واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > متفرقات



متفرقات متفرقات


اسلام میں بیعت کس کی ہے؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-07-10, 05:09 PM  
اسلام میں بیعت کس کی ہے؟
محمد عاصم محمد عاصم آف لائن ہے 15-07-10, 05:09 PM

بسم اللہ الرحمن الرحیم

آجکل جہاں اور بہت سے اسلامی مسائل میں ایک عام آدمی صحیح فیصلہ نہیں کر پارہا ان میں ایک اہم مسئلہ بیعت کا بھی ہے کہ وہ کس کے ہاتھ پر بیعت کر کے جاہلیت کی موت سے بچ سکے کیونکہ اس پر احادیث موجود ہیں کہ جس نے بیعت نہ کی اور مرگیا تو اس کا مرنا جاہلیت کا سا مرنا ہے، اور یہ معاملہ ہے بھی بہت تشویش والا اس میں ہم سب کو پریشانی ہونی چاہیے کہ کہیں وہ جاہلیت کی موت نہ مارا جائے۔ تو بعض لوگوں نے اس کا غلط مطلب لے کر یہ ثابت کرنے کی بھی کوشش کی ہے کہ اب بیعت ہے ہی نہیں ہےبیعت تو اسلام کی ہوا کرتی تھی اس کے علاوہ کون سی بیعت ہوتی ہے، تو اس طرح انہوں نے بیعت کا ہی انکار کر دیا ہےجو کہ اچھی بات نہیں ہے۔ اور بعض لوگوں نے اس بیعت کو ہرکسی کے لیے جائز ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ آدمی کو جو کوئی بھی اچھالگے تو اس کی بیعت کر لینی چاہیے وہ جائز ہے، اور اب چاہے ایک ہی علاقے میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ ہوں کہ جن کے ہاتھ پر بیعت کی گئی ہوئی ہو، تو یہ دونوں طریقے قرآن و سنت سے ہٹے ہوئے ہیں، اب یہ عرض بھی کرتا چلوں کہ اب کوئی یہ نہ کہے کہ فلاں مولوی صاحب نے اس پیری مریدی کو جائز کہا ہے فلاں نے اس کو جائز کہا ہے بلکہ خود بیعت لیتے ہیں تو محترم بہن بھائیو ہم نے جس عظیم ہستی کی رسالت کا اقرار کلمے میں کیا ہے ہم کو چاہیے کہ اپنے عمل سے بھی اس کو ثابت کریں اور جو حقِ پیروی ان صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے وہ کسی کو بھی نہ دیں، کیونکہ دین اسلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی مکمل ہو گیا تھا اگر تو کوئی قرآن و صحیح حدیث سے موجودہ پیری مریدی کو ثابت کردے تو صحیح ورنہ کسی کی بات کو جواز بنا کر ہم دین میں کوئی اضافہ کرنے کی جسارت نہ کریں تو یہ ہمارے حق میں اچھا رہے گا۔
ان شاءاللہ تعالي۔
اب آتے ہیں اس بات کی طرف کہ قرآن و صحیح حدیث میں جو بیعت کا ذکر ہے وہ بیعت کس کی ہے اور اس کا مقصد کیا ہے، اللہ سے دُعا ہے کہ وہ حق بات کرنے، حق بات کو قبول کرنے اور حق بات پر عمل کرنے کی ہم سب کو توفیق دے۔ آمین یا رب العالمین۔


