واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > عبادات > ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں



ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں


کیا باجماعت نماز تراویح بدعت ہے؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 23-08-10, 02:19 AM   #1
کیا باجماعت نماز تراویح بدعت ہے؟
عبداللہ حیدر عبداللہ حیدر آف لائن ہے 23-08-10, 02:19 AM

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
بدعات کا جواز ثابت کرنے کے لیے کچھ لوگوں‌نے مشہور کر رکھا ہے کہ نماز تراویح کی جماعت سب سے پہلے عمر رضی اللہ عنہ نے شروع کرائی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے زمانے میں اس کا رواج نہ تھا۔ لیکن صحیح اور ثابت شدہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے خود جماعت کے ساتھ نماز تراویح ادا فرمائی ہے۔
اپنے فرمان مبارک سےباجماعت تراویح کی فضیلت بیان کی۔
اور جو صحابہ نماز تراویح باجماعت ادا کرتے تھے ان کی تعریف کی اور اس سے منع نہیں فرمایا۔

یعنی سنت کی تعریف کے مطابق قولی، فعلی اور تقریری ہر لحاظ سے اس کا سنت ہونا شک و شبہ سے بالا تر ہے۔

اب اللہ کی توفیق سے اس بات کے دلائل اور تفصیل عرض کرتا ہوں۔

نماز تراویح کے فعلی سنت ہونے کی دلیل

اہل سنت و الجماعت کی معتبر ترین کتابوں میں سے ایک یعنی صحیح مسلم کی یہ حدیث ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ ثُمَّ صَلَّى مِنْ الْقَابِلَةِ فَكَثُرَ النَّاسُ ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنْ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ فَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنْ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلَّا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ قَالَ وَذَلِكَ فِي رَمَضَان
(صحیح مسلم کتاب صلاۃ المسافرین و قصرھا باب الترغیب فی قیام رمضان و ھو التراویح)
"ایمان والوں کی ماں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ایک رات مسجد میں نماز(تراویح) پڑھی تو کچھ لوگ نے ان صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اقتداء میں نماز پڑھنی شروع کر دی۔ پھر دوسری شب نماز پڑھی تو اور زیادہ لوگ جمع ہو گئے، پھر تیسری یا چوتھی رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم تشریف نہیں لائے۔ پھر جب صبح ہوئی تو فرمایا “میں نے دیکھا جو تم کر رہے تھے، مجھے تمہارے پاس آنے سے صرف یہ خوف مانع تھا کہ کہیں تم پر (نماز تراویح) فرض نہ ہو جائے۔ اور یہ رمضان کا واقعہ تھا۔
صحیح مسلم کی احادیث کے صحیح ہونے پر تمام اہل سنت و الجماعت کا اتفاق ہے اس لیے مزید کوئی حوالہ پیش کرنے کی ضرورت تو نہیں ہے لیکن قارئین کی تسلی کے لیے دوسرے محدثین کی فہرست بھی پیش کی جارہی ہے جنہوں نے اس حدیث کو روایت کیا۔
صحیح البخاری کتاب صلاۃ التراویح باب فضل من قام رمضان
سنن ابی داؤد باب الصلاۃ کتاب فی قیام شھر رمضان۔
صحیح ابن خزیمہ جلد سوم ص 338۔ حدیث نمبر 2206
موطا امام مالک کتاب الندا للصلاۃ باب الترغیب فی الصلاۃ فی رمضان
مصنف عبدالرزاق باب الصلاۃ کتاب الضجعۃ بعد الوتر و باب النافلۃ
مسند احمد میں “باقی مسند الانصار” باقی المسند السابق
صحیح ابن حبان باب کتاب الایمان باب التکلیف
المعجم الاوسط للطبرانی حدیث نمبر 5439
السنن الکبری للبیہقی جلد 2 صفحہ 493
سنن النسائی الصغرٰی کتاب قیام اللیل و تطوع النھار باب قیام شھر رمضان
مستخرج ابی عوانہ کتاب مبتدا کتاب الصیام باب الترغیب فی قیام اللیل و الصلاۃ فی شھر رمضان و ثوابہ

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے باجماعت تراویح کے بارے میں مندرجہ ذیل حدیث صحیح سند کے ساتھ بیان کی ہے:
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ زِيَادٍ أَبُو طَلْحَةَ الْأَنْمَارِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ عَلَى مِنْبَرِ حِمْصَ قُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ ثُمَّ قُمْنَا مَعَهُ لَيْلَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ ثُمَّ قَامَ بِنَا لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ لَا نُدْرِكَ الْفَلَاحَ قَالَ وَكُنَّا نَدْعُو السُّحُورَ الْفَلَاحَ
(مسند احمد بن حنبل، مسند الکوفیین حدیث نعمان بن بشیر عن النبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم)
"نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے منبر پر کھڑے ہو کر بیان کیا کہ “ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ساتھ رمضان کی تئیسویں کو رات کے پہلے ایک تہائی حصہ تک قیام کیا۔ پھر پچیسویں کو آدھی رات تک قیام کیا۔ پھر ستائیسویں کو ان (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسل) نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ہمیں گمان ہوا کہ ہم “فلاح” کو نہیں پا سکیں گے اور ہم لوگ سحری کو “فلاح” کہا کرتے تھے”

باجماعت نماز تروایح قولی سنت بھی ہے:

سنن ابی داؤد کی ایک صحیح حدیث دیکھتے ہیں جس سے معلوم ہو گا کہ اس کا سنت ہونا فرمان رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے بھی ثابت ہے :
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ
صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنْ الشَّهْرِ حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ فَلَمَّا كَانَتْ السَّادِسَةُ لَمْ يَقُمْ بِنَا فَلَمَّا كَانَتْ الْخَامِسَةُ قَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ نَفَّلْتَنَا قِيَامَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ قَالَ فَقَالَ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ قَالَ فَلَمَّا كَانَتْ الرَّابِعَةُ لَمْ يَقُمْ فَلَمَّا كَانَتْ الثَّالِثَةُ جَمَعَ أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ وَالنَّاسَ فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ قَالَ قُلْتُ وَمَا الْفَلَاحُ قَالَ السُّحُورُ ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِقِيَّةَ الشَّهْرِ

(سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب فی قیام شھر رمضان)
"ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے تو ان صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ہمارے ساتھ کچھ قیام نہ کیا حتٰی کہ (رمضان ختم ہونے میں) سات دن رہ گئے (یعنی تئیسویں رمضان کی رات کو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ہمارے ساتھ قیام کیا (یعنی نماز تراویح پڑھی)۔ یہاں تک کہ رات کا ایک تہائی حصہ گزر گیا۔ پھر جب چھٹی رات تھی (یعنی رمضان ختم ہونے میں چھے دن رہ گئے) تو ان صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ہمارے ساتھ قیام نہیں کیا۔ پھر جب پانچویں رات تھی ( پانچ دن باقی رہ گئے )تو ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی۔ میں نے عرض کیا “اے اللہ کے رسول ! کاش ، آپ اس رات ہمیں اور بھی نفل پڑھاتے۔ فرمایا “جب آدمی امام کے ساتھ اس کے فارغ ہونے تک نماز پڑھتا ہے تو اس کے لیے پوری رات کے قیام کا ثواب شمار کیا جاتا ہے۔ پھر چوتھی رات کو قیام نہیں کیا۔ پھر جب تیسری رات تھی (یعنی رمضان کی ستائیسویں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنے گھر والوں ، ازواج مطہرات اور دوسرے لوگوں کو جمع کیا اور انہیں نماز پڑھائی یہاں تک کہ ہمیں فلاح کے فوت ہونے کا ڈر پیدا ہو گیا۔ جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا “فلاح کیا چیز ہے” تو انہوں نے فرمایا “سحری”۔ پھر اس کے بعد کی راتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے (جماعت کےساتھ) قیام نہیں کیا۔
اس حدیث کو امام دارمی نے بھی اپنی سنن میں روایت کیا ہے۔ دیکھیے سنن دارمی کتاب “و من باب الصوم” باب فی قیام رمضان۔

باجماعت نماز تروایح تقریری سنت بھی ہے

تقریر سے مراد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے سامنے کوئی کام کیا گیا ہو اور ان صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اس پر خاموشی اختیار فرمائی ہو اور اس سے منع نہ فرمایا ہو۔ قول و فعل کی طرح تقریر بھی کسی عمل کے سنت ہونے کی دلیل ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے تراویح کی جماعت تو کرائی لیکن اس پر ہمیشگی اختیار نہیں کی اس خوف سے کہ کہیں امت پر فرض نہ کر دی جائے۔ لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے طور پر مسجد نبوی میں جماعت کے ساتھ تراویح پڑھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے انہیں منع نہیں کیا۔ اس بات کی تفصیل امام احمد بن حنبل نے صحیح سند کے ساتھ یوں بیان کی ہے:

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ النَّاسُ يُصَلُّونَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ بِاللَّيْلِ أَوْزَاعًا يَكُونُ مَعَ الرَّجُلِ شَيْءٌ مِنْ الْقُرْآنِ فَيَكُونُ مَعَهُ النَّفَرُ الْخَمْسَةُ أَوْ السِّتَّةُ أَوْ أَقَلُّ مِنْ ذَلِكَ أَوْ أَكْثَرُ فَيُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ (مسند احمد بن حنبل مسند باقی الانصار، باقی المسند السابق)

"نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ “رمضان کی راتوں میں لوگ مسجدنبوی میں الگ الگ گروہوں کی صورت میں نماز پڑھتے تھے۔ ہوتا یوں تھا کہ کسی آدمی کو قرآن کا کچھ حصہ یاد ہوتا تو پانچ چھے یا اس سے کم و بیش آدمی اس کے ساتھ ہو جاتے اور اس کی اقتدا میں نماز ادا کرتے”
یہ ایک لمبی حدیث کا ابتدائی حصہ ہے۔
- امید ہے اس گفتگو سے غلط فہمیوں کو دور کرنے میں مدد ملے گی باذن اللہ۔ اور واضح ہو گا کہ صحیح بخاری میں عمر رضی اللہ عنہ کا باجماعت نماز تراویح کو بدعت کہنے کے بارے جو قول ہے اس میں بدعت کا لغوی مطلب مراد ہے نہ کہ شرعی۔
والسلام علیکم

Last edited by عبداللہ حیدر; 23-08-10 at 02:23 AM..

