| 12 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | Ferozi (17-07-10), saimali (16-07-10), فیصل ناصر (16-07-10), فاروق سرورخان (16-07-10), مرزا عامر (16-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), معظم (16-07-10), ابرارحسین (18-07-10), بلال اویسی (16-07-10), سحر (15-07-10), عبداللہ آدم (17-07-10), عبداللہ حیدر (15-07-10) |
|
|
#61 | |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 60
کمائي: 1,746
شکریہ: 270
58 مراسلہ میں 205 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جناب فاروق سرورخان مؤدبانہ گذارش کہ تھوڑی احتیاط، ذرا الفاظ کا استعمال دھیان سے کریں کیا حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ ، حضرت عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ اور دوسرے اولیاء اللہ کے بارے میں بھی وہی ارشاد فرمائیں گے جو اوپر بیان کیا ؟؟؟؟؟؟؟؟ کم از کم اتنا احسان تو رکھیں اولیاء اللہ کا کہ اُن کے ذریعے اللہ نے ہم "بھگوان گیری" کرنے والوں کو اللہ کا نام لیوا بنایا ۔ نہ جانے آپ کو کس بات کا غصہ ہے اور آپ اتنے غیر محتاط کیوں ہے اولیاء اللہ کے بارے میں، اور نہیں تو یہی سوچ لیا کریں کہ کئی لوگوں کے جذبات مجروح کرتے ہوں گے آپ اپنی ایسی گفتگو سے اللہ پاک ہم پر کرم فرمائے Last edited by ziamurtaza; 28-07-10 at 07:59 PM. |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے ziamurtaza کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (21-07-10), محمد عاصم (19-07-10), مرزا عامر (20-07-10), آبی ٹوکول (20-07-10), بلال اویسی (27-07-10) |
|
|
#62 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
میں انتظار کرونگا۔ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#63 | |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 60
کمائي: 1,746
شکریہ: 270
58 مراسلہ میں 205 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میں پوری طرح سمجھ نہیں پایا آپ کی بات، کس بات کی دلیل مانگ رہے ہیں؟ جو تھوڑا سا میں سمجھ پایا ہوں، آپ بحث کو کسی اور طرف لے جانا چاہ رہے ہیں، جو کہ بذاتِ خود ایک الگ دھاگے میں ہونی چاہیے ورنہ بات موضوع سے ہٹ جائے گی۔ آپکے داعوے کی اصطلاحاً تصحیح کرنے کی کشش کی تھی، آپ کو قبول نہیں تو آپ سلسلہ کلام جاری رکھیں۔۔۔ اللہ پاک ہم پر کرم فرمائے Last edited by ziamurtaza; 28-07-10 at 07:59 PM. |
|
|
|
|
| ziamurtaza کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (20-07-10) |
|
|
#64 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اس تھریڈ کا عنوان ہے کہ اسلام میں بیعت کس کی ہے؟ تو میرا سوال بھی آپ سے یہی تھا کہ آپ نے جو کہا تھا کہ کسی پیر، شیخ یا کسی بھی ایسے شخص کی بیعت بھی کرنی چاہیے جس سے روحاینت مل سکے، تو میرا سوال تھا کہ اس دوسری بیعت کی کیا دلیل ہے آپ کے پاس؟؟؟؟ امید کرتا ہوں ابھی آپ کو سوال کی سمجھ آ گئی ہوگی۔ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#65 | |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 60
کمائي: 1,746
شکریہ: 270
58 مراسلہ میں 205 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