ابوالنعمان، ابوعوانہ، حضرت زیاد بن علاقہ کہتے ہیں کہ جس دن مغیرہ بن شعبہ کا انتقال ہوا، اس دن میں نے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا (پہلے) وہ کھڑے ہو گئے اور اللہ کی حمد وثناء بیان کی، پھر (لوگوں سے مخاطب ہو کر) کہا، کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میں آپ سے اسلام پربیعت کرتا ہوں، تو آپ نے مجھ سے مسلمان رہنے اور ہر مسلمان سے خیر خواہی کرنے کی شرط پربیعت لی، پس میں نے اسی پر آپ سے بیعت کی، قسم ہے اس مسجد کے پروردگار کی، بے شک میں تم لوگوں کا خیر خواہ ہوں اس کے بعد انہوں نے استغفار کیا اور (منبر سے) اتر آئے۔
صحیح بخاری:جلد اول:کتاب : ایمان کا بیان
اس حدیث سے ثابت ہو کہ اسلام کی بیعت بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیا کرتے تھے اور ساتھ ہر مسلم کی خیر خواہی چاہنے کی بھی، اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مختلف باتوں پر بھی بیعت لی تھی مثلا شرک نہ کرنے،زنا نہ کرنے، چوری نہ کرنے، کسی پر بہتان نہ باندھنے، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی نہ کرنے، جہاد سے نہ باگنے وغیرہ پر بھی بیعت لی گئی ہے دوسری سب بیعتیں اسلام کی بیعت کے بعدلی جاتی تھیں۔
حضرت نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ واقعہ حرہ کے وقت جو یزید بن معاویہ کے دور حکومت میں ہوا عبد اللہ بن مطیع کے پاس آئے تو ابن مطیع نے کہا ابوعبدالرحمن کے لئے غالیچہ بچھاؤ تو ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں آپ کے پاس بیٹھنے کے لئے نہیں آیا میں تو آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں کہ آپ کو ایسی حدیث بیان کروں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اطاعت امیر سے ہاتھ نکال لیا تو وہ قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اسکے پاس کوئی دلیل نہ ہوگی اور جو اس حال میں مرا کہ اسکی گردن میں بیعت کا قلادہ نہ ہو وہ جاہلیت کی موت مرا۔
صحیح مسلم:جلد سوم: امارت اورخلافت کا بیان
اب بات آتی ہے کہ نبی علیہ السلام کے بعد بیعت کس کی کرنے کا حکم ہے کہ جس کو نہ کرنے سے مسلمان کی موت جاہلیت کی موت بن جاتی ہے، اور ہاں یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ بعض لوگ جاہلیت کی موت کو کفر کی موت قرار دیتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے اس بیعت کے معاملے میں جتنی بھی احادیث ملتی ہیں سبھی میں جاہلیت کی موت ہی کہا گیا ہے نہ کہ کفر کی موت، اگر یہ کفر کی موت مراد لی جائے تو اس وقت کوئی بھی مسلمان نہیں رہے گا:::کیونکہ اس وقت خلیفہ کا وجود بظاہر کہیں نظر نہیں آ رہا کہ جس کے ہاتھ پر بیعت کی جائے::: بلکہ اس بات کو اتنا ہی لینا ہے جتنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سے تجاوز کرنا بھی جاہلیت ہے تو کیا اس کو کوئی کفر کہے گا؟؟؟ اس حدیث میں جو فرمایا گیا ہے کہ جس نے اطاعت امیر سے ہاتھ نکالا، کا مطلب ہے کہ جس نے خلیفہ کی بیعت کو توڑا قیامت کے دن اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی عذاب سے بچنے کے لیے،
اصل میں معاملہ ہمیشہ تبھی خراب ہوتا ہے جب انسان اپنی ناقص عقل کو یا کسی اور کے فہم اور سوچ کو دین کے یا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے مقابلے پر استعمال کرتا ہے، اگر ہم بات کو اتنا ہی لیں جتنا کہ ہم کو بتائی گئی ہے تو ممکن نہیں کہ کوئی مسئلہ بنے۔
آگے چلتے ہیں۔۔۔۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دوسرا خطبہ سنا جب کہ وہ منبر پر بیٹھے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا دوسرا دن تھا، انہوں نے خطبہ پڑھا اور حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ خاموش بیٹھے ہوئے تھے، کچھ نہیں بول رہے تھے، انہوں نے کہا کہ میں امید کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زندہ رہیں گے، یہاں تک کہ ہمارے بعد انتقال فرمائیں گے، پھر اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتقال فرما گئے تو اللہ نے تمہارے سامنے نور پیدا کر دیا ہے کہ جس کے ذریعے تم ہدایت پاتے ہو، جس سے اللہ تعالی نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہدایت کی بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو غار میں دوسرے ساتھی تھے مسلمانوں میں سے تمہارے امور کے مالک ہونے کے زیادہ مستحق ہیں، اس لئے اٹھو اور ان کی بیعت کرو، ان میں سے ایک جماعت اس سے پہلے سقیفہ بنی ساعدہ ہی میں بیعت کر چکی تھی، اور عام بیعت منبر پر ہوئی، زہری نے حضرت انس بن مالک، کا قول نقل کیا ہے، کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس دن سنا کہ حضرت ابوبکر سے کہتے ہوئے کہ منبر پر چڑھیے اور برابر کہتے رہے، یہاں تک کہ وہ منبر پر چڑھے اور لوگوں نے عام بیعت کی۔
صحیح بخاری:جلد سوم: کتاب: احکام کے بیان
عبد اللہ بن محمد بن اسماء، جویریہ، مالک، زہری، حمید بن عبدالرحمن، مسور بن مخرمہ سے روایت کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا) میں اللہ اور اس کے رسول علیہ السلام اور آپ دونوں خلیفہ کی سنت پر آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی بیعت کی اور تمام لوگوں نے مہاجرین و انصار، سرداران لشکر اور مسلمانوں نے بیعت کی۔
صحیح بخاری:جلد سوم: کتاب: احکام کے بیان
ان واقعات سے ثابت ہو رہا ہے کہ نبی علیہ السلام کے بعد بیعت خلیفہ کا حق ہے نہ کہ کسی اور کا اور اس پر بےشمار احادیث مبارکہ موجود ہیں کہ بیعت خلیفہ، امام، امیرالمومین کے ہاتھ پر ہوتی ہے اس کی دلیل میں اور حدیث دیتا ہوں۔ نبی علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ قَاعَدْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ خَمْسَ سِنِينَ فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمْ الْأَنْبِيَائُ کُلَّمَا هَلَکَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَسَتَکُونُ خُلَفَائُ تَکْثُرُ قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ فُوا بِبَيْعَةِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ وَأَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ
صحیح مسلم:جلد سوم: امارت اورخلافت کا بیان
حضرت ابوحازم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں پانچ سال تک حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ رہا تو میں نے ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث روایت کرتے ہوئے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کی سیاست ان کے انبیاء کرتے تھے جب کوئی نبی وفات پا جاتا تو اس کا خلیفہ ونائب نبی ہوتا تھا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور عنقریب میرے بعد خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے صحابہ نے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم دیتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وفاداری کرو پہلی بیعت ( کے حامل) کے ساتھ اور پھر پہلی بیعت کے ساتھ، اور احکام کا حق انکو ادا کرو بے شک اللہ ان سے انکی رعایا کے بارے میں سوال کرنے والا ہے۔
صحیح مسلم:جلد سوم: امارت اورخلافت کا بیان
یعنی کہ بنی اسرائیل میں ایک نبی کی وفات کے بعد دوسرا نبی ہی آتا تھا جو ان کی سیاست و امارت کرتا تھا، ہمارے نبی علیہ السلام کے بعد کیونکہ کوئی نبی نہیں آنا تھا اس لیے فرمایا کہ میرے بعد خلفاء ہوں گے:::یہ بھی ممکن ہے اس سے مراد ایک کے بعد ایک خلیفہ مراد ہو::: تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ ایک وقت میں اگر زیادہ خلفاء ہوں تو پھر کیا حکم ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ:::فُوا بِبَيْعَةِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ::: تم وفاداری کرو پہلی بیعت ( کے حامل) کے ساتھ اور پھر پہلی بیعت کے ساتھ، یعنی کہ اگر ایسا ہو تو جس کے ہاتھ پر پہلے بیعت ہوئی ہوگی اس خلیفہ کی اطاعت کی جائے گی اس سے یہ چیز بھی ملتی ہے کہ ایسا ممکن ہے کہ ایک وقت میں دنیا میں دو، تین یاچار خلیفہ اس وجہ سے ہوں کہ ایک دوسرے کے علم میں نہ ہو کہ کوئی اور بھی خلیفہ ہے تو پھر کسی طرح ان کا آپس میں ملاپ ہوتا ہے پھر دونوں یہ بات دیکھیں گے کہ پہلے کس کے ہاتھ پر بیعت ہوئی ہے تو جو پہلا خلیفہ ہو گا اس کی خلافت قائم رہے گی دوسری کی ختم ہوجائے گی اور دوسرا خلیفہ خود اور اپنے مامورین کے ساتھ پہلی بیعت کے حامل خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کرئے گا کیونکہ اب شرعی خلیفہ پہلا ہے نہ کہ بعد والا یہی طریقہ آخر کار تمام خلفاء اور مسلمانوں کو مجتمع کردے گا ایک امام کے ہاتھ پر، ان شاءاللہ
اسلام میں ایک وقت میں صرف ایک خلیفہ ، امام ، امیرالمومین ہوتا ہے اگر کوئی دوسرا پہلے کے ہوتے بیعت لے تو اس کو قتل کرنے کا حکم نبی علیہ السلام نے دیا ہے، اسلام امت میں وحدت و اتحاد کا داعی ہے نہ کہ افتراق و انتشار کا، اسی لیے آپ علیہ السلام نے اتنا سخت حکم فرمایا ہے کہ دوسرے کو قتل کردیا جائے چاہے وہ کوئی بھی ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےارشادات مبارکہ ہیں کہ
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب دو خلفاء کی بیعت کی جائے تو ان دونوں میں سے دوسرے کو قتل کردو۔
صحیح مسلم:جلد سوم: امارت اورخلافت کا بیان
اس سے مراد یہ ہے کہ جس کسی نے پہلے خلیفہ کے ہوتے دوسری بیعت لی ہے اور اس کو علم ہو کہ پہلے ایک خلیفہ موجود ہے تو اس کو قتل کیا جائے گا کیونکہ اس نے امت میں تفرق پیدا کرنا چاہا ہے۔
حضرت عبدالرحمن بن عبد رب کعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ ان کے ارد گرد جمع تھے میں ان کے پاس آیا اور ان کے پاس بیٹھ گیا تو عبد اللہ نے کہا ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ہم ایک جگہ رکے ہم میں سے بعض نے اپنا خیمہ لگانا شروع کردیا اور بعض تیراندازی کرنے لگے اور بعض وہ تھے جو جانوروں میں ٹھہرے رہے اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے آواز دی الصلوة جامعة یعنی نماز کا وقت ہوگیا ہے تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے سے قبل کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کے ذمے اپنے علم کے مطابق اپنی امت کی بھلائی کی طرف راہنمائی لازم نہ ہو اور برائی سے اپنے علم کے مطابق انہیں ڈرانا لازم نہ ہو اور بے شک تمہاری اس امت کی عافیت ابتدائی حصہ میں ہے اور اس کا آخر ایسی مصیبتوں اور امور میں متبلا ہوگا جسے تم ناپسند کرتے ہو اور ایسا فتنہ آئے گا کہ مومن کہے گا یہ میری ہلاکت ہے پھر وہ ختم ہو جائے گا اور دوسرا ظاہر ہوگا تو مومن کہے گا یہی میری ہلاکت کا ذریعہ ہوگا جس کو یہ بات پسند ہو کہ اسے جہنم سے دور رکھا جائے اور جنت میں داخل کیا جائے تو چاہیے کہ اس کی موت اس حال میں آئے کہ وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور لوگوں کے ساتھ اس معاملہ سے پیش آئے جس کے دیئے جانے کو اپنے لئے پسند کرے اور جس نے خلیفہ کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر دل کے اخلاص سے بیعت کی تو چاہیے کہ اپنی طاقت کے مطابق اس کی اطاعت کرے اور اگر دوسرا شخص اس سے جھگڑا کرے:::یعنی وہ بھی بیعت لینا شروع کر دے::: تو دوسرے کی گردن مار دو راوی کہتا ہے پھر میں عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے قریب ہوگیا اور ان سے کہا میں تجھے اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کیا آپ نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تو عبد اللہ نے اپنے کانوں اور دل کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا میرے کانوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور میرے دل نے اسے محفوظ رکھا۔۔۔۔۔۔۔الخ
صحیح مسلم:جلد سوم: امارت اورخلافت کا بیان

حضرت عرفجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے تم اپنے معاملات میں کسی ایک آدمی پر متفق ہو پھر تمہارے پاس کوئی آدمی آئے اور تمہارے اتحاد کی لاٹھی کو توڑنے یا تمہاری جماعت میں تفریق ڈالنا چاہے تو اسے قتل کر دو۔
صحیح مسلم:جلد سوم: امارت اورخلافت کا بیان