 
عبداللہ حیدر's Avatar
عبداللہ حیدر
ذیلی ناظم

تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 756
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
bashirahmed98 (27-08-10), rana ammar mazhar (16-01-12), shafresha (23-08-10), محمد عاصم (23-08-10), مرزا عامر (23-08-10), راجہ اکرام (18-08-11), شھزادباجوہ (05-09-11), طلحہ (30-08-10), عبداللہ آدم (24-08-10)
پرانا 23-08-10, 01:43 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 423
کمائي: 13,788
شکریہ: 82
310 مراسلہ میں 836 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حضور ص نے تراویح پڑہائیں اس پر تمام محدیثن متفق ہیں ۔اور اگر نا بھی ہوتا ۔اور حضرت عمر نے شروع بھی کی ہوتی تو ہم تب بھی اسکو سنت سمجھتے اسلئے کہ علیکم بسنتی وسنت الخلفاء الراشدین المھدیین کے قبیل سے یہ بھی سنت ہے تو لہذا ان باتوں میں امت کو مت الجھائیں اور ان باتوں کا مذاکراہ کریں جس نے قبر اور حشر میں کام آنا ہے
قاسم شاہ آن لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے قاسم شاہ کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-01-12), shafresha (23-08-10), فرحان دانش (23-08-10), کنعان (23-08-10), محمدعدنان (25-08-10), مرزا عامر (23-08-10), شھزادباجوہ (05-09-11), عبداللہ آدم (24-08-10)
پرانا 23-08-10, 10:01 PM   #3
Senior Member
 
فرحان دانش's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,784
کمائي: 41,222
شکریہ: 2,665
1,640 مراسلہ میں 3,770 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جس کو تراویح پڑھنی ہے وہ پڑھے جس کو نہیں پڑھنی نہ پڑھے۔
-----------------------------------------------------------
فرقہ واریت اتنی بڑھ گئی ہے کہ اگر کسی امام سے کوئی مسئلہ پوچھ لیں تو ایک امام کہتا ہے حرام، دوسرا امام کہتا ہے شرک، تیسرامام کہتا ہے بدعت اور چوتھے امام کو پتہ ہی نہیں کہ کہنا کیا ہے۔
__________________
http://farhandanish.blogspot.com
http://farhandanish.tk
فرحان دانش آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فرحان دانش کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-01-12), shafresha (23-08-10), محمدخلیل (30-08-10), محمدعدنان (25-08-10)
پرانا 23-08-10, 10:41 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 423
کمائي: 13,788
شکریہ: 82
310 مراسلہ میں 836 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فرحان بھائی ایسی بات نھیں بلکہ یوں کھیں گے ۔جس نے تراویح پڑھنی ہے پڑھے اور جو نا پڑھے وہ اپنی آخرت کی فکر کرے
قاسم شاہ آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے قاسم شاہ کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-01-12), shafresha (23-08-10), شھزادباجوہ (05-09-11)
پرانا 23-08-10, 10:50 PM   #5
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,487
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : قاسم شاہ مراسلہ دیکھیں
حضور ص نے تراویح پڑہائیں اس پر تمام محدیثن متفق ہیں ۔اور اگر نا بھی ہوتا ۔اور حضرت عمر نے شروع بھی کی ہوتی تو ہم تب بھی اسکو سنت سمجھتے اسلئے کہ علیکم بسنتی وسنت الخلفاء الراشدین المھدیین کے قبیل سے یہ بھی سنت ہے تو لہذا ان باتوں میں امت کو مت الجھائیں اور ان باتوں کا مذاکراہ کریں جس نے قبر اور حشر میں کام آنا ہے
السلام علیکم،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا:
و من قام رمضان ایمانا و احتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ
"اور جس نے رمضان کا قیام کیا، ایمان اور احتساب کے ساتھ، اس کے پچھلے (صغیرہ)گناہ معاف کر دیے گئے"
تو میرے بھائی!‌تراویح حشر کے میدان میں‌کام آنے والی شئے ہے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی ہر ہر سنت میدان حشر میں‌ کام آنے والی ہے۔
والسلام علیکم
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
13 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-01-12), shafresha (23-08-10), فیصل ناصر (23-08-10), کنعان (24-08-10), ھارون اعظم (30-08-10), محمد عاصم (23-08-10), محمدعدنان (25-08-10), مرزا عامر (23-08-10), مسلم بھائی (24-08-10), راجہ اکرام (28-08-10), شھزادباجوہ (05-09-11), طلحہ (30-08-10), عبداللہ آدم (24-08-10)
پرانا 23-08-10, 10:50 PM   #6
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
کمائي: 52,639
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فرحان دانش مراسلہ دیکھیں
جس کو تراویح پڑھنی ہے وہ پڑھے جس کو نہیں پڑھنی نہ پڑھے۔
-----------------------------------------------------------
فرقہ واریت اتنی بڑھ گئی ہے کہ اگر کسی امام سے کوئی مسئلہ پوچھ لیں تو ایک امام کہتا ہے حرام، دوسرا امام کہتا ہے شرک، تیسرامام کہتا ہے بدعت اور چوتھے امام کو پتہ ہی نہیں کہ کہنا کیا ہے۔
فرحان بھائی آپ کن اماموں کی بات کر رہے ہیں ایسا تو کسی بھی امام نے نہیں فتویٰ دیا؟؟؟
آپ پلیز ایسے نایاب فتواجات ہم کو بھی دیکھانا پسند کریں گے؟؟؟
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-01-12), shafresha (23-08-10), مرزا عامر (23-08-10), مسلم بھائی (24-08-10), راجہ اکرام (28-08-10), شھزادباجوہ (05-09-11), عبداللہ آدم (24-08-10)
پرانا 23-08-10, 11:13 PM   #7
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

لا حول ولا قوۃ۔ تراویح اور وہ بھی بد عت!!!!!
تراویح کے معاملے میں صرف اس مباحثے کے خلاف ہوں کہ 20 ہونی چاہیئں یا 8 - اس میں بحث والی کوئی بات نہیں- مقصد قران کریم کو اللہ کے حضورکھڑے ہو کر سنا ہے اور اگر سمجھ بھی آ جائیے تو کیا ہی بات ہے
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-01-12), shafresha (23-08-10), فیصل ناصر (23-08-10), فاروق سرورخان (30-08-10), کنعان (24-08-10), محمد عاصم (24-08-10), شھزادباجوہ (05-09-11), عبداللہ آدم (24-08-10)
پرانا 25-08-10, 07:27 AM   #8
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
بدعات کا جواز ثابت کرنے کے لیے کچھ لوگوں‌نے مشہور کر رکھا ہے کہ نماز تراویح کی جماعت سب سے پہلے عمر رضی اللہ عنہ نے شروع کرائی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے زمانے میں اس کا رواج نہ تھا۔ لیکن صحیح اور ثابت شدہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے خود جماعت کے ساتھ نماز تراویح ادا فرمائی ہے۔
اپنے فرمان مبارک سےباجماعت تراویح کی فضیلت بیان کی۔
اور جو صحابہ نماز تراویح باجماعت ادا کرتے تھے ان کی تعریف کی اور اس سے منع نہیں فرمایا۔

یعنی سنت کی تعریف کے مطابق قولی، فعلی اور تقریری ہر لحاظ سے اس کا سنت ہونا شک و شبہ سے بالا تر ہے
۔