عاصم مٹھو بھائی جناب احکامِ الہیہ پر عمل کرنے کے لئے اللہ پاک کا حکم مل جانا ہی کافی ہے، اور اگر آپ خود مشاہدہ بھی کرلیں تو نور علیٰ نور والی بات ہو جاتی ہے۔۔۔ الحمداللہ میرا ذاتی تجربہ اور مشاہدہ تو ہے ہی، اللہ پاک کا یہ حکم حقیقی تسکین قلب دیتا ہے ۔۔۔ (اے میرے بندے!) تو اپنے آپ کو اُن لوگوں کی سنگت میں جمائے رکھا کر جو صبح و شام اپنے ربّ کو یاد کرتے ہیں، اُس کی رضا کے طلبگار رہتے ہیں، تیری (محبت اور توجہ کی) نگاہیں اُن سے نہ ہٹیں۔ کیا تو (اُن فقیروں سے دِھیان ہٹا کر) دُنیوی زندگی کی آرائش چاہتا ہے؟ اور تو اُس شخص کی اِطاعت بھی نہ کر جس کے دِل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دِیا ہے اور وہ اپنی ہوائے نفس کی پیروی کرتا ہے اور اُس کا حال حد سے گزر گیا ہے :::الکھف 28:: جزاک اللہ خیر Last edited by ziamurtaza; 28-07-10 at 07:58 PM. |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ziamurtaza کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#66 |
|
Senior Member
![]() |
ضیاء بھائی آپ نے جو آیت پیش کی ہے وہ بیعت کے اوپر دلالت نہیں کرتی اور اس کا شانِ نزول بھی آپ کے مطلب کو رد کرتا ہے اس لیے اس سے آپ استدلال نہیں کرسکتے اس مروجہ پیری مریدی کے لیے۔
اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے کہ وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ ۚ تُرِيْدُ زِيْنَةَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۚ وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ وَكَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا 28 اور روکے رکھو اپنے آپ کو ان (بندگان صدق و صفا) کے ساتھ جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح و شام، اس کی رضا چاہتے ہوئے اور ہٹنے نہ پائیں آپ کی نگاہیں ان سے دنیاوی زندگی کی زینت چاہتے ہوئے، اور کبھی کان نہ دھرنا کسی ایسے شخص کی (چکنی چپڑی) باتوں پر جس کے دل کو ہم نے غافل کر دیا ہو اپنی یادِ (دلشاد) سے، (اس کے سواء اختیارات بد کی بناء پر)، اور وہ پیچھے لگ گیا ہو اپنی خواہشات کے، اور اس کا معاملہ حد سے گزر چکا ہو، ف۲ شانِ نزول اس کا کچھ اس طرح ہے کہ ٢ ف مشرکین مکہ اپنے تمرد وعناد اور اپنے کبر وغرور کی بناء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ آپ ہماری خاطر فقراء صحابہ کو اپنی مجلس سے دور کر دیں، کیونکہ ہمیں ان کے ساتھ بیٹھنا گوارا نہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بے مثال شفقت اور رحمت ورافت کی بناء پر چاہتے تھے کہ کسی طرح یہ بدبخت ایمان لے آئیں تاکہ اس طرح خود ان کا بھلا ہو، اور یہ دوزخ کی آگ سے بچ سکیں۔ اور دوسری طرف ان کے ایمان سے دوسروں کے ایمان کی راہ کھلے، تو اس بناء پر آپ ان کی ناز برادری میں بعض اوقات اپنے جاں نثار ساتھیوں کے بارے میں اس طرح کا انداز اختیار فرماتے کہ یہ تو ہیں ہی اپنے اگر ان سے ذرا صرف نظر کیا جائے اور اس طرح ان متکبروں کیلئے ایمان کی راہ کھل جائے تو اسمیں کیا حرج ہے، جیسا کہ حضرت ابن اُمّ مکتوم کے قصے میں ہوا تھا، تو اس بناء پر اس ارشاد سے آپ کو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ آپ اپنے ان مخلص اور جانثار ساتھیوں ہی پر توجہ مرکوز رکھیں، جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے۔ اور اسی کی رضا وخوشنودی چاہتے ہیں، اور آپ ان متکبروں اور سرکشوں کی پرواہ نہ کریں جن کے دل ہماری یاد سے غافل ومحروم ہیں اور وہ اپنی خواہشات ہی کی پیروی کرتے ہیں جبکہ اللہ تعالٰی کے یہاں اصل قدر وقیمت صدق واخلاص ہی کی ہے، اور وہ انہی فقراء و مساکین کے پاس ہے جو آپ پر سچا پکا ایمان رکھتے ہیں، اس ارشاد ربانی کے لب ولہجہ میں جو تندی وتیزی ہے اس کا رُخ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نہیں، بلکہ اس کا اصل رُخ ان منکرین ومکذبین کی طرف ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حقیر سمجھتے تھے۔ والعیاذُ باللہ العظیم یہ ہے اس کا شانِ نزول اور آپ اس کو پیری مریدی کی دلیل بنا رہے ہیں۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | saimali (17-08-10), مسلم بھائی (21-07-10) |