حضرت عرفجہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ عنقریب میری امت میں فساد ہوگا، فساد ہوگا، پس جو شخص مسلمانوں کے متفق مجمع میں پھوٹ ڈالنے کا ارادہ کرے تو اسے تلوار سے مار ڈالو خواہ وہ کوئی بھی ہو۔
سنن ابوداؤد:جلد سوم:

احمد بن یحیی صوفی، ابونعیم، یزید بن مردانبة، زیاد بن علاقة، عرفجة بن شریح الاشجعی سے روایت ہے کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر خطبہ دے رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے بعد نئی نئی باتیں ہوں گی (یا فتنہ فساد کا زمانہ آئے گا) تو تم لوگ جس کو دیکھو کہ اس نے جماعت کو چھوڑ دیا یعنی مسلمانوں کے گروہ سے وہ شخص علیحدہ ہوگیا اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں پھوٹ ڈالی اور تفرقہ پیدا کیا تو جو شخص ہو تو تم اس کو قتل کر ڈالو کیونکہ اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے (یعنی جو جماعت اتفاق و اتحاد پر قائم ہے تو وہ اللہ کی حفاظت میں ہے) اور شیطان اس کے ساتھ ہے جو کہ جماعت سے علیحدہ ہو وہ اس کو لات مار کر ہنکاتا ہے۔
سنن نسائی:جلد سوم:
ان ارشادات سے واضح ہوا کہ دوسری بیعت لینے والا واجب القتل ہے، تو آجکل جو کچھ ہورہا ہے وہ آپ سب کے سامنے ہے کہ ایک ہی علاقے، شہر،قصبہ، گاوں میں کئی کئی لوگ بیعت لے رہے ہیں، جبکہ اسلام میں پوری دنیا میں ایک وقت میں صرف ایک امام خلیفہ ہوتا ہےکہ جس کے ہاتھ پر سب مسلم بیعت کرتے ہیں ، اور جو آجکل ہو رہا ہےآخر کس دلیل سے یہ کام دین بنا کر پیش کیا جا رہا ہے اور ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ جس نے بیعت نہ کی اس کا جنازہ بھی جائز نہیں ہے، مجھے آج تک اس کی دلیل نہیں مل سکی جب کہ میں نے کئی علماء جو کہ اس کے قائل ہیں سے اس کی دلیل مانگی ہے مگر کوئی بھی صحیح سند سے اس مروجہ پیری مریدی کا ثبوت قرآن و صحیح حدیث سے نہیں دے سکا۔ اگر آپ میں سے کسی بھائی یا بہن کے پاس اس مروجہ پیری مریدی کی دلیل ہو تو مجھے ضرور دیں۔ جزاک اللہ
میں اس پیری مریدی کے سسٹم کو اس نظر سے بھی دیکھتا ہوں کہ کہیں یہ اس لیے تو نہیں چلایا گیا کہ لوگ خلافت کے نظام کو ہی بھول جائیں جو کہ اسلام کی روح و جان ہے اور وہ بس اس گورکھ دندھے کو ہی خلافت کا نظام سمجھنےلگیں، اسی لیے ان لوگوں نے پیری مریدی کے سسٹم میں خلیفہ کا نام استعمال کیا ہے کہ جی یہ فلاں سنسلہ کے خلیفہ ہیں اور یہ فلاں سنسلہ کے خلیفہ ہیں، یہی بات اس کی دلیل بنتی ہے کہ لوگوں کو بیوقوف بنایا جائے کہ دیکھو جی احادیث میں بھی یہی ہے کہ خلیفہ کی بیعت کی جائے تو ہمارا یہ خلیفہ ہے۔
کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں یہ سب باتیں اپنے منہ کی کررہا ہوں نہیں بلکہ میں اس سارے سسٹم کا حصہ رہا ہوں۔
میں اس سارے سسٹم سے کیسے نکلا یہ لمبی کہانی ہے۔

کسی خلیفہ کی بیعت توڑنا کبیرا گناہوں میں سے ہے کہ جس کو جاہلیت بھی کہا گیاہے تو اس کا مطلب کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ خلیفہ اسلام میں کوئی ایسی اہمیت رکھتا ہے کہ اس کی ہر بات کو قبول کرنا فرض ہے اگر نہ مانی تو گناہ ملے گا تو اس بات کی وضاحت کے لیے نبی علیہ السلام کے فرمان پیش کرتا ہوں جس سے اس مسئلے کی وضاحت بھی ہوجائے گی ان شاءاللہ

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اس پر ایک شخص کو امیر مقرر کیا اس نے آگ سلگائی اور لوگوں کو حکم دیا کہ اس میں داخل ہو جاؤ، چناچہ کچھ لوگوں نے اس میں داخل ہونا چاہا، اور بعض نے کہا ہم تو آگ سے بچنے کے لئے اسلام لائے ہیں لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حال بیان کیا تو جن لوگوں نے اس آگ میں داخل ہونا چاہا تھا ان سے آپ نے فرمایا کہ اگر تم لوگ اس میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک اس میں رہتے اور لوگوں سے فرمایا کہ گناہ میں اطاعت نہ کرو، اطاعت صرف نیکی میں ہے۔
صحیح بخاری:جلد سوم:باب:امام کا حکم سننے اور اطاعت کرنے کا بیان جب تک کہ گناہ کا کام نہ ہو

اسماعیل، ابن وہب، عمرو، بکیر، بسر بن سعید، جنادہ بن ابی امیہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم لوگ عبادہ بن صامت کے پاس گئے وہ بیمار تھے، ہم لوگوں نے کہا اے اللہ کے بندے آپ اصلاح کردیں آپ کوئی حدیث بیان کریں جو آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو تاکہ اللہ آپ کو اس کا نفع پہنچائے، انہوں نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم لوگوں کو بلایا اور ہم نے آپ کی بیعت کی آپ نے جن باتوں کی ہم سے بیعت لی وہ یہ تھیں، کہ ہم بیعت کرتے ہیں اس بات پر ہم اپنی خوشی اور اپنے غم میں اور تنگدستی اور خوشحالی، اور اپنے اوپر ترجیح دئیے جانے کی صورت میں سنیں گے اور اطاعت کریں گے اور خلیفہ سے نزاع نہیں کریں گے لیکن اعلانیہ کفر پر، جس پر اللہ کی طرف سے دلیل ہو۔
صحیح بخاری:جلد سوم: کتاب: احکام کے بیان