کبھی کبھی کچھ لوگوں کا " فہم قرآن و حدیث "دیکھ کر مجھے شدید تعجب ہوتا ہے لیکن خیر جب یہی فہم ایک "مخصوص مکتبہ فکر " کی طرف سے نمایاں ہو تو میرا تعجب "تعجب " نہیں رہتا بلکہ پھر میں انکے اس "فہم " پر فقط زیر لب مسکرانے پر ہی اکتفاء کرتا ہوں کہ مجھے اس مکتبہ فکر کے بڑے بڑے لوگوں سے گفتگو کا خاصا تجربہ رہا اور قریبا ہر مسئلہ میں جب انکے " استنباطی فہم پر " نظر کی تو دلائل پر سوائے مسکرانے کے کچھ نہ کرسکا ۔ ۔ ۔ ۔
خیر آتے موضوع کی طرف میرے پیارے عبداللہ بھائی نے بات شروع کی درج زیل الفاظ سے ۔ ۔ ۔ ۔
اقتباس:
بدعات کا جواز ثابت کرنے کے لیے کچھ لوگوں‌نے مشہور کر رکھا ہے کہ نماز تراویح کی جماعت سب سے پہلے عمر رضی اللہ عنہ نے شروع کرائی تھی ۔
کیا ہی اچھا ہوتا کے میرے بھائی سب سے پہلے آپ اثر عمر فاروق کو نقل فرماتے اور پھر اس اثر میں وارد وہ الفاظ یعنی "نعمۃ البدعۃ ھذہ " جو کہ بدعت کے مجوزین کے لیے وجہ جواز فراہم کرتے ہیں کو بیان فرماتے اور اپنا یہ سوال براہ راست حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ہی کرتے کہ جب ایک عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت تھا تو اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ آپ نے کیوں اسے بدعت کہا ؟؟؟؟؟؟؟
پھر اسی قول فاروقی رضی اللہ عنہ کو جواز بنا کر بدعت کو جواز بخشنے والے ان کچھ لوگوں کا بھی تذکرہ فرماتے کہ جنھوں نے " فہم صحابہ " کو بنیاد بناکر جی ہاں وہی فہم صحابہ کہ جسکا آپ کو " حقیقت بدعت " والے مراسلہ میں ہمارے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بڑا گلہ اور مان بھی تھا کہ ہم " فہم صحابہ " کی رو سے "بدعت کی حسنہ اور سیئہ " میں تقسیم بیان کریں اور جب ہم یہاں اور یہاں آپکے اس گلہ کا جواب دے چکے تو آپ نے وہاں تو کچھ نہیں کہا مگر ہاں یہاں پر " فہم صحابہ " پر اپنے فہم کی حجیت کو واضح کرتے ہوئے ایک نیا تھریڈ ضرور جڑ دیا ۔ ۔خیرررر کوئی بات نہیں ہم بھی یہاں ہی ہیں جناب کی یاد دہانی کے لیے ۔ ۔ ۔۔ تو میرے بھائی سب سے پہلے تو یہ واضح کیجیئے جب بقول آپکے نماز تراویح باجماعت دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہی ہوا کرتی تھی تو پھر فہم فاروقی نے اسے بدعت سے کیوں تعبیر کیا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟
آئیے میں آپ کو بتلاتا شاید کے تیرے دل میں اتر جائے مری بات ۔ ۔ ۔

حضور بقول آپ کے جو کچھ لوگ باجماعت تراویح کی نماز کو بدعت بایں معنٰی کہتے ہیں کہ اس کا اجراء سب سے پہلے عمر فاروق نے فرمایا تو عرض ہے کہ میرے بھائی وہ کچھ لوگ فقط باجماعت نماز تراویح کو بدعت نہیں کہتے اور نہ ہی ان کے استدلال کا مرکز اس وقت فقط نماز تروایح کا باجماعت ہونا بطور بدعت کے ہوتا ہے بلکہ وہ قول فاروقی سے " بدعت کے حسنہ اور سیئہ ہونے " کی تقسیم کے باب میں " فہم فاروقی " کو بطور حجت کہ پیش کرتے ہیں لہذا انکے نزدیک تراویح کی فقط جماعت قائم کرنا نہیں بلکہ باقاعدہ جماعت کا مستقل اہتمام کرنا اور اس اہتمام کے استقلال کو سیدنا فاروق اعظم کا بدعت سے تعبیر کرنا ہوتا ہے ۔ ۔ ۔
رہ گیا یہ سوال کہ جب تراویح کی جماعت کا دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی ثبوت ملتا ہے تو پھر سیدنا فاروق اعظم نے اسے بدعت حسنہ کیوں کہا ؟؟؟؟؟؟؟ تو اسکا جواب یہ ہے کہ فاروق اعظم نے محض باجماعت تروایح کو بدعت نہیں کہا بلکہ انھوں نے دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے لیکر دور صدیقی رضی اللہ عنہ اور پھر بشمول خود اپنے عہد خلافت میں لوگوں کے متفرق یا بعض ٹولیوں کی شکل میں قیام کرنے کے جاری نظام کو ختم کرتے ہوئے انھے باقاعدہ ایک امام کے پیچھے جمع کرتے ہوئے اور پھر باجماعت نماز تراویح پر مداومت ( یعنی ہمیشگی ) اختیار کرنے کو نعمۃ البدعت یعنی بدعت حسنہ کہا ہے ۔ ۔ ۔
کیونکہ نماز تراویح تو دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بقول آپ کے فقط تین دن تک جماعت کے ساتھ پڑھائی گئی اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ترک فرمایا لہذا فاروق اعظم نے جو باجماعت نماز تراویح پر مداومت اختیار کی جو کہ دور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں نہ تھی اس مداومت اختیار کرنے کو بدعت حسنہ سے تعبیر کیا ۔۔


اقتباس:
یعنی [u]سنت کی تعریف کے مطابق قولی، فعلی اور تقریری ہر لحاظ سے اس کا سنت ہونا شک و شبہ سے بالا تر ہے
اور عبداللہ بھائی یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں کہ آپ نے سنت کی تعریف میں اپنے فلسفہ سنت ترکیہ کو ذکر نہیں فرمایا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ کیا اب آپ اس فلسفہ سے رجوع فرماچکے ہیں یا ابھی بھی قائم ہیں اگر قائم ہیں تو یہاں سنت کی متفقہ تعریف میں آپکا وہ فلسفہ دکھائی کیوں نہیں دے رہا ۔ ۔ ۔ ویسے ایک سوال پوچھوں آپ سے کہ اگر آپ کے سنت ترکیہ والے فلسفہ کو مان لیا جائے تو کیا خیال ہے آج کہ دور میں نماز تروایح کا باجماعت ادا کرنا ترک نہ کردیا جائے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو تین دن سے زائد اس نماز کو باجماعت پڑھنے کو ترک فرمایا ہے اور وہ بھی عمدا ترک ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

باقی آپ نے جن کچھ لوگوں کو بدعت کا جواز بخشنے والا کہا ہے تو آئیے میں ان کچھ لوگوں سے آپکا تعارف بھی کروا دوں تاکہ آپ کو معلوم ہوسکے کہ ان کچھ لوگوں میں کیسی کیسی جید ہستیاں ہیں جو کہ اسی قول و فعل فاروقی کو بدعت حسنہ کا جواز سمجھتی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔
یہ ہیں علامہ تقی الدین احمد بن عبد الحلیم ابن تیمیہ (المتوفی 728 ھ) امام ابن تیمیہ اپنی کتاب ’’منہاج السنۃ‘‘ میں لغوی بدعت اور شرعی بدعت کو واضح کرتے ہوئے ’’نعمت البدعۃ ہذہ‘‘ کے ذیل میں بیان کرتے ہیں۔

إنما سماها بدعة لأن ما فعل ابتداء، بدعة لغة، وليس ذلک بدعة شرعية، فإن البدعة الشرعية التي هي ضلالة ما فعل بغير دليل شرعي

’’اِسے بدعت اِس لیے کہا گیا کہ یہ عمل اس سے پہلے اِس انداز میں نہیں ہوا تھا لہٰذا یہ بدعتِ لغوی ہے بدعتِ شرعی نہیں ہے کیونکہ بدعتِ شرعی وہ گمراہی ہوتی ہے جو دلیل شرعی کے بغیر سر انجام دی جائے۔‘‘

ابن تيميه، منهاج السنة، 4 : 224

علامہ ابن تیمیہ ’’بدعت حسنہ‘‘ اور ’’بدعت ضلالۃ‘‘ کے مفہوم کو مزید واضح کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں :

ومن هنا يعرف ضلال من ابتدع طريقاً أو اعتقاداً زعم أن الإيمان لا يتم إلا به مع العلم بأن الرسول صلي الله عليه وآله وسلم لم يذکره وما خالف النصوص فهو بدعة باتفاق المسلمين وما لم يعلم أنه خالفها فقد لا يسمي بدعة قال الشافعي رحمه اﷲ البدعة بدعتان بدعة خالفت کتابا و سنة و إجماعا و أثرا عن بعض أصحاب رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم فهذه بدعه ضلاله و بدعه لم تخالف شيئا من ذلک فهذه قد تکون حسنة لقول عمر نعمت البدعة هذه (1) هذا الکلام أو نحوه رواه البيهقي بإسناده الصحيح في المدخل(2)