|
|
#67 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Pakistan's Heart
مراسلات: 219
کمائي: 6,111
شکریہ: 241
169 مراسلہ میں 589 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
موجودہ پیری مریدی والی بیعت کا آغاز کب ہوا تھا ؟؟ FATWA-BINORIA-
اور یہ بیعت کس نے شروع کی ؟؟ اور جو کسی مرشد یعنی پیر کی بیعت کی ہو تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟اب اور اس فتوے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ ![]() Last edited by Ferozi; 23-07-10 at 11:12 AM. |
|
|
|
|
|
#68 |
|
Senior Member
![]() |
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم معذرت چاہتا ہوں فیروزی بھائی کہ جواب دیر سے دے رہا ہوں تو میرے بھائی دین صرف اور صرف قرآن اور صحیح حدیث ہی ہے قرآن اللہ نے اُتارا اُس میں جو کچھ بھی ہے وہ اللہ کا فرمان ہے اور حدیث نبی ﷺ کا فرمان ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ میں تم میں دو ۲ چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں جب تک تم ان پر کاربند رہو گے کبھی گمراہ نہیں ہوگے ایک ہے کتاب اللہ اور دوسری میری سنت۔ اب جو کوئی بھی ان دو چیزوں کے ساتھ تیسری چیز شامل کرے گا تو وہ گمراہی کی طرف جا سکتا ہے اگر ہم نے دل سے نبی ﷺ پر ایمان لائے ہیں اور اُن سے محبت کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ دین جتنا وہ ہم کو دے کر گے ہیں بس اُسی پر عمل کریں کیونکہ دین نبی ﷺ کی زندگی میں ہی کامل اور اکمل ہو گیا تھا اب نہ اُس میں کمی کی جا سکتی ہے اور نہ ہی اضافہ اور جو کوئی بھی ایسا کرے گا کل قیامت کے دن جنت تو کیا خوضِ کوثر کا پانی بھی اُس بد بخت کو نصیب نہیں ہو گا۔ دلیل حاضر ہے۔ موسی بن اسماعیل، ابوعوانہ، مغیرہ، ابووائل، حضرت عبد اللہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں حوض پر تمہارا پیش خیمہ ہوں گا تم میں کچھ لوگ میرے سامنے لائیں جائیں گے یہاں تک کہ میں جھکوں گا کہ ان کو پانی پلاؤں تو وہ میرے سامنے سے کھینچ لئے جائیں گے میں کہوں گا اے اللہ یہ میرے ساتھی ہیں تو اللہ تعالی فرمائیں گے کہ تم نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے تمہارے بعد نئی نئی بدعات پیدا کی۔ صحیح بخاری:جلد سوم: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے لئے حوض کوثر پر پیش خیمہ ہوں گا اور تم اس بات سے ڈرنا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کوئی میری طرف آئے اور پھر وہ مجھ سے ہٹا دیا جائے جیسا کہ گم شدہ اونٹ ہٹا دیا جاتا ہے تو میں ان کے بارے میں کہوں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیا جائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانے کے بعد کیا کیا ایجاد کرلیں تھیں تو میں کہوں گا دور ہوجاؤ۔ صحیح مسلم:جلد سوم: اسماعیل بن توبہ، زافر بن سلیمان، ابی سنان، عمرو بن مرہ، عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جبکہ آپ عرفات میں اپنی کٹی اونٹنی پر سوار تھے تمہیں معلوم ہے یہ کون سا دن کون سا مہینہ اور کون سا شہر ہے۔ صحابہ نے عرض کیا یہ شہر حرام ہے مہینہ حرام ہے اور دن حرام ہے۔ فرمایا غور سے سنو تمہارے اموال اور خون بھی تم پر اسی طرح حرام ہے جیسے اس ماہ کی اس شہر اور دن کی حرمت ہے غور سنو میں حوض کوثر پر تمہارا پیش خیمہ ہوں اور تمہاری کثرت پر باقی امتوں کے سامنے فخر کرونگا اسلئے مجھے روسیاہ نہ کرنا (کہ میرے بعد معاصی و بدعات میں مبتلا ہوجاؤ پھر مجھے باقی امتوں کے سامنے شرمندگی اٹھانا پڑے) یاد رکھو کچھ لوگوں کو میں چھڑاؤنگا (دوزخ سے) اور کچھ لوگ مجھ سے چھڑوالئے جائینگے تو میں عرض کرونگا اے میرے رب یہ میرے امتی ہیں رب تعالی فرمائینگے آپ کو نہیں معلوم کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعتیں ایجاد کیں ۔ کتاب سنن ابن ماجہ: جلد 2 یعنی دین میں جو کوئی بھی اضافہ کرے یا کمی کرے گا وہ مردود ہے اور اُس بدبخت کا انجام بھی نبی علیہ السلام نے ہم کو بتا دیا ہے اس لیے عمل کرو تو صرف قرآن اور سنت پر ورنہ نبی علیہ السلام بھی شفاعت نہیں کروائیں گے بلکہ وہ بھی اُس شخص سے نفرت کا اظہار کریں گے کہ دور ہو جاؤ اورایسا کہیں بھی کیوں نہ کہ اُس نے نبی علیہ السلام کے لائے ہوے دین میں اپنی مرضی کرنی چاہی۔ اب اللہ تعالیٰ کا فرمان دیکھتے ہیں کہ جب ہم میں کسی بات کا اختلاف ہو جائے تو اللہ کیا حکم دیتا ہیں؟ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا 59ۧ سورۃ النسا آیت نمبر ۵۹ اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو، حکم مانو تم اللہ کا اور حکم مانو اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اور ان لوگوں کا جو صاحب امر ہوں تم میں سے ، پھر اگر تمہارا کسی بات پر آپس میں اختلاف ہوجائے تو تم اس کو لٹا دیا کرو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف، اگر تم ایمان (ویقین) رکھتے ہو اللہ پر، اور قیامت کے دن پر، یہ بہتر ہے (تمہارے لئے فی الحال) اور (حقیقت اور) انجام کے اعتبار سے بھی،تفسیر مکہ اس سے معلوم ہوا کہ امر و حکام کی اطاعت اگرچہ ضروری ہے لیکن وہ علی الاطلاق نہیں بلکہ مشروط ہے اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے ساتھ۔ اسی لیے اطیعوا اللہ کے بعد اطیعوا الرسول تو کہا کیونکہ یہ دونوں اطاعتیں مستقل اور واجب ہیں لیکن اطیعوا اولی الامر نہیں کہا کیونکہ اولی الامر کی اطاعت مستقل نہیں اور حدیث میں بھی کہا گیا ہے۔ (لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق) (وقال الالبانی حدیث صحیح۔ مشکٰوۃ نمبر ٦۹٦فی لفظ لمسلم لا طاعۃ فیی معصیۃ اللہ کتاب الامارۃ باب وجوب طاعۃ الامراء فر غیر معصیۃ حدیث نمبر۱۸٤۰اور (انما الطاعۃ فی المعروف) (صحیح بخاری کتاب الاحکام باب نمبر٤) (السمع والطاعۃ للامام مالم رکن معصیۃ) "معصیت میں اطاعت نہیں، اطاعت صرف معروف میں ہے۔"یہی حال علما و فقہا کا بھی ہے۔ (اگر اولوا لامر میں ان کو بھی شامل کیا جائے) یعنی ان کی اطاعت اس لیے کرنی ہوگی کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام و فرمودات بیان کرتے ہیں اور اس کے دین کی طرف ارشاد و ہدایت اور راہمنائی کا کام کرتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ علماء و فقہا بھی دینی امور و معاملات میں حکام کی طرح یقینا مرجع عوام ہیں لیکن ان کی اطاعت بھی صرف اس وقت تک کی جائے گی جب تک کہ عوام کو صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بتلائیں لیکن اگر وہ اس سے انحراف کریں تو عوام کے لیے ان کی اطاعت بھی ضروری نہیں بلکہ انحراف کی صورت میں جانتے بوجھتے ان کی اطاعت کرنا سخت معصیت اور گناہ ہے۔ اور اگر ہم بھی اہلِ کتاب کی طرح ہی علماء اور مشائخ کی اطاعت کرنے لگیں کہ جو بات بھی وہ کہیں ہم آنکھیں بند کر کے اُس کو مان لیں تو ہم نے بھی پھر علماء اور مشائخ کو اللہ کے مقابلے رب بنا لیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔ اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ ۚ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِيَعْبُدُوْٓا اِلٰــهًا وَّاحِدًا ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۭسُبْحٰنَهٗ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ 31 ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایا ہے (١) اور مریم کے بیٹے مسیح کو حالانکہ انہیں صرف ایک اکیلے اللہ ہی کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ پاک ہے ان کے شریک مقرر کرنے سے۔سورۃ التوبہ آیت نمبر ۳۱ تفسیر مکہ اس کی تفسیر حضرت عدی بن حاتم کی بیان کردہ حدیث سے بخوبی ہو جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ آیت سن کر عرض کیا کہ یہود و نصاریٰ نے تو اپنے علماء کی کبھی عبادت نہیں کی، پھر یہ کیوں کہا گیا کہ انہوں نے ان کو رب بنا لیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' یہ ٹھیک ہے کہ انہوں نے ان کی عبادت نہیں کی لیکن یہ بات تو ہے نا، کہ ان کے علماء نے جس کو حلال قرار دے دیا، اس کو انہوں نے حلال اور جس چیز کو حرام کر دیا اس کو حرام ہی سمجھا۔ یہی ان کی عبادت کرنا ہے ' (صحیح ترمذی) کیونکہ حرام وحلال کرنے کا اختیار صرف اللہ تعالٰی کو ہے یہی حق اگر کوئی شخص کسی اور کے اندر تسلیم کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اس کو اپنا رب بنا لیا ہے اس آیت میں ان لوگوں کے لیے بڑی تنبیہ ہے جنہوں نے اپنے اپنے پیشواؤں کو تحلیل وتحریم کا منصب دے رکھا ہے اور ان کے اقوال کے مقابلے میں وہ نصوص قرآن وحدیث کو بھی اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔تفسیر عثمانی ان کے علماء و مشائخ جو کچھ اپنی طرف سے مسئلہ بنا دیتے خواہ حلال کو حرام یا حرام کو حلال کہہ دیتے اسی کو سند سمجھتے کہ بس اللہ کے ہاں ہم کو چھٹکارا ہوگیا۔ کتب سماویہ سے کچھ سروکار نہ رکھا تھا، محض احبار و رہبان کے احکام پر چلتے تھے۔ اور ان کا یہ حال تھا کہ جہاں تھوڑا سا مال یا جاہی فائدہ دیکھا حکم شریعت کو بدل ڈالا جیسا کہ دو تین آیتوں کے بعد مذکور ہے پس جو منصب اللہ کا تھا (یعنی حلال و حرام کی تشریع) وہ علماء و مشائخ کو دے دیا گیا تھا۔ اس لحاظ سے فرمایا کہ انہوں نے عالموں اور درویشوں کو رب ٹھہرا لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عدی بن حاتم کو اعتراض کا جواب دیتے ہوئے اسی طرح کی تشریح فرمائی ہے اور حضرت حذیفہ سے بھی ایسا ہی منقول ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں "عالم کا قول عوام کو سند ہے جب تک وہ شرع سے سمجھ کر کہے۔ جب معلوم ہو کہ خود اپنی طرف سے کہا، یا طمع وغیرہ سے کہا پھر سند نہیں۔"ان آیات اور اہلِ علم کی تفاسیر سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ دین اصل وہی ہے جو قرآن اور صحیح احادیث میں ہے اس لیے جب ایک مثلہ ان میں سے ہم کو مل جاتا ہے جس میں کوئی اشکال بھی نہیں ہوتا تو پھر کسی اور کی بات نہیں مانی جاسکتی اور ویسے بھی اس فتوی میں پہلے ہی لکھ دیا گیا ہے کہ یہ شرعاً لازم نہیں ہے تو آگے پتا نہیں کیسے پھر جائز ہوگیا ہے؟؟؟ ان فتویٰ دینے والوں کو چاہیے تھا کہ ساتھ اس کی دلیل بھی دیتے جو کہ صحیح طریقہ بھی تھا مگر ایسا کچھ بھی مہیا نہیں کیا گیا،میں سب اہلِ علم حضرات کی عزت کرتا ہوں مگر مخص کسی کے دستخط کردینے اور مہر لگادینے سے کوئی چیز جائز اور کوئی چیز حرام نہیں ہوجاتی جبتک کہ ساتھ اس کی دلیل قرآن کی آیت یا صحیح حدیث نہ پیش کی جائے۔یہود اور نصاریٰ کی اسی بُری عادت کی وجہ سے کہ وہ اہلِ علم سے دلیل نہیں مانگتے تھے ان کو کہا گیا کہ انہوں نے اپنے پیر اور مشائخ کو اللہ کے مقابلے پر رب بنالیا آج اگر ہم بھی اُن کے جیسا عمل کریں گے تو یہی حکم اب ہم پرلگے گا، اس لیے جوکوئی بھی بات دین کے بارے میں کہے تو اس سے اُس کی بات کی دلیل ضرور مانگنی چاہیے۔ باقی آپ کا یہ سوال کہ یہ پیری مریدی کب شروع ہوئی تو بھائی اس کا مجھے علم نہیں اور نہ میں نے جاننے کی کوشش کی ہے آپ یہ ان لوگوں سے پوچھیں جو اس کو دین سمجھتے ہیں۔ اور جو یہ پیری مریدی کر رہے ہیں میں نے ان پر پہلے بھی کوئی فتویٰ نہیں لگایا اب کیوں لگاؤں جو بات قرآن و صحیح حدیث کے خلاف تھی وہ لکھ دی، آگے اللہ کو جواب دے ہم سب نے ہونا ہے۔ |