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ رُزَيْقِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خِيَارُ أَئِمَّتِکُمْ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَکُمْ وَيُصَلُّونَ عَلَيْکُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ وَشِرَارُ أَئِمَّتِکُمْ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَکُمْ وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَکُمْ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ بِالسَّيْفِ فَقَالَ لَا مَا أَقَامُوا فِيکُمْ الصَّلَاةَ وَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْ وُلَاتِکُمْ شَيْئًا تَکْرَهُونَهُ فَاکْرَهُوا عَمَلَهُ وَلَا تَنْزِعُوا يَدًا مِنْ طَاعَةٍ
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے اماموں میں سے بہتر وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت کرتے ہیں اور وہ تمہارے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور تم ان کے لئے دعاۓ مغفرت کرتے ہو اور تمہارے خلیفہ میں سے برے خلیفہ وہ ہیں جن سے تم دشمنی رکھتے ہو اور وہ تم سے بغض رکھتے ہوں اور تم انہیں لعنت کرو اور وہ تمہیں لعنت کریں عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول کیا ہم انہیں تلوار کے ساتھ قتل نہ کردیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں اور جب تک اپنے حاکموں میں کوئی ایسی چیز دیکھو جسے تم ناپسند کرتے ہو تو اس کے اس عمل کو ناپسند کرو اور اطاعت وفرمانبرداری سے ہاتھ مت کھینچو۔
صحیح مسلم:جلد سوم:باب : اچھے اور برے حاکموں کے بیان میں
ان ارشادات سے واضح ہوا کہ اطاعت صرف معروف کاموں میں ہے یعنی جو کام قرآن و صحیح حدیث سے ثابت ہو اس کو کرنا لازمی ہے اور ایسے کام کا حکم کہ جو قرآن و حدیث کے خلاف ہو اس کو نہ سننا ہے اور نہ ہی اس پر عمل کرنا ہے یعنی کہ خلیفہ کی اطاعت قرآن و حدیث کے ساتھ مشروط ہے۔ دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ اگر امام خلیفہ عام مسلمانوں میں نماز قائم کرنا چھوڑ دے اور یا اس سے کوئی کفر بواح:::واضح کفر:::سرزد ہوجائے اور وہ توبہ نہ کرئے اور نہ ہی خلافت کو چھوڑئے تو اس کے خلاف بغاوت کرنا بھی جائز ہے بلکہ بغاوت کرنا فرض بن جاتا ہے۔
ان سب احادیث کو سامنے رکھیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بیعت خلیفہ، امام،امیر المومین کا حق ہے یہ حق کسی اور کے پاس ہے نہ ہی کسی اور کو یہ حق دیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ حق خلیفہ نے خود اپنے لیے مخصوص نہیں کیا بلکہ یہ نبی علیہ السلام کا حکم ہے کہ خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کی جائے اور یہ بھی حکم دے دیا گیا کہ اگر ایک خلیفہ کے ہوتے کوئی اور اُٹھے اور بیعت لے تو اس کو قتل کیا جائے تاکہ امتِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تفرقہ پیدا نہ ہو اور یہ آپس میں متحد رہیں قرآن میں بھی اس بات پر بہت زور دیا گیا ہے کہ اجتماعیت کو قائم کیا جائے اور تفرق سے بچا جائے بعض جگہ تفرق کو مشرکین کا فعل کہا گیا اور اس سے مسلمانوں کو ڈرایا گیا کہ مشرکین کی طرح متفرق نہ ہوجانا، ان سب احکامات کے ہوتے ہوئےپھر کس دلیل و نص کے ساتھ ایسا سسٹم ایجاد کیا گیا ہے کہ جس کی وجہ سے امت میں ہزاروں خلفاء بنا لیے گئے ہیں اور جو دین ہم کو ہر جگہ اتحاد کا درس دیتا ہے وہی دین ہم کو انتشار کا درس کس طرح دے سکتا ہے؟؟؟اور اس سے تو بیعت کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے،بیعت کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ امت کو ایک امام و خلیفہ دیا جائے جو لوگوں کی سیاست و امارت کرئےاور جس کے ذریعہ کفار سے جہاد کیا جائے اور جس امام کو امت کا سر:::ہیڈ:::قرار دیا گیا ہے اور ایک حدیث میں پوری امت کو ایک جسم کے مانند کہا گیا ہے کہ جس کا سر خلیفہ کو قرار دیا گیا ہے جو کے جسم کا اہم ترین حصہ ہوتا ہے کہ جس کے بنا جسم زندہ نہیں رہ سکتا کہ جس نے پورے جسم کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے، اگر سر کو جسم سے جُدا کردیا جائے تو جسم کی موت واقع ہوجاتی ہے تو میرے بھائیو اور بہنو افسوس صد افسوس کہ ہم اس سر کے بغیر ہیں اسی لیے تو امت انتشار کا شکار ہے کہ اُمت کے پورے جسم کو مختلف بیماروں نے قابو کیا ہوا ہے،جسم کو فالج اور لقوا ہو چکا ہے، ہاتھ کہیں پڑا ہے تو پاوں کہیں، بازو کہیں پڑا ہے تو ٹانگ کہیں، الغرض پورا جسم اپنے آخری انجام کو پہنچ چکا ہے، اس کو سنبھالنے والا :::سر::: ہی نہیں ہے کہ اس جسم کا علاج کروا سکے اس کو پڑی ہوئی بیماریوں کا مناسب بندوبست کر سکے، آج امتِ محمدیہ کا یہ حشر اس لیے ہوا ہے کہ ان کے جسم کا سر یہود و نصاری نے پہلی جنگ عظیم میں اتار دیا تھا، اور پھر ان ظالموں نے اس امت کے اپنی مرضی کے مطابق ٹکرے کیے اور آج تک وہ اس کو مزید ٹکروں میں تقسیم کرتے جا رہے ہیں کہ پہلے تو امت میں صرف دین کی بیس پر فرقے بنائے گے اور جب خلافت کو ختم کردیا گیا تو پھر امت کو علاقوں،وطنوں، قوموں،برادریوں،زبان و رنگ و نسل میں بھی تقسیم کر دیا گیا ہے جو کہ امت میں مزید انتشار کا سبب بن گیا ہے، اور افسوس ایک ہم ہیں کہ پھر بھی ہمیں ہوش نہیں آرہا کہ ہم لوگوں کی جہالتوں کو سمجھیں اور حق :::قرآن و حدیث::: کو اپنا کر اپنا امام و خلیفہ قائم کریں کہ جس کی قیادت میں امت کو متحد کرنے کی کوشش کریں۔لوگوں کو سمجھائیں کہ اسلام میں ہم سب ہررنگ و نسل کے آپس میں بھائی بھائی ہیں وطن پرستی تو اسلام میں ہے ہی نہیں ہے کہ ساری زمین مسلمانوں کا وطن ہے رہ گئی قوم اور برادری تو یہ اللہ نے پہچان کے لیے بنائیں ہیں نہ کہ فخر و غرور کے لیے اور نہ ہی تفرقہ بندی کے لیے۔
بات کہاں سے چلی اور کہاں نکل گئی معذرت، تو بھائیو بیعت اصل میں صرف خلیفہ کی ہے نہ کہ کسی پیر صاحب کی اور دوسرا اس کا مقصد مسلمانوں میں اتحاد قائم کرنا ہے جیسا کہ اوپر ثابت ہوچکا ہے تو اب اس بیعت کی بیس پر ہی اگر امت کو متفرق کیا جارہا ہے تو یہ اسلام کسی قیمت نہیں ہو سکتااس لیے بھائیو اصل دین:::قرآن و صحیح حدیث::: کی طرف قدم بڑھائیں کہ جو ہمارے درمیان واحد متحد ہونے کا ذریعہ ہے ان دو چیزوں کے علاوہ امت کسی بھی تیسری چیز پر قیامت تک متحد نہیں ہوسکتی۔
اب میں نیچے کچھ احادیث پیش کر رہا ہوں ان احادیث پر سب غور و فکر کریں، جزاکم اللہ خیرا

یحیی ولید ابن جابر بسر ابوادریس سے بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن یمان کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگ (اکثر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کی بابت دریافت کرتے رہتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شر اور فتنوں کی بابت پوچھا کرتا تھا اس خیال سے کہ کہیں میں کسی شر و فتنہ میں مبتلا نہ ہو جاؤں۔ ایک روز میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم جاہلیت میں گرفتار اور شر میں مبتلا تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ہم کو اس بھلائی (یعنی اسلام) سے سرفراز کیا کیا اس بھلائی کے بعد بھی کوئی برائی پیش آنے والی ہے؟ فرمایا ہاں! میں نے عرض کیا اس بدی و برائی کے بعد بھلائی ہو گی؟ فرمایا ہاں! لیکن اس میں کدورتیں ہوں گی۔ میں نے عرض کیا وہ کدورت کیا ہو گی؟ فرمایا کدورت سے مراد وہ لوگ ہیں جو میرے طریقہ کے خلاف طریقہ اختیار کر کے اور لوگوں کو میری راہ کے خلاف راہ بتائیں گے تو ان میں دین بھی دیکھے گا اور دین کے خلاف امور بھی ہیں۔ عرض کیا کیا اس بھلائی کے بعد بھی برائی ہو گی؟ فرمایا ہاں! کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو دوزخ کے دروازوں پر کھڑے ہو کر لوگوں کو بلائیں گے جو ان کی بات مان لیں گے وہ ان کو دوزخ میں دھکیل دیں گے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ان کا حال مجھ سے بیان فرمائیے فرمایا وہ ہماری قوم سے ہوں گے اور ہماری زبان میں گفتگو کریں گے۔ میں نے عرض کیا اگر میں وہ زمانہ پاؤں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ کو کیا حکم دیتے ہیں فرمایا مسلمانوں کی جماعت:::خلافت:::کو لازم پکڑو اور ان کے امام:::خلیفہ:::کی اطاعت کرو، میں نے عرض کیا کہ اگر اس وقت مسلمانوں کی جماعت نہ ہو اور امام بھی نہ ہو۔ (تو کیا کروں) فرمایا تو ان تمام فرقوں سے علیحدہ ہو جا اگرچہ تجھے کسی درخت کی جڑ میں پناہ لینی پڑے یہاں تک کہ اسی حالت میں تجھ کو موت آ جائے۔
صحیح بخاری:جلد دوم:باب:اسلام میں نبوت کی علامتوں کا بیان