’’اور اس کلام سے لفظ ’’ضلال‘‘ کا مفہوم سمجھا جاسکتا ہے کہ اگر کسی شخص نے یہ جانتے ہوئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بیان نہیں کیا کسی طریقے یا عقیدے کی ابتداء اس گمان سے کی کہ بے شک ایمان اس کے بغیر مکمل نہیں ہوتا تو یہ ’’ضلالۃ‘‘ ہے اور جو چیز نصوص کے مخالف ہو وہ مسلمانوں کے اتفاق رائے کے ساتھ بدعت ہے۔ اور جس چیز کے بارے یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے کتاب و سنت کی مخالفت کی ہے ایسی چیز کو بدعت کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ اور امام شافعی رحمۃ اﷲ علیہ نے بدعت کی دو قسمیں بیان کی ہیں۔ ایک وہ بدعت جو قرآن و سنت، اجماع اور بعض اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقوال کے خلاف ہو تو وہ بدعت ضلالہ ہے۔ اور جو بدعت ان تمام چیزوں (یعنی قرآن و سنت، اجماع اور اثر صحابہ) میں سے کسی کے مخالف نہ ہو تو وہی بدعت حسنہ ہے۔ جیسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے ’’نعمت البدعۃ ہذہ‘‘ یہ یا اس جیسا دوسرا بیان اسے امام بیہقی نے اپنی صحیح اسناد کے ساتھ ’’المدخل‘‘ میں روایت کیا ہے۔
یہ تو آپ کے مکتبہ فکر کہ جد اعلٰی تھے اور انھوں نے بھی بدعت کی تقسیم میں اسی اثر فاروقی سے استدلال کیا ہے اب کیا خیال ہے آپکا چلیے باقی کچھ لوگوں کی تفصیل بھی میں آپ کو درج زیل میں دے دیتا ہوں ۔ ۔

امام محمد بن اِدریس بن عباس الشافعی رحمۃ اللہ علیہ (204 ھ)
امام ابو عبداﷲ محمد بن احمد القرطبی رحمۃ اللہ علیہ (380ھ)
امام علی بن احمد ابن حزم الاندلسی رحمۃ اللہ علیہ (456ھ)
امام ابوبکر احمد بن حسین البیہقی رحمۃ اللہ علیہ (458ھ)
امام ابوحامد محمد بن محمد الغزالی رحمۃ اللہ علیہ (505 ھ)
امام مبارک بن محمد ابن اثیر الجزری رحمۃ اللہ علیہ (606 ھ)
امام عزالدین بن عبد السلام الشافعی رحمۃ اللہ علیہ (660ھ)
امام ابو زکریا محی الدین بن شرف النووی رحمۃ اللہ علیہ (676ھ)
امام شہاب الدین احمد القرافی المالکی (684ھ)
علامہ جمال الدین محمد بن مکرم بن منظور الافریقی رحمۃ اللہ علیہ (711ھ)
علامہ تقی الدین احمد بن عبدالحلیم ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ (728ھ)
امام حافظ عمادالدین ابوالفدا اسماعیل ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ (774ھ)
امام ابو اسحاق ابراہیم بن موسیٰ الشاطبی رحمۃ اللہ علیہ (790ھ)
امام بدر الدین محمد بن عبداﷲ الزرکشی رحمۃ اللہ علیہ (794ھ)
امام عبدالرحمن بن شہاب الدین ابن رجب الحنبلی رحمۃ اللہ علیہ (795ھ)
علامہ شمس الدین محمد بن یوسف الکرمانی رحمۃ اللہ علیہ (796 ھ)
علامہ ابو عبداﷲ محمد بن خلفہ الوشتانی المالکی رحمۃ اللہ علیہ (828ھ)
امام ابوالفضل احمد بن علی بن محمد ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ (852ھ)
امام ابو محمد بدرالدین محمود العینی رحمۃ اللہ علیہ (855 ھ)
امام محمد بن عبدالرحمن شمس الدین محمود السخاوی رحمۃ اللہ علیہ (902ھ)
امام جلال الدین عبدالرحمن بن ابو بکر السیوطی رحمۃ اللہ علیہ (911ھ)
امام ابو العباس احمد بن محمد شہاب الدین القسطلانی رحمۃ اللہ علیہ (923ھ)
امام ابو عبداللہ محمد بن یوسف صالحی الشامی رحمۃ اللہ علیہ (942ھ)
امام عبدالوھاب بن احمد علی الشعرانی رحمۃ اللہ علیہ (973ھ)
امام احمد شہاب الدین ابن الحجر المکی الہیتمی رحمۃ اللہ علیہ (974ھ)
الشیخ محمد شمس الدین الشربینی الخطیب رحمۃ اللہ علیہ (977ھ)
امام ملا علی بن سلطان محمد القاری رحمۃ اللہ علیہ (1014ھ)
الشیخ عبدالحمید الشروانی رحمۃ اللہ علیہ ( ھ)
امام عبدالرؤوف زین الدین المناوی الشافعی رحمۃ اللہ علیہ (1031ھ)
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (1052 ھ)
علامہ علاؤ الدین محمدبن علی بن محمد الحصکفی رحمۃ اللہ علیہ (1088ھ)
امام ابو عبداﷲ محمدعبدالباقی الزرقانی المالکی رحمۃ اللہ علیہ (1122ھ)
علامہ مرتضیٰ حسینی الزبیدی الحنفی رحمۃ اللہ علیہ (1205ھ)
علامہ سید محمد امین ابن عابدین الشامی رحمۃ اللہ علیہ (1252ھ)
شیخ محمد بن علی بن محمد الشوکانی رحمۃ اللہ علیہ (1255ھ)
علامہ شہاب الدین سید محمود آلوسی رحمۃ اللہ علیہ (1270ھ)
مولانا احمد علی سہارنپوری (1297ھ)
نواب صدیق حسن خان بھوپالی (1307ھ)
مولانا وحیدالزمان (1327ھ)
مولانا عبدالرحمن مبارکپوری (1353ھ)
مولانا شبیر احمد عثمانی (1369ھ)
مولانا محمد زکریا کاندھلوی (1402ھ)
الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز ( 1421ھ)
الشیخ محمد بن علوی المالکی المکی رحمۃ اللہ علیہ (1425ھ)
یہ کچھ لوگوں میں سے چند علماء کے نام تھے بطور مشتے از خروارے ۔ ۔ ۔ ۔ والسلام