|
|
|
| محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا گیا | saimali (23-10-10) |
|
|
#69 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Pakistan's Heart
مراسلات: 219
کمائي: 6,111
شکریہ: 241
169 مراسلہ میں 589 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عاصم صاحب
صاحب آپ نے حدیث بیان کی محمد رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ میں تم میں دو ۲ چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں جب تک تم ان پر کاربند رہو گے کبھی گمراہ نہیں ہوگے ایک ہے کتاب اللہ اور دوسری میری سنت۔ اس اب آپ ﷺکی سنت میں بیعت کرنا شامل نہیں ہے یا صحابہ کرامؓ کبھی بیعت نہیں ہوئے ؟ دوسرا استاد اور شاگرد ،،،، پیر اور مرید میں کیا آپ کو کوئی فرق نظر آتا ہے ؟ نامور اولیا کرام جناب شیخ عبد القادر رحمتہ اللہ علیہ جناب المعروف حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ حضرت معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ حاجی امداد اللہ مھاجر مکی رحمتہ اللہ علیہ ان اولیا کرام کے لوگ بعیت بھی ہوئے اور انہوں نے بیعت بھی کی ان اولیا کرام کو آپ کن لوگوں میں دیکھتے ہیں اگر آپ کے نزدیک پیری مریدی ایک بعد کی چیز ہے جو رسول اکرم نے نا بتائی تو یہ بقول آپ کے بدعت ہوئی تو پھر تو اولیا کرام کو بھی دور کر دیں گے؟؟؟ حوض کوثر کے پانی سے جو آپ نے حدیث بیان کی کے قیامت والے دن کچھ لوگوں کو لایا کائے گا پھر ان کو دور کر دیا جائے گا کیوں کہ انہوں نے دین میں ایجادات شروع کی ۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ؟ دوسرا آپ نے کہا میں نے کوئی فتویٰ نہیں لگایا تو اب کیوں لگاوں گا ایک طرف آپ ان ہی لوگوں کو جو پیری مریدی کے قائل ہیں ان کو بدعتی بدبخت جھنمی اور پتا نہیں کیا کیا قرآن و حدیث سے ثابت کر رہے ہیں لیکن جب میں نے فتوی دیا تو کہہ دیا میں ان کو کچھ نہیں کہہ سکتا ہاں البتہ قرآن کی آیت یا سنت کو کسی پر آپ ضرور چسپاں کر سکتے ہیں؟؟ Last edited by Ferozi; 29-03-11 at 11:24 PM. |
|
|
|
| Ferozi کا شکریہ ادا کیا گیا | کنعان (29-03-11) |
|
|
#70 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اگر راجہ ساب جیسا پیر ہو تو میں اس کا مرید
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فرض, پہچان, واقعہ حرہ, واقعات, قدم, قرآن, نفرت, نماز, نظر, موت, موجودہ, ممکن, محبت, مسائل, مسجد, ایمان, حدیث, دیکھو, دریافت, زہری, سیاست, عقل, غار, صحابہ, صحابی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کفار کے مدد گار۔۔۔۔۔۔۔شریعت کی نظر میں | عبداللہ آدم | کفروشرک | 41 | 15-03-11 10:35 AM |
| یہ طبیعت ہے تو خود آزار بن جائیں گے ہم | The Great | احمد فراز | 0 | 28-08-09 03:38 PM |
| شریعت میں ہلدی کی رسم کا کیا حکم ہے؟ | sahj | مذہبی مسائل اور ان کا حل | 87 | 22-07-09 10:00 PM |
| کالعدم نفاذشریعت محمدی نے سوات میں قائم امن کیمپ ختم کردیا | رضی | خبریں | 0 | 10-04-09 01:57 AM |
| ملاکنڈ حصّے میں شریعت | محمد الیاس | خبریں | 57 | 04-04-09 07:34 PM |