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر وبھلائی کے متعلق سوال کرتے تھے اور میں برائی کے بارے میں اس خوف کی وجہ سے کہ وہ مجھے پہنچ جائے سوال کرتا تھا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم جاہلیت اور شر میں تھے اللہ ہمارے پاس یہ بھلائی لائے تو کیا اس بھلائی کے بعد بھی کوئی شر ہوگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں میں نے عرض کیا کیا اس برائی کے بعد کوئی بھلائی بھی ہوگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اور اس خیر میں کچھ کدورت ہوگی میں نے عرض کیا کیسی کدورت ہوگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری سنت کے علاوہ کو سنت سمجھیں گے اور میری ہدایت کے علاوہ کو ہدایت جان لیں گے تو ان کو پہچان لے گا اور نفرت کرے گا میں نے عرض کیا کیا اس خیر کے بعد کوئی برائی ہوگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں جہنم کے دروازوں پر کھڑے ہو کر جہنم کی طرف بلایا جائے گا جس نے ان کی دعوت کو قبول کرلیا وہ اسے جہنم میں ڈال دیں گے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے ان کی صفت بیان فرما دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں وہ ہماری قوم سے ہوں گے اور ہماری زبان میں گفتگو کریں گےمیں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اگر یہ مجھے ملے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا حکم فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں کی جماعت :::خلافت:::کو اور ان کے امام:::خلیفہ:::کو لازم کرلینا میں نے عرض کیا اگر مسلمانوں کی جماعت ہو نہ امام، آپ نے فرمایا پھر ان تمام فرقوں سے علیحدہ ہو جانا اگرچہ تجھے موت کے آنے تک درخت کی جڑوں کو کاٹنا پڑے تو اسی حالت میں موت کے سپرد ہو جائے۔
صحیح مسلم:جلد سوم:کتاب :امارت اورخلافت کا بیان :باب: فتنوں کے ظہور کے وقت جماعت کے ساتھ رہنے کے حکم اور کفر کی طرف بلانے سے روکنے کے بیان میں

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو:::خلیفہ:::کی اطاعت سے نکل گیا اور جماعت :::خلافت:::سے علیحدہ ہوگیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا اور جس نے اندھی تقلید میں کسی کے جھنڈے کے نیچے جنگ کی کسی عصبیت:::تعصب:::کی بناء پر غصہ کرتے ہوئے عصبیت کی طرف بلایا یا عصبیت کی مدد کرتے ہوئے قتل کردیا گیا تو وہ جاہلیت کے طور پر قتل کیا گیا اور جس نے میری امت پر خروج کیا کہ اس کے نیک وبد سب کو قتل کیا کسی مومن کا لحاظ کیا اور نہ کسی سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا تو وہ میرے دین پر نہیں اور نہ میرا اس سے کوئی تعلق ہے۔
صحیح مسلم:جلد سوم: امارت اورخلافت کا بیان
یہ ایک مثال کے طور پر احایث پیش کی ہیں اس طرح کی اور بھی احادیث موجود ہیں کہ جن کو ہم جان بوجھ کر سمجھنا نہیں چاہتے یا ہمیں ان کی واقعی ہی سمجھ نہیں آتی یا ان احادیث کو ہم اہمیت نہیں دیتے کچھ تو وجہ ہے جو ہم ان کو اگنور کرتے ہیں حالانکہ کہ ان احادیث میں اصل مسئلے:::امت کا آپس میں انتشار و افتراق::: کا حل موجود ہے بس تھوڑی سی توجہ کی ضرورت ہے۔
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com

 
محمد عاصم's Avatar
محمد عاصم
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1896
Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
Ferozi (17-07-10), saimali (16-07-10), فیصل ناصر (16-07-10), فاروق سرورخان (16-07-10), مرزا عامر (16-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), معظم (16-07-10), ابرارحسین (18-07-10), بلال اویسی (16-07-10), سحر (15-07-10), عبداللہ آدم (17-07-10), عبداللہ حیدر (15-07-10)
پرانا 19-07-10, 07:49 PM   #61
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 60
کمائي: 1,746
شکریہ: 270
58 مراسلہ میں 205 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
بیعت پیر جیسی کسی شے کا اسلام میں وجود نہیں۔ یہ لوگوں کی توہم پرستی کی مدد سے اپنے حلوے منڈے کا سلسلہ ہے۔

اس "بیعت پیر "کی "بھگوان گیری" کے پیچھے "سلسلہ کے بڑے بڑے خلیفہ " رہے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ "سلسلہ" صرف سلسلہ ہائے دھوکہ بازی تھا۔
اسلام علیکم

جناب فاروق سرورخان

مؤدبانہ گذارش کہ تھوڑی احتیاط، ذرا الفاظ کا استعمال دھیان سے کریں

کیا حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ ، حضرت عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ اور دوسرے اولیاء اللہ کے بارے میں‌ بھی وہی ارشاد فرمائیں گے جو اوپر بیان کیا ؟؟؟؟؟؟؟؟

کم از کم اتنا احسان تو رکھیں‌ اولیاء اللہ کا کہ اُن کے ذریعے اللہ نے ہم "بھگوان گیری" کرنے والوں‌ کو اللہ کا نام لیوا بنایا ۔

نہ جانے آپ کو کس بات کا غصہ ہے اور آپ اتنے غیر محتاط کیوں‌ ہے اولیاء اللہ کے بارے میں، اور نہیں‌ تو یہی سوچ لیا کریں‌ کہ کئی لوگوں کے جذبات مجروح کرتے ہوں گے آپ اپنی ایسی گفتگو سے

اللہ پاک ہم پر کرم فرمائے

Last edited by ziamurtaza; 28-07-10 at 07:59 PM.
ziamurtaza آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ziamurtaza کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (21-07-10), محمد عاصم (19-07-10), مرزا عامر (20-07-10), آبی ٹوکول (20-07-10), بلال اویسی (27-07-10)
پرانا 19-07-10, 08:10 PM   #62
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
کمائي: 52,639
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
جبکہ، بعیت پیر یا کسی شیخ سے مرید ہونا ایک بلکل مختلف معاملہ ہے، ایک پیر یا شیخ کا مریدہونا ضروری ہے اپنے کسی پیر یا شیخ کا، روحانی طور پر ۔۔۔ ایسے مرید کو خلیفہ کہتے ہیں ۔۔
ضیاء بھائی آپ اپنی اس بات کی دلیل قرآن اور صحیح حدیث سے دے سکتے ہیںْ؟
میں انتظار کرونگا۔
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
saimali (17-08-10), فاروق سرورخان (20-07-10), مرزا عامر (20-07-10), مسلم بھائی (20-07-10)
پرانا 19-07-10, 08:42 PM   #63
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 60
کمائي: 1,746
شکریہ: 270
58 مراسلہ میں 205 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : asimmithu مراسلہ دیکھیں
ضیاء بھائی آپ اپنی اس بات کی دلیل قرآن اور صحیح حدیث سے دے سکتے ہیںْ؟
میں انتظار کرونگا۔
اسلام علیکم

میں‌ پوری طرح سمجھ نہیں‌ پایا آپ کی بات، کس بات کی دلیل مانگ رہے ہیں؟

جو تھوڑا سا میں سمجھ پایا ہوں‌، آپ بحث کو کسی اور طرف لے جانا چاہ رہے ہیں، جو کہ بذاتِ خود ایک الگ دھاگے میں ہونی چاہیے ورنہ بات موضوع سے ہٹ جائے گی۔

آپکے داعوے کی اصطلاحاً تصحیح کرنے کی کشش کی تھی، آپ کو قبول نہیں‌ تو آپ سلسلہ کلام جاری رکھیں۔۔۔


اللہ پاک ہم پر کرم فرمائے

Last edited by ziamurtaza; 28-07-10 at 07:59 PM.
ziamurtaza آف لائن ہے   Reply With Quote
ziamurtaza کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (20-07-10)
پرانا 20-07-10, 09:44 AM   #64
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
کمائي: 52,639
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ziamurtaza مراسلہ دیکھیں
اسلام و علیکم

میں‌ پوری طرح سمجھ نہیں‌ پایا آپ کی بات، کس بات کی دلیل مانگ رہے ہیں؟

جو تھوڑا سا میں سمجھ پایا ہوں‌، آپ بحث کو کسی اور طرف لے جانا چاہ رہے ہیں، جو کہ بذاتِ خود ایک الگ دھاگے میں ہونی چاہیے ورنہ بات موضوع سے ہٹ جائے گی۔