Last edited by آبی ٹوکول; 25-08-10 at 09:40 AM.
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-01-12), shafresha (25-08-10), کنعان (26-08-10), ziamurtaza (25-08-10)
پرانا 28-08-10, 03:55 AM   #9
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,487
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
بھائی میرے! اگر آپ واقعی بات سمجھنا چاہتے ہیں تو آپ کے سوالات کے جوابات کی طرف اشارہ کیے دیتا ہوں، ان پر تحمل کے ساتھ غور کیجیے۔ کوئی حقیقی اور سنجیدہ الجھن ہوئی تو ان شاء اللہ اس کو دور کرنے کی پوری کوشش کروں گا اور اگر آپ مناظرہ بازی اور بحث برائے بحث کرنا چاہتے ہیں تو مع السلام۔
سنت ترکیہ والے تھریڈ میں سنت فعلیہ کا تذکرہ بھی موجود ہے، قولی، فعلی اور تقریری سنت موخر الذکر کے ذیل میں آتی ہیں۔اگر آپ ابھی تک سنت ترکیہ کو کوئی "فلسفہ" تصور کرتے ہیں تو وہاں دیے گئے ملا علی القاری رحمۃ اللہ علیہ کے اقتباس پر تدبر کرتے رہیے۔ اللہ مدد کرنےوالا ہے۔ اس سے تسلی نہ ہو تو کچھ عرصہ مزید انتظار کر لیں، آپ کو ان شاء اللہ حوالہ جات کے ساتھ مکمل تفصیل فراہم کر دی جائے گی کہ امت کے بڑے بڑے ائمہ اور محدثین میں اس "فلسفے" کے ماننے والے کون کون ہیں۔
میں نے پہلے مراسلے میں جو صحیح احادیث بیان کی ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے تین دن جماعت کے ساتھ خود تراویح کی نماز پڑھائی، اس سے معلوم ہوا کہ ایک امام کے پیچھے تروایح پڑھنا سنت ہے۔ پھر فرض ہونے کے ڈر سے جب اسے ترک کیا تواس طرح نہیں کہ اسے پڑھنا ہی چھوڑ دیا ہو، بلکہ اپنی زبان مبارک سے بارہا اس کے فضائل بیان فرماتے رہے۔ کبھی ایمان و احتساب کے ساتھ قیام کا اجر بیان کیا تو کبھی امام کے ساتھ قیام کرنے کی فضیلت بیان فرمائی، پھر جو لوگ مسجد نبوی میں جماعت کے ساتھ تروایح ادا کرتے تھے انہیں منع نہیں فرمایا۔(اس فورم پرآپ خودقولی، فعلی اور تقریری سنت کے مفاہیم سمجھاتے رہے ہیں، پھر مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آپ نے تراویح کو متروک کیسے قرار دے دیا ہے)۔عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں کوئی نئی عبادت نہیں نکالی تھی، نہ سنت سے ہٹ کر تراویح کی کوئی کیفیت اور طریقہ جاری کیا تھا بلکہ انہوں نےایک امام والی اس سنت کو زندہ کیا تھا جسے فرضیت کے خوف سے چھوڑ دیا گیا تھا۔ بات بہت ہی سادہ اور سمجھ میں آنے والی ہے، بس تعصب اور ضد بازی سے بچنے کی ضرورت ہے۔
زمانہ رسالت کے آخر میں اور خلافت صدیق کے زمانے میں لوگ ٹولیوں کی صورت میں مختلف ائمہ کے پیچھے تراویح پڑھا کرتے تھے اور عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی ابتداء میں بھی اسی پر عمل رہا، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے جب ایک امام کے پیچھے سب کو جمع کیا تو شرعی اعتبار سے تو وہ کوئی نیا کام نہیں تھا کیونکہ زمانہ رسالت میں صحابہ کرام ایک امام یعنی خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے پیچھے تراویح ادا کرچکے تھے، لیکن خاص اس وقت کے لحاظ سے یہ ایک نیا کام تھا چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے لغوی طور پر بدعت یعنی نیا کام کہہ کر ذکر فرمایا۔ان کے قول سے شرعی بدعت کا جواز پکڑنے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ بدعت کے قائلین بھی اگر اسی طرح کوئی متروک سنت زندہ کرکے اپنے زمانے کے لحاظ سے اسے بدعت کہہ لیں تو معاملہ اتنا خراب نہ ہو لیکن یہ پرلے درجے کی بددیانتی ہے کہ ایک ثابت شدہ سنت کے احیاء کو خود ساختہ عبادات اور دین میں طرح طرح کے اضافوں کی دلیل بنا کر پیش کیا جائے اور اسے صحابہ کا فہم ثابت کرنے کی کوشش کی جائے۔
آپ کے اعتراضات پڑھ کر ہمیشہ کی طرح مجھے پھر گمان ہوا کہ جن کتابوں کے آپ حوالے دیتے ہیں شاید انہیں پڑھنے کی زحمت نہیں کرتے۔ ہو سکتا ہے اصل کتابوں سے مراجعت کرنے کی بجائے آپ روایتی مناظرہ بازوں کی کتب سے استفادہ کرتے ہوں جو اپنے مخالف پر ہر اینٹ پتھر دے مارنے کے قائل ہیں۔ اگرایسا نہیں ہے تو میرے لیے قابل تعجب امر ہے کہ ائمہ کی کتابوں اور خاص طور پر امام شاطبی کی "الاعتصام" کا جگہ جگہ حوالے دینے والا شخص اس قدر بچگانہ اعتراضات کیونکر کر سکتا ہے۔
ان کنت تدری فتلک المصیبۃ و ان کنت لا تدری فالمصیبۃ اعظم
امام شاطبی اپنی کتاب "الاعتصام"‌میں لکھتے ہیں:
وتبين ذلك بالنظر في الأمثلة التي مثل لها بصلاة التراويح في رمضان جماعة في المسجد ، فقد قام بها النبي صلى الله عليه وسلم في المسجد ، واجتمع الناس خلفه .۔ ۔ ۔لكنه عليه السلام لما خاف افتراضه على الأمة; أمسك عن ذلك۔ ۔ ۔ ۔۔فتأملوا; ففي هذا الحديث ما يدل على كونها سنة; فإن قيامه أولا بهم دليل على صحة القيام في المسجد جماعة في رمضان ، وامتناعه بعد ذلك من الخروج خشية الافتراض لا يدل على امتناعه مطلقا; لأن زمانه كان زمان وحي وتشريع ، فيمكن أن يوحى إليه إذا عمل به الناس بالإلزام ، فلما زالت علة التشريع بموت رسول الله صلى الله عليه وسلم; رجع الأمر إلى أصله ، وقد ثبت الجواز فلا ناسخ له .وإنما لم يقم ذلك أبو بكر رضي الله عنه لأحد أمرين : إما لأنه رأى أن قيام الناس آخر الليل وما هم به عليه كان أفضل عنده من جمعهم على إمام أول الليل ، ذكره الطرطوشي ، وإما لضيق زمانه رضي الله عنه عن النظر في هذه الفروع ، مع شغله بأهل الردة وغير ذلك مما هو آكد من صلاة التراويح .فإن قيل : فقد سماها عمر رضي الله عنه بدعة وحسنها بقوله : نعمت البدعة هذه ، وإذا ثبتت بدعة مستحسنة في الشرع; ثبت مطلق الاستحسان في البدع .۔ ۔ ۔فالجواب : إنما سماها بدعة باعتبار ظاهر الحال; من حيث تركها رسول الله صلى الله عليه وسلم واتفق أن لم تقع في زمان أبي بكر رضي الله عنه ، لا أنها بدعة في المعنى ، فمن سماها بدعة بهذا الاعتبار; فلا مشاحة في الأسامي ، وعند ذلك فلا يجوز أن يستدل بها على جواز الابتداع بالمعنى المتكلم فيه; لأنه نوع من تحريف الكلم عن مواضعه
(الاعتصام للامام الشاطبی)

نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے رمضان میں جماعت کے ساتھ لوگوں کو تراویح کی نماز پڑھائی تھی۔ ۔ لیکن جب انہیں یہ ڈر ہوا کہ کہیں یہ نماز امت پر فرض نہ ہو جائے تو (ایک امام کے پیچھے تراویح کی جماعت کا) یہ سسلسلہ روک دیا گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔خوب سمجھ لو کہ اس حدیث میں (ایک امام کے پیچھے تروایح کی جماعت) کے سنت ہونے کی دلیل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا رمضان صحابہ کرام کو قیام کروانا مسجد میں جماعت کی دلیل ہے، اور بعد میں فرض ہو جانے کے خوف سے جماعت نہ کرانا مطلق ممانعت کی دلیل نہیں ہے۔ وہ زمانہ وحی اور تشریع کا زمانہ تھا۔ عین ممکن تھا اگر لوگ باجماعت تراویح پر عمل کرتے رہتے تو وہ فرض ہو جاتی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی وفات کے بعد جب یہ علت ختم ہو گئی تو اس کا حکم اپنی اصل کی طرف پلٹ گیا اور اس کا جواز بغیر کسی نسخ کے ثابت ہو گیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت (جس میں دو دفعہ رمضان آیا) میں اسے یا تو اس لیے شروع نہیں کیا کہ ان کے نزدیک رات کے آخری حصے کا قیام پہلے حصے میں امام کے پیچھے قیام کرنے سے افضل تھا، یا پھر اس وقت کے حالات کی تنگی اور مرتدین وغیرہ کے ساتھ (جنگوں)جیسی اہم تر مصروفیات نے انہیں اس طرف توجہ کرنے کا موقع ہی نہیں دیا۔
اگر کوئی کہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ( ایک امام کے پیچھے باجماعت نماز تراویح)کو بدعت سے موسوم فرمایا اور "نعمت البدعۃ ھذہ" کہتے ہوئے اس کی تحسین کی تھی لہٰذا اس سے شرع میں بدعت حسنہ کا جواز ثابت ہوتا ہے(تو اس کی بات غلط ہے)۔ ۔ ۔ ۔اور اسکی بات کا جواب یہ ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نےاسے (شرعی معنوں میں نہیں بلکہ) محض ظاہری حال کی وجہ سے نیا کام کہا تھا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اسے (فرض ہو جانے کے خوف سے) چھوڑا تھا اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دور میں اس پر عمل نہیں ہوا تھا (اس لیے اس وقت کے لحاظ سے وہ ایک نیا کام ہی تھا)۔ ۔ ۔ ۔چنانچہ کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ ان کے اس قول سے بدعت نکالنے کے جواز پر استدلال کرے، اگر کوئی شخص ایسا استدلال کرتا ہے تو وہ معنوی تحریف کا مرتکب ہے"
ایک امام کے پیچھے تراویح کی جماعت کے بارے میں یہ جو تفصیل ہم نے بیان کی ہے اسے ٹھنڈے دل سے اور کھلے ذہن کے ساتھ پڑھتے رہیے۔ اللہ نے چاہا تو آپ پر یہ عقدہ کھل جائے گا کہ جس دلیل کو آپ "فہم فاروقی" سے تعبیر کرتے ہیں امام شاطبی نے اسے عمر رضی اللہ عنہ کے قول کی معنوی تحریف کیوں قرار دیا ہے۔ اگر اس کی سمجھ نہ آئے تو زیر لب مسکرانے کی بجائے اللہ سے دعا کیا کریں کہ اللہ آپ کواپنا دین اس طرح سمجھنے اور سمجھانے کی توفیق دے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے صحابہ نے سمجھا اور اس پر عمل کیا تھا اور اپنی دعا میں اس ناچیز کو شامل کرنا نہ بھولیے گا۔
والسلام علیکم
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-01-12), ھارون اعظم (30-08-10), محمد عاصم (28-08-10), مرزا عامر (28-08-10), راجہ اکرام (18-08-11), طلحہ (30-08-10), عبداللہ آدم (30-08-10)
پرانا 30-08-10, 07:02 AM   #10
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
بھائی میرے! اگر آپ واقعی بات سمجھنا چاہتے ہیں تو آپ کے سوالات کے جوابات کی طرف اشارہ کیے دیتا ہوں، ان پر تحمل کے ساتھ غور کیجیے۔ کوئی حقیقی اور سنجیدہ الجھن ہوئی تو ان شاء اللہ اس کو دور کرنے کی پوری کوشش کروں گا اور اگر آپ مناظرہ بازی اور بحث برائے بحث کرنا چاہتے ہیں تو مع السلام۔
وعلیکم السلام پیارے بھائی مناظرہ بازی کا مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے
مگر الجھن یہ ہے کہ آپ اور آپکے مکتبہ فکر کا ایک خاص طریقہ کار ہے کے سارے عالم اسلام سے اپنی ایک الگ نئی راہ پر چلنا اور ساری امت مسلمہ کے متفقہ فہم کو نظر انداز کرتے ہوئے محض مخصوص فکر کہ چند علماء کی اندھی تقلید کرنا اور پھر اس پر عدم تقلید کا دم بھی بھرنا ۔ ۔۔ مثلا یہی بدعت والا مسئلہ لے لیجیئے اس میں آپ لوگوں کی رائے آپ کے چند معتبر علماء کے فہم کی روشنی میں پوری امت سے منفرد ہے اور باعث اس کا وہ فہم ہے جو آپ لوگوں کو جمہور کے مقابلے میں آپ کے من پسند علماء کے پیچھے چلنے پر مجبور کرتا ہے مثلا ساری امت کے جمہور علماء بدعت کے مسئلہ میں اس کی حسنہ اور سیئہ میں تقسیم کے قائل ہیں مگر آپ لوگ مخالف ہیں مسئلہ تقلید میں بھی امت کا جمہور بلکہ 99 فی صد ایک طرف اور آپ لوگ ایک طرف اسی طرح تین طلاق والا مسئلہ لے لو ساری امت بشمول چاروں ائمہ ایک طرف آپ لوگ ایک طرف، تراویح کی رکعات کا بیس ہونا لے لو ساری امت بشمول ائمہ اربعہ کے ایک طرف اور آپ لوگ ایک طرف اسی طرح ہر ہر مسئلہ میں جہاں آپ جمہور سے اختلاف کرتے ہیں آپ لوگوں کے پیش نظر جمہور کے مقابلے میں سوائے فہم علامہ ابن تیمیہ ،ابن قیم و حزم ، داؤد ظاہری اور چند نجدی علماء کے کچھ نہیں ہوتا یہی چند لوگ آپ کے پلہ میں ہوتے ہیں اور انہی کی بنیاد پر آپ لوگ جمیع امت سے انفرادیت اختیار کرتے ہوئے ان پر فتوے سرزد فرماتے ہیں خیرررررررررر ۔ ۔ ۔ ۔

اقتباس:
سنت ترکیہ والے تھریڈ میں سنت فعلیہ کا تذکرہ بھی موجود ہے، قولی، فعلی اور تقریری سنت موخر الذکر کے ذیل میں آتی ہیں۔اگر آپ ابھی تک سنت ترکیہ کو کوئی "فلسفہ" تصور کرتے ہیں تو وہاں دیے گئے ملا علی القاری رحمۃ اللہ علیہ کے اقتباس پر تدبر کرتے رہیے۔ اللہ مدد کرنےوالا ہے۔ اس سے تسلی نہ ہو تو کچھ عرصہ مزید انتظار کر لیں، آپ کو ان شاء اللہ حوالہ جات کے ساتھ مکمل تفصیل فراہم کر دی جائے گی کہ امت کے بڑے بڑے ائمہ اور محدثین میں اس "فلسفے" کے ماننے والے کون کون ہیں۔
میرے بھائی اس تھریڈ میں تو عادل بھائی کے دلائل کے پورا ہونے کا مجھے بھی انتظار ہے مگر جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ وہ مصروف ہیں اور رمضان میں انکی مصروفیت اور بھی بڑھ جاتی بقول انکے تو ہم انتظار ہی کرسکتے ہیں اور جہاں تک بات ہے ملا علی قاری کی عبارت کی تو اس میں ایسی کوئی چیز نہیں جو کہ آپ لوگوں کہ فلسفہ " سنت ترکیہ " کو تقویت پہنچائے کیونکہ آپ لوگوں کہ نزدیک مطلقا ہر ترک ہی سنت ترکیہ ہے جبکہ محقیقین کہ نزدیک ترک کی اقسام ہیں مطلقا ہر مقام پر ہر ترک کبھی بھی سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں کہلواتا اسکی میں پہلے بھی وضاحت کرچکا ہوں لیکن آپ لوگ ہیں کہ سمجھ کے ہی نہیں دے رہے ۔ ۔ لہزا خوب سمجھ لیجیئے ملا علی قاری کی جو عبارت نقل کی گئی ہے اس میں زبان سے نیت کے مسئلہ کو بدعت تسلیم کرتے ہوئے بدعت حسنہ سے تعبیر کیا گیا ہے نہ کے آپ کے فلسفہ کی مطابق مطلقا ترک ہی سے سنت ترکیہ قرار دے کر حرام قرار دیا گیا ہے وہ الفاظ درج زیل ہیں جو کہ آپکے دعوٰی کی دلیل ہرگز نہیں بن سکتے ۔ ۔

والمتابعة كما تكون في الفعل تكون في الترك أيضاً فمن واظب على فعل لم يفعله الشارع فهو مبتدع و قد يقال نسلم إنها بدعة لكنها مستحسنة استحبها المشايخ للاستعانة على استحضار النية ۔۔۔۔۔

ترجمہ :- یعنی متابعت جس طرح فعل میں کی جاتی ہے اسی طرح عدم فعل میں بھی کی جاتی ہے پس یہ بات واضح ہے کہ شارع کا جس پر فعل نہ پایا جائے وہ بدعت ہے اور تحقیق کہ کہا گیا کہ اس (یعنی زبانی نیت کرنے ) کا بدعت ہونا تسلیم مگر یہ بدعت حسنہ ہے اور اسکا استحباب مشائخ نے حضور قلب کے لیے بیان کیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

ملا علی قاری کی اس عبارت کا مکمل جواب ہم ان شاء اللہ اپنے مقام پر دیں گے سر دست تو اتنا عرض ہے کہ اوپر کی عبارت یہ صاف بتلاتی ہے کہ ملا علی قاری کہ نزدیک بھی بدعت کی وہی تعریف ہے کہ جس پر شارع کا عدم فعل پایا جائے اور پھر اس کی دو صورتیں ہونگی سیئہ اور حسنہ لہذا ملا علی قاری زبان سے نیت کے مسئلہ کو بدعت حسنہ قرار دے رہے ہیں نہ کہ آپ لوگوں کی طرح اسے سنت ترکیہ سمجھ کر حرام قرار دے رہے ہیں لہذا اس میں بھی ہمارے موافق دلیل ہے نہ کہ آپکے اور ملا علی قاری کی جو عبارت پیش کی گئی اسے پڑھ کر مجھ کم فہم کو تو یہی سمجھ میں آتا ہے کہ وہاں اصل زیر بحث مسئلہ کچھ اور ہے جبکہ یار لوگوں نے ایک عبارت نکال کر اپنی مطلب براری چاہی ہے ۔ ۔ ۔
لہذا ہمارے فہم کے مطابق ملا علی قاری زبان سے نیت کرنے کے مسئلہ کا افضل ہونا یا نہ ہونا کے باب میں کلام فرمارہے ہیں ناں کے اس باب میں جو کہ یار لوگوں کو مقصود ہے ۔ ۔ ۔ ۔


اقتباس:
میں نے پہلے مراسلے میں جو صحیح احادیث بیان کی ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے تین دن جماعت کے ساتھ خود تراویح کی نماز پڑھائی، اس سے معلوم ہوا کہ ایک امام کے پیچھے تروایح پڑھنا سنت ہے۔ پھر فرض ہونے کے ڈر سے جب اسے ترک کیا تواس طرح نہیں کہ اسے پڑھنا ہی چھوڑ دیا ہو، بلکہ اپنی زبان مبارک سے بارہا اس کے فضائل بیان فرماتے رہے۔ کبھی ایمان و احتساب کے ساتھ قیام کا اجر بیان کیا تو کبھی امام کے ساتھ قیام کرنے کی فضیلت بیان فرمائی، پھر جو لوگ مسجد نبوی میں جماعت کے ساتھ تروایح ادا کرتے تھے انہیں منع نہیں فرمایا۔(اس فورم پرآپ خودقولی، فعلی اور تقریری سنت کے مفاہیم سمجھاتے رہے ہیں، پھر مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آپ نے تراویح کو متروک کیسے قرار دے دیا ہے)۔عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں کوئی نئی عبادت نہیں نکالی تھی، نہ سنت سے ہٹ کر تراویح کی کوئی کیفیت اور طریقہ جاری کیا تھا بلکہ انہوں نےایک امام والی اس سنت کو زندہ کیا تھا جسے فرضیت کے خوف سے چھوڑ دیا گیا تھا۔ بات بہت ہی سادہ اور سمجھ میں آنے والی ہے، بس تعصب اور ضد بازی سے بچنے کی ضرورت ہے۔
جی بالکل میرے بھائی بات بہت ہی سادہ اور سمجھ میں آنے والی ہے، بس تعصب اور ضد بازی سے بچنے کی ضرورت ہے لہزا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مسئلہ میں خود فہم فاروقی رضی اللہ عنہ کو حجت مانا جائے اور اس پر جوں کا توں ایمان لایا جائے اور پھر اسی کی متابعت میں جمہور امت کے فہم ( جو کہ حدیث عمر فاروق سے بدعت حسنہ کے جواز کا قائل ہے ) کو من و عن تسلم کرلیا جائے اور یوں امت میں تفرقہ بازی سے بچا جائے جیسا کہ خود مخالفین کے ائمہ جو کہ بدعت کی کسی بھی قسم کی تقسیم کے قائل نہیں پہلے خود بدعت کو حسنہ یا سیئہ یا پھر بدعت شرعی یا لغوی کے باب میں تقسیم کرتے ہیں اور دلیل کے بطور یہی حدیث عمر فاروق پیش کرتے ہیں اور پھر اگے چل کر انکار کردیتے ہیں اور مختلف تاویلات کرتے ہیں جیسا کہ امام شاطبی کی عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ پہلے انھوں نے خود اسی حدیث سے بدعت کی تقسیم فرمائی اور بدعت حسنہ کو مصالح مرسلہ کے جواز کہ تحت جائز رکھا بعد میں آگے چل کر مخلتف تاویلات فرمائیں ۔ ۔ ۔
باقی ہم پہلے بھی بیان کرچکے کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اس نماز کو بدعت کہنا اسی لیے تھا کہ یہ کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس طرح سے نہیں ہوا کرتا تھا کہ جس طرح سے انھوں نے اپنے زمانہ میں شروع کروایا لہذا جو نئی چیز انھوں نے اس نماز تروایح کے باجماعت ہونے میں شامل کی اسی نئی چیز کے باعث اسے بدعت کہا وگرنہ انکو کیا ضرورت تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ ایک امر کو بدعت کہنے کی ۔ ۔ ۔۔ ۔
اور وہ نئی چیز ہم پہلے بھی بتلا چکے کہ نماز تروایح کا ایک امام کے پیچھے ہونا اور مستقل ہونا یعنی اس پر مداومت و ہمیشگی اختیار کرنا تھا نیز اول وقت میں اس نماز کو ادا کرنا وغیرہ یہ سب باتیں تھیں کہ جس کہ پیش نظر آپ نے فرمایا کہ نعمۃ البدعت ھذہ ۔ ۔ ۔ ۔باقی ماننے والوں کے لیے تو فقط فہم فاروقی ہی کافی چہ جائکہ جمیع امت بھی فہم فاروقی پر ہی ہو جبکہ نا ماننے والوں کے لیے تو دفتر کہ دفتر بھی بیکار
۔ ۔ والسلام
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
ziamurtaza (30-08-10), عبداللہ حیدر (30-08-10)
پرانا 30-08-10, 07:36 AM   #11
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,487
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم،
میرا مسلک اہل السنۃ و الجماعۃ ہے جس کی وضاحت بہت دفعہ کی جا چکی ہے۔ آپ نے اپنے مراسلے میں‌چند پرانے الزامات کو دہرانے کے سوا کوئی بات نہیں کی اس لیے میں‌بھی اس سلسلے کو یہاں آگے نہیں بڑھا رہا۔ متعلقہ تھریڈز میں بات چیت چلتی رہے گی ان شاء اللہ۔
والسلام علیکم
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-01-12), ھارون اعظم (30-08-10), آبی ٹوکول (30-08-10), راجہ اکرام (18-08-11)
پرانا 30-08-10, 02:32 PM   #12
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,997
کمائي: 49,124
شکریہ: 7,300
5,971 مراسلہ میں 15,155 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

دل ہے مسلماں ميرا نہ تيرا | تو بھي نمازي ، ميں بھي نمازي
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-01-12), فاروق سرورخان (30-08-10), ھارون اعظم (30-08-10), منتظمین (30-08-10), طاھر (30-08-10), عبداللہ آدم (30-08-10), عبداللہ حیدر (30-08-10)
پرانا 30-08-10, 06:14 PM   #13
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,610
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں
وعلیکم السلام پیارے بھائی مناظرہ بازی کا مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے
مگر الجھن یہ ہے کہ آپ اور آپکے مکتبہ فکر کا ایک خاص طریقہ کار ہے کے سارے عالم اسلام سے اپنی ایک الگ نئی راہ پر چلنا اور ساری امت مسلمہ کے متفقہ فہم کو نظر انداز کرتے ہوئے محض مخصوص فکر کہ چند علماء کی اندھی تقلید کرنا اور پھر اس پر عدم تقلید کا دم بھی بھرنا ۔ ۔۔ مثلا یہی بدعت والا مسئلہ لے لیجیئے اس میں آپ لوگوں کی رائے آپ کے چند معتبر علماء کے فہم کی روشنی میں پوری امت سے منفرد ہے اور باعث اس کا وہ فہم ہے جو آپ لوگوں کو جمہور کے مقابلے میں آپ کے من پسند علماء کے پیچھے چلنے پر مجبور کرتا ہے مثلا ساری امت کے جمہور علماء بدعت کے مسئلہ میں اس کی حسنہ اور سیئہ میں تقسیم کے قائل ہیں مگر آپ لوگ مخالف ہیں مسئلہ تقلید میں بھی امت کا جمہور بلکہ 99 فی صد ایک طرف اور آپ لوگ ایک طرف اسی طرح تین طلاق والا مسئلہ لے لو ساری امت بشمول چاروں ائمہ ایک طرف آپ لوگ ایک طرف، تراویح کی رکعات کا بیس ہونا لے لو ساری امت بشمول ائمہ اربعہ کے ایک طرف اور آپ لوگ ایک طرف اسی طرح ہر ہر مسئلہ میں جہاں آپ جمہور سے اختلاف کرتے ہیں آپ لوگوں کے پیش نظر جمہور کے مقابلے میں سوائے فہم علامہ ابن تیمیہ ،ابن قیم و حزم ، داؤد ظاہری اور چند نجدی علماء کے کچھ نہیں ہوتا یہی چند لوگ آپ کے پلہ میں ہوتے ہیں اور انہی کی بنیاد پر آپ لوگ جمیع امت سے انفرادیت اختیار کرتے ہوئے ان پر فتوے سرزد فرماتے ہیں خیرررررررررر ۔ ۔ ۔ ۔



میرے بھائی اس تھریڈ میں تو عادل بھائی کے دلائل کے پورا ہونے کا مجھے بھی انتظار ہے مگر جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ وہ مصروف ہیں اور رمضان میں انکی مصروفیت اور بھی بڑھ جاتی بقول انکے تو ہم انتظار ہی کرسکتے ہیں اور جہاں تک بات ہے ملا علی قاری کی عبارت کی تو اس میں ایسی کوئی چیز نہیں جو کہ آپ لوگوں کہ فلسفہ " سنت ترکیہ " کو تقویت پہنچائے کیونکہ آپ لوگوں کہ نزدیک مطلقا ہر ترک ہی سنت ترکیہ ہے جبکہ محقیقین کہ نزدیک ترک کی اقسام ہیں مطلقا ہر مقام پر ہر ترک کبھی بھی سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں کہلواتا اسکی میں پہلے بھی وضاحت کرچکا ہوں لیکن آپ لوگ ہیں کہ سمجھ کے ہی نہیں دے رہے ۔ ۔ لہزا خوب سمجھ لیجیئے ملا علی قاری کی جو عبارت نقل کی گئی ہے اس میں زبان سے نیت کے مسئلہ کو بدعت تسلیم کرتے ہوئے بدعت حسنہ سے تعبیر کیا گیا ہے نہ کے آپ کے فلسفہ کی مطابق مطلقا ترک ہی سے سنت ترکیہ قرار دے کر حرام قرار دیا گیا ہے وہ الفاظ درج زیل ہیں جو کہ آپکے دعوٰی کی دلیل ہرگز نہیں بن سکتے ۔ ۔

والمتابعة كما تكون في الفعل تكون في الترك أيضاً فمن واظب على فعل لم يفعله الشارع فهو مبتدع و قد يقال نسلم إنها بدعة لكنها مستحسنة استحبها المشايخ للاستعانة على استحضار النية ۔۔۔۔۔

ترجمہ :- یعنی متابعت جس طرح فعل میں کی جاتی ہے اسی طرح عدم فعل میں بھی کی جاتی ہے پس یہ بات واضح ہے کہ شارع کا جس پر فعل نہ پایا جائے وہ بدعت ہے اور تحقیق کہ کہا گیا کہ اس (یعنی زبانی نیت کرنے ) کا بدعت ہونا تسلیم مگر یہ بدعت حسنہ ہے اور اسکا استحباب مشائخ نے حضور قلب کے لیے بیان کیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

ملا علی قاری کی اس عبارت کا مکمل جواب ہم ان شاء اللہ اپنے مقام پر دیں گے سر دست تو اتنا عرض ہے کہ اوپر کی عبارت یہ صاف بتلاتی ہے کہ ملا علی قاری کہ نزدیک بھی بدعت کی وہی تعریف ہے کہ جس پر شارع کا عدم فعل پایا جائے اور پھر اس کی دو صورتیں ہونگی سیئہ اور حسنہ لہذا ملا علی قاری زبان سے نیت کے مسئلہ کو بدعت حسنہ قرار دے رہے ہیں نہ کہ آپ لوگوں کی طرح اسے سنت ترکیہ سمجھ کر حرام قرار دے رہے ہیں لہذا اس میں بھی ہمارے موافق دلیل ہے نہ کہ آپکے اور ملا علی قاری کی جو عبارت پیش کی گئی اسے پڑھ کر مجھ کم فہم کو تو یہی سمجھ میں آتا ہے کہ وہاں اصل زیر بحث مسئلہ کچھ اور ہے جبکہ یار لوگوں نے ایک عبارت نکال کر اپنی مطلب براری چاہی ہے ۔ ۔ ۔
لہذا ہمارے فہم کے مطابق ملا علی قاری زبان سے نیت کرنے کے مسئلہ کا افضل ہونا یا نہ ہونا کے باب میں کلام فرمارہے ہیں ناں کے اس باب میں جو کہ یار لوگوں کو مقصود ہے ۔ ۔ ۔ ۔



جی بالکل میرے بھائی بات بہت ہی سادہ اور سمجھ میں آنے والی ہے، بس تعصب اور ضد بازی سے بچنے کی ضرورت ہے لہزا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مسئلہ میں خود فہم فاروقی رضی اللہ عنہ کو حجت مانا جائے اور اس پر جوں کا توں ایمان لایا جائے اور پھر اسی کی متابعت میں جمہور امت کے فہم ( جو کہ حدیث عمر فاروق سے بدعت حسنہ کے جواز کا قائل ہے ) کو من و عن تسلم کرلیا جائے اور یوں امت میں تفرقہ بازی سے بچا جائے جیسا کہ خود مخالفین کے ائمہ جو کہ بدعت کی کسی بھی قسم کی تقسیم کے قائل نہیں پہلے خود بدعت کو حسنہ یا سیئہ یا پھر بدعت شرعی یا لغوی کے باب میں تقسیم کرتے ہیں اور دلیل کے بطور یہی حدیث عمر فاروق پیش کرتے ہیں اور پھر اگے چل کر انکار کردیتے ہیں اور مختلف تاویلات کرتے ہیں جیسا کہ امام شاطبی کی عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ پہلے انھوں نے خود اسی حدیث سے بدعت کی تقسیم فرمائی اور بدعت حسنہ کو مصالح مرسلہ کے جواز کہ تحت جائز رکھا بعد میں آگے چل کر مخلتف تاویلات فرمائیں ۔ ۔ ۔
باقی ہم پہلے بھی بیان کرچکے کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اس نماز کو بدعت کہنا اسی لیے تھا کہ یہ کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس طرح سے نہیں ہوا کرتا تھا کہ جس طرح سے انھوں نے اپنے زمانہ میں شروع کروایا لہذا جو نئی چیز انھوں نے اس نماز تروایح کے باجماعت ہونے میں شامل کی اسی نئی چیز کے باعث اسے بدعت کہا وگرنہ انکو کیا ضرورت تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ ایک امر کو بدعت کہنے کی ۔ ۔ ۔۔ ۔
اور وہ نئی چیز ہم پہلے بھی بتلا چکے کہ نماز تروایح کا ایک امام کے پیچھے ہونا اور مستقل ہونا یعنی اس پر مداومت و ہمیشگی اختیار کرنا تھا نیز اول وقت میں اس نماز کو ادا کرنا وغیرہ یہ سب باتیں تھیں کہ جس کہ پیش نظر آپ نے فرمایا کہ نعمۃ البدعت ھذہ ۔ ۔ ۔ ۔باقی ماننے والوں کے لیے تو فقط فہم فاروقی ہی کافی چہ جائکہ جمیع امت بھی فہم فاروقی پر ہی ہو جبکہ نا ماننے والوں کے لیے تو دفتر کہ دفتر بھی بیکار
۔ ۔ والسلام
بلاتبصرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-01-12), فیصل ناصر (30-08-10), راجہ اکرام (18-08-11), طلحہ (30-08-10), عبداللہ آدم (30-08-10), عبداللہ حیدر (30-08-10)
پرانا 30-08-10, 10:26 PM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 301
کمائي: 7,143
شکریہ: 256
262 مراسلہ میں 945 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
آپ لوگوں کے پیش نظر جمہور کے مقابلے میں سوائے فہم علامہ ابن تیمیہ ،ابن قیم و حزم ، داؤد ظاہری اور چند نجدی علماء کے کچھ نہیں ہوتا یہی چند لوگ آپ کے پلہ میں ہوتے ہ

جیسا کہ خود مخالفین کے ائمہ جو کہ بدعت کی کسی بھی قسم کی تقسیم کے قائل نہیں پہلے خود بدعت کو حسنہ یا سیئہ یا پھر بدعت شرعی یا لغوی کے باب میں تقسیم کرتے ہیں اور دلیل کے بطور یہی حدیث عمر فاروق پیش کرتے ہیں اور پھر اگے چل کر انکار کردیتے ہیں اور مختلف تاویلات کرتے ہیں جیسا کہ امام شاطبی کی عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ پہلے انھوں نے خود اسی حدیث سے بدعت کی تقسیم فرمائی اور بدعت حسنہ کو مصالح مرسلہ کے جواز کہ تحت جائز رکھا بعد میں آگے چل کر مخلتف تاویلات فرمائیں۔ ۔ ۔۔

۔ ۔ ۔ ۔باقی ماننے والوں کے لیے تو فقط فہم فاروقی ہی کافی چہ جائکہ جمیع امت بھی فہم فاروقی پر ہی ہو جبکہ نا ماننے والوں کے لیے تو دفتر کہ دفتر بھی بیکار ۔
ابن تیمیہ، ابن قیم، داؤد ظاہری اور امام شاطبی وغیرہ کیا امت محمدیہ کے علماء میں سے نہیں ہیں جو آپ انہیں "جمیع امت" کے مقابلے پر پیش کر رہے ہیں؟؟؟

Last edited by طلحہ; 30-08-10 at 10:28 PM.
طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
طلحہ کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (16-01-12)
پرانا 31-08-10, 12:23 AM   #15
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طلحہ مراسلہ دیکھیں
ابن تیمیہ، ابن قیم، داؤد ظاہری اور امام شاطبی وغیرہ کیا امت محمدیہ کے علماء میں سے نہیں ہیں جو آپ انہیں "جمیع امت" کے مقابلے پر پیش کر رہے ہیں؟؟؟
نہیں میرے بھائی بلا شبہ یہ تمام علماء امت محمدیہ میں سے ہی ہیں اور انکا فہم بھی اپنی جگہ حجت ہے مگر مسئلہ تو تب ہوتا یے جب بعض مسائل میں ان میں سے بعض کا فہم جمہور کے مخالف ہو تو یار لوگ اس منفرد فہم کو بنیاد بنا کر جمیع امت کو گمراہ ٹھرانے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ میں کہتا ہوں کہ خدا کے بندو جس طرح سے تم ان بعض لوگوں کے فہم کو بنیاد بنائے ہو اسی طرح سے دوسری طرف بھی جمہور علماء کا فہم لہذا خدا کہ واسطے ہر مسئلہ میں شرک و بدعت کے بے دھڑک فتوے نہ لگایا کرو ۔ ۔ بس یہی اختلاف ہے میرا ان سب کے ساتھ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو دکھا سکتا ہوں بہت سے شرک و بدعت کے بے دھڑک فتوے ۔ ۔ ۔ والسلام
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-01-12), ziamurtaza (31-08-10)
جواب

Tags
arabic, فرض, کتابوں, گمان, قرآن, نماز, ماں, مسجد, مسجد نبوی, معلوم, آدمی, ایمان, اللہ, جلد, حدیث, دریافت, رمضان, رات, سحری, صفحہ, صلاۃ, صبح, صحیح, صحابہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ارباب رحیم سے بدسلوکی جاوید پٹھان کیخلاف مقدمے کی سماعت عبدالقدوس خبریں 0 16-04-08 07:58 AM
بش انتظامیہ کو (ن) لیگ کی سوچ پر تشویش لاحق ہے،طلعت مسعود عبدالقدوس خبریں 0 16-04-08 07:42 AM
جیو پر پابندی کیخلاف درخواستیں،سندھ ہائیکورٹ میں5بار سماعت کے بعد ناقابل سماعت قرار دے کر خارج خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-12-07 08:28 AM
توہین عدالت پر چیف الیکشن کمشنرکیخلاف درخواست کی سماعت بعد میں کرینگے، جسٹس جاوید اقبال خرم شہزاد خرم خبریں 0 26-10-07 11:18 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:59 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger