب جبرئیل امین (علیہ السلام) آجاتے تو آپ کی سخاوت کی برکات کا مقابلہ تیز ہوا نہ کر پاتی۔ (صحیح البخاری، 1 : 255، کتاب الصوم، رقم حدیث : 1803)۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام محبت لیکر آتے تھے اور رمضان المبارک میں چونکہ عام دنوں کی نسبت کثرت سے آتے تھے اس لئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے آنے کی خوشی میں صدقہ و خیرات بھی کثرت سے کرتے۔ اس حدیث پاک سے کئی فوائد اخذ ہوتے ہیں مثلاً
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جود و سخا کا بیان،
رمضان المبارک میں کثرت سے صدقہ و خیرات کے پسندیدہ عمل ہونے کا بیان،
نیک بندوں کی ملاقات پر جود و سخا اور خیرات ہونے کا بیان،
نیک بندوں سے ملنے کے بعد ان کی ملاقات کی خوشی میں صدقہ و خیرات،
قران مجید کے شرح درس و تدریس کے لئے مدارس کے قیام کا جواز۔ (شرح نووی، 15 : 69)۔