آپکے داعوے کی اصطلاحاً تصحیح کرنے کی کشش کی تھی، آپ کو قبول نہیں‌ تو آپ سلسلہ کلام جاری رکھیں۔۔۔


اللہ پاک ہم پر کرم فرمائے
نہیں بھائی میں بحث کو اسی موضوع پر ہی کر رہا ہوں۔
اس تھریڈ کا عنوان ہے کہ اسلام میں بیعت کس کی ہے؟
تو میرا سوال بھی آپ سے یہی تھا کہ آپ نے جو کہا تھا کہ کسی پیر، شیخ یا کسی بھی ایسے شخص کی بیعت بھی کرنی چاہیے جس سے روحاینت مل سکے، تو میرا سوال تھا کہ اس دوسری بیعت کی کیا دلیل ہے آپ کے پاس؟؟؟؟
امید کرتا ہوں ابھی آپ کو سوال کی سمجھ آ گئی ہوگی۔
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
saimali (17-08-10), مرزا عامر (20-07-10), مسلم بھائی (20-07-10)
پرانا 20-07-10, 02:39 PM   #65
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 60
کمائي: 1,746
شکریہ: 270
58 مراسلہ میں 205 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : asimmithu مراسلہ دیکھیں
نہیں بھائی میں بحث کو اسی موضوع پر ہی کر رہا ہوں۔
اس تھریڈ کا عنوان ہے کہ اسلام میں بیعت کس کی ہے؟
تو میرا سوال بھی آپ سے یہی تھا کہ آپ نے جو کہا تھا کہ کسی پیر، شیخ یا کسی بھی ایسے شخص کی بیعت بھی کرنی چاہیے جس سے روحاینت مل سکے، تو میرا سوال تھا کہ اس دوسری بیعت کی کیا دلیل ہے آپ کے پاس؟؟؟؟
امید کرتا ہوں ابھی آپ کو سوال کی سمجھ آ گئی ہوگی۔
اسلام علیکم

عاصم مٹھو بھائی

جناب احکامِ الہیہ پر عمل کرنے کے لئے اللہ پاک کا حکم مل جانا ہی کافی ہے، اور اگر آپ خود مشاہدہ بھی کرلیں تو نور علیٰ نور والی بات ہو جاتی ہے۔۔۔

الحمداللہ میرا ذاتی تجربہ اور مشاہدہ تو ہے ہی، اللہ پاک کا یہ حکم حقیقی تسکین قلب دیتا ہے ۔۔۔

(اے میرے بندے!) تو اپنے آپ کو اُن لوگوں کی سنگت میں جمائے رکھا کر جو صبح و شام اپنے ربّ کو یاد کرتے ہیں، اُس کی رضا کے طلبگار رہتے ہیں، تیری (محبت اور توجہ کی) نگاہیں اُن سے نہ ہٹیں۔ کیا تو (اُن فقیروں سے دِھیان ہٹا کر) دُنیوی زندگی کی آرائش چاہتا ہے؟ اور تو اُس شخص کی اِطاعت بھی نہ کر جس کے دِل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دِیا ہے اور وہ اپنی ہوائے نفس کی پیروی کرتا ہے اور اُس کا حال حد سے گزر گیا ہے
:::الکھف 28::


جزاک اللہ خیر

Last edited by ziamurtaza; 28-07-10 at 07:58 PM.
ziamurtaza آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ziamurtaza کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (21-07-10), کنعان (29-03-11), مرزا عامر (20-07-10), بلال اویسی (20-07-10)
پرانا 21-07-10, 08:44 PM   #66
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
کمائي: 52,639
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ضیاء بھائی آپ نے جو آیت پیش کی ہے وہ بیعت کے اوپر دلالت نہیں کرتی اور اس کا شانِ نزول بھی آپ کے مطلب کو رد کرتا ہے اس لیے اس سے آپ استدلال نہیں کرسکتے اس مروجہ پیری مریدی کے لیے۔
اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے کہ
وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ ۚ تُرِيْدُ زِيْنَةَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۚ وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ وَكَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا 28؀

اور روکے رکھو اپنے آپ کو ان (بندگان صدق و صفا) کے ساتھ جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح و شام، اس کی رضا چاہتے ہوئے اور ہٹنے نہ پائیں آپ کی نگاہیں ان سے دنیاوی زندگی کی زینت چاہتے ہوئے، اور کبھی کان نہ دھرنا کسی ایسے شخص کی (چکنی چپڑی) باتوں پر جس کے دل کو ہم نے غافل کر دیا ہو اپنی یادِ (دلشاد) سے، (اس کے سواء اختیارات بد کی بناء پر)، اور وہ پیچھے لگ گیا ہو اپنی خواہشات کے، اور اس کا معاملہ حد سے گزر چکا ہو، ف۲
شانِ نزول اس کا کچھ اس طرح ہے کہ

٢ ف مشرکین مکہ اپنے تمرد وعناد اور اپنے کبر وغرور کی بناء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ آپ ہماری خاطر فقراء صحابہ کو اپنی مجلس سے دور کر دیں، کیونکہ ہمیں ان کے ساتھ بیٹھنا گوارا نہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بے مثال شفقت اور رحمت ورافت کی بناء پر چاہتے تھے کہ کسی طرح یہ بدبخت ایمان لے آئیں تاکہ اس طرح خود ان کا بھلا ہو، اور یہ دوزخ کی آگ سے بچ سکیں۔ اور دوسری طرف ان کے ایمان سے دوسروں کے ایمان کی راہ کھلے، تو اس بناء پر آپ ان کی ناز برادری میں بعض اوقات اپنے جاں نثار ساتھیوں کے بارے میں اس طرح کا انداز اختیار فرماتے کہ یہ تو ہیں ہی اپنے اگر ان سے ذرا صرف نظر کیا جائے اور اس طرح ان متکبروں کیلئے ایمان کی راہ کھل جائے تو اسمیں کیا حرج ہے، جیسا کہ حضرت ابن اُمّ مکتوم کے قصے میں ہوا تھا، تو اس بناء پر اس ارشاد سے آپ کو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ آپ اپنے ان مخلص اور جانثار ساتھیوں ہی پر توجہ مرکوز رکھیں، جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے۔ اور اسی کی رضا وخوشنودی چاہتے ہیں، اور آپ ان متکبروں اور سرکشوں کی پرواہ نہ کریں جن کے دل ہماری یاد سے غافل ومحروم ہیں اور وہ اپنی خواہشات ہی کی پیروی کرتے ہیں جبکہ اللہ تعالٰی کے یہاں اصل قدر وقیمت صدق واخلاص ہی کی ہے، اور وہ انہی فقراء و مساکین کے پاس ہے جو آپ پر سچا پکا ایمان رکھتے ہیں، اس ارشاد ربانی کے لب ولہجہ میں جو تندی وتیزی ہے اس کا رُخ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نہیں، بلکہ اس کا اصل رُخ ان منکرین ومکذبین کی طرف ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حقیر سمجھتے تھے۔ والعیاذُ باللہ العظیم
یہ ہے اس کا شانِ نزول اور آپ اس کو پیری مریدی کی دلیل بنا رہے ہیں۔
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
saimali (17-08-10), مسلم بھائی (21-07-10)
پرانا 22-07-10, 09:33 AM   #67
Senior Member
 
Ferozi's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Pakistan's Heart
مراسلات: 219
کمائي: 6,111
شکریہ: 241
169 مراسلہ میں 589 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

موجودہ پیری مریدی والی بیعت کا آغاز کب ہوا تھا ؟؟
اور یہ بیعت کس نے شروع کی ؟؟
اور جو کسی مرشد یعنی پیر کی بیعت کی ہو تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟اب


اور اس فتوے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟
4113.jpg
FATWA-BINORIA-

Last edited by Ferozi; 23-07-10 at 11:12 AM.
Ferozi آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-10-10, 03:15 PM   #68
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
کمائي: 52,639
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

معذرت چاہتا ہوں فیروزی بھائی کہ جواب دیر سے دے رہا ہوں تو میرے بھائی دین صرف اور صرف قرآن اور صحیح حدیث ہی ہے قرآن اللہ نے اُتارا اُس میں جو کچھ بھی ہے وہ اللہ کا فرمان ہے اور حدیث نبی ﷺ کا فرمان ہے۔
محمد رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ میں تم میں دو ۲ چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں جب تک تم ان پر کاربند رہو گے کبھی گمراہ نہیں ہوگے ایک ہے کتاب اللہ اور دوسری میری سنت۔
اب جو کوئی بھی ان دو چیزوں کے ساتھ تیسری چیز شامل کرے گا تو وہ گمراہی کی طرف جا سکتا ہے اگر ہم نے دل سے نبی ﷺ پر ایمان لائے ہیں اور اُن سے محبت کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ دین جتنا وہ ہم کو دے کر گے ہیں بس اُسی پر عمل کریں کیونکہ دین نبی ﷺ کی زندگی میں ہی کامل اور اکمل ہو گیا تھا اب نہ اُس میں کمی کی جا سکتی ہے اور نہ ہی اضافہ اور جو کوئی بھی ایسا کرے گا کل قیامت کے دن جنت تو کیا خوضِ کوثر کا پانی بھی اُس بد بخت کو نصیب نہیں ہو گا۔ دلیل حاضر ہے۔

موسی بن اسماعیل، ابوعوانہ، مغیرہ، ابووائل، حضرت عبد اللہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں حوض پر تمہارا پیش خیمہ ہوں گا تم میں کچھ لوگ میرے سامنے لائیں جائیں گے یہاں تک کہ میں جھکوں گا کہ ان کو پانی پلاؤں تو وہ میرے سامنے سے کھینچ لئے جائیں گے میں کہوں گا اے اللہ یہ میرے ساتھی ہیں تو اللہ تعالی فرمائیں گے کہ تم نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے تمہارے بعد نئی نئی بدعات پیدا کی۔
صحیح بخاری:جلد سوم:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے لئے حوض کوثر پر پیش خیمہ ہوں گا اور تم اس بات سے ڈرنا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کوئی میری طرف آئے اور پھر وہ مجھ سے ہٹا دیا جائے جیسا کہ گم شدہ اونٹ ہٹا دیا جاتا ہے تو میں ان کے بارے میں کہوں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیا جائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانے کے بعد کیا کیا ایجاد کرلیں تھیں تو میں کہوں گا دور ہوجاؤ۔
صحیح مسلم:جلد سوم:

اسماعیل بن توبہ، زافر بن سلیمان، ابی سنان، عمرو بن مرہ، عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جبکہ آپ عرفات میں اپنی کٹی اونٹنی پر سوار تھے تمہیں معلوم ہے یہ کون سا دن کون سا مہینہ اور کون سا شہر ہے۔ صحابہ نے عرض کیا یہ شہر حرام ہے مہینہ حرام ہے اور دن حرام ہے۔ فرمایا غور سے سنو تمہارے اموال اور خون بھی تم پر اسی طرح حرام ہے جیسے اس ماہ کی اس شہر اور دن کی حرمت ہے غور سنو میں حوض کوثر پر تمہارا پیش خیمہ ہوں اور تمہاری کثرت پر باقی امتوں کے سامنے فخر کرونگا اسلئے مجھے روسیاہ نہ کرنا (کہ میرے بعد معاصی و بدعات میں مبتلا ہوجاؤ پھر مجھے باقی امتوں کے سامنے شرمندگی اٹھانا پڑے) یاد رکھو کچھ لوگوں کو میں چھڑاؤنگا (دوزخ سے) اور کچھ لوگ مجھ سے چھڑوالئے جائینگے تو میں عرض کرونگا اے میرے رب یہ میرے امتی ہیں رب تعالی فرمائینگے آپ کو نہیں معلوم کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں ایجاد کیں ۔
کتاب سنن ابن ماجہ: جلد 2
یعنی دین میں جو کوئی بھی اضافہ کرے یا کمی کرے گا وہ مردود ہے اور اُس بدبخت کا انجام بھی نبی علیہ السلام نے ہم کو بتا دیا ہے اس لیے عمل کرو تو صرف قرآن اور سنت پر ورنہ نبی علیہ السلام بھی شفاعت نہیں کروائیں گے بلکہ وہ بھی اُس شخص سے نفرت کا اظہار کریں گے کہ دور ہو جاؤ اورایسا کہیں بھی کیوں نہ کہ اُس نے نبی علیہ السلام کے لائے ہوے دین میں اپنی مرضی کرنی چاہی۔
اب اللہ تعالیٰ کا فرمان دیکھتے ہیں کہ جب ہم میں کسی بات کا اختلاف ہو جائے تو اللہ کیا حکم دیتا ہیں؟
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا 59؀ۧ سورۃ النسا آیت نمبر ۵۹
اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو، حکم مانو تم اللہ کا اور حکم مانو اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اور ان لوگوں کا جو صاحب امر ہوں تم میں سے ، پھر اگر تمہارا کسی بات پر آپس میں اختلاف ہوجائے تو تم اس کو لٹا دیا کرو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف، اگر تم ایمان (ویقین) رکھتے ہو اللہ پر، اور قیامت کے دن پر، یہ بہتر ہے (تمہارے لئے فی الحال) اور (حقیقت اور) انجام کے اعتبار سے بھی،
تفسیر مکہ
اس سے معلوم ہوا کہ امر و حکام کی اطاعت اگرچہ ضروری ہے لیکن وہ علی الاطلاق نہیں بلکہ مشروط ہے اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے ساتھ۔ اسی لیے اطیعوا اللہ کے بعد اطیعوا الرسول تو کہا کیونکہ یہ دونوں اطاعتیں مستقل اور واجب ہیں لیکن اطیعوا اولی الامر نہیں کہا کیونکہ اولی الامر کی اطاعت مستقل نہیں اور حدیث میں بھی کہا گیا ہے۔ (لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق) (وقال الالبانی حدیث صحیح۔ مشکٰوۃ نمبر ٦۹٦فی لفظ لمسلم لا طاعۃ فیی معصیۃ اللہ کتاب الامارۃ باب وجوب طاعۃ الامراء فر غیر معصیۃ حدیث نمبر۱۸٤۰اور (انما الطاعۃ فی المعروف) (صحیح بخاری کتاب الاحکام باب نمبر٤) (السمع والطاعۃ للامام مالم رکن معصیۃ) "معصیت میں اطاعت نہیں، اطاعت صرف معروف میں ہے۔"یہی حال علما و فقہا کا بھی ہے۔ (اگر اولوا لامر میں ان کو بھی شامل کیا جائے) یعنی ان کی اطاعت اس لیے کرنی ہوگی کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام و فرمودات بیان کرتے ہیں اور اس کے دین کی طرف ارشاد و ہدایت اور راہمنائی کا کام کرتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ علماء و فقہا بھی دینی امور و معاملات میں حکام کی طرح یقینا مرجع عوام ہیں لیکن ان کی اطاعت بھی صرف اس وقت تک کی جائے گی جب تک کہ عوام کو صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بتلائیں لیکن اگر وہ اس سے انحراف کریں تو عوام کے لیے ان کی اطاعت بھی ضروری نہیں بلکہ انحراف کی صورت میں جانتے بوجھتے ان کی اطاعت کرنا سخت معصیت اور گناہ ہے۔
اور اگر ہم بھی اہلِ کتاب کی طرح ہی علماء اور مشائخ کی اطاعت کرنے لگیں کہ جو بات بھی وہ کہیں ہم آنکھیں بند کر کے اُس کو مان لیں تو ہم نے بھی پھر علماء اور مشائخ کو اللہ کے مقابلے رب بنا لیا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔
اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ ۚ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِيَعْبُدُوْٓا اِلٰــهًا وَّاحِدًا ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۭسُبْحٰنَهٗ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ 31؀
ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایا ہے (١) اور مریم کے بیٹے مسیح کو حالانکہ انہیں صرف ایک اکیلے اللہ ہی کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ پاک ہے ان کے شریک مقرر کرنے سے۔سورۃ التوبہ آیت نمبر ۳۱
تفسیر مکہ
اس کی تفسیر حضرت عدی بن حاتم کی بیان کردہ حدیث سے بخوبی ہو جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ آیت سن کر عرض کیا کہ یہود و نصاریٰ نے تو اپنے علماء کی کبھی عبادت نہیں کی، پھر یہ کیوں کہا گیا کہ انہوں نے ان کو رب بنا لیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' یہ ٹھیک ہے کہ انہوں نے ان کی عبادت نہیں کی لیکن یہ بات تو ہے نا، کہ ان کے علماء نے جس کو حلال قرار دے دیا، اس کو انہوں نے حلال اور جس چیز کو حرام کر دیا اس کو حرام ہی سمجھا۔ یہی ان کی عبادت کرنا ہے ' (صحیح ترمذی) کیونکہ حرام وحلال کرنے کا اختیار صرف اللہ تعالٰی کو ہے یہی حق اگر کوئی شخص کسی اور کے اندر تسلیم کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اس کو اپنا رب بنا لیا ہے اس آیت میں ان لوگوں کے لیے بڑی تنبیہ ہے جنہوں نے اپنے اپنے پیشواؤں کو تحلیل وتحریم کا منصب دے رکھا ہے اور ان کے اقوال کے مقابلے میں وہ نصوص قرآن وحدیث کو بھی اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
تفسیر عثمانی
ان کے علماء و مشائخ جو کچھ اپنی طرف سے مسئلہ بنا دیتے خواہ حلال کو حرام یا حرام کو حلال کہہ دیتے اسی کو سند سمجھتے کہ بس اللہ کے ہاں ہم کو چھٹکارا ہوگیا۔ کتب سماویہ سے کچھ سروکار نہ رکھا تھا، محض احبار و رہبان کے احکام پر چلتے تھے۔ اور ان کا یہ حال تھا کہ جہاں تھوڑا سا مال یا جاہی فائدہ دیکھا حکم شریعت کو بدل ڈالا جیسا کہ دو تین آیتوں کے بعد مذکور ہے پس جو منصب اللہ کا تھا (یعنی حلال و حرام کی تشریع) وہ علماء و مشائخ کو دے دیا گیا تھا۔ اس لحاظ سے فرمایا کہ انہوں نے عالموں اور درویشوں کو رب ٹھہرا لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عدی بن حاتم کو اعتراض کا جواب دیتے ہوئے اسی طرح کی تشریح فرمائی ہے اور حضرت حذیفہ سے بھی ایسا ہی منقول ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں "عالم کا قول عوام کو سند ہے جب تک وہ شرع سے سمجھ کر کہے۔ جب معلوم ہو کہ خود اپنی طرف سے کہا، یا طمع وغیرہ سے کہا پھر سند نہیں۔"
ان آیات اور اہلِ علم کی تفاسیر سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ دین اصل وہی ہے جو قرآن اور صحیح احادیث میں ہے اس لیے جب ایک مثلہ ان میں سے ہم کو مل جاتا ہے جس میں کوئی اشکال بھی نہیں ہوتا تو پھر کسی اور کی بات نہیں مانی جاسکتی اور ویسے بھی اس فتوی میں پہلے ہی لکھ دیا گیا ہے کہ یہ شرعاً لازم نہیں ہے تو آگے پتا نہیں کیسے پھر جائز ہوگیا ہے؟؟؟
ان فتویٰ دینے والوں کو چاہیے تھا کہ ساتھ اس کی دلیل بھی دیتے جو کہ صحیح طریقہ بھی تھا مگر ایسا کچھ بھی مہیا نہیں کیا گیا،میں سب اہلِ علم حضرات کی عزت کرتا ہوں مگر مخص کسی کے دستخط کردینے اور مہر لگادینے سے کوئی چیز جائز اور کوئی چیز حرام نہیں ہوجاتی جبتک کہ ساتھ اس کی دلیل قرآن کی آیت یا صحیح حدیث نہ پیش کی جائے۔یہود اور نصاریٰ کی اسی بُری عادت کی وجہ سے کہ وہ اہلِ علم سے دلیل نہیں مانگتے تھے ان کو کہا گیا کہ انہوں نے اپنے پیر اور مشائخ کو اللہ کے مقابلے پر رب بنالیا آج اگر ہم بھی اُن کے جیسا عمل کریں گے تو یہی حکم اب ہم پرلگے گا، اس لیے جوکوئی بھی بات دین کے بارے میں کہے تو اس سے اُس کی بات کی دلیل ضرور مانگنی چاہیے۔
باقی آپ کا یہ سوال کہ یہ پیری مریدی کب شروع ہوئی تو بھائی اس کا مجھے علم نہیں اور نہ میں نے جاننے کی کوشش کی ہے آپ یہ ان لوگوں سے پوچھیں جو اس کو دین سمجھتے ہیں۔
اور جو یہ پیری مریدی کر رہے ہیں میں نے ان پر پہلے بھی کوئی فتویٰ نہیں لگایا اب کیوں لگاؤں جو بات قرآن و صحیح حدیث کے خلاف تھی وہ لکھ دی، آگے اللہ کو جواب دے ہم سب نے ہونا ہے۔
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا گیا
saimali (23-10-10)
پرانا 29-03-11, 10:54 PM   #69
Senior Member
 
Ferozi's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Pakistan's Heart
مراسلات: 219
کمائي: 6,111
شکریہ: 241
169 مراسلہ میں 589 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عاصم صاحب
صاحب آپ نے حدیث بیان کی
محمد رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ میں تم میں دو ۲ چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں جب تک تم ان پر کاربند رہو گے کبھی گمراہ نہیں ہوگے ایک ہے کتاب اللہ اور دوسری میری سنت۔

اس اب آپ ﷺکی سنت میں بیعت کرنا شامل نہیں ہے یا صحابہ کرامؓ کبھی بیعت نہیں ہوئے ؟
دوسرا استاد اور شاگرد ،،،، پیر اور مرید میں کیا آپ کو کوئی فرق نظر آتا ہے ؟



نامور اولیا کرام
جناب شیخ عبد القادر رحمتہ اللہ علیہ
جناب المعروف حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ
حضرت معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ
حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ
حاجی امداد اللہ مھاجر مکی رحمتہ اللہ علیہ

ان اولیا کرام کے لوگ بعیت بھی ہوئے اور انہوں نے بیعت بھی کی
ان اولیا کرام کو آپ کن لوگوں میں دیکھتے ہیں

اگر آپ کے نزدیک پیری مریدی ایک بعد کی چیز ہے جو رسول اکرم نے نا بتائی تو یہ بقول آپ کے بدعت ہوئی
تو پھر تو اولیا کرام کو بھی دور کر دیں گے؟؟؟ حوض کوثر کے پانی سے جو آپ نے حدیث بیان کی کے قیامت والے دن کچھ لوگوں کو لایا کائے گا پھر ان کو دور کر دیا جائے گا کیوں کہ انہوں نے دین میں ایجادات شروع کی ۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ؟

دوسرا آپ نے کہا میں نے کوئی فتویٰ نہیں لگایا تو اب کیوں لگاوں گا

ایک طرف آپ ان ہی لوگوں کو جو پیری مریدی کے قائل ہیں ان کو بدعتی بدبخت جھنمی اور پتا نہیں کیا کیا قرآن و حدیث سے ثابت کر رہے ہیں
لیکن جب میں نے فتوی دیا تو کہہ دیا میں ان کو کچھ نہیں کہہ سکتا
ہاں البتہ قرآن کی آیت یا سنت کو کسی پر آپ ضرور چسپاں کر سکتے ہیں؟؟

Last edited by Ferozi; 29-03-11 at 11:24 PM.
Ferozi آف لائن ہے   Reply With Quote
Ferozi کا شکریہ ادا کیا گیا
کنعان (29-03-11)
پرانا 29-03-11, 11:41 PM   #70
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,095
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اگر راجہ ساب جیسا پیر ہو تو میں اس کا مرید
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فرض, پہچان, واقعہ حرہ, واقعات, قدم, قرآن, نفرت, نماز, نظر, موت, موجودہ, ممکن, محبت, مسائل, مسجد, ایمان, حدیث, دیکھو, دریافت, زہری, سیاست, عقل, غار, صحابہ, صحابی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کفار کے مدد گار۔۔۔۔۔۔۔شریعت کی نظر میں عبداللہ آدم کفروشرک 41 15-03-11 10:35 AM
یہ طبیعت ہے تو خود آزار بن جائیں گے ہم The Great احمد فراز 0 28-08-09 03:38 PM
شریعت میں ہلدی کی رسم کا کیا حکم ہے؟ sahj مذہبی مسائل اور ان کا حل 87 22-07-09 10:00 PM
کالعدم نفاذشریعت محمدی نے سوات میں قائم امن کیمپ ختم کردیا رضی خبریں 0 10-04-09 01:57 AM
ملاکنڈ حصّے میں شریعت محمد الیاس خبریں 57 04-04-09 07:34 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:01 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger